قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآن کو سمجھنے سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ یہ کتاب صرف مخصوص مواقع کے لیے ہے، جیسے کسی کے انتقال پر اس کا ختم کروا لینا، یا جب کوئی نیا گھر بنے تو برکت کے لیے چند پارے پڑھوا لینا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کتاب میری اپنی زندگی کے لیے ہے، میری ہدایت کے لیے ہے، میرے ہر دن اور ہر لمحے کے لیے ہے۔ لیکن جب میں نے اسے سمجھ کر پڑھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ یہ کتاب محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو سنوارنے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہے۔
پہلے مجھے قرآن سے ایک عجیب سی جھجک محسوس ہوتی تھی، جیسے یہ کوئی ایسی کتاب ہے جسے پڑھنے سے زندگی میں کوئی بھاری آزمائش آ سکتی ہے۔ لیکن جب میں نے قرآن کو سمجھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو سراسر رحمت ہے، سراسر روشنی ہے۔ اب مجھے اس سے خوف نہیں آتا، بلکہ سکون ملتا ہے۔ اللہ کے احکامات پر عمل کرنا پہلے کی نسبت آسان لگتا ہے۔ یہ کتاب صرف عبادات کی رہنمائی نہیں کرتی بلکہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے ہدایت دیتی ہے۔
قرآن پڑھتے ہوئے کئی آیات دل پر اثر انداز ہوئیں، مگر جس آیت نے مجھے سب سے زیادہ جھنجھوڑا وہ یہ تھی:
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًاۚ (الجمعة: 5)
جنہیں تورات کا علم دیا گیا، مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں لادے ہوئے ہو۔

یہ آیت پڑھ کر میں کانپ گئی۔ اگر میں سارا قرآن پڑھ بھی لوں، ساری تفسیر سمجھ بھی لوں، لیکن اگر میرا عمل نہ بدلا، تو میرا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنے دل سے عہد کر لیا کہ اب قرآن میری زندگی کا حصہ بنے گا، صرف الفاظ کی صورت میں نہیں، بلکہ میرے عمل میں بھی۔
اسی سفر میں اللہ نے مجھے ماں بنایا۔ اور جب بچوں کو اپنی گود میں پایا تو ایک نیا احساس جاگا۔ میرے پاس دین کا علم نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میرے پاس دین کا علم نہیں ہوگا، تو میں اپنے بچوں کو کیسے سکھاؤں گی؟ ماں ہی تو بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر میرے پاس روشنی نہ ہو تو میں ان کے لیے چراغ کیسے جلاؤں گی؟
یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے یہ عہد مزید پختہ کر لیا کہ میں نہ صرف خود دین سیکھوں گی بلکہ اپنی نسلوں تک اس روشنی کو پہنچاؤں گی۔ اگر میں خود نہیں جانتی کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، تو میں اپنی اولاد کی رہنمائی کیسے کروں گی؟ اگر مجھے خود یہ معلوم نہیں کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راستہ کیا ہے، تو میں اپنی نسل کو بھٹکنے سے کیسے بچاؤں گی؟ یہی احساس میرے لیے سب سے بڑی تحریک بنا۔ میں نے طے کر لیا کہ میں قرآن کو محض ایک کتاب نہیں، بلکہ اپنی اور اپنی اولاد کی زندگی کا حقیقی دستور بناؤں گی۔
میں اپنے بچوں کو دین بوجھ بنا کر نہیں بلکہ محبت اور آسانی سے سکھاؤں گی۔ میں انہیں صرف زبانی نصیحتیں نہیں دوں گی، بلکہ اپنے عمل سے انہیں سکھاؤں گی کہ قرآن ہی وہ روشنی ہے جو ہر اندھیرے کو مٹا سکتی ہے۔
قرآن کے ساتھ یہ تعلق محض میرا نہیں رہا، بلکہ ایک نسل کا مقدر سنوارنے کا ذریعہ بن گیا۔ یہ میرا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر میں اپنے بچوں کو اچھے لباس، اچھے کھانے اور اچھی تعلیم دوں مگر انہیں اللہ کی پہچان نہ سکھاؤں، تو میں نے ان کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی کی۔ اللہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں قرآن سے جڑوں، اسے سمجھوں اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کروں۔
یہ میرا سفر تھا، لیکن یہیں اختتام نہیں! بلکہ ایک نئی شروعات ہے۔ قرآن ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کبھی ختم نہیں ہوتی، اور میں اس روشنی میں ہمیشہ آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔ میں نے چھ سال لگا کر قرآن کو سمجھنے کا ایک سنگ میل عبور کیا، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ قرآن میری زندگی میں مکمل طور پر اتر جائے۔ میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ جب میں دنیا سے جاؤں تو قرآن میرے حق میں گواہی دے، نہ کہ میرے خلاف!
آخر میں یہی دعا ہے کہ ہمیں قرآن کی حقیقی سمجھ عطا فرما، اسے ہماری زندگیوں میں اترنے والا بنا دے، ہمارے عمل کو اس کے مطابق کر دے، اور جب ہم تیرے حضور حاضر ہوں تو یہ قرآن ہمارے حق میں گواہ بنے، نہ کہ ہمارے خلاف۔ ہماری نسلوں کو بھی اس نور سے منور کر دے، اور ہمیں آخرت میں ان لوگوں میں شامل کر جو تیرے کلام کے سچے حامل ہیں۔
آمین یا رب العالمین!
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ایک ماہ قبل میری ایک قریبی دوست اور کولیگ کا ایک ہولناک ایکسیڈنٹ ہوا۔ پہاڑی علاقہ تھا، سڑک پھسلن والی، اور گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس کے ایک عزیز کی جان بھی چلی گئی، اور میری دوست کو سخت جسمانی چوٹیں آئیں جن میں سپائنل فریکچر جیسا تکلیف دہ زخم بھی شامل تھا۔
آج، بالآخر، میں اُسے دیکھنے اس کی عیادت کو جا سکی۔
لیکن جو منظر وہاں دیکھا، وہ میرے تصورات سے کہیں زیادہ حیران کن تھا۔
میرے سامنے اُس کے چھ ماہ کے جڑواں بچے تھے ہنستے، مسکراتے، اپنی دنیا میں مگن... اور بالکل محفوظ۔ انھیں ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔
میں خود پر قابو نہ رکھ سکی، اور پوچھ ہی بیٹھی: "ان دونوں کو ایک خراش تک نہیں آئی؟"
اس نے ہلکے سے سر ہلایا: "ہاں، ایک چوٹ بھی نہیں۔"
میرے اندر کا حیرت زدہ انسان مزید سوال کیے بغیر نہ رہ سکا: "کیسے؟ کیوں؟"
اور اُس نے صرف اتنا کہا: "یہ اللہ کے سپرد تھے۔"
یہ ایک جملہ میرے اندر گونجتا رہا۔ کیا ایسا بھی توکل ممکن ہے؟ میرے دل نے گواہی دی: ہاں، یہی تو اصل ایمان ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍۢ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦ
"اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے، تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے، تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔" (یونس: 107)

حادثہ، چوٹ، دکھ یہ سب اُس کے اذن سے تھا۔ اور بچوں کا محفوظ رہ جانا؟ یہ خالص اس کا فضل تھا۔ اور یہ فضل کوئی روک نہیں سکا۔
میں اُس دن اُس ماں کے چہرے پر درد، صبر، شکر اور توکل کو ایک ساتھ رواں دیکھ رہی تھی۔
جو ماں خود ایک فریکچر کے ساتھ بستر پر تھی وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکی۔ نہ وہ سیٹ بیلٹ باندھ سکی، نہ انہیں اپنی باہوں میں لپیٹ سکی۔
لیکن... جس ہستی کے سپرد کر رکھا تھا، اُس نے اپنے فضل سے ہر چوٹ، ہر خطرہ، ہر زخم کو روک لیا۔
میں واپس آتے ہوئے سوچتی رہی... جب ایک ماں بےبس ہو کر اللہ پر اتنا کامل بھروسہ کر سکتی ہے، تو میں، جو ہر روز زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں گھبرا جاتی ہوں، کیوں نہیں سیکھ پاتی یہ یقین؟
"اللہ کے سپرد کر دینا" محض ایک جملہ نہیں، یہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ پکار ہے جس پر عرش کا رب خود حفاظت کی ذمہ داری لے لیتا ہے۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے محفوظ مقام ہے: جہاں ہم سب کچھ اس کے حوالے کر دیں اور کہہ سکیں: "یہ اللہ کے سپرد ہیں۔"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ میرے شوہر آرمی کی ملازمت کے سلسلے میں چین میں تعینات ہوئے۔ جب میں ان کے ساتھ چین پہنچی تو میرے سامنے ایک بالکل نئی دنیا کھلی۔
آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے بھر گئیں۔ آخر کار، ایک سادہ دل دیہاتی نے پہلی مرتبہ کسی چمکتے دمکتے شہر میں قدم رکھا تھا!
جس عمارت میں ہم رہائش پذیر تھے وہ 32 منزلوں پر مشتمل تھی اور ہمارا اپارٹمنٹ 31 ویں منزل پر تھا۔
ابتداء میں جب کھڑکی سے نیچے جھانکنے کی کوشش کرتی، دل میں ایک عجیب سی ہچکچاہٹ اور خوف کی لہر دوڑ جاتی۔ مگر رفتہ رفتہ میں ان بلند مناظر کی عادی ہو گئی، اور اب وہ حسین نظارے مجھے بہت اچھے لگتے۔
اس بلندی سے زمین بہت چھوٹی سی لگتی تھی، اور لوگ مجھے ننھے ننھے سے کھلونے معلوم ہوتے تھے۔ دور دور تک منظر صاف دکھائی دیتے۔ دوسری بلند عمارتیں، پل، سڑکیں، ایک طرف ایک بڑی سی جھیل، اور پس منظر میں پہاڑوں کی ایک طویل قطار۔۔۔ یہ سب ایک خواب کی مانند لگتے تھے۔
کبھی کبھار موسم اتنا ابر آلود ہوتا کہ بادل ہماری منزل کے برابر تیرتے محسوس ہوتے۔
رات کے وقت منظر یکسر بدل جاتا۔ نیچے روشنیوں کی چمک دمک سے شہر جگمگا اٹھتا۔ چلتی پھرتی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس، روشن بل بورڈز، اور عمارتوں کی دمکتی کھڑکیاں۔۔۔ سب مل کر ایسا تاثر دیتے جیسے زندگی ہر لمحہ ایک جشن منا رہی ہو۔
تعمیراتی کام راتوں میں بھی جاری رہتا اور یوں لگتا تھا کہ اس شہر میں کبھی نیند نہیں آتی۔
ان بلند فضاؤں میں رہتے ہوئے، میرے دل میں چند خیالات جنم لیتے۔ میں سوچتی، اگر محض چند سو فٹ کی بلندی سے انسان اور اس کی دنیا اتنی چھوٹی، نازک اور بے اختیار دکھائی دیتی ہے، تو پھر ہمارا رب، جو اپنے عرش عظیم پر جلوہ افروز ہے، اس کی شان اور عظمت کا کیا عالم ہوگا!
جس کی نظر سے زمین و آسمان کی کوئی چیز اوجھل نہیں۔ جو ہماری چھپی ہوئی سوچوں، خواہشوں اور اعمال سے بھی بخوبی واقف ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم جو اپنی معمولی سی حیثیت پر فخر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں شاید ایک ذرے سے بھی کم ہیں۔۔۔ بلکہ شاید کچھ بھی نہیں!
تو پھر یہ غرور کیسا؟ یہ فخر اور تکبر کیوں؟
کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جب ہم تنہائی میں کوئی غلطی کرتے ہیں، تو کیا ہم یہ بھول نہیں جاتے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر لمحہ دیکھ رہا ہے؟
کیا یہ اس کی موجودگی سے انکار جیسا نہیں؟
اگر ہمارا ایمان سچا ہے، تو کسی انسان کے نہ دیکھنے پر بھی ہمیں اپنے رب کے خوف سے لرز جانا چاہیے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَھۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ" (الانعام: 3)
"اور آسمان اور زمین میں وہی اللہ تو ہے۔ وہ تمہاری چھپی اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے، اور تم جو عمل کرتے ہو، اس سے بھی باخبر ہے۔"

