مترادفات القرآن (ڈ)

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈالنا​

کے لیے القی، سلک، نبذ، قذف، افرغ اور اوقع کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: القی​

لقی بمعنی دو مقابل چیزوں کا آمنے سامنے آنا، ملاقات کرنا۔ لیکن باب افعال میں جا کر اس کے بنیادی معنی بدل جاتے ہیں۔ القی بمعنی کسی چیز کو یوں ڈالنا، پھینکنا یا رکھ دینا کہ دوسروں کو سامنے نظر آئے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
فَاَلۡقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعۡبَانٌ مُّبِیۡنٌ (سورۃ الاعراف آیت 107)
موسٰی نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اسی وقت ایک بڑا اژدھا بن گیا۔
​
اور القی کا لفظ معنوی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ اَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ وَ لِتُصۡنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ (سورۃ طہ آیت 39)
اور موسٰی میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ۔
​
پھر یہ لفظ "دل میں بات ڈالنا" کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس القاء کہتے ہیں۔ یہ بحث "دل میں بات ڈالنا" میں دیکھیے۔

2: سلک​

کی بحث "داخل کرنا" میں گزر چکی ہے۔ اس کے بنیادی معنی میں ایک چیز کو دوسری میں کھینچنا یا ایک چیز کو دوسری میں رکھ دینا ہے۔ اسی لحاظ سے یہ لفظ کبھی کبھی ڈالنا کا معنی دے جاتا ہے۔ جیسے:
اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ (سورۃ القصص آیت 32)
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید روشن ہو کر نکل آئے گا۔
​

3: نبذ​

کے بنیادی معنی کسی چیز کو در خور اعتناء نہ سمجھ کر پھینکنا یا پس پشت ڈالنا ہے (یہ بحث "پھینکنا" میں دیکھیے)۔ سلک کی طرح اس کا ترجمہ بھی کبھی ڈالنا سے کیا جاتا ہے۔ جیسے:
فَنَبَذۡنٰہُ بِالۡعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ (سورۃ الصافات آیت 145)
پھر ہم نے انکو جب کہ وہ بیمار تھے چٹیل میدان میں ڈالدیا۔
​

4: قذف​

بمعنی دور پھینکنا (یہ بحث "پھینکنا" میں دیکھیے) مگر بعض جگہ اس کا ترجمہ بھی ڈالنا سے کر لیا جاتا ہے جیسے:
وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۃ الحشر آیت 2)
اور اس نے انکے دلوں میں دہشت ڈالدی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔
​

5: افرغ​

فرغ بمعنی کسی کام سے فارغ ہونا (ضد شغل) بھی ہے اور خالی ہو جانا بھی۔ اور افرغ الّدلو بمعنی ڈول سے پانی بہا کر ڈول کو خالی کر دینا (مف) یعنی کسی چیز کو آہستہ آہستہ ڈالنا یا گرانا۔ قرآن میں ہے:
وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 250)
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو اللہ سے دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور لشکر کفار پر فتحیاب کر۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا (سورۃ الکہف آیت 96)
تم لوہے کے بڑے بڑے تختے میرے پاس لاؤ چنانچہ کام جاری کر دیا گیا یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ برابر کر دیا اور کہا کہ اب اسے دھونکو۔ یہانتک کہ جب اس کو دھونک دھونک کر آگ کر دیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبا لاؤ کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔
​

6: اوقع​

وقع کے بنیادی معنی دو ہیں۔ (1) ثابت ہونا (2) نیچے گرنا (مف) اور اوقع بمعنی واقع کرنا (منجد) یعنی کسی چیز کو ڈالنا، پھر اسے جما دینا۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ (سورۃ المائدۃ آیت 91)
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم لوگ ان کاموں سے باز آؤ گے۔
​

