مترادفات القرآن (چ)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چوری کرنا​

کے لیے سرق اور استرق اور غلّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: سرق​

چوری کرنا معروف لفظ ہے۔ یعنی کسی دوسرے کی مملوکہ چیز جو محفوظ جگہ پر ہو اسے خفیہ طور پر لے لینا۔ ارشاد باری ہے:
وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ (سورۃ المائدۃ آیت 38)
اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت ان کا ایک ایک ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کرتوتوں کی سزا اور اللہ کی طرف سے عبرت کے طور پر ہے۔ اور اللہ زبردست ہے صاحب حکمت ہے۔​
اور استرق بمعنی چوری کرنے کی کوشش کنا ہے۔ اور استرق السّمع بمعنی کان لگا کر چوری چھپے باتیں سننا۔ ارشاد باری ہے:
اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ (سورۃ الحجر آیت 18)
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو ایک روشن انگارہ اسکے پیچھے لپکتا ہے۔
​

2: غلّ​

بمعنی کوئی چیز چوری چھپے پکڑ کر اپنے سامان میں رکھ لینا (منجد، م ق) یہ دراصل چوری اور خیانت کی ملی جلی شکل ہے۔ اس لیے اس لفظ کا ترجمہ چوری کرنا بھی کیا جاتا ہے اور خیانت کرنا بھی۔ مثلاً مشترکہ مال غنیمت سے کوئی چیز اٹھا کر لے لینا جو چوری کی شرائط پورا نہیں کرتی وغیرہ۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 161)
اور کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی پیغمبر خیانت کرے۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز اللہ کے روبرو لا حاضر کرنی ہو گی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور انکے ساتھ بے انصافی نہیں کی جائے گی۔
​

ماحصل:​

  • سرق: چوری کرنا۔ مفہوم عام ہے۔
  • غلّ: چوری اور خیانت کی ملی جلی شکل۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چوکیدار​

کے لیے حرص، رصد اور معقبات کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: حرس​

بمعنی حفاظت میں لینا، حراست میں لینا، پہرہ لگانا، ملزم کی نگرانی کرنا۔ ابن فارس کے نزدیک حرس میں دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) حفاظت، (2) زمانہ (م ل) یعنی کچھ مدت کے لیے نگرانی کرنا۔ اور حرس الملک بمعنی شاہی محافظ، باڈی گارڈ (منجد) قرآن میں ہے:
وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا (سورۃ جن آیت 8)
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا۔
​

2: رصد​

بمعنی تاک میں بیٹھنا، گھات لگا کر بیٹھنا۔ اور مرصاد بمعنی گھات میں بیٹھنے کی جگہ اور راصد بمعنی گھات میں بیٹھنے والا (جمع رصّد اور رصد) قرآن میں ہے:
اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا (سورۃ جن آیت 27)
ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے اور اسکو غیب کی باتیں بتا دے تو اسکے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔
​

3: مقعب​

عقّب بمعنی پیچھے آنا، پیچھے چلنا (منجد) اور معقّبات بمعنی پیچھے پیچھے چلنے والے، نگران، محافظ، پہرے دار، چوکیدار۔ ارشاد باری ہے:
لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ یَحۡفَظُوۡنَہٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ ؕ (سورۃ الرعد آیت 11)
اسکے آگے اور پیچھے اللہ کے چوکیدار ہیں جو اللہ کے حکم سے اسکی نگرانی کرتے ہیں۔
​

ماحصل:​

  • حرس: کسی کی معین مدت تک نگرانی اور حفاظت کرنے والا چوکیدار۔
  • رصد: گھات میں بیٹھا ہوا چوکیدار کہ کب شکار آئے اور ہاتھوں ہاتھ لے۔
  • معقّبات: ساتھ ساتھ رہ کر حفاظت کرنے اور تکالیف سے بچانے والے نگران یا چوکیدار۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھپنا (غائب ہونا)​

