جھکنا
کے لیے
جنح، مال (میل)، عنا (عنی/ عنو)، صفا (صفو)، رکن، ماد (مید) خشع، ذلّ، عال، دنی، جنف، صبا کے الفاظ آئے ہیں۔
1: جنح
کسی ایک طرف جھکنا۔
جنحت السفینۃ کشتی کا ایک جانب جھکنا۔ اور
جناح بمعنی پرندہ کا پر، انسان کا پہلو (تثنیہ جناحین) اور جناح (ج زبر) بھلائی کی طرف جھکاؤ اور جناح (ج پیش) بمعنی گناہ۔ برائی کی طرف جھکاؤ کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ (سورۃ الانفال آیت 61)
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا ہے جانتا ہے۔
2: مال
المیل بمعنی میلان طبع، رغبت (منجد) طبیعت کا جھکاؤ ہونا، کسی بات یا چیز پر طبیعت کا مائل ہونا۔ یہ لفظ عام ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَ لَوۡ حَرَصۡتُمۡ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الۡمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالۡمُعَلَّقَۃِ ؕ (سورۃ النساء آیت 129)
اور تم خواہ کتنا ہی چاہو بیویوں میں ہرگز عدل نہیں کر سکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ۔ اور دوسری کو ایسی حالت میں چھوڑ دو کہ گویا ادھر میں لٹک رہی ہے۔
3: عنا
عنا یعنوا بمعنی ذلیل ہونا، پست ہونا، فرمانبردار ہونا۔ اور
عنا یعنی بمعنی مشقت برداشت کرنا۔ اور
عنی یعنی بمعنی تھکنا (منجد) گویا
عنا یعنی ذلیل ہو کر، تھک کر یا مشقت سے عاجز آ کر جھکنا کے معنی دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا (سورۃ طہ آیت 111)
اور اس زندہ و قائم کے روبرو منہ لٹک جائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا۔
4: صغا
صغا یصغوا پوری طرح جھکنے کے معنی میں آتا ہے۔
صغت النجوم و الشمس بمعنی سورج یا ستاروں کا مائل بہ غروب ہونا (مف، منجد) اور
صغیت الاناء میں نے برتن کو جھکایا کہ اس سے چیز نکل آئے اور
اصغی الیہ بمعنی کسی طرف کان جھکانا، کان دھرنا (م م) قرآن میں ہے:
اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ (سورۃ تحریم آیت 4)
اگر تم دونوں اللہ کے آگے توبہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل مائل ہو ہی گئے ہیں۔
5: رکن
رکن بمعنی قوت، غلبہ، قلعہ، مضبوط پہلو۔ اور
رکن بمعنی کس پر بھروسہ کرنا اور اس کی طرف جھکنا جس سے قوت حاصل کی جائے (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 74)
اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر انکی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔
6: ماد
بمعنی کسی چیز میں حرکت پیدا ہو کر جھکنا، ہل جل کر کسی بھی طرف جھک پڑنا (م ل) حرکت کرنا، ہلنا، کانپنا (منجد)
مادت الغصن بمعنی شاخ جھک پڑی (منجد) قرآن میں ہے:
وَ جَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ ۪ وَ جَعَلۡنَا فِیۡہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 31)
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ لوگوں کو لیکر ڈولنے نہ لگے اور اس میں کشادہ رستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں۔
7: خشع
عاجزی کی وجہ سے جھکنا۔ ایسی خوف جس کا اثر جوارح پر ظاہر ہو (مف) یہ عموماً آنکھوں، چہرہ، آواز اور دل کے جھکنے کے لیے آتا ہے۔ اور اس میں خوف بھی شامل ہے۔ مثلاً:
1: آواز کے لیے:
یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا (سورۃ طہ آیت 108)
اس روز لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اسکی پیروی سے انحراف نہ کر سکیں گے اور رحمٰن کے سامنے آوازیں پست ہو جائیں گی تو تم ایک ہلکی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے۔
2: آنکھ کے لیے:
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ (سورۃ المعارج آیت 44)
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
8: ذلّ
بمعنی زور اور قہر اور دباؤ کی وجہ سے جھکنا۔ (اور اس کی ضد
عزّ ہے) (مف) ذلیل ہونا، طبیعت کی تیز اور سختی کا از خود مغلوب ہو جانا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا (سورۃ الدھر آیت 14)
ان پر درختوں کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔
9: عال
(عول) بمعنی ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا (منجد) العول ہر ایسی چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو انسان کو گراں بار کر دے اور وہ اس کے بوجھ تلے دب جائے (مف) اس سے مراد جھکاؤ ہے جس میں کسی کا حق تلف ہوتا ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا (سورۃ النساء آیت 3)
اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ کئ عورتوں سے انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت سے نکاح کرو یا باندی سے تعلق رکھو جس کے تم مالک ہو اس طرح تم بے انصافی سے بچ جاؤ گے۔
10: دنی
بمعنی قریب ہونا، نزدیک ہونا۔ اور اگر اس کی نسبت کسی بلندی کی طرف ہو تو یہ جھک کر قریب ہونا کے معنی دے گا۔ ارشاد باری ہے:
وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ (سورۃ الرحمن آیت 54)
اور دونوں باغوں کے میوے قریب جھک رہے ہیں۔
11: جنف
بمعنی جانبداری کرنا، طرفداری کرنا، جھکاؤ کا رخ کسی ایک فریق کی طرف ہو جانا۔ ارشاد باری ہے:
فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَیۡنَہُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 182)
اب اگر کسی کو وصّیت کرنے والے کی طرف سے کسی وارث کی طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ وصّیت کو بدل کر وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا ہے رحم والا ہے۔
12: صبا
(صبو) صبیّ بمعنی چھوٹا بچہ، چھوٹا لڑکا (جمع
صبیان) اور
صبا بمعنی بچوں جیسی حرکتوں کی طرف مائل ہونا۔ اور
تصبیّ بمعنی کھیل کود کی طرف راغب ہونا (م ق) گویا
صباء ایسے جھکاؤ کو کہتے ہیں جو از راہ بچپن ہو۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ (سورۃ یوسف آیت 33)
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلا تی ہیں اسکی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں سے ہو جاؤں گا۔
ماحصل:
- مال: طبیعت کا جھکاؤ اور رغبت۔ عام ہے۔
- جنح: اچھے کام کی طرف جھکنا۔
- عنا: مشقت کی وجہ سے تھک کر جھکنا۔
- صغا: پورے یا زیادہ جھکاؤ کے لیے۔
- رکن: کسی چیز کی طرف قوت یا پناہ حاصل کرنے کے لیے جھکنا۔
- ماد: حرکت یا بوجھ کی وجہ سے جھک پڑنا۔ ہچکولے کھانا۔
- خشع: خوف اور عاجزی سے جھکنا جس کا اثر جوارح سے نمایاں ہو۔
- ذلّ: کسی دباؤ کی وجہ سے جھکنا۔
- عال: ایسا جھکاؤ جس میں دوسرے کی حق تلفی ہو۔
- دنی: جھک کر قریب ہونا۔
- جنف: جانبداری کی وجہ سے جھکنا۔
- صبا: از راہ بچپن کسی نا شائستہ حرکت کی طرف جھک پڑنا۔