اس کی نگاہ سے نہ کوئی بات چھپی ہے، نہ کوئی ارادہ، نہ کوئی حرکت۔
بلند عمارتوں سے نیچے جھانکتے ہوئے میں نے سیکھا کہ جو نگاہ سب کچھ دیکھتی ہے، وہ سب سے بلند ہے، اور جو دل اس کے سامنے جھک جاتا ہے، وہی حقیقت میں سربلند ہو جاتا ہے۔
حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ہر حال میں اپنے رب کی نظر میں خود کو دیکھتے رہیں، اپنی خامیوں پر شرمندہ ہوں، اپنی خطاؤں پر معافی مانگیں، اور اپنی زندگی کو اللہ کی قربت کے لیے وقف کر دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دل عطا فرمائے جو ہر لمحہ اس کی عظمت کو پہچان سکے، اور وہ نظر عطا کرے جو ہر منظر میں اپنے رب کی نشانیوں کو دیکھ سکے۔
آمین یا رب العالمین!
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج کل سکولوں میں موسم گرما کی چھٹیاں چل رہی ہیں۔
گھر میں فٹ بال کی ٹھک ٹھک، اور میرے ذہن میں اسائنمنٹ کی ڈیڈ لائن۔
میرا بیٹا بار بار ضد کر رہا تھا: "مما، میرے ساتھ کھیلو!"
میں نے اُسے اپنے پاس بٹھا لیا، شاید تھوڑا بہل جائے۔
اچانک اُس نے مجھ سے سوال کیا:
"مما، کیا اللہ میرے ساتھ کھیلنا چاہے گا، اگر میں اکیلا ہوں اور سب مصروف ہوں؟"
میں چند لمحے چپ رہی۔ میرے پاس کوئی فوری جواب نہ تھا۔
لیکن میرے دل میں ایک آیت گونجی:
"هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ"(سورۃ الحدید، آیت 4)
(وہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں کہیں بھی تم ہو۔)

