مترادفات القرآن (د)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

داخل ہونا – کرنا​

کے لیے دخل اور ادخل، ولج اور اولج، صلی اور صلّی اور سلک کے الفاظ آئے ہیں۔

1: دخل​

معروف لفظ ہے۔ اندر آنا (ضد خرج بمعنی باہر نکلنا) اور اس کا استعمال ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ (سورۃ یوسف آیت 36)
اور ان (حضرت یوسف علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔
​
اور داخل کرنا کے لیے ادخل استعمال ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا:
یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا (سورۃ الدھر آیت 31)
وہ جسکو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے۔ اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔​

2: ولج​

الولوج کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کو کہتے ہیں (مف)، بمشکل داخل ہونا، گھسنا۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 40)
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
​
اور تنگ جگہ میں داخل کرنے یا گھسیڑنے کے لیے اولج استعمال ہو گا۔ ارشاد باری ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ (سورۃ حج آیت 61)
یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ تو سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔
​

3: صلی​

کا لفظ آگ میں داخل ہونے کے لیے مخصوص ہے۔ بمعنی آگ میں داخل ہونا اور جلنا (مف)۔ ارشاد باری ہے:
جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ (سورۃ ابراہیم آیت 29)
یعنی دوزخ میں کہ سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
​
اور آگ میں داخل کرنے یا جلانے کے لیے صلّی کا استعمال ہو گا (مف)۔ ارشاد باری ہے:
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ (سورۃ الحاقۃ آیت 30، 31)
حکم ہو گا کہ اسے پکڑ لو اب اسے طوق پہنا دو۔ پھر دوزخ کی آگ میں اسے جھونک دو۔
​

5: سلک​

کا لفظ کئی معنوں میں اور لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں داخل ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
1: بمعنی پرونا یا گھسانا جیسے موتی دھاگہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
کَذٰلِکَ سَلَکۡنٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ (سورۃ الشعراء آیت 200)
اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیا۔(جالندھریؒ) گھسا دیا (عثمانیؒ)
​
2: ڈالنا، داخل کرنا۔ جیسے گریبان میں ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ القصص آیت 32)
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا
​
اب یہی آیت کا ٹکڑا دوسرے مقام پر اسلک کی بجائے ادخل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ النمل آیت 12)
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو بے عیب سفید و روشن نکلے گا
​
3: راستہ کے ساتھ ساتھ چلتے جانا۔ اللہ تعالی شہد کی مکھی سے فرماتے ہیں:
ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا (سورۃ النحل آیت 69)
پھر ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔
​
اس آیت میں اسلکی کا ترجمہ ادخلی سے بھی کیا گیا ہے (م ق) نیز قرآن میں ہے:
مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ (سورۃ مدثر آیت 42)
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
​
ان سب تصریحات کو سامنے رکھ کر صاحب منتہی الارب نے سلک کا مختصر ترین مفہوم یوں ادا کیا ہے "کشیدن چیزے در چیزے" یعنی ایک چیز دوسری میں کھینچنا یا میں سے کھینچنا۔ اور صاحب منجد کے نزدیک ایک چیز کو دوسری میں رکھ دینا۔ اور صاحب مقیائیس اللغہ اس کے بنیادی معنی دو بتلاتے ہیں (1) رستہ کے ساتھ ساتھ چلے جانا (2) ایک چیز کو دوسری میں داخل کرنا، پرونا۔

ماحصل:​

  • دخل: کا لفظ عام ہے۔
  • ولج: تنگ جگہ میں داخل ہونا۔
  • صلی: آگ میں داخل ہونا۔
  • سلک: ایک چیز دوسری میں کھینچنا یا داخل کرنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

داروغہ​

کے لیے خزنۃ، مصیطر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: خزنۃ​

خازن کی جمع، جمع کنندہ، خزانچی، وہ شخص جو خزانے یا سٹور میں مال یا جنس جمع کرنے اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جہنم میں ڈیوٹی پر مقرر شد فرشتوں کو بھی قرآن میں خزنۃ کہا گیا ہے۔ اور اس کے معنی داروغہ کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ (سورۃ الملک آیت 8)
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں انکی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟
​

2: مصیطر​

اس لفظ کو ص کی بجائے اہل لغت س سے لکھتے ہیں۔ اور قرآن میں ص سے لکھ کر اوپر چھوٹی سی س لکھ دی جاتی ہے۔ پھر بعض اہل لغت اسے مادہ سطر کے تحت لائے اور بعض سیطر کے تحت۔ سیطر علی بمعنی کسی پر غالب آنا اور اس کا نگران بننا۔ اور سیطر بمعنی گماشتہ اور نگران۔ قرآن میں ہے:
فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ (سورۃ الغاشیہ آیت 21، 22)
پس اے نبی ﷺ تم تو نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں ہو۔
​
یعنی ان پر آپ کا کچھ زور نہیں کہ زبردستی ان سے اپنی بات منوا سکیں۔

ماحصل: ​

خازن اور مصیطر میں وہی فرق ہے جو حفیظ اور رقیب میں ہے۔
خازن کی ذمہ داری محض یہ ہے کہ وہ جمع شدہ اشیا کی حفاظت کرے جبکہ مصیطر کے ذمہ ان کی کڑی نگہداشت بھی ہے۔ کیونکہ وہ ان پر غالب ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

داغ دینا​

کے لیے وس، کوی، شیۃ (وشی) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: وسم​

بمعنی نشان کرنا، داغ لگانا (مف) اور بمعنی جسم پر نقش و نگار، تل وغیرہ کھودنا (م ل) اور وسّم بمعنی خضاب لگانا اور وسام اور وسمہ وہ چیز ہے جس سے داغ لگایا جائے یا رنگا جائے (م ق)۔ قرآن میں ہے:
سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ (سورۃ القلم آیت 16)
ہم عنقریب اسکی اونچی ناک پر داغ لگائیں گے۔
​

2: کوی یکوی​

لوہے یا کسی دوسری دھات کے آلہ کو آگ میں سرخ کر کے اس کو جلد پر رکھ کر داغ دینا اور جلد کا اتنا حصہ جلا دینا۔ اور کاویۃ اس اوزار کو کہتے ہیں جس سے داغ لگایا جائے۔ ارشاد باری ہے:
یَّوۡمَ یُحۡمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکۡوٰی بِہَا جِبَاہُہُمۡ وَ جُنُوۡبُہُمۡ وَ ظُہُوۡرُہُمۡ ؕ ہٰذَا مَا کَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡنِزُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 35)
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان بخیلوں کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
​

3: شیۃ​

(وشی) وشیت الشئ وشیا بمعنی کسی چیز میں کے عام رنگ کے خلاف کوئی اور رنگ لگانا ہے۔ اور وشیۃ اور شیۃ کے معنی ایسے رنگ کا نشان یا داغ ہے جو سارے بدن کے رنگ کے علاوہ ہو (مف)۔ ارشاد باری ہے:
مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا (سورۃ البقرۃ آیت 71)
اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔
​

ماحصل:​

  • وسم: نقش و نگار یا تل وغیرہ کھودنا۔
  • کوی: کاویۃ وغیرہ سے جلد کو جلا کر داغ دینا۔
  • شیۃ: ایسا داغ یا نشان جو سارے بدن کے رنگ کے علاوہ ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دبلا​

کے لیے عجاف اور ضامر کے الفاظ آئے ہیں۔

1: عجاف ​

(اعجف کی جمع) عجف بمعنی کھانا ترک کر دینا جبکہ بھوک ابھی باقی ہو (م ق) اور عجف بمعنی چربی کم ہو کر دبلا ہو جانا (م ل)۔ گویا اعجف وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور اور لاغر ہو گیا ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ (سورۃ یوسف آیت 43)
اور بادشاہ نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے دیکھتا کیا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنکو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔
​

2: ضامر​

(ضمر) الاضمار بمعنی گھڑ دوڑ کا میدان، گھوڑوں کے سدھانے کا میدان، گھڑ دوڑ کے میدان کی انتہا اور گھوڑوں کے سدھانے کا عرصہ (منجد) اور ضامر وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سدھانے اور مشق کی کثرت اور کسرت کی وجہ سے دبلا پتلا اور چھریرے بدن والا ہو جائے۔ سب رو، سبک خرام تاکہ مقابلہ میں آگے نکل سکے۔ عرب میں ضامر کا لفظ عموماً اونٹ کے لیے مختص ہو گیا خواہ نر ہو یا مادہ۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ (سورۃ الحج آیت 27)
اور لوگوں میں حج کے لئے اعلان کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہوں سوار ہو کر چلے آئیں۔
​

