مترادفات القرآن (ٹ)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹکڑا​

کے لیے جزہ، قطع، بقعۃ، کسفا، زبر، انکاث، عضین (عضو) جذاذ (جذّ) فرق اور بعض کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جزء​

بمعنی ٹکڑا یا کسی چیز کا علیحدہ شدہ حصہ۔ اس کی ضد کلّ ہے۔ جمع اجزا ہے۔ یعنی کسی چیز کے وہ حصے جن کے ملانے سے وہ چیز مکمل ہوتی ہے۔ اور جزء الشئ بمعنی کسی چیز کو مختلف اجزا میں تقسیم کرنا۔ ایک حصہ لینا (منجد) ارشاد باری ہے:
قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا (سورۃ البقرۃ آیت 260)
فرمایا کہ چار پرندے لے لو پھر انکو اپنے سے ہلا لو اور انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دو پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھ دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے​

2: قطع​

قطعۃ کی جمع ہے۔ یعنی کسی چیز کا جدا کردہ حصہ یا ٹکڑا۔ قطعہ اشعار کے مجموعہ کو بھی کہتے ہیں جن میں چار سے زیادہ اور دس سے کم شعر ہوں اور زمین کے علیحدہ کیے ٹکڑے کے لیے بھی آتا ہے۔ پلاٹ وغیرہ (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ (سورۃ الرعد آیت 4)
اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے۔ اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں باوجودیکہ پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے​
اور قطع کا لفظ اگر رات سے منسوب ہو تو اس سے مراد کا کوئی ایک حصہ ہوتا ہے (منجد) لیکن بعض مترجمین اس سے رات کا آخری حصہ مراد لیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَکَ (سورۃ ھود آیت 81)
تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اسپر بھی پڑے گی۔​

3: بقعۃ​

صاحب میقاس اللغۃ کے نزدیک (بحوالہ خلیل) بقعۃ زمین کا وہ قطعہ ہے جو آس پاس کے قطعات سے نمایاں ہو (م ل) قرآن میں ہے:
فَلَمَّاۤ اَتٰٮہَا نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٴ الۡوَادِ الۡاَیۡمَنِ فِی الۡبُقۡعَۃِ الۡمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 30)
سو جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسٰی یہ میں ہوں اللہ تمام جہانوں کا پروردگار۔​

4: کسف​

کسفۃ کی جمع ہے۔ بمعنی متخلخل اجسام جیسے بادل یا روئی کا ٹکڑا (مف) جو آسانی سے علیحدہ ہو سکتے اور جڑ سکتے ہیں۔ قرآن میں ہے:
فَاَسۡقِطۡ عَلَیۡنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 187)
سو اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ۔​

5: زبر​

زبرۃ کی جمع ہے۔ بمعنی لوہے کا بڑا ٹکڑا (منجد) لوہے کی چادریں، تختے، پھر ہر پھیلائی ہوئی چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جس کی موٹائی تو کم ہو لیکن پھیلی ہوئی زیادہ ہو۔ مثلاً کاغذ کے تختے، کتب کے اوراق، صحیفے وغیرہ۔ قرآن میں ہے:
اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ (سورۃ الکہف آیت 96)
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ
وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 196)
اور اسکی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔​
زبر کا استعمال معنوی طور پر بھی ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ (سورۃ المومنون آیت 53)
پھر لوگوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے ٹکڑے ٹکرے کر دیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے۔​

6: انکاث​

نکث کی جمع ہے۔ بمعنی دوبارہ کاتنے کے لیے ادھیڑا ہوا کمبل یا خیمہ۔ اور نکّاث کسی بنی ہوئی یا لپٹی ہوئی چیز کو ادھیڑنے والے کو کہتے ہیں (منجد) پھر ادھیڑنے میں ایسی چیزیں چونکہ خراب اور ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جاتی ہیں لہذا انکاث ایسے ہی ٹکڑوں کے معنی میں آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ (سورۃ النحل آیت 92)
اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اسکو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا​