ماحصل:​

  • القی: کسی چیز کو آرام سے رکھ دینا، ڈالنا، جسے دوسرے دیکھ سکیں۔
  • سلک: ایک چیز کو دوسری میں ڈالنا، داخل کرنا۔
  • نبذ: کسی چیز کو در خور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ڈال دینا۔
  • قذف: پھینکنا یا قوت اور شدت سے ڈالنا۔
  • افرغ: اس طرح ڈالنا یا گرانا جیسے ڈول سے آہستہ آہستہ پانی انڈیلا جاتا ہے۔
  • اوقع: کوئی چیز ڈالنا پھر اسے جما دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈبونا​

کے لیے اغرق اور صبغ کے الفاظ آئے ہیں۔

1: اغرق​

غرق بمعنی کی غیر آبی جاندار کا پانی میں تہہ نشین ہو جانا، ڈوبنا، پانی میں ڈوب کر مر جانا اور اغرق بمعنی کسی کو ڈبو دینا۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 50)
اور جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا پھر تم کو تو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے۔
​

2: صبغ​

صبغ یدہ فی الماء بمعنی اپنے ہاتھ کو پانی میں ڈبونا اور اصبغت بالخلّ بمعنی میں نے روٹی سرکہ میں ڈبو کر کھائی۔ صبغ الثوب بمعنی کپڑے کو رنگنا، کپڑے کو رنگ دار پانی میں ڈبونا۔ صبغ بمعنی رنگ بھی اور سالن بھی۔ اور صبغۃ بمعنی رنگ، صابغ رنگنے والا۔ اور صبّاغ بمعنی رنگریز (مف، منجد)۔ قرآن میں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں آیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 138)
کہہ دو کہ ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کر لیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
​
دوسرے مقام پر فرمایا:
وَ شَجَرَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَ صِبۡغٍ لِّلۡاٰکِلِیۡنَ (سورۃ المؤمنون آیت 20)
اور وہ درخت بھی ہم ہی نے پیدا کیا جو طور سینا کے دامن میں ہوتا ہے یعنی زیتون کا درخت کہ کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اگتا ہے۔
​

ماحصل:​

  • اغرق: کسی کو پانی میں ڈبو دینا کہ مر جائے۔
  • اصبغ: لقمہ کو کسی سالن میں یا کپڑے کو رنگ دار پانی میں ڈبونا۔
ڈٹ جانا کے لیے دیکھیے "ثابت قدر رہنا"۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈرنا​

کے لیے خاف، خشی، خشع، اتّقی (وقی)، حذر، راع، اوجس، وجف، وجل، رھب، رعب، اشفق کے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں۔

1: خاف​

قرائن و شواہد سے کسی آنے والے خطرہ کا اندیشہ کرنا (مف) اور خوف کی ضد امن ہے۔ یعنی خاف کا تعلق بالعموم مستقبل سے ہوتا ہے۔ ابو ہلال کے الفاظ میں خوف کا معنی ""توقع الضرر المشکوک" ہے (فق ل 199)۔ قرآن میں ہے:
قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمِ لُوۡطٍ (سورۃ ھود آیت 70)
فرشتوں نے کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف انکے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔
​

2: خشی​

ایسا خوف جو کسی امر کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہو جائے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 31)
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا کیونکہ ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔
​

3: خشع​

ایسے ڈر کو کہتے ہیں جس کے اثرات دل کے علاوہ اعضا و جوارح پر بھی نمایاں ہونے لگیں، دل کا نرم ہو جانا (مف) اس لیے یہ لفظ جوارح کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ (سورۃ المعارج آیت 44)
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
​
بمعنی اس کی آنکھیں ڈر کی وجہ سے جھکی ہوں گی۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ (سورۃ الغاشیہ آیت 2)
اس روز بہت سے چہرے یعنی لوگ ذلیل ہوں گے۔
​
اور
یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا (سورۃ طہ آیت 108)
اس روز لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اسکی پیروی سے انحراف نہ کر سکیں گے اور رحمٰن کے سامنے آوازیں پست ہو جائیں گی تو تم ایک ہلکی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے۔
​
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ (سورۃ الحدید آیت 16)
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد کرنے کے وقت اور قرآن جو حق کی طرف سے نازل ہوا ہے اسکے سننے کے وقت انکے دل نرم ہو جائیں۔
​