ماحصل:​

  • اعجف: وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے دبلا ہو۔
  • ضامر: وہ ہے جو مشق اور کسرت کی وجہ سے دبلا پتلا اور چھریرے بدن والا ہو جائے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دراز ہونا – کرنا​

طال اور تطاول، مدّ اور مدّد اور باعد کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: طال ​

(طولا) بمعنی لمبا ہونا، طول بمعنی لمبائی (ضد عرض بمعنی چوڑائی) اور اطال بمعنی لمبا کرنا۔ قرآن میں ہے:
وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 37)
اور زمین پر اکڑ کر اور تن کر مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔
​
اور تطاول علیہ العمر بمعنی کی عمر بڑھنا، عمر کا لمبا ہونا (منجد)۔ قرآن میں ہے:
وَ لٰکِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ۚ (سورۃ القصص آیت 45)
لیکن ہم نے موسٰی کے بعد کئ امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر ایک لمبی مدت گذر گئی۔
​

2: مدّ​

بمعنی کھینچنا اور لمبا کرنا، کسی چیز کو کھینچ کر اس طرح لمبا کرنا اور پھیلانا کہ چیز متصل ہی رہے (مف) اور مدّت بمعنی لمبائی۔ ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَ لَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا (سورۃ الفرقان آیت 45)
بھلا تم نے اپنے پروردگار کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسکو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر ہم سورج کو اسکا راہنما بنا دیتے ہیں۔
​
اور مدّد میں تکرار لفظی سے تاکید معنوی مقصود ہے۔ جیسے قرآن میں ہے:
فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ (سورۃ الھمزۃ آیت 9)
یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں۔
​

3: باعد​

بعد بمعنی دور ہونا۔ اور باعد بمعنی دو چیزوں کے درمیان فاصلہ بڑھا دینا۔ قرآن میں ہے:
فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ (سورۃ سباء آیت 19)
تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں دوری پیدا کر دے اور اس سے انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے انہیں نابود کر کے داستان بنا دیا اور انہیں بالکل منتشر کر دیا۔
​

ماحصل:​

  • طال: محض لمبا ہونا۔
  • مدّ: کسی چیز کو کھینچ کر لمبا کرنا۔
  • باعد: دو چیزوں کے درمیان فاصلہ بڑھنا اور لمبا کرنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

درپے ہونا​

کے لیے تصدّی اور حفا کے الفاظ آئے ہیں۔

1 تصدّی​

صدی بمعنی گونج، صدائے باز گشت جو کسی گنبد یا دوسری جگہ سے ٹکرا کر واپس آئے اور تصدي بمعنی صدائے باز گشت کی طرح کسی چیز کے درپے ہونا۔ متوجہ ہونا (مف)۔ ارشاد باری ہے:
اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی (سورۃ عبس آیت 5، 6)
اب وہ جو پروا نہیں کرتا۔ سو اسکی طرف تو تم توجہ کرتے ہو۔
​

2: حفا​

(حفو) بمعنی کسی چیز کے مانگنے میں اصرار کرنا یا کسی کی حالت معلوم کرنے کے لیے بحث و کاوش میں لگے رہنا (مف)۔ گویا حفو کا لفظ مسلسل کسی بات کے درپے ہونے یا پیچھے پڑنے کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں ہے:
لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ (سورۃ الاعراف آیت 187)
اور ناگہاں تم پر آ جائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا (سورۃ مریم آیت 47)
ابراہیم نے سلام علیکم کہا اور کہا کہ میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔
​
اس آیت میں حفیّا کے اصل معنی لمحہ لمحہ کی خبر گیری کرنے والا ہے جس کا مختصر ترجمہ مہربان کر لیا جاتا ہے۔

ماحصل: ​

  • تصدّی: عارضی اور وقتی طور پر کسی چیز کے درپے ہونا۔
  • حفا: مسلسل طور پر درپے رہنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

درخت اور پودے​

کے لیے شجرۃ، شجر، نجم، اثل، یقطین، ضریع، زقوم کے الفاظ آئے ہیں۔

1: شجرۃ، شجر​

شجرۃ بمعنی ایک درخت (جمع شجر) بمعنی ہر وہ نباتات جس کا تنا ہو (مف) اس پر شجرۃ کا اطلاق ہو سکتا ہے خواہ یہ بلند چلا جائے یا زمین پر پھیل جائے۔ گویا شجرۃ کا لفظ عام ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَہَاۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِـُٔوۡنَ (سورۃ الواقعہ آیت 71، 72)
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو۔ کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
​

2: نجم​

بمعنی ستارہ بھی اور بے تنا نباتات بھی ہے۔ یعنی جڑی بوٹیاں وغیرہ (مف) ارشاد باری ہے:
وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ (سورۃ الرحمن آیت 6)
اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔
​

3: اثل​

اثل زمین میں جڑ پکڑنا، اور اثل ہر وہ درخت ہے جس کی جڑ مضبوط ہو۔ عموماً اس کا اطلاق جھاؤ کے درخت پر ہوتا ہے (مف، منجد) ارشاد باری ہے:
فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ (سورۃ سباء آیت 16)
تو انہوں نے شکرگذاری سے منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں انکے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جنکے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ کے پیڑ تھے اور تھوڑی سی بیریاں۔
​

4: یقطین​

بمعنی ہر وہ درخت جس پودا (پنڈلی، ساق) نہ ہو (مف) اس کا اطلاق عموماً بیلدار پودوں بالخصوص پیٹھہ کدو کی بیل پر ہوتا ہے (م ق)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَنۡۢبَتۡنَا عَلَیۡہِ شَجَرَۃً مِّنۡ یَّقۡطِیۡنٍ (سورۃ الصافات آیت 146)
اور ان پر کدو کی بیل اگا دی۔
​

5: ضریع​

بمعنی خار دار جاڑ یا کانٹے والی جھاڑی (مف) ارشاد باری ہے:
لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ(سورۃ الغاشیہ آیت 6)
ایک سخت خار دار جھاڑی کے سوا انکے لئے کوئی کھانا نہیں ہو گا۔
​

6: زقوم​

بمعنی تھوہر کا درخت جس کے پتے چوڑے، موٹے اور کانٹے دار ہوتے ہیں اور ذائقہ نہایت کڑوا ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ طَعَامُ الۡاَثِیۡمِ (سورۃ الدخان آیت 43، 44)
بلاشبہ تھوہر کا درخت۔ گنہگاروں کا کھانا ہو گا۔
​

ماحصل:​

  • شجرۃ: عام ہے۔ ہر طرح کی نباتات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو تنا دار ہو۔
  • نجم: بے تنا نباتات، جڑی بوٹیاں۔
  • اثل: مضبوط جڑ والے پودے اور جھاؤ کا درخت۔
  • یقطین: ایسے درخت جن کا پورا نہ وہ۔ پھلدار درخت، خصوصاً پیٹھہ کدو کی بیل۔
  • ضریع: کانٹے دار جھاڑیاں۔
  • زقوم: زمین میں پھیل جانے والی چوڑے اور خار دار پتوں والی نباتات۔ چھتر تھوہر۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

درست – ٹھیک​

کے لیے صواب اور حقّ کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: صواب​

بمعنی درست، ٹھیک، لائق (منجد)۔ (ضد خطا) اور صاب و اصاب السھم بمعنی تیر کا ٹھیک نشانہ پر لگنا۔ اور استصواب بمعنی کسی رائے یا فعل کو درست پانا، ٹھیک خیال کرنا۔ اور صویب اور مصیب بمعنی ٹھیک رائے والا، درست کار (منجد) اور اگر تیر درست نشانہ پر لگ کر وہیں بیٹھ جائے تو اسے مصیبۃ کہتے ہیں جس کا اطلاق ہر تکلیف دہ حادثہ پر ہوتا ہے (مف)۔ گویا صواب کا تعلق بالعموم قول اور رائے سے اور بعض دفعہ کام سے بھی ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا (سورۃ النباء آیت 38)
جس دن جبریل امین اور دوسرے فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا۔ مگر جسکو رحمٰن اجازت بخشے اور وہ بات بھی درست ہی کہے۔
​

2: حقّ​

بمعنی سچ، سچائی، حقیقت، درست (ضد باطل) یعنی ہر وہ بات یا چیز جو تجربہ اور مشاہد کے بعد درست ثابت ہو (مف) ارشاد باری ہے:
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ (سورۃ حم سجدۃ آیت 53)
ہم عنقریب انکو اطراف عالم میں بھی اور خود انکی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ کیا تمکو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے۔
​

