مترادفات القرآن (خ)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خاوند​

کے لیے بعل، زوج اور سیّد کے الفاظ آئے ہیں۔

1: بعل​

بمعنی خاوند، شوہر (جمع بعول) (سورۃ البقرۃ آیت 228) اور بیوی کو بعل اور بعلۃ کہتے ہیں۔ اور باعل بمعنی ایک قوم کا دوسری قوم میں شادی بیاہ یا رشتہ ناتا کرنا ہے (منجد)۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی الگ الگ قبیلوں سے تعلق رکھتے ہوں تو اس وقت یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور صاحب فروق اللغویہ کے نزدیک کوئی شخص اس وقت تک بعل نہیں کہلا سکتا جب تک صحبت نہ کرے۔ اور استشہاد اس ارشاد نبوی ﷺ سے کیا ہے۔ یوم اکل و شرب و بعال (فق ل 236) قرآن میں ہے:
قَالَتۡ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوۡزٌ وَّ ہٰذَا بَعۡلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ (سورۃ ھود آیت 72)
اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا۔ میں تو بڑھیا ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
​

2: زوج​

جمع ازواج بمعنی جوڑا۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے زوج ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج ہے۔ خاوند کے بیوی زوج ہے اور بیوی کے لیے خاوند اس کا زوج ارشاد باری ہے:
قَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِہَا وَ تَشۡتَکِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ یَسۡمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ (سورۃ مجادلہ آیت 1)
اے پیغمبر ﷺ جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث و جدال کرتی اور اللہ سے شکایت رنج و ملال کرتی تھی۔ اللہ نے اسکی التجا سن لی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے۔
​

3: سیّد​

بمعنی سردار، آقا، مالک، خاوند کے لیے یہ لفظ مجازاً استعمال ہوا ہے کیونکہ عائلی نظام میں خاوند کی حیثیت برتر ہوتی ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ (سورۃ یوسف آیت 25)
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے آگے یوسف پیچھے زلیخا اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے پکڑ کو جو کھینچا تو پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔
​

ماحصل:​

  • بعل: وہ خاوند جو صحبت بھی کر چکا ہو۔
  • زوج: ذوی العقول اور غیر ذوی العقول سب کے لیے عام ہے۔ نیز خاوند بیوی دونوں کے لیے۔
  • سیّد: مجازاً خاوند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خبر​

کے لیے خبر، خبر (خ ضمہ) اور نبا کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: خبر​

جمع اخبار۔ مشہور لفظ ہے۔ ایسا واقعہ جس کا انسان کو علم نہ ہو اور کسی دوسرے ذریعے سے اطلاع ہو وہ خبر ہے۔ گرد و پیش کے حالات کا علم قرآن میں ہے:
قَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ (سورۃ القصص آیت 29)
اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے رستے کا کچھ پتہ لاؤں۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
قُلۡ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکُمۡ قَدۡ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنۡ اَخۡبَارِکُمۡ ؕ (سورۃ التوبہ آیت 94)
تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہر گز تمہاری بات نہیں مانیں گے اللہ نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔
​

2: خبر​

کسی واقعہ کی حقیقت کا علم، تجربہ، بصیرت۔ کہتے ہیں صدّق الخبر الخبر تجربہ اور مشاہدہ نے سنی ہوئی خبر کی تصدیق کی (منجد) قرآن میں ہے:
وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا (سورۃ الکہف آیت 68)
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہو۔
​

3: نبا​

کسی اہم معاملہ کے متعلق خبر (مف) خصوصاً ایسی خبر جس سے سننے والا بھی متعلق ہو۔ اور خواہ یہ خبر گزشتہ واقعہ سے تعلق رکھتی ہو یا آئندہ کے حالات سے۔ قرآن میں ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ (سورۃ الحجرات آیت 6)
مومنو! اگر کوئی گناہگار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تمکو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔
​

ماحصل:​

خبر اور نبا میں مندرجہ ذیل فرق ہیں:
1: خبر عام ہے، نبا خاص۔ نبا وہ خبر ہے جس کے سننے والے کی ذات سے تعلق ہو اور وہ اس پر اثر انداز ہو سکتی ہو۔ امام راغب کے الفاظ میں اہم خبر۔ کہتے ہیں یہ بات فلاں کے لیے نبا ہو سکتی ہے یہ نہیں کہتے کہ خبر ہو سکتی ہے۔
2: نبا کا تعلق مستقبل اور ما بعد الطبیعات سے بھی ہو سکتا ہے جبکہ خبر کا تعلق صرف ماضی اور حال سے ہوتا ہے۔
3: انبا اور نبا آگاہ کرنے کے معنوں میں آتے ہیں اور اخـبر اطلاع دینے کے معنوں میں۔ کہتے ہیں ھذا الامر ینبئ کذا (یہ معاملہ ایسی بات کی نبا دیتا ہے) یہ نہیں کہتے ہیں کہ تخـبر کذا اس بات کی خبر دیتا ہے (فق ل 29) اور خبر اس کو کہتے ہیں جو تحقیق سے درست ثابت ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ختم ہونا​

کے لیے نفد اور ختم کے الفاظ آئے ہیں۔

1: نفد​

کسی چیز کا ختم ہو کر باقی نہ رہنا، فنا ہو جانا (م ل) اور اس کی ضد بقی ہے۔ قرآن میں ہے:
مَا عِنۡدَکُمۡ یَنۡفَدُ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ بَاقٍ ؕ وَ لَنَجۡزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ النحل آیت 96)
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ کبھی ختم نہیں ہو گا اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم انکو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔
​

2: ختم​

کسی چیز کے پورا ہونے کے بعد اسے بند کر کے سر بمہر کر دینا تا کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ ہو سکے (م ل)، آخر الامر اور ختم العمل یعنی کسی کام سے فارغ ہونا اور ختم الکتاب بمعنی پوری کتاب پڑھ جانا (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا (سورۃ الاحزاب آیت 40)
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں لیکن اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کی مہر یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
​

ماحصل:​

نفد میں اصل چیز فنا ہو جاتی ہے یا ہاتھ سے نکل جاتی ہے جبکہ ختم میں وہ چیز بحال رہتی ہے البتہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خدمت گار​

کے لیے غلام، فتی اور سخریّا کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: غلام​

