دوست
کے لیے
قرین، رفیق، ولی اور موالی، صدیق اور صدّیق، خلیل، حمیم، ولیجۃ (ولج)، بطانۃ (بطن)، خذول اور اخدان (خدن) کے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں۔
1: قرین
القرن وہ رسی جس سے دو اونٹ باندھے جائیں۔ اور القرن بمعنی ہم سر، مقابل، شجاعت یا علم میں نظیر (منجد)۔ اس کا اطلاق جاندار اور بے جان سب چیزوں پر ہوتا ہے (فق ل 235)۔ اور قران السّعدین بمعنی دو سعد ستاروں کا ایک برج میں جمع ہونا۔ اور امام راغب کے الفاظ میں قرین وہ آدمی ہے جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو (مف)۔ اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ (سورۃ الزخرف آیت 38)
یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو اس شیطان سے کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے۔
2: رفیق
الرفق نرم برتاؤ، مہربانی کا سلوک اور وہ چیز جس سے مدد لی جائے۔ اور مرفقہ بمعنی چھوٹا تکیہ (منجد) اور رفیق بمعنی ہمدرد ساتھی، نرم دل، موافقت کرنا اور قریب رہنے والا (م ل) اور رفق کی ضد عنف بمعنی سختی اور سنگدلی ہے (م ل)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا (سورۃ النساء آیت 69)
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے روز ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالحین اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔
3: ولی
الولاء بمعنی محبت، دوستی، نزدیک، رشتہ داری (مف) اور قرابت (م ل) اور ولی بمعنی مدد گار، تنگی ترشی میں کام آنے والا۔ ارشاد باری ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ (سورۃ البقرۃ آیت 257)
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔
اور الولاء بمعنی ولایت، ترکہ کی وراثت۔ اور موالی (واحد مولی) بمعنی ترکہ کے وارث۔ مزید تفصیل کے لیے وراثت کے تحت دیکھیے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ؕ وَ الَّذِیۡنَ عَقَدَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَاٰتُوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا (سورۃ النساء آیت 33)
اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو حقداروں میں تقسیم کر دو کہ ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کر دیئے ہیں۔ اور جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
4: صدیق
سچا اور وفا دار دوست، دوستی نباہنے والا دوست، اور صداقت بمعنی دلوں کا مودّت پر متفق ہونا (فق ل 234/98) ارشاد باری ہے:
لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ (سورۃ النور آیت 61)
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جسکی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے
اور صدیّق مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی راست باز اور سچا دوست۔ قرآن میں ہے:
یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 46)
غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا یوسف اے بڑے سچے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر تعبیر بتاؤں عجب نہیں کہ وہ تمہاری قدر جانیں۔
5: خلیل
خلّۃ اور خلال بمعنی دوستی کا دل میں سرایت کر جانا (مف)، پکی اور گہری دوستی اور خلیل بمعنی مخلص اور گہرا دوست (جمع اخلّاء)۔ ارشاد باری ہے:
وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا (سورۃ النساء آیت 125)
اور اس شخص سے اچھا کس کا دین ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر جھکا دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو یعنی ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا۔
6: حمیم
بنیادی طور پر تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) سیاہ ہونا۔ (2) گرم ہونا۔ (3) قریبی ہونا (م ل)۔ اور حمّ بمعنی گرم کرنا۔ اور حمّ الظھیرۃ بمعنی دوپہر کے وقت شدت کی گرمی (منجد)۔ اور حمیم بمعنی گرم جوشی دکھلانے والا دوست یا قریبی دوست۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا یَسۡـَٔلُ حَمِیۡمٌ حَمِیۡمًا یُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ (سورۃ المعارج آیت 10، 11)
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے
7: ولیجۃ
ولج بمعنی داخل ہونا۔ اور ولیجۃ ایسا دوست جو کسی کے معاملات میں دخیل کار ہو، معتمد علیہ۔ اور اس کا دوسرا معنی وہ آدمی جو دوسری قوم سے بھی چمٹا رہے (منجد) مفہوم دونوں کا تقریباً ایک ہی نکلتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ التوبہ آیت 16)
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ بے آزمائش چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی تو اللہ نے تم میں سے ایسے لوگوں کو پرکھا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اسکے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
8: بطانۃ
بطن بمعنی پیٹ اور ہر چیز کا اندرونی حصہ۔ اور بطانۃ بمعنی بھید، پوشاک کا استر، آدمی کے اہل و عیال اور خواص (منجد) اور بطانۃ سے مراد ایسا دوست ہے جو ہم راز یا راز دان اور کسی کے اندرونی معاملات سے واقف ہو (مف)۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ (سورۃ آل عمران آیت 118)
مومنو! کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔
9: خذول
خذل بمعنی کسی کی مدد نہ کرنا اور ساتھ چھوڑ جانا۔ اور خذول ایسے دوست کو کہتے ہیں جو زبانی تو دوستی کا دم بھرتا ہو لیکن وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ جائے (منجد) دغا دے جانے والا۔ ارشاد باری ہے:
لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا (سورۃ الفرقان آیت 29)
اس نے مجھ کو کتاب نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔
10: اخدان
(خدن اور خدنۃ کی جمع) بمعنی یار باش آدمی، عاشق مزاج، یار، آشنا، بد کار، دوست، چھپی دوستی رکھنے والا، جنسی خواہش پوری کرنے والا۔ مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے۔ ارشاد باری ہے:
مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ (سورۃ النساء ایت 25)
بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔
ماحصل:
- قرین: ہم سر، ہم پلہ اور ہم عمر۔
- رفیق: ہمدرد اور نرم دل دوست۔
- صدیق: دوستی نباہنے والا، دل سے موافقت۔
- صدّیق: راست باز اور دوستی نباہنے والا۔
- ولی: مدد گار و غمگسار، حامی و ناصر۔
- موالی: قریبی اور ترکہ کا وارث۔
- خلیل: پکا اور گہرا دوست جس سے دلی محبت ہو۔
- حمیم: گرم جوشی دکھلانے والا۔
- ولیجۃ: دخیل کار، معتمد علیہ۔
- بطانۃ: ہم راز یا راز دان۔
- خذول: وقت پڑنے پر دغا دے جانے والا۔
- اخدان: آشنا، یار، بد کار دوست۔
دوست بنانا کے لیے تولّی آئے گا۔ ارشاد باری ہے:
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ (سورۃ الحج آیت 4)
جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسکو گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا۔