مترادفات القرآن (ح)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حاجت​

کے لیے حاجت (حوج)، مارب (ارب) اور وطر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حاجۃ​

الحوج بمعنی احتیاج اور فقر و فاقہ (منجد) ایسی ضرورت یا خواہش جس کے پورا نہ ہونے پر دل میں تنگی اور گھٹن محسوس ہو۔ قرآن میں ہے:
مَا کَانَ یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفۡسِ یَعۡقُوۡبَ قَضٰہَا ؕ (سورۃ یوسف آیت 68)
وہ تدبیر اللہ کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی
​
اور دوسرے مقام پر ہے:
وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ الحشر آیت 9)
اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مہاجرین سے پہلے اس گھر یعنی مدینے میں مقیم ہیں اور ایمان میں مضبوط ہیں اور جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ انکو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ خود بھی فاقے سے ہوںاور جو شخص خود غرضی سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ بامراد ہیں۔
​
یعنی اتنا کم ملنے پر بھی صابر و شاکر ہیں اور دل میں کچھ تنگی اور گھٹن محسوس نہیں کرتے۔

2: مارب​

(ارب) ارب اور ارب (الف زیر) ایسی ضرورت کو کہتے ہیں جس کے بغیر چارہ نہ ہو اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو کرنی پڑے۔ قرآن میں ہے:
غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (سورۃ النور آیت 31)
یعنی ایسے خادم مرد جنہیں ابھی نکاح کی ضرورت نہ ہو۔
​
اور مارب، ماربۃ کی جمع ہے جس کے معنی کسی حاجت یا ضرورت کا تکمیل پذیر ہونا ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی (سورۃ طہ آیت 18)
انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئ فائدے ہیں۔
​

3: وطر​

بمعنی (1) حاجت، مطلوب (منجد) (2) ہمبستری، شہوت (م ق) اور اس کی جمع اوطار ہے۔ قرآن میں یہ صرف دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے:
فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنۡہَا وَطَرًا (سورۃ الاحزاب آیت 37)
پھر جب زید نے اس سے تعلق ختم کر لیا یعنی اسکو طلاق دے دی
​

ماحصل:​

  • حاجۃ: ایسی ضرورت جس کے پورا نہ ہونے پر دل میں تنگی محسوس ہو۔
  • مارب: ایسی حاجتیں جو تکمیل پذیر ہو جائیں۔
  • وطر: حاجت جماع کے لیے یہ لفظ قرآن میں استعمال ہوا ہے لیکن اس کے معنی میں وسعت ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حاضر ہونا​

کے لیے حضر، شھد اور عتد کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حضر​

غاب کی ضد ہے۔ حضر بمعنی کسی چیز کا آ موجود ہونا (مف) سامنے آ جانا۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ (سورۃ الاحقاف آیت 29)
اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے جنوں میں سے کئ شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اسکو سننے حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب پڑھنا ختم ہوا تو وہ اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ انکو خبردار کریں۔
​

2: شھد​

یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر موضوع سے متعلق مندرجہ ذیل دو معنی ہیں۔
1: حاضر ہونا۔ جیسے:
اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ ہُمۡ شٰہِدُوۡنَ (سورۃ الصافات آیت 150)
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے۔
​
2: حاضر ہونا اور کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا۔ پھر اسے قاضی کے سامنے بیان کرنا (فق ل 30) یہ بمعنی شہادت ہے۔ جیسے:
وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا (سورۃ البقرۃ آیت 282)
گواہ گواہی دینے سے انکار نہ کریں جب انہیں طلب کیا جائے۔
​

3: عتید​

عتد کے معنی تیار ہونا اور اعتد بمعنی تیار کرنا۔ اور عتید بمعنی جو چیز پہلے سے ہی تیار اور موجود ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ (سورۃ ق آیت 23)
اور اس کا ہم نشیں فرشتہ کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس تیار ہے۔
​
نیز دیکھیے "تیار ہونا"۔

ماحصل: ​

  • حضر: بمعنی آ موجود ہونا۔
  • شھد: موجود ہونا، دیکھنا اور بیان کرنا۔
  • عتد: کسی سامان کا پہلے ہی سے تیار، موجود یا حاضر ہونا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حال – حالت​

کے لیے بال (بول)، خطب، داب اور طور کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

1: بال​

بمعنی موجود حال یا حالت۔ یہ لفظ عام ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی (سورۃ طہ آیت 51، 52)
کہا تو پہلی قوموں کا کیا حال ہوا؟ فرمایا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔
​