7: عضین​

العضو اور العضو بمعنی بدن کا حصہ اور اس کی جمع اعضاء آتی ہے۔ اور عضا یعضوا بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ اور العضۃ کے معنی ٹکڑا، فرقہ۔ اس کی جمع عضین اور عضون آتی ہے (منجد) اور مقیاس اللغۃ کے نزدیک عضن کے معنی کسی چیز کے ٹکڑے کرنا اور اسی سے عضو اور عضو (ع زیر) ہے (م ل) گوشت کے ٹکڑے، بوٹیاں۔ ارشاد باری ہے:
الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ (سورۃ الحجر آیت 91)
یعنی قرآن کو کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔​

8: جذاذ​

جذّ بمعنی کاٹنا، توڑنا۔ اور جذّ کٹی ہوئی چیز کے چھوٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع جذاذ اور جذاذات آتی ہے۔ بمعنی کٹی ہوئی شے کے باریک ٹکڑے یا ریزے۔ جذاذات من الفضۃ بمعنی چاندی کے ریزے اور جذاذ سونے کے ڈلے کو بھی کہتے ہیں (منجد) گویا جذاذ قیمتی دھاتوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ریزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ الانبیا آیت 58)
پھر انکو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا مگر ایک بڑے بت کو نہ توڑا تاکہ وہ اسکی طرف رجوع کریں۔​

9: فرق​

بمعنی کسی چیز کا ٹوٹا ہوا یا کٹا ہوا ٹکڑا (منجد) اس میں بالعموم دو ٹکڑوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ ایک کٹ کر علیحدہ شدہ ٹکڑا۔ دوسرے وہ جو کٹنے کے بعد باقی رہ گیا۔ اور فرق سر کے بالوں درمیانی رستہ یا مانگ کو بھی کہتے ہیں (منجد) اور فرق سامنے کے دو دانتوں کے درمیانی فاصلہ کو (منجد) ارشاد باری ہے:
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ (سورۃ الشعرا آیت 63)
اس وقت ہم نے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا سو ہر ایک ٹکڑا یوں ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔​
(فرق اور فلق میں فرق کے لیے دیکھیے "پھاڑنا")

10: بعض​

کا استعمال عام ہے۔ یہ کسی "کل" کے "جزء" کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے:
فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 73)
چنانچہ ہم نے کہا کہ اس (گائے کا) کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ ​
اور اگر کل کئی مستقل چیزوں کا مجموعہ ہو تو فرد کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے بعض اللیالی بمعنی راتوں میں سے کوئی ایک رات یا بعض الناس کوئی آدمی۔ قرآن میں ہے:
فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ (سورۃ القلم آیت 30)
پھر لگے ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے ملامت کرنے۔​
علاوہ ازیں بعض کا استعمال معنوی طور پر بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ (سورۃ الزخرف آیت 63)
اور جب عیسٰی نشانیاں لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمکو سمجھا دوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔​

ماحصل:​

  • جزہ: کسی چیز کے حصے جن سے وہ مکمل ہوتی ہے۔
  • قطعۃ: زمین، اشعار اور رات کے حصے یا ٹکڑے کے لیے۔
  • بقعۃ: وہ قطعہ زمین جو دوسروں سے ممتاز ہو۔
  • کسف: متخلخل اجسام مثلاً بادل، روئی یا آسمان کا ٹکڑا۔
  • زبر: لوہے یا کاغذ وغیرہ کے تختے، اوارق۔
  • انکاث: بنی ہوئی روئی یا اون کے ٹکڑے۔
  • عضین: گوشت کے ٹکڑے، بوٹیاں۔
  • جذاذ: قیمت دھاتوں کے ریزے اور ٹکڑے۔
  • فرق: بالعموم دو حصوں میں سے کوئی ایک۔
  • بعض: کل کے مقابل میں جزء کے لیے اور مجموعہ کے مقابلہ میں فرد یا کچھ افراد کے لیے۔
نیز دیکھیے "حصہ"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹوٹنا​

