کسی مسلمان کا نام بگاڑنا اور اسے برے لقب سے پکارنا

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
کسی مسلمان کا نام بگاڑنا اور اسے برے لقب سے پکارنا قرآنِ مجید کی آیت کی رو سے حرام اور سخت گناہ ہے؛ لہذ "مونِس" نام کو "مؤنث" سے بگاڑنے والا فاسق ہے، البتہ اسلام سے خارج نہیں ہے، ایسا کرنے سے فورًا توبہ کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے معافی مانگے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}

ترجمہ: "اے ایمان والو ٹھٹھا (مذاق) نہ کریں ایک لوگ دوسرے سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے، اور عیب نہ لگاؤ ایک دوسرے کو ، اور نام نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے، بُرا نام ہے گناہ گاری پیچھے ایمان کے، اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہے بے انصاف۔ (ترجمۂ شیخ الہند)
 
Top