کے لیے قرآن کریم میں غاب (غیب)، افل، غرب، عزب، وقب، بطن، تواری (وری) خفی اور کنّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: غاب​

کا لفظ عام ہے۔ غیب اوجھل چیز کو کہتے ہیں۔ کوئی چیز خواہ کسی وجہ سے یا کسی وقت نظروں سے غائب ہو جائے (م ل) اس کے لیے اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ اس کی ضد حضر ہے۔ البتہ صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک ہر وہ چیز غائب ہے جو انسان کے علم اور حواس سے پوشیدہ ہو لیکن دل میں اس کا تصور جمایا جا سکتا ہو ( فل 16) قرآن میں ہے:
وَ مَا مِنۡ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ (سورۃ النمل آیت 75)
اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ایک کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔
​

2: افل​

اجرام فلکی (مثلاً سورج، چاند، ستارے) کے چھپنے یا ڈوبنے کے لیے اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے (مف) قرآن میں ہے:
فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکۡبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 78)
پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہنے لگے لوگو جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔
​

3: غرب​

یہ لفظ سورج کے چھپنے یا ڈوبنے کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے شرق نکلنے کے لیے اور طلع میں سورج سمیت سب سیارے شامل ہیں) (مف) قرآن میں ہے:
وَ تَرَی الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ کَہۡفِہِمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ اِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ ہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ ؕ (سورۃ الکہف آیت 17)
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ دھوپ انکے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس غار کے کشادہ حصے میں تھے۔
​

4: عزب​

دور نکل جانے کی وجہ سے آنکھوں سے اوجھل ہو جانا۔ اور عازب اس آدمی کو کہتے ہیں جو گھاس کی تلاش میں اہل و عیال سے دور نکل جائے (مف) اور عزّب بمعنی دیر تک غائب رہنا (منجد) قرآن میں ہے:
وَ مَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ (سورۃ یونس آیت 61)
اور تمہارے پروردگار سے کوئی ذرہ بھر بھی چیز پوشیدہ نہیں رہتی نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز ہے اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔
​

5: وقب​

بمعنی کسی گڑھے میں اتر کر غائب ہو جانا۔ سورج کے غروب ہونے کے لیے وقبت الشمس کا محاورہ ہے۔ اور وقب الظلام اندھیرا پھیل جانے کو کہتے ہیں (مف) الوقب بمعنی پتھر کا گڑھا جس میں پانی جمع ہو جائے۔ اور وقب گڑھے میں داخل ہونے کو کہتے ہیں (منجد) قرآن میں ہے:
وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق آیت 3)
اور اندھیری رات کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔
​

6: بطن​

بطن بمعنی پیٹ یا کسی چیز کا اندرونی حصہ ہے۔ اور اندرونی حصہ چونکہ مکمل طور پر پوشیدہ ہوتا ہے۔ لہذا بطن کا استعمال کسی چیز کے مکمل طور پر پوشیدہ ہونے پر ہوتا ہے۔ اور اس کی ضد ظھر ہے (مف) قرآن میں ہے:
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 33)
کہدو کہ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اسکو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اسکو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔
​

7: تواری​

وری بمعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا اور یتواری بمعنی کسی حقیقت سے شکست خوردہ ہو کر خود دوسرے لوگوں سے چھپتے پھرنا (مف) قرآن میں ہے:
یَتَوَارٰی مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ (سورۃ النحل آیت 59)
اور اس خبر بد کے سبب جو وہ سنتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے سوچتا ہے۔ کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔
​

8: حفی​

(ضد بدا اور علن) کسی بات یا کسی چیز کا دوسروں سے پوشیدہ ہونا۔ اس لفظ میں غاب سے بھی زیادہ عمومیت ہے (مف) یعنی ایسی چیز کا چھپے رہنا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ (سورۃ آل عمران آیت 5)
اللہ ایسا خبیر و بصیر ہے کہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔
​