کے لیے تبّ، انفصم، انقضّ، تقطّع کے الفاظ آئے ہیں۔

1: تبّ​

کے لغوی معنی مسلسل نقصان و خسارہ کی وجہ سے ہلاکت کو پہنچنا ہیں (مف) اور قرآن میں تباب کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور تبّ دعائیہ کلمہ بھی ہے۔ کہتے ہیں تبّا لک بمعنی خدا تجھے غارت کرے یا ہلاک کرے۔ اس طرح تبّت یداہ بمعنی اس کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ (سورۃ مسد آیت 1)
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود ہلاک ہو گیا۔​

2: انفصم​

کسی چیز کا اس طرح ٹوٹنا کہ دونوں حصے الگ نہ ہوں بلکہ جڑے رہیں (منجد) لکیر آ جانا، بال آنا۔ ارشاد باری ہے:
فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 256)
تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسّی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں​

3: انقضّ​

نقض بمعنی توڑنا اور انقضّ بمعنی عمارت وغیرہ کا تڑخ جانا۔ اور النقض بمعنی عمارت وغیرہ کا ٹوٹا ہوا حصہ (منجد) دیوار وغیرہ کا تڑخ کر اس میں دراڑ پڑنا اور شکستہ ہو کر ایک طرف کو جھک جانا۔ ارشاد باری ہے:
فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ (سورۃ الکہف آیت 77)
پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو خضر نے اسکو سیدھا کر دیا۔​

4: تقطّع​

کسی چیز کا ٹوٹ کر یا کٹ کر علیحدہ ہو جانا۔ ظاہری اور معنوی دونوں طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ (سورۃ البقرۃ آیت 166)
اس دن کفر کے پیشوا اپنے پیروؤں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور دونوں عذاب الٰہی دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔​

ماحصل:​

  • تبّ: دعائیہ کلمہ، برے مفہوم میں بمعنی کسی کی تباہی و بربادی کے لیے بد دعا۔
  • انفصام: اس طرح ٹوٹنا کے دونوں حصے الگ نہ ہوں۔
  • تقطّع: اس طرح ٹوٹنا کے اس کے حصے الگ ہو جائیں۔
  • انقض: عمارت یا دیوار وغیرہ کا تڑخنا۔
ٹھٹھا کرنا کے لیے دیکھیے "مذاق اڑانا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹھنڈا ہونا – کرنا​

کے لیے برد اور قرّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: برد​

بمعنی ٹھنڈا ہونا۔ اور برد برودت بمعنی ٹھنڈک یا سری۔ اور برد بمعنی اولے۔ بردت الارض بمعنی زمین پر اولے برسے (منجد) اور بارد بمعنی کوئی بھی ٹھنڈی چیز۔ ارشاد باری ہے:
اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (سورۃ ص آیت 42)
ہم نے کہا کہ زمین پر لات مارو دیکھو یہ چشمہ نکل آیا نہانے کو ٹھنڈا پانی اور پینے کو بھی۔​

2: قرّ​

قرّ الیوم بمعنی دن کا ٹھنڈا ہونا۔ یوم قرّ بمعنی ٹھنڈ دن۔ لیلۃ قرّۃ بمعنی ٹھنڈی رات۔ پھر یہ معنوی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے قرّت (قرۃ و قرّۃ) عینہ بمعنی کسی کی آنکھ ٹھنڈی ہونا۔ دل کی خوش اور مراد حاصل ہونا (مف، منجد) گویا ایسی ٹھنڈک جو خوشگوار بھی ہو اس کے لیے قرّ کا لفظ آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَکُلِیۡ وَ اشۡرَبِیۡ وَ قَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ (سورۃ مریم آیت 26)
تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔​

ماحصل:​

برد ٹھنڈک کے لیے عام ہے۔ اور قرّ ایسی ٹھنڈک کو کہتے ہیں جو خوشگوار اور باعث راحت و سکون ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹھہرنا (بمعنی رکنا)​

