ڈالنا
کے لیے القی، سلک، نبذ، قذف، افرغ اور اوقع کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔1: القی
لقی بمعنی دو مقابل چیزوں کا آمنے سامنے آنا، ملاقات کرنا۔ لیکن باب افعال میں جا کر اس کے بنیادی معنی بدل جاتے ہیں۔ القی بمعنی کسی چیز کو یوں ڈالنا، پھینکنا یا رکھ دینا کہ دوسروں کو سامنے نظر آئے (مف)۔ ارشاد باری ہے:فَاَلۡقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعۡبَانٌ مُّبِیۡنٌ (سورۃ الاعراف آیت 107)
موسٰی نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اسی وقت ایک بڑا اژدھا بن گیا۔
اور القی کا لفظ معنوی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:موسٰی نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اسی وقت ایک بڑا اژدھا بن گیا۔
وَ اَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ وَ لِتُصۡنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ (سورۃ طہ آیت 39)
اور موسٰی میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ۔
پھر یہ لفظ "دل میں بات ڈالنا" کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس القاء کہتے ہیں۔ یہ بحث "دل میں بات ڈالنا" میں دیکھیے۔اور موسٰی میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ۔
2: سلک
کی بحث "داخل کرنا" میں گزر چکی ہے۔ اس کے بنیادی معنی میں ایک چیز کو دوسری میں کھینچنا یا ایک چیز کو دوسری میں رکھ دینا ہے۔ اسی لحاظ سے یہ لفظ کبھی کبھی ڈالنا کا معنی دے جاتا ہے۔ جیسے:اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ القصص آیت 32)
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا۔
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا۔
3: نبذ
کے بنیادی معنی کسی چیز کو در خور اعتناء نہ سمجھ کر پھینکنا یا پس پشت ڈالنا ہے (یہ بحث "پھینکنا" میں دیکھیے)۔ سلک کی طرح اس کا ترجمہ بھی کبھی ڈالنا سے کیا جاتا ہے۔ جیسے:فَنَبَذۡنٰہُ بِالۡعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ (سورۃ الصافات آیت 145)
پھر ہم نے انکو جب کہ وہ بیمار تھے چٹیل میدان میں ڈالدیا۔
پھر ہم نے انکو جب کہ وہ بیمار تھے چٹیل میدان میں ڈالدیا۔
4: قذف
بمعنی دور پھینکنا (یہ بحث "پھینکنا" میں دیکھیے) مگر بعض جگہ اس کا ترجمہ بھی ڈالنا سے کر لیا جاتا ہے جیسے:وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۃ الحشر آیت 2)
اور اس نے انکے دلوں میں دہشت ڈالدی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔
اور اس نے انکے دلوں میں دہشت ڈالدی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔
5: افرغ
فرغ بمعنی کسی کام سے فارغ ہونا (ضد شغل) بھی ہے اور خالی ہو جانا بھی۔ اور افرغ الّدلو بمعنی ڈول سے پانی بہا کر ڈول کو خالی کر دینا (مف) یعنی کسی چیز کو آہستہ آہستہ ڈالنا یا گرانا۔ قرآن میں ہے:وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 250)
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو اللہ سے دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور لشکر کفار پر فتحیاب کر۔
دوسرے مقام پر ہے:اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو اللہ سے دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور لشکر کفار پر فتحیاب کر۔
اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا (سورۃ الکہف آیت 96)
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ چنانچہ کام جاری کر دیا گیا یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ برابر کر دیا اور کہا کہ اب اسے دھونکو۔ یہانتک کہ جب اس کو دھونک دھونک کر آگ کر دیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبا لاؤ کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ چنانچہ کام جاری کر دیا گیا یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ برابر کر دیا اور کہا کہ اب اسے دھونکو۔ یہانتک کہ جب اس کو دھونک دھونک کر آگ کر دیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبا لاؤ کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔
6: اوقع
وقع کے بنیادی معنی دو ہیں۔ (1) ثابت ہونا (2) نیچے گرنا (مف) اور اوقع بمعنی واقع کرنا (منجد) یعنی کسی چیز کو ڈالنا، پھر اسے جما دینا۔ ارشاد باری ہے:اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 91)
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم لوگ ان کاموں سے باز آؤ گے۔
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم لوگ ان کاموں سے باز آؤ گے۔
ماحصل:
- القی: کسی چیز کو آرام سے رکھ دینا، ڈالنا، جسے دوسرے دیکھ سکیں۔
- سلک: ایک چیز کو دوسری میں ڈالنا، داخل کرنا۔
- نبذ: کسی چیز کو در خور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ڈال دینا۔
- قذف: پھینکنا یا قوت اور شدت سے ڈالنا۔
- افرغ: اس طرح ڈالنا یا گرانا جیسے ڈول سے آہستہ آہستہ پانی انڈیلا جاتا ہے۔
- اوقع: کوئی چیز ڈالنا پھر اسے جما دینا۔