9: کنّ​

کنّ بمعنی محفوظ مقام یا پہاڑ کے اندر کوئی کھوہ جہاں انسان پناہ لے سکے۔ اور اس کی جمع اکنان اور اکنّۃ ہے۔ اور کنّ کے معنی کسی چیز کا کسی محفوظ مقام میں پوشیدہ ہونا ہے جو عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو (مف، منجد) قرآن میں ہے:
کَاَنَّہُنَّ بَیۡضٌ مَّکۡنُوۡنٌ (سورۃ الصافات آیت 49)
گویا وہ گرد و غبار سے محفوظ انڈے ہیں۔
​
ماحصل:
  • غاب: کسی چیز کا حواس خمسہ کی دسترسی سے باہر ہونا۔
  • افل: اجرام فلکی کا چھپنا۔
  • غرب: سورج کا چھپنا۔
  • عزب: دور نکل جانے کی وجہ سے غائب ہونا۔
  • وقب: گڑھے میں اتر کر غائب ہونا۔
  • بطن: مکمل طور پر پوشیدہ ہونا۔
  • یتواری: کسی حقیقت سے فرار اختیار کرتے ہوئے خود دوسروں سے چھپتے پھرنا۔
  • خفی: یہ لفظ غاب سے بھی زیادہ عام ہے۔
  • کنّ: کسی محفوظ مقام میں چھپنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھپانا​

کے لیے کتم، اوری اور واری، اکنّ، اخفی، اسرّ اور خبء کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: کتم​

دانستہ طور کوئی بات دل میں چھپائے رکھنا (فق ل 237) کسی حق بات، ایمان اور شہادت کے چھپانے کے لیے عموماً یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ضد ابدا (بدو) ہے۔ اب ان کی مثالیں دیکھیے:
مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 140)
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے چھپائے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 159)
جو لوگ ہمارے حکموں کو اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں کسی غرض فاسد سے چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان کو لوگوں کے سمجھانے کے لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کر دیا ہے ایسوں پر اللہ اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ (سورۃ المومن آیت 28)
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔
​

2: واری​

وری بنیادی طور پر دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے (1) آگ سلگانا یا آگ نکالنا۔ کہتے ہیں وری الزند اس نے چقماق سے آگ نکالی اور (2) کسی حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ یہاں صرف دوسرا معنی زیر بحث ہے۔ قرآن میں ہے:
فَوَسۡوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبۡدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنۡہُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 20)
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ انکی شرمگاہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ان پر کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔
​
اور واری یواری کے معنی کسی حقیقت کو کسی اوٹ یا آڑ کے پیچھے کر کے دوسروں کی نظروں سے اوجھل کر دینا ہے۔ (مف) قرآن میں ہے:
فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبۡحَثُ فِی الۡاَرۡضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوۡءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِثۡلَ ہٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوۡءَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 31)
اب اللہ نے ایک کوابھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے کہنے لگا ہائے کمبختی مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے جیسا ہی ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ پھر وہ پشیمان گیا۔
​

3: اکنّ​

اس کے مادہ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) چھپانا اور (2) حفاظت (م ل) یا یوں کہیے کہ کسی چیز کو حفاظت کے لیے کسی محفوظ جگہ چھپانے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے (فق ل 238) خواہ کسی بات کو دل میں چھپایا جائے یا کسی چیز کو کسی اور جگہ چھپایا جائے۔ کنّ بمعنی پہاڑ میں کوئی کھوہ یا چھوٹی سی غار ہے جہاں پناہ مل سکے اور اس کی جمع اکنان ہے اور اکنّۃ ایسے پردے، آڑ یا اوٹ کو کہتے ہیں جس کی موجودگی میں کوئی چیز آگے نہ جا سکے یا اندر داخل نہ ہو سکے۔ جیسے فرمایا:
وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ (سورۃ الانعام آیت 25)
ور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ انکو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں بوجھ ڈال دیا ہے کہ سن نہ سکیں۔
​
اور اکنّ کا لفظ قرآن میں بالعموم معنوی طور استعمال ہوا ہے (ضد علن) جیسے فرمایا:
وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِہٖ مِنۡ خِطۡبَۃِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 235)
اگر تم اشارے کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا نکاح کی خواہش کو اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔
​
اور اسی محفوظ مقام کے لیے قرآن نے نفوس، نفس، صدور اور قلوب کے الفاظ عموماً استعمال ہوئے ہیں۔

