کوئرحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم معلم بن کے آےاور آپکی تعلیم کا اثر ھے کائنات میں کوئی ایسی مثالی جماعت نہ پہلے نہ آپکے بعد پیدا ھوگی یہ وھی لوگ تھے جو کبھی راہزن کہلاتے تھے
اب وہ رھبر بن گے
بےحیا کو حیادار بنایا
بے وفا کو وفاداری سکھای
ظالم کو عدل سکھایا
سخت دل کو رحم دل بنایا
بے ادب کو ادب سکھایاعلم سے بے خبر عالم مفسر محدث بنے
یوں کہ لی جئے کہ آپکی تعلیم کی وجہ سے
جونہ تھے راہ پر اوروں کے ہادی بن گے
یہ کیا نظر تھی جسنے مردوں کو مسیحا کردیا
ایک نوجوان رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرتا ھے یارسول اللہ مجھے زنا کی اجازت عظا فر مادیں
ذرا تصور کریں کیا فر مائش کی جارھی ھےایک ایسے گناہ کی جسکی قباحت پر دنیا کےتمام ادیان متفق ھیں اور یہ فرمائش کس سے کی جارھی ھے،۔ اس بر گزیدہ ہستی سے جنکی عصمت وعفت کے آگے فرشتوں کا بھی سر جھک جاتا ھے
جنکا دربان جبرئیل جیسا مقرب فرشتہ نظر آتا ھے
جنکے در کی حاضری کے لے عزرائیل کو بھی اجازت طلب کرنی پڑی
جنکی عظمت کی گواہ مسجد اقصی کے درودیوار ھیں جو صرف نبی ھی نھیں نبی الانبیا بن کے آے جو صرف امام نھیں امام الانبیا کا تاج سر پہ سجا کے آے باقی نبی رحمت لے کے آے میرے آقا رحمت بنکے آےجنکے اشارے پر درخت چلنے لگے پتھر بولنے لگئیں جنکی رفعتوں کو خدا ھی جانتا ھے اسی ذات کے سامنے نوجوان اجازت طلب کر رہا ھے کوئی اور ہوتا تو مارتا ڈانٹتا اور در سے نکال دیتا لیکن یہ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کا کام برائی پر خفگی کا اظہارکر کے پورا نہیں ہو جاتا تھا بلکہ جو اس برائی کے علاج کو بھی اپنا فریضہ سمھجتے تھے
آپکے دل میںاس نوجوان کے بارے میں غصے کے بجاے ھمدردی کے جذبات پیداھوے آپنے ناراض ھونے کی بجاے اس نوجوان کو اپنے قریب بلایا
اور اس سے محبت بھرے لہجے میں فر مایا اچھا یہ بتاوکہ جو عمل تم کسی اجنبی عورت سے کرنا چاھتے ہو ،،،
اگر کوئی تمھاری ماں سے کرنا چاھے تو کیا تم اسے گوارا کروگے،،
نوجوان کےذہن وفکر کے بند دریچے ایک ایک کرکے کھلنے لگے ،، اسنے کہا نھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپنے فرمایا تو پھر دوسرے لوگ بھی اپنی ماوں کے لیے یہ بات پسند نھیں کرتے آپ نے مسلسل اسے مثالیں دے دے کر سمھجایاآخر میں اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا بھی فر مائی اللھم اغفر ذنبہ وطھر قلبہ وحصن فر جہ یاللہ اسکے گناہ معاف فر مادے اور اسکے دل کو پاک کردے اور اسکو عفت عطا فر ما
آپ اس نوجوان پر غصے ہو سکتے تھے اسے اپنی مجلس سے اٹھا سکتے تھےلیکن اس انداز سے اس جوان کی زندگی تباہ ھوجاتییہ آپکی نرم خوئی حکمت وتدبر کا نتیجہ تھا کہ وہ جوان ہلاکت کے گڑھے سے ہمیشہ کے محفو ظ ھو گیا یہاں تک جب مجلس سے اٹھا تو اس گھناونےعمل سے ہمیشہ کے لئے تائب ھو گیا
یہ ھے میرے آقاکی تر بیت کا اثر
یہ بندہ نوازی کے جوہر دکھاے
خود کھاے جو اور جواھر لٹاے
خوشی اپنی غیروں کےغم میں بھلادی
