یہ جہاز عامر کے بغیر نہیں اُڑے گا۔

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
کہتے ہیں کہ
کچھ لوگ زمین پر لوگوں کے لیے بس عام ہوتے ہیں اور یہی لوگ عرش پر بڑے خاص ہوتے ہیں۔
لیبیا کے شہری عامر المہدی منصور القذافی کی حج پر روانگی کی داستان ایمان کو تازہ کردیتی ہے۔
عامر المہدی منصور القذافی نے عرب میڈیا کو اپنی یہ داستان سناتے ہوئے بتایا کہ
میں حج کے ارادے سے ائیرپورٹ پہنچا لیکن ان کے نام میں’’قذافی‘‘ شامل ہونے کی وجہ سے سکیورٹی حکام نے انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا۔یہ جہاز حجاج اکرام کا آخری جہاز تھا۔
تمام کارروائیاں مکمل ہونے تک ان کے گروپ کے تمام افراد پرواز میں سوار ہو چکے تھے اور جہاز کے دروازے بند ہو گئے۔
جہاز کے پرواز کرنے کے بعدسکیورٹی افسر نے کیا کہ
’’عامر!تمہارا نصیب۔‘‘
مجھے اللہ پر مکمل یقین تھا۔ میں نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ
’’نیت حج كی ہے۔ ان شاءاللہ ضرور جاؤں گا۔‘‘
اچانک اطلاع ملی یہ جہاز میں فنی خرابی پیدا ہوگئی ہے،جہاز ائیر پورٹ پر واپس اتارا جارہاہے۔جہاز کی مرمت کا کام شروع ہوا۔ ائیر پورٹ کے عملے نے پائلٹ سے کہا کہ ایک مسافر رہ گیا ہے، اس سے سوار کردیں۔؟
پائلٹ نے انکار کردیا۔
جہاز دوبارہ پرواز کرگیا۔
سکیورٹی افسر نے دوبارہ کہا کہ
’’عامر اللہ کا حکم! شایدتمہارا نصیب میں نہیں ہے۔‘‘
میں وہی الفاظ دوبارہ سیکورٹی افسر سے کہے کہ
’’نیت حج كی ہے۔ ان شاءاللہ ضرور جاؤں گا۔‘‘
کچھ دیر بعد دوبارہ اطلاع ملی کہ جہاز کو دوبارہ فنی خرابی کے باعث ائیر پورٹ پر اتارا جا رہاہے۔جہاز کی جانچ پڑتال کی گئی،اس دوران پائلٹ نے حیران کن اعلان کیا کہ
’’اب یہ جہاز عامر کے بغیر نہیں اُڑ سکتا،یہ جہاز نہیں چلے گا جب تک عامر سوار نہ ہوگا۔‘‘
اور یوں عامر المہدی منصور القذافی جہاز میں سوار ہوئے اور جہاز اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔
 
Top