2: خطب​

عمل، حالت معاملہ خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، عام طور پر بڑے نا پسندیدہ معاملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے (منجد) قرآن میں ہے:
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ (سورۃ الذریات آیت 31، 32)
ابراہیم نے کہا کہ فرشتو! اب تمہارا اصل کام کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
​

3: داب​

بمعنی مسلسل چلتے رہنا، عادت مستمرہ، عادات و اطوار، چال ڈھال (م ل) قرآن میں ہے:
کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ (سورۃ آل عمران آیت 11)
ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیا تھا اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔
​

3: طور​

بمعنی اندازہ، حد، ہئیت، حال، باری اور الناس اطوار بمعنی آدمی کئی قسم کے (منجد) اور تطوّر بمعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا۔ گویا طور ایسی حالت یا ہئیت کو کہتے ہیں جو اندازہ کے مطابق کچھ مدت بعد تبدیلی چاہتی ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ قَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا (سورۃ نوح آیت 14)
حالانکہ اس نے تمکو طرح طرح کی حالتوں میں پیدا کیا ہے۔
​

ماحصل:​

  • بال: سوال کرتے وقت موجودہ حالت کے لیے۔
  • خطب: کسی نا پسندیدہ معاملہ کے بارے میں پوچھنے کے لیے۔
  • داب: عادات اور چال چلن کے لیے۔
  • طور: ایک ہئیت کے بعد دوسری ہئیت کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حاکم​

کے لیے حاکم، اولی الامر، اور قوّام کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: حاکم​

حکم بمعنی المنع عن الظلم (م ل) یعنی ایسا فیصلہ جس میں کسی کو دوسرے پر ظلم و زیادتی سے روکا جائے۔ اور حکّم بمعنی کسی کو منصف یا حاکم بنانا۔ اور تحاکم بمعنی کسی حاکم کے پاس اپنا مقدمہ فیصلہ کے لیے لے جانا (منجد) گویا حاکم وہ شخص ہے جو لوگوں کے مقدمہ کا فیصلہ کرے اور ظالم کو ظلم سے روکے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا (سورۃ النساء آیت 58)
مسلمانو اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کر دیا کرو۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بیشک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے۔
​

2: اولی الامر​

ولیّ الامر کی جمع ہے۔ اور ولّی بمعنی کسی کو کسی علاقہ کا حاکم، والی یا بادشاہ بنانا۔ گویا لغوی لحاظ سے اس لفظ کا اطلاق کسی ملک کی حکومت کی انتظامیہ پر ہوتا ہے۔ تاہم ا سکا اطلاق عدلیہ کے حاکموں پر بھی ہو سکتا ہے۔ اور اولی الامر بمعنی ارباب بست و کشاد۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا (سورۃ النساء آیت 59)
مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔ پھر اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔
​

3: قوّام​

قام بمعنی کھڑا ہونا۔ اور اقام بمعنی ٹیڑھے کو سیدھا اور ایستادہ کرنا۔ اور قوّم بمعنی کسی چیز کی تعیین و تعدیل کرنا (منجد)۔ اور قوّام یا قیّم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگرانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو (ف ق) ارشاد باری ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ (سورۃ النساء آیت 34)
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں
​

ماحصل: ​

  • حاکم: بمعنی منصف، فیصلہ کرنے اور ظلم سے روکنے والا۔
  • اولی الامر: ارباب حکومت، حکومت کے کارندے جن کا حکم چلتا ہو۔
  • قوّام: ہر وہ شخص جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کی تعدیل کا ذمہ دار ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حد سے بڑھنا – زیادتی کرنا​

کے لیے جاوز (جوز) اسرف، بغی، عدی اور اعتدی (عدو)، فطر، سلق، غلا (غلو) اور شطط کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: جاوز​

کسی خاص مقام یا مجوزہ مقام سے آگے نکل جانا (منجد) راستہ طے کرتے کرتے پار چلے جانا اور جوز الطریق راستہ کے وسط کو کہتے ہیں (منجد) قرآن میں ہے:
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا (سورۃ الکہف آیت 62)
جب آگے چلے تو موسٰی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارا کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہو گئ ہے۔
​

2: اسرف​

کسی کام میں حد اعتدال سے آگے نکل جانا۔ کام کرتے وقت مقررہ حدود کی پرواہ نہ کرنا، سرف فی الامر کے معنی کسی کام میں سستی یا غفلت کرنا کے ہیں۔ اور اسرف کے معنی زیادتی کرنے کے (م ق) ارشاد باری ہے:
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 31)
اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے آپکو مزین کیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور بے جا نہ اڑاؤ کہ اللہ بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
​

