میرا عمل اور قرآن کی پکار

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
زندگی میں کسے مسائل در پیش نہیں ہوتے۔ بعض اوقات یہی مسائل و مشکلات ہی ایمان کی کسوٹی ہوتے ہیں۔ انہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوئی شخص کس حد تک اپنے ایمان کے دعویٰ میں پختہ ہے۔
امتحان کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ کبھی اللہ سبحانہ و تعالی مال و دولت، زندگی کی تمام آسائشیں، ہر طرح کی فراوانیاں عطا کر کے آزماتا ہے اور کبھی ان سب کی تنگی سے۔۔۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا :
''یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟''
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أَلْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ، يُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِيْنِهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ صَلاَبَةٌ زِيْدَ فِي بَلاَئِهِ، وَ إِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ، وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی يَمْشِيَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ (مسند أحمد :1؍ 172، ح : ۱۴۸۵۔ ترمذي : ۲۳۹۸، و صححہ الألباني)
(آزمائش میں سب سے سخت) انبیاء ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر لوگوں میں سے جو افضل ہو، پھر جو اس کے بعد افضل ہو، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے حساب سے ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں نرمی ہو تو اس سے تخفیف کی جاتی ہے اور آدمی کی آزمائش جاری رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا پھرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔

جب کبھی حالات مخالف ہو جائیں، جب کبھی امتحان کی سختی زیادہ محسوس ہونے لگے، جب کبھی زندگی مشکل لگنے لگے تو یاد رکھیں آزمائش ایمان کے حساب سے ہوتی ہے، جتنا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی آزمائش سخت ہو سکتی ہے۔ کتنا بھی مشکل وقت ہو گزر جاتا ہے۔ تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے اور زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہوتا ہے۔
اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ(سورۃ الشرح :6)
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
زندگی کے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی ذات کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ لمحات کسی آزمائش کی صورت آتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک گہرا پیغام، ایک پکار، اور رب کی طرف سے ہدایت ہوتی ہے۔
حال ہی میں میرے ساتھ پیش آنے والا ایکسیڈنٹ، جس میں مجھے سپائنل فریکچر ہوا، میرے لیے ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔۔۔ ایک لمحاتی قیامت۔
سرجری کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو بس یہی تسلی تھی کہ: "میں زندہ ہوں، لیکن بس جسم میں درد ہے۔۔۔ درد ہی درد۔"
اس درد میں مجھے میرے والدین یاد نہ تھے، نہ بہن بھائی، نہ شوہر، نہ میرے وہ بچے جنہیں میں اپنی سانسوں سے زیادہ عزیز رکھتی ہوں۔ بس ایک ہی چیز کا احساس تھا ایک ناقابلِ بیان، ناقابلِ برداشت درد۔۔۔
یہ کیفیت عارضی تھی، مگر اس نے مجھے سورۃ عبس کی ان آیات تک لا کھڑا کیا، جو میں نے کئی بار پڑھی تھیں، مگر کبھی یوں محسوس نہ کی تھیں:
"یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِیهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِیهِ"
"جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں، اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔" (سورۃ عبس: 34-36)
مجھے اب سمجھ آیا کہ انسان کی سب سے گہری محبتیں اور سب سے قریبی رشتے، کس قدر غیر مؤثر ہو جاتے ہیں جب جسم اور روح پر کوئی کرب غالب آ جائے۔ اور قیامت کا دن، تو اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