غلام ایسے بچے یا لڑکے کو کہتے ہیں جو بالغ ہو چکا ہو اس کی جنسی خواہشات بیدار ہو چکی ہوں۔ اغتلم الفحل غلمۃ بمعنی کسی نر میں جفتی کا ہیجان پیدا ہونا۔ اور غلیم نوجوان کو اور اغلام مشت زنی کو کہتے ہیں۔ اور غلام کی جمع غلمۃ اور غلمان آتی ہے۔ دوسرے پہلو سے غلام اور غلمان ان بچوں کو کہتے ہیں جو امیر گھروں میں گھر کے چھوٹے موٹے کام کاج کے رکھے جاتے ہیں۔ اس صلہ میں یا تو ان کو معمولی معاوضہ دیا جاتا ہے یا تہذیب و تربیت ہی ان کا معاوضہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں غلام کے لفظ کا اطلاق بالکل نا بالغ بچے پر بھی ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ جَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَ اَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً (سورۃ یوسف آیت 19)
اور اب اللہ کی شان دیکھو کہ اس کنوئیں کے قریب ایک قافلہ آ وارد ہوا اور انہوں نے پانی کے لئے اپنا سقا بھیجا تو اس نے کنوئیں میں ڈول لٹکایا یوسف اس سے لٹک گئے وہ بولا زہے قسمت یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسکو قیمتی سمجھ کر چھپا لیا۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ (سورۃ الطور آیت 24)
اور نوجوان خدمتگار جو ایسے ہوں گے جیسے چھپائے ہوئے موتی جو انکے آس پاس پھریں گے۔
​

2: فتی​

فتی اور تفتّی بمعنی جوان ہوا۔ عمر کے لحاظ سے جوان ہونے سے لے کر بھر پور جوانی تک پہنچنے کا زمانہ ہے۔ جمع فتیان۔ مونث فتاۃ جمع فتیان۔ خدمت کے لحاظ سے فتی کا استعمال بہت وسیع ہے۔ فتی اور فتاۃ لونڈی غلام کو بھی کہتے ہیں، ملازم اور کارندوں کو بھی اور اپنے خدمت گار ساتھیوں پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور فتیۃ نوجوانوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا (سورۃ الکہف آیت 62)
جب آگے چلے تو موسٰی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارا کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہو گئ ہے۔
​
اور یہ ساتھی یوشع بن نون تھے جو حضرت موسی کے شاگرد بھی تھے اور خدمت گار بھی۔
دوسرے مقام پر ہے:
وَ قَالَ لِفِتۡیٰنِہِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ فِیۡ رِحَالِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَعۡرِفُوۡنَہَاۤ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 62)
اور یوسف نے اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ یعنی غلے کی قیمت انکے سامان میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں اور عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔
​
تیسرے مقام پر ہے:
وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا (سورۃ النور آیت 33)
اور اپنی باندیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں تو دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا
​

3: سخریّا​

سخر (یسخر) بمعنی مذاق اڑانا۔ اور سخر (یسخر) اور سخّر بمعنی کسی کو قہراً تابعدار بنانا۔ ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ (سورۃ لقمان آیت 20)
یا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے قابو میں کر دیا ہے۔
​
اور سخریّا بے اجرت نوکری اور بیگار لینا بھی اس کا معنی ہے (م ق) اور با معاوضہ خدمت بھی۔ لیکن اس میں اضطرار کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یعنی ضرورتوں سے مجبور ہو کر خدمت یا ملازمت کرنا۔ ارشاد باری ہے:
اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ (سورۃ الزخرف آیت 32)
کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں انکی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کر دیا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے۔
​

ماحصل:​

  • غلام: چھوٹی عمر کے گھریلو خدمت گار۔
  • فتی: جوان خدمت گار اور کارندے۔
  • سخریّا: اضطراری خدمت گزاری کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خرابی​

کے لیے خبالا (خبل) معرّۃ (عرر) اور فساد کے الفاظ آئے ہیں۔

1: خبالا​

خبل اعضا و جوارح کے بگاڑ پر دلالت کرتا ہے (م ل) کہتے ہیں خبل الحزن عقلہ غم نے اس کی عقل کو خراب کر دیا۔ خبل الحبّ عقلہ محبت نے اس کی عقل کو تباہ کر دیا (منجد)۔ گویا خبال ایسی خرابی کو کہتے ہیں جو کسی کو لاحق ہو کر اضطراب اور بے چینی پیدا کر دے جیسے جنون یا وہ مرض جو مستقل طور پر اثر انداز ہو (مف)، مستقل روگ۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ (سورۃ آل عمران آیت 118)
مومنو! کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ جس طرح ہو تمہیں تکلیف پہنچے۔
​

2: معرّۃ​

ہر قسم کی مضرت پر بولا جاتا ہے۔ عیّر کے معنی خارش زدہ ہونا۔ معرّۃ کا اطلاق ہر طرح کے دکھ، رنج، خرابی، سختی اور گالی گلوچ پر ہوتا ہے (منجد، مف) اور ابن الفارس کے نزدیک معرّۃ ایسے دکھ اور رنج کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی گناہ یا نا مناسب کام کے نتیجہ میں پہنچے (م ل) قرآن میں ہے:
وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَـُٔوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ (سورۃ الفتح آیت 25)
اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جنکو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کر دیتے تو تمکو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔
​

3: فساد​

(ضد اصلاح) ایسی خرابی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے حد اعتدال سے کمی بیشی واقع ہونے پر ظاہر ہو اور اس کا توازن بگاڑ دے (مف) قرآن میں ہے:
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ الروم آیت 41)
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انکو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آ جائیں۔
​

ماحصل:​

  • خبال: ایسی خرابی جس کا اثر اعضا و جوارح پر ہو مستقل روگ۔
  • معرّۃ: ایسی خرابی جو کسی نا مناسب کام کے نتیجہ میں واقع ہو۔
  • فساد؛ حد اعتدال میں بے اعتدالی کی وجہ سے پیدا شدہ خرابی۔ معاشرہ کا بگاڑ۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خراب کرنا – ہونا​

کے لیے خرب اور اخرب، فسد اور افسد، عاب، اسن، سنّ اور سنہ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: خرب اور اخرب​

خرب بمعنی کسی کھیتی یا عمارت کا ویران و برباد یا اجاڑ ہونا، بے آباد ہونا۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 114)
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی کیلئے کوشش کرے۔
​
اور اخرب (ضد عمر) بمعنی کسی آباد جگہ کو بے آباد کرنا، کسی تعمیر کو گرانا اور ڈھانا، کسی کھیتی کو ویران کرنا اور اجاڑنا (مف) قرآن میں ہے:
وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ (سورۃ الحشر آیت 2)
اس نے انکے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو اے بصیرت کی آنکھیں رکھنے والو عبرت حاصل کرو۔
​

2: فسد اور افسد​

فساد بمعنی بگاڑ (ضد اصلاح) ہر وہ کام جو خلاف شرع ہو خواہ اس کا تعلق اعمال سے ہو یا عقائد سے۔ اور فسد بمعنی کسی چیز میں بگاڑ پیدا ہونا اور افسد بمعنی خراب کرنا اور بگاڑنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 56)
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور اللہ سے خوف رکھتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔
​