3: بغی​

کسی چیز کی طلب اور خواہش کے حصول میں مناسب حد سے آگے نکل جانا (مف)، اپنا حق انصاف سے کچھ زیادہ وصول کرنے کی کوشش کرنا۔ اور اسی تناسب سے دوسرے کا حق دبانا۔ قرآن میں ہے:
وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡخُلَطَآءِ لَیَبۡغِیۡ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ (سورۃ ص آیت 24)
اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔
​

4: عدی، اعتدی​

راہ حق سے تجاوز کرنا، اللہ کے احکام و حدود کا خیال نہ رکھنا (مف، منجد) اور عدوان بمعنی ظلم و زیادتی میں پہل کرنا۔ ارشاد باری ہے:
لۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 229)
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے۔
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 173)
اس نے تو تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ہے۔ ہاں جو مجبور ہو جائے بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور حد ضرورت سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے۔
​
یہاں باغ سے مراد یہ ہے کہ وہ فی الواقعہ اتنا ناچار نہ ہو کہ حرام کھانے پر مائل ہو جائے۔ مگر وہ یہ سمجھ لے کہ اتنا ناچار ہے۔ اور عاد سے یہ مراد ہے کہ اگر تھوڑا سا حرام کھانے پر گزر ہو سکتی ہے تو زیادہ کھانا شروع کر دے۔

5: فرط​

پیش دستی، آگے نکلنا، جلدی کرنا، پہل کرنا۔ فرط منہ القول بلا سوچے سمجھے بات کہہ دینا (منجد) گویا یہ لفظ بلا سوچے سمجھے یا جلد بازی میں زیادتی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور فرّط کمی اور کوتاہی کرنے کے لیے (لغت اضداد) ارشاد باری ہے:
وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا (سورۃ الکہف آیت 28)
اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا۔
​

6: سلق​

دست درازی یا زبان درازی کرنا (مف) چڑھ چڑھ کے آنا (م ق) ہاتھ یا زبان سے دوسرے پر زیادتی کرنا۔ قرآن میں ہے:
فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ (سورۃ الاحزاب آیت 19)
پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں باتیں کریں اور مال میں بخل کریں
​

7: غلا​

بمعنی مہنگا ہونا، غلا السّعر بھاؤ چڑھ جانا۔ غلا السھم تیر کو انتہائی دور تک پھینکنا۔ غلا فی الامر مبالغہ کرنا، حد سے بڑھنا، فرط عقیدت میں کسی کی قدو منزلت میں حد سے آگے نکل جانا (مف) یعنی انتہا پسندی سے کام لینا۔ ارشاد باری ہے:
اَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ (سورۃ النساء آیت 171)
اے اہل کتاب اپنے دین کی بات میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح یعنی مریم کے بیٹے عیسٰی بس اللہ کے رسول ہی تھے اور اس کا خاص حکم تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے
​

8: شططا​

مبالغہ میں زیادتی کرنا، حد سے بہت گے نکل جانا (منجد)، جھوٹ بولنا اور اس میں غلو کرنا (م ق) قرآن میں ہے:
وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا (سورۃ الکہف آیت 14)
اور انکے دلوں کو مربوط یعنی مضبوط کر دیا جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اسکے سوا کسی کو معبود سمجھ کر نہ پکاریں گے اگر ایسا کیا تو اس وقت ہم نے بے عقلی کی بات کی۔
​

ماحصل:​

  • جاوز: مجوزہ مقام سے آگے نکل جانا۔
  • اسرف: حد اعتدال سے آگے نکل جانا۔
  • بغی: کسی خواہش کی تکمیل کے لیے تجاوز کر جانا۔
  • عدی اور اعتدی: راہ حق میں احکام الہی سے تجاوز۔
  • فرط: بلا سوچے سمجھے یا جلد بازی میں حد سے بڑھنا۔
  • سلق: ہاتھ اور زبان سے دوسرے پر زیادتی کرنا۔
  • غلا: فرط عقیدت سے کسی کی قدر و منزلت میں حد سے بڑھنا۔ انتہا پسندی سے کام لینا۔
  • شطط: جھوٹ میں مبالغہ جسے عقل تسلیم نہ کرے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حد سے کم کرنا​

