مترادفات القرآن (ج)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جاسوسی کرنا​

کے لیے تجسّس اور سمّاع کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: تجسّس​

جسّ بمعنی پتہ لگانے کے لیے ہاتھ سے چھونا۔ اور جسّ بعینہ بمعنی تیز نظر سے دیکھنا، گھورنا۔ اور جسّس اور تجسّس بمعنی تفتیش کرنا (منجد) کسی کے عیب تلاش کرنا۔ اس کی ٹوہ میں رہنا۔ عموماً برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور جسیس بمعنی جاسوس (م ق) ارشاد باری ہے:
وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ (سورۃ الحجرات آیت 12)
ور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔
​

2: سمّاع​

سمع بمعنی سننا اور سامع بمعنی سننے والا اور سمّاع بمعنی جاسوسی کرنے کے لیے کوئی بات چوری چھپے سننے والا۔ جاسوس (م ق) ارشاد باری ہے:
سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمۡ یَاۡتُوۡکَ ؕ (سورۃ المائدۃ آیت 41)
یہ لوگ جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ان دوسرے لوگوں کے لئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے
​

ماحصل:​

  • تجسّس: عموماً برے مفہوم میں آتا ہے۔ بمعنی کسی کے عیب تلاش کرنا، اور اس کی ٹوہ لگانا خواہ کسی طریقہ سے ہو۔
  • سمّاع: وہ شخص جو جاسوسی کرنے کے لیے کسی بات پر کان لگائے اور دوسروں کو خبر پہنچائے۔
جانچنا دیکھیے "آزمائش کرنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جاننا​

کے لیے علم، ادری (دری) اور احسّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: علم​

بمعنی کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا (مف) جاننا، معلوم کر لینا۔ قرآن میں ہے:
قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 60)
تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر کے پانی پی لیا
​

2: ادری​

کسی دوسری چیز کی وساطت، تدبیر یا حیلہ سے کسی بات کا علم ہونا (مف) بمعنی جاننا، سمجھنا۔ یہ علم ناقص ہوتا ہے کیونکہ بالواسطہ حاصل ہوتا ہے۔ اور اس پر ہمیشہ لا یا ما یا ان نافیہ یا استفہامیہ داخل ہوتا ہے۔ مثلاً
قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا (سورۃ جن آیت 25)
کہدو کہ جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ عنقریب آنے والا ہے یا میرے پروردگار نے اسکی مدت دراز کر دی ہے۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ نَارٌ حَامِیَۃٌ (سورۃ القارعہ آیت 10، 11)
اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔
لَا تَدۡرِیۡ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِکَ اَمۡرًا (سورۃ الطلاق آیت 1)
(اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید اللہ اسکے بعد رجعت کی کوئی سبیل پیدا کر دے۔​

3: احسّ​

قوت حس سے کسی چیز تک پہنچنا (مف) حواس خمسہ ظاہری سے کسی بات کا علم میں آنا۔ محسوس کر لینا۔ اس کو قریب بہ علم کہہ سکتے ہیں (مف) ارشاد باری ہے:
فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 52)
پھر جب عیسٰی نے انکی طرف سے انکار اور نافرمانی ہی دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو اللہ کا طرفدار اور میرا مددگار ہو۔ حواری بولے کہ ہم اللہ کے طرفدار اور آپ کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں۔
​

ماحصل:​

  • علم: کسی چیز کو صحیح اور ٹھیک طور پر جاننا۔
  • ادری: بالواسطہ کسی چیز کا علم ہونا۔
  • احسّ: حواس ظاہری سے کسی چیز کا علم ہونا۔ یہ قریب بہ علم ہوتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جانب​

کے لیے جانب، طرف، وجھۃ، شطر، تلقائ اور قبل کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جانب ​

جانب اور جنب بمعنی پہلو، طرف، گوشہ، سمت اور اس کی جوانب ہے۔ (منجد) سمتیں اور جہات یہ چھ ہیں۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچے، شمال، مشرق، جنوب، مغرب وغیرہ۔ اور جانب وہ سمت ہے جس کا کسی کام کے وقت قریب ہونے سے تعلق ہو (فق ل 244) ارشاد باری ہے:
وَ نَادَیۡنٰہُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنِ وَ قَرَّبۡنٰہُ نَجِیًّا (سورۃ مریم آیت 52)
اور ہم نے انکو طور کی داہنی طرف سے پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا۔
​

2: طرف​

بمعنی کسی شے کی آخری حد یا کنارا (مف، م ل) جمع اطراف۔ سمت کے لیے طرف کا لفظ عربی میں مستعمل نہیں۔ البتہ اردو میں اس کا استعمال عام ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہوا ہے آخر حد یا کنارا کے معنی میں آیا ہے۔ یا پھر حد نگاہ اور نگاہ کے لیے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ (سورۃ ھود آیت 114)
اور دن کے دونوں سروں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ انکے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔
وَ تَرٰىہُمۡ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا خٰشِعِیۡنَ مِنَ الذُّلِّ یَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِیٍّ (سورۃ الشوری آیت 45)
اور تم انکو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔
​

3: وجھۃ​

وجہ بمعنی چہرہ۔ اور کسی چیز کے سامنے کی طرف۔ وجہ النھار بمعنی دن کا پہلا حصہ اور واجہ بمعنی آمنے سامنے ہونا (منجد) اور وجھۃ وہ سمت ہے جس کی طرف کوئی متوجہ ہو (مف) یعنی وہ مخصوص سمت اور مقام جدھر کوئی رخ کر کے عبادت وغیرہ کرے۔ قبلہ (فق ل 244) ارشاد باری ہے:
وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (سورۃ البقرۃ آیت 148)
اور ہر ایک شخص کے لئے ایک سمت مقرر ہے جدھر وہ عبادت کے وقت منہ کیا کرتا ہے تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں ہو گے اللہ تم سب کو جمع کرے گا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
​

4: شطر​

کے بنیادی طور پر دو معنی ہیں (1) نصف الشیء (2) البعد المواجھۃ (م ل) یعنی شطر میں آمنے سامنے ہونے کے علاوہ دوری بھی ضروری ہے جبکہ وجھۃ میں ضروری نہیں۔ یعنی دور دراز مقام سے کسی مخصوص جگہ کی طرف منہ کرنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 149)
اور تم جہاں سے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لیا کرو۔ بے شبہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں۔
​

5: تلقائ​

لقی بمعنی کسی چیز کے سامنے آنا اور اسے پا لینا (مف، منجد) اور تلقاء لقاء کا اسم ظرف ہے بمعنی ملاقات کی جگہ۔ کہتے ہیں جلس تلقاءہ وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ اس نے وہ کام خود بخود کیا۔ اسے کسی نے مجبور نہیں کیا (منجد) اور قرآن کریم کی آیت:
قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ (سورۃ یونس آیت 10)
کہدو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔
​
یعنی اپنی مرضی سے نہیں بدل سکتا۔ اور آیت
وَ لَمَّا تَوَجَّہَ تِلۡقَآءَ مَدۡیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یَّہۡدِیَنِیۡ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ (سورۃ القصص آیت 22)
اور جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے۔
​
میں مقابل یا سامنے کی طرف ہے۔

