داخل ہونا – کرنا
کے لیے دخل اور ادخل، ولج اور اولج، صلی اور صلّی اور سلک کے الفاظ آئے ہیں۔1: دخل
معروف لفظ ہے۔ اندر آنا (ضد خرج بمعنی باہر نکلنا) اور اس کا استعمال ہے۔ قرآن میں ہے:وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ (سورۃ یوسف آیت 36)
اور ان (حضرت یوسف علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔
اور داخل کرنا کے لیے ادخل استعمال ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا:اور ان (حضرت یوسف علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔
یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا (سورۃ الدھر آیت 31)
وہ جسکو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے۔ اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وہ جسکو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے۔ اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
2: ولج
الولوج کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کو کہتے ہیں (مف)، بمشکل داخل ہونا، گھسنا۔ ارشاد باری ہے:اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 40)
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
اور تنگ جگہ میں داخل کرنے یا گھسیڑنے کے لیے اولج استعمال ہو گا۔ ارشاد باری ہے:جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ (سورۃ حج آیت 61)
یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ تو سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔
یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ تو سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔
3: صلی
کا لفظ آگ میں داخل ہونے کے لیے مخصوص ہے۔ بمعنی آگ میں داخل ہونا اور جلنا (مف)۔ ارشاد باری ہے:جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ (سورۃ ابراہیم آیت 29)
یعنی دوزخ میں کہ سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
اور آگ میں داخل کرنے یا جلانے کے لیے صلّی کا استعمال ہو گا (مف)۔ ارشاد باری ہے:یعنی دوزخ میں کہ سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ (سورۃ الحاقۃ آیت 30، 31)
حکم ہو گا کہ اسے پکڑ لو اب اسے طوق پہنا دو۔ پھر دوزخ کی آگ میں اسے جھونک دو۔
حکم ہو گا کہ اسے پکڑ لو اب اسے طوق پہنا دو۔ پھر دوزخ کی آگ میں اسے جھونک دو۔
5: سلک
کا لفظ کئی معنوں میں اور لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں داخل ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔1: بمعنی پرونا یا گھسانا جیسے موتی دھاگہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
کَذٰلِکَ سَلَکۡنٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ (سورۃ الشعراء آیت 200)
اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیا۔(جالندھریؒ) گھسا دیا (عثمانیؒ)
2: ڈالنا، داخل کرنا۔ جیسے گریبان میں ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے:اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیا۔(جالندھریؒ) گھسا دیا (عثمانیؒ)
اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ القصص آیت 32)
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا
اب یہی آیت کا ٹکڑا دوسرے مقام پر اسلک کی بجائے ادخل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے:اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا
وَ اَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ النمل آیت 12)
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو بے عیب سفید و روشن نکلے گا
3: راستہ کے ساتھ ساتھ چلتے جانا۔ اللہ تعالی شہد کی مکھی سے فرماتے ہیں:اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو بے عیب سفید و روشن نکلے گا
ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا (سورۃ النحل آیت 69)
پھر ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔
اس آیت میں اسلکی کا ترجمہ ادخلی سے بھی کیا گیا ہے (م ق) نیز قرآن میں ہے:پھر ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔
مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ (سورۃ مدثر آیت 42)
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
ان سب تصریحات کو سامنے رکھ کر صاحب منتہی الارب نے سلک کا مختصر ترین مفہوم یوں ادا کیا ہے "کشیدن چیزے در چیزے" یعنی ایک چیز دوسری میں کھینچنا یا میں سے کھینچنا۔ اور صاحب منجد کے نزدیک ایک چیز کو دوسری میں رکھ دینا۔ اور صاحب مقیائیس اللغہ اس کے بنیادی معنی دو بتلاتے ہیں (1) رستہ کے ساتھ ساتھ چلے جانا (2) ایک چیز کو دوسری میں داخل کرنا، پرونا۔کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
ماحصل:
- دخل: کا لفظ عام ہے۔
- ولج: تنگ جگہ میں داخل ہونا۔
- صلی: آگ میں داخل ہونا۔
- سلک: ایک چیز دوسری میں کھینچنا یا داخل کرنا۔