مترادفات القرآن (ج)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جہاں، جہاں کہیں​

کے لیے حیث، حیثما، اینما کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حیث​

مکان مبہم کے لیے آتا ہے ما بعد کے جملہ سے اس کی تشریح ہوتی ہے بمعنی جہاں (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 149)
اور تم جہاں سے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لیا کرو۔
​
2: حیثما
بمعنی جہاں کہیں ما کا اضافہ صرف معنوں میں وسعت کے لیے ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ (سورۃ البقرۃ آیت 150)
اور مسلمانو تم جہاں ہوا کرو اسی مسجد کی طرف رخ کیا کرو
​
3: اینما
این
بمعنی کہاں۔ کسی جگہ کے متعلق سوال کرنے کے لیے آتا ہے۔ اور اینما بمعنی کوئی بھی جگہ اس طرح اینما اور حیثما ہم معنی بن جاتے ہیں۔ البتہ اینما میں شرط کے معنی بھی پائے جاتے ہیں (منجد، م ق) ارشاد باری ہے:
مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا (سورۃ الاحزاب آیت 61)
وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے۔​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھڑکنا​

کے لیے زجر، ازدجر اور نھر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: زجر​

کسی کو اونچی آواز سے تہدید آمیز کلمات کہنا، جھڑکنا، دھتکارنا، ڈانٹنا اور زجرۃ بمعنی ڈانٹ(سورۃ النازعات آیت 13)۔ قرآن میں ہے:
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا (سورۃ الصافات آیت 2)
پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر۔
​

2: ازدجر​

بمعنی کسی کو جھڑک کر بھگا دینا (مف) ارشاد باری ہے:
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ (سورۃ القمر آیت 9)
ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی گیا۔
​

3: نھر​

بمعنی کسی مائع چیز کا زور سے بہنا بھی اور نھر السائل بمعنی سائل کو جھڑکنا بھی (منجد) جھڑکنے اور ڈانٹنے میں سختی سے کام لینا۔ الزجر الغلیظ (مف، ف ل 188) ارشاد باری ہے:
وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ (سورۃ ضحی آیت 10)
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا۔
​

ماحصل:​

  • زجر: جھڑکنا، ڈانٹنا۔
  • ازدجر: جھڑک کر نکال دینا۔
  • نھر: سختی سے جھڑکنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھکنا​

کے لیے جنح، مال (میل)، عنا (عنی/ عنو)، صفا (صفو)، رکن، ماد (مید) خشع، ذلّ، عال، دنی، جنف، صبا کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جنح​

کسی ایک طرف جھکنا۔ جنحت السفینۃ کشتی کا ایک جانب جھکنا۔ اور جناح بمعنی پرندہ کا پر، انسان کا پہلو (تثنیہ جناحین) اور جناح (ج زبر) بھلائی کی طرف جھکاؤ اور جناح (ج پیش) بمعنی گناہ۔ برائی کی طرف جھکاؤ کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ (سورۃ الانفال آیت 61)
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا ہے جانتا ہے۔
​

2: مال​

المیل بمعنی میلان طبع، رغبت (منجد) طبیعت کا جھکاؤ ہونا، کسی بات یا چیز پر طبیعت کا مائل ہونا۔ یہ لفظ عام ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَ لَوۡ حَرَصۡتُمۡ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الۡمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالۡمُعَلَّقَۃِ ؕ (سورۃ النساء آیت 129)
اور تم خواہ کتنا ہی چاہو بیویوں میں ہرگز عدل نہیں کر سکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ۔ اور دوسری کو ایسی حالت میں چھوڑ دو کہ گویا ادھر میں لٹک رہی ہے۔
​

3: عنا​

عنا یعنوا بمعنی ذلیل ہونا، پست ہونا، فرمانبردار ہونا۔ اور عنا یعنی بمعنی مشقت برداشت کرنا۔ اور عنی یعنی بمعنی تھکنا (منجد) گویا عنا یعنی ذلیل ہو کر، تھک کر یا مشقت سے عاجز آ کر جھکنا کے معنی دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا (سورۃ طہ آیت 111)
اور اس زندہ و قائم کے روبرو منہ لٹک جائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا۔
​

4: صغا​

صغا یصغوا پوری طرح جھکنے کے معنی میں آتا ہے۔ صغت النجوم و الشمس بمعنی سورج یا ستاروں کا مائل بہ غروب ہونا (مف، منجد) اور صغیت الاناء میں نے برتن کو جھکایا کہ اس سے چیز نکل آئے اور اصغی الیہ بمعنی کسی طرف کان جھکانا، کان دھرنا (م م) قرآن میں ہے:
اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ (سورۃ تحریم آیت 4)
اگر تم دونوں اللہ کے آگے توبہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل مائل ہو ہی گئے ہیں۔
​