کے لیے فرّط اور قصر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: فرّط​

فرط کا لفظ لغت اضداد سے ہے۔ فرط کے معنی جیسا کہ ہم پہلے وضاحت کر چکے ہیں بلا سوچے سمجھے یا جلد بازی میں حد سے آگے نکل جانے یا زیادتی کرنے کے ہیں۔ اور فرّط کے معنی بلا سوچے سمجھے یا جلد بازی میں حد سے پیچھے رہ جانے یا کمی کرنے یا کوتاہی کرنے کے ہیں۔ قرآن میں ہے:
اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ (سورۃ الزمر آیت 56)
ایسا نہ ہو کہ اس وقت کوئی شخص کہنے لگے کہ ہائے اس کوتاہی پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کا حق ماننے میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا۔
​

2: قصر​

مقررہ حد میں سے کچھ کم کر دینا یا کم رہ جانا۔ قصر السھم بمعنی تیر کا نشانہ تک نہ پہنچنا۔ قصر الصلوۃ نماز پوری نہ پڑھنا بلکہ اس میں کچھ کم کر دینا۔ قصّر الشعر بمعنی بالوں کا کچھ حصہ کتروا دینا اور قصر بمعنی چھوٹا (منجد) اسی سے قصور، تقصیر اور قاصر کے الفاظ ہماری زبان میں مشہور ہیں۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ اِنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمۡ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا (سورۃ النساء آیت 101)
اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کر کے پڑھو۔ بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ستائیں گے۔ بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
​

ماحصل: ​

فرّط کا لفظ کسی کام کو صحیح طور پر سر انجام نہ دینے اور کوتاہی کرنے کے لیے آتا ہے جبکہ قصر کسی چیز کی مقدار میں کمی کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حرام​

کے لیے حرام اور سحت کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حرام​

ایسی باتیں یا اشیا جن سے شریعت نے سختی سے منع کر دیا ہو۔ صاحب مقائیس اللغۃ کے الفاظ میں اس کے معنی "المنع الشدید" ہے۔ یہ لفظ عام ہے۔ مثلاً والدین کی نافرمانی بھی حرام ہے۔ درندوں کا گوشت بھی حرام اور سود بھی حرام ہے اور مشرک پر جنت بھی حرام ہے۔ اس کی ضد حلال ہے یعنی وہ چیزیں جن کے استعمال کی عام اجازت ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا (سورۃ البقرۃ آیت 275)
حالانکہ سودے کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام
​

2: سحت​

سحت کا لفظ کمائی اور مال سے مختص ہے۔ اور اس کا معنی ایسا رزق جو باعث ننگ و عار ہو۔ جیسے خنزیر یا کتے کی قیمت وغیرہ (فل 12) نا جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت، حرام کی کمائی، رشوت وغیرہ۔ قرآن میں ہے:
سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ اَکّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ؕ فَاِنۡ جَآءُوۡکَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ فَلَنۡ یَّضُرُّوۡکَ شَیۡئًا ؕ وَ اِنۡ حَکَمۡتَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 42)
یہ جھوٹی باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرنے والے۔ اور رشوت کا حرام مال کھانے والے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا روگردانی کر لینا۔ اور اگر ان سے روگردانی کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حصہ​

کے لیے جزء، زلف، حظّ، خلاق، نصیب، کفل اور بعض کے الفاظ آئے ہیں۔

1: جزء​

کسی چیز کا حصہ یا ٹکڑا (جمع اجزاء) بمعنی کسی چیز کے وہ حصے یا ٹکڑے جن سے مل کر وہ چیز مکمل ہوتی یا ترکیب پاتی ہے (مف) قرآن میں ہے:
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ وَ اعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ (سورۃ البقرۃ آیت 260)
اور جب ابراہیم نے اللہ سے عرض کیا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ اللہ نے فرمایا کیا تم نے اس بات کا یقین نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کر لے فرمایا کہ چار پرندے لے لو پھر انکو اپنے سے ہلا لو اور انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دو پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھ دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب ہے صاحب حکمت ہے۔​

2: زلف​

رات کا ابتدائی حصہ یا پہلی گھڑیاں (ف ل 34) زلف کے بنیادی معنی مرتبہ اور قرب کے ہیں رات کے ابتدائی حصہ کو زلف اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ساری رات کا نزدیکی اور قریب کا حصہ ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ (سورۃ ھود آیت 114)
اور دن کے دونوں سروں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ انکے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔
​

3: حظ​

بمعنی خیر و فضل کا حصہ (م ا) (فق ل 135) اور بمعنی مالداری یا خوش قسمتی، سعادت (منجد) قرآن میں یہ لفظ ترکہ کے مقررہ حصوں کے لیے آیا ہے جو خیر و فضل اور مالداری سے بھی تعلق رکھتا ہے اور خوش قسمتی اور سعادت سے بھی۔ ارشاد باری ہے:
فَلِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ (سورۃ النساء آیت 176)
مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔
​

