وٹامن ڈی کی کمی سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
وٹامن ڈی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل ہوجاتے ہیں اور عالمی سطح پر وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔
جاپان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے والی سپلیمنٹس لینے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
طبی جریدے ’بی ایم جے‘ میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین کی جانب سے 1256 افراد پر تین سال تک کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلمینٹس لیتے ہیں ان میں نہ صرف ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان میں انسولین کی مقدار بھی بہتر رہتی ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک گروپ کو ماہرین نے یومیہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کی انتہائی کم مقدار فراہم کی، جب کہ دوسرے گروپ کو صرف سادہ گلوکوز دیا گیا۔
ماہرین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے ہر تین ماہ کے بعد مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں ان کے باڈی ماس انڈیکس کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی شامل تھے اور ان میں ذیابیطس کو بھی چیک کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے والے سپلمینٹس لے رہے تھے ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد اور وٹامن ڈی کے سپلیمینٹ لینے والے افراد کے نتائج میں کوئی بہت بڑا نمایاں فرق نہیں تھا، تاہم یہ دیکھا گیا کہ سپلیمینٹ لینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
ماہرین نے تجویز دی کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کے لیے لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس لے سکتے ہیں۔
 

محمد طلحہ

وفقہ اللہ
رکن
وٹامن ڈی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل ہوجاتے ہیں اور عالمی سطح پر وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔
جاپان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے والی سپلیمنٹس لینے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
طبی جریدے ’بی ایم جے‘ میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین کی جانب سے 1256 افراد پر تین سال تک کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلمینٹس لیتے ہیں ان میں نہ صرف ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان میں انسولین کی مقدار بھی بہتر رہتی ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک گروپ کو ماہرین نے یومیہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کی انتہائی کم مقدار فراہم کی، جب کہ دوسرے گروپ کو صرف سادہ گلوکوز دیا گیا۔
ماہرین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے ہر تین ماہ کے بعد مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں ان کے باڈی ماس انڈیکس کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی شامل تھے اور ان میں ذیابیطس کو بھی چیک کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے والے سپلمینٹس لے رہے تھے ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد اور وٹامن ڈی کے سپلیمینٹ لینے والے افراد کے نتائج میں کوئی بہت بڑا نمایاں فرق نہیں تھا، تاہم یہ دیکھا گیا کہ سپلیمینٹ لینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
ماہرین نے تجویز دی کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کے لیے لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس لے سکتے ہیں۔
ماہرین کی تحقیق اپنی جگہ لیکن صرف وٹامن ڈی اگر لیں تو یہ اتنا کام نہیں کرتا اگر اس کے ساتھ وٹامن سی کا استعمال نہ ہو
اگر وٹامن ڈی اور سی ملا کر لئے جائیں تو اس کے فوائد و نتائج بڑھ جاتے ہیں
وٹامن ڈی اور سی اکھٹے شاید کسی سپلمینٹس میں نہیں ملتے ، ملٹی وٹامن مل جاتے ہیں لیکن ان میں دیگر وٹامن شامل ہوتے ہیں ، آج میں ایک نسخہ شئر کرتا ہوں اسے خود بنانا ہے ،یہ دو اجزا پر مشتمل ہے
اجوائن دیسی : یہ وٹامن ڈی سے بھر پور ہے
لیموں کے خشک چھلکے یہ وٹامن سی سے بھر پور ہیں
برابر وزن لیں اور خوب بارک پیس لین (اجوائن بمشکل گرینڈ ہوتی ہے ) مثل غبار کر لیں
اس کا چھوٹا چائے والا چمچ دن میں ایک بار پانی سے لیں اور نتائج و فوائد دیکھیں ،
بندہ کو دعاؤں میں یاد رکھیں
 
Top