کیا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت یکم محرم الحرام ہے؟

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بعض کتب کے مطابق اگر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت یکم محرم الحرام ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو 29 ذی الحجہ کو خلافت کیسے مل گئی؟

ثانیا کیا واقعی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شہادت ذی الحجہ میں ہوئی َ؟
 

محمدداؤدالرحمن علی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
یوم شھادت عمررض 1محرم المحرام ہے
۔مستندومدلل روایات وحوالہ جات۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اس بارہ میں اقوال مختلف ہیں۔ البتہ راجح اور مشہور قول یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت یکم محرم کو ہوئی ہے۔ اس قول کے اثبات پر چند ائمہ و محدثین کے اقوال پیشِ خدمت ہیں.ملاحظہ فرمائیے۔
1️۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں بدھ کے روز سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر حملہ ہواجبکہ ابھی ذوالحجہ ختم ہونے میں تین دن باقی تھے۔پھر آپ تین روز تک زندہ رہے۔اس کے بعد آپ کا انتقال ہوا.
اللہ کی آپ رحمتیں ہوں
(کتاب المحن 1/67).
عبارت درج ذیل ہے۔
قال ابن اسحاق وحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن ابيه عن جده عبد الله بن زبير قال طعن عمر يوم الاربعاء لثلاث بقین من ذي الحجه ثم بقی ثلاثه ايام ثم مات رحمه الله۔
احوال الروات۔
مصنف کتاب۔
ابو العرب محمد بن احمد بن تميم المغربي
قال ابو عبد الله الخراط :
قال كان رجلا صالحا ثقه عالما بالسنن
(ترتیب المدارک 5/324)
2۔غیرواحد۔
اگرامام ابوالعرب کے وہ تمام اساتذہ ثقہ تھے۔تب توسرے سے کوئ اشکال ہی نہیں۔لیکن اگربالفرض وہ ضعیف تھے تواشکال تب بھی کوئ نہیں ہے کیونکہ تعددطرق ضعف کوزائل کردیتاہے۔
3۔اسدبن الفرات ۔
قال ابوالعرب :ثقہ
(طبقات علماء افریقیہ 1/82)
4۔زیادبن عبداللہ۔
قال ابن معین :
لاباس بہ فی المغازی
(تہذیب التہذیب 3/375)
5۔ابن اسحاق۔
حجت فی المغازی والسیر
6۔یحیی بن عباد
قال ابن معین :ثقہ
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم9/173)
7۔عباد بن عبداللہ
.مدنی تابعی ثقہ
( تاریخ الثقات للعجلی 1/247)
8۔عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ جلیل القدرصحابی