5: رکن​

رکن بمعنی قوت، غلبہ، قلعہ، مضبوط پہلو۔ اور رکن بمعنی کس پر بھروسہ کرنا اور اس کی طرف جھکنا جس سے قوت حاصل کی جائے (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 74)
اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر انکی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔
​

6: ماد​

بمعنی کسی چیز میں حرکت پیدا ہو کر جھکنا، ہل جل کر کسی بھی طرف جھک پڑنا (م ل) حرکت کرنا، ہلنا، کانپنا (منجد) مادت الغصن بمعنی شاخ جھک پڑی (منجد) قرآن میں ہے:
وَ جَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ ۪ وَ جَعَلۡنَا فِیۡہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 31)
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ لوگوں کو لیکر ڈولنے نہ لگے اور اس میں کشادہ رستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں۔
​

7: خشع​

عاجزی کی وجہ سے جھکنا۔ ایسی خوف جس کا اثر جوارح پر ظاہر ہو (مف) یہ عموماً آنکھوں، چہرہ، آواز اور دل کے جھکنے کے لیے آتا ہے۔ اور اس میں خوف بھی شامل ہے۔ مثلاً:
1: آواز کے لیے:
یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا (سورۃ طہ آیت 108)
اس روز لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اسکی پیروی سے انحراف نہ کر سکیں گے اور رحمٰن کے سامنے آوازیں پست ہو جائیں گی تو تم ایک ہلکی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے۔
​
2: آنکھ کے لیے:
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ (سورۃ المعارج آیت 44)
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
​

8: ذلّ​

بمعنی زور اور قہر اور دباؤ کی وجہ سے جھکنا۔ (اور اس کی ضد عزّ ہے) (مف) ذلیل ہونا، طبیعت کی تیز اور سختی کا از خود مغلوب ہو جانا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا (سورۃ الدھر آیت 14)
ان پر درختوں کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔
​

9: عال​

(عول) بمعنی ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا (منجد) العول ہر ایسی چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو انسان کو گراں بار کر دے اور وہ اس کے بوجھ تلے دب جائے (مف) اس سے مراد جھکاؤ ہے جس میں کسی کا حق تلف ہوتا ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا (سورۃ النساء آیت 3)
اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ کئ عورتوں سے انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت سے نکاح کرو یا باندی سے تعلق رکھو جس کے تم مالک ہو اس طرح تم بے انصافی سے بچ جاؤ گے۔
​

10: دنی​

بمعنی قریب ہونا، نزدیک ہونا۔ اور اگر اس کی نسبت کسی بلندی کی طرف ہو تو یہ جھک کر قریب ہونا کے معنی دے گا۔ ارشاد باری ہے:
وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ (سورۃ الرحمن آیت 54)
اور دونوں باغوں کے میوے قریب جھک رہے ہیں۔
​

11: جنف​

بمعنی جانبداری کرنا، طرفداری کرنا، جھکاؤ کا رخ کسی ایک فریق کی طرف ہو جانا۔ ارشاد باری ہے:
فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَیۡنَہُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 182)
اب اگر کسی کو وصّیت کرنے والے کی طرف سے کسی وارث کی طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ وصّیت کو بدل کر وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا ہے رحم والا ہے۔
​

12: صبا​

(صبو) صبیّ بمعنی چھوٹا بچہ، چھوٹا لڑکا (جمع صبیان) اور صبا بمعنی بچوں جیسی حرکتوں کی طرف مائل ہونا۔ اور تصبیّ بمعنی کھیل کود کی طرف راغب ہونا (م ق) گویا صباء ایسے جھکاؤ کو کہتے ہیں جو از راہ بچپن ہو۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ (سورۃ یوسف آیت 33)
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلا تی ہیں اسکی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں سے ہو جاؤں گا۔
​

ماحصل:​

  • مال: طبیعت کا جھکاؤ اور رغبت۔ عام ہے۔
  • جنح: اچھے کام کی طرف جھکنا۔
  • عنا: مشقت کی وجہ سے تھک کر جھکنا۔
  • صغا: پورے یا زیادہ جھکاؤ کے لیے۔
  • رکن: کسی چیز کی طرف قوت یا پناہ حاصل کرنے کے لیے جھکنا۔
  • ماد: حرکت یا بوجھ کی وجہ سے جھک پڑنا۔ ہچکولے کھانا۔
  • خشع: خوف اور عاجزی سے جھکنا جس کا اثر جوارح سے نمایاں ہو۔
  • ذلّ: کسی دباؤ کی وجہ سے جھکنا۔
  • عال: ایسا جھکاؤ جس میں دوسرے کی حق تلفی ہو۔
  • دنی: جھک کر قریب ہونا۔
  • جنف: جانبداری کی وجہ سے جھکنا۔
  • صبا: از راہ بچپن کسی نا شائستہ حرکت کی طرف جھک پڑنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھکانا​