د یا د ر د جس نے ا س کو د عا د ی
محبت کے جس نے در یا بھا ے
دل انکے جیتے جو سر لینے آے
اب وہ رھبر بن گے
بےحیا کو حیادار بنایا
بے وفا کو وفاداری سکھای
ظالم کو عدل سکھایا
سخت دل کو رحم دل بنایا
بے ادب کو ادب سکھایاعلم سے بے خبر عالم مفسر محدث بنے
یوں کہ لی جئے کہ آپکی تعلیم کی وجہ سے
جونہ تھے راہ پر اوروں کے ہادی بن گے
یہ کیا نظر تھی جسنے مردوں کو مسیحا کردیا
ایک نوجوان رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرتا ھے یارسول اللہ مجھے زنا کی اجازت عظا فر مادیں
ذرا تصور کریں کیا فر مائش کی جارھی ھےایک ایسے گناہ کی جسکی قباحت پر دنیا کےتمام ادیان متفق ھیں اور یہ فرمائش کس سے کی جارھی ھے،۔ اس بر گزیدہ ہستی سے جنکی عصمت وعفت کے آگے فرشتوں کا بھی سر جھک جاتا ھے
جنکا دربان جبرئیل جیسا مقرب فرشتہ نظر آتا ھے
جنکے در کی حاضری کے لے عزرائیل کو بھی اجازت طلب کرنی پڑی
جنکی عظمت کی گواہ مسجد اقصی کے درودیوار ھیں جو صرف نبی ھی نھیں نبی الانبیا بن کے آے جو صرف امام نھیں امام الانبیا کا تاج سر پہ سجا کے آے باقی نبی رحمت لے کے آے میرے آقا رحمت بنکے آےجنکے اشارے پر درخت چلنے لگے پتھر بولنے لگئیں جنکی رفعتوں کو خدا ھی جانتا ھے اسی ذات کے سامنے نوجوان اجازت طلب کر رہا ھے کوئی اور ہوتا تو مارتا ڈانٹتا اور در سے نکال دیتا لیکن یہ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کا کام برائی پر خفگی کا اظہارکر کے پورا نہیں ہو جاتا تھا بلکہ جو اس برائی کے علاج کو بھی اپنا فریضہ سمھجتے تھے
آپکے دل میںاس نوجوان کے بارے میں غصے کے بجاے ھمدردی کے جذبات پیداھوے آپنے ناراض ھونے کی بجاے اس نوجوان کو اپنے قریب بلایا
اور اس سے محبت بھرے لہجے میں فر مایا اچھا یہ بتاوکہ جو عمل تم کسی اجنبی عورت سے کرنا چاھتے ہو ،،،
اگر کوئی تمھاری ماں سے کرنا چاھے تو کیا تم اسے گوارا کروگے،،
نوجوان کےذہن وفکر کے بند دریچے ایک ایک کرکے کھلنے لگے ،، اسنے کہا نھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپنے فرمایا تو پھر دوسرے لوگ بھی اپنی ماوں کے لیے یہ بات پسند نھیں کرتے آپ نے مسلسل اسے مثالیں دے دے کر سمھجایاآخر میں اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا بھی فر مائی اللھم اغفر ذنبہ وطھر قلبہ وحصن فر جہ یاللہ اسکے گناہ معاف فر مادے اور اسکے دل کو پاک کردے اور اسکو عفت عطا فر ما
آپ اس نوجوان پر غصے ہو سکتے تھے اسے اپنی مجلس سے اٹھا سکتے تھےلیکن اس انداز سے اس جوان کی زندگی تباہ ھوجاتییہ آپکی نرم خوئی حکمت وتدبر کا نتیجہ تھا کہ وہ جوان ہلاکت کے گڑھے سے ہمیشہ کے محفو ظ ھو گیا یہاں تک جب مجلس سے اٹھا تو اس گھناونےعمل سے ہمیشہ کے لئے تائب ھو گیا
یہ ھے میرے آقاکی تر بیت کا اثر
یہ بندہ نوازی کے جوہر دکھاے
خود کھاے جو اور جواھر لٹاے
خوشی اپنی غیروں کےغم میں بھلادی
د یا د ر د جس نے ا س کو د عا د ی
محبت کے جس نے در یا بھا ے
دل انکے جیتے جو سر لینے آے