بدلہ

محمدشعیب

وفقہ اللہ
رکن
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مدرسہ میں پڑھتا تھا ۔ مدرسہ میں ایک معمول تھا کہ ہر جمعرات ایک بزم ہوا کرتی تھی(اس کا مفصل تعارف کسی دن شئیر کردوں گا) اس میں طلباء میں سے ایک کمیٹی بنتی تھی اس میں ایک صدر اور ایک سیکرٹری جنرل ہوتا تھا جو سال بھر اس نظم کو احسن طریقے سے چلا تے تھے۔ جس دن صدر اور جنرل سیکرٹری کا انتخاب ہونا تھا اور میں پُر جوش تھا کہ ان دو سیٹیوں میں کسی ایک سیٹ پر میرا انتخاب ہوگا اور اسی خوش فہمی میں بندہ ناچیز ہال میں داخل ہوا اور سب کو امید تھی کہ میں منتخب ہوجاؤں گا ، اور کلاس فیلوزنے قبل از انتخا ب مبارک باد بھی دے دی انہیں بھی یقین کامل تھا شعیب کا انتخاب ہوگا
جیسے ہی انتخاب کا عمل شروع ہوا ساری کہ ساری گیم الٹ گئی ، تمام ارمانوں پر پانی پھر گیا ۔ سٹیج سے ایک ایسا نام پکارا گیا کہ مجھے دن میں تارے نظر آگئے اور نام بھی ایسا تھا کہ کوئی اس کی مخالفت کرنے والا نہیں تھا کیونکہ میں اپنی خوش فہمی میں بھول گیا تھا مجھ سے زیادہ مقبول بندہ بھی طلباء میں ہے جیسے نام سنا امید تھی یہاں دال نہیں گلے گی وہ منتخب ہوجائے گااور ہوا بھی ایسے وہ صدر کا انتخاب جیت گیا اور اس کو علم بھی تب ہوا جب وہ ہال میں داخل ہوا ۔ سب نے اسے خوب مبارک باد دے رہے تھے پر اسے یقین نہیں تھا بلکہ وہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں تھا اور سب کو امید تھی شعیب منتخب ہوگا لیکن ایسا نہ ہوا وہ آرام سے سٹیج پر گیا ایک مختصر سی تقریر کرکے سب کا شکریہ ادا کرکے آگیا اور ہم اندر اندر لال پیلے ہو رہے تھے۔ اس کی جب نظر مجھ پر پڑی تو کہنے لگا یہ تونے کیاکیاہے؟میں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا میں خود امیدوار تھا پتہ نہیں کہاں سے آپ کا نام آیا اور منتخب ہوگئے پر وہ یقین کرنے کو تیار نہ تھا اسے یقین تھا پنگا شعیب نے دیا ہے۔
خیر جب کابینہ تشکیل ہوئی تو اس نے مجھے بھی ایک عہدہ دے دیا خیر جلن تو تھی جہاں میں بیٹھنا چاہتا تھا وہاں یہ کیسے بیٹھ گیا ۔ تعلیمی سال کا آغاز ہوا اور ساتھ ہم نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں شروع شروع میں جب بھی بزم کی کوئی میٹنگ یا کام ہوتا میں اس میں سے کیڑے نکال لیتا پہلے پہل وہ در گزر کرتا رہا اور کلاس فیلو بھی کہتے رہے سب اپنی جگہ پر اسے مت چھیڑو خصوصا کام کے دوران یہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے اول کام کے دوران اس کو مت چھیڑو اور اگر چھیڑ دو تو یاد رکھنا یہ چھوڑتا نہیں مگر میں کہاں سننے والا تھا عموما میں اسے کام کے دوران خوب تنگ کرتا اور وہ بھی مسکرا دیتا۔
اب جب بزم کا کوئی کام کرتا تو جواب آتا عبداللہ (فرضی نام) کردیا ہے ، جس دن میں کوئی کام کرنا چاہتا علم ہوتا عبداللہ نے کردیا ہے میں چِڑ سا جاتا
سال گزرنے کا علم نہ ہوا اور ہمارا تعلیمی سال مکمل ہوا ۔آخر کار وہ دن آگیا جسمیں ہم آخری بزم کرتے مہتمم صاحب مدظلہ سمیت تمام اساتذہ اور باہر سےمہمان تشریف لاتےاور اس میں بزم کی سال بھر کی رپورٹ پیش ہوتی ۔ صبح بزم تھی سب کو دعوت نامے دے دیے گئے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی اور رپورٹ بھی لگ بھگ تیا رتھی شام کو عبداللہ میرے پاس آیا کہنے لگا یارشعیب رپورٹ تیار ہوگئی بس ایک عدد لائن رہ گئی میں تمہیں بتا دیتاہوں لکھ دو میں دیگر انتظام دیکھ لوں میں نے خوش ہوکر کہا ٹھیک ہے وہ بتانے لگا اور میں لکھتا رہا ساتھ وہ اور انتظام دیکھتا رہا کام مکمل ہوا اور میں نے فائل اس کو دے دی وہ مسکرایا اور چلدیا۔