6: قبل​

بمعنی مقابلہ بھی اور ایک چیز کا دوسری کے سامنے ہونا بھی ہے۔ گویا قبل وہ جانب ہے جو سامنے نظر آ رہی ہو۔ ارشاد باری ہے:
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ (سورۃ البقرۃ آیت 177)
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب کو قبلہ سمجھ کر ان کی طرف منہ کر لو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر اور روز آخر پر ایمان لائيں۔
​

ماحصل:​

  • جانب: قریبی سمت۔
  • طرف: عربی میں جانب یا سمت کے لیے نہیں آتا۔ البتہ اردو میں غلط العام ہے۔ اس کے معنی کنارہ یا حد کے ہیں۔
  • وجھۃ: مخصوص مقام اور سمت جدھر منہ کر کے عبادت کی جائے۔
  • شطر: دور دراز مقام سے کسی چیز کی طرف رخ کرنا۔
  • تلقائ: سامنے کی طرف کسی چیز کے بالمقابل ہونا۔
  • قبل: سامنے کی طرف جو نظر آ رہی ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جب​

کے لیے اذ، اذا، اذا اور لمّا اور کلّما کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: اذ​

ماضی کے لیے آتا ہے۔ اس کے بعد جملہ ہی آتا ہے۔ یا پھر جملہ محذوف ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا:
وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 30)
اور وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔
​

2: اذا​

مستقبل میں ظرف زمان کے طور پر آتا ہے۔ اور فعل ماضی پر داخل ہو کر اس میں مضارع کے معنی پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے فرمایا:
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 14)
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں۔
​
اور دوسرے مقام پر ہے:
اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ (سورۃ التکویر آیت 1)
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔
​
اور کبھی اس پر تنوین لا کر مستقبل میں وقت کا تعین کیا جاتا ہے یعنی اذا بمعنی اس وقت، اس صورت میں، اس حال میں۔ جیسے فرمایا:
وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ (سورۃ العنکبوت آیت 48)
اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے۔
​
حین کے بعد بھی اس لفظ کا اضافہ کر کے حینئذ بمعنی اس وقت کے معنوں میں۔ اور یوم کے بعد اضافہ کر یومئذ اس دن کے معنوں میں مختص کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ سب مشتقات مستقبل میں ظرف زمان کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

3: لمّا​

ماضی میں شرط کے لیے آتا ہے۔ جیسے فرمایا:
فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ (سورۃ یوسف آیت 96)
مگر جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو اس نے کرتہ انکے منہ پر ڈال دیا سو وہ بینا ہو گئے۔
​

4: کلّما​

بمعنی جب کبھی، جب بھی، کئی امور میں بطور ظرف زمانی (ماضی) سب کا احاطہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 87)
تو کیا ایسا ہے کہ جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جنکو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سر کش ہو جاتے رہے اور ایک گروہ انبیاء کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔
​

ماحصل:​

  • اذ: ماضی میں بطور ظرف زمان۔
  • اذا: مستقبل میں بطور ظرف زمان۔
  • لمّا: ماضی میں شرط کے طور پر ظرف زمان۔
  • کلّما: کسی امور کا احاطہ کرنے کے لیے۔
"جتلانا" دیکھیے "آگاہ کرنا اور خبر دینا"۔
جدا ہونا کے لیے دیکھیے "الگ ہونا"۔
جدا کرنا کے لیے دیکھیے "الگ کرنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جڑ​

کے لیے اصل، اعجاز اور دابر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: اصل​

بمعنی کسی چیز کی بنیاد اور درختوں اور پودوں وغیرہ کی جڑ (ضد فرع بمعنی شاخ) (مف، منجد) جمع اصول۔ اور اصول ان قواعد کو بھی کہتے ہیں جن پر کسی علم کی بنیاد ہو (منجد) ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ (سورۃ ابراہیم آیت 24)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے وہ ایسی ہے جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوں۔
​

2: اعجاز​

اعجاز النخل بمعنی کھجور کے درخت کی جڑیں (منجد) درخت کی جڑ کے کئی حصے بن کر زمین میں پیوست ہو جاتے ہیں جڑ کے ان حصوں کو اعجاز کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ (سورۃ الحاقۃ آیت 7)
اللہ نے اسکو سات رات اور آٹھ دن ان پر چلائے رکھا تو اے مخاطب تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح گرے ہوئے دیکھتا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔
​

3: دابر​

دبر بمعنی پشت، مقعد اور ہر چیز کا پچھلا حصہ۔ اور دابر بمعنی ہر چیز کا آخر۔ اصل اور قطع اللہ دابرھم بمعنی اللہ ان کی بیخ کنی کرے (منجد) اور ادبار ایک معنی نحوست ہے اور اس کی ضد اقبال ہے۔ اور دابر دراصل کسی چیز کے رہے سہے یا بچے کچھے برے اثرات کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ (سورۃ الانفال آیت 7)
اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
​

ماحصل:​

  • اصل: درختوں اور پودوں کی جڑ۔
  • اعجاز: جڑ کی زمین میں پھیلی ہوئی چھوٹی شاخیں۔
  • دابر: بیخ کنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خرابی کی جڑ یا بنیاد۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جسم​

کے لیے جسم، جسد اور بدن کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جسم​

ہر وہ چیز جو طول، عرض اور عمق رکھتی ہو (منجد) خواہ جاندار ہو یا بے جان جمع اجسام (مف) جسامت بمعنی ڈیل ڈول، قد و قامت، تناور اور بڑا ہونا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ؕ (سورۃ المنافقون آیت 4)
اور جب تم انکے تناسب اعضاء کو دیکھتے ہو تو انکے جسم تمہیں کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں
​

2: جسد​

جاندار اشیا کا جسم جن میں دوران خون نہ ہو (ف ل 115، 45) خواہ کسی حیوان کا جسم ہو جیسے:
فَاَخۡرَجَ لَہُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمۡ وَ اِلٰہُ مُوۡسٰی ۬ فَنَسِیَ (سورۃ طہ آیت 88)
تو اس نے انکے لئے ایک بچھڑا بنا دیا یعنی ایک بیجان جسم جس میں گائے کی سی آواز تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسٰی کا معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں۔
​
اور خواہ انسان کا جیسے:
وَ مَا جَعَلۡنٰہُمۡ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ مَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 8)
اور ہم نے انکے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔
​
اسی لیے میت انسانی کو جسد خاکی یا جسد عنصر کہا جاتا ہے۔

3: بدن​

جانداروں کا جسم میں خون جاری ہو یا ابھی خشک نہ ہوا ہو (ف ل 115) ارشاد باری ہے:
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ (سورۃ یونس آیت 92)
تو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔
​

ماحصل:​

  • جسم: اعم ہے۔ ہر مادی چیز جسم رکھتی ہے۔
  • جسد: جسم سے خاص ہے بمعنی کسی جاندار کا جسم جس میں خون خشک ہو چکا ہو۔
  • بدن: اخص ہے۔ یعنی جاندار کا ایسا جسم جس میں خون جاری ہو یا ابھی خشک نہ ہوا ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جکڑنا (رسی وغیرہ سے)​