میرے لیے یہ ایک وارننگ تھی، ایک جھلک کہ: "اگر تم نے اپنی زندگی کا مرکز و محور دنیا اور اس کے رشتے بنائے رکھے، تو آخرکار تم تنہا رہ جاؤ گی۔۔۔ بالکل تنہا۔"
یہ آزمائش، اگرچہ جسمانی تھی، لیکن اس نے مجھے بہت حد تک بیدار کر دیا۔ میں نے جانا کہ اصل حقیقت صرف اللہ ہے۔ جو درد میں بھی پاس ہے، بے ہوشی میں بھی، اور قیامت کے دن بھی۔ اُسی کی طرف لوٹنا ہے، اور اُسی کے لیے جینا ہے۔
آج میں شکر گزار ہوں کہ اللہ نے مجھے ایک اور موقع دیا تاکہ اصل قیامت کے دن میں بھول نہ جاؤں کہ کس کی طرف جانا ہے، اور کس سے مانگنا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
زندگی کے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی ذات کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ لمحات کسی آزمائش کی صورت آتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک گہرا پیغام، ایک پکار، اور رب کی طرف سے ہدایت ہوتی ہے۔
حال ہی میں میرے ساتھ پیش آنے والا ایکسیڈنٹ، جس میں مجھے سپائنل فریکچر ہوا، میرے لیے ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔۔۔ ایک لمحاتی قیامت۔
سرجری کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو بس یہی تسلی تھی کہ: "میں زندہ ہوں، لیکن بس جسم میں درد ہے۔۔۔ درد ہی درد۔"
اس درد میں مجھے میرے والدین یاد نہ تھے، نہ بہن بھائی، نہ شوہر، نہ میرے وہ بچے جنہیں میں اپنی سانسوں سے زیادہ عزیز رکھتی ہوں۔ بس ایک ہی چیز کا احساس تھا ایک ناقابلِ بیان، ناقابلِ برداشت درد۔۔۔
یہ کیفیت عارضی تھی، مگر اس نے مجھے سورۃ عبس کی ان آیات تک لا کھڑا کیا، جو میں نے کئی بار پڑھی تھیں، مگر کبھی یوں محسوس نہ کی تھیں:
"یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِیهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِیهِ"
"جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں، اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔" (سورۃ عبس: 34-36)
مجھے اب سمجھ آیا کہ انسان کی سب سے گہری محبتیں اور سب سے قریبی رشتے، کس قدر غیر مؤثر ہو جاتے ہیں جب جسم اور روح پر کوئی کرب غالب آ جائے۔ اور قیامت کا دن، تو اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
میرے لیے یہ ایک وارننگ تھی، ایک جھلک کہ: "اگر تم نے اپنی زندگی کا مرکز و محور دنیا اور اس کے رشتے بنائے رکھے، تو آخرکار تم تنہا رہ جاؤ گی۔۔۔ بالکل تنہا۔"
یہ آزمائش، اگرچہ جسمانی تھی، لیکن اس نے مجھے بہت حد تک بیدار کر دیا۔ میں نے جانا کہ اصل حقیقت صرف اللہ ہے۔ جو درد میں بھی پاس ہے، بے ہوشی میں بھی، اور قیامت کے دن بھی۔ اُسی کی طرف لوٹنا ہے، اور اُسی کے لیے جینا ہے۔
آج میں شکر گزار ہوں کہ اللہ نے مجھے ایک اور موقع دیا تاکہ اصل قیامت کے دن میں بھول نہ جاؤں کہ کس کی طرف جانا ہے، اور کس سے مانگنا ہے۔
درد اور آزمائش انسان کو ایک نئی نظر سے زندگی کو دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔
اور زندگی کو جب رب کی روشنی میں دیکھنے کا موقع ملے، تو ہر کرب بھی رحمت بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت مند رکھے اور اپنی رحمت سے نوازے۔آمین!
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
درد اور آزمائش انسان کو ایک نئی نظر سے زندگی کو دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔
اور زندگی کو جب رب کی روشنی میں دیکھنے کا موقع ملے، تو ہر کرب بھی رحمت بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت مند رکھے اور اپنی رحمت سے نوازے۔آمین!
آمین ثم آمین
بارک اللہ فیک
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
آج میرے ایک پیارے استاد نے ہنستے ہنتے میرے بچوں کے بارے میں پوچھا۔ مذاق میں بولے: "اچھا! دونوں کی تعریفات (یعنی شرارتیں) کیسی ہیں؟"
بات تو ہنسی میں کہی گئی تھی، مگر نجانے کیوں یہ سوال دل کے کسی کونے میں ٹھہر گیا۔ یوں لگا جیسے کسی نے مجھے میری ہی آنکھوں سے کچھ دیکھنے کا موقع دیا ہو۔۔۔ اور پھر میں ان دونوں کو دیکھتی چلی گئی۔۔۔
میرے عبدالہادی اور عبد الرافع۔۔۔ میں جب انہیں دیکھتی ہوں تو میرا دل رک سا جاتا ہے۔