کے لیے سکن، رکد، جمد، رھوا، قرّ اور وقف کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: سکن​

حرکت کے بعد ٹھہراؤ کے لیے آتا ہے۔ (مف)

2: رکد​

کسی چیز کی احتیاج کے بعد کسی چیز کا اپنے سہارے قائم و ثابت ہو جانا (م ا) رکد المیزان بمعنی ترازو کا برابر ہو کر ٹھہر جانا۔ اور رکد الشمس بمعنی سورج کا سر پر آ کر ٹھہرتا معلوم ہونا۔ ارشاد باری ہے:
اِنۡ یَّشَاۡ یُسۡکِنِ الرِّیۡحَ فَیَظۡلَلۡنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ (سورۃ الشوری آیت 33)
اگر اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔ کہ جہاز اسکی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ ہر صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان باتوں میں قدرت کے نمونے ہیں۔​

3: جمد​

بے جان چیزوں کا بالکل بے حس و حرکت ہونا۔ جمد الماء بمعنی پانی کا جم جانا۔ اور جمد الدم بمعنی خون خشک ہونا۔ اور جمد جمے ہوئے پانی کو کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
وَ تَرَی الۡجِبَالَ تَحۡسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ (سورۃ النمل آیت 88)
اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ مضبوط جمے ہوئے ہیں مگر وہ اس روز اس طرح اڑتے پھریں گے جیسے بادل۔​

4: رھوا​

سمندر یا سطح آپ پر لہروں اور موجوں یا تلاطم کا رک جانا (منجد) دوسری لغت یہ ہے کہ دو بلندیوں کے درمیان کھلی جگہ یا راستہ (م ا، مف)
قرآن کریم میں یہ لفظ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ اور دونوں معانی کا ساتھ دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ (سورۃ الدخان آیت 24)
اور سمندر سے کہ ٹھہرا ہوا ہو گا پار ہو جانا تمہارے بعد وہ پورا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔​

5: قرّ​

کسی جگہ قرار پکڑنا (منجد) جم کر ٹھہرنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی (سورۃ حج آیت 5)
اور ہم جسکو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔​

6: وقف​

بے حس و حرکت کھڑا ہونا (م ق) کسی کام کے کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرنا۔ (موقف سیّارات بس سٹینڈ کو کہتے ہیں) یا ایسا ٹھہراؤ جس کے بعد پہلی سی حرکت یا کام متوقع ہو۔ اور یہ لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
1: لازم
وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ؕ (سورۃ الانعام آیت 30)
اور کاش تم انکو اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔​
2: متعدی
وَ قِفُوۡہُمۡ اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ (سورۃ الصافات آیت 24)
اور انکو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے کچھ پوچھنا ہے۔​

ماحصل:​

  • سکن: حرکت کے بعد ٹھہرنا۔
  • رکد: کسی حرکت کرتی ہوئی چیز کا اپنے سہارے قائم و ثابت ہو کر ٹھہر جانا۔
  • جمد: جم جانا، بے جان اشیا کا مستقل ٹھہراؤ۔
  • رھوا: سطح آب کا پر سکون ہونا۔ یا دو برقرار چیزوں کے درمیان کھلی جگہ۔
  • قرّ: کسی چیز کا کسی جگہ قرار پکڑنا۔ کچھ مدت کے لیے ٹھہرے رہنا۔
  • وقف: دوران کار ٹھہرنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹھہرنا (آباد ہونا)​

کے لیے لبث، مکث، عکف کے الفاظ آئے ہیں۔ نیز دیکھیے "آباد ہونا"۔

1: لبث​

بمعنی کسی جگہ جم کر ٹھہرنا اور مستقل قیام کرنا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمۡ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَ ازۡدَادُوۡا تِسۡعًا (سورۃ الکہف آیت 25)
اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے۔
​