4: خلاق​

ہر طرح کی بھلائی کا معینہ حصہ (م ا) بھلائی کا بڑا حصہ (منجد) (مف) (فق 136) یعنی وہ فضیلت جو انسان اپنے اخلاق سے حاصل کرتا ہے۔ اس حصہ کا تعلق انسان کے اعمال سے ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ (سورۃ البقرۃ آیت 200)
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو منٰی میں اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو جو دینا ہے دنیا ہی میں دیدے اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصّہ نہیں۔
​

5: نصیب​

نصب بمعنی کسی چیز کو راسی سمت میں گاڑنا۔ اور نصیب بمعنی نشان کے طور پر راہ میں گاڑا ہوا پتھر۔ اور نصیب سے مراد وہ معین حصہ ہے جو قسمت کا لکھا ہو (مف) خواہ اس کا تعلق کسی محبوب چیز سے ہو یا مکروہ سے (فق ل 135) ارشاد باری ہے:
وَ ابۡتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰٮکَ اللّٰہُ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنۡیَا وَ اَحۡسِنۡ کَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ وَ لَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 77)
اور جو مال تمکو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلایئے اور جیسی اللہ نے تم سے بھلائی کی ہے ویسی تم بھی لوگوں سے بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
​

6: کفل​

بمعنی کفالت، ضمانت اور کفل بمعنی حصہ اور کسی کا لازمی بدلہ خواہ اچھا ہو یا برا۔ اور صاحب منجد کے نزدیک دگنا ثواب یا دگنا گناہ ہے۔ ارشاد باری ہے:
مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا (سورۃ النساء آیت 85)
جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے ثواب میں سے حصہ ملے گا۔ اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس کے عذاب میں سے حصہ ملے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
​

7: بعض​

بمعنی حصہ، ٹکڑا، یہ کسی کل کے جزو کے لیے بھی آتا ہے۔ قرآن میں ہے:
فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ کَذٰلِکَ یُحۡیِ اللّٰہُ الۡمَوۡتٰی ۙ وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 73)
چنانچہ ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
​
اور اگر کل کئی مستقل چیزوں کا مجموعہ ہو تو بعض کا لفظ فرد کے لیے بھی آتا ہے جیسے بعض الناس بمعنی کوئی ایک آدمی بعض اللیالی بمعنی راتوں میں سے کوئی ایک رات۔ ارشاد باری ہے:
فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنۡہَا فَاَخۡرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَ قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ (سورۃ البقرۃ آیت 36)
پھر شیطان نے دونوں کو اس طرف کے بارے میں پھسلا دیا اور جس عیش و نشاط میں تھے اس سے انکو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ بہشت بریں سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانہ اور معاش مقرر کر دیا گیا ہے۔
​
علاوہ ازیں اس لفظ کا استعمال معنوی طور پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا:
وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ (سورۃ الزخرف آیت 63)
اور جب عیسٰی نشانیاں لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمکو سمجھا دوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
​

ماحصل:​

  • جزء: کسی چیز کا کوئی ایک حصہ یا ٹکڑا۔
  • زلف: رات کا ابتدائی حصہ۔
  • حظّ: خیر و فضل اور مال کا حصہ۔
  • خلاق: وہ معینہ حصہ جو اپنے اخلاق کے نتیجہ میں ملے۔
  • نصیب: وہ حصہ جو مقدر ہو تھوڑا ہو یا زیادہ۔
  • کفل: کسی اچھے یا برے کام کے بدلہ میں حصہ۔
  • بعض: کسی کل کا جز یا کئی ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کا کچھ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حفاظت کرنا​

کے لیے حفظ، رعی، احصن اور کلا کے الفاظ قرآن مجید میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: حفظ​

(ضد اضاع) بمعنی ضائع ہونے اور تلف ہونے سے بچانا (منجد) نگہبانی کرنا (م ا) کسی چیز کو بیرونی خطرات سے بچانے کی کوشش کرنا (فق ل 15) قرآن میں ہے:
وَ نَمِیۡرُ اَہۡلَنَا وَ نَحۡفَظُ اَخَانَا وَ نَزۡدَادُ کَیۡلَ بَعِیۡرٍ (سورۃ یوسف آیت 65)
اور ہم اپنے اہل و عیال کے لئے پھر غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے۔​

2: رعی​

کسی چیز کی حفاظت کرنا اور بیرونی خطرات پیدا ہونے کے اسباب کو دور کرنا۔ اور راعی بمعنی چرواہا۔ محافظ (ضد اھمال) بمعنی ریوڑ کا بغیر چرواہا کے چرنا (فق ل 15) قرآن میں ہے:
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ (سورۃ المؤمنون آیت 8)
اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔
​