4: اتّقی​

تقوی بمعنی اپنے اعمال کے انجام سے ڈرنا، گناہوں کو چھوڑنے پر نیکی کے کام کرنے پر طبیعت کا مائل ہونا (مف)۔ اللہ کے خوف سے اس کے اوامر و نواہی کا خیال رکھنا (منجد) (ضد عدوان) اور اتّقی بمعنی اپنے گناہوں کے انجام سے ڈر کر ان سے بچنے کی کوشش کرنا، پرہیز گاری اختیار کرنا۔ ارشاد باری ہے:
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 187)
اسی طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے سمجھانے کے لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔
​

5: حذر​

بمعنی کسی خوف زدہ کرنے والی چیز سے بچنا یا دور ہونا (مف)۔ کسی خطرہ سے ہوشیار رہنا، چوکنا رہنا، بچنا (منجد) ہے۔ حذر میں خطرہ کبھی یقینی ہوتا ہے کبھی ظنی۔ تاہم احتیاط سے اس خطرہ سے بچ سکتے ہیں (فق ل 200) جیسے بجلی کا ٹرانسمیٹر یا ننگے تار۔ قرآن میں ہے:
اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ آیت 19)
یا انکی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے برس رہا ہو اور اس میں اندھیرے پر اندھیرا چھا رہا ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو تو یہ کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اللہ کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔
​
اور حذر بچاؤ کے سامنا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا (سورۃ النساء آیت 71)
مومنو! جہاد کے لئے ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکٹھے کوچ کیا کرو۔
​
یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے اپنی حفاظت اور بچاؤ کا خیال رکھو۔

6: راع​

بمعنی گھبرا دینا اور بمعنی تعجب میں ڈالنا (منجد)۔ روع بمعنی دل اور رعتہ بمعنی خوف زدہ کرنا، گھبرا دینا۔ اور ناقۃ روعاء بمعنی ڈرپوک اونٹنی (مف) اور الرّوع سے مراد ایسی کیفیت ہے کہ انسان کسی واقعہ سے متعجب بھی اور اسے کوئی موہوم خطرہ بھی نظر آ رہا ہو جس کی وجہ سے وہ گھبرا جائے۔ قرآن میں ہے:
فَلَمَّا ذَہَبَ عَنۡ اِبۡرٰہِیۡمَ الرَّوۡعُ وَ جَآءَتۡہُ الۡبُشۡرٰی یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوۡمِ لُوۡطٍ (سورۃ ھود آیت 74)
پھر جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور انکو خوشخبری بھی مل گئ تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔
​

7: اوجس​

وجس بمعنی پوشیدہ ہونا (کان کا)، آہٹ محسوس کرنا، سنی ہوئی بات سے ڈر محسوس کرنا (منجد) اور اوجس بمعنی ڈر کو چھپانے کی کوشش کرنا اور چہرے پر ڈر کے آثار ظاہر نہ ہونے دینا۔ قرآن میں ہے:
فَلَمَّا رَاٰۤ اَیۡدِیَہُمۡ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ نَکِرَہُمۡ وَ اَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمِ لُوۡطٍ (سورۃ ھود آیت 70)
پھر جب دیکھا کہ انکے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے۔ یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے تو انکو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ فرشتوں نے کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف انکے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔
​

8: وجف​

بمعنی مضطرب ہونا، دل دھڑکنا، اور بمعنی خوف سے گرنا (منجد)۔ وجف میں دو باتیں پائی جاتی ہیں، بے قراری اور ڈر۔ اور انہی باتوں سے دل دھڑکنے لگتا ہے۔ قرآن میں ہے:
یَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَۃُ (سورۃ النازعات آیت 6)
کہ وہ دن آ کر رہے گا جس دن وہ زلزلہ آئے گا۔
اس دن لوگوں کے دل خائف ہو رہے ہوں گے (جالندھریؒ) دھڑکنے والے دل (عثمانیؒ)
​