کے لیے وثق اور قرّن کے الفاظ آئے ہیں۔

1: وثق​

بمعنی رسی سے باندھنا اور گانٹھ دینا۔ اور وثاق اور وثاق (و زیر) جکڑنے کی چیز یا رسی وغیرہ کو کہتے ہیں (منجد) نیز وثق اس رسے کو بھی کہتے ہیں جس سے جانوروں کو باندھا جائے۔ ارشاد باری ہے:
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ (سورۃ محمد آیت 4)
یہاں تک کہ جب انکو خوب قتل کر چکو تو جو زندہ پکڑے جائیں انکو مضبوطی سے قید کر لو۔
​
اس آیت میں شدّ کا لفظ شامل ہونے سے وثق کے معنی مضبوط باندھنا یا جکڑنا ہو گئے ہیں۔

2: قرّن​

قرن بمعنی ایک چیز کو دوسری کے ساتھ باندھنا اور ملانا۔ اور قرن اس رسی کو کہتے ہیں جس سے دو یا زیادہ اونٹوں کو باندھ دیا جائے (مف) اور اس کے معنی کسی کے ساتھ ملا ہوا کے بھی ہیں (منجد) اسی لیے قرین ایسے دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر یا ہم نشین ہو۔ اور قرّن میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَّ اٰخَرِیۡنَ مُقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ (سورۃ ص آیت 38)
اور کچھ دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
​

ماحصل:​

وثق صرف رسی وغیرہ سے جکڑنے کے لیے اور قرّن جب اس رسی کا تعلق مزید مضبوطی کے لیے کسی دوسری چیز سے بھی ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جگہ​

کے لیے مقام، مکان، مراغم کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: مقام​

قام بمعنی کھڑا ہونا، اور مقام اس سے ظرف (مکانی) کھڑا ہونے کی جگہ کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 125)
اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوتے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔
​
اور مقام (م مضموم) قام سے مصدر میمی ہے۔ بمعنی کھڑا ہونا۔ جیسے فرمایا:
وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ (سورۃ الرحمن آیت 46)
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اسکے لئے دو باغ ہیں۔
​

2: مکان​

(مکن) مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو۔ اور اس میں رہنے والے کو مکین کہتے ہیں (مف) بشرطیکہ یہ ظرف مکانی کے طور پر استعمال ہو۔ ارشاد باری ہے: فرعون نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا:
فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحۡرٍ مِّثۡلِہٖ فَاجۡعَلۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکَ مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُہٗ نَحۡنُ وَ لَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی (سورۃ طہ آیت 58)
تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اسکے خلاف کریں اور نہ تم اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہو گا۔
​

3: مراغم​

رغم بمعنی خاک اور رغم انف فلان بمعنی اس کی ناک خاک آلود ہو یا وہ ذلیل ہو۔ ناراضگی کا کلمہ ہے۔ اور راغم بمعنی ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کی کوشش اور منازعت۔ اور مراغم اس جگہ کو کہتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ منازعت اور کوشش سے حاصل کی جائے (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ (سورۃ النساء آیت 100)
اور جو شخص اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی رہنے کی جگہ اور کشائش پائے گا۔
​

ماحصل:​

  • مقام: کھڑا ہونے یا قیام کرنے کی جگہ۔
  • مکان: ایسی جگہ جو کسی جسم پر حاوی ہو۔
  • مراغم: منازعت اور کوشش سے حاصل شدہ جگہ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جلا وطنی​

کے لیے جلا (جلو) اور نفی کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جلاء​

جلا بمعنی کسی امر کو واضح کرنا، ظاہر و آشکارا کرنا۔ اور جلا الرجل (عن بلدہ) کسی کو اس کے شہر یا ملک سے نکالنا، جلا وطن کرنا، جلا النحل بمعنی شہد نکالنے کے لیے دھونی دے کر مکھیوں کو بھگانا اور الجالی بمعنی وہ مسافر لوگ جو اپنا وطن چھوڑ کر آتے ہیں (منجد) قرآن میں ہے:
وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ (سورۃ الحشر آیت 3)
اور اگر اللہ نے انکے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا۔ اور آخرت میں تو انکے لئے آگ کا عذاب تیار ہے ہی۔
​

2: نفی​

بمعنی موجود نہ رہنا۔ اور اس ضد ثبت ہے۔ اور منفی بمعنی نیست و نابود کیا ہوا، دور ہٹایا ہوا اور نفی الرجل من بلدہ بمعنی کسی کو شہر بدر کرنا (منجد) اور نفی ینفوا بمعنی قید خانہ میں قید کرنا (منجد، م ق) اور کسی چیز کو باہر پھینک دینا کے بھی آتے ہیں جیسے چکی آٹے کو، یا ہنڈیا ابل کر ابال کو یا سیلاب کوڑا کرکٹ کو باہر پھینک دیتا ہے (م ق) اور النّفایۃ اس ردی شے کو کہتے ہیں جو پرے پھینک دی جائے (م ل) گویا نفی ینفوا میں بے بسی اور بے آبروئی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ (سورۃ المائدۃ آیت 33)
جو لوگ اللہ اور اسکے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ بری طرح قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے غائب کر دیئے جائیں۔ یہ تو دنیا میں انکی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب تیار ہے۔
​

ماحصل:​

جلاء بمعنی کسی کو جلا وطن کرنا اور نفی ینفوا بمعنی کسی کو ذلت اور رسوائی سے نکالنا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جلدی کرنا​

کے لیے سرع، عجل اور استعجل، بدر اور فور، س اور سوف کے الفاظ آئے ہیں۔

1: سرع​

جو کام کرنا ہو اس میں دیر نہ کرنا (مف) آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا، سستی نہ کرنا، کام کو وقت پر یا ذرا پہلے کر لینا۔ اور یہ صفت محمود ہے اور اس کی ضد بطا یعنی دیر کرنا (بوجہ سستی وغیرہ) ہے۔ جہاں جلدی کرنا بہتر اور درست ہو وہاں کرنا (فق ل 168) ارشاد باری ہے:
اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ (سورۃ البقرۃ آیت 202)
یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصّہ یعنی اجر نیک تیار ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
​

2: عجل​

کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا (مف) جلد بازی کرنا، یہ صفت مذموم ہے۔ جہاں جلدی نہ کرنا چاہیے وہاں کرنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 11)
اور انسان جس طرح جلدی سے بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان بڑا جلدباز ہے۔
​
اور استعجل بمعنی کوئی چیز جلدی یا پیش از وقت طلب کرنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ وَ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمُ الۡمَثُلٰتُ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلۡمِہِمۡ ۚ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیۡدُ الۡعِقَابِ (سورۃ الرعد آیت 6)
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی جلدی سے مانگتے ہیں یعنی طالب عذاب ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب واقع ہو چکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بے انصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔
​