3: احصن​

حصن بمعنی قلعہ یا محفوظ مقام اور اس کی جمع حصون (سورۃ الحشر آیت 2)) حصن میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ الحفظ و الحیاطۃ (م ل) یعنی حفاظت، احاطہ اور صاحب منجد کے نزدیک اس کا معنی مضبوط جگہ اور محفوظ کرنا۔ نیز عورت کا اپنی عصمت کی حفاظت کرنا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ مَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ صَدَّقَتۡ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَ کُتُبِہٖ وَ کَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِیۡنَ (سورۃ التحریم آیت 12)
اور دوسری مثال عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی عزت و ناموس کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اسکی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔
​
اور نکاح میں آنا بھی۔ کیونکہ نکاح بھی فحاشی کے خلاف قلعہ کا کام دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ (سورۃ النساء آیت 24)
اور شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر وہ جو قید ہو کر باندیوں کے طور پر تمہارے قبضے میں آ جائیں۔
​

4: کلا​

کسی چیز پر ہر وقت نگاہ رکھنا اور اسے باقی رکھنا۔ گویا اس میں بھی بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) مراقبۃ (2) ثبات (م ل، مف) اور بمعنی کسی چیز کو سلامتی سے آفت کی طرف مائل ہونے سے بچانا (فق ل 169) ارشاد باری ہے:
قُلۡ مَنۡ یَّکۡلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ؕ بَلۡ ہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 42)
کہو کہ رات اور دن میں رحمٰن سے کون تمہاری حفاظت کر سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
​

ماحصل:​

  • حفظ: کسی چیز کو ضائع ہونے سے بچانا۔
  • رعی: حفاظت اور بیرونی خطرات کے اسباب دور کرنا۔
  • احصن: احاطہ کے ذریعہ حفاظت۔
  • کلا: حفاظ کر کے صحیح و سالم رکھنا۔
نیز دیکھیے "نگہبان"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حقدار​

کے لیے اصل لفظ تو مستحق ہے۔ اور "زیادہ حقدار" کے لیے قرآن میں دو الفاظ ملتے ہیں۔ احقّ اور اولی (ولی)۔

احق، اولی​

بمعنی زیادہ حقدار کا مفہوم تو واضح ہے لیکن اولی میں بہت زیادہ جامعیت پائی جاتی ہے۔ ولیّ کا معنی دوست، حمایتی اور مددگار وغیرہ ہے۔ اور ولایۃ کا ایک معنی متولی ہونا بھی ہے۔ ایام جاہلیت میں لوگ کسی شخص کو خواہ وہ رشتہ دار ہوتا یا غیر رشتہ دار۔ ولی بنا کر اسے وراثت کا مستحق سمجھتے تھے۔ اسلام نے بھی مواخات کے سلسلہ میں اس ولایت کے رواج کو تسلیم کیا۔ لیکن بعد میں رشتہ دار وارثوں کے حصے مقرر کر کے اس حکم کو ختم کار دیا گیا۔ گویا اولی میں صرف حق کا پہلو ہی نہیں سامنے ہوتا بلکہ اخوت و موانست اور حق تولیت کا پہلو بھی ملحوظ ہوتا ہے ۔ ارشاد باری ہے:
اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ (سورۃ الاحزاب آیت 6)
پیغمبر مومنوں پر انکی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں لوگوں کی مائیں ہیں۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حق مہر​

کے لیے صدقۃ، اجر اور فریضۃ کے الفاظ مستعمل ہوئے ہیں۔

1: صدقۃ​

جمع صدقات۔ صدقہ دال پر زبر ہوتو اس کے معنی خیرات اور دال پر ضمہ ہو تو اس کے معنی حق مہر کیا جاتا ہے اور اصدق الابنۃ بمعنی بیٹی کا حق مہر مقرر کرنا ہے (منجد) حالانکہ صدقۃ مہر سے وسیع معنوں میں آتا ہے۔ مہر اس مقررہ رقم کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی لازم ہو جبکہ صداق اس صدقہ یا خرچہ کو کہتے ہیں جس کی بنا پر نکاح ہو۔ گویا صداق میں مہر کے علاوہ نان و نفقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ (فق ل 139) قرآن میں ہے:
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحۡلَۃً ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَکُمۡ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنۡہُ نَفۡسًا فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا (سورۃ النساء آیت 4)
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے مزے سے کھا لو۔
​

