جماعت
کے لیے
جمع، رھط، شرذمۃ، عصبۃ، طائفۃ، فئۃ (فای) فرقۃ، زمرۃ، حزب، ثلۃ، عزین، معشر، ثقلان اور
امۃ کے الفاظ آئے ہیں۔
1: جمع
جماعت کے لیے یہ لفظ عام ہے۔ خواہ تھوڑے آدمیوں کا ہو یا زیادہ کا اور خواہ کسی قسم کا ہو۔ ارشاد باری ہے:
سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ (سورۃ القمر آیت 45)
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
اور دوسرے مقام پر ہے:
وَ اِنَّا لَجَمِیۡعٌ حٰذِرُوۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 56)
اور ہم سب ان سے خطرہ رکھتے ہیں۔
2: رھط
ایک ہی خاندان کے نوجوانوں کی مختصر جماعت جو 3 سے 9 افراد تک ہو، ان کا سردار بھی
رھط کہلاتا ہے (ف ل 205) اور امام راغب کے نزدیک یہ تعداد چالیس تک ہے (مف) اور صاحب منجد یہ قید لگاتے ہیں کہ ان میں کوئی عورت نہ ہو (منجد) اور اگر عدد کی طرف اضافت ہو تو اس سے افراد و اشخاص مراد ہوتے ہیں۔ جیسے
عشرون رھطا بمعنی بیس اشخاص (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ کَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 48)
اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے۔
دوسرے مقام پر ہے:
قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَہۡطِیۡۤ اَعَزُّ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ (سورۃ ھود آیت 92)
انہوں نے کہا کہ اے قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر اللہ سے زیادہ ہے؟ اور اسکو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
3: شرذمۃ
ناتواں اور بیکس لوگوں کی چھوٹی سی جماعت۔ یہ تعداد کے لحاظ سے
رھط سے بڑی ہوتی ہے (ف ل 205) اور
ثیاب شرازم بمعنی پھٹے پرانے چیتھڑے (منجد، مف) قرآن میں ہے:
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡ ذِمَۃٌ قَلِیۡلُوۡنَ (سورۃ الشعرا آیت 54)
اور کہا کہ یہ تھوڑے سے لوگوں کی جماعت ہے۔
4: عصبۃ
طاقتور اور مضبوط لوگوں کی جماعت جس کے سب افراد ایک دوسرے کے حامی و ناصر ہوں (مف) تعداد کے لحاظ سے
شرذمۃ سے بڑی ہے (ف ل 205) لیکن صاحب فقہ اللغۃ کی یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ قرآن نے یہ لفظ حضرت یوسف علیہ السلام کے دس بھائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 14)
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گئے۔
5: طائفۃ
ایک رائے اور مذہب کے لوگ (منجد) تعداد کے لحاظ سے
عصبۃ سے بڑی ہوتی ہے (ف ل 205) ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ (سورۃ حجرات آیت 9)
اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔
اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ
طآئفۃ کا اطلاق ایک فرد پر بھی ہو سکتا ہے جبکہ وہ ایک فریق ہو اور دلیل یہی آیت پیش کرتے ہیں۔
6: فئۃ
ایسی جماعت جس کے افراد تعاون کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ آئیں (مف) ارشاد باری ہے:
کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 249)
بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔
7: فرقۃ
ایسی جماعت جو کسی بڑی جماعت سے کٹ کر علیحدہ ہو گئی ہو۔ اور
فرق بمعنی کسی چیز کا الگ شدہ ٹکڑا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 122)
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے اور اس میں سمجھ پیدا کرتے۔ اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔
اس آیت میں بھی
طآئفۃ کا اطلاق ایک فرد پر ہونا مراد لیا جاتا ہے۔
8: ثلّۃ
ثلّۃ اون کے ڈھیر کو بھی کہتے ہیں اور بکریوں کے ریوڑ کو بھی (مف) اور
ثلّۃ انسانوں کی جماعت کو بھی (منجد) گویا اس کی بنیا کثیر مقدار یا تعداد ہے۔ کہتے ہیں
فلان لا یفر بین الثلّۃ والثلّۃ یعنی فلاں شخص بھیڑوں اور انسانوں کی جماعت میں تمیز نہیں کرتا۔ اور تعداد کے لحاظ سے صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک
ثلّۃ کی تعداد
طائفہ سے زیادہ اور
فرقہ سے کم ہے (ف ل 205) قرآن میں ہے:
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ (سورۃ الواقعہ آیت 13)
وہ بہت سے تو پہلے کے لوگوں میں سے ہوں گے۔
9: زمرۃ
صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک
زمرۃ ثلّۃ سے بڑی جماعت کو کہتے ہیں (ف ل 205) اور اس کی جمع
زمر ہے۔
اور امام راغب کے نزدیک
زمرۃ چھوٹی سی جماعت کو کہتے ۔ اور
شاۃ زمرۃ بمعنی کم اون والی بھیڑ۔ اور
زمر بے مروت آدمی کو کہتے ہیں (مف) اور قرآن کریم بھی اس معنی کی تائید کرتا ہے یعنی جب کوئی بڑی جماعت چھوٹے چھوٹے دستوں یا ٹولوں میں بٹ کر نقل و حرکت کرے تو یہ ٹولے
زمر کہلائیں گے۔ قرآن میں ہے:
وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ (سورۃ الزمر آیت 73)