3: عاب​

عیب کسی چیز کی شکل و صورت یا اس کے اندر کوئی خرابی یا نقص ہونا (مف) اور عاب بمعنی کسی چیز کو عیب دار بنانا یا خراب کر دینا، جاندار ہو یا بے جان، قول و فعل ہر صورت میں اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے (فق ل 39) ارشاد باری ہے:
اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا (سورۃ الکہف آیت 79)
کہ جو وہ کشتی تھی غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔ اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔
​

4: اسن​

اسن الماء بمعنی پانی کا متغیر ہو کر بد بو دار ہو جانا۔ اور اسن الرّجل بمعنی سڑے ہوئے پانی والے کنویں داخل ہونے سے بیہوش ہوا یا سر چکرانا (مف، منجد) گویا اسن کے لفظ پانی کے خراب، متغیر اور بد بو دار ہونے کے لیے آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فِیۡہَاۤ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ (سورۃ محمد آیت 15)
اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا
​

5: سنّ​

سنّ بمعنی دانت بھی ہے اور عمر بھی۔ اور سنّۃ بمعنی طریقہ، دستور اور سنّ سنّۃ بمعنی اس نے طریقہ رائج یا جاری کیا (مف، منجد)۔ گویا سنّ کے لفظ میں مدت اور دوام کا تصور پایا جاتا ہے۔ اور مسنون اس چیز کو کہتے ہیں جو ایک مدت گزرنے سے خراب اور بد بو دار ہو جائے تاہم اس لفظ کا اطلاق عموماً کیچڑ وغیرہ کے لیے ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ (سورۃ الحجر آیت 26)
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔
​

6: سنہ​

بمعنی بہت سالوں والا ہونا۔ سنہ الطعام و الشراب بمعنی کھانے پانی کا متغیر ہونا، بگڑ جانا اور تسنّہ الخبز بمعنی روٹی کا سڑنا، بد بو دار ہونا (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ (سورۃ البقرۃ آیت 259)
اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ اتنی مدّت میں مطلق سڑی بسی نہیں۔
​

ماحصل:​

  • خبر: مکان، جگہ یا کھیتی کا ویران یا خراب ہونا۔
  • فساد: اعمال و عقائد میں خرابی۔
  • اعاب: کسی چیز کو فی نفسہ خراب کرنا۔
  • اسن: پانی کے خراب ہو کر بد بو دار ہونے کے لیے۔
  • سنّ: طویل مدت میں گزرنے پر خراب ہونے والی چیزوں کے لیے۔
  • سنہ: کھانے پینے کی چیزوں کے بد بو دار ہونے کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خرچ کرنا​

کے لیے انفق، اسرف، بذّر، بخل، اقتر اور اھلک کے الفاظ آئے ہیں۔

1: انفق​

خرچ کرنا کے لیے عام لفظ ہے۔ عموماً مال و دولت خرچ کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ تاہم اس میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ایک طرف سے مال آتا جائے اور دوسری طرف سے خرچ ہوتا رہے۔ نفق اس سرنگ کو کہتے ہیں جس کے دونوں راستے کھلے ہوں۔ اور نیفق السّراویل پاجامے کے نیفے کو کہتے ہیں۔ اور نافق الیربوع و نفق بمعنی جنگلی چوہیا نے اپنے بل کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے سرے سے نکل گئی۔ اور شرع اصطلاح میں نفاق اس طریقے کو کہتے ہیں کہ انسان ایک راستہ سے اسلام میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے راستہ سے اس سے نکل جاتا ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ (سورۃ المنافقون آیت 10)
اور جو مال ہم نے تمکو دیا ہے اس میں سے اس وقت سے پیشتر خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو اس وقت کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کر لیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہو جاتا۔
​

2: بخل​

3: اقتر​

کے لیے دیکھیے "بخل کرنا"۔

4: اسرف​

5: بذّر ​

کے لیے دیکھیے "فضول خرچی کرنا"۔

6: اھلک​

کا اصل معنی کسی چیز کو ہلاک کرنا، تباہ کرنا یا برباد کرنا ہے۔ اور جب اس کی نسبت مال و دوت سے ہو تو اس کا مطلب سارے کی ساری مالیت کا خرچ کر دینا ہے۔ اور یہ عموماً بری جگہوں پر مال خرچ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
یَقُوۡلُ اَہۡلَکۡتُ مَالًا لُّبَدًا (سورۃ البلد آیت 6)
کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کر دیا۔
​

ماحصل:​

  • انفق: خرچ کرنے کے لیے عام لفظ۔
  • بخل: جائز ضرورت پر بھی خرچ نہ کرنا یا کم کرنا۔
  • اقتر: اپنے عیال کے نان و نفقہ میں بخل کرنا۔
  • اسرف: ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا۔
  • بذّر: بلا ضرورت اور بے دریغ خرچ کرنا۔
  • اھلک: مذموم مقاصد میں بہت سا مال خرچ کرنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خرید و فروخت کرنا​

کے لیے باع اور تبایع، شری اور اشتری اور تجارۃ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: باع اور تبایع​

(بیع) بمعنی خریدنا بھی اور بیچنا بھی۔ یعنی لین دین کرنا۔ یہ لفظ لغت اضداد سے ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے ضمیمہ 2) اور ابتاع کا لفظ خریدنا کے معنوں میں آتا ہے لیکن یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا۔ عرف عام میں بائع بیچنے والے کو کہہ لیتے ہیں اور بایع بمعنی معاہدہ یبعیت کرنا بھی اور آپس میں لین دین کرنا بھی اور تبایع بمعنی آپس میں خرید و فروخت یا لین دین کرنا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ (سورۃ البقرۃ آیت 282)
جب لین دین کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔
​

2: شری​

بیع کی طرح شری بھی لغت اضداد سے ہے۔ اور خریدنے اور بیچنے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے (دیکھیے ضمیمہ 3) البتہ اشتری کا لفظ خریدنے کے معنوں میں مخصوص ہے۔ اور مشتری خریدار کو کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ (سورۃ التوبہ آیت 111)
اللہ نے مومنوں سے انکی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں اور اسکے عوض انکے لئے بہشت تیار کی ہے۔
​

3: تجارۃ​

تجر کا لفظ بھی خریدنے اور بیچنے دونوں معنوں میں آتا ہے لیکن اس میں خریدنے یا بیچنے سے اصل غرض نفع کمانا ہوتا ہے جبکہ بیع و شری میں اس سے مقصد کوئی دوسری غرض پوری کرنا ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 16)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ تو انکی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ یہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔
​