ماحصل:​

صواب میں درستی کا تعلق کسی شخص کے قول یا رائے سے ہوتا ہے جبکہ حق میں ہر وہ چیز یا بات ہے جو تجربہ اور مشاہدہ سے درست ثابت ہو۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

درست کرنا​

کے لیے اصلح اور سوّی کے الفاظ آئے ہیں۔

1: اصلح​

اصلاح کی ضد فساد بمعنی بگاڑ ہے۔ اور اصلح کے معنی بگاڑ کو درست کرنا۔ فتنہ و فساد کو دور کرنا، کسی چیز میں افراط و تفریط سے پیدا شدہ بگاڑ کو درست کر دینا (مف) قرآن میں ہے:
اِنۡ اُرِیۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ (سورۃ ھود آیت 88)
میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے تمہارے معاملات کی اصلاح چاہتا ہوں
​

2: سوّی​

سوی یسوی کے معنی کسی چیز کی شکل و صورت کا درست ہونا۔ اور سوّی بمعنی کسی کام یا چیز کو درست کرنا، ہموار کرنا، برابر کرنا اور سیدھا کرنا (منجد) اور ابن الفارس کے نزدیک اس کا معنی الاستقامۃ والاعتدال ہے (م ل) جو بالکل یہی مفہوم ادا کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی (سورۃ الاعلی آیت 2)
جس نے انسان کو بنایا پھر اسکے اعضاء کو درست کیا۔
​

ماحصل:​

تخلیقی ناہمواریوں کو درست کرنے کے لیے سوّی، اس کے علاوہ دوسری اخلاقی و مادی بگاڑ کو درست کرنے کے لیے اصلح کا لفظ آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

درمیان​

کے لیے بیّن، خلل، وسط، سواء اور قصد کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: بین​

بمعنی دو الگ الگ چیزوں کے درمیان یہ کلمہ حرف ہے جو دو چیزوں کی جدائی یا علیحدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بان بمعنی دور ہونا۔ لہذا بین دو چیزوں کے درمیان بعد یا فاصلہ کے لیے آتا ہے۔ ابن الفارس کے نزدیک بین میں تین چیزیں پائی جاتی ہیں۔ (1) افتراق (2) بعد (3) وضوح (م ل) یعنی کسی چیز کا دوسری سے الگ ہو کر واضح ہونا۔ قرآن میں ہے:
وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 164)
اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
​
پھر یہ لفظ جس طرح مادی طور پر استعمال ہوتا ہے معنوی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے:
فَاحۡکُمۡ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ وَ لَا تُشۡطِطۡ (سورۃ ص آیت 22)
تو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے گا۔
​

2: خلل​

دو ایسی چیزوں کے درمیان کوئی جگہ جو آپس میں مربوط ہوں۔ الخلال دانتوں کی درمیان جگہ کو صاف کرنے کے تنکہ کو بھی کہتے ہیں اور اس جگہ کے صاف کرنے کو بھی۔ ایسے ہی ہاتھ کی انگلیوں یا داڑھی کے بالوں میں وضو کرتے وقت پانی سے خلال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَ لَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّ فَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا (سورۃ الکہف آیت 33)
دونوں باغ کثرت سے پھل لاتے۔ اور اسکی پیداوار میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔
​
پھر یہ لفظ ایک ہی چیز کے متفرق اجزا کی درمیانی جگہ کے لیے بھی آتا ہے۔ قرآن میں ہے:
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزۡجِیۡ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیۡنَہٗ ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ رُکَامًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ (سورۃ النور آیت 43)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر انکو آپس میں ملا دیتا ہے۔ پھر انکو تہ بہ تہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل سے مینہ نکل کر برس رہا ہے۔
​

3: وسط​

ہر چیز کی درمیانی جگہ جہاں سے اس کے دونوں اطراف کا فاصلہ برابر ہو (مف) یا اگر چیزیں زیادہ ہوں تو دونوں اطراف سے تعداد میں برابر ہوں۔ گویا افراط اور تفریط کے درمیان نقطہ اعتدال کو وسط کہتے ہیں۔ پھر یہ لفظ مادی اور معنوی دونوں طرح مستعمل ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 238)
مسلمانو سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز یعنی نماز عصر پورے اہتمام کے ساتھ ادا کرتے رہو اور اللہ کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو۔
وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا (سورۃ البقرۃ آیت 143)
اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے
​

4: سوآء​

بیچوں بیچ، مرکز، مرکزی نقطہ، کسی طول عرض اور عمق رکھنے والی چیز کا ہر طرف سے درمیان۔ ابن الفارس کے نزدیک اس کا معنی الاستقامۃ والاعتدال بین الشّیئین ہے (م ل) قرآن میں ہے:
خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ (سورۃ الدخان آیت 47)
حکم دیا جائے گا کہ اسکو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔
​

5: قصد​

بمعنی میانہ روی، وہ راہ یا طریق یا افراط اور تفریط کے درمیان ہو۔ نہ زیادہ نہ کم۔ جیسے اسراف اور بخل کے درمیان سخاوت یا تہوّر اور جبن کے درمیان شجاعت۔ اور قصد اور اقتصد فی النفقۃ بمعنی خرچ کرتے وقت افراط و تفریط سے بچ کر درمیانہ خرچ کرنا۔ اور قصد السبیل بمعنی راہ پر سیدھے چلتے جانا، ادھر ہونا نہ ادھر (مف، منجد) ارشاد باری ہے:
وَ اقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ (سورۃ لقمان آیت 19)
اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور بولتے وقت ذرا آواز نیچی رکھنا کیونکہ بہت اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے بری آواز گدھوں کی ہوتی ہے۔
​

ماحصل:​

  • بین: حرف دو الگ الگ چیزوں کے درمیان۔
  • خلال: ایک ہی چیز کے مختلف اجزا یا دو ایسی چیزوں کا درمیان جن کا آپس میں کچھ تعلق ہو۔
  • وسط: تعداد، مقدار یا فاصلہ کے لحاظ سے کسی چیز کا درمیان۔
  • سواء: ہر لحاظ سے درمیان، مرکزی نقطہ۔
  • قصد: راہ اعتدال، میانہ روی۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دشمن – دشمنی​

کے لیے عدوّ اور عداوۃ، بغضاء اور شنان اور شانئ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: عدوّ​

(جمع اعداء) ایسا دشمن جو بد خواہ ہو۔ برائی اور نقصان کی بات سوچنے والا اور تکلیف پر خوش ہونے والا۔ اور اس کی ضد صدیق ہے (ف ل 168)۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ (سورۃ الاعراف آیت 22)
بے شک شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔
​
اور عداوۃ بمعنی دشمنی اور بد خواہی۔ اور یہ دشمنی کا پہلا درجہ ہے (ف ل 169) اور بمعنی کسی کی نصرت سے ہٹ جانا (ضد ولایت) (فق ل 106)۔

2: بغضاء​

بغض (ضد حبّ) بمعنی کسی چیز یا شخص سے متنفر ہونا۔ یہ دشمنی کا دوسرا درجہ ہے (ف ل 169)۔ اور بغضۃ بمعنی کسی کو حقیر اور ذلیل کرنے کا ارادہ رکھنا (فق ل 106)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ (سورۃ المائدۃ آیت 64)
اور ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی قیامت کے دن تک ڈال دی ہے۔
​

3: شانئ​

شناء بمعنی دشمنی رکھنا، بغض رکھنا، نفرت کرنا (منجد) اور شنان اس سے مصدر ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا (سورۃ المائدۃ آیت 8)
اور کچھ لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ انصاف ہی نہ کرو۔
​
اور شانئ وہ شخص ہے جو بد خواہ بھی ہو اور کینہ پرور بھی۔ یعنی عداوت بھی رکھتا ہو اور بغض بھی (مف) یعنی بد ترین دشمن۔ اور یہ دشمنی کا تیسرا درجہ ہے (ف ل 169)۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر آیت 3)
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بے نام رہے گا۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دعا کرنا – دینا​

کے لیے دعا، سلّم، حیّی اور صلّ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: دعا​

(دعو) کا معنی پکارنا اور بلانا ہے۔ تاہم یہ لفظ دعا کرنے اور بد دعا کرنے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگر اس کا صلہ ل سے ہو تو دعا یا اچھی دعا کے معنوں میں آتا ہے اور اگر علی سے ہو تو بد دعا کرنے کا معنی دے گا۔ مثلاً دعا لہ اس کے لیے اچھی دعا کی۔ اور دعا علیہ بمعنی اس کے لیے بد دعا کی۔ (بد دعا کے لیے اس لفظ کا استعمال قران میں نہیں ہے)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا (سورۃ البقرۃ ایت 61)
اور جب تم نے کہا کہ موسٰی! ہم سے ایک ہی کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گہیوں اور مسور اور پیاز وغیرہ جو نباتات زمین سے اگتی ہیں ہمارے لئے پیدا کر دے۔
​