4: اسرّ​

سرّ کے معنی راز کے بات اور اس کی جمع اسرار ہے۔ اور اسرّ کے معنی کسی راز کی بات کو دل میں چھپانا خواہ وہ کوئی حقیقت ہو یا نہ بلکہ محض از راہ مصلحت چھپائی جا رہی ہو۔ اس کی ضد جھر بھی ہے اور علن بھی۔ اور سارّ کے معنی کانا پھوسی کرنا یا ایک دوسرے سے راز کی باتیں کرنا ہے (منجد) قرآن میں یہ لفظ ظاہری اور معنوی دونوں طرح استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا:
قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَ اَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 19)
وہ بولا زہے قسمت یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسکو قیمتی سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ کو خوب معلوم تھا۔

وَ اِذۡ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعۡضِ اَزۡوَاجِہٖ حَدِیۡثًا ۚ (سورۃ تحریم آیت 3)
اور یاد کرو جب پیغمبر ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے ایک بھید کی بات کہی۔ ​

5: اخفی​

خفی کا استعمال عام ہے۔ کوئی بات یا خیال دل میں چھپایا جائے یا کوئی چیز کسی اور جگہ اس میں کوئی حقیقت ہو یا مصلحت ہو یا نہ ہو۔ ظاہری معنوی دونوں طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کی ضد بدا بھی، علن بھی، اور جلی (جلو) بھی۔ اور معنوی لحاظ سے سرّ سے زیادہ عمومیت ہے کیونکہ سرّ کسی بات کے چھپانے تک محدود ہے جبکہ خفی میں تخلیات اور وساوس بھی شامل ہیں۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ تَجۡہَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّہٗ یَعۡلَمُ السِّرَّ وَ اَخۡفٰی (سورۃ طہ آیت 7)
اور اگر تم پکار کر بات کہو تو کیا ہے وہ تو آہستہ کہی ہوئی اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔
​

6: خبء​

خباء بمعنی کسی چیز کو چھپا رکھنا۔ اور خابا بمعنی کسی سے چیستان اور پہیلی کہنا اور اختبا لہ خبیئا کسی سے کوئی چیز چھپا کر اس کے متعلق اس سے سوال کرنا (منجد) اور خبء بمعنی پوشیدہ اور مخفی خزانہ (مف) خبء الارض بمعنی زمین کی نباتات، قوت روئیدگی اور خبء السمآء بمعنی بارش اور اخرج خب السمآء خب الارض بمعنی آسمان کی بارش نے زمین پر روئیدگی پیدا کی، ظاہر کی اور پودوں کو اگایا (منجد) ارشاد باری ہے:
اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 25)
اور نہیں سمجھتے ہیں کہ اللہ کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کر دیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں۔
​

ماحصل:​

  • کتم: شہادت، ایمان اور حق بات دانستہ طور پر چھپانے کے لیے عموماً استعمال ہوتا ہے۔
  • واری: کسی حقیقت کو لوگوں سے چھپانے کے لیے استعمال مادی طور پر ہوتا ہے۔
  • اکن: کسی بات یا چیز کو کسی محفوظ جگہ چھپانے کے لیے۔
  • اسر: کسی راز کی بات کو از راہ مصلحت چھپانے کے لیے۔
  • اخفی: سرّ سے ابلغ، تخلیات اور وساوس تک کو چھپانے کے لیے آتا ہے۔
  • خب: پوشیدہ اور مخفی خزانے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھت​

کے لیے عرش، سقف اور بناء کے الفاظ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: عرش​