ماحصل:​

  • باع: خرید و فروخت کرنا، جبکہ غرض ذاتی ضرورت پوری کرنا ہو ۔اور عرف عام میں بائع بیچنے والے کو کہتے ہیں۔
  • شری: خرید و فروخت کرنا جبکہ غرض ذاتی ضرورت پوری کرنا ہو۔ البتہ اشتری خریدنا کے معنوں میں آتا ہے۔
  • تجر: خرید و فروخت کرنا جبکہ اصل غرض نفع کمانا ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خزانہ​

کے لیے قنطار، کنز اور خزائن کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: قنطار​

سونے، چاندی یا نقدی کی ایک بھاری مقدار (جمع قناطیر) صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک یہ مقدار چار ہزار دینار یا اس سے زائد ہے (فل 64) یا بارہ ہزار اوقیہ (فل 287) قرآن میں ہے:
وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ ۚ (سورۃ آل عمران آیت 75)
اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس دیناروں کا ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو فوراً واپس دیدے۔
​

2: کنز​

جمع کنوز ایسا جمع شدہ مال جو لوگوں سے چھپایا جائے خواہ وہ دفینہ کی شکل میں ہو یا کسی دوسرے ذریعہ سے۔ اور ابن الفارس کے نزدیک ہر وہ مال جسے سر بند کیا جائے۔ اور کنز المال بمعنی جمع کیا، دفن کیا (م ق) (م ل)۔ قرآن میں ہے:
وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا (سورۃ الکہف آیت 82)
اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اسکے نیچے انکا خزانہ دفن تھا اور انکا باپ ایک نیک آدمی تھا۔
​

3: خزائن​

واحد خزین۔ خزینہ ذخیرہ کیا ہو جمع شدہ مال (منجد)، گودام، سٹور، نقدی یا کوئی دوسری جنس، پوشیدہ ہو یا ظاہر۔ اور خزن میں دو بنیادی باتیں ہیں (1) اکٹھا کرنا (2) حفاظت کرنا۔ خزنت السّر بمعنی میں نے راز کو محفوظ رکھا (م ل) اور اس جمع شدہ مال کے محافظ کو خازن کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ (سورۃ یوسف آیت 55)
یوسف نے کہا مجھے زرعی پیداوار پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کر سکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں۔
​

ماحصل:​

  • قنطار: مال و دولت کی ایک کثیر مقدار۔
  • کنز: پوشیدہ جمع شدہ مال۔
  • خزانۃ: کسی جنس یا نقدی کا سٹور یا ذخیرہ جس کی حفاظت کا انتظام ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خشک ہونا​

کے لیے یبس، ھاج (ھیج) ھمد، جفا (جفو) اور غاض (غیض) کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: یبس​

ضد رطب یہ لفظ عام ہے۔ کسی چیز سے یا کسی مقام سے پانی یا نمی کا ختم ہو جانا۔ کسی چیز کا خشک ہونا۔ قرآن میں ہے:
وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی (سورۃ طہ آیت 77)
اور ہم نے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر انکے لئے سمندر میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ فرعون کے آ پکڑنے کا خوف ہو گا اور نہ غرق ہونے کا ڈر۔
​

2: ھاج​

نباتات کا طبعی تقاضے یا پانی کی کمی کی وجہ سے سبز سے زرد اور خشک ہونا ۔نباتات کا پورے جوبن پر آنا اور پھر رو بہ زوال ہونا جب وہ پک کر زرد اور کاٹنے کے قابل ہو جائے (مف) اور ھاج النّبت بمعنی گھاس کا سوکھ جانا۔ اور ھاجت الارض بمعنی زمین کی گھاس کا سوکھنے لگنا (م ل)۔ قرآن میں ہے:
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ (سورۃ الزمر آیت 21)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اسکو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جسکے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ تیار ہو جاتی ہے پس تم اسکو دیکھتے ہو کہ زرد ہو گئ ہے پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔
​

3: ھمد​

پانی نہ ملنے کی وجہ سے زمین کا خشک اور بنجر ہو جانا یا نباتات کا خشک ہو کر سوکھ جانا (مف) نبات ھامدۃ بمعنی سوکھی ہوئی گھاس اور ارض ھامدۃ بمعنی خشک اور بنجر زمین (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ (سورۃ الحج آیت 5)
اور اے دیکھنے والے تو دیکھتا ہے کہ ایک وقت میں زمین خشک پڑی ہوتی ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ شاداب ہو جاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے۔
​

4: جفاء​

جفا یجفوا۔ دریا کا جھاگ یا کوڑا کرکٹ کنارے پر پھینک دینا یا ہانڈی کا ابل کر جھاگ وغیرہ کناروں پر پھینک دینا (مف) اور جفا اس بیکار اور بے فائدہ خس و خاشاک کو بھی کہتے ہیں جو دریا کے کنارے پر پڑا سوکھ جاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ (سورۃ الرعد آیت 17)
سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے اور پانی جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح اللہ صحیح اور غلط کی مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
​

5: غاض​

بمعنی کسی چیز کو کم کرنا اور اس کا خود بخود کم ہونا (مف) کسی چیز کو سکیڑنا یا اس کا سکڑ جانا۔ لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے (مف) قرآن میں ہے:
اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ (سورۃ الرعد آیت 8)
اللہ ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہی پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی واقف ہے اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔
​
اور غاض کی نسبت پانی کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے پانی کا خشک ہو جانا اور زمین میں جذب ہو کر سطح آب کا نیچے چلے جانا (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ ھود آیت 44)
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی خشک ہو گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بے انصاف لوگوں پر لعنت۔
​

ماحصل: ​

  • یبس: کا لفظ خشکی کے لیے عام ہے۔
  • ھاج: نباتات کا جوبن پر آنے کے بعد طبعی طور پر خشک اور زرد ہونا۔
  • ھمد: نباتات کا خشک ہو کر سوکھ جانا جبکہ اس کی وجہ پانی کی کمی یا زمین کا بنجر ہونا ہو۔
  • جفا: دریا کے کنارے پر جھاگ یا کوڑا کرکٹ کا سوکھ جانا۔
  • غاض: خشک ہو کر کم ہو جانا، سکڑ جانا، پانی کا نیچے اتر جانا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خلاصی پانا – دینا – چھٹکارا – رہائی​

کے لیے نجات (نجو)، مناص (نوص) اور انقذ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: نجات​

نجا بمعنی کسی افتاد، مشکل کام، مصیبت یا سزا سے بچ جانا۔ اور انجی بمعنی کسی دوسرے کو رہائی دینا۔ یہ لفظ عام ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ اِذۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ۚ یُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ (سورۃ الاعراف آیت 141)
اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو جب ہم نے تمکو فرعونیوں کے ہاتھ سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
​
اور نجات بمعنی خلاصی، رہائی اور چھٹکارا (منجد) ارشاد باری ہے:
وَ یٰقَوۡمِ مَا لِیۡۤ اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی النَّجٰوۃِ وَ تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَی النَّارِ (سورۃ مؤمن آیت 41)
اور اے قوم میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمکو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی آگ کی طرف بلاتے ہو۔
​

