کفو کامسئلہ محدثین اور فقہاء کی نظر میں

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
کفو کامسئلہ محدثین اور فقہاء کی نظر میں​
متأخرین فقہاء نے کفو اور جوڑ کے مسئلہ کو بہت زیادہ پھیلا دیا ہے اور ذات پات اور پیشوں کی اس طرح درجہ بندی کی ہے کہ اس سے جاہلی دور کی ونج نیچ کا تصور پیدا ہونے لگتا ہے ،محدثین میں ابن حجر عسقلانی اور علامہ عینی حنفی شارحین بخاری نے اس صریح کر دی ہے کہ:
"عرب کے مختلف قبیلوں کے درمیان نسب کے لحاظ سے اونچ نیچ اور عرب اور عجم کے درمیان قومی امتیاز اور مختلف پیشوں کے لحاظ سے تحقیر و تذلیل کا تصور صحیح حدیث سے ثابت نہیں".
تفصیل کے لیے فتح الباری جلد 9 صفحہ 108 اور عینی شرح بخاری جلد ،9صفحہ8 37 کا مطالعہ کیا جائے۔
ان محدثین ثابت کیا ہے کہ جس حدیث سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے وهو ضعىف اورموضوع ہے.
صحابہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ تابعین میں ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مسئلہ تھا۔
فقہاء میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ کفأة کا اعتبار صرف دین میں ہو گا، اس کے بعد تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی شمارہوں گے۔
فقھائے احناف میں امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی پہلی رائے امام مالک کے مطابق تھی بعد میں امام صاحب نے اپنے شاگردوں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی رائے سے اتفاق کرلیا اور نسب اور پیشوؤں میں کفأۃ کو تسلیم کرلیا۔
لیکن بعد کے حنفی فقہاء نے اس کی تشریح کرتی ہے کہ ائمہ احناف کا یہ مسئلہ کسی حدیث پر مبنی نہیں بلکہ صرف اپنے دور کے حالات کی رعایت پر مبنی ہے۔ بحرالرائق نے لکھا ہے۔
"لان الناس يتفاخرون بشرف الحرف ويتعیرون بدناءتھا۔صفحہ ١٣١:."
یعنی اس دور میں لوگ نسبی تفاخر اور پیشوں میں اونچ نیچ کے تصور میں مبتلا ہوگئے تھے، ان حضرات نے گھریلو زندگی کو کشیدگی سے بچانے کے لیے مصلحتا یہ رائے دی کہ شادی بیاہ میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان نسب اور پیشے کے لحاظ سے برابری کا لحاظ رکھا جائے۔
اس رائے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بیمہ احناف نسب پیشہ میں اونچ نیچ کو تسلیم کرنے لگے تھے۔
اس لیے بعد کے علماء احناف نے کفو کے مسئلہ میں جو غلو اور افراط سے کام لیا ہے وہ متقدمین فقہاء احناف کی صحیح ترجمانی نہیں۔ موجودہ دور کے دو بڑے حنفی عالم اور مفتی حضرت علامہ مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے کفو کی اس درجہ بندی کی تردید کی ہے اور اسے اسلامی تعلیم کے خلاف کہا ہے۔
( اخلاق رسول اکرم ،صفحہ ١٠٠تا١٠١)
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
میں نے ایک جگہ پڑھا کہ لڑکے کا نسب دیکھا جائےکہ لڑکا اچھے اور شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ دین کے بارے میں علم ہو کہ لڑکا دیانت دار، شریف اور نیک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔فاسق فاجر نہ ہو۔ ۔۔لڑکے کے مال کے بارے میں پتہ ہو کہ لڑکے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ بیوی کا مہر اور نفقہ دے سکتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے زیادہ مال دار ہونا کفاءت کے لیے ضروری نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے کاروبار و پیشے کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ ۔۔۔۔۔۔لڑکا کسی ایسے کاروبار یا پیشے سے وابستہ نہ ہو جس کو معاشرے میں گھٹیا اور حقیر سمجھا جاتا ہو۔۔۔۔اگر ان چیزوں میں میں لڑکی کے برابر یا اس سے اعلیٰ ہو تو کفاءت ثابت ہوجائے گی۔
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
اتنا سب دیکھنے کے باقی کیا بچا؟
بہت کچھ بچہ ہے اسکا قد 6فٹ سمارٹ ہو ناک طوطے والی ہو لنگڑاہٹ نہ ہو لکنت نہ ہو جمال ہو نہ۔کہ۔جلال۔۔سوتے میں خراٹے نہ مارتا ہو۔۔۔خواب غیروں کے نہ دیکھتا ہو۔۔۔۔دائیں کروٹ سوتا ہو۔۔۔سوتے میں چلنے کی عادت نہ ہو۔۔۔جو پکے کھالے۔۔۔نخرے باز نہ ہو۔۔۔ماں بہن بھائیوں کا زیادہ تابعدار نہ ہو۔۔۔موبائل۔صاف ہو۔۔۔۔بیوی کے نام کی جگہ بیٹری لو نہ۔لکھا ہو۔۔
محلے میں نیک نامی ہو ۔۔برتن۔دھونے میں ماھر ہو۔۔بیوی کے اشارے پر چلنے والا ہو۔۔۔۔شاپنگ شوق سے کرواتا ہو۔۔۔یہ تمام صفات عالیہ جسمیں ہو ں وہ بھی قبول قبول قبول ہے
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد عورت کا نکاح ایک غلام ابولہند سے کر کے نسب و حسب اور صنعت و حرفت کے سارے بت توڑ دیئے۔


