نظریاتی حکومت

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اللہ پاک نے جس زمینی خلافت کے لیے انسانوں کا انتخاب فرمایا وہ دراصل ایک نظریاتی حکومت ہے، جو مخصوص تصورات پر تشکیل پاتی ہے اور معروف اور مثبت اقدار پر فروغ پاتی ہے، حضرت داؤد علیہ السلام ان اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں جن کو نبوت کے ساتھ ساتھ خلافت ارضی سے بھی سرفراز کیاگیا تھا، ان کو مخاطب کرکے رب العالمین نے ارشاد فرمایا:

یا داوٴد انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الھویٰ فیضلک عن سبیل اللہ (ص۲۶)
ترجمہ: اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین کا خلیفہ بنایا ہے؛ اس لیے لوگوں کے لیے آپ کے فیصلے کی بنیاد خالص حق پر ہونا چاہیے، لوگوں کی خواہشات اور تقاضوں کے پیچھے نہ چلیں ورنہ وہ راہِ حق سے آپ کو دور کردیں گے۔

ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

ثم جعلناکم خلائف فی الارض من بعدھم لننظر کیف تعملون (یونس:۱۴)
ترجمہ: پھر ہم نے خلافت ارضی ان کے بعد تم کو عطا کی تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو؟

ایک جگہ بعض ان بنیادی مقاصد کا ذکر کیاگیاہے جن کے لیے اسلامی حکومت وجود میں لائی جاتی ہے:

الذین ان مکناھم فی الارض أقامو الصلوٰة وآتوالزکوٰة وأمروا بالمعروف ونھوا عن المنکر (الحج:۴۱)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تونماز قائم کریں گے، زکوٰة دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔


سورة الحدید میں ہے:

لقد أرسلنا رسلنا بالبینات وأنزلنا معھم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وأنزلنا الحدید فیہ بأس شدید ومنافع للناس (الحدید:۲۵)
ترجمہ: ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی؛ تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اورہم نے لوہا اتارا جس میں سخت قوت اور لوگوں کے لیے سامانِ نفع ہے۔

لوہا سے مراد یہاں سیاسی قوت ہے۔ (التفسیر الکبیر للرازی، ج۱۵، ص۲۴۳ نسخہ الشاملہ)
 

طاہرہ فاطمہ

وفقہ اللہ
رکن
اللہ پاک نے جس زمینی خلافت کے لیے انسانوں کا انتخاب فرمایا وہ دراصل ایک نظریاتی حکومت ہے، جو مخصوص تصورات پر تشکیل پاتی ہے اور معروف اور مثبت اقدار پر فروغ پاتی ہے
ان نظریات کی وضاحت کریں۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ان نظریات کی وضاحت کریں۔
اسلام روئے زمین پر ایک ایسی آئینی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں حکمراں اور رعایا دونوں کسی بالاتر قانون کے پابند ہوں، جہاں قانون حکمراں طبقے کے لیے بازیچہٴ اطفال نہ بنے، جہاں انسانوں کی مرضی سے نہیں؛ بلکہ رب العالمین کے مقرر کردہ اصول وکلیات کی روشنی میں نظام العمل مرتب ہوسکے، جس پر کسی خاص طبقہ یا ٹولہ کی جاگیرداری نہ ہو، اور جس کے انتخاب سے لے کر انتظام تک میں ارباب حل وعقد اوراصحاب دانش کی آراء سے استفادہ کیا جائے۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
اسلام روئے زمین پر ایک ایسی آئینی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں حکمراں اور رعایا دونوں کسی بالاتر قانون کے پابند ہوں، جہاں قانون حکمراں طبقے کے لیے بازیچہٴ اطفال نہ بنے، جہاں انسانوں کی مرضی سے نہیں؛ بلکہ رب العالمین کے مقرر کردہ اصول وکلیات کی روشنی میں نظام العمل مرتب ہوسکے، جس پر کسی خاص طبقہ یا ٹولہ کی جاگیرداری نہ ہو، اور جس کے انتخاب سے لے کر انتظام تک میں ارباب حل وعقد اوراصحاب دانش کی آراء سے استفادہ کیا جائے۔
اگر مختصر کہیں تو "عدل" پہلا بنیادی نظریہ ہے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
کیا میں نے درست کہا؟؟
عدالت واجتہاد
فقہاء مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک امیرکے لیے عادل ہونا شرط ہے
یعنی ایسا شخص جو امانت ودیانت اور اخلاقِ فاضلہ کا حامل ہو، صادق القول ہو، گناہوں سے بچتا ہو، اعتماد اور وقار رکھتاہو، رضا اور غضب ہرحال میں قابلِ بھروسہ ہو، اس کی دینی اور اخلاقی حالت لوگوں میں معروف اورمسلم ہو

صاحبِ اجتہاد
یعنی اتنا علم وفہم کی مختلف مسائل وواقعات میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی اس میں صلاحیت ہو
اسی لیے ان کے نزدیک صاحب عدل و اجتہاد شخصیت کے رہتے ہوئے کسی فاسق یا غیرمجتہد کو امیر بنانا درست نہیں ہے

حنفیہ کی رائے میں امیر میں یہ صفات بطور شرطِ صحت نہیں؛ بلکہ بطور اولویت مطلوب ہیں، یعنی اگر عادل ومجتہد شخصیت کی موجودگی میں کسی ایسے شخص کو یہ ذمہ داری دے دی جائے، جو ان صفات سے محروم ہوتو یہ انتخاب کا غیر مناسب طریقہ تو ہوگا، مگر منتخب شدہ امیر کی امارت باطل نہیں ہوگی۔

(حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۸، ۴/۳۰۵، الأحکام السلطانیہ للماوردی ص۶، جواہر الاکلیل ۲/۲۲۱، شرح الروض ۴/۱۰۸، مغنی المحتاج ۴/۱۳۰، الانصاف ۱۰/۱۱۰)
 
Top