مترادفات القرآن (د)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوڑانا (گھوڑا وغیرہ)​

کے لیے اوضع اور اوجف کے الفاظ مستعمل ہوئے ہیں۔

1: اوضع ​

وضع بمعنی کسی چیز کو نیچے رکھ دینا، ذلیل کرنا، مرتبہ سے گرانا۔ اور وضع اور اوضع البعیر بمعنی اونٹ کا سر جھکا کر تیز چلنا۔ جس میں کوئی بھلائی کا پہلو نہ ہو (منجد) اور اوضع بمعنی (سواری کو) بھگدڑ مچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑاتے پھرنا۔ ارشاد باری ہے:
لَوۡ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمۡ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَا۠اَوۡضَعُوۡا خِلٰلَکُمۡ یَبۡغُوۡنَکُمُ الۡفِتۡنَۃَ ۚ وَ فِیۡکُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 47)
اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے درمیان شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تم میں انکے جاسوس بھی ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
​

2: اوجف​

وجف بمعنی بے قرار ہونا، اضطراب، بے چین ہونا۔ اور قلب واجف بمعنی مضطرب دل (مف) اور اوجف بمعنی گھوڑے وغیرہ کو تیز دوڑانا۔ ارشاد خداوندی ہے:
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡہُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ خَیۡلٍ وَّ لَا رِکَابٍ وَّ لٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (سورۃ الحشر آیت 6)
اور اے مسلمانو جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے جنگ کے بغیر دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اسکے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے غالب کر دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
​

ماحصل:​

  • اوضع: خرابی پیدا کرنے کے لیے دوڑاتے پھرنا۔
  • اوجف: بے قراری کی وجہ سے تیز دوڑانا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوزخ اور اس کے مختلف نام​

کے لیے النار، جھنم، جحیم، سقر، سعیر کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں

1: النار​

نار (نور) کے معنی آگ۔ معروف لفظ ہے۔ جب اس پر معرفہ کا ال داخل ہو اور امتیاز کے لیے دوسرا کوئی قرینہ بھی نہ ہو تو النار سے مراد دوزخ ہو گی۔ قرآن میں ہے:
ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ (سورۃ ص آیت 59)
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ گھستی چلی آ رہی ہے انکو خوش آمدید نہ کہا جائے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔
​

2: جھنّم​

فارسی لفظ جہنام سے معرب ہے۔ بمعنی دار العقوبت، سزا اور عقوبت کا گھر (مف) اہل لغت عموماً اسے ماہ جہم کے تحت لاتے ہیں۔ قرآن میں ہے:
جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمِہَادُ (سورۃ ص آیت 56)
یعنی دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ اور وہ بری آرامگاہ ہے۔
​

3: جحیم​

جحم بمعنی شیر کا گھورنا اور تیز نگاہوں سے دیکھنا۔ اور جحم بمعنی آگ کا تیز بھڑکنا۔ اور جحیم بمعنی تیز بھڑکنے والی آگ (مف) اور جحیم بمعنی گڑھے میں سخت دہکتی ہوئی آگ، سخت گرم جگہ، دوزخ (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ (سورۃ الدخان آیت 47)
حکم دیا جائے گا کہ اسکو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔
​

4: سقر​

سقر بمعنی سورج کا کسی کو جھلسنا، اور السّقرۃ بمعنی سورج کی سخت گرمی اور تپش، لو اور سقر بمعنی شدید حرارت جو بدن کو جھلس دے۔ قرآن میں ہے:
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ (سورۃ مدثر آیت 27 تا 29)
اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے۔ وہ ایسی آگ ہے کہ نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔ اور بدن کو جھلس کر سیاہ کر دے گی۔
​

5: سعیر​

سعر بمعنی آگ کو بھڑکانا اور تیز کرنا (مف) اور اسی نسبت سے دوزخ کو سعیر کہا گیا ہے۔ یعنی ہر دم بھڑکتی رہنے والی آگ۔ قرآن میں ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡیَتٰمٰی ظُلۡمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا ؕ وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا (سورۃ النساء آیت 10)
جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور ضرور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوزخ کے چند طبقات کے نام​

1: غی​

غوی بمعنی گمراہ ہو کر غلط راستہ اختیار کر جانا۔ یہ ضلال سے اگلا درجہ ہے۔ اور غیّ ایسی گمراہی کو کہتے ہیں جو غلط عقیدہ کی وجہ سے ہو (مف) اور غیّ جہنم کی ایک وادی یا طبقے کا بھی نام ہے جس میں ایسے گمراہ لوگوں کو ڈالا جائے گا۔ ارشاد باری ہے:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا (سورۃ مریم آیت 59)
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب انکو گمراہی کی سزا ملے گی۔
​

2: ھاویۃ​

ھوی یھوی بمعنی بلندی سے زمین پر گرنا۔ اور اھویّۃ گہرے کنویں کو۔ اور اھویّۃ گہرے گڑھے کو (منجد) اور ھاویۃ دوزخ میں ایک گہرے گڑھے کا نام ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ نَارٌ حَامِیَۃٌ (سورۃ القارعۃ آیت 9 تا 11)
اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔ اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔
​

3: الحطمۃ​

حطم بمعنی روند ڈالنا، پیس ڈالنا۔ اور حطمۃ جہنم کے ایک طبقہ کا نام ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحُطَمَۃُ نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ (سورۃ الھمزہ آیت 5، 6)
اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوزخ کے فرشتے​

کے لیے خزنۃ، زبانیۃ (زبن) اور مالک کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: خزنۃ​

خازن کی جمع ہے۔ اور خزن میں دو باتوں، جمع کرنا اور حفاظت کرنا، کا تصور پایا جاتا ہے۔ اور خازن بمعنی جمع شدہ مال کی حفاظت کرنے والا، خزانچی، دوزخیوں کے چوکیدار اور پہرے دار داروغے۔ قرآن میں ہے:
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ (سورۃ الملک آیت 8)
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں انکی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟
​

2: زبانیۃ​

(زبنیۃ کی جمع) زبانی العقرب بمعنی بچھو کا ڈنگ (منجد) زبانیۃ دوزخ کے وہ سخت گیر اور تند خو فرشتے ہیں جو دوزخیوں کو دوزخ کی طرف دھکیلیں گے۔ قرآن میں ہے؛
فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ (سورۃ العلق آیت 17، 18)
تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلا لے۔ ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے۔
​

3: مالک​

دوزخ کے داروغوں کا سردار یا سردار کا نام۔ قرآن میں ہے:
وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ (سورۃ الزخرف آیت 77)
اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک اے دوزخ کے نگران تمہارا پروردگار ہمیں موت ہی دیدے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ اسی حالت میں رہو گے۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دوست​

کے لیے قرین، رفیق، ولی اور موالی، صدیق اور صدّیق، خلیل، حمیم، ولیجۃ (ولج)، بطانۃ (بطن)، خذول اور اخدان (خدن) کے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: قرین​

القرن وہ رسی جس سے دو اونٹ باندھے جائیں۔ اور القرن بمعنی ہم سر، مقابل، شجاعت یا علم میں نظیر (منجد)۔ اس کا اطلاق جاندار اور بے جان سب چیزوں پر ہوتا ہے (فق ل 235)۔ اور قران السّعدین بمعنی دو سعد ستاروں کا ایک برج میں جمع ہونا۔ اور امام راغب کے الفاظ میں قرین وہ آدمی ہے جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو (مف)۔ اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ (سورۃ الزخرف آیت 38)
یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو اس شیطان سے کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے۔
​