3: بدر​

کسی کام کے سر انجام دینے میں جتنا وقت درکار ہو اس وقت میں کمی کر کے کام کو پہلے کر لینا۔ حدیث میں ہے:
لا تُبادِروني بالرُّكوعِ ولا بالسُّجودِ (احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ)
رکوع و سجود مجھ سے پہلے کرنے میں جلدی نہ کیا کرو۔
​
اور قرآن میں ہے:
وَ لَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسۡرَافًا وَّ بِدَارًا اَنۡ یَّکۡبَرُوۡا (سورۃ النساء آیت 6)
اور نہ کھاؤ (یتیموں کے مال کو) کہ بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے اس کو فضول خرچی اور جلدی میں۔
​

4: فور​

فار یعنی ابلنا اور جوش مارنا۔ اور فور بمعنی بہت جلدی۔ کہا جاتا ہے رجع من فورہ وہ بلا توقف بہت جلدی واپس ہوا (منجد) یعنی فورا اسی دم جوش کے ساتھ کوئی کام کرنا۔ ارشاد باری ہے:
بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 125)
ہاں کیوں نہیں اگر تم دل کو مضبوط رکھو۔ اور نافرمانی سے بچتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتًہ حملہ کر دیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا۔
​

5: س اور سوف​

علاوہ ازیں س اور سوف مضارع پر داخل ہو کر جلدی کا معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور مضارع کو مستقبل سے مختص کر دیتے ہیں۔ ان دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ س مستقبل قریب کے لیے آتا ہے اور اس کا معنی "اب" سے کیا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا:
سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ (سورۃ البقرۃ آیت 142)
احمق لوگ کہیں گے
​
اور سوف کا زمانہ س سے لمبا ہوتا ہے جیسے فرمایا:
کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ النبا آیت 4)
دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے۔
​

ماحصل:​

  • سرع: کام کم مناسب وقت سے ذرا پہلے سر انجام دینا۔
  • عجل: جلد بازی، کسی چیز کو اس کے مناسب وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا کہ وہ صحیح طور پر ادا نہ ہو۔
  • بدر: کام کے مطلوبہ وقت میں کم کر کے جلدی کرنا۔
  • فور: اسی دم جوش سے کوئی کام کرنا۔
  • س اور سوف: مضارع پر داخل ہو کر اس میں جلدی کا معنی پیدا کر دیتے ہیں۔
جلنا کے لیے دیکھیے "آگ"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جماعت​

کے لیے جمع، رھط، شرذمۃ، عصبۃ، طائفۃ، فئۃ (فای) فرقۃ، زمرۃ، حزب، ثلۃ، عزین، معشر، ثقلان اور امۃ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جمع​

جماعت کے لیے یہ لفظ عام ہے۔ خواہ تھوڑے آدمیوں کا ہو یا زیادہ کا اور خواہ کسی قسم کا ہو۔ ارشاد باری ہے:
سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ (سورۃ القمر آیت 45)
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
​
اور دوسرے مقام پر ہے:
وَ اِنَّا لَجَمِیۡعٌ حٰذِرُوۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 56)
اور ہم سب ان سے خطرہ رکھتے ہیں۔
​

2: رھط​

ایک ہی خاندان کے نوجوانوں کی مختصر جماعت جو 3 سے 9 افراد تک ہو، ان کا سردار بھی رھط کہلاتا ہے (ف ل 205) اور امام راغب کے نزدیک یہ تعداد چالیس تک ہے (مف) اور صاحب منجد یہ قید لگاتے ہیں کہ ان میں کوئی عورت نہ ہو (منجد) اور اگر عدد کی طرف اضافت ہو تو اس سے افراد و اشخاص مراد ہوتے ہیں۔ جیسے عشرون رھطا بمعنی بیس اشخاص (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ کَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 48)
اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَہۡطِیۡۤ اَعَزُّ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ (سورۃ ھود آیت 92)
انہوں نے کہا کہ اے قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر اللہ سے زیادہ ہے؟ اور اسکو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
​

3: شرذمۃ​

ناتواں اور بیکس لوگوں کی چھوٹی سی جماعت۔ یہ تعداد کے لحاظ سے رھط سے بڑی ہوتی ہے (ف ل 205) اور ثیاب شرازم بمعنی پھٹے پرانے چیتھڑے (منجد، مف) قرآن میں ہے:
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡ ذِمَۃٌ قَلِیۡلُوۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 54)
اور کہا کہ یہ تھوڑے سے لوگوں کی جماعت ہے۔
​

4: عصبۃ​

طاقتور اور مضبوط لوگوں کی جماعت جس کے سب افراد ایک دوسرے کے حامی و ناصر ہوں (مف) تعداد کے لحاظ سے شرذمۃ سے بڑی ہے (ف ل 205) لیکن صاحب فقہ اللغۃ کی یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ قرآن نے یہ لفظ حضرت یوسف علیہ السلام کے دس بھائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 14)
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گئے۔
​

5: طائفۃ​

ایک رائے اور مذہب کے لوگ (منجد) تعداد کے لحاظ سے عصبۃ سے بڑی ہوتی ہے (ف ل 205) ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ (سورۃ حجرات آیت 9)
اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔
​
اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ طآئفۃ کا اطلاق ایک فرد پر بھی ہو سکتا ہے جبکہ وہ ایک فریق ہو اور دلیل یہی آیت پیش کرتے ہیں۔

6: فئۃ​

ایسی جماعت جس کے افراد تعاون کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ آئیں (مف) ارشاد باری ہے:
کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 249)
بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔
​

7: فرقۃ​

ایسی جماعت جو کسی بڑی جماعت سے کٹ کر علیحدہ ہو گئی ہو۔ اور فرق بمعنی کسی چیز کا الگ شدہ ٹکڑا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 122)
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے اور اس میں سمجھ پیدا کرتے۔ اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔
​
اس آیت میں بھی طآئفۃ کا اطلاق ایک فرد پر ہونا مراد لیا جاتا ہے۔

8: ثلّۃ​

ثلّۃ اون کے ڈھیر کو بھی کہتے ہیں اور بکریوں کے ریوڑ کو بھی (مف) اور ثلّۃ انسانوں کی جماعت کو بھی (منجد) گویا اس کی بنیا کثیر مقدار یا تعداد ہے۔ کہتے ہیں فلان لا یفر بین الثلّۃ والثلّۃ یعنی فلاں شخص بھیڑوں اور انسانوں کی جماعت میں تمیز نہیں کرتا۔ اور تعداد کے لحاظ سے صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک ثلّۃ کی تعداد طائفہ سے زیادہ اور فرقہ سے کم ہے (ف ل 205) قرآن میں ہے:
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ (سورۃ الواقعہ آیت 13)
وہ بہت سے تو پہلے کے لوگوں میں سے ہوں گے۔
​