2: سلّم​

بمعنی سلامت رکھنا اور بچانا بھی ہے، سپرد کرنا بھی اور سلامتی کی دعا دینا بھی۔ یعنی السلام علیکم کہنا۔ ارشاد باری ہے
فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً (سورۃ النور آیت 61)
پھر جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو یہ اللہ کی طرف سےمبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔
​

3: حیّی​

حیّ بمعنی زندہ رہنا۔ اور حیّي (تحیّۃ) بمعنی کسی کو حیّاک اللہ کہنا۔ یعنی اللہ تمہاری عمر دراز کرے (منجد) پھر اس لفظ کا استعمال ہر طرح کی اچھی دعا کے لیے عام ہے۔ اور سلامتی کی دعا یا سلّم یا سلام کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ گویا سلّم اخص ہے اور حیّ اعم ہے (فق ل 44)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا (سورۃ النساء آیت 86)
اور جب تم کو کوئی دعا دے تو جواب میں تم اس سے بہتر کلمے سے اسے دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
​

4: صلّ​

(صل) صلوۃ ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا مفہوم نماز پنج وقتہ ہے جو اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے لیکن اس کا اصل معنی دعا دینا، تحسین و تبریک اور تعظیم کرنا ہے (مف) ارشاد باری ہے:
خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَ تُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ (سورۃ التوبہ آیت 103)
انکے مال میں سے زکوٰۃ قبول کر لو کہ اس سے تم انکو ظاہر میں بھی پاک اور باطن میں بھی پاکیزہ کرتے ہو اور انکے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا انکے لئے موجب تسکین ہے اور اللہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔
​
اور صلّ کی نسبت اگر اللہ تعالی کی طرف ہو تو اس سے مراد رحمت کا نزول ہوتا ہے اور اگر بندے کی طرف ہو تو اس سے مراد نزول رحمت کی دعا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (سورۃ الاحزاب آیت 56)
اللہ اور اس کے فرشتے اس پیغمبر ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
​

ماحصل:​

  • دعاء: ہر طرح کی دعا کے لیے عام ہے۔
  • سلّم: سلام کہنا، بھیجنا، سلامتی کی دعا کرنا۔
  • حیّی: درازی عمر کی دعا دینا۔
  • صلّ: نزول رحمت کی دعا کرنا، درود بھیجنا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دل​

کے لیے قلب، فواد (فاد)، صدر اور نفس کے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: قلب​

مشہور عضو ہے۔ روح و حیات کا منبع (جمع قلوب) عقل، فہم، سوچ، فکر کے لیے اللہ تعالی نے دل کو مخاطب فرمایا ہے۔ یعنی جو افعال جدید طب نے دماغ سے متعلق بتلائے ہیں، قرآن نے دل سے متعلق کیے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا (سورۃ الاعراف آیت 179)
انکے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں۔
​

2: فؤاد​

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ جو فرق عین اور بصر یا اذن اور سمع میں ہے وہی فرق دل اور فؤاد میں ہے۔ اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 36)
اور اے بندے جس چیز کا تجھے علم نہیں اسکے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب اعضاء کے بارے میں ضرور باز پرس ہو گی۔
​
لیکن یہ حقیقت نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے عقل و فہم، شعور اور تدبّر کے لیے براہ راست قلب کو مخاطب کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس عضو قلب کے کئی حصے ہیں۔ جس طرح دماغ کے مختلف حصے مختلف قوتوں کا مستقر ہیں۔ اسی طرح قلب کے مخصوص حصے بھی مخصوص افعال و جذبات سے متعلق ہیں۔ علم طب کی رو سے فؤاد ،قلب کے اوپر کا وہ حصہ ہے جو فم معدہ کے سامنے ہوتا ہے۔ اور وجع الفواد اسی جگہ پر کے درد کو کہتے ہیں۔
فؤاد (جمع افئدۃ) فاد سے مشتق ہے۔ فاد اللحم کے معنی گوشت کو آگ پر بھوننا۔ اور لحم فئید بمعنی آگ پر بھونا ہوا گوشت ہے۔ ابن فارس کے الفاظ میں افاد یدلّ علی حمي و شدّت الحرارۃ (م ل) یعنی یہ لفظ گرمی اور شدید حرارت پر دلالت کرتا ہے۔ لہذا جہاں انسان کے جذبات کی شدت اور اس کی تاثیر کا ذکر آئے گا تو یہ لفظ استعمال ہو گا۔ مثلاً:
وَ اَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰی فٰرِغًا ؕ اِنۡ کَادَتۡ لَتُبۡدِیۡ بِہٖ لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰی قَلۡبِہَا لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۃ القصص آیت 10)
اور موسٰی کی ماں کا دل بیقرار ہو گیا اگر ہم انکے دل کو مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس غم کو ظاہر کر دیتیں۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ مومنوں میں رہیں۔
مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ (سورۃ ابراہیم آیت 43)
اور لوگ سر اٹھائے ہوئے میدان قیامت کی طرف دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں خود اپنی طرف لوٹ نہ سکیں گی۔ اور انکے دل مارے خوف کے ہوا ہو رہے ہوں گے۔
​
اور جو اللہ تعالی سے فؤاد سے باز پرس کا ذکر فرمایا ہے تو وہ ایسے ہی اعمال سے متعلق ہو گی جو شدت جذبات کے تحت انسان کر بیٹھتا ہے۔

3: صدر​

بمعنی سینہ (جمع صدور) اور سینہ کے اندر ہی دل ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ (سورۃ الحج آیت 46)
بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔
​
لہذا کبھی صرف فی الصّدور کہہ کر قلوب مراد لے لیے جاتے ہیں جیسے شفاء لما فی الصدور (سورۃ یونس آیت 57) اب چونکہ صدر کا تعلق ظرف مکان سے ہے لہذا اگر دل کی تنگی یا فراخی کا ذکر مطلوب ہو تو صدر کا لفظ آئے گا۔ مثلاً:
وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ (سورۃ الحجر آیت 97)
اور ہم جانتے ہیں کہ انکی باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔
اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ (سورۃ الانشرح آیت 1)
اے نبی ﷺ کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کھول نہیں دیا۔
​
اور شرح صدر یا انشراح صدر محاورہ ہے۔ کسی مشکل اور پیچیدہ معاملہ میں دل میں کوئی راہ صواب کی بات سوجھ جائے تو اسے شرح صدر کہتے ہیں۔ پھر کسی چیز کو چھپانے کے لیے چونکہ ظرف کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا راز کی بات کے چھپانے، خیالات اور وساوس کے ذکر میں بھی صدر کا استعمال ہو گا۔ مثلاً:
یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ (سورۃ المؤمن آیت 19)
وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ اور جو کچھ چھپا ہوا ہے سینوں میں۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ (سورۃ المائدۃ آیت 7)
کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔
الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ (سورۃ الناس آیت 5)
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
​

4: نفس​

روح، زندگی، جی، جان (جمع نفوس) اس سے خواہشات کا مبدا و ملجا، آرزو کرنے والا اور خوش ہو جانے والا دل مراد ہوتی ہے:
1: جہاں تک پوشیدہ باتوں اور خیالات وغیرہ کو چھپانے کا تعلق ہے یہ صفت نفوس اور صدور میں مشترک ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ تُخۡفِیۡ فِیۡ نَفۡسِکَ مَا اللّٰہُ مُبۡدِیۡہِ (سورۃ الاحزاب آیت 37)
اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسکو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔
​
2: خواہشات کا تعلق نفس سے ہوتا ہے خواہ اچھی ہوں یا بری۔ ارشاد باری ہے:
اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی (سورۃ نجم آیت 23)
یہ لوگ محض خیال و گمان اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ انکے پروردگار کی طرف سے انکے پاس ہدایت آ چکی ہے۔​
3: خوش ہونے کا تعلق بھی نفس سے ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحۡلَۃً ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَکُمۡ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنۡہُ نَفۡسًا فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا (سورۃ النساء آیت 4)
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے مزے سے کھا لو۔
​

