زندگی میں کسے مسائل در پیش نہیں ہوتے۔ بعض اوقات یہی مسائل و مشکلات ہی ایمان کی کسوٹی ہوتے ہیں۔ انہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوئی شخص کس حد تک اپنے ایمان کے دعویٰ میں پختہ ہے۔
امتحان کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ کبھی اللہ سبحانہ و تعالی مال و دولت، زندگی کی تمام آسائشیں، ہر طرح کی فراوانیاں عطا کر کے آزماتا ہے اور کبھی ان سب کی تنگی سے۔۔۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا :
''یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟''
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أَلْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ، يُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِيْنِهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ صَلاَبَةٌ زِيْدَ فِي بَلاَئِهِ، وَ إِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ، وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی يَمْشِيَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ (مسند أحمد :1؍ 172، ح : ۱۴۸۵۔ ترمذي : ۲۳۹۸، و صححہ الألباني)
(آزمائش میں سب سے سخت) انبیاء ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر لوگوں میں سے جو افضل ہو، پھر جو اس کے بعد افضل ہو، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے حساب سے ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں نرمی ہو تو اس سے تخفیف کی جاتی ہے اور آدمی کی آزمائش جاری رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا پھرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
جب کبھی حالات مخالف ہو جائیں، جب کبھی امتحان کی سختی زیادہ محسوس ہونے لگے، جب کبھی زندگی مشکل لگنے لگے تو یاد رکھیں آزمائش ایمان کے حساب سے ہوتی ہے، جتنا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی آزمائش سخت ہو سکتی ہے۔ کتنا بھی مشکل وقت ہو گزر جاتا ہے۔ تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے اور زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہوتا ہے۔
اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ(سورۃ الشرح :6)
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔
امتحان کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ کبھی اللہ سبحانہ و تعالی مال و دولت، زندگی کی تمام آسائشیں، ہر طرح کی فراوانیاں عطا کر کے آزماتا ہے اور کبھی ان سب کی تنگی سے۔۔۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا :
''یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟''
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أَلْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ، يُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِيْنِهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ صَلاَبَةٌ زِيْدَ فِي بَلاَئِهِ، وَ إِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ، وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی يَمْشِيَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ (مسند أحمد :1؍ 172، ح : ۱۴۸۵۔ ترمذي : ۲۳۹۸، و صححہ الألباني)
(آزمائش میں سب سے سخت) انبیاء ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر لوگوں میں سے جو افضل ہو، پھر جو اس کے بعد افضل ہو، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے حساب سے ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں نرمی ہو تو اس سے تخفیف کی جاتی ہے اور آدمی کی آزمائش جاری رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا پھرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
جب کبھی حالات مخالف ہو جائیں، جب کبھی امتحان کی سختی زیادہ محسوس ہونے لگے، جب کبھی زندگی مشکل لگنے لگے تو یاد رکھیں آزمائش ایمان کے حساب سے ہوتی ہے، جتنا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی آزمائش سخت ہو سکتی ہے۔ کتنا بھی مشکل وقت ہو گزر جاتا ہے۔ تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے اور زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہوتا ہے۔
اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ(سورۃ الشرح :6)
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