2: رفیق​

الرفق نرم برتاؤ، مہربانی کا سلوک اور وہ چیز جس سے مدد لی جائے۔ اور مرفقہ بمعنی چھوٹا تکیہ (منجد) اور رفیق بمعنی ہمدرد ساتھی، نرم دل، موافقت کرنا اور قریب رہنے والا (م ل) اور رفق کی ضد عنف بمعنی سختی اور سنگدلی ہے (م ل)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا (سورۃ النساء آیت 69)
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے روز ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالحین اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔
​

3: ولی​

الولاء بمعنی محبت، دوستی، نزدیک، رشتہ داری (مف) اور قرابت (م ل) اور ولی بمعنی مدد گار، تنگی ترشی میں کام آنے والا۔ ارشاد باری ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (سورۃ البقرۃ آیت 257)
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔
​
اور الولاء بمعنی ولایت، ترکہ کی وراثت۔ اور موالی (واحد مولی) بمعنی ترکہ کے وارث۔ مزید تفصیل کے لیے وراثت کے تحت دیکھیے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ؕ وَ الَّذِیۡنَ عَقَدَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَاٰتُوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا (سورۃ النساء آیت 33)
اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو حقداروں میں تقسیم کر دو کہ ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کر دیئے ہیں۔ اور جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
​

4: صدیق​

سچا اور وفا دار دوست، دوستی نباہنے والا دوست، اور صداقت بمعنی دلوں کا مودّت پر متفق ہونا (فق ل 234/98) ارشاد باری ہے:
لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ (سورۃ النور آیت 61)
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جسکی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے
​
اور صدیّق مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی راست باز اور سچا دوست۔ قرآن میں ہے:
یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 46)
غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا یوسف اے بڑے سچے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر تعبیر بتاؤں عجب نہیں کہ وہ تمہاری قدر جانیں۔
​

5: خلیل​

خلّۃ اور خلال بمعنی دوستی کا دل میں سرایت کر جانا (مف)، پکی اور گہری دوستی اور خلیل بمعنی مخلص اور گہرا دوست (جمع اخلّاء)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا (سورۃ النساء آیت 125)
اور اس شخص سے اچھا کس کا دین ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر جھکا دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو یعنی ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا۔
​
6: حمیم
بنیادی طور پر تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) سیاہ ہونا۔ (2) گرم ہونا۔ (3) قریبی ہونا (م ل)۔ اور حمّ بمعنی گرم کرنا۔ اور حمّ الظھیرۃ بمعنی دوپہر کے وقت شدت کی گرمی (منجد)۔ اور حمیم بمعنی گرم جوشی دکھلانے والا دوست یا قریبی دوست۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا یَسۡـَٔلُ حَمِیۡمٌ حَمِیۡمًا یُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ (سورۃ المعارج آیت 10، 11)
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے
​

7: ولیجۃ​

ولج بمعنی داخل ہونا۔ اور ولیجۃ ایسا دوست جو کسی کے معاملات میں دخیل کار ہو، معتمد علیہ۔ اور اس کا دوسرا معنی وہ آدمی جو دوسری قوم سے بھی چمٹا رہے (منجد) مفہوم دونوں کا تقریباً ایک ہی نکلتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 16)
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ بے آزمائش چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی تو اللہ نے تم میں سے ایسے لوگوں کو پرکھا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اسکے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
​

8: بطانۃ​

بطن بمعنی پیٹ اور ہر چیز کا اندرونی حصہ۔ اور بطانۃ بمعنی بھید، پوشاک کا استر، آدمی کے اہل و عیال اور خواص (منجد) اور بطانۃ سے مراد ایسا دوست ہے جو ہم راز یا راز دان اور کسی کے اندرونی معاملات سے واقف ہو (مف)۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ (سورۃ آل عمران آیت 118)
مومنو! کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔
​

9: خذول​

خذل بمعنی کسی کی مدد نہ کرنا اور ساتھ چھوڑ جانا۔ اور خذول ایسے دوست کو کہتے ہیں جو زبانی تو دوستی کا دم بھرتا ہو لیکن وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ جائے (منجد) دغا دے جانے والا۔ ارشاد باری ہے:
لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا (سورۃ الفرقان آیت 29)
اس نے مجھ کو کتاب نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔
​

10: اخدان​

(خدن اور خدنۃ کی جمع) بمعنی یار باش آدمی، عاشق مزاج، یار، آشنا، بد کار، دوست، چھپی دوستی رکھنے والا، جنسی خواہش پوری کرنے والا۔ مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے۔ ارشاد باری ہے:
مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ (سورۃ النساء ایت 25)
بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔
​

ماحصل:​

  • قرین: ہم سر، ہم پلہ اور ہم عمر۔
  • رفیق: ہمدرد اور نرم دل دوست۔
  • صدیق: دوستی نباہنے والا، دل سے موافقت۔
  • صدّیق: راست باز اور دوستی نباہنے والا۔
  • ولی: مدد گار و غمگسار، حامی و ناصر۔
  • موالی: قریبی اور ترکہ کا وارث۔
  • خلیل: پکا اور گہرا دوست جس سے دلی محبت ہو۔
  • حمیم: گرم جوشی دکھلانے والا۔
  • ولیجۃ: دخیل کار، معتمد علیہ۔
  • بطانۃ: ہم راز یا راز دان۔
  • خذول: وقت پڑنے پر دغا دے جانے والا۔
  • اخدان: آشنا، یار، بد کار دوست۔
دوست بنانا کے لیے تولّی آئے گا۔ ارشاد باری ہے:
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ (سورۃ الحج آیت 4)
جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسکو گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دھتکارا ہوا​

کے لیے رجیم، دحور اور مدحور اور خاسئ (خسا) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: رجیم​

رجم بمعنی دور سے پتھر، کنکر پھینکنا (مف) مادی اور معنوی دونوں طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ اور رجیم بمعنی ملعون، مردود۔ قرآن میں ہے:
فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ (سورۃ النحل آیت 98)
سو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔
​

2: دحور​

دحر کے بنیادی معنی میں دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) دھتکارنا (2) دور کرنا (م ل) یعنی کسی کو دھتکار کر وہاں سے نکال دینا۔ قرآن میں ہے۔
دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ (سورۃ الصافات آیت 9)
یعنی وہاں سے نکال دینے کو اور انکے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔
قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ؕ لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 18)
اللہ نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔
​

3: خسا​

بمعنی کتے یا سور کو دھتکارنا (منجد) ذلیل اور حقیر سمجھ کر دھتکارنا۔ ارشاد باری ہے:
قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ (سورۃ المؤمنون آیت 108)
فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
​

ماحصل:​

  • رجیم: بمعنی مردود اور معلون۔
  • دحورا: دھتکارا اور نکالا ہوا۔
  • خاسئ: حقیر اور ذلیل ہونے کی وجہ سے دھتکارا ہوا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دھندلانا – دھندلا نظر آنا​

کے لیے انکدر، ابیضّ، عمی اور غمّۃ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: انکدر​

کدر بمعنی گدلا پن (ضد صفاء)، عیش کدر بمعنی تیرہ زندگی۔ اور کدرۃ (ک ضمہ) بمعنی رنگ کا گدلا ہونا (مف)، رنگ کا میلا اور ہلکا پڑ جانا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ (سورۃ التکویر آیت 2)
اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔
​

