حاجت
کے لیے حاجت (حوج)، مارب (ارب) اور وطر کے الفاظ آئے ہیں۔1: حاجۃ
الحوج بمعنی احتیاج اور فقر و فاقہ (منجد) ایسی ضرورت یا خواہش جس کے پورا نہ ہونے پر دل میں تنگی اور گھٹن محسوس ہو۔ قرآن میں ہے:مَا کَانَ یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفۡسِ یَعۡقُوۡبَ قَضٰہَا ؕ (سورۃ یوسف آیت 68)
وہ تدبیر اللہ کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی
اور دوسرے مقام پر ہے:وہ تدبیر اللہ کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی
وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ الحشر آیت 9)
اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مہاجرین سے پہلے اس گھر یعنی مدینے میں مقیم ہیں اور ایمان میں مضبوط ہیں اور جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ انکو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ خود بھی فاقے سے ہوںاور جو شخص خود غرضی سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ بامراد ہیں۔
یعنی اتنا کم ملنے پر بھی صابر و شاکر ہیں اور دل میں کچھ تنگی اور گھٹن محسوس نہیں کرتے۔اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مہاجرین سے پہلے اس گھر یعنی مدینے میں مقیم ہیں اور ایمان میں مضبوط ہیں اور جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ انکو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ خود بھی فاقے سے ہوںاور جو شخص خود غرضی سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ بامراد ہیں۔
2: مارب
(ارب) ارب اور ارب (الف زیر) ایسی ضرورت کو کہتے ہیں جس کے بغیر چارہ نہ ہو اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو کرنی پڑے۔ قرآن میں ہے:غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (سورۃ النور آیت 31)
یعنی ایسے خادم مرد جنہیں ابھی نکاح کی ضرورت نہ ہو۔
اور مارب، ماربۃ کی جمع ہے جس کے معنی کسی حاجت یا ضرورت کا تکمیل پذیر ہونا ہے۔ قرآن میں ہے:یعنی ایسے خادم مرد جنہیں ابھی نکاح کی ضرورت نہ ہو۔
قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی (سورۃ طہ آیت 18)
انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئ فائدے ہیں۔
انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئ فائدے ہیں۔
3: وطر
بمعنی (1) حاجت، مطلوب (منجد) (2) ہمبستری، شہوت (م ق) اور اس کی جمع اوطار ہے۔ قرآن میں یہ صرف دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے:فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنۡہَا وَطَرًا (سورۃ الاحزاب آیت 37)
پھر جب زید نے اس سے تعلق ختم کر لیا یعنی اسکو طلاق دے دی
پھر جب زید نے اس سے تعلق ختم کر لیا یعنی اسکو طلاق دے دی
ماحصل:
- حاجۃ: ایسی ضرورت جس کے پورا نہ ہونے پر دل میں تنگی محسوس ہو۔
- مارب: ایسی حاجتیں جو تکمیل پذیر ہو جائیں۔
- وطر: حاجت جماع کے لیے یہ لفظ قرآن میں استعمال ہوا ہے لیکن اس کے معنی میں وسعت ہے۔