عرش یعرش بمعنی لکڑی کا مکان بنانا، مکان پر لکڑیاں مثلاً شہتیر، لکڑیوں کی چھت ڈالنا۔ اور انگور کی بیل ٹٹی پر چڑھانا وغیرہ ہیں۔ اور عرش کے بنیادی طور پر دو معنی ہیں (1) تخت شاہی (2) چھت میں استعمال ہونے والی لکڑیاں (منجد) پھر یہ لفظ کمرہ کی چھت، خیمہ، سائبان اور ہر وہ شے جو سایہ کرے، کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (م ا) قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ چھت اور اس کی لکڑیوں کے لیے مثال ملاحظہ فرمائیے:
اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا (سورۃ البقرۃ آیت 259)
یا اسی طرح اس شخص کو نہیں دیکھا جس کا ایک بستی پر جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی گذر ہوا
​
اور تخت کی مثال "تخت" میں دیکھیے۔

2: سقف​

چھت کا اندرونی حصہ جو کمرہ کے اندر سے نظر آتا ہے celling یا آسمان خانہ (م ا) جمع سقف قرآن میں ہے:
قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتَی اللّٰہُ بُنۡیَانَہُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیۡہِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ اَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ (سورۃ النحل آیت 26)
ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی مکاریاں کی تھیں تو اللہ کا حکم ان کی عمارت کی بنیادوں کی طرف سے آ پہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی۔ اور ایسی طرف سے ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔
​

3: بنآء​

بمعنی تعمیر، کوئی تعمیر شدہ عمارت اور عمارت کے ہر حصہ کو بھی بناء کہہ سکتے ہیں خواہ وہ بنیاد ہو یا دیوار یا چھت ہو یا پوری عمارت ہو۔ اور جب فرش کے مقابلہ میں بناء کا لفظ استعمال ہو تو اس کا معنی چھت ہی ہو گا کیونکہ بناء کا لفظ کسی تعمیر کی بلندی پر بھی دلالت کرتا ہے (م ل) قرآن میں ہے:
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً (سورۃ البقرۃ آیت 22)
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔
​

ماحصل:​

  • عرش: پوری چھت کو بھی اور اس کی لکڑیوں کو بھی کہتے ہیں۔
  • سقف: چھت کا اندرونی حصہ۔
  • بنآء: فرش کے مقابلہ پر چھت کے معنوں میں مخصوص ہو جاتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھوڑنا​

کے لیے ترک، ھجر، عطل، خلّی (خلو)، یذر (وذر)، دع، اور غادر (غدر) کے الفاظ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: ترک​

یہ لفظ عام ہے۔ یعنی کسی چیز کو چھوڑنا، ارادتاً ہو یا بلا ارادہ، اختیاری ہو یا اضطراری (مف) ہر مقام پر اس کا استعمال ہو سکتا ہے۔ قرآن میں ہے:
کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الۡوَصِیَّۃُ لِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 180)
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیّت کر جائے اللہ سے ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے۔
​
یہ صورت اضطراری ہوئی۔ اب اختیاری یا ارادتاً کی مثال دیکھیے:
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ (سورۃ یوسف آیت 17)
کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہو گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔
​

2: ھجر​

ایک انسان کا دوسرے انسان یا انسانوں سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے آتا ہے (م ل) ارشاد باری ہے:
وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا (سورۃ مزمل آیت 10)
اور جو جو دل آزار باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور خوبصورتی سے ان سے کنارہ کش رہو۔
​
پھر لوگوں سے تعلقات ختم کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس علاقہ کو ہی ترک کر دیا جائے اس صورت میں ہجرت کے معنی ترک وطن ہوں گے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 218)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے لئے وطن چھوڑ گئے اور کفار سے جنگ کرتے رہے وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا ہے رحمت کرنے والا ہے۔
​