جیسے اللہ نے خود اُس ننھے سوال کا جواب دے دیا ہو۔
میں نے اُسے سینے سے لگایا اور کہا:
"ہاں بیٹا، اگر سب بھی مصروف ہوں، تو اللہ کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔"
پھر دل میں ایک خیال اترا، ہم سب کی زندگی بھی تو ایک کھیل ہی ہے۔ کبھی دوڑ، کبھی ہار، کبھی جیت، کبھی تھکن، کبھی خوشی۔
ہم سب مصروف ہوتے ہیں، کبھی اسائنمنٹ میں، کبھی کام میں، کبھی سوچوں میں گم۔
لیکن ہمارا رب۔۔۔ وہ تو ہر لمحے ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ہماری تھکن میں، ہماری جیت میں، ہماری تنہائی میں۔۔۔ وہ کھیل کے میدان میں بھی ہوتا ہے، اور زندگی کی راہوں میں بھی۔
ماں ہونے کے ناطے میں ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی، لیکن میرا دل یہی چاہتا ہے کہ وہ یہ کبھی نہ بھولے "اللہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا"۔
یا اللہ، ہمارے بچوں کے دلوں میں یہ یقین ہمیشہ زندہ رکھ، کہ وہ کبھی تنہا نہیں، کیونکہ تُو ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
"مما!"
بس یہ ایک لفظ جب میرا بچہ شرارتوں کے بعد مجھے بلاتا ہے تو میرا دل پگھل جاتا ہے۔ اس کی غلطیوں پر کیسی ناراضگی، کیسا غصہ؟ بس اس کی آواز سنتے ہی ساری تھکن اتر جاتی ہے، اور میں محبت میں مجبور ہو کر اسے گلے لگا لیتی ہوں۔
آپ نے کبھی سوچا ہم بھی تو ایسے ہیں۔۔۔ غلطیاں کرتے ہیں، بھٹک جاتے ہیں، نافرمانی بھی کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ لیکن جب پلٹ کر کہتے ہیں "یا اللہ!" تو کیا ہمارا رب بھی ایسے ہی ہمیں اپنی رحمت میں نہیں سمیٹ لیتا ہوگا؟
اللہ خود کہتا ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو کہ) میں قریب ہوں، میں دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ (البقرہ: 186)

یہ آیت پڑھ کر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے اللہ مجھ سے کہہ رہا ہو: بس ایک بار مجھے پکارو۔۔۔ میں سن رہا ہوں، میں تمہارے قریب ہوں، میں تمہیں رد نہیں کروں گا!
یہ کیسا عظیم رب ہے! ہم چاہے جتنی بھی بار غلطیاں کریں، وہ ہمیں واپس بلاتا ہے، ہمیں اپنی رحمت سے دور نہیں کرتا۔ بس ہم ہی غافل رہتے ہیں۔
کبھی غور کیا کہ ہم نے کب اللہ کو آخری بار سچے دل سے پکارا تھا؟ کب ہم نے آخری بار یقین کے ساتھ دعا مانگی تھی کہ وہ بہت قریب ہے؟
اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَإِنِّي قَرِيبٌ
بے شک، میں قریب ہوں!

یہ آیت محض الفاظ نہیں، یہ ایک یقین دہانی ہے، ایک محبت بھرا وعدہ ہے، ایک دروازہ ہے جو ہر وقت کھلا ہے۔ اللہ کہہ رہا ہے: میں دور نہیں، میں پاس ہوں، بس تم مجھے پکارو!
ہم نے دیکھا ہے کہ جب ایک چھوٹا بچہ اپنی ماں کو پکارتا ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف دوڑتی ہے۔ حالانکہ وہی بچہ شرارتیں بھی کرتا ہے، ضد بھی کرتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ "ماں!" کہہ کر بلاتا ہے، ماں کا دل پگھل جاتا ہے۔
تو سوچیں! جب ہم اپنے رب کو "یا اللہ!" کہہ کر بلائیں گے تو وہ کتنا مہربانی کرے گا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ دل میں میرا ذکر کرے، تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجلس میں میرا ذکر کرے، تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے، تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے، تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔" (بخاری، مسلم)
اللہ انتظار کر رہا ہے کہ ہم پلٹ آئیں، ہم اسے آواز دیں، ہم اس سے مانگیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی الجھنیں، اپنے دکھ، اپنی دعائیں، اپنے خواب سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیں۔
تو آئیں، آج ہی، ابھی اسی لمحے، دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں: یا اللہ! ہم حاضر ہیں، ہم تیری طرف پلٹنا چاہتے ہیں۔ بے تو قریب ہے، تو سن رہا ہے، اور تو جواب بھی دے گا!
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
ایک ماہ قبل میری ایک قریبی دوست اور کولیگ کا ایک ہولناک ایکسیڈنٹ ہوا۔ پہاڑی علاقہ تھا، سڑک پھسلن والی، اور گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس کے ایک عزیز کی جان بھی چلی گئی، اور میری دوست کو سخت جسمانی چوٹیں آئیں جن میں سپائنل فریکچر جیسا تکلیف دہ زخم بھی شامل تھا۔
آج، بالآخر، میں اُسے دیکھنے اس کی عیادت کو جا سکی۔
لیکن جو منظر وہاں دیکھا، وہ میرے تصورات سے کہیں زیادہ حیران کن تھا۔
میرے سامنے اُس کے چھ ماہ کے جڑواں بچے تھے ہنستے، مسکراتے، اپنی دنیا میں مگن... اور بالکل محفوظ۔ انھیں ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔
میں خود پر قابو نہ رکھ سکی، اور پوچھ ہی بیٹھی: "ان دونوں کو ایک خراش تک نہیں آئی؟"
اس نے ہلکے سے سر ہلایا: "ہاں، ایک چوٹ بھی نہیں۔"
میرے اندر کا حیرت زدہ انسان مزید سوال کیے بغیر نہ رہ سکا: "کیسے؟ کیوں؟"
اور اُس نے صرف اتنا کہا: "یہ اللہ کے سپرد تھے۔"
یہ ایک جملہ میرے اندر گونجتا رہا۔ کیا ایسا بھی توکل ممکن ہے؟ میرے دل نے گواہی دی: ہاں، یہی تو اصل ایمان ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍۢ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦ
"اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے، تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے، تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔" (یونس: 107)

حادثہ، چوٹ، دکھ یہ سب اُس کے اذن سے تھا۔ اور بچوں کا محفوظ رہ جانا؟ یہ خالص اس کا فضل تھا۔ اور یہ فضل کوئی روک نہیں سکا۔
میں اُس دن اُس ماں کے چہرے پر درد، صبر، شکر اور توکل کو ایک ساتھ رواں دیکھ رہی تھی۔
جو ماں خود ایک فریکچر کے ساتھ بستر پر تھی وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکی۔ نہ وہ سیٹ بیلٹ باندھ سکی، نہ انہیں اپنی باہوں میں لپیٹ سکی۔
لیکن... جس ہستی کے سپرد کر رکھا تھا، اُس نے اپنے فضل سے ہر چوٹ، ہر خطرہ، ہر زخم کو روک لیا۔
میں واپس آتے ہوئے سوچتی رہی... جب ایک ماں بےبس ہو کر اللہ پر اتنا کامل بھروسہ کر سکتی ہے، تو میں، جو ہر روز زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں گھبرا جاتی ہوں، کیوں نہیں سیکھ پاتی یہ یقین؟
"اللہ کے سپرد کر دینا" محض ایک جملہ نہیں، یہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ پکار ہے جس پر عرش کا رب خود حفاظت کی ذمہ داری لے لیتا ہے۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے محفوظ مقام ہے: جہاں ہم سب کچھ اس کے حوالے کر دیں اور کہہ سکیں: "یہ اللہ کے سپرد ہیں۔"
دعا کریں اللہ تعالی میری سسٹر کو جلد صحت یاب کرے
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
دعا کریں اللہ تعالی میری سسٹر کو جلد صحت یاب کرے
اللہ تعالی میری دوست کو اپنی خاص رحمت سے جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے، اس کی تکلیف کو اپنے فضل سے دور فرما دے، اور اس کے دل کو صبر، سکون اور ہمت عطا فرمائے۔ اس کے بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے، اور ان کے ہر قدم پر خیر و برکت نازل فرماے۔ اور اس پر اپنی رحمت، فضل اور شفقت کے دروازے کھول دے۔ آمین یا رب العالمین۔
 

الہام عبیر

وفقہ اللہ
رکن
دعا کریں اللہ تعالی میری سسٹر کو جلد صحت یاب کرے
اے اللہ! میری بہن کو ایسی شفاء عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ رہنے دے۔
اے اللہ! ان سے ہر تکلیف دور فرما، اور اسے ان کے گناہوں کا کفارہ اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنا۔
آمین، یا رب ۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میں نے خبر پڑھی کہ سائنسدانوں نے ایک نیا رنگ دریافت کیا ہے: "Olo"
ایک ایسا رنگ جو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔
کئی سالوں کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، لاکھوں ڈالرز، اور بے شمار تجربات کے بعد بالآخر ایک ایسا رنگ دنیا کے سامنے آیا جو قدرتی آنکھ میں موجود ہونے کے باوجود کبھی نظر نہیں آ سکا تھا۔
اسے پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک سوال اٹھ رہا ہے کہ:
اتنی محنت ایک رنگ دیکھنے کے لیے کی... مگر کیا ہم نے کبھی اتنی محنت سے اللہ کی نعمتوں کو دیکھنے کی کوشش کی؟
کیا ہم نے کبھی اپنا دل، اپنی روح، اپنی نظر، ان سب کو ایسے متحرک کیا ہو، جیسے سائنسدان نے آنکھ کی M-type فوٹو ریسیپٹر کو لیزر سے جگایا؟
کیا ہم نے کبھی اپنے دل کے مردہ حصوں کو اللہ کی آیات سے زندہ کرنے کی ٹھانی ہو؟ جس طرح "Olo" صرف مخصوص حالات میں نظر آتا ہے تو کیا اللہ کی بعض نعمتیں بھی تبھی ظاہر ہوتی ہیں جب دل میں شکر کا نور ہوتا ہے؟
اللہ تعالی نے فرمایا:
وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا
”اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گے“ (سورۃ ابراھیم: 34)