2: اجر​

جمع اجور۔ اجر بمعنی اجرت یا اجر اور اجیر کے درمیان طے شدہ معاوضہ۔ چونکہ نکاح میں عورت اپنی عصمت کی حلت و حرمت کے طور پر یہ رقم لیتی ہے جو باہمی رضا مندی سے طے پاتی ہے۔ لہذا حق مہر کے لیے اجر کا لفظ مجازاً قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے ۔ ارشاد باری ہے:
وَ اٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ (سورۃ النساء آیت 25)
اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کر دو۔
​

3: فریضۃ​

فرض بمعنی مقرر کرنا، معین کرنا، واجب ٹھہرانا اور فریضہ بمعنی مقرر کردہ یا طے شدہ حصہ (منجد) فریضہ کا لفظ بھی حق مہر کے لیے مجازاً استعمال ہوا ہے کیونکہ حق مہر کی رقم نکاح کے وقت باہمی رضا مندی سے مقرر کرنا ضروری ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ وَ قَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 237)
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہو گا۔
​

ماحصل:​

حق مہر مقرر ہونے کی نسبت سے اسے فریضۃ، معاوضہ ہونے کی نسبت سے اجر کہا گیا ہے اور صدقۃ میں عورت کے تمام واجبات بشمول مہر شامل ہیں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حکم دینا​

کے لیے قرآن میں امر، اذن، حکم اور اوصی کے الفاظ آئے ہیں۔ اور یہ سب الفاظ کئی کئی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

1: امر​

امر بمعنی معاملہ، حالت، شان اور اس کی جمع امور ہے۔ یہ معنی یہاں زیر بحث نہیں۔ امر بمعنی حکم اس کی جمع اوامر اور ضد نھی ہے۔ اور امر کے معنی حکم دینا، حکم بھیجنا اور ہدایات دینا خواہ یہ حکم کسی اچھے کام کے لیے ہو یا برے کام کے لیے (منجد) گویا اس لفظ کا استعمال عام ہے خواہ یہ حکم ایک بادشاہ یا حاکم ماتحت کو دے یا کوئی عام شخص دوسرے شخص کو۔ قرآن میں ہے:
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 104)
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔
​
دوسرے مقام پر ہے کہ قیامت کے دن کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ :
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا بَلۡ مَکۡرُ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ اَنۡ نَّکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ نَجۡعَلَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ؕ وَ جَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِیۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ سباء آیت 33)
اور کمزور لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے نہیں بلکہ تمہاری رات دن کی چالوں نے ہمیں روک رکھا تھا جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو اعمال وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا۔
​

2: اذن​

کے معنی منظوری دینا یا اجازت دینا ہے۔ اور جب حکم دینا اس کا معنی ہو تو اس سے مراد ایسا حکم دینا ہے جو مشیت الہی کا متقاضی ہو (مف) ارشاد باری ہے:
فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَ یُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ ۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ (سورۃ النور آیت 36)
وہ قندیل ان گھروں میں ہے جنکے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کئے جائیں۔ اور وہاں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے اور ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے ہیں۔
​

3: حکم​

کے معنی کسی چیز کی اصلاح کے لیے اسے روک یا لگا دینا ہے۔ حکمۃ الدّابۃ بمعنی میں نے جانور کو لگام دی (مف) اور حکم بمعنی منع عن الظلم (م ل) یعنی ایسا حکم یا فیصلہ جس سے کسی کو ظلم اور زیادتی سے روکا جائے ارشاد باری ہے:
وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 47)
اور اہل انجیل کو چاہیے کہ جو احکام اللہ نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں۔ اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔
​

4: اوصی​

کے معنی کسی سے کسی بات کا عہد لینا، حکم اور وصیت کرنا ہے (منجد) اور جب اس ک نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس سے مراد تاکیدی حکم ہوتا ہے۔ جیسے:
وَّ جَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ ۪ وَ اَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا (سورۃ مریم آیت 31)
اور میں جہاں ہوں اور جس حال میں ہوں اس نے مجھے صاحب برکت بنایا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے۔
​
یا
یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ (سورۃ النساء آیت 11)
اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔
​

ماحصل:​

  • امر: کا لفظ حکم دینے کے معنی میں عام ہے۔
  • اذن: ایسا حکم جو مشیئت الہی کا متقاضی ہو ورنہ اس کا معنی اجازت یا منظوری دینا ہے۔
  • حکم: ایسا حکم جس کے ذریعہ ظلم سے روکا جائے۔
  • اوصی: جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس سے مراد تاکیدی حکم ہے۔
حلق کے لے دیکھیے "گلا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حملہ کرنا​

کے لیے سطا اور اغار (غور) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: سطا​