ماحصل:​

  • قلب: عقل و شعور اور فہم و تدبر کا منبع۔
  • فؤاد: جذبات کی شدت کا مرکز۔
  • صدر: ظرف، تنگی اور فراخی اور بات چھپانے کے لیے۔
  • نفس: خواہشات کا مرکز، خوش ہونے اور بات چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دل میں بات ڈالنا​

کے لیے وحی، الھام، القاء، وسواس اور ھمزات کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: وحی​

کا لغوی معنی صرف خفی اور تیز اشارہ ہے۔ اور اوحی کے معنی کسی پوشیدہ بات اور نا معلوم بت کے متعلق سرعت سے اشارہ کرنا (مف، م ل) پھر وحی کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک تسخیری امور سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسے فرمایا:
فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ اَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا (سورۃ حم سجدۃ آیت 12)
پھر اس نے دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اسکے کام کا حکم بھیجا۔
​
دوسرے فطری رہنمائی کو بھی وحی سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسے بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ (سورۃ النحل آیت 68)
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا۔
​
گویا اللہ تعالی کی طرف سے وحی جمادات، حیوانات اور انسانوں سب پر ہوتی ہے۔ اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے فرمایا:
وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوۡسٰۤی اَنۡ اَرۡضِعِیۡہِ ۚ (سورۃ القصص آیت 7)
اور ہم نے موسٰی کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اسکو دودھ پلاؤ۔
​
اس سب مثالوں میں وحی کا لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پھر ایک انسان بھی اس معنی کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کو وحی کرتا ہے۔ جیسے فرمایا:
فَخَرَجَ عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُکۡرَۃً وَّ عَشِیًّا (سورۃ مریم آیت 11)
پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو۔
​
حتی کہ اس قسم کی وحی شیطان کی بھی ایک دوسرے کی طرف کرتے ہیں۔ جیسے فرمایا:
وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 121)
اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اسکا کھانا گناہ ہے اور شیطان لوگ اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔
​
گویا وحی رحمانی بھی ہوتی ہے اور شیطانی بھی ہو سکتی ہے۔ وحی رحمانی ہمیشہ خیر پر مبنی ہوتی ہے اور جو وحی، وحی رحمانی کے خلاف ہو وہ شیطانی ہوتی ہے۔ اور شرعی اصطلاح میں وحی سے مارد وہ تعلیم، احکام اور انبائے غیب ہیں جو اللہ تعالی اپنے کسی برگزیدہ انسان (پیغمبر) کی طرف عام لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجتے ہیں۔ اور اس کی تین صورتیں قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ (1) اللہ تعالی براہ راست دل میں بات ڈال دے۔ (2) اپنا فرشتہ رسول کی طرف بھیجے اور (3) پردہ کے پیچھے سے بات کرے (جیسے حضرت موسی علیہ السلام سے کی گئی)(سورۃ شوری آیت 51)) تاہم ان میں سے عام مستعمل صورت یہی ہے کہ اللہ تعالی جبریل علیہ السلام کے ذریعہ انبیاء و رسل کے دل پر اپنا پیغام ڈال دیتے ہیں جو نبی کی زبان سے جاری ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 97)
کہہ دو کہ جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو اس کو غصے میں مر جانا چاہیے کیونکہ اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔
​

2: الھام​

بمعنی وہ بات جو اللہ تعالی یا ملاء اعلی کی جانب سے کسی کے دل میں ڈال دی جائے (مف) اور بمعنی سمجھ اور بصیرت عطا فرمانا، توفیق دینا (منجد)۔ وحی کی طرح الہام بھی شیطانی ہو سکتا ہے۔ خصوصاً جب کہ اس کا کسی آیت یا نص شرعیہ سے استدلال نہ ہو سکتا ہو۔ اس لیے صوفیہ کے طبقہ کو چھوڑ کر کسی عالم کے نزدیک الہام قابل حجت نہیں ہوتا (م م) وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا اطلاق صرف ذوی العقول پر ہوتا ہے جبکہ وحی عام ہے۔ دوسرے یہ کہ الہام کا تعلق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے جبکہ وحی میں بہت زیادہ وسعت ہے (م م)۔ ارشاد باری ہے:
فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا (سورۃ الشمس آیت 8)
پھر اسکو بدکاری سے بچنے اور پرہیزگار بننے کی سمجھ دی۔
​

3: القاء​

کا لغوی معنی صرف ڈالنا ہے۔ اور القی علی بمعنی تعلیم دینا (م م) قرآن میں ہے:
ءَاُلۡقِیَ الذِّکۡرُ عَلَیۡہِ مِنۡۢ بَیۡنِنَا بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ (سورۃ قمر آیت 25)
کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے؟ نہیں بلکہ یہ جھوٹا بڑائی مارنے والا ہے۔
​
اور تلقی الشئ منہ بمعنی سیکھ لینا، تعلیم حاصل کرنا (منجد) جیسے فرمایا:
فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ (سورۃ البقرۃ آیت 37)
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے اور معافی مانگی تو اسنے انکا قصور معاف کر دیا بیشک وہ معاف کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
​
گویا القاء صرف ایسی دل میں ڈالی ہوئی بات کو کہتے ہیں جس کا تعلق تعلیم اور سیکھنے سکھلانے سے ہو۔ وحی اور الھام کی طرح القاء بھی شیطانی ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ (سورۃ الحج آیت 52)
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اسکی آرزو میں وسوسہ ڈال دیتا تھا تو جو وسوسہ شیطان ڈالتا ہے اللہ اسکو دور کر دیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو مضبوط کر دیتا ہے۔ اور اللہ علم والا ہے حکمت والا ہے۔
​

4: وسواس​

طبی نقطہ نگاہ سے یہ ایک مرض ہے جو غلبہ سودا کی وجہ سے ذہن کو ماؤف کر دیتا ہے اور انسان ایسی فضول باتیں کرنے لگتا ہے جو پہلے اس کے دل میں نہیں ہوتیں اور نہ ہی ان میں کچھ بھلائی ہوتی ہے (م م) اور وسواس بمعنی وہم کی بیماری، دل میں آنے والی برائی یا بے نفع بات، شیطان (منجد) اور بمعنی شیطان کا کسی برے کام کی طرف راغب کرنا اور برے خیالات ڈالتے رہنا (مف) اور بمعنی جنون کی ابتدائی حالت (ف ل 135)۔ گویا وسوسہ ہر وہ برا حیال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے یا شیطان کی طرف سے ڈالا جاتا ہے اور اس کی نسبت صرف شیطان کی طرف ہوتی ہے۔ ارشاد باری ے:
مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ (سورۃ الناس آیت 4، 5)
اس بڑے وسوسہ ڈالنے والے کی برائی سے جو اللہ کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
​

5: ھمزات​

ھمز یدلّ علی ضغط و عصر (م ل) یعنی چٹکی لینا، چبھونا، دبانا اور بمعنی جانور کے کسی پہلو یا پٹھے پر کسی نوکدار لکڑی وغیرہ کا چبھونا کہ وہ تیز چلے۔ دراصل اسی مفہوم کے لیے پنجابی لفظ "چوہنبڑ دینا" بہت موزوں ہے۔ یعنی شیطان کا کسی دل میں برا خیال ڈالنا پھر اس کے لیے انگیخت کرنا۔ اس لفظ کی نسبت صرف شیطان کی طرف ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ (سورۃ المؤمنون آیت 97)
اور کہو کہ اے پروردگار میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
​

ماحصل:​

  • وحی، الہام اور القاء اللہ تعالی کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور شیطان کی طرف سے بھی جبکہ وسوسہ اور ھمز صرف شیطان کی طرف سے ہے۔
  • وحی کا تعلق تعلیم، عقائد، احکام اور انبائے غیب سے ہوتا ہے۔ الہام کا صرف کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے اور القاء کا صرف تعلیم سے۔
  • وسوسہ: صرف برے خیالات کی دل میں آمد کو کہتے ہیں جبکہ ھمز میں برے خیال کے ساتھ شیطان کی طرف انگیخت بھی شامل ہوتی ہے۔
  • ہر وہ وحی، الہام یا القاء جو نصوص شرعیہ کے مطابق ہو وہ رحمانی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ شیطانی ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دلیل​

کے لیے قرآن میں دلیل، حجّۃ، بیّنۃ (بیّن)، برھان (برہ، برھن) اور سلطان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