9: وجل​

بمعنی دل ہی دل میں ڈر محسوس کرنا (مف) اور بمعنی رونگٹے کھڑے ہونا (م ق)۔ ڈر میں بڑھ جانا، بوڑھا ہونا (منجد)۔ اور بمعنی کوتاہی کی وجہ سے کسی سے ڈرنا اور بے چین ہونا (فق ل 202)۔ ارشاد باری ہے:
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ (سورۃ الانفال آیت 2)
مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو انکے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
​

10: رھب​

رھب ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں اضطراب اور احتیاط بھی شامل ہو (ضد رغب) اور راھب بمعنی خدا سے ڈرنے والے لوگ، گوشہ نشین اور عبادت گزرا۔ اسی سے رھبانیۃ ہے یعنی لذات دنیا کا چھوڑ بیٹھنا (منجد) اور بمعنی طول الخوف و استمرارہ (فق ل 200) یعنی ڈرتے رہنا۔ ارشاد باری ہے:
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۫ وَ وَہَبۡنَا لَہٗ یَحۡیٰی وَ اَصۡلَحۡنَا لَہٗ زَوۡجَہٗ ؕاِنَّہُمۡ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ یَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕوَ کَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ (سورۃ الانبیاء آیت 90)
تو ہم نے انکی پکار سن لی اور انکو یحیٰی بخشے اور انکی بیوی کو اولاد کے قابل بنا دیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔
​

11: رعب​

رعب بمعنی خوف کی شدت، دہشت اور رعب بمعنی خوف سے بھر جانا (مف) کسی کے ڈر کی وجہ سے دبک جانا۔ قرآن میں ہے:
لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَیۡہِمۡ لَوَلَّیۡتَ مِنۡہُمۡ فِرَارًا وَّ لَمُلِئۡتَ مِنۡہُمۡ رُعۡبًا (سورۃ الکہف آیت 18)
اگر تم انکو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آ جاتے۔​

12: اشفق​

شفق علی بمعنی کسی کی بھلائی چاہنا۔ اور اشفق کسی کی خیر خواہی کے ساتھ ساتھ اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا (مف) اور بمعنی اصلاح و بھلائی کی فکر میں ہونا، رحم کرنا، مہربان ہونا۔ اور شفقۃ بمعنی مہربانی، رحم، خوف کے ساتھ مہربانی۔ اور اشفق منہ بمعنی ڈرنا، لالچ کرنا (منجد)۔ قرآن میں ہے:
وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ (سورۃ الکہف آیت 49)
اور اعمال کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی تو تم گناہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہو گا اس سے ڈر رہے ہوں گے۔
​

ماحصل:​

  • خاف: آنے والے خطرہ کا اندیشہ۔
  • خشی: کسی امر کی عظمت کی وجہ سے ڈرنا۔
  • خشع: ایسا ڈر کہ اس کا اثر اعضا و جوارح پر بھی پڑے۔
  • اتّقی: انجام کے خوف کی وجہ سے گناہوں سے بچنا۔
  • راع: تعجب کرنا اور موہوم خطرہ سے ڈرنا۔
  • حذر: کسی خطرہ کی چیز سے بچنا، ڈرنا، چوکنا رہنا۔
  • اوجس: دل ہی دل میں ڈرنا اور اسے چھپانے کی کوشش کرنا۔
  • وجف: ڈر سے دل دھڑکنا، ڈر اور اضطراب۔
  • وجل: اپنی کوتاہی سے کسی سے ڈرنا اور بے چین ہونا۔
  • رھب: ایسا ڈر جس میں احتیاط بھی ہو اور اضطراب بھی اور یہ طویل ہو۔
  • رعب: شدت خوف، دہشت۔
  • اشفق: کسی کی خیر خواہی کے ساتھ ساتھ اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا، ڈر اور رحم کے ملے جلے جذبات۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈرانا​