9: زمرۃ​

صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک زمرۃ ثلّۃ سے بڑی جماعت کو کہتے ہیں (ف ل 205) اور اس کی جمع زمر ہے۔
اور امام راغب کے نزدیک زمرۃ چھوٹی سی جماعت کو کہتے ۔ اور شاۃ زمرۃ بمعنی کم اون والی بھیڑ۔ اور زمر بے مروت آدمی کو کہتے ہیں (مف) اور قرآن کریم بھی اس معنی کی تائید کرتا ہے یعنی جب کوئی بڑی جماعت چھوٹے چھوٹے دستوں یا ٹولوں میں بٹ کر نقل و حرکت کرے تو یہ ٹولے زمر کہلائیں گے۔ قرآن میں ہے:
وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ (سورۃ الزمر آیت 73)
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں انکو گروہ گروہ کر کے بہشت کی طرف لیجایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس پہنچ جائیں گے اس حال میں کہ اسکے دروازے کھولے جا چکے ہونگے تو اسکے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ۔
​

10: عزین​

العزۃ کی جمع عزین اور عزون آتی ہے۔ اور العزۃ بمعنی ایک ہی نسب کے لوگوں کی جماعت (مف) اور الاعتزآء فی الحرب بمعنی کسی شخص کا لڑائی کے دوران اپنا حسب نسب بیان کرنا (مف) قرآن میں ہے:
عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ (سورۃ معارج آیت 37)
دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر جمع ہوتے جاتے ہیں۔
​

11: حزب​

ایسی جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے (مف) اور حزب بمعنی پارٹی، گروہ، جتھا، ہتھیار، انسانوں کی فوج اور آپس میں ہم خیال ساتھی۔ جمع احزاب۔ اور حازب بمعنی کسی پارٹی میں شامل ہونا، مدد دینا اور قوت پہنچانا (منجد) ایک جھنڈے تلے جمع ہونے والے لوگ (م ق) گویا حزب کا لفظ سیاسی پارٹی یا فوج اور لشکر کے معنوں میں بھی آتا ہے جس کا مقصد مملکت میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا (سورۃ الاحزاب آیت 22)
اور جب مومنوں نے کافروں کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اسکے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اسکے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔
​

12: معشر​

عشر بمعنی دس اور عشیرۃ خاندان کے کل افراد کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے ہوں۔ گویا اس میں عدد کامل جو دس ہے کا تعلق پایا جاتا ہے (مف) اس لحاظ سے معشر کسی جماعت کے وہ کل افراد ہوتے ہیں جن کا مقصد و مطلوب ایک ہو۔ اور ان میں اختلاط اور موافقت پائی جائے (م ل) ارشاد باری ہے:
یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ (سورۃ الرحمن آیت 33)
اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تو تم نکل سکنے ہی کے نہیں۔
​

13: ثقلان​

ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گراں باری۔ اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھ اور وزنی چیز اور ثقلان دو بڑی بھاری جماعتیں۔ دو بڑی انواع یعنی جن اور انسان (منجد، ف ل 134) ارشاد باری ہے:
سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ (سورۃ الرحمن آیت 31)
اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
​

14: امۃ​

ہم جنس لوگوں یا جانوروں یا پرندوں کی جماعت۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 38)
اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا حیوان یا اپنے پروں سے اڑنے والا پرندہ ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں کسی چیز کے لکھنے میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے۔
​
اور جب اس لفظ کا اطلاق انسانوں کے لیے ہو تو اس سے مراد ہم عقیدہ لوگ ہوتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (سورۃ البقرۃ آیت 213)
پہلے تو سب لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا
​
اور عرف عام میں امۃ ان ہم عقیدہ لوگوں کی جماعت کو کہتے ہیں جسے کوئی نبی یا رسول تشکیل دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ (سورۃ آل عمران آیت 110)
مومنو! تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی ہدایت کیلئے میدان میں لایا گیا ہے کہ تم نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
​
اور امۃ کا لفظ قرآن کریم میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام (فرد واحد) کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اکیلے کلمۃ الحق کے لیے اتنا کام کر دکھایا جتنا ایک امت کام کرتی ہے۔ اور بعض کے نزدیک امۃ بمعنی امام یعنی پیشوا یا راہ ڈالنے والا ہے۔ (جالندھریؒ، عثمانیؒ)۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ (سورۃ النحل آیت 120)
بیشک ابراہیم لوگوں کے امام اور اللہ کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
​

ماحصل:​

  • جمع اور جمیع: کسی بھی موقعہ پر جمع شدہ لوگ۔
  • رھط: ایک خاندان کے نوجوانوں کی جماعت جو دس تک ہو اور اس جماعت کا سردار۔
  • شرذمۃ: ناتواں لوگوں کی چھوٹی سی جماعت۔
  • عصبۃ: مضبوط اور طاقتور لوگوں کی چھوٹی سی جماعت جو ایک دوسرے کی حامی و ناصر ہوں۔
  • طائفۃ: ایک رائے اور مذہب کے لوگ۔
  • فئۃ: ایک دوسرے سے تعاون حاصل کرنے والی جماعت۔
  • فرقۃ: کسی بڑی جماعت سے الگ شدہ چھٹی جماعت۔
  • ثلّۃ: صف کثیر تعداد کے لیے آتا ہے۔
  • زمرۃ: کسی بڑی جماعت کے متفرق شدہ نقل و حرکت کرنے والے ٹولے۔
  • عزین: ایک ہی نسب کے لوگ۔
  • حزب: لشکر، سیاسی پارٹی، مملکت کے کاروبار میں عمل دخل حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی جماعت۔
  • معشر: کسی مخصوص مقصد والی جماعت کے کل افراد جن میں اختلاط و موافقت ہو۔
  • ثقلان: دو بڑی مخلوقات جن اور انسان۔
  • امۃ: ہم جنسوں (انسان، جانور، پرندے) کی جماعت۔ یا ایسے ہم عقیدہ لوگو جو کسی ایک امام کے متبع ہوں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جماعت (جانوروں کی)​

کے لیے رکب، الخیل، غنم اور ابابیل کے الفاظ آئے ہیں۔

1: رکب​

بمعنی اونٹوں کا گلہ بھی اور قافلہ بھی اور شتر سوار سب پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ (مف) ارشاد باری ہے:
اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی وَ الرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ (سورۃ الانفال آیت 42)
جس وقت تم مدینے سے قریب کے ناکے پر تھے اور کافر دور کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا تھا۔
​

2: خیل​

بمعنی گھوڑوں کا گلہ۔ پھر رکب کی طرح خیل کا اطلاق گھڑ سوار (بمعنی فارس) پر بھی ہوتا ہے (منجد، مف) اور گھوڑے اور سوار دونوں کے مجموعہ پر بھی بولا جاتا ہے (مف) ارشاد باری ہے:
وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ (سورۃ الانفال آیت 60)
اور جہاں تک ہو سکے فوج کی جمعیت کے زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے انکے مقابلے کے لئے مستعد رہو۔
​

3: غنم​

بمعنی بکریوں کا ریوڑ (مف) قرآن میں ہے:
وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَ کُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 78)
اور داؤد اور سلیمان کا حال بھی سن لو کہ جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کر چر گئیں اور اسے روند گئ تھیں اور ہم انکے فیصلے کے گواہ تھے۔
​

