منہ بولا بیٹا اور دینی مصلحت

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اہل عرب جب کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیتے تو اسے ہر معاملے میں سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ میراث بھی پاتا تھا، اور اس کے منہ بولے باپ کے لئے جائز نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کی بیوہ یا مطلقہ بیوی سے نکاح کرے، بلکہ اس کو بدترین معیوب عمل سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی ممانعت نہیں تھی، عرب کی یہ جاہلانہ رسمیں دلوں میں ایسا گھر کر گئی تھیں کہ ان کا خاتمہ صرف زبانی نصیحت سے نہیں ہو سکتا تھا، اس لئے آنحضرتﷺ نے ایسی رسموں کا خاتمہ کرنے کے لئے سب سے پہلے خود علی الاعلان ان رسموں کے خلاف عمل فرمایا تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اگر اس کام میں ذرا بھی کوئی خرابی ہوتی تو آنحضرتﷺ اس کے پاس بھی نہ جاتے، اس کی بہت سی مثالیں آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہیں، منہ بولے بیٹے کے بارے میں جو رسم تھی، اس کے سد باب کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے ایک منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح فرمائیں، واضح رہے کہ حضرت زینب آنحضرتﷺ کی پھوپی کی بیٹی تھیں، اور حضرت زیدؓ سے ان کا نکاح خود آپ نے کروایا تھا، اس لئے اگرچہ اب ان سے نکاح کرنا آپ کے لئے صبر آزما عمل تھا، لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور دینی مصلحت کے آگے سر جھکا دیا، اور ان سے نکاح کر لیا۔
 
Top