2: مناص​

نوص کے معنی میں تردد اور کہیں جا کر رہائی پانا شامل ہے (م ل) ناص فلانا کسی کے ہاتھ سے نکل جانا۔ ناصع عن قرنہ اپنے مقابل سے بھاگ جانا (منجد) اور مناص اسم ظرف ہے۔ مکانی اور زمانی دونوں معنوں میں مستعمل ہے بمعنی خلاصی کا وقت اور خلاصی کی جگہ ۔ ارشاد باری ہے:
کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ فَنَادَوۡا وَّ لَاتَ حِیۡنَ مَنَاصٍ (سورۃ ص آیت 3)
ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا تو وہ عذاب کے وقت لگے فریاد کرنے اور وہ چھٹکارے کا وقت نہیں تھا۔
​

3: انقذ​

کسی خطرہ یا ہلاکت سے کسی کو نجات دلانا، چھڑانا اور بچانا (مف) جیسے اللہ تعالی فرماتے ہیں:
اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ (سورۃ الزمر آیت 19)
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہو چکا ہو۔ تو کیا تم اسے جو دوزخ میں پڑا ہو نکال سکتے ہو۔
​

ماحصل:​

  • نجات: کا لفظ عام ہے۔ کسی الجھن، افتاد، عذاب، مصیبت وغیرہ سے رہائی پانے کے لیے۔
  • نوص: خود کہیں جا کر نجات حاصل کرنا۔
  • انقذ: نجات سے اخص ہے۔ خطرہ یا ہلاکت یا عذاب سے رہائی دلانے کے لیے آتا ہے۔
نیز دیکھیے "نجات پانا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خلقت – مخلوق​

کے بریّۃ (برئ)، انام اور جبلّا (جبل) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: بریّۃ​

برء سے مشتق ہے۔ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا۔ لہذا ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے بریّۃ میں شامل ہے۔ پوری مخلوق، ساری کائنات، زمین و آسمان، دیگر سیارے بھی اس میں شامل ہیں۔ قرآن میں ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ (سورۃ البینۃ آیت 7)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں۔
​

2: انام​

زمین پر موجود ہر قسم کی مخلوق کے لیے انام کا لفظ مستعمل ہے۔ جاندار ہو یا بے جان (م ا، فل 134) ارشاد باری ہے:
وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ (سورۃ الرحمن آیت 10)
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔
​
اور الوری بمعنی وہ خلقت جو زمین پر ایک وقت میں موجود ہو۔ اس میں ماضی اور مستقبل کی نسل شامل نہیں ہوتی (مف) مگر اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں نہیں ہے۔ اور اس کی جمع ورایا آتی ہے۔

3: جبلّا​

جبلّۃ کی جمع ہے۔ جبل یا پہاڑ بڑائی کے لحاظ سے اس کا معنی بہت بڑی جماعت (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَقَدۡ اَضَلَّ مِنۡکُمۡ جِبِلًّا کَثِیۡرًا ؕ اَفَلَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ یس آیت 62)
اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کر دیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟
​

ماحصل:​

بریّۃ تمام مخلوق کے لیے، انام زمین پر موجود مخلوق کے لیے اور جبلّا مکلف مخلوق کے ایک بڑے حصہ کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خواب​

کے لیے منام (نوم) رءیا، (رای) اور احلام کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: منام​

بمعنی سونے کی حالت۔ اور نیند میں انسان جو کچھ دیکھے وہ بھی منام ہے خواہ اس کی کچھ حقیقت ہو یا نہ ہو۔ ارشاد باری ہے:
اِذۡ یُرِیۡکَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَنَامِکَ قَلِیۡلًا ؕ (سورۃ الانفال آیت 43)
اس وقت اللہ نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا تھا۔
​

2: رءیا​

رای بمعنی دیکھنا۔ اس لفظ کا اطلاق سوتے میں کوئی واقعہ دیکھنے پر بھی ہوتا ہے جیسے:
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ (سورۃ یوسف آیت 5)
انہوں نے کہا کہ بیٹا! اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
​
اور بیداری کی حالت میں کوئی واقعہ دیکھنے پر بھی۔ معراج کا واقعہ جس پر جمہور علماء امت کا اتفاق ہے کہ یہ حالت بیداری میں ہوا تھا۔ اس کے متعلق اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 60)
اور جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو منظر ہم نے تمہیں دکھایا اسکو لوگوں کے لئے آزمائش کیا اور اسی طرح تھوہر کے درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئ۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو اس سے انکی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔
​
یہاں فتنۃ للناس کے الفاظ بھی اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ یہ واقعہ عالم بیداری کا تھا۔

3: احلام​

(حلم کی جمع) حلم بمعنی جوان اور بالغ ہونا۔ اور حلّم بمعنی نو عمری کا خواب، بیہودہ اور ڈراؤنے خواب (م ل، منجد) قرآن میں ہے:
قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ (سورۃ یوسف آیت 44)
انہوں نے کہا یہ خواب تو پریشان خیالی سے ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔
​

ماحصل:​

  • منام: کا لفظ خواب کے لیے عام ہے۔
  • رؤیا: کوئی واقعہ دیکھنا حالت خواب میں ہو یا بیداری میں۔
  • احلام: بے ربط، بیہودہ اور ڈراؤنے خواب۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خواہش​

کے لیے امل، امنیۃ، ھوی، شھوۃ اور وطر کے الفاظ آئے ہیں۔

1، 2: امل اور امنیۃ​

کے لیے دیکھیے "آرزو" اور "امید لگانا"۔

3: ھوی​

جمع اھواء بمعنی خواہشات نفس اور ان کی طرف میلان (مف) ھوی یھوی یعنی اوپر سے نیچے گرنے۔ اور المھوۃ گڑھے کو کہتے ہیں اور اھوا ایسی خواہشات کو کہتے ہیں جن کے پیچھے الگ کر انسان اپنی قدر و منزلت کھو دے (منجد)۔ یہ لفظ عموماً برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ابن فارس کے الفاظ میں ھوی النفس خال من کلّ خیر (م ل) یعنی خواہشات نفس وہ خواہشیں ہیں جن میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی (سورۃ النازعات آیت 40، 41)
اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور نفس کو بیجا خواہشوں سے روکتا رہا۔ تو اس کا ٹھکانہ بہشت ہی ہے۔
​