3: عطلّ​

کسی چیز کو بے کار چھوڑ دینا۔ کسی مزدور کو بے کار کر دینا (مف) تعطیل بمعنی کام سے چھٹی کا وقت ۔ اور معطّل ایسے ملازم کو کہتے ہیں جو ابھی ملازمت ہو مگر اسے کام سے روک دیا گیا ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر آیت 4)
اور جب بیانے والی اونٹنیاں یونہی چھوڑ دی جائیں گی۔
​
اور بئر معطّلۃ (سورۃ الحج آیت 45) ایسے کنویں کو کہتے ہیں جو برباد، ویران یا غیر آباد ہو۔

4: خلّی​

(خلو) خلا بمعنی خالی ہونا، زبان و مکان دونوں صورتوں میں مستعمل ہے۔ خلوت بمعنی تنہائی اور خلا الی بعض بمعنی کسی سے تنہائی میں ملاقات کرنا ہے۔ اور خلّی بمعنی کسی کو تنہا چھوڑ کر خود الگ ہو جنا ہے۔ یعنی کسی کو خالی جگہ میں چھوڑ دینا۔ آزادی دینا اور گرفت نہ کرنا کے معنی میں آتا ہے (مف) خلّی سبیلا محاروہ ہے جو کسی پر گرفت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ (سورۃ التوبہ آیت 5)
پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو۔
​

5: یذر​

(وذر) افعال ناقصہ سے ہے۔ اس کا صرف مضارع اور امر استعمال ہوتا ہے۔ ماضی استعمال نہیں ہوتا۔ اس کا استعمال دو صورتوں میں ہوتا ہے:
1: کسی چیز کو حقیر سمجھ کر چھوڑ دینا (م ق) جیسے ارشاد باری ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا (سورۃ الانعام آیت 70)
اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے انکو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو۔
​
2: کسی کام کے کرنے پر مخاطب کو کسی اعتراض یا مداخلت کی اجازت نہ دینا۔ انگریز میں اس کا متبادل لفظ LET ہے۔ اور ذرنی کے معنی LET ME DO THIS ہو گا۔ ارشاد باری ہے:
ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا (سورۃ مدثر آیت 11)
مجھے اس شخص سے سمجھ لینے دو جسکو میں نے اکیلا پیدا کیا۔
​
کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جانوں اور وہ۔ آپ اس معاملہ میں نہ آئیں۔

6: دع​

یہ بھی فعل ناقص ہے جس کا صرف مضارع اور امر مستعمل ہے۔ ماضی نہیں آتا۔ اور اس کے معنی ہیں کسی چیز کو پر سکون طریقے سے چھوڑ دینا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا (سورۃ الاحزاب آیت 48)
اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ انکے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا۔ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔
​
اور ودّع کے معنی مسافر الوداع کہنا یا ہنسی خوشی اور عزت و وقار سے رخصت کرنا ہے (مف) جس میں خود الگ ہونے اور اسے چھوڑ دینے کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی (سورۃ ضحی آیت 3)
اے نبی ﷺ تمہارے پروردگار نے نہ تو تمکو چھوڑ دیا اور نہ تم سے ناراض ہی ہوا۔
​

7: غادر​

غدر کا لفظ عہد شکنی اور بے وفائی کے لیے مستعمل ہے۔ اور غدار بمعنی بے وفا اور عہد شکن (مف) ضد وفی اور غادر بمعنی کسی چیز میں خل واقع ہونے کی بنا پر اسے چھوڑ دینا یا باقی چھوڑنا (مف) قرآن میں ہے:
وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا (سورۃ الکہف آیت 47)
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان لوگوں کو ہم جمع کر لیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
​
یعنی کسی شخص کے اعمال خواہ کیسے ہوں اسے باقی نہیں چھوڑا جائے گا۔ دوسرے مقام پر ہے:
مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا (سورۃ الکہف آیت 49)
ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو کوئی بات بھی نہیں مگر اسے لکھ رکھا ہے۔​
ماحصل:
  • ترک: کا استعمال عام ہے۔
  • ھجر: تعلقات یا وطن چھوڑنا۔
  • عطّل: کسی کو بے کار چھوڑنا۔
  • خلا سبیلا: کسی کا راستہ چھوڑ دینا، گرفت نہ کرنا۔
  • یذر: کسی چیز کو حقیر سمجھ کر چھوڑنا۔
  • دع: کسی کو پر سکون طریقے سے چھوڑنا۔
  • غادر: کسی کو کسی خرابی کی بنا پر چھوڑنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھڑانا​