کے لیے خفض، غضّ، رکع اور نکس کے الفاظ آئے ہیں۔

1: خفض​

بمعنی جھکانا، پست کرنا اور اس کی ضد رفع ہے بمعنی اوپر اٹھانا، بلند کرنا۔ خفض ظاہری اور معنوی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ خافض اور رافع دونوں اللہ تعالی کے نام یا صفات بھی ہیں۔ ارشاد باری ہے
وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 24)
اور عجزونیاز سے انکے آگے جھکے رہو اور انکے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پرورش کیا ہے تو بھی انکے حال پر رحمت فرما۔
​

2: غضّ​

نظر جھکا لینے یا آواز کو پست کرنے سے مخصوص ہے (م ق) ارشاد باری ہے:
قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ (سورۃ النور آیت 30)
مومن مردوں سے کہدو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔
​

3: رکع​

بمعنی بدن جو جھکانا، سر کو خم کرنا، خمیدہ پشت ہونا (مف) کنایۃ نماز ادا کرنا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ ارۡکَعُوۡا لَا یَرۡکَعُوۡنَ (سورۃ المرسلات آیت 48)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکو تو جھکتے نہیں۔
​

4: نکس​

بمعنی اوندھا کرنا۔ اور نکس راسہ کے معنی سر جھکانا، سرنگوں ہونا، شرم و ندامت سے سر جھکا لینا اور تنکّس العلم بمعنی جھنڈا کا سرنگوں ہونا (منجد) ہے اور انتکس بمعنی سر کے بل گرنا۔ اور نکس علی راسہ محاورہ ہے بمعنی لاجواب ہو کر ندامت سے سر جھکا لینا۔ ارشاد باری ہے:
ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمۡ ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا ہٰۤؤُلَآءِ یَنۡطِقُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 65)
پھر شرمندہ ہو کر سر نیچا کر لیا اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں۔
​

ماحصل:​

  • خفض: جھکانے یا پست کرنے کے لیے عام لفظ۔
  • عضّ: نظر اور آواز کے لیے۔
  • رکع: بدن کو جھکانے اور خمیدہ پشت ہونے کے لیے۔
  • نکس: علی راس لا جواب ہو کر ندامت سے سر ڈال دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھگڑنا​

کے لیے شجر، تنازع، حاجّ، جدل، مار (مری) خصم، لدّ اور تشاکس کے الفاظ آئے ہیں۔

1: شجر​

جھگڑنا اور اختلاف کرنا (مف) بحث کرنا، مختلف فیہ ہونا (منجد) اختلاف رائے کی بنا پر جھگڑنا جبکہ اصول پر فریقین متفق ہوں اور جھگڑا فروعی نوعیت کا ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (سورۃ النساء آیت 65)
پس تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں۔ اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے اپنے دل میں تنگ بھی نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہونگے۔
​

2: تنازع​

بمعنی اختلاف کرنا اور اپنی طرف کھنچنا (منجد) اور نزع کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھنیچنا (مف) کھینچا تانی، جھگڑے کا طول پکڑنا۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا (سورۃ النساء آیت 59)
مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔ پھر اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔
​

3: حاجّ​

حجّ بمعنی دلیل سے غالب آنا۔ اور حجّۃ بمعنی دلیل اور احتجّ بمعنی اپنے دعوی پر دلیل لانا (منجد) ہے۔ گویا حاجّ دلائل سے بحث کرنے اور ایک دوسرے کی بات کو دلیل سے رد کنے کو کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ (سورۃ البقرۃ آیت 258)
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس غرور کے سبب سے کہ اللہ نے اس کو سلطنت بخشی تھی۔
​

4: جدل​

گفتگو میں ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا (مف) بے جا تکرار کرنا۔ اور جدل بمعنی پچھاڑ دینا اور زمین پر گرانا (منجد) بطور سوال جواب جھگڑنا (م ق) صاحب مقائیس اللغۃ کے نزدیک طویل گفتگو سے جھگڑا کو طول دینا (م ل) ارشاد باری ہے:
یُجَادِلُوۡنَکَ فِی الۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوۡنَ اِلَی الۡمَوۡتِ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 6)
وہ لوگ حق بات میں اسکے ظاہر ہونے کے بعد تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔
​