2: مکث​

کسی چیز کی انتظار میں ٹھہرنا (مف، م ل) قرآن میں ہے:
اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا (سورۃ طہ آیت 10)
جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے
​
دوسرے مقام پر ہے:
فَمَکَثَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ فَقَالَ اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ وَ جِئۡتُکَ مِنۡ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ (سورۃ النمل آیت 22)
ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہد ہد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جسکی آپکو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔
​
اور تیسرے مقام پر ہے:
وَ قُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰہُ لِتَقۡرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکۡثٍ وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 106)
اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اسکو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔
​
لیکن بعد میں یہ لفظ اپنی اصل کو چھوڑ کر لبث کا ہم معنی قرار پا گیا۔ جیسے قرآن میں ہے:
مَّاکِثِیۡنَ فِیۡہِ اَبَدًا (سورۃ الکہف آیت 3)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
​

3: عکف​

بمعنی تعظیما کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا اور اس سے وابستہ رہنا (مف) اور بمعنی گوشہ نشین ہونا، اپنی اصلاح کرنا، اور خود باز رکھنا (م ا) یعنی کس متبرک مقام پر بغرض عبادت ٹھہرنا اور رکے رہنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 187)
اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھتے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔
​

ماحصل:​

  • لبث: بہت طویل مدت تک ٹھہرنے کے لیے۔
  • مکث: کسی چیز کے انتظار میں ٹھہرنے کے لیے۔
  • عکف: کسی متبرک مقام پر بغرض عبادت ٹھہرنے کے لیے آتا ہے۔
نوٹ: سکن، خلد وغیرہ کے لیے دیکھیے "آباد ہونا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹیلہ اور اس کی اقسام​

کے لیے ربوۃ، امتا، حدب، ریع، احقاف اور نجد کے الفاظ آئے ہیں۔

1: ربوۃ​

بمعنی جائے بلند جس میں نشیب و فراز ہو (م ا) ربا یربوا بمعنی بڑھنا اور پھلنا پھولنا۔ اور ربوۃ سے مراد ایسی ریتلی زمین ہے جس کی سطح قدرے بلند ہو۔ یہ عموماً سر سبز و شاداب ہوتی ہے۔ (پنجابی میرا زمین) قرآن میں ہے:
وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ وَ تَثۡبِیۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبۡوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُکُلَہَا ضِعۡفَیۡنِ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یُصِبۡہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ (سورۃ البقرۃ آیت 265)
اور جو لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو جب اس پر زور کا مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے پھر اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
​

2: امتا​

اونچان (م ق) ٹبہ، چھوٹا ٹیلہ، بلند مقام (منجد) ارشاد باری ہے:
لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا (سورۃ طہ آیت 107)
جس میں تم کوئی نشیب و فراز نہ دیکھو گے۔
​

3: حدب​

کے لغوی معنی ابھار اور کبڑا پن ہے۔ اور مجازاً بلند اور سخت زمین کو بھی کہتے ہیں جو اس شکل کی ہو (مف) یعنی ایسا ٹیلہ جو پھیلاؤ میں زیادہ اور بلند میں کم ہو۔ (محدّب ضد مجوّف) شیشے جو نزدیک اور دور کی نظر کی کمزوری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور محدّب شیشہ کو عدسہ بھی کہتےہیں کیونکہ وہ مسور کے دانوں کی شکل کی طرح دونوں طرف سے ابھرا ہوا ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَ مَاۡجُوۡجُ وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 96)
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے نیچے آ رہے ہوں۔
​

4: ریع​

ریعۃ کی جمع ہے۔ بمعنی بلند وادی۔ پہاڑوں کے درمیان قابل ستائش وادیاں (م ا) اور ریعۃ بمعنی بلند ٹیلہ، وادی کی بلندی سے پانی بہنے کی جگہ، پہاڑی، کشادہ راستہ (منجد) ارشاد باری ہے:
اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 128)
بھلا تم ہر اونچی جگہ پر فضول نشان تعمیر کرتے ہو۔
​