4: شھوۃ​

انسان کے طبعی تقاضوں کی خواہشات (جمع شھوات) ایسی خواہشیں جن ی طرف انسان کا نفس کھچا چلا جاتا ہے (مف) جیسے بھوک، پیاس، مال کی حرص اور جنسی شہوت۔ خواہ ان کا استعمال اچھا ہو یا برا اور ان میں انسان کے اپنے ارادہ کو دخل نہیں ہوتا (فق ل 98) قرآن میں ہے:
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ (سورۃ آل عمران آیت 14)
لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں مگر یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں۔ اور اللہ کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔
​
اور شھو یشھو بمعنی کھانے کا لذیذ ہونا (منجد) اور اشتھا کا لفظ کھانے پینے کی چیزوں کی طلب یا بھوک سے مخصوص ہو گیا ہے۔ قرآن میں ہے:
نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ (سورۃ حم سجدۃ آیت 31)
ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے رفیق ہیں اور وہاں جس نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تمکو ملے گی اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے موجود ہو گی۔
​

5: وطر​

کسی چیز کی انتہائی خواہش اور اہم ضرورت (مف) ہمبستری، شہوت (م ق) قرآن میں یہ لفظ جنسی خواہش کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:
لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِیَآئِہِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡہُنَّ وَطَرًا ؕ (سورۃ الاحزاب آیت 37)
تاکہ مومنوں پر انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں جب وہ بیٹے ان سے اپنا تعلق ختم کر لیں یعنی طلاق دے دیں کچھ تنگی نہ رہے۔
​

ماحصل:​

  • امل: ایسی خواہش جس کے لیے طویل مدت درکار ہو۔
  • امنیّۃ: بے بنیادی اور جھوٹی خواہش۔
  • ھوی: بری خواہشات یا فطری خواہشات کا برا استعمال۔
  • شھوات: انسانی کی طبعی خواہشات۔
  • وطر: انتہائی خواہش اور اہم ضرورت، بالخصوص ہم بستری۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خوبصورت​

کے لیے بھیج، ناضرۃ اور حسان کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: بھیج​

بھیج بمعنی خوبصورت ہونا۔ اور ابھج المکان بمعنی کسی جگہ کا سر سبز و شاداب ہونا اور بھجۃ بمعنی خوبصورتی، سرسبزی، شادابی، سرور، خوشی یا اظہار خوشی (منجد) گویا بھجۃ کا لف عموماً نباتات کی خوبصورتی کے لیے آتا ہے۔ ایسی خوبصورتی جو دل کو خوش کر دے۔ اور بھیج بمعنی خوبصورت، پر رونق، پر بہار۔ ارشاد باری ہے:
وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ (سورۃ ق آیت 7)
اور زمین کو دیکھو اسے ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں۔
​

2: ناضرۃ​

نضر بمعنی تر و تازہ ہونا۔ اور نضر الوجہ بمعنی چہرے کا ملائم، تازہ اور خوبصورت ہونا۔ اور نضرۃ بمعنی حسن، رونق، نعمت۔ اور ناضر بمعنی خوبصورت، نرم و نازک (منجد) یہ لفظ گو نباتات کی تر و تازگی کے حسن پر بھی استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا اکثر استعمال انسان کے چہرے کی خوبصورتی پر ہوتا ہے جو تر و تازگی اور ملائمت کی وجہ سے ہو۔ ارشاد باری ہے:
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ (سورۃ القیامۃ آیت 22، 23)
اس روز بعض چہرے رونق دار ہوں گے۔ اپنے پروردگار کی طرف نظر کئے ہوں گے۔
​

3: حسان​

حسن بمعنی خوبصورت ہونا۔ اور حسین بمعنی خوبصورت حسنۃ اور حسناء (جمع حسان) اور حسن بمعنی خوبصورت، جمال اور محاسن کے معنی بدن کی خوبصورت جگہیں (منجد) ارشاد باری ہے:
فِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ‌ۚ‏ (سورۃ الرحمن آیت 70)
ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیں۔
​

ماحصل:​

  • بھجۃ: کا اطلاق عموماً نباتات کی خوبصورتی کے لیے۔
  • نضرۃ: چہرے کی ملائمت و تر و تازگی کی بنا پر خوبصورتی کے لیے۔
  • حسن: پسندیدہ اور خوش شکل ہونے کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خوراک – خوراک لانا​

کے لیے قوت، رزق اور مار (میر) کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: قوت​

بمعنی خوراک، غذا، خوراک کی اتنی مقدار جو سد رمق ہو یعنی جس سے کوئی جاندار زندہ رہ سکے۔ (جمع اقوات) اور قات یقوت بمعنی غذا کھلانا۔ اور اقات بمعنی ایسی چیز دینا جس وہ قوت حاصل کر سکے۔ کہتے ہیں ما لہ قوت لیلۃ اس کے پاس رات کا کھانا بھی نہیں ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَ بٰرَکَ فِیۡہَا وَ قَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ (سورۃ حم سجدۃ آیت 10)
اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سامان معیشت مقرر کیا سب چار دن میں۔ اور تمام طلبگاروں کے لئے یکساں۔
​

2: رزق​

بمعنی روزی رزق بمعنی روزی دینا۔ اور رزق پانا، خوش قسمت ہونا۔ اور مر زرق بمعنی خوش قسمت (منجد) اس لفظ کا استعمال مادی اور معنوی دونوں طرح ہوتا ہے۔ اور رزق بمعنی نصیبہ بھی ہے۔ رزقت علما بمعنی مجھے علم عطا ہوا۔ اور مادی لحاظ سے رزق ہر وہ چیز ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے (مف) اور رزق کے معنی بارش بھی ہے (مف، منجد) جیسے کہ ارشاد باری ہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ (سورۃ الذریات آیت 22)
اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔​
گویا ہر وہ چیز جو بلا واسطہ یا بالواسطہ روحانی یا جسمانی غذا اور تربیت کا سبب ہو وہ رزق ہے۔ ارشاد باری ہے:
قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 37)
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان باتوں میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں نے انکا مذہب چھوڑ دیا ہے۔
​

3: مار​

(میر) میر بمعنی کھانا، خوراک۔ اور میرۃ بمعنی جمع کی ہوئی خوراک (جمع میر) اور مار اور امار عیالہ بمعنی عیال کے لیے خوراک لانا۔ اور مائر اور میّار بمعنی خوراک لانے والا (منجد) گویا میر اس سامان خوردنی کو کہتے ہیں جو بطور ذخیرہ پاس رکھا جائے۔ قرآن میں ہے:
وَ نَمِیۡرُ اَہۡلَنَا وَ نَحۡفَظُ اَخَانَا وَ نَزۡدَادُ کَیۡلَ بَعِیۡرٍ ؕ ذٰلِکَ کَیۡلٌ یَّسِیۡرٌ (سورۃ یوسف آیت 35)
اور ہم اپنے اہل و عیال کے لئے پھر غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے کہ یہ غلہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے۔
​