مگر ہم نے اپنی زندگی میں جو کچھ دیکھا، جو کچھ پایا، ہم نے اسے معمولی سمجھا، حق سمجھا۔
ہمیں ہوا ملی، سانس ملی، روشنی ملی، پانی کی روانی، دل کی دھڑکن، ماں کی دعا، اور ہمیں لگا یہ تو "ہے ہی"۔
ہم نے کبھی جھک کر، رک کر، تھم کر… ان نعمتوں کو دریافت کرنے کی محنت نہیں کی۔
ہم نے سائنسدانوں کی طرح تجربہ گاہیں نہیں بنائیں جہاں ہم "شکر" کا تجربہ کریں، ہم نے اپنے دل کے ریسیپٹرز کو ذکر، تدبر، اور غور و فکر سے کبھی ٹارگٹ نہیں کیا۔
ہم نے رنگ تو دیکھ لیا، مگر نعمتوں کے پسِ منظر میں چھپا رحمٰن کا چہرہ پہچاننے کی خواہش کم رہی۔ ہم نے لیبارٹری کی لائٹ آن کی، مگر قرآن کی روشنی سے اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کم رہی۔
آج ایک رنگ دنیا میں آیا اور شاید یہی رنگ مجھے جھنجھوڑ گیا، اللہ کی ہزاروں نعمتیں میرے اندر "Olo" کی طرح چھپی ہوئی ہیں… جنہیں میں نے کبھی پہچانا ہی نہیں۔
شاید ہر انسان کے اندر ایک "Olo" ہوتا ہے۔ ایک ایسا رنگ، ایک ایسا نور، جو صرف تب ظاہر ہوتا ہے جب دل اللہ کے شکر اور معرفت سے بیدار ہوتا ہے۔ اور اگر کبھی یہ "Olo" نظر آ جائے… تو شاید یہی لمحہ سب سے بڑی نعمت ہو۔
اللہ کرے میں اپنے دل کو ایسی آنکھ بنا سکوں، جو ہر نعمت کے پیچھے رب کی محبت کا رنگ دیکھ سکے۔
آمین!
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ایک چھوٹا سا پاکٹ کمپاس۔۔۔
میرے شوہر ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں، چاہے ڈیوٹی پر ہوں یا چھٹی پر۔ ڈیوٹی کے دوران تو مجھے سمجھ آتی ہے کہ شاید یہ کوئی ضروری چیز ہے، لیکن آف ڈیوٹی؟ اُس وقت اس کی کیا ضرورت!
میں جب بھی یہ دیکھتی ہوں تو ہر بار یہی سوال کرتی ہوں۔
اور ہمیشہ کی طرح اُن کا جواب ایک سا ہوتا ہے: "آپ کو اس چھوٹی سی چیز کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔"
اس کے پیچھے ایک واقعہ ہے۔ کہنے لگے، "فوجی مشق کے دوران ایک بار ہمیں چند ساتھیوں کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے صحرا میں سروائیو کرنا تھا۔ گرمی شدید تھی، اور اچانک ریت کا ایک خطرناک طوفان اُمڈ آیا۔ طوفان اس قدر شدید تھا کہ ہم چند قدم چلتے اور پیچھے کے قدموں کے نشان تک غائب ہو جاتے۔ ہم راستہ بھٹک گئے۔ کئی دن گزر گئے۔ جب ریسکیو کیا گیا تو ہماری حالت نڈھال اور تشویشناک تھی۔ بس وہ دن تھا، اور آج کا دن، میں نے کبھی اپنے پاس کمپاس رکھنا نہیں چھوڑا۔"
ہم سب کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔۔۔ قرآنِ کریم کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ (سورۃ الإسراء، آیت 9)
"بیشک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے۔"

قرآن بھی ہمارے لیے ایک کمپاس ہی تو ہے۔ جو ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر درست سمت دکھاتا ہے۔
لیکن افسوس، ہم اس کی موجودگی کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ قرآن بار بار ہمیں متوجہ کرتا ہے، راستہ بتاتا ہے، گمراہی سے روکتا ہے... مگر ہم غفلت میں گم رہتے ہیں۔
اور پھر وہ وقت آ جاتا ہے، "قیامت کا دن"، جب ہمیں اس کی اصل قدر کا احساس ہوتا ہے۔
دنیا میں تو ہم چاہیں تو اپنا کمپاس واپس پکڑ سکتے ہیں۔ لیکن آخرت میں راستہ بھٹکنے کا مطلب ہمیشہ کے لیے بھٹک جانا ہے۔
ایک چھوٹے سے کمپاس کی غیر موجودگی۔۔۔ صحرا میں جان کو خطرے میں ڈال گئی۔
اور ہم؟ زندگی کے وسیع و عریض صحرا میں، قرآن کے بغیر سفر پر نکل چکے ہیں۔ صحرا کا طوفان تو چند دن کا تھا، مگر قیامت کا اندھیرا۔۔۔ وہ ہمیشہ کا ہو گا۔
اُس دن کوئی دوسرا موقع نہ ہو گا۔ وہاں کمپاس نہیں، صرف قرآن اور اُس پر کیا گیا ہمارا عمل کام آئے گا۔
تو مجھے سوچنا چاہیے: کیا میں نے اپنی زندگی کمپاس تھام رکھا ہے؟
یا اللہ! جس طرح ایک مسافر صحرا میں راستہ بھٹکنے سے بچنے کے لیے کمپاس تھامے رکھتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے دل و جان سے قرآن کو تھام لینے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں غفلت کے طوفانوں سے بچا لے، ہمیں ہدایت کی راہ پر ثابت قدم رکھ، اور وہ دن آنے سے پہلے، جب کوئی واپسی نہ ہو، ہمیں اپنا کلام سمجھنے، اپنانے، اور اس پر چلنے والا بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
اللہ پاک صحت کاملہ ،عاجلہ،مستمرہ،دائمہ نصیب فرمائیں۔آمین ثم آمین
اے اللہ! میری بہن کو ایسی شفاء عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ رہنے دے۔
اے اللہ! ان سے ہر تکلیف دور فرما، اور اسے ان کے گناہوں کا کفارہ اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنا۔
آمین، یا رب ۔
اللہ پاک جلد از جلد کامل صحت عطا فرمائے، آمین۔
جزاکم اللہ خیرا
اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج صبح میں اپنے بچوں کے ساتھ باہر صحن کی صفائی کر رہی تھی ، تو دیکھا کہ میری ایک بہت پیاری ہمسائی اپنے گھر کے باہر کچھ تلاش کر رہی تھیں۔
میں ان کے قریب گئی اور پوچھا: "کیا تلاش کر رہی ہیں؟"
وہ پہلے تو خاموش رہیں۔ میں نے دوبارہ کہا، "اگر کوئی قیمتی چیز ہے تو میں بھی مدد کر دیتی ہوں۔"
کچھ دیر کے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی اپنے شوہر سے لڑائی ہو گئی تھی۔ غصے میں آ کر انہوں نے نہ صرف اپنے قیمتی کانچ اور سرامک کے برتن توڑ دئیے، بلکہ گھر کا اور بھی بہت سا سامان غصے کی نظر ہو گیا۔
اب وہ ان ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ڈھیر میں سے وہ چند سلامت رہ جانے والے برتن تلاش کر رہی تھیں۔
اتنے شدید غصے کی وجہ؟ صرف یہ کہ کھانے کا ذائقہ توقع کے مطابق نہیں تھا۔۔۔ اور بات بڑھتے بڑھتے ایک جھگڑے میں بدل گئی۔
بس، اتنی سی بات!
آخر کار، ان کے ہاتھ صرف دو سلامت کپ آئے۔
لیکن دل میں یہ سوال چھوڑ گئے: دو کپ تو بچ گئے، لیکن رشتہ کتنا بچا؟
ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے لمحاتی جذبات میں بہہ جاتے ہیں۔ لمحے بھر کا غصہ، سالوں کی پشیمانی۔ پل بھر کا ردعمل، رشتوں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ اعتماد، قربت، عزت۔۔۔ یہ سب برتنوں سے کہیں زیادہ نازک ہوتے ہیں۔ ان کا ٹوٹنا، سنبھالنے سے بھی نہیں سنبھلتا۔
برتن توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔۔۔ بس ایک اور درد جنم لیتا ہے، جسے وقت بھی مکمل ٹھیک نہیں کر پاتا۔ اگر ہم بس یہ یاد رکھ لیں کہ:
وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
"اور جو غصے کو پی جاتے ہیں، اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"