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں انکو گروہ گروہ کر کے بہشت کی طرف لیجایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس پہنچ جائیں گے اس حال میں کہ اسکے دروازے کھولے جا چکے ہونگے تو اسکے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ۔
10: عزین
العزۃ کی جمع
عزین اور
عزون آتی ہے۔ اور
العزۃ بمعنی ایک ہی نسب کے لوگوں کی جماعت (مف) اور
الاعتزآء فی الحرب بمعنی کسی شخص کا لڑائی کے دوران اپنا حسب نسب بیان کرنا (مف) قرآن میں ہے:
عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ (سورۃ معارج آیت 37)
دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر جمع ہوتے جاتے ہیں۔
11: حزب
ایسی جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے (مف) اور
حزب بمعنی پارٹی، گروہ، جتھا، ہتھیار، انسانوں کی فوج اور آپس میں ہم خیال ساتھی۔ جمع
احزاب۔ اور
حازب بمعنی کسی پارٹی میں شامل ہونا، مدد دینا اور قوت پہنچانا (منجد) ایک جھنڈے تلے جمع ہونے والے لوگ (م ق) گویا
حزب کا لفظ سیاسی پارٹی یا فوج اور لشکر کے معنوں میں بھی آتا ہے جس کا مقصد مملکت میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا (سورۃ الاحزاب آیت 22)
اور جب مومنوں نے کافروں کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اسکے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اسکے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔
12: معشر
عشر بمعنی دس اور
عشیرۃ خاندان کے کل افراد کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے ہوں۔ گویا اس میں عدد کامل جو دس ہے کا تعلق پایا جاتا ہے (مف) اس لحاظ سے
معشر کسی جماعت کے وہ کل افراد ہوتے ہیں جن کا مقصد و مطلوب ایک ہو۔ اور ان میں اختلاط اور موافقت پائی جائے (م ل) ارشاد باری ہے:
یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ (سورۃ الرحمن آیت 33)
اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تو تم نکل سکنے ہی کے نہیں۔
13: ثقلان
ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گراں باری۔ اور
ثقیل اور
ثقال بمعنی بوجھ اور وزنی چیز اور
ثقلان دو بڑی بھاری جماعتیں۔ دو بڑی انواع یعنی جن اور انسان (منجد، ف ل 134) ارشاد باری ہے:
سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ (سورۃ الرحمن آیت 31)
اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
14: امۃ
ہم جنس لوگوں یا جانوروں یا پرندوں کی جماعت۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 38)
اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا حیوان یا اپنے پروں سے اڑنے والا پرندہ ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں کسی چیز کے لکھنے میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے۔
اور جب اس لفظ کا اطلاق انسانوں کے لیے ہو تو اس سے مراد ہم عقیدہ لوگ ہوتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (سورۃ البقرۃ آیت 213)
پہلے تو سب لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا
اور عرف عام میں
امۃ ان ہم عقیدہ لوگوں کی جماعت کو کہتے ہیں جسے کوئی نبی یا رسول تشکیل دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ (سورۃ آل عمران آیت 110)
مومنو! تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی ہدایت کیلئے میدان میں لایا گیا ہے کہ تم نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اور
امۃ کا لفظ قرآن کریم میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام (فرد واحد) کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اکیلے کلمۃ الحق کے لیے اتنا کام کر دکھایا جتنا ایک امت کام کرتی ہے۔ اور بعض کے نزدیک امۃ بمعنی امام یعنی پیشوا یا راہ ڈالنے والا ہے۔ (جالندھریؒ، عثمانیؒ)۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ (سورۃ النحل آیت 120)
بیشک ابراہیم لوگوں کے امام اور اللہ کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
ماحصل:
- جمع اور جمیع: کسی بھی موقعہ پر جمع شدہ لوگ۔
- رھط: ایک خاندان کے نوجوانوں کی جماعت جو دس تک ہو اور اس جماعت کا سردار۔
- شرذمۃ: ناتواں لوگوں کی چھوٹی سی جماعت۔
- عصبۃ: مضبوط اور طاقتور لوگوں کی چھوٹی سی جماعت جو ایک دوسرے کی حامی و ناصر ہوں۔
- طائفۃ: ایک رائے اور مذہب کے لوگ۔
- فئۃ: ایک دوسرے سے تعاون حاصل کرنے والی جماعت۔
- فرقۃ: کسی بڑی جماعت سے الگ شدہ چھٹی جماعت۔
- ثلّۃ: صف کثیر تعداد کے لیے آتا ہے۔
- زمرۃ: کسی بڑی جماعت کے متفرق شدہ نقل و حرکت کرنے والے ٹولے۔
- عزین: ایک ہی نسب کے لوگ۔
- حزب: لشکر، سیاسی پارٹی، مملکت کے کاروبار میں عمل دخل حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی جماعت۔
- معشر: کسی مخصوص مقصد والی جماعت کے کل افراد جن میں اختلاط و موافقت ہو۔
- ثقلان: دو بڑی مخلوقات جن اور انسان۔
- امۃ: ہم جنسوں (انسان، جانور، پرندے) کی جماعت۔ یا ایسے ہم عقیدہ لوگو جو کسی ایک امام کے متبع ہوں۔