2: ابیضّ​

بیاض بمعنی سفید (ضد سواد بمعنی سیاہی) اور بیاض العین بمعنی آنکھ کی سفیدی، اور ابیضّت عینہ بمعنی اس کی آنکھ سفید یا بے نور ہو گئی۔ قرآن میں ہے:
وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ (سورۃ یوسف آیت 84)
اور انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے کہ ہائے افسوس یوسف پر ہائے افسوس اور رنج و الم میں انکی آنکھیں سفید ہو گئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔
​

3: عمی​

عمی بمعنی آنکھ کا یا دل کا اندھا ہونا۔ اور عمیت الاخبار عن فلان بمعنی فلاں آدمی کا کچھ پتہ نہیں لا پتہ ہے۔ اور عمی المعنی بمعنی مفہوم یا مطلب کا پوشیدہ رکھنا (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرٌ وَّ ہُوَ عَلَیۡہِمۡ عَمًی (سورۃ حم سجدۃ آیت 44)
اور جو ایمان نہیں لاتے انکے کانوں میں گرانی یعنی بہراپن ہے اور یہ انکے اندھے پن کا باعث ہے۔
​

4: غمّۃ​

غمّ بمعنی کسی چیز کو چھپانا اور غمّی بمعنی تاریکی اور غبار، اور غمام بمعنی بادل جو سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اور غمّۃ الامر بمعنی معاملہ کا پیچیدہ اور مشتبہ ہونا ہے۔ (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَ تَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَ شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنۡظِرُوۡنِ (سورۃ یونس آیت 71)
اور انکو نوح کا قصہ پڑھ کو سنا دو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا اپنے درمیان رہنا اور اللہ کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام جو میرے بارے میں کرنا چاہو مقرر کر لو اور وہ تمہاری تمام جماعت کو معلوم ہو جائے اور کسی سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے خلاف کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
​

ماحصل:​

  • انکدر: کسی چیز کے رنگ کے پھٹک جانے اور میلا پڑنے کے لیے۔
  • عمی الامر: کسی معاملہ کے پوشیدہ یا دھندلا رہنے کے لیے۔
  • ابیض عینہ: آنکھ کے بے نور ہونے کے لیے۔
  • غمّۃ الامر: کسی معاملہ کے مبہم رہنے کے لیے۔
نیز دیکھیے "دیکھنا" (کیفیت نظر)۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دھواں​

کے لیے دخان، نحاس اور یحموم کے الفاظ آئے ہیں۔

1: دخان​

دھواں، معروف چیز ہے۔ البتہ امام راغب نے یہ تخصیص کی ہے کہ اس سے مارد وہ دھواں ہے جو آگ کے شعلوں کے ساتھ نکلتا ہے (مف)۔ حالانکہ دھواں آگ کے شعلہ سے پہلے بھی نکلتا ہے۔ اور وہ بھی دخان ہی ہے۔ ارشاد باری ہے:
ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ (سورۃ حم سجدۃ آیت 11)
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ خواہ خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں۔
​

2: نحاس​

بمعنی تانبا۔ اور ایسی آگ جس کا رنگ تانبے کی مانند ہو اور ایسا دھواں بھی جس میں اس رنگ کی آگ کے شعلے لپٹ رہے ہوں (مف)، سرخ اور سخت گرم دھواں۔ آگے اور دھواں ملے ہوئے ہوں تو یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ (سورۃ الرحمن آیت 35)
تم پر آگ کے شعلے صاف اور دھواں ملے چھوڑ دیئے جائیں گے تو پھر تم انکا مقابلہ نہ کر سکو گے۔
​

3: یحموم​

حمّ کے بنیادی معنوں میں سے ایک معنی سیاہ ہونا بھی ہے (م ل) اور حمّۃ بمعنی کوئلہ، راکھ اور آگ میں جلی ہوئی ہر شے (منجد) اور یحموم ایسے دھواں کو کہتے ہیں جو گرم بھی ہو اور سیاہ اور غلیظ بھی۔ ارشاد باری ہے:
فِیۡ سَمُوۡمٍ وَّ حَمِیۡمٍ وَّ ظِلٍّ مِّنۡ یَّحۡمُوۡمٍ (سورۃ الواقعہ آیت 42، 43)
یعنی دوزخ کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔
​

ماحصل:​

  • دخان: کا لفظ عام ہے۔
  • نحاس: تانبے جیسے رنگ کے آگ کے سرخ دھوئیں کو۔
  • یحموم: سیار رنگ کے غلیظ دھوئیں کو کہتے ہیں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دھوپ​

کے لیے شمس، ضحی، حرّ اور حرور کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: شمس​

بمعنی سورج کی ٹکیہ بھی اور دھوپ بھی۔ شمس یومنا بمعنی دن کا دھوپ والا ہونا، ابر آلود نہ ہونا (مف) اور شمّس بمعنی کسی کو دھوپ میں رکھنا۔ اور شمس سے جب دھوپ مراد ہو تو یہ کسی وقت کی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس سے عموماً شدت کی دھوپ اور اس کی گرمی ہی مارد لی جاتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا (سورۃ الدھر آیت 13)
اس میں وہ تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ کی حدّت دیکھیں گے نہ سردی کی شدت۔
​

2: ضحی​

بمعنی سورج کے چڑھ کر اوپر آنے اور دھوپ کے پھیل جانے کا وقت، چاشت کا وقت اور اس وقت اور س وقت کی دھوپ دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَغۡطَشَ لَیۡلَہَا وَ اَخۡرَجَ ضُحٰہَا (سورۃ النازعات آیت 29)
اور اسی نے رات تاریک بنائی اور دن کو دھوپ نکالی۔
​

3: حرّ​

حرّ اور حرارت بمعنی گرمی اور گرمی کا وقت۔ چونکہ گرمی کے وقت کا تعلق سورج اور دھوپ کی حدت سے ہے لہذا دوپہر کی سخت دھوپ کو بھی حرّ کہتے ہیں اور گرم موسم کو بھی۔ قرآن میں ہے:
فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقۡعَدِہِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ وَ کَرِہُوۡۤا اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَالُوۡا لَا تَنۡفِرُوۡا فِی الۡحَرِّ ؕ قُلۡ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَفۡقَہُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 81)
جو لوگ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے وہ اللہ کے پیغمبر کی مرضی کے برخلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور دوسروں سے بھی کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا ان سے کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے کاش یہ اس بات کو سمجھتے۔
​

4: حرور​

(ضد ظلّ بمعنی سایہ) بمعنی گرم ہوا، لو، تپش (مف) جو شدت کی دھوپ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ (سورۃ فاطر آیت 20، 21)
اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔ اور نہ سایہ اور نہ دھوپ۔
​

ماحصل:​

  • شمس: دھوپ کے لیے عام لفظ۔
  • ضحی: چاشت کے وقت کی دھوپ۔
  • حرّ: دوپہر کی گرم دھوپ۔
  • حرور: گرم دھوپ سے پیدا شدہ لو اور تپش۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دھوکا دینا​

کے لیے غرّ، خدع، خان (خون)، خذل، راغ (روغ) اور ختر کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: غرّ​