1: دلیل​

دلالت اور دلیل کا معنی وہ رہنمائی ہے جس کے ذریعہ کسی چیز کی معرفت حاصل ہو۔ جیسے ایک شخص کسی جاندار میں حرکت دیکھ کر یہ جان لیتا ہے کہ وہ زندہ ہے یا جیسے کتابت شدہ الفاظ اپنے مفہوم پر دلالت کرتے ہیں۔ عام گفتگو میں بھی الفاظ مفہوم کی ادائیگی کا ذریعہ اور اس مفہوم پر دلیل ہوتے ہیں (مف) اور دلّ بمعنی جتلانا، بتلانا، رہنمائی کرنا، معرفت کا ذریعہ بننا۔ ارشاد باری ہے:
اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَ لَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا (سورۃ الفرقان آیت 45)
بھلا تم نے اپنے پروردگار کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسکو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر ہم سورج کو اسکا راہنما بنا دیتے ہیں۔
​
گویا سایوں کا بڑھنا اور سورج کا ڈھلنا اور ان میں تناسب دونوں ایک دوسرے پر دلیل ہیں اور سایوں کے گھٹنے بڑھنے سے جہاں سورج کے رخ کا صحیح تعین ہو سکتا ہے ویسے ہی اوقات کا بھی ہو سکتا ہے۔ اور سورج کا رخ دیکھ کر سایہ کے رخ اور لمبائی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

2: حجّۃ​

حاجّ بمعنی جھگڑا کرنا اور دلیل میں غالب آنا۔ اور الحاجۃ جس میں ہر فریق دوسرے کی دلیل کو رد کرے (منجد) اور حجّۃ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جب ایک بات فریقین میں مسلم ہو تو اس سے نتیجہ اخذ کر کے ایک فریق دوسرے کے سامنے ثبوت پیش کرے (مف) ایسے ثبوت کو حجّۃ کہتے ہیں۔ مثلاً کفار یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ ان کا بھی خالق و مالک اور رازق اللہ تعالی ہی ہے تو اللہ تعالی کہتے ہیں "بھلا جو ہستی انسان کو ایک بوند سے مختلف مراحل سے گزارتی ہوئی پیدا کرتی ہے اور آخر میں مار سکتی ہے وہ اسے دوبارہ کیوں نہیں پیدا کر سکتی؟" ایسی دلیل کو حجت کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:
وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ (سورۃ الانعام آیت 83)
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو انکی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جسکے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا ہے خبردار ہے۔
​

3: بیّنۃ​

واضح اور کھلی ہوئی بات، ثبوت۔ بیّنۃ کی کچھ تشریح احادیث حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
البیّنۃ علی المدعی والیمین علی المدع علیہ (بخاری)
یعنی ثبوت فراہم کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور اگر وہ نہ کر سکے تو پھر مدعا علیہ پر قسم ہے۔
​
اب دیکھیے کہ زید نے بکر سے کچھ رقم لینی ہے اور بکر انکار کرتا ہے تو اگر زید کے پاس بکر کی کوئی ایسی تحریر موجود ہے جو اس بات کو ثابت کر سکے یا ثابت کرنے میں ممد ہو تو تحریر بیّنۃ ہے۔ اسی طرح اگر زید گواہ پیش کر کے ثابت کر سکتا ہے تو یہ بھی بیّنۃ ہے۔ بیّنۃ ایسی دلیل ہے جس کے سامنے فریق ثانی لاجواب ہو جائے۔ قرآن مجید کا وجود خود بیّنۃ ہے۔ جس مثل تحدّی کے باوجود کفار پیش نہ کر سکے۔ اسی طرح اس کی آیات بھی بیّنات ہیں۔ ارشاد باری ہے:
بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ (سورۃ العنکبوت آیت 49)
بلکہ یہ روش آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے انکے سینوں میں محفوظ اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔
​
اس آیت میں جحد کا لفظ لا کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے ک وہ دل سے تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ آیات بیّنات ہیں گو زبان سے انکار کرتے یں۔

4: برھان​

برہ بمعنی سفید اور چمکدار ہونا۔ اور برھان وہ دلیل ہے جو واضح اور حقیقت ثابتہ بھی ہو اور اس کی تائید کلام الہی سے بھی ہوتی ہو (مف) اور بعض کے نزدیک برھان فارسی لفظ برّان سے معرب ہے یعنی شمشیر۔ برّان بمعنی تیز دھار کاٹنے والی تلوار۔ اور برھان ایسی دلیل کو کہتے ہیں جو نزاع کو ختم کر دے (فق ل 55)۔ ارشاد باری ہے:
وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 111)
اور یہودی اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا یہ ان لوگوں کے خیالات باطل ہیں اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر سچّے ہو تو دلیل پیش کرو۔
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
فَذٰنِکَ بُرۡہَانٰنِ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ ؕ (سورۃ القصص آیت 32)
یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کے درباریوں کیلئے۔
​

5: سلطان​

یعنی غلبہ اور قوت اور اختیار (منجد، م ل) فرمان شاہی (منجد)، اتھارٹی لیٹر، ایسی دلیل جو وحی الہی سے واضح طور پر ثابت ہو، سند۔ اور سلطان (جمع سلاطین) بمعنی بادشاہ، کنائی اور مجازی معنی ہے لغوی نہیں۔ نہ ہی قرآن نے اس لفظ کو ان معنوں میں استعمال کیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَتُجَادِلُوۡنَنِیۡ فِیۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ (سورۃ الاعراف آیت 71)
کیا تم مجھ سے چند ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں۔ جنکی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔
​

ماحصل:​

  • دلیل: کسی چیز کو پہنچانے کے لیے دوسری چیز سے رہنمائی لانا۔
  • حجّۃ: ایک مسلم بات سے نتیجہ کے طور پر کوئی دلیل لانا۔
  • بیّنۃ: ایسی دلیل جس سے مدعی فریق ثانی کی بات کو باطل قرار دے سکے۔
  • برھان: ایسی عقلی یا نقلی دلیل جو قطع نزاع کے لیے مفید ہو۔
  • سلطان: ایسی دلیل جو وحی الہی سے واضح طور پر ثابت ہو، فرمان شاہی۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دن اور اس کے اوقات​

کے لیے نھار، یوم، الیوم اور یومئذ کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: نھار​

دن (ضد لیل بمعنی رات) معروف لفظ ہے۔ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت۔ دن کو 12 گھڑیوں (یا 12 گھنٹوں) میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے نام بالترتیب یہ ہیں۔ (لیل و نہار کا یکجا ذکر قرآن کریم میں بکثرت آیا ہے)۔
الشروق (اشراق)، بکور (بکرۃ)، غدوۃ (غدو)، ضحی، ھاجرۃ، ظھیرۃ، رواح، عصر، قصر، صیل، عشیّ، غروب (فل 292)

2: یوم​

بمعنی دن۔ غروب آفتاب سے لے کر اگلے دن کے غروب آفتاب تک کا وقت۔ لیل اور نہار کے وقت کا مجموعہ، 24 گھنٹے (جمع ایام)۔ وقت اور زمانہ کے حساب سے ایام ہی سے ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ (سورۃ البقرۃ آیت 196)
اور جس کو قربانی نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔
​
اور یوم کی یہ مدت انسان کے لیے ہے۔ اور اس کا تصور بھی سورج اور زمین کی پیدائش کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ورنہ اللہ کے ہاں یوم کی مدت ایک طویل دور ہے خواہ یہ دور ہمارے حساب سے لاکھوں سال تک پھیلا ہوا ہو۔ ارشاد باری ہے:
قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ تَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ (سورۃ حم سجدۃ آیت 9)
کہو کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور بتوں کو اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو تمام جہانوں کا مالک ہے۔
​
اسی طرح زمین و آسمان کی پیدائش کے سلسلہ میں جب یوم کا ذکر آئے گا تو اس سے مراد ایک طویل دور ہوتا ہے۔ ایک مقام پر فرمایا:
وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ (سورۃ الحج آیت 47)
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کیخلاف ہرگز نہیں کرے گا۔ اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے۔
​
اور دوسری جگہ فرمایا:
تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗ خَمۡسِیۡنَ اَلۡفَ سَنَۃٍ (سورۃ المعارج آیت 4)
جسکی طرف روح القدس اور دوسرے فرشتے چڑھتے ہیں اس روز نازل ہو گا جس کا طول پچاس ہزار برس ہو گا۔
​
اسی طرح یوم الدین یعنی جزا و سزا کا دن بھی ایک طویل دور پر منحصر ہو گا جس کی مدت احادیث میں پچاس ہزار سال بیان کی گئی ہے۔