کے لیے قرآن میں فکّ، انقذ اور استنقذ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: فکّ​

بمعنی کسی چیز کو کسی کے قبضہ سے چھڑانا یا آزاد کرانا ہے۔ فک الرّھن کے معنی کسی گروی چیز کو چھڑانا۔ اور فک الاسیر کے معنی کسی جنگی قیدی کو آزاد کرانا ہے (منجد) قرآن میں ے:
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ فَکُّ رَقَبَۃٍ (سورۃ البلد آیت 12، 13)
اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا؟ کسی کی گردن کا چھڑانا۔​

2: انقذ​

بمعنی کسی شخص کو کسی مصیبت یا سزا سے چھڑانا، بچانا یا نجات دلانا ہے (مف) ارشاد باری ہے:
اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ (سورۃ الزمر آیت 19)
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہو چکا ہو۔ تو کیا تم اسے جو دوزخ میں پڑا ہو نکال سکتے ہو۔
​

3: استنفذ​

کسی چیز کو پوری کوشش اور خواہش سے چھڑانا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ یَّسۡلُبۡہُمُ الذُّبَابُ شَیۡئًا لَّا یَسۡتَنۡقِذُوۡہُ مِنۡہُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الۡمَطۡلُوۡبُ (سورۃ حج آیت 73)
اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب یعنی عابد اور معبود دونوں گئے گزرے ہیں۔
​

ماحصل:​

کسی کے قبضہ سے چھڑانے کے لیے فکّ اور کسی کو مصیبت سے چھڑانے یا بچانے کے لیے انقذ آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھونا​

کے لیے قرآن میں مسّ، لمس اور طمث کے الفاظ آئے ہیں۔
یہ تینوں الفاظ کنایۃ مرد اور عورت کی مجامعت کے لیے قرآن میں استعمال ہوئے ہیں مثلاً دیکھیے:

1: مسّ​

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ (سورۃ آل عمران آیت 47)
مریم نے کہا کہ پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
​

2: لمس​

اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا (سورۃ المائدۃ آیت 6)
یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو پھر تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو۔
​

3: طمث​

یہ لفظ پہلی دفعہ مجامعت کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ (سورۃ الرحمن آیت 56)
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جنکو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔
​
مگر لغوی اعتبار سے تینوں الگ الگ ہیں جو درج ذیل ہیں۔

1: مسّ​

جسم کے کسی حصے کے ساتھ کسی چیز کا لگنا (مف) یہ لفظ اس معنی میں بھی قرآن میں آیا ہے۔ مثلاً:
وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 83)
اور ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
​
اس طرح دوسرے مقام پر ہے:
وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً (سورۃ البقرۃ آیت 80)
اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ​

2: لمس​

ہاتھ یا انگلیوں سے کسی چیز کو چھونا یا ٹٹولنا۔ خواہ مطلوبہ چیز ملے یا نہ ملے (مف) یہ لفظ ان معنی میں بھی قرآن میں مستعمل ہے۔ مثلاً:
وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا (سورۃ جن آیت 8)
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا۔
​

3: طمث​

طمث بمعنی حیض کا خون (ف ل 115) اور طمث یطمث کے معنی عورت کا حیض والی ہونا بھی ہے (منجد) اور مرد کا عورت کے پردہ بکارت کو زائل کرنا بھی (مف) گویا لفظ مجامعت کے معنوں میں پہلی بار مجامعت سے مخصوص ہے اور پہلے دو معنوں میں قرآن میں استعمال نہیں ہوا۔ نیز دیکھیے "مجامعت کرنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