4: ابابیل​

بمعنی پرندوں کا جھنڈ۔ اور بعض کے نزدیک ابابیل کا اطلاق پرندوں، اونٹوں اور گھوڑوں کی جماعت پر ہوتا ہے (م ق) ہاں اگر طیرا ابابیل ہو تو اس کا معنی پرندوں کا جھنڈ ہی ہو گا۔ پرندوں کی ٹکڑیاں، غول۔ ارشاد باری ہے:
وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ (سورۃ الفیل آیت 3، 4)
اور اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے چھوڑ دئیے۔ جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے۔​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جن​

کے لیے جن، شیطان، مارد، خناس اور عفریت کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جن ​

الجن والجنۃ اسم جنس، انسان کے علاوہ دوسری بڑی مخلوق جو شریعت کی مکلف ہے۔ پوشیدہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے۔ آتشیں مخلوق، جن، پری، دیو اور جآن جن کا اسم جمع ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ (سورۃ الذریات آیت 56)
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
​

2: شیطان​

شطن بمعنی دور ہونا۔ شطن الرجل کسی آدمی کا حق سے دور ہونا۔ اور شیطان ہر بد روح کو کہتے ہیں جو اپنی سرکشی اور نافرمانی سے حق سے دور ہو چکا ہو (م ل) جنوں میں سے کچھ نیک اور صالح بھی ہوتے ہیں اور کچھ خبیث، موذی اور بد کردار بھی۔ اس دوسری قسم کو شیطان کہتے ہیں ( ف ل 125) پھر اس لفظ کا اطلاق ہر سرکش اور نافرمان پر بھی ہونے لگا خواہ انسان ہو یا جن یا کوئی جانور۔ سانپ کو اس کی ایذا دہی کی وجہ سے شیطان (منجد) جن اور جانّ کہتے ہیں مثلاً شیاطین العرب کے معنی عرب کے سرکش اور نافرمان لوگ۔ ارشاد باری ہے:
وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 112)
اور اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا۔ وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے سو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو۔
​

3: مارد​

اگر شیطان اپنی سرکشی اور ایذا رسانی میں غایت کو پہنچ جائے تو اسے مارد کہتے ہیں (ف ل 135) ارشاد باری ہے:
وَ حِفۡظًا مِّنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ مَّارِدٍ (سورۃ الصافات آیت 7)
اور ہر شیطان سرکش سے اسکی حفاظت کی۔
​

4: خنّاس​

خنس بمعنی پیچھے ہٹنا اور سکڑنا اور خانس (جمع خنّس) ایسے ستاروں کو کہتے ہیں جو سیدھی چال چلتے چلتے الٹے چلنے گتے ہیں۔ مثلاً زحل، مشتری اور مریخ وغیرہ (مف) اور خناس مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی ہر وقت داؤ فریب کی غرض سے پیچھے ہٹنے اور پھر آگے چلنے والا۔ اور اس سے مراد وسوسہ اندازی کرنے والا شیطان ہے، جو ہر آن انسان کو گمراہ کرنے کے لیے اس انداز سے وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے خواہ وہ جنوں سے ہو یا انسانوں سے۔ ارشاد باری ہے:
الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ (سورۃ الناس آیت 5، 6)
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
​

5: عفریت​

وہ جن جو بہت شہ زور اور قوی ہیکل ہو اسے عفریت کہتے ہیں (ف ل 135) ارشاد باری ہے:
قَالَ عِفۡرِیۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَ اِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ (سورۃ النمل آیت 39)
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو آپ کے پاس لا حاضر کرتا ہوں اور مجھے اس پر قدرت بھی حاصل ہے اور امانتدار بھی ہوں۔
​

ماحصل:​

  • جن: انسان کے علاوہ دوسری پوشیدہ اور آتشیں مخلوق جو شریعت کی مکلف ہے۔
  • شیطان: خبیث، سرکش اور موذی جن یا انسان۔
  • مارد: وہ شیطان جو ایذا رسانی اور شرارت و سرکشی میں حد درجہ کو پہنچ جائے۔
  • خناس: وسوسہ اندازی کرنے والا شیطان۔
  • عفریت: شہ زور اور قوی ہیکل جن۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جنت اور اس کے مختلف نام​

1: جنۃ​

بمعنی باغ (جمع جناّت) جن بمعنی ڈھانپنا اور جنّۃ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کی زمین درختوں یا کھتی کی وجہ سے نظر نہ آئے (مف) قرآن میں ہے:
اَیَوَدُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ لَہٗ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ (سورۃ البقرۃ آیت 266)
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں
​
اور الجنّۃ اور جنۃ کا لفظ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر اس باغ کے لیے استعمال ہوا ہے جہاں نیک اور متقی لوگوں کو اخروی زندگی میں ٹھکانا ملے گا، بہشت۔ ارشاد باری ہے:
وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 25)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ انکے لئے نعمت کے باغ ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔
​

2: جنت عدن​

عدن بمعنی کسی جگہ قرار پکڑنا، رہائش پذیر یا مقیم ہونا (مف) کسی جگہ اقامت کرنا اور ہمیشہ رہنا (م ا) گویا جنت عدن ایسے باغات ہوں گے جو طویل مدت تک برقرار رہیں گے اور جنتی لوگ اس میں اقامت پذیر ہوں گے۔ ارشاد باری ہے:
جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ (سورۃ البیّنہ آیت 8)
ان کا صلہ انکے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اس سے خوش یہ صلہ اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے۔
​

3: جنت الفردوس​

فردوس بمعنی سرسبزواری (منجد) اور فردوس بمعنی رود بار میں واقع باغ جس میں ہر قسم کے پھل اور پھول موجود ہوں (م ا) گویا جنت الفردوس سرسبز، گھنے سائے والے اور ٹھنڈی چھاؤں والے باغ کو کہتے ہیں جو پھولوں کی خوشبو سے معطر اور ہر قسم کے پھل بافراط ہوں۔ بہت کا وہ حصہ جس کے حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو دعا سکھلائی۔ اللھم انی اسئلک الجنّۃ الفردوس۔ اور قرآن کریم میں ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا (سورۃ الکہف آیت 107)
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے انکے لئے بہشت کے باغ بطور مہمانی ہوں گے۔
​

4: جنت النعیم​

نعم بمعنی آرام و آسائش و عیش و عشرت کا سامان اور پاکیزہ زندگی (م ل) گویا جنات النعم ایسے باغات ہیں جن میں باغ کی خوبیوں کے علاوہ آسائش، رہائش کے دوسرے لوازم بھی موجود ہوں۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ (سورۃ القلم آیت 34)
پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں۔​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جنگ​

کے لیے حرب، قتال، زحف، باس، جھاد اور غزی کے الفاظ آئے ہیں۔

1: قتال​

قتل بمعنی کسی کو مار ڈالنا اور قتال بمعنی ایسی لڑائی جس میں ایک دوسرے کو مار ڈالنے کا ارادہ ہو۔ ارشاد باری ہے:
کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 216)
مسلمانو تم پر اللہ کے رستے میں لڑنا فرض کر دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار تو ہو گا۔
​
اور کبھی قتال بمعنی مقتل یا میدان کار زار بھی آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیُٔ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ (سورۃ آل عمران آیت 121)
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لئے مورچوں پر موقع بہ موقع متعین کرنے لگے اور اللہ سب کچھ سنتا ہے جانتا ہے۔
​