کے لیے خوّف، حذّر، ارھب، انذر، اوعد کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1، 2، 3: خوّف، حذّر اور ارھب​

کی بحث تو اوپر گزر چکی۔ ثلاثی مزید میں آ کر لازم سے متعدی بن جاتے ہیں۔ اب ان کی مثالیں دیکھیے:
اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ وَ یُخَوِّفُوۡنَکَ بِالَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ (سورۃ الزمر آیت 36)
کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں؟ اور اے نبی یہ تمکو ان لوگوں سے جو اللہ کے سوا ہیں یعنی غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ اور جسکو اللہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ (سورۃ آل عمران آیت 28)
اور اللہ تم کو اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔
وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ (سورۃ الانفال آیت 60)
اور جہاں تک ہو سکے فوج کی جمعیت کے زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے انکے مقابلے کے لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور انکے سوا اور لوگوں پر جنکو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔
​
اور استرھب بمعنی کسی کو ڈرانے کی کوشش کرنا یا ایسی صورت پیدا کر دینا کہ جس سے وہ ڈر جائے۔ قرآن میں ہے:
قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَ اسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَ جَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ (سورۃ الاعراف آیت 116)
موسٰی نے فرمایا تم ہی ڈالو۔ سو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا یعنی نظر بندی کر دی اور لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر انہیں ڈرا ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔
​

4: انذر​

بمعنی واقف کرنا، باخبر کرنا اور نتائج سے ڈرانا (منجد)، اعمال کے نتائج اور روز جزا کے حساب کتاب سے ڈرانا۔ اور یہ کام صرف خدا اور اس کے رسولوں کا ہے۔ نذیر بمعنی ڈرانے والا (ضد بشیر خوش خبری دینے والا) اور بمعنی ڈرنے کے مقامات کی وضاحت کر کے ڈرانا۔ اور انذار حقیقتاً منذر کا بڑا احسان ہوتا ہے (فق ل 20)۔ ارشاد باری ہے:
یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا (سورۃ الانعام آیت 130)
اے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہارے اس دن کے سامنے آ موجود ہونے سے ڈراتے تھے۔
​

5: اوعد​

وعدہ کا لفظ عام ہے۔ بمعنی کسی کو کچھ امید دلانا۔ لیکن وعید کسی برے کام کے برے نتیجہ، اس کی سزا کو کہتے ہیں، دھمکی۔ اور اوعد بمعنی دھمکی دینا، ڈرانا، دھمکانا (منجد) خواہ یہ زبانی ہو یا عملی طور پر ایسا سامان فراہم کیا جائے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا (سورۃ الاعراف آیت 86)
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔
​

ماحصل:​

  • خوّف: کسی کو آنے والے خطرہ سے ڈرانا۔
  • حذّر: کسی خطرہ کی چیز سے ڈرانا، بچانا، آگاہ کرنا۔
  • ارھب: ڈرانا اور اضطراب پیدا کرنا۔
  • انذار: نبیوں اور رسولوں کا اعمال کے نتائج اور محاسبہ سے ڈرانا۔
  • اوعد: ڈرانا، دھمکانا، دھمکی دینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈول​

کے لیے دلو اور ذنوب کے الفاظ آئے ہیں۔

1: دلو​

کنویں سے پانی نکالنے کا برتن، ڈول، بالٹی وغیرہ (بشرطیکہ وہ پانی سے خالی ہو) (ف ل 32)۔ قرآن میں ہے:
وَ جَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ (سورۃ یوسف آیت 19)
اور اب اللہ کی شان دیکھو کہ اس کنوئیں کے قریب ایک قافلہ آ وارد ہوا اور انہوں نے پانی کے لئے اپنا سقا بھیجا تو اس نے کنوئیں میں ڈول لٹکایا۔
​