ماحصل:​

  • قوت: خوراک کی اتنی مقدار جس سے کوئی جاندار زندہ رہ سکے۔
  • رزق: ہر وہ چیز جو بلا واسطہ یا بالواسطہ روحانی یا جسمانی تربیت کا سبب بنے۔
  • میر: غلہ یا سامان خوردنی جو ذخیرہ کے لیے۔ اور مار بمعنی خوراک لانا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خوش ہونا – کرنا اور لگنا​

کے لیے رضی، سرّ (سر)، بھج، حبر، استبشر، طاب (طیب)، فرح، فکہ، اشمت اور اعجب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: رضی​

معروف لفظ ہے۔ بمعنی راضی ہونا، پسندیدگی کا اظہار کرنا اور اس کی ضد سخط بمعنی نا خوش یا ناراض ہونا (مف، م ل) ارشاد باری ہے:
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا (سورۃ الفتح آیت 18)
اے پیغمبر جب مومن تم سے اس درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا۔ اور جو صدق و خلوص انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسکین نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔
​

2: سرّ​

بمعنی سرور بخشنا، قلبی فرحت ہونا، دل ہی دل میں خوش ہو جانا، لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 69)
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتا دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسٰی نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں کے دل کو خوش کر دیتا ہو۔
​

3: بھج​

بمعنی خوشی اور مسرور ہونا۔ اور بھج بمعنی خوبصورت ہونا (منجد) لیکن قرآن میں یہ لفظ انسان کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ البتہ سبزیوں اور پھلوں پھولوں کے لیے آتا ہے۔ جیسے حدائق ذات بھیجۃ (سورۃ النمل آیت 60) یا من کل زوج بھیج (سورۃ ق آیت 7) اور اس کے معنی پر رونق یا پر بہار کر لیے جاتے ہیں۔

4: حبر​

بمعنی خوش و مسرور کرنا۔ اور حبر بمعنی خوش ہونا۔ اور حبر الارض بمعنی زمین کا خوب پیداوار اگانا، خوب سر سبز ہونا۔ اور تحبّر بمعنی مزین ہونا، عمدہ ہونا (منجد)۔ گویا حبر سے مراد ایسی خوشی ہے جو ماحول کی نظافت، عمدگی اور بہار سے حاصل ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمۡ فِیۡ رَوۡضَۃٍ یُّحۡبَرُوۡنَ (سورۃ الروم آیت 15)
تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوشحال ہوں گے۔
​

5: استبشر​

بشر بمعنی کھال چھیلنا اور بشرۃ بمعنی کھال کے اوپر کا رخ۔ اور استبشر سے مراد ایسی خوشی ہے جس کے آثار جلد یا چہرہ سے نمایاں ہو جائیں، باچھیں کھل جانا، کسی اچھی خبر کے سننے یا اچھی چیز کے ملنے پر جو خوشی حاصل ہو، اس کے لیے استبشر کا لفظ استعمال ہو گا۔ اور بشّر کے معنی کوئی اچھی خبر دینا ہے جس سے دوسرا خوش ہو جائے، بشارت سنانا۔ قرآن میں ہے:
وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ (سورۃ التوبہ آیت 111)
اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
​
اور دوسرے مقام پر ہے:
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ (سورۃ الذریات آیت 28)
اور ان سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت سنائی۔
​

6: طاب​

طاب ایسی خوشی ہے جس سے دل کے علاوہ انسان کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مف) طیبات بمعنی پاکیزہ اشیا اور طیب بمعنی خوشبو (منجد) ارشاد باری ہے:
فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ (سورۃ النساء آیت 3)
جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کر لو
​

7: فرح​

کسی نعمت کے ملنے پر خوش ہونا، اور اس کی دو قسمیں ہیں، فرح القلب جبکہ انسان قسمت کے ملنے پر خوش ہو کر خدا کا شکر ادا کرے یہ صفت محمود ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ (سورۃ آل عمران آیت 170)
جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور شہید ہو کر ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں۔
​
فرح النفس جبکہ انسان کسی نعمت کے ملنے خدا کا شکر ادا کرنے کی بجائے اترانے لگے، بمعنی خوشیاں منانا، اور یہ صفت مذموم ہے۔ ارشاد باری ہے:
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِۣ (سورۃ الحدید آیت 23)
تاکہ جو فائدہ تمہیں حاصل نہ ہو سکا اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تمکو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
​
دوسری جگہ فرمایا:
اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الۡکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَۃِ اُولِی الۡقُوَّۃِ اِذۡ قَالَ لَہٗ قَوۡمُہٗ لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 76)
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان پر زیادتی کرنے لگا۔ اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دیئے تھے کہ انکی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتیں جب اس سے اسکی قوم نے کہا کہ اترایئے مت کہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
​

8: فکہ​

خوش گپیاں اڑانا، خوش ذوق ہونا اور ہنسنا ہنسانا (فل 145) طیب النفس یا خوش ذوقی (م ل) قرآن میں ہے:
وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ (سورۃ المطففین آیت 31)
اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے۔([1])
​

9: اشمت​

شمت بمعنی کسی کی مصیبت پر خوش ہونا۔ اور اشمت بمعنی اپنی مصیبت پر دوسرے کا خوش ہونا ہے۔ شماتت اعداد مشہور لفظ ہے جس کا معنی کسی تکلیف پر دشمن کا خوش ہونا۔ قرآن میں ہے:
فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 150)
تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ سمجھئے۔
​

10: اعجب​

کسی چیز کا دلکش ہونا، بھلا لگنا، اس حیرت کے ساتھ اس کا سبب معلوم نہ ہو (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ (سورۃ البقرۃ آیت 204)
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہو اور وہ اپنے مافی الضمیر پر یعنی اس بات پر جو اسکے دل میں ہے اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
​

ماحصل:​

  • رضی: محض پسندیدگی کا اظہار ہے۔
  • سرّ: دل ہی دل میں خوش ہونا۔
  • بھج: سرور، خوشی اور خوبصورتی سب کو شامل ہے۔ نباتات اور پھولوں کے لیے۔
  • حبر: ماحول کی نظافت، عمدگی اور بہار سے دل کا مسرور ہونا۔
  • استبشر: کسی اچھی خبر یا اچھی چیز ملنے پر باچھیں کھل جانا۔
  • طاب: ایسی خوشی جس سے حواس بھی لطف اندوز ہوں۔
  • فرح: خوش ہو کر اترانے لگنا، خوشیاں منانا۔
  • فکہ: خوش گپیاں کرنا اور خوش ذوق ہونا۔
  • شمت: کسی تکلیف پر دشمن کا خوش ہونا۔
  • اعجب: دل ہی دل میں اس طرح خوش ہونا کہ حیرت بھی ہو اور اس کا سبب بھی معلوم نہ ہو۔ خوشی اور حیرت کا مجموعہ۔