2: حرب​

حرب بمعنی لوٹ لینا یا چھین لینا۔ اور حربۃ نیزہ، برچھی یا برچھے کو کہتے ہیں (منجد) اور احرب الحرب کے معنی لڑائی کو بھڑکانا یا دشمن کا مال لوٹے کے لیے کسی کی راہنمائی کرنا ہے۔ (منجد) حرب کا لفظ قتال سے زیادہ وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں لڑنے کے علاوہ مال غنیمت حاصل کرنے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ نیز یہ لفظ لڑائی کے اسباب و نتائج اور متاثرہ حالات تک کے پورے زمانے کو محیط ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ (سورۃ المائدۃ آیت 64)
جب کبھی انہوں نے لڑائی کی آگ جلائی اللہ نے اسکو بھجا دیا۔
​

3: زحف​

زحف بمعنی گھٹنوں یا سرین کے بل دھیرے دھیرے گھسٹنا۔ اور زحف العسکر الی العدوّ بمعنی لشکر کا کثیر ہونے کی وجہ سے دشمن کی طرف آہستہ آہستہ پیش قدمی کرنا۔ اور الزّحف دشمن کی طرف بڑھنے والے لشکر جرار کو کہتے ہیں (منجد) گویا زحفا کے لغوی معنی لڑائی کرنا یا لڑائی کا میدان نہیں بلکہ کسی لشکر جرار کا میدان کار زار کی طرف آہستہ آہستہ پیش قدمی کرنا ہے۔ جن کی آپس میں مٹھ بھیڑ ہو جائے (م ق) اور زحوف اور زحفات زمین کے ساتھ پیٹ لگا کر چلنے والے یا رینگنے والے جانوروں کو کہتے ہیں جیسے سانپ وغیرہ۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ (سورۃ الانفال آیت 15)
اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔
​

4: باس​

کا بنیادی مفہوم سختی، شدت، قوت اور ناگواری ہے۔ (م ل، مف) خواہ وہ معیشت میں ہو جیسے تنگ دستی اور فقر و فاقہ اور اس کے لیے عموماً باسآء کا لفظ آتا ہے خواہ عذاب کی صورت ہو یا لڑائی کی۔ صاحب منجد نے باس کے معنی شجاعت، دلیری، قوت، خوف اور عذاب لکھے ہیں۔ اور باس کا لفظ جب جنگ یا میدان جنگ کے لیے آتا ہے تو اس سے لڑائی کی سختیاں، شدائد اور جسمانی نقصان مراد ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 177)
اور سختی اور تکلیف میں اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو ایمان میں سچّے ہیں اور یہی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔
​

5: جھاد​

بمعنی کسی کام میں اپنی انتہائی کوشش صرف کرنا۔ اور جہاد فی سبیل اللہ ہر وہ کوشش ہے جو ذاتی غرض کو چھوڑ کر محض اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے کی جائے اور جھاد ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا اطلاق عموماً جھاد بالسیف یعنی اپنی ذاتی غرض کو چھوڑ کر محض کلمۃ اللہ اور دین کی سر بلندی کے لیے کفار سے لڑائی کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ جَاہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ اسۡتَاۡذَنَکَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡہُمۡ وَ قَالُوۡا ذَرۡنَا نَکُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِیۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 86)
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اسکے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ ہم بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہو جائیں۔
​

6: غزی​

(غزوۃ) بمعنی دشمن سے جنگ کرنے کے ارادہ سے نکلنا۔ اور غازی وہ ہے جو ارادہ سے نکلے اور اس کی جمع غزاۃ اور غز ہے۔ (مف) ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا (سورۃ آل عمران آیت 156)
مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے مسلمان بھائی جب اللہ کی راہ میں سفر کریں اور مرجائیں یا جہاد کو نکلیں اور مارے جائیں تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے
​

ماحصل:​

  • قتال: ارادہ سے ایک دوسرے کو مارنا، جنگ اور میدان جنگ۔
  • حرب: لڑائی کرنا اور دشمن سے مال چھیننا۔
  • زحفا: میدان جنگ کی طرف کسی بڑے لشکر کا آہستہ آہستہ پیش قدمی کرنا۔
  • باس: دوران جنگ کی سختیاں اور جسمانی نقصان۔
  • جھاد: ذاتی اغراض کو چھوڑ کر محض دین کی سر بلندی کے لیے لڑنا۔
  • غزی: دشمن سے لڑنے کے لیے بغرض جہاد نکل کھڑا ہونا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جننا​

کے لیے وضع اور ولد کے الفاظ آئے ہیں۔

1: وضع​

کے بنیادی معنی کسی چیز کو نیچے رکھ دینا ہے (مف) وضعت الحمل بمعنی میں نے بوجھ اتار کر نیچے رکھ دیا (مف) جب وضع کے ساتھ حمل کا لفظ آئے اور اس کی نسبت مادہ کی طرف ہو تو اس کا معنی بچہ جننا ہے۔ وضع حمل کا لفظ عام ہے جو انسانوں کے علاوہ حیوانات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ ایک وقتی عمل ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی (سورۃ آل عمران آیت 36)
پھر جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ (سورۃ حج آیت 2)
اے مخاطب جس دن تو اسکو دیکھے گا اس دن یہ حال ہو گا کہ تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے اور لوگ تجھ کو مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ عذاب دیکھ کر مدہوش ہو رہے ہوں گے بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
​

2: ولد​

عموماً انسان کے لیے آتا ہے۔ اور ولادت کی نسبت وقتی نہیں بلکہ دائمی ہوتی ہے۔ والدہ ہمیشہ کے لیے اپنے مولود کی والدہ مگر وہ ہمیشہ کے لیے واضع حمل نہیں۔ پھر ولد میں صرف جننے کا ہی تعلق نہیں ہوتا بلکہ مولود کی تربیت کا بھی ہوتا ہے۔ اور ولد الولد بمعنی اس نے بچہ کی پرورش کی۔ قرآن میں ہے۔ فرعون سے حضرت موسی علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا:
قَالَ اَلَمۡ نُرَبِّکَ فِیۡنَا وَلِیۡدًا وَّ لَبِثۡتَ فِیۡنَا مِنۡ عُمُرِکَ سِنِیۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 18)
فرعون نے موسٰی سے کہا کیا ہم نے تمکو جبکہ تم بچے تھے پرورش نہیں کیا تھا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر نہیں کی؟​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جواب دینا​

کے لیے اجاب (جوب) رجع اور افتی (فتو) کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: اجاب​

ضد سال اور سال معنی سوال کرنا، کوئی چیز مانگنا بھی ہے اور کچھ پوچھنا بھی ہے۔ اس طرح اجاب کے معنی کس سوال کا جواب دینا بھی ہے اور کوئی چیز مانگی جائے تو اس کا قبول کرنا یا دینا بھی ہے۔ یہاں سوال کا جواب زیر بحث ہے۔ ارشاد باری ہے:
یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ (سورۃ المائدۃ آیت 109)
وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔
​