5: احقاف​

حقف کی جمع ہے۔ بمعنی ریت کا نا ہموار ٹیلہ (مف) ریت کا لمبا اور پیچدار قطعہ (منجد) اور احقاف بمعنی ریت کے ٹیلے، ریگستان، ایک ریگستان کا نام۔ ارشاد باری ہے:
وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ (سورۃ الاحقاف آیت 21)
اور قوم عاد کے بھائی ھود کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں خبردار کیا اور ان کے آگے اور پیچھے سے خبردار کرنے والے گذر چکے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے۔
​

6: نجد​

بلند اور سخت زمین، ٹیلہ کو بھی کہتے ہیں اور پستان کو بھی (منجد) اور بمعنی چھوٹا پہاڑ (منجد) پھر نجد گھاٹی اور گھاٹی جانے والے بلند راستہ کو بھی کہتے ہیں اور اترنے والے کو بھی (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ (سورۃ البلد آیت 10، 11)
یہ چیزیں بھی دیں اور اسکو خیر و شر کے دونوں رستے بھی دکھا دئیے۔ مگر یہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا۔
​

ماحصل:​

  • ربوۃ: بلند اور نرم ریتلی زمین۔
  • امت: چھوٹا سا نا ہموار ٹیلہ۔
  • حدب: ایسا ٹیلہ جو پھیلاؤ میں زیادہ اور بلند میں کم ہو۔
  • ریع: پہاڑوں کے درمیان قابل رہائش وادیاں۔
  • احقاف: ریگستان، ریت کے لمبے اور پیچدار ٹیلے۔
  • نجد: گھاٹی اور اس پر چڑھنے اور اترنے کا راستہ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹیڑھ (کجی) ٹیڑھا ہونا​

کے لیے عوج، زیغ، الحاد، جور اور نکب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: عوج​

بمعنی کسی ایستادہ چیز مثلاً دیوار یا درخت کے بالائی حصہ کا ٹیڑھا ہونا اور اعوج بمعنی ٹیڑھی چالا والا آدمی۔ اور العوج وہ ٹیڑھا پن ہے جو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جا سکے اور العوج وہ ٹیڑھا پن ہے جو عقل و بصیرت سے دیکھا جا سکے (مف) لیکن درج ذیل آیت کی رو سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔
لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا (سورۃ طہ آیت 107)
جس میں تم کوئی نشیب و فراز نہ دیکھو گے۔
​
عوج اور امت متضاد الفاظ ہیں۔ بمعنی اونچ نیچ اور خلیل کی نزدیک یہ دونوں لفظ مترادف یا ہم معنی ہیں جو کہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہو جاتا ہے (م ل) بہر حال عوج وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ ظاہری اشیاء میں اس کا مفہوم اونچ نیچ اور موڑ ہے اور معنوی چیزوں میں اس کا مفہوم پیچیدگی، الجھن یا ابہام ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا (سورۃ الکہف آیت 1)
سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے اپنے محبوب بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔
​

2: زیغ​

زاغ بمعنی راہ حق سے انحراف کرنا۔ زاغ البصر بمعنی نظر کا تھکنا (منجد) اور امام راغب کے نزدیک نگاہ نے غلطی کی اور ایک طرف ہٹ گئی (مف) یہ لفظ عموماً معنوی طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا مفہوم زاویہ نگاہ یا نقطہ نظر میں تبدیل، ٹیڑھ اور انحراف ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ (سورۃ آل عمران آیت 7)
تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے و متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ (سورۃ الصف آیت 5)
پھر جب ان لوگوں نے کجروی کی اللہ نے بھی انکے دل ٹیڑھے کر دیئے اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
​

3: الحد​

لحد بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ۔ اور الحد بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہو جانا اور الحد السھم الھدف بمعنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا۔ اور الحد عن الدین بمعنی دین میں طعن کرنا (مف) اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے (فق ل 189) جیسے خدا کی ذات و صفات میں شک کرنا یا معجزات سے انکار کرنا۔ تاہم اس سے انسان کافر نہیں ہوتا (فق ل 189)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ (سورۃ حج آیت 25)
اور جو اس میں شرارت سے کجروی و کفر کرنا چاہے تو اسکو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 180)
اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اسکو انہی ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اسکے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں انکو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔
​