تو شاید ہمارے بہت سے رشتے بچ جائیں، اور ٹوٹنے سے پہلے سنبھل جائیں۔
دنیا کو چھوڑیں اللہ کی رضا کے لیے غصہ پی جایا کریں۔ ایسے نہ صرف رشتے بچ جائیں گے، بلکہ اپنا دل، اپنا گھر، اور اپنا انجام بھی خوبصورت بنا لیں گے۔ اللہ محسنین سے محبت کرتا ہے اور محبت والے دل توڑنے کے لیے نہیں، جوڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔
اگلی بار جب دل میں غصہ اٹھے، تو ذرا لمحہ بھر رک کر ضرور سوچیں:"کیا میں صرف توڑ رہی ہوں؟ یا کچھ بچا سکتی ہوں؟"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
کل میری ڈیڑھ سالہ بیٹی اچانک نظروں سے اوجھل ہو گئی! میں نے گھر کے ہر کونے میں دیکھا، آس پڑو‎س میں سب کے گھر جا کر پوچھا، ہر ممکن جگہ ڈھونڈی، مگر کہیں سراغ نہ ملا۔ شدید پریشان تھی۔ کیا کروں؟ پولیس کو اطلاع دوں؟ فون تلاش کرنے لگی، مگر وہ بھی غائب!
اب ایک نئی پریشانی سر اٹھانے لگی کہ فون کہاں گیا؟ مگر دل میں ایک امید جاگی کہ کہیں یہ محترمہ خود ہی شرارت میں چھپ نہ گئی ہو؟ دوبارہ ہر جگہ تلاش کی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ چھوٹی سی معصوم بچی۔۔۔ دل میں طرح طرح کے خیال آ رہے تھے۔ پھر اچانک گیراج میں کھڑی گاڑی کے نیچے سے ایک معصوم آواز آئی:
"یہ لیں مما! آپ کا فون۔۔۔ اب میں تھک گئی!"
اللہ اکبر! وہ لمحہ، وہ جذبات، وہ شکرگزاری کے آنسو! مگر جیسے ہی غصے اور گھبراہٹ کی شدت کم ہوئی، میں نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا۔ وہ معصوم سہم گئی اور رو کر اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں "سوری مما" کہنے لگی۔
میری معصوم بچی، جس نے صرف ایک کھیل سمجھا، اب خوفزدہ ہو کر معافی مانگ رہی تھی۔۔۔ اور مجھے اپنی سختی پر افسوس ہوا، جیسے میں نے ایک ننھے دل کو بے وجہ ڈرا دیا ہو!
یہ بچی تو لاعلم تھی، ناسمجھی میں چھپ گئی، مگر اس کی ماں نے پھر بھی معاف کر دیا، سینے سے لگا لیا۔
تبھی ایک خیال دل میں آیا ہم سب انسان بھی تو ایسے ہی ہیں! اپنی لاعلمی، اپنی ناسمجھی، اپنی خواہشوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے، ہم بھی کہیں نہ کہیں چھپ جاتے ہیں، گناہوں میں، بھول میں، غفلت میں۔
ہم خود کو اللہ کی رحمت سے دور کر لیتے ہیں، بھٹک جاتے ہیں، لیکن جب ہم پلٹ کر کہتے ہیں، "یا اللہ! میں تھک گئی، سوری!" تو ہمارا رب بھی ہمیں معاف کر دیتا ہے، گلے سے لگا لیتا ہے۔
جی ہاں! ہمارا رب تو ہم سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ وہ خود ہمیں تسلی دیتا ہے:
"إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ" (النجم: 32)
"بے شک تمہارا رب وسیع مغفرت والا ہے۔"

اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ کسی کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتا، چاہے وہ کتنا بھی گناہ گار ہو، بشرطیکہ وہ توبہ کرے۔
"وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ" (الأعراف: 156)
"اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔"

یہ آیت گویا وہی آغوش ہے، جہاں ہم پلٹ سکتے ہیں، جہاں ہمارے آنسو خوشبو بن جاتے ہیں، جہاں ہمارے "سوری" کا بدلہ رب کی بے پایاں رحمت ہوتی ہے۔
یہ ماں کی ممتا نہیں تھی جس نے بچی کو سینے سے لگا لیا، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک سبق تھا کہ میرا رب تو اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی بھٹکنے کے بعد اس کے در پر آ کر کہہ دیں:"یا اللہ! میں تھک گئی۔۔۔ سوری! مگر مجھے معلوم ہے، تیری رحمت مجھے ہمیشہ اپنی پناہ میں لے لے گی!"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میری مرضی؟ یا مجبوری؟
عید آ رہی ہے۔ خوشبوؤں، رنگوں، ملاقاتوں اور تیاریوں کا موسم!
لیکن ایک خاتون کے دل میں عید کی آمد کا مطلب ہوتا ہے: کپڑے، جوتے، مہندی، عیدی، قربانی، دعوت، مہمان داری، اور سب سے بڑھ کر۔۔۔ بھرم!
اس بار میرے میاں کو چھٹی نہیں ملی۔ مہینے کی تیسری تاریخ کو رقم بینک اکاؤنٹ میں آ گئی، اور ساتھ بس اتنا کہا: "چاہو تو قربانی کر لو، یا قربانی میں حصہ ڈال لو، یا خریداری کر لو۔۔۔ تمہاری مرضی!"
اب میری مرضی؟ مرضی تو یہ ہے کہ قربانی بھی ہو، بچوں کی خوشی بھی ہو، رشتہ داروں میں عزت بھی بنی رہے، دعوت میں کچھ خاص بھی ہو، اور خود بھی کچھ نیا پہن کر خوشی کا حصہ بنوں۔ مہندی، عیدی، ملنے ملانے کا بھرم بھی تو لازم ہے۔
لیکن بجٹ۔۔۔ وہ کچھ اور کہتا ہے۔
سوچا، شوشل میڈیا سے دو تین خوبصورت سوٹ کی تصویریں لے کر شئیر کر دوں۔ سب دوستوں سے تعریف ہی سننے کو مل جائے: "واہ، شاپنگ مکمل! ماشاءاللہ! بڑی تیاری ہے!"
لیکن ایک حدیث یاد آ گئی:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے'' (ترمذی،باب ماجاء فی الصدق والکذب، حدیث:1979)
کیا ایک پل کی تسکین کے لیے اپنے رب کو ناراض کروں؟ اللہ کی مخلوق کو اتنی اذیت دوں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ارادہ ترک کر دیا۔
اب بات آتی ہے دعوت کی۔ ایک بہت عزیز دوست کو مدعو کیا ہے۔ دل چاہتا ہے پرتکلف ضیافت ہو، مگر بجٹ اجازت نہیں دیتا۔ اب سادہ کھانا ہو گا، لیکن نیت خالص ہو گی، محبت شامل ہو گی اور یہی چیزیں اصل دعوت ہوتی ہیں۔
پھر آتی ہے عیدی کی باری۔ رشتہ داروں کے بچے، اپنے بچے، سب کی امیدیں، اور میں۔۔۔ بس گنتی کرتی رہتی ہوں کہ کہاں سے کٹوتی ہو اور کہاں تھوڑی سی خوشی ڈالی جائے۔
اور اس بھرم کے چکر میں اکثر اپنی گنجائش سے بڑھ کر خرچ کر بیٹھتی ہوں۔ بس اس ڈر سے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
اور پھر پیچھے رہ جاتی ہے تھکن، دل کا بوجھ، اور بےچینی۔
لیکن جب نیت اللہ کے لیے ہو، تو وہ سادہ سا لباس بھی عبادت بن سکتا ہے، وہ مہندی کی معمولی خوشبو بھی خوشنودیِ الٰہی کی خوشبو بن سکتی ہے، اور وہ سادہ سی عید۔۔۔ ایک مقدس عید بن سکتی ہے۔
تو میری مرضی؟ شاید میری مرضی بس یہی ہے کہ میری عید۔۔۔ میرے رب کی رضا میں ہو۔
 
Top