بمعنی کسی کو غافل پا کر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا، فریب دینا، پھانسنا (مف) اور غرور اور متاع الغرور بمعنی اباطیل الدنیا اور غرور بمعنی دھوکا دینا (غ پر ضمہ) اور غرور (غ پر فتحہ) بمعنی دھوکا دینے والا ہے۔ اور غرور بمعنی ہر وہ وہم جو انسان کو تکلیف سے دوچار کر دے، جیسے پیاسے کو سراب (فق ل 214)۔ ارشاد باری ہے:
یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَ ارۡتَبۡتُمۡ وَ غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ (سورۃ الحدید آیت 14)
تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے آپکو بلا میں ڈالا اور ہمارے لئے گردش زمانہ کے منتظر رہے اور اسلام میں شک کیا اور فضول آرزؤں نے تمکو دھوکے میں ڈالے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور اللہ کے بارے میں تمکو وہ شیطان بڑا فریبی فریب دیتا رہا۔
​

2: خدع​

حقیقت کو چھپا کر دوسرے کو اندھیرے میں رکھنا (م ل) اور بمعنی کسی سے راہ صواب کو چھپانا تا کہ وہ مکروہ میں جا پڑے (فق ل 214) جو کچھ دل میں ہو اس کے علاوہ کچھ اور ظاہر کر کے کسی کو اس چیز سے پھیر دینا جس کے وہ درپے ہو، چکمہ دینا (مف) اور طریق الخدوع ایسے راستہ کو کہتے ہیں جو کبھی دکھائی دے اور کبھی گم ہو جائے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا "الحرب خدعۃ" تو خدعۃ کے معنی دھوکا یا مکر و فریب نہیں بلک جنگی چال ہے جیسے فوج کو اس طریقہ سے کھڑا کرنا کہ اصل تعداد سے بہت زیادہ معلوم ہو۔ یا لشکر کا پسپا ہونا کہ دشمن کو نرغہ میں لیا جا سکے۔ گویا ایسے طریقوں سے مقابل کو اندھیرے میں رکھ کر اپنا مطلب نکال لیا جاتا ہے۔ اس میں مکر و فریب یا دھوکے کی کوئی بات نہیں۔ اور اگر مقصد نیک ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ ارشاد باری ہے:
یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 9)
یہ اپنے خیال میں اللہ کو اور مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں۔
​

3: خان​

بمعنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرنا۔ اور یہ لفظ عہد، امانت اور نفاق (دین میں خیانت) کے لیے خاص ہے (مف) اور خوّان اسم مبالغہ کا صیغہ ہے بمعنی بہت بڑا دھوکہ باز، بڑا خائن۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوۡمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذۡ اِلَیۡہِمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡخَآئِنِیۡنَ (سورۃ الانفال آیت 58)
اور اگر تم کو کسی قوم سے دغابازی کا خوف ہو تو ان کا عہد انہیں کی طرف پھینک دو کہ اسطرح تم سب برابر ہو جاؤ کچھ شک نہیں کہ اللہ دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔
​

4: خذل​

زبانی دوستی کا دم بھرنے والا اور وقت پڑنے پر دغا دینے والا (تفصیل "دوست" میں دیکھیے)۔

5: راغ الی​

بمعنی چپکے سے کسی کی طرف مائل ہونا۔ اور راغ علی بمعنی کس پر پل پڑنا، رواغ بمعنی مکر و فریب اور روّاغ بمعنی فریبی، بڑا دھوکہ باز۔ لومڑی کو بھی روّاغ کہا جاتا ہے۔ اور راوغہ بمعنی نے دھوکہ دے کر اسے پچھاڑ دیا (منجد)۔ اور امام راغب کے نزدیک اس کا معنی کسی حیلہ اور تدبیر کی خاطر ایک جانب مائل ہونا ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
فَرَاغَ اِلٰۤی اٰلِہَتِہِمۡ فَقَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ (سورۃ الصافات آیت 91)
پھر ابراہیم انکے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں۔
​

6: ختر​

بمعنی بری طرح بے وفائی کرنا۔ اور تختّر بمعنی ڈھیلا ہونا، سست ہونا (منجد)۔ امام راغب کے نزدیک الختر ایسی غداری کو کہتے ہیں جسے اتنی کوشش سے کیا جائے کہ انسان کمزور پڑ جائے اور اس کے اعضا ڈھیلے پڑ جائیں (مف) یعنی مسلسل دھوکہ دیتے اور بے وفائی کرتے چلے جانا۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ (سورۃ لقمان آیت 32)
اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں ناشکرے ہیں۔
​

ماحصل:​

  • غرّ: غفلت سے فائدہ اٹھا کر دھوکہ دینا۔
  • خدع: حقیقت کو چھپا کر اپنا مقصد حل کرنا اور مخالف کو دھوکا دینا۔
  • خان: عہد اور امانت اور دین میں خفیہ طور پر دھوکا دینا۔
  • خذل: کسی دوست کا وقت پڑنے پر دھوکا دے جانا۔
  • راغ: حیلہ و تدبیر کی خاطر ایک جانب مائل ہونا، دھوکہ دے جانا۔
  • ختر: بری طرح بے وفائی کرنا اور مسلسل کرتے چلے جانا۔
نیز دیکھیے "تدبیر کرنا"۔
دھونا کے لیے دیکھیے "نہانا دھونا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دیکھنا​

کے لیے رای (رءی)، نظر ،بصر اور بصر (ص پر ضمہ)، انس اور زار کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ سب افعال قلوب سے ہیں۔ یعنی اس کے دیکھنے کا تعلق صرف آنکھ سے نہیں بلکہ قلب و دماغ سے بھی ہے
دیکھنے کی کیفیت کے لحاظ سے شخص، لمح، ھطع، عشا، اغمض، زاغ، برق کے الفاظ بھی قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: رای​

کسی چیز کا ادراک کرنا، دیکھنا، خواہ وہ آنکھوں سے ہو یا غور و فکر، عقل و بصیرت یا وہم و خیال کے لحاظ سے۔ رای کا استعمال عام ہے۔ خواہ حالت بیداری ہو یا خواب میں اور بمعنی آخری نظر، غور و تامل سے دیکھنا۔ ارشاد باری ہے:
آنکھوں سے:
اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ (سورۃ یوسف آیت 4)
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا کیا ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
​
غور و فکر سے:
اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ (سورۃ الماعون آیت 1)
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے۔
​

2: نظر​

نظر ڈالنا، دیکھنا تاکہ کوئی چیز نظر آئے (فق ل 59) خواہ وہ چیز نظر آئے یا نہ آئے۔ اس کا استعمال بھی دونوں طرح سے ہوتا ہے۔
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 127)
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے؟ پھر پیٹھ پھیر جاتے ہیں۔ اللہ نے انکے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
۔
قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّۃٍ وَّ اُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ ۬ۙ وَّ الۡاَمۡرُ اِلَیۡکِ فَانۡظُرِیۡ مَاذَا تَاۡمُرِیۡنَ (سورۃ النمل آیت 33)
وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم دیجئے گا اسکے انجام پر نظر کر لیجئے گا۔
​
تاہم نظر کا استعمال بالعموم آنکھوں سے دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