4: جور​

جار بمعنی میل عن الطریق (م ل) یعنی راستہ سے ایک طرف مائل ہو جانا اور بمعنی شریعت کے احکام سے رک جانا (منجد) اور اس کجی کا تعلق شریعت کے احکام سے عدول کرنا ہے (فق ل 199) اور جائر بمعنی ایک طرف جھکا ہوا، زیادتی کی طرف مائل۔ ارشاد باری ہے:
وَ عَلَی اللّٰہِ قَصۡدُ السَّبِیۡلِ وَ مِنۡہَا جَآئِرٌ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ (سورۃ النحل آیت 9)
اور سیدھا رستہ تو اللہ تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا۔
​

5: نکب​

نکب الاناء بمعنی برتن میں جو کچھ ہے اسے جھکا کر گرا دینا۔ اور نکبت الریح بمعنی ہوا کا ٹیڑھا چلنا (منجد) اور الانکب بمعنی ٹیڑھے شانے والا اور وہ اونٹ جو جھک کر چلے (مف) اور الانکب بمعنی ایک شانہ کو دوسرے سے اونچا رکھنے والا، ظالم، جفا کار۔ اور نکب (جمع نکوب اور نکبات) بمعنی مصائب (منجد) گویا نکب ایسے جھکاؤ اور ٹیڑھ کو کہتے ہیں جس کا نتیجہ عیب، ظلم یا مصیبت ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوۡنَ (سورۃ المؤمنون آیت 47)
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ رستے سے الگ ہو رہے ہیں۔
​

ماحصل:​

  • عوج: اجسام میں بلندی، پستی، موڑ، ٹیڑھ، جھکاؤ وار معنوی استعمال ہو تو اس کا معنی پیچیدگی، الجھاؤ اور ابہام ہے۔
  • زیغ: زاویہ نگاہ اور نظریات میں ٹیڑھ کے لیے۔
  • الحاد: خدا کی ذات و صفات اور عقائد میں ٹیڑھ کے لیے۔
  • جور: احکام شریعت کی تعمیل میں بے راہروی کے لیے۔
  • نکب: ایسی ٹیڑھ اور جھکاؤ جو کسی عیب، ظلم ور معصیت کا سبب ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ٹیک لگانا​

کے لیے اتّکا اور ارتفق کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: اتّکا​

اتکا بمعنی کسی کے لیے تکیہ لگانا۔ اور اتکا علی الشّی بمعنی سہارا لینا، ٹیک لگانا، توکّا علی العصا بمعنی اس نے عصا پر ٹیک لگائی اور تکاۃ بمعنی جس چیز پر ٹیک لگائی جائے۔ مثلاً لاٹھی، تلوار، کمان وغیرہ۔ اور اتّکا بمعنی ٹیک لگا کر بیٹھ جانا (منجد، م ق) ارشاد باری ہے:
مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا (سورۃ الدھر آیت 13)
اس میں وہ تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ کی حدّت دیکھیں گے نہ سردی کی شدت۔
​

2: ارتفق​

مرفق بمعنی کہنی اور ہر وہ چیز جس سے سہارا لیں۔ اور مرفقۃ بمعنی چھوٹا تکیہ اور ارتفق بمعنی کہنی یا تکیہ پر ٹیک لگانا۔ اور مرتفق ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں تکیے لگے ہوں اور ہر طرح کا آرام میسر ہو (منجد) ارشاد باری ہے:
نِعۡمَ الثَّوَابُ ؕ وَ حَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا (سورۃ الکہف آیت 31)
کیا خوب بدلہ اور کیا خوب آرام گاہ ہے۔
​

ماحصل:​

اتّکا: کسی بھی چیز سے ٹیک لگانے اور ارتفق صرف آرام دہ چیزوں سے ٹیک لگانے کے لیے آتا ہے۔
 
Top