اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں

ismail8511

اصلاحی مضامین
رکن
مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب مدظلہ دارالعلوم صادق آباد

اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں

۔(۱) ہمیشہ یاد رکھئے کہ تازہ غم میں کبھی وعظ نصیحت مفید نہیں ہوتی بلکہ الٹی اور مضر ہو جاتی ہے اور اسکے مضر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت نصیحت ہوتی ہے اس بات کی کہ تم اپنے غم کے جذبہ کو روکو اور مصیبتزدہ اس کی کوشش بھی کرتا ہے غم روکنے کی مگر چونکہ اس وقت غم کی شدت ہوتی ہے بس وہ غم دل ہی دل میںرہتا ہے اور زیادہ عرصہ تک غم کے رہنے سے قلب میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے جس سے مختلف امراض پیدا ہو جاتےہیں۔ (انفاس عیسیٰ)
۔(۲) جس امر میں شرعاً گنجائش ہو اس کے صادر ہونے سے دوسرے شخص کو سختی سے اجتناب کا حکم کرنا یہآداب احتساب کے خلاف ہے نرمی سے بھی تو یہ کام ہو سکتا ہے مگر اس کا خیال کرنا اور اس پر عمل کرنا متبحر کاکام ہے۔
۔(۳) میرا معمول ہے کہ مجھے مخاطب کی غلطیوں پر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے اس لئے میں ان کے مسلمات سےجواب دینا چاہتا ہوں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو اور اس سے ایسی بصیرت ہوتی ہے کہ ویسی بتلانے سے نہیںہوتی۔ اس تعلیم کے دو اثرہوتے ہیں اگر طبیعت سلیم ہے تو اصلاح ہو جاتی ہے ورنہ ملنا چھوٹ جاتا ہے اور عمر بھرکے لئے نجات ہو جاتی ہے اس طرز پر لوگ میرے اوپر الزام لگاتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے تنقیحات شروع کر دیتے ہیں۔(حسن العزیز)

طلبا ء کو سزا دینے کے متعلق شرعی اصول

سیدی و مرشدی حضرت حاجی محمد شریف صاحبؒ نے حٗضرت حکیم الامت تھانوی کی خدمت میں لکھا حضرتاقدس یہاں سکول میں یہ نا چیز اپنے فرائض تندہی اور دیانت داری سے پورا کرتاہے مگر سزا دیئے بغیر بعض طلباءکام نہیں کرتے۔ آموختہ یاد نہیں کرتے اور طلبہ کا نتیجہ اچھا نہ نکلے تو افسران بالا تنگ کرتے ہیں۔ اس نا چیز نےطلبہ کو سزا دینے کا ایک اصول مقرر کر رکھا ہے اس کے مطابق چلتا ہوں اصول یہ ہے کہ سزا صرف اس سبق پر دیتاہوں جو اچھی طرح پڑھا دوں اور طلباء کو ایک دن پہلے بتادوں کہ یہ سبق میں کل سنوں گا یاد کرکے آنا۔ پھر بھیسنتے وقت طلباء کو بہت مواقع دیتا ہوں جس لڑکے کی نسبت ظاہر ہو جاتاہے کہ یاد کرنے کی کوشش کی اور خوبکی مگر یاد ہوانہیں اسے سزانہیں دیتا بعض طلبہ اس قدر ڈھیٹ اور لاپرواہ واقع ہوئے ہیں کہ جب تک خوب تسلیبخش مرمت نہ ہو کام ہی نہیں کرتے تو ان کو سزا دیتا ہوں، شرارتوں پربھی سزا دیتاہوں۔ اکثر ہاتھوں پر لکڑی سےمطابق موقع ایک سے لے کر چھ تک مارتا ہوں۔ کبھی کبھی زیادہ کا بھی اتفاق ہوتاہے (کسی نہایت سخت شرارت پرمارتے وقت سوچ کر ماتاہوں اکثر غصہ نہیں ہوتا کبھی کبھار ہوتا بھی ہے لیکن معلوم ایساہوتاہے کہ غلطی دونوںصورتوں میں ہو جاتی ہے کیو نکہ شک سا رہتا ہے کہ قدر حق سے زیادہ نہ مارا گیا ہو اور ظلم نا انصافی نہ ہو گئیہو۔ پورا پورا انصاف کرنے کی کوشش کرتاہوں مگر سزادے چکنے کے بعد طبیعت پر بوجھ سا رہتاہے حضرت اقدسکوئی ایسا اصول ارشاد فرئیں کہ جس پر کاربند ہوکر گناہ سے بھی بچ جائوں اور طلبہ کام بھی کرتے رہیں۔
جواب حضرت:۔
جب غصہ نہ رہے اس وقت غورکیا جاوے کہ کتنی سزا کا مستحق ہے اس سے زیادہ سزا نہ دی جائے اگرچہ درمیان میںغصہ آجاوے (مکتو بات اشرفیہ )
 
Top