3: بصر​

بصر کا لفظ نگاہ کے لیے اور دیدہ دل سے دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، آنکھوں سے دیکھنے کے لیے یہ بہت کم استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ وَ تَرٰىہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ (سورۃ الاعراف آیت 198)
اور اگر تم انکو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ بظاہر آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع کچھ نہیں دیکھتے۔​
اس آیت میں رای، نظر اور بصر تینوں مترادفات آ گئے ہیں۔ اور ان کے درمیان فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ رای کا لفظ خیال کرنے کے لیے، نظر کا آنکھوں سے دیکھنے کے لیے اور بصر کا لفظ دیدہ دل سے دیکھنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
اور بصر (ص پر ضمہ) کا لفظ بصر سے بھی اخص ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ یَبۡصُرُوۡا بِہٖ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَۃً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُہَا وَ کَذٰلِکَ سَوَّلَتۡ لِیۡ نَفۡسِیۡ (سورۃ طہ آیت 96)
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے مٹی کی ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اسکو بچھڑے کے جسم میں ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے اس کام کو اچھا بتایا۔
​
یہاں ایسی چیز سے مراد وہ بات ہے جو اس کے ذہن میں آئی تھی۔ مگر دوسروں کے ذہن میں نہ آ سکی۔

4: انس​

انس کے معنی نہ غور کرنا ے نہ نظر سے دیکھنا اور نہ دیدہ دل سے دیکھنا بلکہ اس کا معنی مانوس ہونا یا کسی چیز کا قرائن سے معلوم ہونا۔ اور امام راغب کے الفاظ میں کسی سے انس پانا (مف) ہے۔ تاہم اپنی زبان کے محاورہ کے لحاظ سے اس کا ترجمہ دیکھنا سے کر لیا جاتا ہے یعنی دور سے گہری نظر سے دیکھ کر معلوم کر لینا۔ قرآن میں ہے:
اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی (سورۃ طہ آیت 10)
جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں جاتا ہوں شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگارہ لاؤں یا آگ کے مقام سے اپنا رستہ معلوم کر سکوں۔
​
اور دوسرے مقام پر ہے:
فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ (سورۃ النساء آیت 6)
پھر بالغ ہونے پر اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔
​

5: زار​

زارہ بمعنی کسی کی ملاقات کرنے کے لیے جانا (منجد) اور بمعنی کسی چیز کو دیکھنے اور اسے ملنے کے لیے آنا، زیارت کرنا (م ق) اور زور بمعنی سینہ کا بالائی حصہ۔ اور زرت فلانا بمعنی نے اپنا سینہ اس کے سامنے کیا یا اس کے سینہ کا قصد کیا (یعنی ملاقات کی) (مف)۔ قرآن میں ہے:
اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ (سورۃ التکاثر آیت 1، 2)
لوگو تمکو زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے کی خواہش نے غفلت میں ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔
​

ماحصل:​

  • رای: کسی بات پر غور کرنے کے لیے۔
  • نظر: کا استعمال عموماً نظر ڈالنے کے لیے۔
  • بصر: دیدہ دل سے دیکھنے کے لیے۔
  • انس: دیکھنا بمعنی معلوم کرنا، پانا۔
  • زار: کسی چیز کے دیکھنے کو جانے یا زیارت کرنے کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دیکھنا (کیفیت نظر)​

کیفیت نظر کے لیے شخص، لمح، ھطع، عشا، اغمض، زاغ اور برق کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: شخص​

بمعنی آنکھوں کا پتھرا جانا، آنکھوں کا بے نور ہونا اور پلک نہ جھپکنا (فل 103) قرآن میں ہے:
وَ اقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبۡصَارُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ یٰوَیۡلَنَا قَدۡ کُنَّا فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا بَلۡ کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ (سورۃ الانبیاء ایت 97)
اور قیامت کا سچا وعدہ قریب آجائے۔ تو ناگہاں کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں اور کہنے لگیں کہ ہائے شامت ہم اس حال سے غفلت میں رہے بلکہ ہم خود ہی ظالم تھے۔
​

2: لمح​

نگاہ کی لپک، جلدی سے کسی چیز کی طرف نظر ڈالنا، آنکھ کا جھپکنا (فل 102)۔
وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (سورۃ النحل آیت 77)
اور آسمانوں اور زمین کا بھید اللہ ہی کے پاس ہے اور اللہ کے نزدیک قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
​

3: ھطع​

ٹکٹکی باندھے سامنے دیکھتے اور دوڑتے جانا۔
مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ (سورۃ ابراہیم آیت 43)
اور لوگ سر اٹھائے ہوئے میدان قیامت کی طرف دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں خود اپنی طرف لوٹ نہ سکیں گی۔ اور انکے دل مارے خوف کے ہوا ہو رہے ہوں گے۔
​

4: عشا​

(عشو) اس کے بنیادی معنی اندھیرے کی وجہ سے چیزوں کا واضح نظر نہ آنا (م ل) اور کبھی یہ لفظ محض اندھیرے کے وقت کے لیے آ جاتا ہے۔ العشاء بمعنی شام کے بعد کا وقت، رات کی نگاہ کا کمزور ہونا، رات کا کھانا۔ اور عشی یعشی عشیّا و عشاوۃ بمعنی رات کو نظر نہ آنا، رتوندا ہونا، شب کوری (منجد) اور عشوۃ بمعنی وہ شعلہ جو رات کے وقت دور سے دکھائی دے (م ق)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ (سورۃ الزخرف آیت 36)
اور جو کوئی رحمٰن کی یاد سے آنکھیں بند کر لے یعنی تغافل کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔
​

5: اغمض عینہ​

بمعنی کسی کا اپنی آنکھ بند کرنا۔ اور اغمض عن الشّی بمعنی چشم پوشی کرنا، تجاوز کرنا (منجد) یعنی کسی بری چیز کو دیکھنے یا جاننے کے باوجود دوسرے کو ایسا معلوم کرنا کہ جیسے اس کے متعلق کچھ خبر نہیں۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبۡتُمۡ وَ مِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الۡخَبِیۡثَ مِنۡہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَ لَسۡتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ (سورۃ البقرۃ آیت 267)
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینےکا قصد نہ کرنا کہ اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو بجز اس کے کہ لیتے وقت آنکھیں بند کر لو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ اللہ بے نیاز ہے خوبیوں والا ہے۔
​

6: زاغ​

بمعنی راہ حق سے انحراف کرنا اور زاغ البصر بمعنی نظر کا تھک جانا (منجد) اور امام راغب کے نزدیک نگاہ نے غلطی کی اور ایک طرف ہٹ گئی۔ ارشاد باری ہے:
مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی (سورۃ النجم آیت 17)
ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔
​

7: برق​

برق بمعنی چمکنے والی بجلی۔ اور برق البصر بمعنی بجلی کی چمک یا کوند یا کسی تیز روشنی سے آنکھ کا چندھیا جانا۔ ارشاد باری ہے:
فَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُ (سورۃ القیامۃ آیت 7)
سو جب آنکھیں چندھیا جائیں۔
​

ماحصل:​

  • شخص: آنکھوں کا پتھرا جانا۔
  • لمح: آنکھ کا جھپکنا۔
  • ھطع: ٹکٹکی باندھے سامنے دیکھنا۔
  • عشا: اندھراتا ہونا، رات کی نگاہ کمزور ہونا۔
  • اغمض: چشم پوشی کر جانا۔
  • زاغ البصر: نظر ک اتھک کر بہک جانا۔
  • برق: تیز روشنی سے آنکھوں کا چندھیا جانا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دکھلانا​

کے لیے قرآن کریم میں اری، اری، ریاء، بصّر اور تبرّج کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

