طلاق مکرہ

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
مکرہ:

وہ شخص ہے جس کو جان یا عضو کا ضرر پہنچانے کی بادشاہ نے دھمکی دی ہو یا اس شخص نے جس کی طرف سے ایسا کرنا متصور ہے۔

طلاق مکرہ واقع ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ امام شافعی کا نقطہ نظر:

وطلاق المكره واقع خلافا للشافعى هو يقول ان الاكراه لايجامع الاختيار وبه يعتبر التصرف الشرعی بخلاف الهازل لانه مختار في التكلم بالطلاق ولنا انه قصد ايقاع الطلاق في منکوحة في حال اهليته فلا يعرى عن قضيته دفعا لحاجته اعتبارا بالطائع وهذا لانه عرف الشرين واختار اهونهما وهذا اية القصد والاختيار الاانه غير راض بحكمه وذلك غير مخل به کالهازل

ترجمه:

اور مکرہ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ خلاف ہے امام شافعی کا وہ فرماتے ہیں کہ اکراہ اختیار کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا ہے اور اختیار ہی کے ساتھ تصرف شرعی معتبر ہوتا ہے۔ بخلاف ٹھٹھا کرنے والے کے اسلئے کہ وہ تکلم بالطلاق میں مختار ہے۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مکرہ نے طلاق واقع کرنے کا قصد کیا اپنی منکوحہ میں، درانحالیکہ اس کی لیاقت بھی رکھتا ہے تو یہ قصد اپنے مقتضی سے خالی نہ جائے گا۔ اسکی حاجت کو دفع کرتے ہوئے قیاس کرتے ہوئے طائع پر اور یہ (قصد کرنا ) اس دلیل سے معلوم ہوا کہ اس نے دو برائیوں کو پہچانا۔ اور ان دونوں میں آسان کو اختیار کیا اور یہ علامت ہے قصد اور اختیار کی۔ مگر یہ کہ مکرہ اس کے حکم پر راضی نہیں اور یہ غیر مخل ہے ( وقوع طلاق) میں هازل (ٹھٹھا کرنے والے کی طرح)۔

امام شافعی کی دلیل:

پس مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی منکوح کو طلاق دے اور اس نے مجبور ہو کر طلاق دے دی تو صاحب ہدایہ نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ واقع نہیں ہوئی۔ اسی کے قائل امام مالک اور امام محمد ہیں۔ امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ اکراه اور اختیار دونوں جمع نہیں ہو سکتے اور تصرفات شرعی اختیار ہی کے ساتھی معتبر ہوتے ہیں۔ پس اختیار نہ ہونے کی وجہ سے مکرہ کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ بخلاف ہازل کیونکہ اگر کوئی شخص خاندان میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
 
Top