    ([1]) یہاں فکھین کا ترجمہ جالندھری صاحب رحمہ اللہ نے "اتراتے" اور عثمانیؒ صاحب رحمہ اللہ نے "باتیں بناتے" لکھا ہے۔ دونوں کو ملانے سے صحیح مفہوم ادا ہوتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خوش حالی​

کے لیے سرّاء، نعماء اور طوبی کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: سرّاء​

سرّاء کی ضد ضرّاء ہے۔ جس کے معنی ہیں تنگ دستی اور مصائب کا دور اور سرّآء کے معنی ہیں وہ وقت جو آرام و سکون سے گزر رہا ہو اور معیشت کی تنگی بھی نہ ہو یعنی آسودگی اور امن و عافیت کا دور جس میں سرور حاصل ہو (فق ل 163) ارشاد باری ہے:
الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 134)
جو آسودگی اور تنگی میں اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں۔ اور اللہ نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔
​

2: نعمآء​

نعمت بمعنی اچھی حالت، احسان اور نعمت بمعنی آرام و آسائش (مف) اور نعمت بمعنی فائدہ، فضل، انعام اور نعمت بمعنی بہتری، آسودگی، دولت، مویشی اور نعمۃ بمعنی خوشی (منجد) اور نعمآء خوشحالی کا ایسا دور ہے جس میں انعامات الہی کی فراوانی ہو۔ اور نعمتیں دوسروں کو بھی نظر آئیں (فق ل 163) اس کی ضد بھی ضرّاء ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ (سورۃ ھود آیت 10)
اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو خوش ہو کر کہتا ہے کہ سب سختیاں مجھ سے دور ہو گئیں۔ بیشک وہ ہے ہی خوشی میں مست ہو جانے والا بڑا فخر جتانے والا۔
​

3: طوبی​

طاب بمعنی ایسی خوشی حاصل ہونا جس سے دل کے علاوہ انسان کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مف) اور طیّب بمعنی پاکیزہ اور طیب بمعنی خوشبو (منجد) اور طوبی بمعنی ایسی خوشحالی ہے جس میں د بھی مطمئن اور مسرور ہو۔ ارشاد باری ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ (سورۃ ھود آیت 29)
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے انکے لئے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے۔
​

ماحصل:​

  • سرّآء: امن و عافیت اور عام گزارہ۔
  • نعماء: نعمتوں کی فراوانی اور آرام و آسائش۔
  • طوبی: جب خوشحالی کے ساتھ ساتھ دل بھی مطمئن ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خوشے​

کے لیے طلع، قطوف اور قنوان کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: طلع​

کے لغوی معنی نمودار ہونا، ظاہر ہونا، اور سامنے آنا ہے (م ل)، ستاروں کے لیے طلوع و غروب مشہور الفاظ ہیں اور طلع اس نئے خوشے کو بھی کہتے ہیں جبکہ وہ اپنے شگوفہ یا کھجور کے گابھے سے نمودار ہونے لگتا ہے (منجد)۔ قرآن میں ہے:
وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ (سورۃ ق آیت 10)
اور لمبے لمبے کھجور کے درخت جنکا گابھا تہ بہ تہ ہوتا ہے۔
​

2: قطوف​

قطف کی جمع ہے۔ اور قطف ایسا پکا ہوا پھل ہے جو بالکل توڑنے کے قابل ہو۔ اور قرآن سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے جبکہ صاحب منجد اس معنی "چنے ہوئے پھل، انگور کا گچھا جب وہ چنا جائے" بتلاتے ہیں۔ قرآن میں ہے:
فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ قُطُوۡفُہَا دَانِیَۃٌ (سورۃ الحاقۃ آیت 21تا 23)
پس وہ شخص من مانے عیش میں ہو گا۔ یعنی اونچے باغ میں۔ جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔​
جس سے واضح ہے کہ درختوں کا پھل گو پک کو توڑنے کے قابل ہو چکا ہو تاہم ابھی درختوں پر ہے اور اس کے اللہ تعالی نے قطوف کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔

3: قنوان​

قنو کی جمع ہے یہ لفظ صرف کھجور اور انگور کے گچھے سے مختص ہے جو ابھی توڑنے کے قابل نہ ہوا ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ (سورۃ الانعام آیت 99)
اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے۔
​

ماحصل: ​

پھل کے شگوفے سے خوشہ نمودار ہونے کو طلع، پک کر چننے کے قابل بن جانے کی حالت کو قطف اور درمیانی حالت کو قنو کہتے ہیں۔ مگر قنو کا اطلاق صرف کھجور اور انگور کے خوشے پر ہوتا ہے۔
خون بہانا کے لیے دیکھیے "قتل کرنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

خیانت کرنا​

کے لیے خان اور غلّ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: خان​

بمعنی خیانت کرنا اور اس کی ضد امانت ہے۔ اور یہ خیانت عہد میں بھی ہوتی ہے۔ اور بطور امانت رکھے ہوئے مال میں بھی۔ جیسے سارا مال یا اس کا کچھ حصہ حیلے بہانے سے غبن اور غصب کر لیا جائے۔ اسی طرح عہد شکنی اور اس عہد کا پاس نہ کرنے پر بھی خیانت کا اطلاق ہوتا ہے۔ دغا کرنا (مف) درج ذیل آیت سے یہ دونوں مفہوم واضح ہو جاتے ہیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 27)
اے ایمان والو! نہ تو اللہ اور رسول سے خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم ان باتوں کو جانتے ہو۔
​

2: غلّ​

بمعنی کوئی چیز چوری سے اپنے سامان میں رکھ لینا پھر اسے یوں بند کرنا کہ ظاہر نہ ہو سکے (منجد، م ا) اور غلول بمعنی خیانت کرنا، بند کرنا اور بخل کرنا سب معنوں میں آتا ہے (منجد)۔ گویا غلّ میں خیانت کے علاوہ چوری کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے یا اس خیانت کا ذریعہ ہی چوری ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 161)
اور کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی پیغمبر خیانت کرے۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز اللہ کے روبرو لا حاضر کرنی ہو گی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور انکے ساتھ بے انصافی نہیں کی جائے گی۔
​

ماحصل:​

خان عہد کی غداری اور امانت کو حیلے بہانے سے ہضم کرنا جبکہ غلّ میں خیانت کی وجہ چوری ہوتی ہے۔
 
Top