صبح تمام کام ہوچکے تھے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ترتیب یہ تھی کہ صبح سے ظہر تک طلباء صدر بزم صاحب کی زیر صدارت بیانات کرینگے اور بعد از نماز ظہر مہتمم صاحب کی صدارت میں اساتذہ نصیحت کریں گے اور ساتھ جو مہمانان خصوصی ہونگے ان کا بیان ہوگا۔ ترتیب کے مطابق بزم کا آغاز ہوا اور جب اختتام بلکہ بزم عروج پر پہنچی تو صدر ِ بزم صاحب رپورٹ دینے سٹیج پر آئے اور میں بھی اندر سٹیج کے قریب آکر بیٹھ گیا بزم کےصدر نے رپورٹ پیش کرنی شروع کی اور آخر میں رُک گئے اور سب جو دلجمعی سے کارگردگی رپورٹ سن رہے تھے سٹیج کی طرف دیکھا تو صدر ِ بزم خاموش تھے اور کچھ پریشان میں بھی پریشان ہوا کیا بات ہے ؟ کچھ توقف کے بعد دوبارہ گویا ہوئے اور ایک لائن پڑھ دی۔ سب حیران تھے کہ کیا کہ رہاہے ۔(اصل لائن یاد نہیں کہ کیا کہا تھا۔) اور ساتھ یہ بھی کہ دیا یہ لائن سیکرٹری محمد شعیب نے لکھی اس کا مطلب کیا ہے وہ خود سمجھائیں گے تشریف لاتے ہیں محمد شعیب صاحب اور خود آناََ فاناَََ سٹیج سے اترے اور اشارہ کردیا حاضر ہوجاؤ
جیسے ہی اپنا نام سنا تو میرے طوطے، کبوتر،چڑیاں سب اڑ چکے تھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں جیسے تیسے سٹیج پر پہنچا تو سامنے دیکھا اساتذہ سب میری طرف دیکھ رہے ہیں جب غور کیا توہال کی ہر آنکھ مجھے دیکھ رہی تھی ۔ میں عبداللہ کے قریب ہوا تو دیکھا وہ کل والی لائن کی طرف اشارہ کرکے کہ رہے ہیں اس کا مطلب سمجھاؤ سب تمہارے منتظر ہیں فائل میرے ہاتھ میں تھمائی اور مسکراتا ہوا سٹیج سے اتر گیا اب ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی اب چونکہ سب دیکھ رہے تھے میں مائک پر پہنچ گیا سامنے ایک کلاس فیلو مجھے اپنی طرف متوجہ کررہا تھا جب اس کی طرف متوجہ ہوا مجھے وہ سمجھانے کی کوشش کررہا تھا تونے شیر کے منہ میں ہاتھ دیا تھا اب بھگتو میں سمجھا شاید کوئی بات کہنے کو سمجھا رہا ہے میں کچھ یوں گویا ہوا
محترم اساتذہ اکرام اور میرے طلباء دوستو! آپ کو کس نے کہا تھا داڑھ کے نیچے انگلی رکھو اور دوست کی طرف دیکھا کیا ٹھیک کہا تو اس نے ماتھے پر ہاتھ دے مارا میں سمجھا شاید لفظ درست تھا پھر گویا ہوا آپ سب زور سے ماتھے پر ہاتھ ماریں درد ٹھیک ہوجائے گا پورا ہال بلا ساختہ ہنس پڑا۔ تب دوست نے شیر کی شکل بنائی تاکہ سمجھ آجائے پر میں گویا ہوا آپ کو کس نے کہا تھا کہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالیں اب پشتانے کے بجائے اور سرت پر ہاتھ رکھنے سے کیا فائدہ ہوگا یہ آپ کو پہلے سوچنا چاہیئے تھا ۔ ایک دفعہ پھر زور دار قہقہ بلند ہوا اور آواز آئی کہ حکیم صاحب کے طب مشورے شروع ہوگئے کسی نے اور مشورہ لینا ہوتو لے سکتا ہے محفل کشت زعفران بن گئی۔(اصل الفاظ یاد نہیں کیا کہے تھے پر ایسا کچھ ہی تھا۔)
اساتذہ نے کچھ لڑکوں کو کہا اس سے قبل اور کوئی لوازمات ہمارے کانوں سے ٹکرائیں اس کو نیچے لے آؤ میرے دوست اوپر گئے اور مجھے واپس لائے مجھے کچھ ہوش نہ تھا ،ہوش ٹھکانے آئے تو دوست نے کہا شروع دن سے کہ رہاتھا اس سے پنگا مت لو پر تم سنتے کہاں تھے میں تمہیں کہ رہا تھا کہ شیر کے منہ میں ہاتھ دالا تھا لو اب بھگتو اور تونے کیا شروع کردیا اب تو سمجھو بدھو کہیں کے، بعد مین عبداللہ مسکراتا ہوا آیا کہنے لگا بیٹا اپنے سے بڑی کلاس والوں سے پنگے نہیں لیا کرتے جو تم نے پورا سال تنگ کیا اس کا حساب آج برابر ویسے وہ مشورے کمال کے تھے میں نے نوٹ کرلیے زندگی میں کبھی ضرورت پڑی تو ضرور استعمال کروں گا۔
بزم کے اختتام پر صدر بزم کی کارگردگی کو سراہا گیا انعام دیا گیا اور ہمیں ہماری شیان شان کچھ کلمات سے ہماری خدمات کو سراہا گیا جیسے ہی ہماری شان میں عظیم کلمات ہمارے کانوں سے ٹکرائےاس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
 
Last edited:
Top