5: مار​

مریۃ بمعنی تردد اور شک۔ اور مار بمعنی ایسی بات میں جھگڑا کرنا جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو (مف) ارشاد باری ہے:
اَفَتُمٰرُوۡنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی (سورۃ نجم آیت 12)
کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟
​

6: خصم​

بمعنی دعویدار، مدعی اور مدعا علیہ یا دونوں میں سے کوئی ایک، مخالف فریق، خواہ ایک فرد ہو یا زیادہ، ایسا جھگڑا یا مقدمہ جس میں فریقین کے حقوق زیر بحث ہوں۔ اور اخصم بمعنی کسی کے خلاف دلیل مہیا کرنا۔ دلیل سجھانا (منجد) قرآن میں ہے:
وَ ہَلۡ اَتٰىکَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ۘ اِذۡ تَسَوَّرُوا الۡمِحۡرَابَ (سورۃ ص آیت 21)
اور اے نبی ﷺ کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔
​

7: لدّ​

بمعنی شدّۃ الخصومۃ (ف ل 48) اور الدّ بمعنی سخت جھگڑالو آدمی (پنجابی رٹے خور) جو دوسروں کی بات کو در خود اعتنا نہ سمجھے اور اپنی بات کے لیے شور مچاتا جائے۔ قرآن میں ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ (سورۃ البقرۃ آیت 204)
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہو اور وہ اپنے مافی الضمیر پر یعنی اس بات پر جو اسکے دل میں ہے اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
​

8: تشاکس​

الشّکس بمعنی بد مزاج آدمی۔ اور تشاکس بمعنی بد مزاجی کی وجہ سے باہم جھگڑا کرنا (مف) اور شکس بمعنی سخت مزاج اور بخیل ہونا (منجد) گویا تشاکس کے معنی بخل، تند خوئی اور بد مزاجی کی وجہ سے ایک دوسرے سے اپنے اپنے حق کے لیے کھینچا تانی کرنا ہے۔ ارشاد باری ہے:
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ الزمر آیت 29)
اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی آدمی شریک ہیں۔ مختلف مزاج کے اور ایک آدمی پورے کا پورا ایک شخص کا غلام ہے۔ بھلا دونوں کی حالت برابر ہے؟ نہیں الحمد للہ مگر یہ اکثر لوگ نہیں جانتے۔
​

ماحصل:​

  • شجر: اختلاف رائے ہونا۔
  • تنازع: اختلاف رائے میں کھینچا تانی۔
  • حاجّ: دلیل سے جھگڑا کرنا۔
  • جدل: خصومۃ بالباطل، کج بحثی۔
  • مار: ایسی بات میں جھگڑا کرنا جس کو تسلیم کرنے میں تردد ہو۔
  • خصم: کسی چیز کے دعویدار ہونے کی بنا پر دوسروں سے جھگڑنا۔
  • لدّ: شدّۃ الخصومۃ۔
  • تشاکس: بد مزاجی اور بخل کی بنا پر ایک دوسرے سے اپنے اپنے حق کے لیے جھگڑنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھوٹ​

کے لیے کذب، باطل، زور اور افک کے الفاظ آئے ہیں۔

1: کذب​

بمعنی جان بوجھ کر غلط خبر دینا (منجد) دل اور زبان کی ہم آہنگی نہ ہونا (مف) یا خلاف واقعہ بات کہنا ہے۔ اور اس کی ضد صدق ہے۔ ارشاد باری ہے:
یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 78)
اور اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور یہ بات جانتے بھی ہیں۔
​

2: باطل​

بمعنی ہر ہو بات جس میں تحقیق کے بعد ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے (مف) ناحق، بے اصل، لغو، فضول (منجد) اور اس کی ضد حق ہے۔ بمعنی حقیقت، سچ، سچائی، راستی وغیرہ۔ گویا باطل کا لفظ وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس کا ایک معنی کذب یا جھوٹ بھی ہے۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 71)
اے اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو جبکہ تم جانتے بھی ہو۔
​

