اگر کوبرا سانپ ڈس لے تو۔۔۔۔

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
سانپ ایک ایسا جانور ہے جسے دیکھ کر اکثر افراد کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور گھبراہٹ کے مارے انہیں اپنے تحفظ کا خیال بھی نہیں آتا اور اگر ایسے میں وہ ڈس لے تو پھر کیا ہوگا؟
ہر سال ہزاروں افراد کو سانپ ڈس لیتے ہیں اور اگر وہ کوبرا سانپ ہو تو جلد طبی امداد نہ ملنے پر موت کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
تاہم اگر کوئی کوبرا سانپ، جو دنیا کے خطرناک ترین سانپوں میں سے ایک اور پاکستان کے متعدد علاقوں میں موجود ہے، کسی کو کاٹ لے تو پھر ہمارے جسم کو کیا ہوتا ہے؟
ایک کوبرا سانپ تقریباً 20 فٹ تک لمبا ہوسکتا ہے اور اس کا زہر جان لیوا اور جسم کے اندر جاکر تیزی سے حرکت میں آتا ہے۔

اگر کوئی کوبرا سانپ ڈس لے تو انسان کو 2 مراحل کا سامنا ہوتا ہے۔
سانپ کے کاٹنے کے بعد 15 منٹ سے 2 گھنٹے کے اندر نروس سسٹم اور نیورو مسکلر سسٹم کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں غنودگی طاری ہونے کے ساتھ ساتھ جسم مفلوج محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ ہوش و حواس کھونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
کئی بار اس سانپ کا زہر سانس لینا بھی مشکل بنا دیتا ہے اور جس جگہ سانپ نے ڈسا ہو وہاں خراشیں اور آبلے ابھرنے لگتے ہیں اور وہ عضو مردہ ہوسکتا ہے۔
اگر سانپ کے ڈسنے سے انفیکشن ہوجائے تو متاثرہ حصے کو کاٹنا بھی پڑسکتا ہے۔
اس سانپ کے زہر میں خطرناک کارڈیوٹوکسن بھی ہوتا ہے جو پہلے بلڈ پریشر کو تیزی سے بڑھاتا ہے جس کے بعد تیزی سے دل کی دھڑکن کم ہونے لگتی ہے اور آخر میں تھم جاتی ہے۔
سانپ کے ایک بار ڈسنے سے ہوسکتا ہے کہ جسم میں زہر داخل نہ ہو مگر کوبرا کئی بار ڈس کر بڑی مقدار میں زہر کو انسانی جسم میں داخل کرسکتا ہے۔
اس سانپ کے ڈسنے کے باعث دنیا بھر میں بہت زیادہ اموات ہوتی ہیں کیونکہ یہ دن اور رات کو متحرک ہوتا ہے اور اکثر گنجان آباد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
اگر کوئی کوبرا ڈس لے تو طبی ماہرین کے مطابق فوری طور پر اس کے زہر کے تریاق کے استعمال سے جان لیوا نتائج کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔
اگر اینٹی وینوم سے علاج نہ کیا جائے تو کوبرا سانپ کے ڈسنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر موت واقع ہوجاتی ہے۔

سانپ کاٹ لے تو کیا کرنا چاہئے؟

اگر کسی شخص کو کوبرا ڈس لے اور اگر آپ اس کے پاس ہو تو طبی امداد کے لیے رابطہ کریں اور طبی عملے کی آمد تک فوری طور پر زخمی شخص کو سانپ سے دور لے جائیں، پھر اسے نیچے اس طرح لٹائیں کہ زخم دل سے نیچے ہو۔
زخمی شخص کو پرسکون اور آرام پہنچانے کی کوشش کریں اور اسے جتنا ہوسکے ساکت رکھیں تاکہ زہر جسم میں پھیل نہ سکے۔
زخم کو کسی کھلی مگر صاف بینڈیج سے کور کردیں، اگر زخم کے ارگرد کوئی جیولری ہو تو اسے نکال دیں۔
اگر سانپ نے پیر میں کاٹا ہے تو جوتوں کو نکال دیں۔

کیا نہیں کرنا چاہئے:

کبھی بھی زخم کو کاٹنے کی کوشش نہ کریں۔
اسے چوس کر نکالنے کی کوشش کرنا بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
زخم کے ارگرد کی جگہ کو کسی جگہ سے پٹی سے باندھ کر دوران خون روکنے کی کوشش بھی نہ کریں۔
زخم پر برف یا پانی نہ لگائیں۔
اسی طرح متاثرہ شخص کو کوئی بھی مشروب یا دوا دینے سے گریز کریں۔
کوبرا سانپ کے ڈسنے کی صورت میں ان احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرکے آپ اپنے پیاروں کی زندگیوں کو بچانے کی کامیاب کرسکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
 
Top