2: رجع​

کا بنیادی معنی پھرنا، لوٹنا یا واپس ہونا ہے۔ اور الرجع (مصدر) بمعنی خط کا جواب دینا (منجد) ہے۔ قرآن میں ہے:
اِذۡہَبۡ بِّکِتٰبِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقِہۡ اِلَیۡہِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَا ذَا یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 28)
یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر انکے پاس سے ہٹ جانا اور دیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔
​

3: افتی​

بمعنی کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کا جواب دینا خواہ مسئلہ شرعی ہو یا عام دنیوی امور سے متعلق اور فتوی بھی شرعی اصطلاح میں کسی عالم سے کسی پیچیدہ مسئلہ کا جواب لینے کو کہتے ہیں۔ اور استفتاء بمعنی ایسے مسئلہ کا جواب طلب کرنا۔ ارشاد باری ہے:
یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِی الۡکَلٰلَۃِ (سورۃ النساء آیت 176)
اے پیغمبر لوگ تم سے کلالہ کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے۔
​

ماحصل:​

  • اجاب: کسی سوال کا جواب دینا۔
  • رجع: خط کا جواب دینا۔
  • افتی: کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کا جواب دینا، فتوی دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جوانی​

کے لیے حلم اور اشدّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حلم​

حلما بمعنی لڑکے کا بالغ ہونا (منجد) اور حلم بمعنی خواب میں جماع کرنا (م ا) گویا جب لڑکے کو پہلی بار احتلام ہو تو اس عمر کو حلم یا سن بلوغت کہتے ہیں۔ آغاز جوانی۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذَا بَلَغَ الۡاَطۡفَالُ مِنۡکُمُ الۡحُلُمَ فَلۡیَسۡتَاۡذِنُوۡا کَمَا اسۡتَاۡذَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ (سورۃ النور آیت 59)
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہو جائیں تو انکو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے یعنی بڑے آدمی اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔
​

2: اشدّ​

اشدّ بمعنی عقل یا عمر کی پختگی تک پہنچنا (منجد) اور یہ تقریباً ادھیڑ عمر ہوتی ہے۔ بھر پور جوانی جس کے بعد بڑھاپے کے آثار شروع ہو جاتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً (سورۃ الاحقاف آیت 15)
ہاں تک کہ جب وہ پختہ عمر کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جوڑا​

کے لیے زوج اور شفع کے الفاظ آئے ہیں۔

1: زوّج​

زوج کا لفظ بہت وسیع معنوں میں آیا ہے۔ زوج بمعنی (1) بیوی یا مادہ (2) شوہر یا نر (3) میاں بیوی یا نر و مادہ دونوں مل کر بھی ایک زوج ہیں۔ اور نر و مادہ یا میاں بیوی کو ملانے کو زوج کہتے ہیں۔ نکح کے برعکس زوّج کا اطلاق ہر اس چیز پر بھی ہوتا ہے جس میں نر و مادہ کا وجود یا شعور پایا جاتا ہے جیسے نباتات وغیرہ۔
اب زوج کے دو حصے ہوئے۔ ایک نر اشیاء انہیں ذکر (جمع ذکور اور ذکران) دوسرے مادہ انہیں انثی (جمع اناث) کہا جاتا ہے پھر زوّج کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کا جنسی لحاظ سے ملاپ ہو بلکہ ایک نر اور ایک مادہ کے الگ کر دینے پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ (سورۃ الشوری آیت 49، 50)
تمام بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔ یا انکو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جسکو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا ہے قدرت والا ہے۔
​

2: شفع​

کا اطلاق ان اشیا پر ہوتا ہے جن میں نر و مادہ کی تمیز نہیں۔ اور شفع بمعنی ایک چیز کو اس جیسی دوسری چیز کے ساتھ ملا دینا اور جفت چیز کو شفع اور جس کے ساتھ اس جیسی دوسری چیز نہ ہو اسے وتر کہتے ہیں۔ اور اعداد میں ہر وہ ہندسہ جو دو پر تقسیم ہو جائے وہ شفع یا جفت ہے اور جو دو پر پورا تقسیم نہ ہو وہ وتر یا طاق ہے۔ مثلاً ایک، تین، پانچ، سات وغیرہ اور دو، چار، چھ، آٹھ وغیرہ جفت یا شفع ہیں۔ قرآن میں ہے:
وَ الۡفَجۡرِ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ (سورۃ الفجر آیت 1 تا 3)
فجر کی قسم۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔
​
اور شفع بمعنی ایسی چیزوں کا جوڑا بنانا۔ یہ قرآن میں نہیں آیا۔ البتہ شفع سفارش کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ (سورۃ البقرۃ آیت 255)
کون ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس سے کسی کی سفارش کر سکے۔​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جوڑنا​

کے لیے وصل، خصف اور رصّ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: وصل​

بمعنی ملانا اور جوڑنا (م ل) ملانا کے لحاظ سے اس کی ضد فصل ہے۔ اور جوڑنا کے لحاظ سے قطع۔ اور وصل کے معنی ایک چیز کو دوسری سے اس طرح ملانا کے وہ جڑ جائے۔ یہ لفظ دونوں معنوں میں الگ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور مادی اور معنوی دونوں صورتوں میں بھی۔ ارشاد باری ہے:
وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 27)
جو اللہ کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز یعنی رشتہ قرابت کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اسکو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
​

2: خصف​

خصف چمڑے کے اس ٹکڑے (یا فرمے) کو کہتے ہیں جس کے اوپر چمڑا رکھ کر نئے جوتے کا ماپ کاٹا جائے (مف) اور خصف بمعنی جوتا سینا، جوتے میں پیوند لگانا اور خصف الشیء علی الشیء بمعنی ایک چیز کو دوسری پر رکھ کر جوڑنا اور چپکانا (منجد) ارشاد باری ہے:
فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوۡرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ (سورۃ الاعراف آیت 22)
غرض مردود نے دھوکا دے کر انکو معصیت کی طرف کھینچ ہی لیا سو جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھالیا تو انکی شرمگاہیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے اور ستر چھپانے لگے۔
​

3: رصّ​

بمعنی ایک چیز کو دوسری سے ملانا، چمٹانا، پیوستہ کرنا (منجد) اور بمعنی دو چیزوں کو باہم جوڑ دینا (مف) اور نیز رصّہ بمعنی سیسے کی قلعی کرنا۔ اور رصاص بمعنی سیسہ (منجد) یعنی رصّ کے معنی کسی چیز کو کسی مسالہ وغیرہ سے جوڑ کر اسے مضبوط بنانا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ (سورۃ الصف آیت 4)
جو لوگ اللہ کی راہ میں ایسے طور پر صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک اللہ کے محبوب ہیں۔
​

ماحصل:​

  • وصل: بمعنی ملانا اور جوڑنا۔
  • خصف: بمعنی جوڑنا اور چپکانا۔
  • رصّ: دو چیزوں کو جوڑنا اور مسالہ وغیرہ سے پیوست کرنا۔
 
Top