چھیننا یا چھین لینا​

کے لیے سلب، غصب، نیل اور خطف کے الفاظ آئے ہیں۔

1: سلب​

کسی چیز کو کسی دوسرے سے زبردستی لے لینا (منجد) دیکھتے دیکھتے کسی چیز کو اڑا لینا یا اٹھا لینا خواہ لینے والا کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ یَّسۡلُبۡہُمُ الذُّبَابُ شَیۡئًا لَّا یَسۡتَنۡقِذُوۡہُ مِنۡہُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الۡمَطۡلُوۡبُ (سورۃ حج آیت 73)
اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب یعنی عابد اور معبود دونوں گئے گزرے ہیں۔
​

2: غصب​

کوئی چیز ظلم، زیادتی، زبردستی یا مکر و فریب سے چھین لینا (منجد) لیکن مکر و فریب سے کسی چیز کو ہتھیا لینے یا چھین لینے کے لیے الگ لفظ غبن بھی ہے۔ (م ق) لہذا غصب کے یہی معنی زیادہ صحیح ہیں جو امام راغب نے بیان کیے ہیں۔ یعنی کسی طاقتور کا کسی کمزور کی چیز پر ظلم اور زیادتی سے زبردستی قبضہ جما لینا (مف) قرآن میں ہے:
وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا (سورۃ الکہف آیت 79)
کہ جو وہ کشتی تھی غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گزارہ کرتے تھے۔ اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔
​

3: نال​

نیل بمعنی ہر وہ چیز جسے انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ سکے اور وہ اس کو مرغوب بھی ہو۔ یا جو چیز اس کی دسترس میں ہو۔ (مف) یعنی کسی چیز کا ہاتھ لگ جانا یا مل جانا۔ قرآن میں ہے:
وَ رَدَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِغَیۡظِہِمۡ لَمۡ یَنَالُوۡا خَیۡرًا ؕ وَ کَفَی اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الۡقِتَالَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیۡزًا (سورۃ الاحزاب آیت 25)
اور جو کافر تھے انکو اللہ نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں بھرے ہوئے تھے کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور اللہ مومنوں کیلئے لڑائی میں کافی ہو گیا اور اللہ زور آور ہے غالب ہے۔​
پھر اس لفظ کے معانی میں وسعت پیدا ہوئی اور یہ لفظ مراد کو پہنچنے اور محض پہنچنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ جیسے ارشاد باری ہے:
لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت124)
میرا قول و قرار ظالموں کے لئے نہیں ہوا کرتا۔
​
اور دوسری طرف یہ وسعت پیدا ہوئی کہ یہ لفظ چھیننے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا جیسے قرآن میں ہے:
وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا (سورۃ التوبہ آیت 120)
اور وہ دشمن سے کوئی چیز نہیں چھینتے۔
​

4: خطف​

تیز رفتاری یا تیزی سے کوئی چیز اڑا کر چلتے بننا (مف، فل) جھپٹ لینا، اچک لینا، قرآن میں ہے:
یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 20)
قریب ہے کہ بجلی کی چمک انکی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے جائے
​

ماحصل:​

  • سلب: کسی چیز کو دوسرے سے زبردستی لے لینا، عام۔
  • غصب: کسی طاقتور کا کمزور کی چیز پر زبردستی قبضہ جما لینا۔
  • نیل: کسی مرغوب چیز کا چھین لینا جس پر دسترس بھی ہو۔
  • خطف: تیز رفتاری اور تیزی سے کوئی چیز اڑا لینا۔ اچک لینا۔
چیخنا کے لیے دیکھیے "چلّانا" اور "آواز"۔
چیرنا کے لیے قدّ اور مخر، فطّر کے الفاظ آئے ہیں۔ تفصیل "پھاڑنا" میں دیکھیے۔
 
Top