3: الیوم​

بمعنی آج کا دن، اور الیوم کے وقت کی مقدار نھار کے مطابق ہو گی یوم کے مطابق نہیں۔ یعنی اس سے مراد طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب کا وقت ہو گا (منجد) ظلّ الیوم بمعنی آج کا سارا دن سایہ رہا (منجد) جیسے فرعون کی غرقابی کے وقت اللہ تعالی نے فرمایا:
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ (سورۃ یونس آیت 92)
تو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔
​
اور الیوم کا لفظ قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر قیامت کے دن کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ جہاں کہیں اس کا ذکر ہے۔ جیسے فرمایا:
قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی (سورۃ طہ آیت 126)
اللہ فرمائے گا کہ ایسا ہی چاہیے تھا تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے انکو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے۔
​

4: یومئذ​

یوم کے بعد اذ کا اضافہ سے یہ لفظ بنا ہے جو کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لیے آتا ہے۔ بمعنی اس دن یا وہ دن (مف) ارشاد باری ہے:
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَۃٌ ضَاحِکَۃٌ مُّسۡتَبۡشِرَۃٌ (سورۃ عبس آیت 38، 39)
اور کتنے چہرے اس روز چمک رہے ہونگے۔ خنداں و شاداں یہ نیکوکار ہیں۔
​

ماحصل:​

  • نھار: طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت۔
  • یوم: دن اور رات کا مجموعہ یعنی 24 گھنٹے۔
  • الیوم: آج کا دن، طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت۔
  • یومئذ: بمعنی اس دن، وہ دن۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دنیا اور اس کے مختلف نام​

کے لیے قرآن کریم میں دنیا، ادنی، عاجلۃ اور اولی کے الفاظ آئے ہیں۔

1: دنیا​

دنی بمعنی قریب ہونا، نزدیک ہونا۔ اور یہ لفظ مکان، زمان، مرتبہ غرض ہر لحاظ سے قریب ہونے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ اسلامی عقیدہ کی رو سے زندگیاں دو بار ہیں۔ ایک موجودہ زندگی جسے نشاۃ اولی کہا جاتا ہے اور دوسرے مرنے کے بعد کی دوبارہ زندگی جسے نشاۃ اخری یا ثانیہ کہا جاتا ہے۔ اور موجودہ زندگی چونکہ زمانہ کے لحاظ سے قریب کی زندگی ہے لہذا اسے دنیا کہا گیا ہے اور اس کی ضد آخرت ہے۔ اور یہی لفظ موجودہ زندگی کے لیے عموماً مستعمل ہے۔ ارشاد باری ہے:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 86)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو اور طرح کی مدد ملے گی۔
​

2: ادنی​

میں قرب زمانی کے علاوہ مرتبہ کمتری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اور ادنی کا لفظ ارذل اور حقیر کے معنوں میں بھی آتا ہے (مف) اس کی ضد اعلی بھی آتی ہے اور اخری بھی۔ ارشاد باری ہے:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدۡنٰی وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَیُغۡفَرُ لَنَا (سورۃ الاعراف آیت 169)
پھر انکے بعد ناخلف انکے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے یہ لوگ اس حقیر دنیا کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔
​

3: عاجلۃ​

(ضد اخرۃ) عجل بمعنی جلدی اور جلد بازی۔ اور عاجلۃ بمعنی جلد آنے والی، موجود، نقد دنیا اور اس کا ساز و سامان (مف)۔
کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ (سورۃ القیامۃ آیت 20، 21)
مگر لوگو تم دنیا کو دوست رکھتے ہو۔ اور آخرت کو چھوڑے دیتے ہو۔
​

4: اولی​

اوّل کا مونث بمعنی پہلی، یعنی پہلی یا موجود زندگی (ضد اخری اور آخرت یعنی پچھلی یا دوسری زندگی)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَۃَ وَ الۡاُوۡلٰی (سورۃ اللیل آیت 13)
اور بیشک آخرت اور دنیا ہماری ہی ملکیت ہیں۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دور​

کے لیے بعید، سحیق، عمیق اور قصیّا کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: بعید​

بعد کی ضد قرب ہے۔ بمعنی دوری، یہ دوری خواہ فاصلہ کے لحاظ سے ہو یا وقت کے لحاظ سے۔ اس کا استعمال عام ہے۔ قرآن میں ہے:
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡتُکُمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 109)
پھر اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہدو کہ میں نے تم سب کو یکساں احکام الہٰی سے آگاہ کر دیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ عنقریب آنے والی ہے یا اس کا وقت دور ہے۔
​
محسوسات کے علاوہ اس کا استعمال معنوی طور پر بھی آتا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا (سورۃ النساء ایت 60)
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انکو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے۔
​

2: سحیق​

سحق بمعنی کوٹنا، پیسنا۔ سحق بمعنی دور ہونا۔ اور سحقا بمعنی خدا کی رحمت سے دوری، لعنت (منجد)۔ سحق الرّیح الارض ہوا کا تندی کی وجہ سے زمین چھیل ڈالنا۔ اور سحیق بمعنی دور دراز کا مقام۔ یہ صرف مکان کے لیے آتا ہے (ف ل 29)۔ ارشاد باری ہے:
حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیۡرَ مُشۡرِکِیۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوۡ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ (سورۃ حج آیت 31)
صرف ایک اللہ کے ہو کر اور اسکے ساتھ شریک نہ ٹھہرا کر اور جو شخص کسی کو اللہ کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اسکو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور کی جگہ اڑا کر پھینک دے۔
​

3: عمیق​

عمق بمعنی گہرائی اور عمیق بمعنی گہرا اور فجّ عمیق بمعنی نشیب و فراز کا راستہ، پر پیچ اور دور دراز کا رستہ۔ قرآن میں ہے:
وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ (سورۃ حج آیت 27)
اور لوگوں میں حج کے لئے اعلان کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہوں سوار ہو کر چلے آئیں۔
​

4: قصیّا​

(قصی) قصی بمعنی دور ہونا۔ اقصا اور قصوی انتہائی دور چیز (منجد) اور اقصا بمعنی پار کا یا دوسری طرح کا کنارا یا سرا۔ قرآن میں ہے:
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡعٰی (سورۃ القصص آیت 20)
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔
​
گویا اقصا اور قصیّا میں دوری کے ساتھ سمت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا (سورۃ مریم آیت 22)
چنانچہ وہ اس بچے کے ساتھ حاملہ ہو گئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں۔
​
یعنی حضرت مریم علیہ السلام پہلے شرقی مقام پر گئی تھیں پھر اس سے بھی دور پرے کسی مقام پر چلی گئیں۔

ماحصل:​

  • بعید: اس کا استعمال عام ہے زمانی ہو یا مکانی۔
  • سحیق: ظرف مکانی ہے، دوری اور کوفت (کا مجموعہ) ہے۔
  • عمیق: بمعنی نشیب و فراز کے راستے، دوری اور دشواری۔
  • قصیّا: ایسی دوری جس میں سمت کا بھی کچھ تصور پایا جائے (دوری اور سمت)۔
دور رہنا کے لیے دیکھیے "بچنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دور کرنا – ہونا​

کے لیے بعد اور باعد، قصا، نَاٰی، کفّر اور قضی کے الفاظ آئے ہیں۔

1: بعد​

بمعنی دور ہونا، اس لفظ کا استعمال عام ہے، فاصلہ، وقت اور مرتبہ ہر قسم کی دوری کے لیے استعمال ہوتا ہے، کہیں دور جگہ کی طرف ہونا اور جانا (فق ل 11) قرآن میں ہے:
وَ لٰکِنۡۢ بَعُدَتۡ عَلَیۡہِمُ الشُّقَّۃُ (سورۃ التوبہ آیت 42)
لیکن مسافت انکو دور دراز نظر آئی۔
​
اور باعد بمعنی دور کرنا (مف) قرآن میں ہے:
فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا (سورۃ سباء آیت 19)
تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں دوری پیدا کر دے۔
​

2: قصا ​

(یقصو) بمعنی دور ہونا۔ صرف ظرف مکان کے طور پر آتا ہے۔ اور کسی متعین مقام اور اس کے مکینوں سے دو ہونے کا معنی دیتا ہے۔ اقصی المدینۃ بمعنی شہر کا پرلہ کنارہ۔ مسجد الاقصی (معرفۃ) بمعنی دور والی مسجد۔ قرآن میں ہے:
فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا (سورۃ مریم آیت 22)
چنانچہ وہ اس بچے کے ساتھ حاملہ ہو گئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں۔
​