2: ذنوب​

پانی نکالے کا برتن، ڈول یا بالٹی وغیرہ جبکہ وہ پانی سے بھرا ہوا ہو (فل 31)۔ ارشاد باری ہے:
فَاِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِہِمۡ فَلَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنِ (سورۃ الذریات آیت 59)
سو ان ظالموں کا ڈول بھی بھر چکا ہے جیسا کہ ان کے ساتھیوں کا بھرا ہو تھا تو انکو مجھ سے عذاب جلدی نہیں طلب کرنا چاہیے۔
​
یعنی اخلاقی لحاظ سے ظالم بھی اسی پستی میں پہنچ چکے ہیں اور ان کی بقاء کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے جیسا ان جیسے دوسرے ظالموں کا ہوا تھا۔

ماحصل:​

ڈول اگر پانی سے بھرا ہوا ہو تو ذنوب ہے۔ اگر اس میں کچھ تھوڑا بہت پانی ہو تو سجل ہے اور اگر بالکل خالی ہو تو دلو ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈھال​

کے لیے جنّۃ اور عرضۃ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: جنّۃ​

وہ معروف ہتھیار جو دشمن کے حملہ سے بچاؤ کے لیے اس کے وار کے سامنے کر کے وار کو روکا اور اپنے آپ کو بچایا جاتا ہے۔ اس کا استعمال مادی اور معنوی دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ (سورۃ المجادلہ آیت 16)
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روک دیا ہے سو انکے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
​

2: عرضۃ​

عرض بمعنی پیش کرنا، اور عرضۃ ہر وہ چیز ہے جو سامنے کر کے اپنا بچاؤ کیا جا سکے خواہ یہ ڈھال ہو یا کوئی دوسری چیز (م ق) اور عرضۃ بمعنی نشانہ۔ کہتے ہیں ھو عرضۃ للناس وہ لوگوں کے طعن و تشنیع کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ ھو عرضۃ للکلام وہ اعتراضات کا نشانہ ہے (منجد)۔ گویا عرضۃ، جنّۃ سے زیادہ وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَ لَا تَجۡعَلُوا اللّٰہَ عُرۡضَۃً (سورۃ البقرۃ آیت 224)
اور اللہ کے نام کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا۔
​
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈھانکنا – ڈھانپنا​

کے لیے جنّ اور غشی اور اس کے مشتقات اغشی، غشّی اور تغشّی اور ارھق کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔

1: جنّ​

کسی چیز کو ڈھانپ کر چھپا دینا کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے (مف) جنّ وہ مخلوق جو نظروں سے اوجھل رہتی ے۔ اور جنین ماں کے پیٹ میں بچہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ (سورۃ الانعام آیت 76)
یعنی جب رات نے انکو پردہ تاریکی سے ڈھانپ لیا تو آسمان میں ایک ستارہ نظر پڑا کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہو گیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہو جانے والے تو پسند نہیں۔
​
2: غشی
ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈھانپ دینا (م ل) اس طرح کہ وہ مکمل طور پر گم نہ ہو (مف) ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ (سورۃ لقمان آیت 32)
اور جب ان پر سمندر کی لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو اللہ کو پکارنے اور خالص اسکی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ انکو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو چند ہی لوگ انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں ناشکرے ہیں۔
​
اغشی، غشّی اور تغشّی یہ سب غشی سے متعدی ہیں:
یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ (سورۃ الرعد آیت 3)
وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔
اِذۡ یُغَشِّیۡکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنۡہُ (سورۃ الانفال آیت 11)
جب اس نے تمہاری تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند کی چادر اوڑھا دی۔
فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ (سورۃ الاعراف آیت 189)
جب مرد نے اسے ڈھانپ لیا تو اسے خفیف سا حمل رہ گیا اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔
​