یہ کون ہے؟
کہاں سے آئے؟
کس نے ان کے چہرے پر یہ معصومیت رکھ دی؟
کس نے ان کی انگلیوں کو یوں ترتیب دیا؟
یہ سب کچھ کیسے بن گیا؟
یہ الخالق کی تخلیق ہیں جس نے انہیں کچھ بھی نہ ہوتے ہوئے بھی بنا دیا۔
یہ البارئ کی ترتیب ہیں جس نے ہر ہڈی، ہر پٹھے، ہر جوڑ کو ٹھیک جگہ پر رکھا۔
یہ المصور کا کمال ہے جس نے ان کی آنکھوں میں چمک، لبوں پر خم، چہروں میں نور بھر دیا۔
یہ البدیع کا معجزہ ہیں جنہیں اُس نے بغیر کسی مثال، بغیر کسی خاکے، بغیر کسی نقل کے پیدا کیا۔ نہ پہلے کبھی تھے، نہ کوئی ان جیسا ہو گا۔
ایک جیسی صورتیں رکھ کر بھی، ہر ایک کی الگ پہچان رکھی یہ الخلاق کی شان ہے۔
ان کے اندر کی رگیں، دل کی دھڑکن، خون کی روانی یہ سب القدیر کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
ان کی جلد کی نرمی میں اللطیف کا لمس ہے، ان کے جسم کے تناسب میں الحکیم کی دانائی ہے۔
ان کے رنگ میں الجمیل کی جھلک ہے۔
ان کی حرکت میں الخبیر کا نظم ہے۔
ان کے سانسوں میں المحیی کی دی گئی زندگی ہے، اور ان کے وجود کی بقا القیوم سے ہے۔
اس نے دو پیدا کیے، مگر ہر ایک کو یکتا رکھا کیونکہ وہ الواحد ہے، اور وحدت کو ٹکروں میں بھی قائم رکھتا ہے۔
اور آخرکار، میں ہر بار انہیں دیکھ کر کہتی ہوں: یا خالق، یا مصور، یا بدیع! تیرے سوا کون ہے جو ایسا حسن، ایسا نظم، اور ایسا کمال پیدا کر سکے؟
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میرے ایک پیارے استاد نے ہنستے ہنتے میرے بچوں کے بارے میں پوچھا۔ مذاق میں بولے: "اچھا! دونوں کی تعریفات (یعنی شرارتیں) کیسی ہیں؟"
بات تو ہنسی میں کہی گئی تھی، مگر نجانے کیوں یہ سوال دل کے کسی کونے میں ٹھہر گیا۔ یوں لگا جیسے کسی نے مجھے میری ہی آنکھوں سے کچھ دیکھنے کا موقع دیا ہو۔۔۔ اور پھر میں ان دونوں کو دیکھتی چلی گئی۔۔۔
میرے عبدالہادی اور عبد الرافع۔۔۔ میں جب انہیں دیکھتی ہوں تو میرا دل رک سا جاتا ہے۔
یہ کون ہے؟
کہاں سے آئے؟
کس نے ان کے چہرے پر یہ معصومیت رکھ دی؟
کس نے ان کی انگلیوں کو یوں ترتیب دیا؟
یہ سب کچھ کیسے بن گیا؟
یہ الخالق کی تخلیق ہیں جس نے انہیں کچھ بھی نہ ہوتے ہوئے بھی بنا دیا۔
یہ البارئ کی ترتیب ہیں جس نے ہر ہڈی، ہر پٹھے، ہر جوڑ کو ٹھیک جگہ پر رکھا۔
یہ المصور کا کمال ہے جس نے ان کی آنکھوں میں چمک، لبوں پر خم، چہروں میں نور بھر دیا۔
یہ البدیع کا معجزہ ہیں جنہیں اُس نے بغیر کسی مثال، بغیر کسی خاکے، بغیر کسی نقل کے پیدا کیا۔ نہ پہلے کبھی تھے، نہ کوئی ان جیسا ہو گا۔
ایک جیسی صورتیں رکھ کر بھی، ہر ایک کی الگ پہچان رکھی یہ الخلاق کی شان ہے۔
ان کے اندر کی رگیں، دل کی دھڑکن، خون کی روانی یہ سب القدیر کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
ان کی جلد کی نرمی میں اللطیف کا لمس ہے، ان کے جسم کے تناسب میں الحکیم کی دانائی ہے۔
ان کے رنگ میں الجمیل کی جھلک ہے۔
ان کی حرکت میں الخبیر کا نظم ہے۔
ان کے سانسوں میں المحیی کی دی گئی زندگی ہے، اور ان کے وجود کی بقا القیوم سے ہے۔
اس نے دو پیدا کیے، مگر ہر ایک کو یکتا رکھا کیونکہ وہ الواحد ہے، اور وحدت کو ٹکروں میں بھی قائم رکھتا ہے۔
اور آخرکار، میں ہر بار انہیں دیکھ کر کہتی ہوں: یا خالق، یا مصور، یا بدیع! تیرے سوا کون ہے جو ایسا حسن، ایسا نظم، اور ایسا کمال پیدا کر سکے؟
اللہ اکبر!یہ تحریر ایک ماں کے دل کی وہ کیفیت ہے جو لفظوں میں کم کم ہی ڈھلتی ہے۔
واقعی، جب ماں اپنے بچوں کو دیکھتی ہے تو دل بار بار یہی سوچتا ہے کہ یا اللہ! یہ سب تیرے ہی کمال کا جلوہ ہے۔ یہ ننھے وجود، ان کی مسکراہٹیں، ان کی سانسیں، ان کی ہر حرکت تیرے ہی ہاتھ کا معجزہ ہے۔
آپ کی تحریر نے وہ سب کچھ یاد دلا دیا جو اکثر دل میں ہوتا ہے مگر زبان کہہ نہیں پاتی۔
اللہ کرے آپ کا یہ پیار، یہ تدبر، یہ شکر گزاری ہم سب ماؤں کے دلوں میں بھی بڑھے۔
اللہ آپ کے قلم میں اور برکت دے، آپ کے بچوں کو آپ کے لیے دنیا و آخرت کی خوشی اور سکون کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں اپنے رب کی قدرت کو دیکھنے اور اس پر جھکنے والی آنکھیں اور دل دے۔آمین یا رب العالمین۔
 
Top