1: اری​

اری یری (رای سے باب افعال) بمعنی دوسروں کو دکھلانا۔ یہ لفظ بھی مادی اور معنوی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:
مادی لحاظ سے:
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ (سورۃ الاحقاف آیت 4)
کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جنکو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ کہ انہوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمانوں میں انکی کوئی شرکت ہے۔ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ یا تمہارے پاس علم انبیاء میں سے کچھ ہو تو اسے پیش کرو۔
​
معنوی لحاظ سے:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِتَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللّٰہُ ؕ وَ لَا تَکُنۡ لِّلۡخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا (سورۃ النساء آیت 105)
اے پیغمبر ہم نے تم پر سچّی کتاب نازل کی ہے تا کہ اللہ کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے مقدمات فیصل کرو اور دیکھو دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا۔
​
(یہاں "اری" سے مراد خداد بصیرت بھی ہے اور وحی خفی بھی)۔
اور اری یراء (رای سے باب تفاعل) بمعنی ایک دوسرے کو دکھلانا۔ قرآن میں ہے:
اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ ہُوَ خَادِعُہُمۡ ۚ وَ اِذَا قَامُوۡۤا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوۡا کُسَالٰی ۙ یُرَآءُوۡنَ النَّاسَ وَ لَا یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیۡلًا (سورۃ النساء آیت 142)
منافق ان چالوں سے اپنے نزدیک اللہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر صرف لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کو یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔
​
اور ریاء بھی اسی معنی میں آتا ہے یعنی دکھلاوا کرنا، نمائش کرنا، ایسا کام کرنا جس کا مقصد ہی دوسروں کو دکھلانا ہو۔ قرآن میں ہے:
وَ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ مَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا (سورۃ النساء آیت 38)
اور جو خرچ بھی کریں تو اللہ کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھانے کو۔ اور ایمان نہ اللہ پر لائیں نہ روز آخر پر اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو کچھ شک نہیں کہ وہ برا ساتھی ہے۔
​

2: بصّر​

اس طرح دکھلانا کہ دوسرا پہچان اور سمجھ لے۔ احوال و آثار سے واقف کرنا (مف)۔ قرآن میں ہے:
یُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ (سورۃ المعارج آیت 11)
حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے اس روز گنہگار چاہے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دیدے یعنی اپنے بیٹے۔
​

3: تبرّج​

برج بمعنی بلند ہونا، ظاہر ہونا (منجد) برج معروف لفظ ہے۔ اور تبرجت المراۃ بمعنی عورت کا اجنبیوں کو اپنی زینت اور اپنے محاسن دکھلانا (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا (سورۃ الاحزاب آیت 33)
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح پہلے جاہلیت کے دنوں میں زیب و زینت کی نمائش کیجاتی تھی اس طرح اظہار زینت نہ کرو اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو۔ اے پیغمبر کی گھر والیو اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے۔
​

ماحصل:​

  • اری اور اری: محض دکھلانے کے لیے۔
  • بصّر: اس طرح دکھانا کہ دوسرا پہچان جائے۔
  • تبرّج: زیب و زینت کے دکھلانے کے لیے آتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دین​

کے لیے دین، شریعۃ اور ملّۃ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: دین​

دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مختصراً یہ چار معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) اللہ تعالی کی کامل اور مکمل حاکمیت۔ (2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی۔ (3) قانون جزا و سزا۔ اور (4) اس قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔ پھر تو یہ لفظ کسی ایک معنی میں بھی آ جاتا ے اور کبھی ایک سے زیادہ معنی میں۔ مثلاً:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ (سورۃ الزمر آیت 2)
اے پیغمبر ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو اللہ کی عبادت کرو یعنی اسکی عبادت کو شرک سے خالص کر کے۔
​
میں یہ لفظ چاروں مفہوم ظاہر کر رہا ہے۔ اب دین کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالی بندوں کو کچھ باتوں کا حکم دے، کچھ کاموں سے منع کرے اور جو شخص اس کے خلاف کرے اسے جزا و سزا بھی دے۔ چنانچہ ایسے احکام جو آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ رسول اللہ تک غیر متبدل رہے ہیں، یہی اصل دین ہے مثلاً شرک کی حرمت، قتل نا حق، چوری، زنا، فواحش وغیرہ سے اجتناب اور آخرت کا محاسبہ وغیرہ۔ اور اللہ تعالی کے ان احکامات کو تسلیم کرنے اور فرمانبردار بننے کا نام اسلام ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ (سورۃ آل عمران آیت 19)
دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور اہل کتاب نے جو اس دین سے اختلاف کیا تو علم حاصل ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ اور جو شخص اللہ کی آیتوں کو نہ مانے تو اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
​

2: شریعۃ​

شرع کا لغوی معنی واضح راستہ متعین کرنا (مف) ہے۔ اور شریعۃ سے مراد وہ احکام ہیں جو زمانہ کی ضرورتوں اور احوال و ظروف کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا کہ یہ ایک اضطراری امر تھا جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دیا گیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی زوجیت میں دو حقیقی بہنیں تھیں جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دی گئیں۔ اسی طرح اس میں سجدہ تعظیمی جائز تھا جو بعد میں حرام کر دیا گیا۔ سابقہ شریعتوں میں اموال غنیمت سے استفادہ نا جائز تھا جو امت مسلمہ کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ غرضیکہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ دین اور شریعت کے فرق کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں سمجھایا کہ:
الأنبياءُ إخوةٌ لعَلَّاتٍ؛ أمَّهاتُهُم شتَّى ودينُهُم واحدٌ
تمام انبیاء علاتی بھائی (وہ بھائی جن کا باپ ایک اور مائیں الگ الگ ہوں) ہیں کہ ان کی مائیں (شریعتیں) الگ الگ ہیں اور ان کا دین (باپ) ایک ہی ہے۔
​
اور قرآن میں ہے:
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ (سورۃ شوری آیت 13)
اس نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جسکے اختیار کرنے کا حکم نوح کو دیا تھا اور جسکی اے نبی ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ انکو ناگوار گذرتی ہے۔ اللہ جسکو چاہتا ہے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ کر لیتا ہے اور جو اسکی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف کے رستے پر چلا دیتا ہے
​

3: ملّت​

دین اور شریعت میں سب کو منزل من اللہ اور الہامی کتاب میں مذکور ہوتا ہے۔ سب سے پہلے نبی خود ان احکام پر عمل پیرا ہونے کا پابند ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ان احکامات الہیہ کی تبلیغ کر کے متبعین کی ایک جماعت بناتا اور ان سب کو ان احکامات کا پابند بناتا اور اسلامی نظام قائم کرتا ہے۔ اس نظام کا نام ملت ہے۔ گویا ملت احکام و فرامین کا نام نہیں بلکہ اس نظام کا نام ہے جس میں نبی امیر، مامور اس نبی کے پیروکار اور ان کا دستور احکام الہیہ (دین، شریعت) اور جماعت پر امیر کی اطاعت لازم قرار دی گئی ہے۔ مترجم حضرات مختصراً ملت کا ترجمہ "دین" ہی لکھ دیتے ہیں حالانکہ دین تو سب انبیاء کا ایک ہی ہے البتہ ملت کی نسبت کسی مخصوص نبی ہی کی طرف جا سکتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 95)
کہدو کہ اللہ نے سچ فرما دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بے تعلق ہو کر ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
​