(سطوۃ) بہ وعیلہ بمعنی کس پر حملہ کر کے مغلوب کرنا۔ اور سطا الفرس بمعنی گھوڑے کا چوڑے چوڑے قدم اٹھاتے ہوئے دوڑ پڑنا (منجد) اور سطا بمعنی شدید گرفت کرنا یا اس پر حملہ کرنا (مف) ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡمُنۡکَرَ ؕ یَکَادُوۡنَ یَسۡطُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ اَلنَّارُ ؕ وَعَدَہَا اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ (سورۃ الحج آیت 72)
اور جب انکو ہماری صاف صاف آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو انکی شکل بگڑ جاتی ہے اور تم انکے چہروں میں صاف طور پر ناگواری دیکھتے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کو سناتے ہیں ان پر حملہ کر دیں گے۔ کہدو کہ میں تمکو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
​

2: اغار​

(غور) (غارۃ وّ اغارۃ) بمعنی لوٹ ڈالنا۔ اغار الفرس بمعنی گھوڑے کا تیز دوڑنا (منجد) ارشاد باری ہے:
فَالۡمُغِیۡرٰتِ صُبۡحًا (سورۃ العادیات آیت 3)
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں۔
​

ماحصل:​

  • سطا: حملہ میں سختی کرنا اور مغلوب کرنے کی کوشش کرنا۔
  • اغار: حملہ کرنا اور لوٹ ڈالنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حیران ہونا​

کے لیے حیران (حیر)، بھت اور عجب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: حیران​

عام لفظ ہے۔ راہ صواب نہ ملنے کی وجہ سے تردد میں پڑنا، معاملہ خواہ کچھ ہو۔ قرآن میں ہے:
قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪ لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (سورۃ الانعام آیت 71)
کہو۔ کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو اللہ نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو کیا ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ پھر تو ہماری ایسی مثال ہو جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو اور وہ حیران ہو رہا ہو اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اسکو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہدو کہ رستہ تو وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم اللہ رب العالمین کے فرمانبردار بنیں۔
​

2: بھت​

حیرانی کی وجہ سے اچانک دم بخود ہو جانا (م ق، منجد) ہوش و حواس کھو دینا، حیران و ششدر رہ جانا، ہکا بکا رہ جانا۔ مبھوت کا لفظ اسی سے مشتق ہے۔ قرآن میں ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 258)
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس غرور کے سبب سے کہ اللہ نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے وہ بولا کہ زندگی اور موت تو میں بھی دے سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے یہ سن کر وہ کافر ہکا بکا رہ گیا۔ اور اللہ بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
بَلۡ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغۡتَۃً فَتَبۡہَتُہُمۡ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ رَدَّہَا وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 40)
بلکہ قیامت ان پر یکایک آ واقع ہو گی۔ اور انکے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اسکو ہٹا سکیں گے اور نہ انکو مہلت دی جائے گی۔
​

3: عجب​

العجب ایسی حیرانی کی کہتے ہیں جس کی وجہ معلوم نہ ہو (مف) اور عجب بمعنی حیران ہونا، تعجب کرنا۔ ارشاد باری ہے:
بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ (سورۃ ق آیت 2)
اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو بڑی عجیب ہے۔
​

ماحصل: ​

  • حیران: عام ہے۔
  • بھت: یکدم حیرانی کی وجہ سے حواس کھو جانا۔
  • عجب: ایسی بات پر حیران ہونا جس کی وجہ معلوم نہ ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

حیض​

کے لیے محیض اور قروء (قرء) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: محیض​

حیض مشہور لفظ ہے۔ اور محیض بمعنی حیض بھی، وقت حیض بھی اور مقام حیض بھی (مف) اور حاضت المراۃ بمعنی عورت کو حیض آیا۔ ارشاد باری ہے:
وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الۡمَحِیۡضِ ۙ وَ لَا تَقۡرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطۡہُرۡنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرۡنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 222)
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایّام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو جس طریق سے اللہ نے تمہیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہیں کہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
​

2: قروء​

قرء کی جمع ہے۔ بمعنی عورت کا طھر سے حیض میں داخل ہونا۔ لہذا اس لفظ کا اطلاق لغوی طور پر طھر اور حیض دونوں پر ہوتا ہے (لغت اضداد) لیکن رسول اللہ ﷺ کے ارشاد واقعدی عن الصلوۃ ایا اقراءک (حیض کے دنوں میں نماز ترک کر دے) کے مطابق اس کا ترجمہ حیض ہی راجح قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ (سورۃ البقرۃ آیت 228)
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے رہیں۔
​
 
Top