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَا اسْتَفَادَ الْمُؤمِنُ بَعْدَ تَقْوَی اﷲِ خَيْرًا لَه مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ امَرَها اطَاعَتْه وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْها سَرَّتْه وَإِنْ اقْسَمَ عَلَيْها ابَرَّتْه وَإِنْ غَابَ عَنْها نَصَحَتْه فِي نَفْسِها وَمَالِه.

’’ مومن اللہ کے تقویٰ کے بعد جو اپنے لیے بہتر تلاش کرے وہ نیک بیوی ہے کہ اگر اسے حکم دے تو اطاعت کرے، اس کی جانب دیکھے تو خوش ہو، اگر وہ کسی بات کے کرنے پر قسم کھا لے تو اسے پوری کر دے۔ اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں اپنی جان و مال کی نگہبانی کرے‘‘۔

ابن ماجہ
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد عورت کا نکاح ایک غلام ابولہند سے کر کے نسب و حسب اور صنعت و حرفت کے سارے بت توڑ دیئے۔


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَا اسْتَفَادَ الْمُؤمِنُ بَعْدَ تَقْوَی اﷲِ خَيْرًا لَه مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ امَرَها اطَاعَتْه وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْها سَرَّتْه وَإِنْ اقْسَمَ عَلَيْها ابَرَّتْه وَإِنْ غَابَ عَنْها نَصَحَتْه فِي نَفْسِها وَمَالِه.

’’ مومن اللہ کے تقویٰ کے بعد جو اپنے لیے بہتر تلاش کرے وہ نیک بیوی ہے کہ اگر اسے حکم دے تو اطاعت کرے، اس کی جانب دیکھے تو خوش ہو، اگر وہ کسی بات کے کرنے پر قسم کھا لے تو اسے پوری کر دے۔ اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں اپنی جان و مال کی نگہبانی کرے‘‘۔

ابن ماجہ
علماء فرماتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوءی عمل کبھی جواز کے لئے ہوتا ہے اور کبھی ترغیب کے لئے ۔قصہ مذکورہ کس طرف مشیر ہے۔؟
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسلام میں اعتدال کا عنصر ہے جہاں کفاء ت کی ترغیب دی گئی ساتھ میں ضرورت کے تحت اس قسم کے نکاح کو بھی جائز قرار دیا ہے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
لڑکی نے دیکھ لیا جو بچا حضرت نے دکھادیا۔لڑکا کفو میں کیا دیکھے ۔مولانا جی
کفائت (نسب وغیرہ میں برابر ی) کا اعتبار صرف لڑکے کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ لڑکی کی طرف سے یعنی: لڑکا لڑکی سے نیچی برادی کا نہ ہو، لڑکی اگر لڑکے سے نیچی برادری کی ہو تو از روئے شرع اس میں کچھ حرج نہیں: قال في الدر امع الرد: کتاب النکاح باب الکفاء ة : ۴/۲۰۶، ۲۰۷، ط: زکریا دیوبند):
الکفاء ة معتبرة في ابتداء النکاح للزومہ أو لصحتہ من جانبہ أي: الرجل لأن الشریفة تأبی أن تکون فراشا للدنيء ولذا لا تعتبر من جانبہا لأن الزوج مستفرش فلا تغیظہ دناء ة الفراش وہذا عند الکل في الصحیح کما في الخبازیة إھ
 
Top