3: رھق​

رھقہ الامر بمعنی کسی معاملہ نے اسے بزور و جبر دبا لیا۔ اور رھق اور ارھق دونوں کے ایک ہی معنی ہیں (مف) اور لا ارھق اللہ بمعنی اللہ تجھے تکلیف اور مشقت میں نہ ڈالے (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ وَ قَدۡ کَانُوۡا یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَ ہُمۡ سٰلِمُوۡنَ (سورۃ القلم آیت 43)
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہو گی حالانکہ پہلے اس وقت سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے۔ جبکہ وہ صحیح و سالم تھے۔
​

ماحصل:​

  • جنّ: ڈھانک کر نظروں سے اوجھل کر دینا۔
  • اغشی: اس طرح ڈھانکنا کہ چیز پوری طرح اوجھل نہ ہو۔
  • رھق: بزور و جبر ایک چیز کا دوسری کو دبانا اور ڈھانک لینا۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈھلنا​

کے لیے زوال اور دلوک کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔

1: زال​

(زول) زالت الشّمس بمعنی سورج کا ڈھلنا۔ اور زوال بمعنی سورج کا سر پر سے ڈھلنا۔ اور ڈھلنے کا وقت (منجد) پھر زوال کا لفظ کسی چیز کے اپنی انتہا کی بلندی پر پہنچ کر بتدریج نیچے آنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (ضد عروج) اور زوال بمعنی کسی چیز کا اپنے صحیح رخ کو چھوڑ کر ایک جانب مائل ہونا اور ہٹ جانا (مف) ہے۔ اور زال عنہ ملکہ بمعنی اس کی حکومت مٹ گئی (م ق)۔ ارشاد باری ہے:
اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ (سورۃ ابراہیم آیت 44)
کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو اس حال سے جسمیں تم ہو زوال نہیں ہوگا۔
​

2: دلوک​

دلکت الشّمس دلوکا بمعنی سورج کا غروب ہونے کے لیے جھکنا اور الدلک بمعنی ڈھیلا پن (منجد)۔ ارشاد باری ہے:
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 78)
اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشاء کی نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا فرشتوں کی حاضری کا باعث ہوتا ہے۔
​

ماحصل:​

زوال میں بلندی سے نیچے آنے اور دلوک میں مضبوطی سے ڈھیلا پن کا تصور پایا جاتا ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ڈھونڈنا​

کے لیے طلب، ابتغاء (بغی)۔ تحسّس، تجسّس، التمس، جاس (جوس)، بعثری اور تحرّی (حری) کے الفاظ آئے ہیں۔

1: طلب​

بمعنی رغبت کرنا، چاہنا، ڈھونڈنا (منجد) اور بمعنی کسی چیز کے پانے کی تلاش اور جستجو کرنا (مف) اس کا استعمال مادی اور معنوی دونوں طرح سے ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا (سورۃ الکہف آیت 41)
یا اس باغ کی نہر کا پانی گہرائی میں اتر جائے تو پھر تم اسے تلاش نہ کر سکو۔
​

2: ابتغی​

بغی کے معنی ابن الفارس نے بنیادی طور پر دو بتلائے ہیں (1) طلب الشی۔ (2) جنس من الفساد (م ل)۔ یعنی کسی چیز کی طلب اور فساد کی ایک قسم سرکشی اور بغاوت وغیرہ۔ جبکہ امام راغب ان دونوں کو جمع کر کے اس کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ "کسی چیز کی طلب میں حد اعتدال سے ذرا آگے بڑے جانا (مف) اور ابتغاء کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے کے لیے بولا جاتا ہے (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ (سورۃ الانعام آیت 35)
اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گذرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی تلاش کرو پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔
​

3: تحسّس​

احسّ بمعنی محسوس کرنا اور تحسّس بمعنی کسی چیز کی تلاش میں اپنے حواس خمسہ سے پوری طرح کام لینا (مف) گمشدہ چیز کی تلاش میں سر توڑ کوشش کرنا۔ یہ صفت محمود ہے۔ قرآن میں ہے:
یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ (سورۃ یوسف آیت 87)
اے بیٹو یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر جاؤ اور یوسف اور اسکے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا کہ اللہ کی رحمت سے تو کافر لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں۔
​

