خوش ہونا – کرنا اور لگنا
کے لیے ر
ضی، سرّ (سر)، بھج، حبر، استبشر، طاب (طیب)، فرح، فکہ، اشمت اور اعجب کے الفاظ آئے ہیں۔
1: رضی
معروف لفظ ہے۔ بمعنی راضی ہونا، پسندیدگی کا اظہار کرنا اور اس کی ضد سخط بمعنی نا خوش یا ناراض ہونا (مف، م ل) ارشاد باری ہے:
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا (سورۃ الفتح آیت 18)
اے پیغمبر جب مومن تم سے اس درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا۔ اور جو صدق و خلوص انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسکین نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔
2: سرّ
بمعنی سرور بخشنا، قلبی فرحت ہونا، دل ہی دل میں خوش ہو جانا، لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 69)
انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتا دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسٰی نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں کے دل کو خوش کر دیتا ہو۔
3: بھج
بمعنی خوشی اور مسرور ہونا۔ اور بھج بمعنی خوبصورت ہونا (منجد) لیکن قرآن میں یہ لفظ انسان کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ البتہ سبزیوں اور پھلوں پھولوں کے لیے آتا ہے۔ جیسے حدائق ذات بھیجۃ (سورۃ النمل آیت 60) یا من کل زوج بھیج (سورۃ ق آیت 7) اور اس کے معنی پر رونق یا پر بہار کر لیے جاتے ہیں۔
4: حبر
بمعنی خوش و مسرور کرنا۔ اور حبر بمعنی خوش ہونا۔ اور حبر الارض بمعنی زمین کا خوب پیداوار اگانا، خوب سر سبز ہونا۔ اور تحبّر بمعنی مزین ہونا، عمدہ ہونا (منجد)۔ گویا حبر سے مراد ایسی خوشی ہے جو ماحول کی نظافت، عمدگی اور بہار سے حاصل ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمۡ فِیۡ رَوۡضَۃٍ یُّحۡبَرُوۡنَ (سورۃ الروم آیت 15)
تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوشحال ہوں گے۔
5: استبشر
بشر بمعنی کھال چھیلنا اور بشرۃ بمعنی کھال کے اوپر کا رخ۔ اور استبشر سے مراد ایسی خوشی ہے جس کے آثار جلد یا چہرہ سے نمایاں ہو جائیں، باچھیں کھل جانا، کسی اچھی خبر کے سننے یا اچھی چیز کے ملنے پر جو خوشی حاصل ہو، اس کے لیے استبشر کا لفظ استعمال ہو گا۔ اور بشّر کے معنی کوئی اچھی خبر دینا ہے جس سے دوسرا خوش ہو جائے، بشارت سنانا۔ قرآن میں ہے:
وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ (سورۃ التوبہ آیت 111)
اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
اور دوسرے مقام پر ہے:
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ (سورۃ الذریات آیت 28)
اور ان سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت سنائی۔
6: طاب
طاب ایسی خوشی ہے جس سے دل کے علاوہ انسان کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مف) طیبات بمعنی پاکیزہ اشیا اور طیب بمعنی خوشبو (منجد) ارشاد باری ہے:
فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ (سورۃ النساء آیت 3)
جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کر لو
7: فرح
کسی نعمت کے ملنے پر خوش ہونا، اور اس کی دو قسمیں ہیں، فرح القلب جبکہ انسان قسمت کے ملنے پر خوش ہو کر خدا کا شکر ادا کرے یہ صفت محمود ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ (سورۃ آل عمران آیت 170)
جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور شہید ہو کر ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں۔
فرح النفس جبکہ انسان کسی نعمت کے ملنے خدا کا شکر ادا کرنے کی بجائے اترانے لگے، بمعنی خوشیاں منانا، اور یہ صفت مذموم ہے۔ ارشاد باری ہے:
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِۣ (سورۃ الحدید آیت 23)
تاکہ جو فائدہ تمہیں حاصل نہ ہو سکا اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تمکو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
دوسری جگہ فرمایا:
اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الۡکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَۃِ اُولِی الۡقُوَّۃِ اِذۡ قَالَ لَہٗ قَوۡمُہٗ لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 76)
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان پر زیادتی کرنے لگا۔ اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دیئے تھے کہ انکی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتیں جب اس سے اسکی قوم نے کہا کہ اترایئے مت کہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
8: فکہ
خوش گپیاں اڑانا، خوش ذوق ہونا اور ہنسنا ہنسانا (فل 145) طیب النفس یا خوش ذوقی (م ل) قرآن میں ہے:
وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ (سورۃ المطففین آیت 31)
اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے۔([1])
9: اشمت
شمت بمعنی کسی کی مصیبت پر خوش ہونا۔ اور اشمت بمعنی اپنی مصیبت پر دوسرے کا خوش ہونا ہے۔ شماتت اعداد مشہور لفظ ہے جس کا معنی کسی تکلیف پر دشمن کا خوش ہونا۔ قرآن میں ہے:
فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 150)
تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ سمجھئے۔
10: اعجب
کسی چیز کا دلکش ہونا، بھلا لگنا، اس حیرت کے ساتھ اس کا سبب معلوم نہ ہو (مف) ارشاد باری ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ (سورۃ البقرۃ آیت 204)
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہو اور وہ اپنے مافی الضمیر پر یعنی اس بات پر جو اسکے دل میں ہے اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
ماحصل:
- رضی: محض پسندیدگی کا اظہار ہے۔
- سرّ: دل ہی دل میں خوش ہونا۔
- بھج: سرور، خوشی اور خوبصورتی سب کو شامل ہے۔ نباتات اور پھولوں کے لیے۔
- حبر: ماحول کی نظافت، عمدگی اور بہار سے دل کا مسرور ہونا۔
- استبشر: کسی اچھی خبر یا اچھی چیز ملنے پر باچھیں کھل جانا۔
- طاب: ایسی خوشی جس سے حواس بھی لطف اندوز ہوں۔
- فرح: خوش ہو کر اترانے لگنا، خوشیاں منانا۔
- فکہ: خوش گپیاں کرنا اور خوش ذوق ہونا۔
- شمت: کسی تکلیف پر دشمن کا خوش ہونا۔
- اعجب: دل ہی دل میں اس طرح خوش ہونا کہ حیرت بھی ہو اور اس کا سبب بھی معلوم نہ ہو۔ خوشی اور حیرت کا مجموعہ۔
([1]) یہاں فکھین کا ترجمہ جالندھری صاحب رحمہ اللہ نے "اتراتے" اور عثمانیؒ صاحب رحمہ اللہ نے "باتیں بناتے" لکھا ہے۔ دونوں کو ملانے سے صحیح مفہوم ادا ہوتا ہے۔