نکاح میں کفو

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
کفو سے مراد:

کفو کے لغوی معنی برابر، مساوی، ہمسر اور جوڑ کے ہیں۔

اصطلاح میں کفو سے مراد یہ ہے کہ عورت اور مرد جن کا نکاح باہم مقصود ہے۔ وہ معاشرت کے لحاظ سے ہم مرتبہ اور ہم درجہ ہوں۔ کفو کی اصطلاحی تعریف کے بارے میں مفتی محمد امجد علی اعظمی بہار شریعت میں کہتے ہیں کہ:

''کفو کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ مرد عورت سے نسب میں اتنا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح، عورت کے ولیوں کے لیے باعث ِننگ وعار ہو۔کفو صرف مرد کی جانب سے معتبر ہے عورت اگرچہ کم درجہ کی ہو اس کا اعتبار نہیں''۔

کفو کی اہمیت:

الكفاءة في النكاح معتبرة قال عليه السلام الالايزوج النساء الا الاولياء ولا يزوجن الامن الاكفاء ولان انتظام المصالح بين المتكافيين عادة لان الشريفة تابی ان تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لان الزوج مستفرش فلاتغيظه دناءة الفراش واذا زوجت المرأة نفسها من غير كفو فللاولياء أن يفرقوا بينهما دفعا لضرر العار عن انفسهم

ترجمہ:

''کفوکا ہونا نکاح میں معتبر ہے۔ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دار نہ نکاح کریں عورتوں کا مگر اولیاء اور نہ کریں نکاح مگر ہمسروں سے اور اس لئے کہ انتظام مصالح عادة دو ہمسروں کے درمیان حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کہ شریف عورت کمینے مرد کا فراش بننے سے انکار کرے گی۔ پس ضروری ہے کفاءة کا اعتبار بخلاف عورت کی جانب کے اس لئے کہ شوہر فراش بنانے والا ہے۔ لہذا فراش کا کمینہ ہونا اس کو غضبناک نہیں بنائے گا۔ اور جب نکاح کیا عورت نے اپنا بغیر کفو کے تو اولیاء کو حق ہے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کر دیں اپنے اوپر سے ضرر و عارکو دفع کرنے کے لئے''۔

تشریح:

كفاءۃ کے معنی ہمسری، برابری، کف نظیر وغیرہ کے ہیں۔ مساوی باالكفاءة في النکاح یہ ہے کہ شوہر عورت کا مساوی ہو اس کے حسب میں، نسب میں، دین میں، عمر میں، جمال میں وغیرہ ذالک۔ نکاح میں کفاء ت کا اعتبار اس لئے کیا گیا ہے تا کہ اولیاء کاحق فسخ ہو کر نکاح لازم ہو جائے۔ نکاح میں کفو کے معتبر ہونے پر دلیل حضور صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے خبر دار عورتوں کا نکاح نہ کریں مگر اولیاء اور نہ نکاح کریں مگر ہمسروں سے۔ کفو میں محدثین کے نزدیک یہ حدیث اس درجہ کی نہیں ہے جس سے استدلال کیا جائے کیونکہ بعض راوی متہم بالكذب ہیں۔ زیادہ صحیح حدیث حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ہے جسکو ترمذی نے روایت کیا۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے

'' تین چیز میں ہیں جن کو مؤخر نہ کرے۔ نماز جب وقت آ جائے۔ جنازہ جب حاضر ہوجائے۔ اور بغیر شوہر والی عورت جب اس کا کفومل جائے''۔

دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ نکاح کے چھ مصالح ہیں اور وہ مصالح پورے طور پر اس وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب نکاح ہمسروں میں منعقد ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ مصالح نکاح کو حاصل کرنے کیلئے کفو کا ہونا ضروری ہے۔ لہذا كفاءۃ کا اعتبار ضروری ہے۔ البتہ عورت کی جانب میں کفاء ۃ معتبر ہیں مرد شریف خاندان کا ہو اور عورت کمتر خاندان کی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لیے کہ شوہر فراش بنانے والا ہے۔ لہذا فراش کا ادنی اور کمتر ہوتا اس کو غیض میں مبتلا نہیں کرے گا۔
 
Top