ماحصل:​

  • دین: وہ احکام الہیہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک غیر متبدل رہے ہیں اور ان کی اطاعت۔
  • شریعت: وہ احکام الہیہ جو احوال و ظروف زمانہ کے متعلق تبدل ہوتے رہتے ہیں۔
  • ملت: وہ نظام جو ایک نبی احکام الہیہ کی فرمانبرداری میں اپنے متبعین کی جماعت میں قائم کرتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دینا​

کے لیے اتی، اعطی (عطو)، اداء (ادو، ادی)، دیۃ، اثاب (ثوب)، وھب، رفد، دفع الی، ھدیّۃ اور نحل کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: اتی​

دینا، کسی چیز کا کسی کو دینا، معروف معنوں میں مستعمل ہے اور اس کا استعمال عام ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ (سورۃ البقرۃ آیت 177)
اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کریں
​

2: اعطی​

دو معنی میں آتا ہے۔ (1) کسی کو کوئی چیز محض تفضّلاً دے دینا، بخش دینا (مف)۔ قرآن میں ہے:
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی (سورۃ طہ آیت 50)
کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اسکی شکل و صورت بخشی پھر راہ دکھائی۔
​
2: اور اعطی کے معنی مطیع ہونا اور خدمت کرنا بھی ہے (منجد)۔ لہذا کسی شخص کو اس کی خدمت، محنت اور اطاعت کے عوض زیادہ دے دینا بھی اعطی ہے۔ عطیہ، انعام، خوش ہو کر محنت یا خدمت سے زیادہ دے دینا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ سُعِدُوۡا فَفِی الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ (سورۃ ھود آیت 108)
اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کئے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے یہ اللہ کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی۔
​

3: اداء​

کسی کو اس کا حق پورا پورا اور یکبارگی دے دینا۔ یہ لفظ عموماً لین دین کے معاملات مثلاً امانت، قرضہ اور خراج وغیرہ کے لیے مستعمل ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ (سورۃ البقرۃ آیت 283)
اور اگر تم میں سے کوئی دوسرے کو امین سمجھے یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے تو امانتدار کو چاہیے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کر دے اور اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔
​

4: دیۃ​

(ودی) ودی یدی دیۃ۔ خون بہا کی ادائیگی کے لیے یہ لفظ مخصوص ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَمَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـــًٔا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ وَّدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَهۡلِهٖۤ (سورۃ النساء آیت 92)
اور کسی مومن کو شایاں نہیں کہ دوسرے مومن کو مار ڈالے مگر غلطی سے ایسا کر بیٹھے۔ اور جو غلطی سے بھی مومن کو مار ڈالے تو وہ ایک تو ایک مسلمان غلام آزاد کر دے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے۔
​

5 :اثاب​

اعطی سے اعم ہے۔ یہ ہر کام کے معاوضہ کے لیے آتا ہے خواہ کام اچھا ہو یا برا۔ تاہم یہ لفظ عموماً اچھے کاموں کے بدلہ کے لیے آتا ہے۔ نیز اس میں بھی اعطی کی طرح کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ کام کا معاوضہ پورا یا اس سے کچھ زیادہ دینا۔ ارشاد باری ہے:
فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 85)
پس اللہ نے انکو اس کہنے کے سبب بہشت کے باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں یہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور نیکوکاروں کا یہی صلہ ہے۔
​

6: وھب​

بلا معاوضہ و محنت کسی کو کچھ دے دینا۔ اور بعد میں کسی فائدہ یا عوض کی توقع نہ رکھنا (مف) ارشاد باری ہے:
يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَۙ‏ (سورۃ الشوری آیت 49)
جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے۔
​

7: رفد​

عطا اور مدد۔ دو باتیں بنیادی طور پر اس کے معنی میں پائی جاتی ہیں یعنی کسی غریب اور مسکین کو عطیہ کے طور پر کچھ دینا، وظیفہ دینا، وظیفہ مقرر کرنا۔ اور رفادہ اس فنڈ کو کہتے ہیں جو قریش نادار حجاج کی مدد کے لیے جمع رکھتے تھے۔ اور ارفد بمعنی کس کے لیے عطیہ مقرر کرنا کہ وہ اس مقررہ مقدار میں سے لیتا رہے (مف) اور رفد بمعنی وظیفہ، امداد۔ قرآن میں ہے:
وَ اُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہٖ لَعۡنَۃً وَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ (سورۃ ھود آیت 99)
اور اس جہان میں بھی لعنت انکے پیچھے لگا دی گئ اور قیامت کے دن بھی پیچھے لگی رہے گی جو انعام انکو ملا ہے برا ہے۔
​

8: دفع (الی)​

دفع بمعنی کسی چیز کی حفاظت و حمایت میں بیرونی خطرات اور حملے کو دور کرنا اور پرے ہٹانا ہے (مف) اور جب اس کا صلہ الی سے ہو تو اس کے معنی ادا کرنا یا کسی کی چیز اس کے سپرد کر دینا یا حوالے کر دینا ہے۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ (سورۃ النساء آیت 6)
پھر بالغ ہونے پر اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔
​

9: ھدیّۃ​

ان تحائف کو کہا جاتا ہے جو ہم ایک دوسرے کو تعلقات کی خوشگواری کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اور مھدی اسی چیز کو کہا جاتا ہے جس میں رکھ کر ہدیہ پیش کیا جائے۔ ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ ۫ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰہُ خَیۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮکُمۡ ۚ بَلۡ اَنۡتُمۡ بِہَدِیَّتِکُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 36)
پس جب قاصد سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو سو جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ اپنے تحفے سے تم ہی خوش ہوتے ہو گے۔
​

10: نحل​

کسی کو کوئی چیز دینا۔ نحل المراۃ عورت کو اس کا حق مہر دینا۔ اور نحل بمعنی عطیہ، بخشش (منجد)۔ اور النّحلۃ اس عطیہ کو کہتے ہیں جو تبرعا دیا جائے۔ یہ ہبہ سے خاص ہے کیونکہ ہر ہبہ کو نحلۃ کہہ سکتے یں لیکن ہر نحلۃ کو ہبہ نہیں کہہ سکتے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحۡلَۃً (سورۃ النساء آیت 4)
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔
​

ماحصل:​

  • اتی: دینا۔ اس کا استعمال عام ہے۔
  • اعطی: بخشش، خدمت یا محنت اور اطاعت کا صلہ زیادہ دینا۔
  • اثاب: اعطی سے اعم ہے۔ کسی بھی کام کا صلہ اصل معاوضہ سے زیادہ دینا۔
  • اداء: حقوق اور مالی معاملات کی ادائیگی۔
  • دیۃ: خون بہا کی ادائیگی۔
  • وھب: بلا معاوضہ دینا اور بعد میں کسی معاوضہ یا فائدہ کی توقع نہ رکھنا۔
  • رفد: کسی نادار اور مفلس کو امداد کے طور پر وظیفہ وغیرہ دینا۔
  • دفع (الی): باز ادائیگی کرنا، کسی کی چیز اس کے حوالے کرنا۔
  • ھدیّۃ: تعلقات کی خوشگواری کے لیے تحفہ دینا۔
  • نحلۃ: برضا و رغبت ہبہ کے طور پر کسی کو دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دیوار​

کے لیے جدار، سدّ، ردم، سور اور بنیان کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: جدار​