3: زور​

زور بمعنی سینہ کے اوپر کے حصہ کی خمیدگی، کجی اور زور بمعنی حق کے خلاف جھوٹ اور اللہ سے شرک کرنا (منجد) اور زاور کے معنی راہ حق سے کترا جانا۔ سیدھی راہ سے ایک طرف ہو کر نکل جانا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:
وَ تَرَی الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ کَہۡفِہِمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ اِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ ہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ (سورۃ الکہف آیت 17)
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ دھوپ انکے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس غار کے کشادہ حصے میں تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
​
اور قول الزور کے مقابلہ مین قرآن میں قولا سدیدا کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ایسے بات جس میں کوئی رخن، ابہام، ہیرا پھیری اور پیچیدگی نہ ہو۔ اور قول الزور ایسی بات ہے جس میں یہ باتیں یا ان میں سے کوئی ایک موجود ہو۔ اور ابو ہلال عسکری کے نزدیک زور ایسا جھوٹ ہے جسے بنا سنوار کر پیش کیا جائے کوہ وہ بھلا اور درست معلوم ہو۔ (فق ل 34) ارشاد باری ہے:
فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَ اجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ (سورۃ حج آیت 30)
تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو۔
​

4: افک​

افک بمعنی اصل سمت سے رخ موڑ لینا جس میں بد نیتی شامل ہو (مف) بات کچھ ہو تو اس سے کچھ اور ہی بنا لینا، باتیں گھڑنا، الزام، بہتان۔ اور یہ جھوٹ کی بد ترین قسم ہے۔ اور صاحب فروق اللغویہ کے نزدیک اس جھوٹ کا تعلق فاحش القبح یعنی زنا وغیرہ کی تہمت سے ہوتا ہے (فق ل 33) ارشاد باری ہے:
لَوۡ لَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمۡ خَیۡرًا ۙ وَّ قَالُوۡا ہٰذَاۤ اِفۡکٌ مُّبِیۡنٌ (سورۃ النور آیت 12)
جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا۔ اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ کھلم کھلا بہتان ہے۔
​

ماحصل:​

  • کذب: خلاف واقعہ بات۔
  • باطل: نا پائیدار اور بے بنیاد بات، بہت وسیع معنوں میں آتا ہے جس کی ایک قسم کذب ہے۔
  • زور: ایسی بات جو پیچ ڈال کر حقیقت کو چھپاتے ہوئے بنا سنوار کر یوں پیش کی جائے کہ وہ سچ معلوم ہو۔
  • افک: بد نیتی سے کسی بات کو کچھ کا کچھ بنا دینا۔ اور اس کا تعلق تہمت سے بھی ہوتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھوٹ بولنا یا بنانا​

کے لیے کذب، افک اور تقوّل (قول) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: کذب​

جان بوجھ کر ایسی خبر دینا جو واقعہ کے خلاف ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ (سورۃ یوسف آیت 27)
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے۔
​

2: افک​

کسی چیز کا رخ موڑ دینا، بد نیتی سے بات کو کچھ کا کچھ بنا دینا جیسا کہ اوپر گزرا۔ اور یہ بد ترین قسم کا جھوٹ ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ عَلٰی مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیۡنُ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ (سورۃ الشعرا آیت 221، 222)
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان یعنی جنات کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں۔
​

3: تقوّل​

ایسی بات کہنا جس کا اصل موجود ہی نہ ہو۔ کسی پر جھوٹ تھوپنا (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ (سورۃ الحاقۃ آیت 44)
اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔
​

ماحصل:​

  • کذب: خلاف واقعہ بات یا جھوٹ بولنا۔
  • افک: کسی پر بہتان تراشنا۔
  • تقوّل: جھوٹ بنانا اور دوسرے کے نام لگا دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

جھٹلانا​

کے لیے کذّب اور ابطل کے الفاظ آئے ہیں۔

1: کذب​

بمعنی کسی کو جھوٹا قرار دینا۔ معروف لفظ ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ (سورۃ آل عمران آیت 184)
پھر اگر یہ لوگ تم کو جھٹلا رہے ہیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں کہ انکو بھی جھٹلایا گیا تھا۔
​

2: ابطل:​

باطل بمعنی نا حق اور نا پائیدار (ضد حق) تو جس طرح حق کا ایک معنی سچ ہے اسی طرح باطل کا ایک معنی جھوٹ بھی ہے۔ اور ابطل حالات و واقعات کے ساتھ کسی چیز کو جھٹلانا یا جھوٹ ثابت کر دینا۔ ارشاد باری ہے:
لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 8)
تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔
​

ماحصل:​

کذب: محض کسی کی بات کو جھٹلا دینے کے لیے اور ابطل کسی بات یا کم کو دلائل، تجربات اور مشاہدات سے جھوٹا ثابت کرنے کے لیے آتا ہے۔
جینا کے لیے دیکھیے "زندہ رہنا"۔
 
Top