اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ یَقُوْلُ: یٰـٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ ﷲِاَتْقٰـکُمْ. فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ، وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ اِلَّا بِالتَّقْوٰی.
’’لوگو! اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔‘‘
یہ الفاظ آپ کے لیے شاید بس ایک خطبہ کا حصہ ہوں لیکن میرے لیے نہیں ہیں!
میرے والد کا تعلق افریقی ملک کینیا (نیروبی) سے تھا۔ مورمن عقیدے کے ایک متحرک مبلغ، اور چرچ میں بشپ تھے (ابھی بھی ہیں)۔ ایک پُراثر خطیب، جو جب بولتے تو الفاظ سحر طاری کر دیتے۔ دنیا بھر سے جو بھی مسافر، سیاح، یا جستجو کرنے والا آتا چاہے وہ مسلمان ہو، ہندو ہو، یا بدھ مت کا پیرومیرے والد اُسے عیسائیت کے نکتۂ نظر سے نہایت نرمی اور فصاحت کے ساتھ مخاطب کرتے۔
میری والدہ ایک سفید فام امریکی تھیں۔ مگر وہ ہمیں، مجھے اور میرے دو بھائی بہنوں کو، اُس وقت چھوڑ کر چلی گئیں جب میرا چھوٹا بھائی دنیا میں آیا۔ وجہ؟ ہمارے چہرے کی سیاہی۔ اُن کے لیے ہماری رنگت ایک بوجھ تھی، ایک شرمندگی، ایک ایسی چیز، جسے وہ معاشرے میں لے کر چل نہیں سکتیں تھیں۔
ہماری رنگت ہمیں سکول کے صحن سے لے کر گلیوں کی راہوں تک ہر جگہ احساسِ کمتری میں دھکیلتی رہی۔ لوگ ہمیں کمتر ٹھہراتے، بچے ہمیں چھیڑتے، ہمارا مذاق اُڑاتے۔ ہم نے کئی بار سکول بدلے، لیکن نہ وہ نظروں کی حقارت بدلی، نہ طعنوں کی شدت کم ہوئی۔
جب میں نے ہائی سکول مکمل کیا، تو مجھے ایک یا دو سال مذہب کی خدمت کے لیے وقف کرنا تھا۔ میری دنیاوی تعلیم روک دی گئی، اور والد نے مجھے 2015 میں کینیا بھیج دیا۔ وہاں میری ڈیوٹی تھی چرچ میں آنے والے سیاحوں کی رہنمائی، چرچ کی تاریخ، اس کی عمارت، اس کے عقائد سے متعلق بریفنگ دینا۔
وہ چرچ کسی عجوبے سے کم نہ تھا۔ انتہائی شاندار عمارت، ایک بولتا ہوا مجسمۂ مسیح، ایک جدید طرز کی لائبریری، اور ایک وسیع و عریض میوزیم۔ وہاں دنیا بھر سے مہمان آتے، ادیانِ عالم کے درمیان مکالمہ ہوتا، فکری تبادلے ہوتے۔ ہمیں "مورمن کی کتاب" بار بار پڑھائی گئی۔ ہر صفحے کی ہر سطر پر زور دیا جاتا، ہائی لائیٹ کروایا جاتا۔ پھر بائبل کا "کنگ جیمز ورژن King James Version (KJV)"۔ اور پھر وہ کتابیں جن میں عقائد، اصول، نکاح، عبادات، حتیٰ کہ چرچ کی حکومت کے بارے میں تفصیل سے ذکر تھا Doctrine and Covenants))۔ کتاب قیمتِ عظیم کا موتی (Pearl of Great Price) جس میں متفرق الہامی اقتباسات، بشمول حضرت ابراہیمؑ کی کہانی وغیرہ موجود ہیں وہ بھی۔
لیکن اس پوری مذہبی فضا میں، جو چیز مجھے سب سے زیادہ چھبتی، وہ تھی میرا نام۔ میرا اصلی نام کوئی نہ لیتا۔ سب مجھے صرف ایک نام سے پکارتے تھے: "کالی لڑکی"۔
یہ لقب میرے لیے توہین بن گیا تھا۔ ہر بار جب کوئی مجھے اس طرح پکارتا، یوں محسوس ہوتا جیسے میرے وجود پر کسی نے انگلی رکھ دی ہو، جیسے میری سیاہی کوئی گناہ ہو، کوئی جرم۔ کیا انسان کا رنگ اس کے کردار سے بڑا ہوتا ہے؟ کیا اس کا چہرہ اس کے دل سے زیادہ اہم ہے؟
ایک شام، چرچ خالی تھا۔ صرف ریسپشن پر ایک شخص موجود تھا۔ دروازے پر ایک اجنبی آیا۔ کیمرے سے اس سے آمد کا مقصد پوچھا گیا۔
اس نے کہا: "کچھ جاننا چاہتا ہوں۔"
وقت ختم ہو چکا تھا، مگر اُسے اندر آنے دیا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ اسے بٹھاؤں۔ اس شخص نے مجھ سے صرف میرا نام اور تعلق پوچھا۔ بس اتنی سی بات ہوئی، پھر وہ ریسپشن پر موجود شخص سے گفتگو کرنے لگا۔ مجھے ان کی گفتگو میں کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔
گفتگو کے دوران مجھے کہا: "کالی لڑکی، کچھ پینے کو لاؤ!"