(جمع جدر اور جداران) مکان یا قلعہ کی دیواروں میں سے کوئی ایک دیوار۔ جدر بمعنی دیواروں سے گھرنا (منجد) اور ابن الفارس کے الفاظ میں ھو الحائط (م ل) یعنی کسی احاطہ شدہ تعمیر کی دیوار ہے۔ قرآن میں ہے:
وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا (سورۃ الکہف آیت 82)
اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اسکے نیچے انکا خزانہ دفن تھا اور انکا باپ ایک نیک آدمی تھا۔
​

2: سدّ​

سدّ بمعنی روک، آڑ، دو چیزوں کے درمیان بڑی سی دیوار جو روک کا کام دے اور خود تعمیر کی گئی ہو۔ اور اگر یہ دیوار یا آڑ قدرتی ہو تو اسے سدّ (س پر ضمہ) کہتے ہیں (مف) اور سدّ بمعنی پتھر سے شگاف بند کرنا۔ اور سداد اس مسالہ کو کہتے ہیں جس سے رخنہ یا شگاف پر کیا جائے اور سدّ حکیموں کی اصطلاح میں آنتوں میں فاسد مادہ کے پھنس کر روک بن جانے کو کہتے ہیں۔ قرآن میں ہے:
قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا (سورۃ الکہف آیت 94)
ان لوگوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس علاقے میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپکے لئے خرچ کا انتظام کر دیں کہ آپ ہمارے اور انکے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں۔
​

3: ردم​

یہ لفظ سدّ سے اخص ہے۔ یعنی ایسی دیوار یا روک جس کے سب سوراخ اور شگاف اچھی طرح سے بند کر دئیے گئے ہوں (مف)، موٹی دیوار، مضبوط روک۔ اور ردم بمعنی رخنہ یا شگاف بند کرنا۔ اور ردم الثوب بمعنی کپڑے میں پیوند لگانا (منجد) ہے۔ قرآن میں ہے:
قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا (سورۃ الکہف آیت 95)
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور اللہ نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت بازو سے مدد دو۔ میں تمہارے اور انکے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ بنا دوں گا۔
​

4: سور​

ابن الفارس کے الفاظ میں یدل علی علو و ارتفاع (م ل) یعنی اونچی اور بلند دیوار جسے پھاند کر اندر داخل نہ ہو سکیں۔ اور یہ دیوار کسی مکان کی نہیں بلکہ کسی فصیل قلعہ یا احاطہ کی ہوتی ہے۔ اور سورۃ المدینۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں (مف)۔ ارشاد باری ہے:
فَضُرِبَ بَیۡنَہُمۡ بِسُوۡرٍ لَّہٗ بَابٌ ؕ (سورۃ الحدید آیت 13)
پھر انکے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہو گا۔
​

5: بنیان​

بنی بمعنی تعمیر کرنا، عمارت بنانا، اس طرح کہ اس کے سب اجزا ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے ہوں۔ اور بنیان ہر اس تعمیر کو کہتے ہیں جو یہ شرط پوری کرے خواہ یہ صرف بنیاد ہو یا کوئی دیوار یا پوری عمارت۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ (سورۃ الصف آیت 4)
جو لوگ اللہ کی راہ میں ایسے طور پر صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک اللہ کے محبوب ہیں۔
​

ماحصل:​

  • جدار: کسی مکان یا احاطہ کی دیوار۔
  • سدّ: دو چیزوں کی درمیانی بنائی ہوئی دیوار جو روک کا کام دے۔
  • ردم: ایسی سدّ جس کے سب رخنے اچھی طرح بند کر دئیے گئے ہوں۔
  • سور: فصیل وغیرہ کی بلند دیوار جس کو پھاندا نہ جا سکے۔
  • بنیان: ایسی دیوار یا تعمیر جس کے اجزا مضبوطی سے آپس میں پھنسے ہوئے ہوں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

دیوانہ – دیوانہ پن​

کے لیے مجنون، خبط، مفتون اور سعر کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: مجنون​

جنّ بمعنی کسی چیز پر چھا کر اسے ڈھانپ دینا، حواس پر پردہ پڑ جانا (منجد) اور مجنون وہ شخص ہے جس کے ہوش و حواس جاتے رہیں۔ اہل عرب مجنون کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ ان کے خیال میں جن انسان میں داخل ہو کر اسے دیوانہ بنا دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے وہ شخص جسے جنوں نے دیوانہ کر دیا ہو، آسیب زدہ۔ ارشاد باری ہے:
کَذٰلِکَ مَاۤ اَتَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا قَالُوۡا سَاحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ (سورۃ الذریات آیت 52)
اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس بھی جو پیغمبر آتا تو وہ بھی اسکو جادوگر یا دیوانہ کہتے۔
​
اور جنّۃ بمعنی جن بھی اور دیوانگی بھی۔ جیسے فرمایا:
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِہٖ حَتّٰی حِیۡنٍ (سورۃ المؤمنون آیت 25)
اس آدمی کو تو دیوانگی کا عارضہ ہے تو اسکے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو۔
​

2: خبط​

بمعنی کسی کو مار مار کر حواس باختہ کر دینا (مف) اور مخبوط بمعنی فاتر العقل ہے۔ یعنی جس کی عقل ٹھیک کام نہ کرتی ہو۔ اہل عرب کے خیال کے مطابق یہ کارنامہ بھی جنوں اور شیطانوں کے متعلق تھا۔ ارشاد باری ہے:
اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ (سورۃ البقرۃ آیت 275
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قبروں سے اس طرح حواس باختہ اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔
​
خبط اور جنون میں فرق یہ ہے کہ خبط وقتی اور عارضی بیماری ہے جبکہ جنون طویل مدت کے لیے ہوتا ہے۔

3: مفتون​

فتن بمعنی فتنہ میں ڈالنا، فریفتہ کرنا، مائل کرنا اور تعجب میں ڈالنا۔ اور مفتون بمعنی پاگل اور دیوانہ (منجد) ہے۔ اور مفتون ایسے پاگل کو کہتے ہیں جسے حوادث زمانہ نے فاتر العقل اور مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔ ارشاد باری ہے:
فَسَتُبۡصِرُ وَ یُبۡصِرُوۡنَ ۙ بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ (سورۃ القلم آیت 5، 6)
سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ کافر بھی دیکھ لیں گے۔ کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔
​

4: سعر​

سعر بمعنی آگ کا بھڑکنا اور شعلے نکلنا۔ پھر مجازاً یہ لفظ اشتعال دلانے اور مشتعل ہونے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ استعر اللصوص بمعنی ڈاکو بھڑک اٹھے۔ استعر الحرب لڑائی بھڑک اٹھی۔ اور مسعر آگ بھڑکانے کی لکڑی کو کہتے ہیں (مف) اور سعر سے مراد ایسی دیوانگی ہے کہ کسی بات پر انسان فورا مشتعل ہو کر غلط کام کرنے لگے اور اس کی عقل صحیح کام نہ کرے، سودائی۔ قرآن میں ہے:
فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ (سورۃ قمر آیت 24)
تو کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اسکی پیروی کریں؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔
​

ماحصل:​

  • مجنون: بمعنی دیوانہ، پاگل، آسیب زدہ۔
  • خبط: عقل کا فتور اور اس میں نقص واقع ہونا (عارضی)۔
  • مفتون: حوادث زمانہ سے پیدا شدہ دیوانگی۔
  • سعر: طبیعت کے فورا مشتعل ہو جانے سے پیدا شدہ فتور۔
 
Top