ٹکڑا
کے لیے جزہ، قطع، بقعۃ، کسفا، زبر، انکاث، عضین (عضو) جذاذ (جذّ) فرق اور بعض کے الفاظ آئے ہیں۔1: جزء
بمعنی ٹکڑا یا کسی چیز کا علیحدہ شدہ حصہ۔ اس کی ضد کلّ ہے۔ جمع اجزا ہے۔ یعنی کسی چیز کے وہ حصے جن کے ملانے سے وہ چیز مکمل ہوتی ہے۔ اور جزء الشئ بمعنی کسی چیز کو مختلف اجزا میں تقسیم کرنا۔ ایک حصہ لینا (منجد) ارشاد باری ہے:قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا (سورۃ البقرۃ آیت 260)
فرمایا کہ چار پرندے لے لو پھر انکو اپنے سے ہلا لو اور انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دو پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھ دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے
فرمایا کہ چار پرندے لے لو پھر انکو اپنے سے ہلا لو اور انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دو پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھ دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے
2: قطع
قطعۃ کی جمع ہے۔ یعنی کسی چیز کا جدا کردہ حصہ یا ٹکڑا۔ قطعہ اشعار کے مجموعہ کو بھی کہتے ہیں جن میں چار سے زیادہ اور دس سے کم شعر ہوں اور زمین کے علیحدہ کیے ٹکڑے کے لیے بھی آتا ہے۔ پلاٹ وغیرہ (منجد) ارشاد باری ہے:وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ (سورۃ الرعد آیت 4)
اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے۔ اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں باوجودیکہ پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے
اور قطع کا لفظ اگر رات سے منسوب ہو تو اس سے مراد کا کوئی ایک حصہ ہوتا ہے (منجد) لیکن بعض مترجمین اس سے رات کا آخری حصہ مراد لیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے۔ اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں باوجودیکہ پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَکَ (سورۃ ھود آیت 81)
تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اسپر بھی پڑے گی۔
تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اسپر بھی پڑے گی۔
3: بقعۃ
صاحب میقاس اللغۃ کے نزدیک (بحوالہ خلیل) بقعۃ زمین کا وہ قطعہ ہے جو آس پاس کے قطعات سے نمایاں ہو (م ل) قرآن میں ہے:فَلَمَّاۤ اَتٰٮہَا نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٴ الۡوَادِ الۡاَیۡمَنِ فِی الۡبُقۡعَۃِ الۡمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 30)
سو جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسٰی یہ میں ہوں اللہ تمام جہانوں کا پروردگار۔
سو جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسٰی یہ میں ہوں اللہ تمام جہانوں کا پروردگار۔
4: کسف
کسفۃ کی جمع ہے۔ بمعنی متخلخل اجسام جیسے بادل یا روئی کا ٹکڑا (مف) جو آسانی سے علیحدہ ہو سکتے اور جڑ سکتے ہیں۔ قرآن میں ہے:فَاَسۡقِطۡ عَلَیۡنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 187)
سو اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ۔
سو اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ۔
5: زبر
زبرۃ کی جمع ہے۔ بمعنی لوہے کا بڑا ٹکڑا (منجد) لوہے کی چادریں، تختے، پھر ہر پھیلائی ہوئی چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جس کی موٹائی تو کم ہو لیکن پھیلی ہوئی زیادہ ہو۔ مثلاً کاغذ کے تختے، کتب کے اوراق، صحیفے وغیرہ۔ قرآن میں ہے:اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ (سورۃ الکہف آیت 96)
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ
وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 196)
اور اسکی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔
زبر کا استعمال معنوی طور پر بھی ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ
وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 196)
اور اسکی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔
فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ (سورۃ المومنون آیت 53)
پھر لوگوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے ٹکڑے ٹکرے کر دیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے۔
پھر لوگوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے ٹکڑے ٹکرے کر دیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے۔
6: انکاث
نکث کی جمع ہے۔ بمعنی دوبارہ کاتنے کے لیے ادھیڑا ہوا کمبل یا خیمہ۔ اور نکّاث کسی بنی ہوئی یا لپٹی ہوئی چیز کو ادھیڑنے والے کو کہتے ہیں (منجد) پھر ادھیڑنے میں ایسی چیزیں چونکہ خراب اور ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جاتی ہیں لہذا انکاث ایسے ہی ٹکڑوں کے معنی میں آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ (سورۃ النحل آیت 92)
اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اسکو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اسکو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
7: عضین
العضو اور العضو بمعنی بدن کا حصہ اور اس کی جمع اعضاء آتی ہے۔ اور عضا یعضوا بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ اور العضۃ کے معنی ٹکڑا، فرقہ۔ اس کی جمع عضین اور عضون آتی ہے (منجد) اور مقیاس اللغۃ کے نزدیک عضن کے معنی کسی چیز کے ٹکڑے کرنا اور اسی سے عضو اور عضو (ع زیر) ہے (م ل) گوشت کے ٹکڑے، بوٹیاں۔ ارشاد باری ہے:الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ (سورۃ الحجر آیت 91)
یعنی قرآن کو کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
یعنی قرآن کو کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
8: جذاذ
جذّ بمعنی کاٹنا، توڑنا۔ اور جذّ کٹی ہوئی چیز کے چھوٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع جذاذ اور جذاذات آتی ہے۔ بمعنی کٹی ہوئی شے کے باریک ٹکڑے یا ریزے۔ جذاذات من الفضۃ بمعنی چاندی کے ریزے اور جذاذ سونے کے ڈلے کو بھی کہتے ہیں (منجد) گویا جذاذ قیمتی دھاتوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ریزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ الانبیا آیت 58)
پھر انکو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا مگر ایک بڑے بت کو نہ توڑا تاکہ وہ اسکی طرف رجوع کریں۔
پھر انکو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا مگر ایک بڑے بت کو نہ توڑا تاکہ وہ اسکی طرف رجوع کریں۔
9: فرق
بمعنی کسی چیز کا ٹوٹا ہوا یا کٹا ہوا ٹکڑا (منجد) اس میں بالعموم دو ٹکڑوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ ایک کٹ کر علیحدہ شدہ ٹکڑا۔ دوسرے وہ جو کٹنے کے بعد باقی رہ گیا۔ اور فرق سر کے بالوں درمیانی رستہ یا مانگ کو بھی کہتے ہیں (منجد) اور فرق سامنے کے دو دانتوں کے درمیانی فاصلہ کو (منجد) ارشاد باری ہے:فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ (سورۃ الشعرا آیت 63)
اس وقت ہم نے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا سو ہر ایک ٹکڑا یوں ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔
(فرق اور فلق میں فرق کے لیے دیکھیے "پھاڑنا")اس وقت ہم نے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا سو ہر ایک ٹکڑا یوں ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔
10: بعض
کا استعمال عام ہے۔ یہ کسی "کل" کے "جزء" کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے:فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 73)
چنانچہ ہم نے کہا کہ اس (گائے کا) کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔
اور اگر کل کئی مستقل چیزوں کا مجموعہ ہو تو فرد کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے بعض اللیالی بمعنی راتوں میں سے کوئی ایک رات یا بعض الناس کوئی آدمی۔ قرآن میں ہے:چنانچہ ہم نے کہا کہ اس (گائے کا) کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔
فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ (سورۃ القلم آیت 30)
پھر لگے ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے ملامت کرنے۔
علاوہ ازیں بعض کا استعمال معنوی طور پر بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:پھر لگے ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے ملامت کرنے۔
وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ (سورۃ الزخرف آیت 63)
اور جب عیسٰی نشانیاں لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمکو سمجھا دوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
اور جب عیسٰی نشانیاں لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمکو سمجھا دوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
ماحصل:
- جزہ: کسی چیز کے حصے جن سے وہ مکمل ہوتی ہے۔
- قطعۃ: زمین، اشعار اور رات کے حصے یا ٹکڑے کے لیے۔
- بقعۃ: وہ قطعہ زمین جو دوسروں سے ممتاز ہو۔
- کسف: متخلخل اجسام مثلاً بادل، روئی یا آسمان کا ٹکڑا۔
- زبر: لوہے یا کاغذ وغیرہ کے تختے، اوارق۔
- انکاث: بنی ہوئی روئی یا اون کے ٹکڑے۔
- عضین: گوشت کے ٹکڑے، بوٹیاں۔
- جذاذ: قیمت دھاتوں کے ریزے اور ٹکڑے۔
- فرق: بالعموم دو حصوں میں سے کوئی ایک۔
- بعض: کل کے مقابل میں جزء کے لیے اور مجموعہ کے مقابلہ میں فرد یا کچھ افراد کے لیے۔