2️۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سنہ 24ھ بدھ کے دن زخمی ہوئے جبکہ ذی الحجہ ختم ہونے میں ابھی چار راتیں باقی تھیں۔ آپ کو یکم محرم اتوار کی صبح کو دفن کیا گیا۔
قال سعد بن ابي وقاص :
طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقين من ذي الحجه سنہ ثلاث وعشرین ودفن يوم الاحد صبيحہ هلال المحرم۔
(تلقیح فھوم اھل الاثرلابن الجوزی 1/77)
3️۔ اسماعیل بن محمد بن سعد کہتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بدھ کے دن زخمی ہوئے جبکہ ابھی ذی الحجہ اختتام پذیرہونے میں چار راتیں باقی تھیں۔ یہ سن 23ھ کاواقعہ ہے اور آپ کو24ھ محرم کی صبح بروز اتوار دفن کیا گیا۔
حدثنی ابو بكر بن اسماعيل بن محمد بن سعد عن ابيه قال طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذي الحجه سنہ 23 ودفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنہ 24
((المنتخب من ذیل المذیل لابن جریرالطبری 1/11))
4️۔حضرت خلیفہ بن خیاط (م240ھ)فرماتے ہیں.
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب زخمی ہوئے تو ذوالحجہ کے ابھی تین دن باقی تھے ۔پھر آپ تین یوم زندہ رہے۔
طعن لثلاث بقين من ذي الحجه فعاش ثلاثه ايام۔
(((تاریخ خلیفہ بن خیاط 1/152)))
5️۔قال عمرو بن علي :
مات يوم السبت غره المحرم سنه اربع وعشرین
( رجال الصحیح للبخاری 2/507للکلاباذی398ھ )
( والصحیح یوم الاحدکماقال غیرواحدمن العلماء)
6️۔قال ابو احمد:
طعن يوم الاربعاء ودفن يوم الاحد صبیحہ هلال المحرم
(((اکمال للمغلطائ 10/42)))
7️۔قال ابن الجوزي:
جرحہ ابو لؤلؤه فبقی ثلاثا
((((المنتظم4/329))))
8️۔قال الذھبی :
الحوادث فی خلافت ذی النورین عثمان سنہ اربع وعشرین:
دفن عمر في اول المحرم ثم جلسوا للشورى
(سیراعلام النبلاء 2/459)
9️۔قال ابن كثير:
ومات بعد ثلاث ودفن في يوم الاحد مستهل المحرم من سنه اربع وعشرين بالحجرہ النبویہ الی جانب الصدیق
(((البدایہ والنھایہ 7/155)))
10۔قال السيوطي:
اصيب عمر يوم الاربعاء ودفن يوم الاحد مستهل المحرم الحرام
((((تاریخ الخلفاء 1/109)))
خلاصہ کلام:سیدناعمررضی اللہ عنہ پہ حملہ بدہ کے دن ہوا۔آپ جمعرات, جمعہ ,ھفتہ ,حیات رہےاس کے بعد کی شھادت ہوئ اوریکم محرم کی صبح بروزاتوارآپ کو حجرہ مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سپردخاک کردیاگیا۔
تنبیہ:جن حضرات نے آپ کی شھادت 26ذی الحجہ کو قراردی۔انہوں نے زخمی ہونے والے دن کوہی آپ کی شھادت کادن قراردے دیا۔حالانکہ بالاتفاق اسی دن آپ کی شھادت نہیں ہوئ بلکہ چندروزبعدہوئ تھی۔
کمامر. واللہ اعلم
 