4: تجسّس​

جسّ کے معنی ہیں نبض دیکھ کر مریض کے اندرونی حالات معلوم کرنا۔ یہ حسّ سے خاص ہے حسّ میں تو حواس خمسہ سے کام لے کر بیرونی حالات کا پتہ لگایا جاتا ہے جبکہ جسّ میں اندرونی حالات معلوم کرنے کو کہتے ہیں۔ اور لفظ جاسوس اسی سے مشتق ہے (مف) اور تجسّس بمعنی بھید ٹٹولنا، ٹوہ لگنا، جاسوسی کرنا اور کسی کے عیوب اور کمزوریاں تلاش کرنا، پھر دوسروں کو اطلاع دینا۔ اور یہ صفت مذموم ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ (سورۃ الحجرات آیت 12)
اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔
​

5: التمس​

لمس بمعنی ہاتھ یا انگلیوں سے کسی چیز کو ٹٹولنا۔ اور التمس بمعنی کسی چیز کو چھو چھو کر ڈھونڈنا (فل 171) بار بار طلب کرتے جانا۔ ڈھونڈنے کی مسلسل کوشش کرنا۔ ارشاد باری ہے:
قِیۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَکُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًا (سورۃ الحدید آیت 13)
ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ پس وہاں نور تلاش کرو۔
​

6: جاس​

کسی چیز کی طلب میں انتہا کو پہنچنا (فل 171) کسی چیز کو بڑی حرص سے ڈھونڈنا (م ق)۔ قرآن میں ہے:
فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 5)
پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کر دیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔
​

7: بعثر​

بمعنی ڈھونڈ نکالنا۔ اور بعثر المتاع بمعنی سامان کا الٹ پلٹ کرنا (منجد) اور بعثر کا لفظ دراصل بعث اور عثر کا مرکب ہے۔ جس میں دونوں فعلوں کے معنی پائے جاتے ہیں یعنی الٹ پلٹ کر کے مردوں کو اٹھانا (مف)۔ ارشاد باری ہے:
وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ (سورۃ الانفطار آیت 4)
اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔
​
دوسرے مقام پر ہے:
اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ (سورۃ العادیات آیت 9)
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جب مردے قبروں میں سے باہر نکال لئے جائیں گے۔
​

8: تحرّی​

(حرو یا حری)۔ الاحری بمعنی زیادہ لائق، زیادہ مناسب، زیادہ بہتر اور تحرّی بمعنی استعمال میں زیادہ مناسب و لائق کو طلب کرنا، دو چیزوں میں زیادہ بہتر کو طلب کرنا (منجد)۔ قرآن میں ہے:
وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا (سورۃ جن آیت 14)
اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں۔ اور بعض نافرمان ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔
​

ماحصل:​

  • طلب: عام لفظ ہے۔ کسی چیز کو طلب کرنا، چاہنا، ڈھونڈنا۔
  • ابتغاء: کسی چیز کے ڈھونڈنے میں سعی بسیار کرنا۔
  • تحسّس: کسی چیز کی تلاش میں حواس خمسہ سے کام لینا جو بیرونی حالات سے متعلق ہو۔
  • تجسّس: ٹوہ لگانا، کسی کے عیب اور کمزوریاں تلاش کرنا اور دوسروں کو خبر دینا۔
  • التمس: کسی چیز کو ڈھونڈنے کے لیے بار بار کوشش کرنا۔
  • جاس: کسی چیز کی طلب میں انتہا کو پہنچنا، شدید حرص کے ساتھ ڈھونڈنا۔
  • بعثر: الٹ پلٹ کر کے کوئی چیز ڈھونڈ نکالنا۔
  • تحرّی: بہتر اور مناسب تر کی تلاش کرنا۔
ڈھیر – ڈھیر لگانا کے لیے دیکھیے "وافر – بہت"۔
 
Top