تعزیت کی تعزیت

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
سنو!سنو!!

تعزیت کی تعزیت

ناصرالدین مظاہری

زندگی اورموت اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہے،وہی زندگی دیتاہے اوروہی دی ہوئی زندگی جب چاہے واپس لے لیتاہے ،اس میں انسان کاکوئی کمال نہیں ہے،تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزہے ،خلاقی اسی کوزیب دیتی ہے،رزاقی اسی کی شایان شان ہے،حی وقیوم کے لائق صرف وہی ہے، ہم سب توچلتے پھرتے مجسمے ہیں جس کی حالت پتنگ جیسی ہے ،پتنگ کہیں بھی چلی جائے،ہواؤں میں اڑے،پہاڑوں کی سیرکرے،فضاؤں میں گردش کرے، اٹکھیلیاں کرے لیکن اس کی ڈورکسی اورکے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ہم نہ اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں نہ اپنی مرضی سے یہاں سے جائیں گے۔ہرسانس،ہرساعت اورہرگھڑی اسی کے محتاج ہیں ۔
جنازوں میں شرکت کے حکم میں پس پردہ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے موت کو یاد کرنے کاموقع ملتاہے،اتباع جنازہ سے اپنے جنازے کایقین پختہ ہوتاہے،مرنے والے کی نیکیاں بیان کرنے سے ثواب ملتاہے،ایصال ثواب کرنے والابھی ثواب سے محروم نہیں رہتاہے،قبرستان جانے کی حکمتوں میں سے سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اس سے خوداپنے انجام اوراپنے آخری آرام اورآرام گاہ کاخیال پختہ ہوتاہے،قبروں میں سوئے ہوؤں کودیکھ کرہمیں بھی یہ سوچنے کی توفیق ہوتی ہے کہ بہت جلدان ہی قبروں کے درمیان ہماری بھی قبرہوگی۔نمازجنازہ پڑھنے، قبرستان جانے اورمردوں کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے قلوب نرم ہوتے ہیں،گناہوں سے نفرت اورنیک کام کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔جنازہ جس وقت قبرستان کی طرف جارہاہوتاہے تواس سے ایک پیغام پیچھے چلنے والوں کے لئے ہوتاہے کہ ع

مرے پیچھے چلے آؤ تمہارا رہنما میں ہوں

اللہ والے موت کوبکثرت یادکرتے ہیں ،عبداورمعبودکے درمیان موت کی دیوارحائل ہے، اِدھرموت آتی ہے اُدھربندہ اپنے خالق ومالک کے حضورپہنچ جاتاہے گویا موت لقائے رب کاذریعہ ہے۔ الموت جسریوصل الحبیب الی لحبیب۔

نہایت تعجب ہوتاہے جب مسلمانوں میں کسی کی موت پرمبالغہ کے ساتھ رنج وغم کیا جاتاہے ،رنج وافسوس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بیوی کواجازت دی ہے وہ بھی صرف عدت تک،اس میں بھی نوحہ ،چیخ وپکار،نالہ وشیون،ماتم وسینہ کوبی وغیرہ سے سختی سے منع کیاگیاہے ۔
اب توتعزیت کاسلسلہ کافی دن تک چلتارہتاہے،مرحوم کومرحوم ہوئے بھی ہفتہ عشرہ گزرگیاہے پھربھی ’’تعزیت مسنونہ‘‘کے اعلانات اوراشتہارات شائع ہوتے ہیں،لوگ جوق درجوق اس ’’تعزیت مسنونہ‘‘کے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں، پورے پروگرام میں ایک بندہ بھی ایسا نہیں ملتاجولوگوں کوتاکید کرسکے کہ بھائی !بے شک تعزیت مسنون ہے لیکن صرف تین دن ،اس کے بعدسنت نہیں ہے اب یہ سنت کی مخالفت ہے ۔

ہمیں تعزیت کاحکم ضرورہے لیکن اس میں بھی قیدلگادی گئی کہ تین دن سے زیادہ تعزیت بھی نہ کی جائے۔چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

التعزية لصاحب المصيبة حسن، كذا في الظهيرية، وروى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخرى، كذا في المضمرات ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها(الھندیۃ:دار الفکر)

وارثین کے یہاں تین دن کے بعدبھی لوگوں کا تانتالگارہتاہے ،جب بھی کوئی پہنچتاہے تووارثین کاغم تازہ ہوجاتاہے ،تعزیت کنندگان بھی اپنی محبت اورمرحوم سے تعلق کوکچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ وارثین زبان حال سے کہہ اٹھتے ہیں:

کچھ یاس سے تسکین دل مضطرکوہوئی تھی

پھرچھیڑدیازخم جگرہائے تمنا

میت والوں کے گھرکھاناوغیرہ پہنچانا چاہئے کیونکہ اس حادثہ کی وجہ سے وہاں کھانا پکانے کی فرصت نہیں ملتی اورہماری حالت یہ ہے کہ ہم میت والوں کے یہاں سے ہی کھاکراور چھک کرآجاتے ہیں۔

مسنون تعزیت یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا بعد میت کے اہل خانہ سے ملے ،ملاقات کرے، تسلی دے، دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،دعائیہ کلمات کہے، تعزیت مسنونہ کے لئے اگرچہ مخصوص طورپرمتعین الفاظ نہیں ہیں تاہم کوشش کرے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم یاصحابہ ٔ کرام نے ایک دوسرے سے تعزیت کے لئے جن الفاظ وکلمات کا استعمال فرمایاہے ان کویا اس کے مضمون کو بطور تعزیت استعمال کرے ، اس کے علاوہ بھی صبرو تسلی کے لیے اپنے طورپرالفاظ کاانتخاب کرسکتاہے۔

اب تو ایک اور’’ بدعت‘‘ اور’’رسم‘‘ تعزیت کے سلسلہ میں وجودمیں آگئی ہے مثلاً نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اپنی تنظیم یا اپنے ادارے کی طرف سے کچھ منتخب لوگوں کوبھیجا جاتاہے جس کو’’نمائندگی‘‘کانام دیاجاتا ہے۔خاص کراِس زمانہ میں عام طورپرپڑھالکھاطبقہ مرتکب نظرآتا ہے، آج کل بہت سے لوگ تعزیت اس لئے کرتےہیں تاکہ وارثین کوشرکت نہ کرنے کاشکوہ نہ ہو،وارثین بھی خوب دھیان دیتے ہیں کہ کون آیاہے کون نہیں آیاہے۔غورکریں اگرہماری نیت جنازے میں شرکت سے صرف نمائندگی ہے یاجواب دہی کاپہلوغالب ہے تو’’سنت‘‘کہاں ہے؟ہم نے سنت کوثانوی درجہ میں رکھ دیااورنمائندگی کوپہلے درجہ میں رکھ دیاہے۔

حضرت نافع بن جبیر کا ارشاد ہے :’’ کہ جو شخص جنازے میں میت کے پسماندگان کو دکھانے کے لئے شریک ہو تو اسے جنازہ میں شریک ہی نہیں ہونا چاہیے۔من شهد جنازة ليراه أهلها، فلا يشهدها .كتاب سير أعلام النبلاء ( ٥٤٢/٤)

راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ’’ اس غلطی میں تو بہتیرے لوگ مبتلا ہیں کہ وہ جنازے میں شرکت یا تعزیت کے لئے صرف اور صرف ملامت سے بچنے کی خاطر جاتے ہیں نہ کہ عبادت سمجھ کر جب کہ اس کی فضیلت اور اجر پر متعدد نصوص موجود ہیں اللہ تعالی اخلاص سے نوازے۔قلت: هذا الخطأ يقع فيه كثير من الناس وصورته انهم يذهبون للجنازة وكذا أداء واجب التعزية لرفع الملامة على أنفسهم لا التقرب إلى اللّٰه عز وجل بأداء هذه العبادات التي جاءت النصوص ببيان فضلها وعظيم أجرها ، فاللّٰه اللّٰه في الاخلاص.

اسی طرح حدیث شریف میں ہے من صلى على جنازة فله قيراط، ومن اتبعهاحتى توضع في القبر فقيراطان، قال قلت يا أبا هريرة ما القيراط قال مثل أحد۔

جوشخص نمازجنازہ میں شرکت کرے تواس کوایک قیراط اورجوشخص جنازہ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ میت کوقبرمیں دفن کردیاجائے تو اس کے لئےدوقیراط ثواب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہاکہ اے ابوہریرہؓ! قیراط کیاچیزہے ؟فرمایا:احدپہاڑ کے برابر۔

بے شک آپ کہہ سکتے ہیں کہ نمازجنازہ فرض کفایہ ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ جنازہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے اہل علم سے جو بدظنی اوربدگمانی عوام کوہوئی ہے اس کوکیسے دورکیاجائے گا؟۔کیا ہمیں ایسے مواقع پرسنت اورمستحب پرعمل کرکے غلط فہمی کے اندیشوں اور فتنوں کے خطروں پرقدغن نہیں لگانی چاہئے۔
 
Top