ابھی میں اُٹھنے ہی لگی تھی کہ وہ اجنبی بول پڑا: "اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔"
اسلام کس چیز کی اجازت نہیں دیتا؟ کیا یہ شخص رنگ کی بات کر رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسلام مجھے کیا کہتا ہے؟
اسی برس، ستمبر 2016 میں، ذی الحج کا مہینہ شروع ہوا۔ مسلمان عیدالاضحیٰ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ چرچ میں اکثر مختلف مذاہب کے وفود آتے، مکالمے ہوتے، دلائل دیے جاتے۔ میرا تجسس اسلام کی جانب بڑھ رہا تھا۔ قربانی کا تصور میرے لیے نیا اور عجیب تھا، کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی صلیبی موت کے بعد یہ سب عبادات غیرضروری ہو چکی تھیں۔
تب ہی والد کا پیغام آیا: "تمہارا بڑا بھائی قتل ہو چکا ہے۔"
وہ مارا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ سیاہ فام تھا۔ اس کے سکول کے "دوستوں" نے اُسے اتنا مارا کہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔ میں ایک ماہ بعد پہنچی، اور تب تک اُس کی تدفین ہو چکی تھی۔
میں شدید صدمے میں تھی۔ وہ صرف 20 سال کا تھا۔ اور اس کی موت کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ "سیاہ" تھا۔
کیا سیاہ فام انسان نہیں ہوتے؟ کیا رنگت انسان کی زندگی کی قیمت طے کرتی ہے؟ کیا ایک ماں، ایک استاد، ایک معاشرہ سب اس قدر بے حس ہو سکتے ہیں؟
مجھے ایک بار پھر کینیا بھیج دیا گیا، مگر اب میرا دل بدل چکا تھا۔ میں سوالوں کے جنگل میں تھی۔ "کالی لڑکی" کیا یہی میری پہچان ہے؟ اگر کوئی سفید ہے، تو کیا وہ اس پر فخر کرے؟ اور اگر میں سیاہ ہوں، تو کیا مجھے شرم آنی چاہیے؟
مجھے پھر سے کینیا میں ایک سال ہونے کو تھا۔ پھر ایک دن۔۔۔ ذی الحج کی صبح تھی۔ میں معمول کے مطابق بازار میں خریداری کے لیے گئی۔
قریب ہی مسجد سے خطبۂ عید لاؤڈ اسپیکر پر نشر ہو رہا تھا۔
فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ، وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی
نامانوس سے الفاظ لیکن اچھے لگ رہے تھے۔ مجھے عربی نہیں آتی تھی۔ پھر سواحلی (کینیا کی قومی زبان) میں ترجمہ ہوا، مگر میں سمجھ نہ پائی۔
پھر انگریزی میں ترجمانی ہوئی:
"کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ گورے کو کالے پر، نہ کالے کو گورے پر فضیلت صرف تقویٰ میں ہے۔"
میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔
یہ کون کہہ رہا ہے کسی سفید فارم کو سیاہ فارم پر فوقیت نہیں؟
کون ہے وہ جو مجھے میری "سیاہی" کے ساتھ بھی عزت دے رہا ہے؟
یہ کون ہے جو رنگ سے نہیں، دل سے پرکھ رہا ہے؟
کون مجھے زندگی میں پہلی بار اتنی عزت دے رہا ہے؟
کیا وہ مجھے جانتا ہے کہ میں بھی ایک سیاہ فارم ہوں؟
کیا کسی نے واقعی یہ کہا ہے؟
ہاں! یہ میرے پیارے نبی رحمتہ للعالمین ﷺ نے کہا ہے۔
(جاری ہے)