3: نَاٰی​

بمعنی دور ہونا۔ اور نائیۃ بمعنی دور رہنے والا (م ا) اور کسی دور مقام کے قریب تک پہنچ جانا (فق ل 11)۔ صرف ظرف زمانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور امام راغب کے ایک قول کے مطابق از راہ تکبر کسی سے پرے ہونا (مف)۔ قرآن میں یہ لفظ دو جگہ استعمال ہوا ہے اور دونوں مقامات پر ان دونوں معانی کی تائید ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوۡسًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 83)
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہو جاتا ہے اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہو جاتا ہے۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ (سورۃ الانعام آیت 26)
وہ اس سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں۔ مگر ان باتوں سے اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور اس بات سے بےخبر ہیں۔​

4: کفّر (عن)​

کفر بمعنی چھپانا۔ کفرۃ بمعنی رات کی سیاہی۔ اور کفّارۃ وہ عمل ہے جس کی ادائیگی سے گناہ پھر پردہ پوشی ہو جائے۔ اور کفّر کی نسبت جب اللہ تعالی کی طرف ہو تو اس کا معنی برائیوں کو دور کر دینا ہے۔ اور کفّر کا تعلیق سیئات سے ہے جیسے غفر کا ذنوب سے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ (سورۃ المائدۃ آیت 65)
اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ دور کر دیتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔
​

5: قضی​

کا لغوی معنی دور کرنا نہیں بلکہ جب اس کی نسبت انسان کی طرف ہو تو ذمہ داری کو پورا کرنا ہوتا ہے جیسے:
فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ (سورۃ القصص آیت 29)
پھر جب موسٰی نے مدت پوری کر دی۔
​
البتہ درج ذیل آیت میں اپنی زبان کے محاورہ کے لحاظ سے اس کا معنی دور کرنا کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی کام کی تکمیل کا حصہ ہے۔
ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَ لۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَ لۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ (سورۃ الحج آیت 29)
پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور منتیں پوری کریں اور اس قدیم گھر یعنی بیت اللہ کا طواف کریں۔
​

ماحصل:​

  • بعد: عام ہے۔ ہر طرح کی دوری کے لیے۔
  • قصا: متعین مقام کے مکیوں سے دوری کے لیے۔
  • نَاٰی: ظرف زمانی، از راہ تکبر دور رہنے کے لیے۔
  • کفّر: (عن) اللہ تعالی کا سیئات کو حسنات کی بنا پر دور کرنے کے لیے آتا ہے۔
  • قضی: کسی بڑے کام کی تکمیل کے بعد تتمہ کے طور پر کوئی کام کرنا۔
نیز دیکھیے "ہٹانا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوڑنا​

کے لیے سرع، سعی، زفّ، رکض، جمح، ھرع، اوفض، ھطع، ضبح، سبق اور استبق کے الفاظ آئے ہیں۔

1: سرع​

بمعنی جو کام کرنے کا ہو اس میں دیر نہ کرنا اور فورا کر دینا (مف) اور رفتار میں سرع سے مراد صرف تیز رفتاری ہے۔ تیز تیز چلنا جبکہ کوئی خطرہ بھی نہ ہو (ف ل 33) (ضد بطا)۔ قرآن میں ہے:
یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ (سورۃ المعارج آیت 43)
اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی مقابلے کے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہوں۔
​

2: سعی​

عام رفتار اور تیز دوڑنے کے درمیان کی چال۔ سعی وہ رفتار ہے جیسے صفا و مروہ کے درمیان چلی جاتی ہے (فل 177)۔ قرآن میں ہے:
وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ (سورۃ یس آیت 20)
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو۔​

3: زفّ​

دوڑنے کی معروف چال۔ اور صاحب منجد کے نزدیک تیز دوڑنا۔ ارشاد باری ہے:
فَرَاغَ عَلَیۡہِمۡ ضَرۡبًۢا بِالۡیَمِیۡنِ فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَیۡہِ یَزِفُّوۡنَ (سورۃ الصافات آیت 93، 94)
پھر انکو داہنے ہاتھ سے مارنا اور توڑنا شروع کیا۔ پھر وہ لوگ انکے پاس دوڑے ہوئے آئے۔
​

4: رکض​

بمعنی ایڑی چلانا۔ رکض الرّجل دآبّتہ اس نے اپنے جانور کو ایڑ لگائی تا کہ آگے نکل جائے (م ل) گھوڑے کو ایڑ لگانا، سرپٹ دوڑنا۔ قرآن میں ہے:
لَا تَرۡکُضُوۡا وَ ارۡجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 13)
مت بھاگو اور جن نعمتوں میں تم عیش و آسائش کرتے تھے انکی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ شائد تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے۔
​

5: جمح​

رسیاں تڑانا، گھوڑے کا تیزی کے ساتھ دوڑتے جانا اور سوار کے قابو میں نہ رہنا (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
لَوۡ یَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً اَوۡ مَغٰرٰتٍ اَوۡ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوۡا اِلَیۡہِ وَ ہُمۡ یَجۡمَحُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 57)
اگر انکو کوئی بچاؤ کی جگہ جیسے قلعہ یا غار یا زمین کے اندر گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرح رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں۔
​

6: ھرع​

لپکنا، جذبات سے بے قابو ہو کر دوڑنا، لرزہ بر اندام دوڑنا (فل 33)، بے قرار ہو کر لپکنا یا دوڑنا، غضب، خوف یا سردی کی حالت میں بے قرار ہو کر دوڑنا (م ق)۔ قرآن میں ہے:
وَ جَآءَہٗ قَوۡمُہٗ یُہۡرَعُوۡنَ اِلَیۡہِ (سورۃ ھود آیت 78)
اور لوط کی قوم کے لوگ انکے پاس بےتحاشہ دوڑتے ہوئے آئے۔
​

7: نسل​

بلندی سے پستی کی طرف دوڑنا۔ صاحب منجد کے نزدیک اس کا معنی تیز چلنا اور گرانا ہے۔ اور ابن الفارس کے نزدیک اس کا معنی ایک چیز سے دوسری چیز آہستہ آہستہ نکالنا ہے (م ل) لیکن یہ معنی درج ذیل آیت میں مقصود نہیں۔
حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَ مَاۡجُوۡجُ وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 96)
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے نیچے آ رہے ہوں۔
​

8: اوفض​

بمعنی تیز دوڑنا۔ اور الوفضۃ بمعنی چمڑے کا ترکش جس میں تیر رکھے ہوتے ہیں (منجد) اور امام راغب کے نزدیک یوں دوڑنا جیسے شکاری شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں (مف) قرآن میں ہے:
یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ (سورۃ المعارج آیت 43)
اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی مقابلے کے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہوں۔
​

9: ھطع​

سامنے کسی چیز پر ٹکٹکی باندھے، مطیع و متقاد ہو کر آگے کو دوڑنا (م ل)۔ قرآن میں ہے:
مُّہۡطِعِیۡنَ اِلَی الدَّاعِ ؕ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَسِرٌ (سورۃ القمر آیت 8)
اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔
​

10: ضبح​

گھوڑے کا یوں سرپٹ دوڑنا کہ وہ ہانپنے لگے۔ ارشاد باری ہے:
وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا (سورۃ العادیات آیت 1)
ان سرپٹ دوڑانے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں۔
​

11: سبق اور استبق​

سبق بمعنی آگے نکل جانا، مقابلہ میں آگے بڑھنا، بھاگنا۔ اور استبق بمعنی مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کرنا۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ لَا یُعۡجِزُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 59)
اور کافر یہ خیال ہرگز نہ کریں کہ وہ آگے نکل گئے ہیں وہ ہمیں عاجز نہیں کر سکتے۔
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ (سورۃ یوسف آیت 25)
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے آگے یوسف پیچھے زلیخا اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے پکڑ کو جو کھینچا تو پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔
​

ماحصل:​

  • سرع: تیز تیز چلنا۔
  • سعی: چلنے اور دوڑنے کی درمیانی چال۔
  • زفّ: دوڑنا عام چال سے۔
  • رکض: سرپٹ دوڑنا۔
  • جمح: رسیاں تڑانا، قابو میں نہ رہنا۔
  • ھرع: لپکنا، جذبات سے بے قابو ہو کر دوڑنا۔
  • نسل: بلند جگہ سے نیچے کو دوڑنا۔
  • وفض: تیز اور محتاط دوڑنا جیسے شکاری جال کی طرف دوڑتا ہے۔
  • ھطع: سامنے نظر ٹکائے اور فرمانبردار ہو کر دوڑتے آنا۔
  • ضبح: (گھوڑے کا) اپنا سرپٹ دوڑنا کہ ہانپنے لگ۔
  • سبق اور استبق: مقابلہ میں آگے بڑھنے کی کوشش میں دوڑنا۔
 
Top