یوم شھادت عمررض 1محرم المحرام ہے
۔مستندومدلل روایات وحوالہ جات۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اس بارہ میں اقوال مختلف ہیں۔ البتہ راجح اور مشہور قول یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت یکم محرم کو ہوئی ہے۔ اس قول کے اثبات پر چند ائمہ و محدثین کے اقوال پیشِ خدمت ہیں.ملاحظہ فرمائیے۔
1️۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں بدھ کے روز سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر حملہ ہواجبکہ ابھی ذوالحجہ ختم ہونے میں تین دن باقی تھے۔پھر آپ تین روز تک زندہ رہے۔اس کے بعد آپ کا انتقال ہوا.
اللہ کی آپ رحمتیں ہوں
(کتاب المحن 1/67).
عبارت درج ذیل ہے۔
قال ابن اسحاق وحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن ابيه عن جده عبد الله بن زبير قال طعن عمر يوم الاربعاء لثلاث بقین من ذي الحجه ثم بقی ثلاثه ايام ثم مات رحمه الله۔
احوال الروات۔
مصنف کتاب۔
ابو العرب محمد بن احمد بن تميم المغربي
قال ابو عبد الله الخراط :
قال كان رجلا صالحا ثقه عالما بالسنن
(ترتیب المدارک 5/324)
2۔غیرواحد۔
اگرامام ابوالعرب کے وہ تمام اساتذہ ثقہ تھے۔تب توسرے سے کوئ اشکال ہی نہیں۔لیکن اگربالفرض وہ ضعیف تھے تواشکال تب بھی کوئ نہیں ہے کیونکہ تعددطرق ضعف کوزائل کردیتاہے۔
3۔اسدبن الفرات ۔
قال ابوالعرب :ثقہ
(طبقات علماء افریقیہ 1/82)
4۔زیادبن عبداللہ۔
قال ابن معین :
لاباس بہ فی المغازی
(تہذیب التہذیب 3/375)
5۔ابن اسحاق۔
حجت فی المغازی والسیر
6۔یحیی بن عباد
قال ابن معین :ثقہ
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم9/173)
7۔عباد بن عبداللہ
.مدنی تابعی ثقہ
( تاریخ الثقات للعجلی 1/247)
8۔عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ جلیل القدرصحابی
2️۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سنہ 24ھ بدھ کے دن زخمی ہوئے جبکہ ذی الحجہ ختم ہونے میں ابھی چار راتیں باقی تھیں۔ آپ کو یکم محرم اتوار کی صبح کو دفن کیا گیا۔
قال سعد بن ابي وقاص :
طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقين من ذي الحجه سنہ ثلاث وعشرین ودفن يوم الاحد صبيحہ هلال المحرم۔
(تلقیح فھوم اھل الاثرلابن الجوزی 1/77)
3️۔ اسماعیل بن محمد بن سعد کہتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بدھ کے دن زخمی ہوئے جبکہ ابھی ذی الحجہ اختتام پذیرہونے میں چار راتیں باقی تھیں۔ یہ سن 23ھ کاواقعہ ہے اور آپ کو24ھ محرم کی صبح بروز اتوار دفن کیا گیا۔
حدثنی ابو بكر بن اسماعيل بن محمد بن سعد عن ابيه قال طعن عمر يوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذي الحجه سنہ 23 ودفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنہ 24
((المنتخب من ذیل المذیل لابن جریرالطبری 1/11))
4️۔حضرت خلیفہ بن خیاط (م240ھ)فرماتے ہیں.
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب زخمی ہوئے تو ذوالحجہ کے ابھی تین دن باقی تھے ۔پھر آپ تین یوم زندہ رہے۔
طعن لثلاث بقين من ذي الحجه فعاش ثلاثه ايام۔
(((تاریخ خلیفہ بن خیاط 1/152)))
5️۔قال عمرو بن علي :
مات يوم السبت غره المحرم سنه اربع وعشرین
( رجال الصحیح للبخاری 2/507للکلاباذی398ھ )
( والصحیح یوم الاحدکماقال غیرواحدمن العلماء)
6️۔قال ابو احمد:
طعن يوم الاربعاء ودفن يوم الاحد صبیحہ هلال المحرم
(((اکمال للمغلطائ 10/42)))
7️۔قال ابن الجوزي:
جرحہ ابو لؤلؤه فبقی ثلاثا
((((المنتظم4/329))))
8️۔قال الذھبی :
الحوادث فی خلافت ذی النورین عثمان سنہ اربع وعشرین:
دفن عمر في اول المحرم ثم جلسوا للشورى
(سیراعلام النبلاء 2/459)
9️۔قال ابن كثير:
ومات بعد ثلاث ودفن في يوم الاحد مستهل المحرم من سنه اربع وعشرين بالحجرہ النبویہ الی جانب الصدیق
(((البدایہ والنھایہ 7/155)))
10۔قال السيوطي:
اصيب عمر يوم الاربعاء ودفن يوم الاحد مستهل المحرم الحرام
((((تاریخ الخلفاء 1/109)))
خلاصہ کلام:سیدناعمررضی اللہ عنہ پہ حملہ بدہ کے دن ہوا۔آپ جمعرات, جمعہ ,ھفتہ ,حیات رہےاس کے بعد کی شھادت ہوئ اوریکم محرم کی صبح بروزاتوارآپ کو حجرہ مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سپردخاک کردیاگیا۔
تنبیہ:جن حضرات نے آپ کی شھادت 26ذی الحجہ کو قراردی۔انہوں نے زخمی ہونے والے دن کوہی آپ کی شھادت کادن قراردے دیا۔حالانکہ بالاتفاق اسی دن آپ کی شھادت نہیں ہوئ بلکہ چندروزبعدہوئ تھی۔
کمامر. واللہ اعلم
بہت ہی خوب جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
 
Top