ثابت قدم رہنا – رکھنا
کے لیے
ثبت، استقام (قوم) اور
اصطبر (صبر) اور
صابر اور
رابط کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
1: ثبت
بمعنی کسی بات پر جم جانا، اپنی جگہ برقرار رہنا، ثابت قدم رہنا (ضد زلّ) ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 45)
مومنو! جب کفار کی کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کر لو۔
2: استقام
قام علی الامر بمعنی کسی کام یا بات پر برقرار رہنا۔ اور
اقام الشئ بمعنی کسی کو کھڑا کر دینا، سیدھا کرنا اور
استقام بمعنی کسی چیز کو قائم اور جاری رکھنا اور مداومت کرنا (منجد) نیز
استقام بمعنی سیدھی راہ پر چلنا اور اس پر ثابت قدم رہنا (مف) ارشاد باری ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ (سورۃ الاحقاف آیت 13)
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے تو انکو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
3: اصطبر
صابر اور
صبر بمعنی اپنے آپ کو تنگی یا مصیبت کے وقت نا جائز افعال سے روکنا (مف) ضد
جزع اور
صبر بمعنی بہادری سے برداشت کرنا۔ اور
صبر الدّایۃ بمعنی کسی جانور کو بغیر چارہ کے باندھے رکھنا۔
صابر بمعنی ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے اور صبر کرنے کی تلقین کرنا (منجد) اور اصطبر بمعنی مصائب و مشکلات کے آگے سینہ سپر ہونے کی عادت بنا لینا، اسی پر مداومت کرنا، ڈٹ جانا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسۡـَٔلُکَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی (سورۃ طہ آیت 132)
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور نیک انجام اہل تقوٰی کا ہے۔
4: رابط
ربط الفرس بمعنی گھوڑے کو حفاظت کے لیے کسی جگہ باندھنا۔ اور
رباط وہ مقام جہاں حفاظتی دستے متعین رہتے ہیں۔ چھاؤنی قلعہ اور
رباط الجیش بمعنی فوج کا کسی جگہ پر متعین کرنا (مف) اور
رابط الجیش دشمن کی سرحد کے پاس لشکر کا ہمیشہ پڑاؤ رکھنا اور
رابط الامر بمعنی کسی امر پر ہمیشگی اختیار کرنا (منجد) گویا
رابط کسی ایسے امر پر ہمیشگی اختیار کرنے کے لیے آئے گا جس کا تعلق امر کی حفاظت اور مضبوطی سے ہو۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 200)
اے اہل ایمان کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ تاکہ مراد حاصل کرو۔
ماحصل:
- ثبت: کسی بات پر ثابت قدم رہنا۔
- استقام: کسی درست بات پر چلنا اور ثابت قدم رہنا۔ اس پر مداومت کرنا۔
- اصطبر: مصائب و مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہونا اور اس کو عادت بنا لینا۔
- رابط: کسی ایسے کام پر ثابت قدم رہنا جس کا استحکام اور حفاظت ضروری ہو۔
اور ثابت قدم رکھنا کے لیے
ثبّت آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ ۚ وَ جَآءَکَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَقُّ وَ مَوۡعِظَۃٌ وَّ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۃ ھود آیت 120)
اور اے نبی اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو جمائے رکھتے ہیں اور ان حالات میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لئے نصیحت اور عبرت ہے۔