چھوڑنا
کے لیے
ترک، ھجر، عطل، خلّی (خلو)، یذر (وذر)، دع، اور
غادر (غدر) کے الفاظ قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔
1: ترک
یہ لفظ عام ہے۔ یعنی کسی چیز کو چھوڑنا، ارادتاً ہو یا بلا ارادہ، اختیاری ہو یا اضطراری (مف) ہر مقام پر اس کا استعمال ہو سکتا ہے۔ قرآن میں ہے:
کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الۡوَصِیَّۃُ لِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 180)
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیّت کر جائے اللہ سے ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے۔
یہ صورت اضطراری ہوئی۔ اب اختیاری یا ارادتاً کی مثال دیکھیے:
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ (سورۃ یوسف آیت 17)
کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہو گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔
2: ھجر
ایک انسان کا دوسرے انسان یا انسانوں سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے آتا ہے (م ل) ارشاد باری ہے:
وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا (سورۃ مزمل آیت 10)
اور جو جو دل آزار باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور خوبصورتی سے ان سے کنارہ کش رہو۔
پھر لوگوں سے تعلقات ختم کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس علاقہ کو ہی ترک کر دیا جائے اس صورت میں ہجرت کے معنی ترک وطن ہوں گے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 218)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے لئے وطن چھوڑ گئے اور کفار سے جنگ کرتے رہے وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا ہے رحمت کرنے والا ہے۔
3: عطلّ
کسی چیز کو بے کار چھوڑ دینا۔ کسی مزدور کو بے کار کر دینا (مف) تعطیل بمعنی کام سے چھٹی کا وقت ۔ اور معطّل ایسے ملازم کو کہتے ہیں جو ابھی ملازمت ہو مگر اسے کام سے روک دیا گیا ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر آیت 4)
اور جب بیانے والی اونٹنیاں یونہی چھوڑ دی جائیں گی۔
اور بئر معطّلۃ (سورۃ الحج آیت 45) ایسے کنویں کو کہتے ہیں جو برباد، ویران یا غیر آباد ہو۔
4: خلّی
(خلو) خلا بمعنی خالی ہونا، زبان و مکان دونوں صورتوں میں مستعمل ہے۔ خلوت بمعنی تنہائی اور خلا الی بعض بمعنی کسی سے تنہائی میں ملاقات کرنا ہے۔ اور خلّی بمعنی کسی کو تنہا چھوڑ کر خود الگ ہو جنا ہے۔ یعنی کسی کو خالی جگہ میں چھوڑ دینا۔ آزادی دینا اور گرفت نہ کرنا کے معنی میں آتا ہے (مف) خلّی سبیلا محاروہ ہے جو کسی پر گرفت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ (سورۃ التوبہ آیت 5)
پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو۔
5: یذر
(وذر) افعال ناقصہ سے ہے۔ اس کا صرف مضارع اور امر استعمال ہوتا ہے۔ ماضی استعمال نہیں ہوتا۔ اس کا استعمال دو صورتوں میں ہوتا ہے:
1: کسی چیز کو حقیر سمجھ کر چھوڑ دینا (م ق) جیسے ارشاد باری ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا (سورۃ الانعام آیت 70)
اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے انکو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو۔
2: کسی کام کے کرنے پر مخاطب کو کسی اعتراض یا مداخلت کی اجازت نہ دینا۔ انگریز میں اس کا متبادل لفظ LET ہے۔ اور ذرنی کے معنی LET ME DO THIS ہو گا۔ ارشاد باری ہے:
ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا (سورۃ مدثر آیت 11)
مجھے اس شخص سے سمجھ لینے دو جسکو میں نے اکیلا پیدا کیا۔
کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جانوں اور وہ۔ آپ اس معاملہ میں نہ آئیں۔
6: دع
یہ بھی فعل ناقص ہے جس کا صرف مضارع اور امر مستعمل ہے۔ ماضی نہیں آتا۔ اور اس کے معنی ہیں کسی چیز کو پر سکون طریقے سے چھوڑ دینا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا (سورۃ الاحزاب آیت 48)
اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ انکے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا۔ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔
اور ودّع کے معنی مسافر الوداع کہنا یا ہنسی خوشی اور عزت و وقار سے رخصت کرنا ہے (مف) جس میں خود الگ ہونے اور اسے چھوڑ دینے کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی (سورۃ ضحی آیت 3)
اے نبی ﷺ تمہارے پروردگار نے نہ تو تمکو چھوڑ دیا اور نہ تم سے ناراض ہی ہوا۔
7: غادر
غدر کا لفظ عہد شکنی اور بے وفائی کے لیے مستعمل ہے۔ اور غدار بمعنی بے وفا اور عہد شکن (مف) ضد وفی اور غادر بمعنی کسی چیز میں خل واقع ہونے کی بنا پر اسے چھوڑ دینا یا باقی چھوڑنا (مف) قرآن میں ہے:
وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا (سورۃ الکہف آیت 47)
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان لوگوں کو ہم جمع کر لیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
یعنی کسی شخص کے اعمال خواہ کیسے ہوں اسے باقی نہیں چھوڑا جائے گا۔ دوسرے مقام پر ہے:
مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا (سورۃ الکہف آیت 49)
ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو کوئی بات بھی نہیں مگر اسے لکھ رکھا ہے۔
ماحصل:
- ترک: کا استعمال عام ہے۔
- ھجر: تعلقات یا وطن چھوڑنا۔
- عطّل: کسی کو بے کار چھوڑنا۔
- خلا سبیلا: کسی کا راستہ چھوڑ دینا، گرفت نہ کرنا۔
- یذر: کسی چیز کو حقیر سمجھ کر چھوڑنا۔
- دع: کسی کو پر سکون طریقے سے چھوڑنا۔
- غادر: کسی کو کسی خرابی کی بنا پر چھوڑنا۔