آج میرا بیٹا میرے پاس بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا۔ کلاس کا ہی کام، جو گھر پر دہرانا تھا۔ وہ بڑی توجہ سے کاپی میں سوال حل کر رہا تھا۔
ایک سوال ضرب کا تھا۔ میں نے نظر دوڑائی تو ایک ہندسہ غلط لکھا تھا۔
میں نے پیار سے کہا: "بیٹا، یہ غلط ہے۔ ایسے نہیں ہوتا۔"
وہ فوراً بولا: "نہیں مما، ایسا ہی ہے۔ ٹیچر نے بورڈ پر یہی لکھا تھا۔"
میں نے سمجھایا، دلیل دی، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ آخر میں میں نے کہا: "چلو کیلکیولیٹر سے چیک کر لیتے ہیں۔"
اسی لمحے مجھے احساس ہوا۔۔۔ میرا بیٹا اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے سچ کو نہیں مان رہا، کیونکہ اُس نے اپنی ٹیچر کی بات حقیقت سے بڑی سمجھ لی ہے۔
اور پھر اچانک میں رک گئی۔ کیونکہ میں بھی تو کبھی ایسی ہی تھی۔ پہلے کتابوں کو حرفِ آخر مانا۔ پھر آیا انٹرنیٹ، جہاں گوگل سچائی کی مہر بن گیا۔ اور اب یہ اے آئی کا زمانہ ہے۔
مسئلہ وہی ہے، بس نام بدل گئے۔ مگر یقین اندھا ہی رہا۔
ہم سب کسی نہ کسی "بورڈ" سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں جو وہاں لکھا ہے، وہی حقیقت ہے۔ ہماری زندگی ایک ضرب کے سوال جیسی ہے۔۔۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ جو "ٹیچر" یعنی دنیا نے بتایا، وہی درست ہے۔
لیکن سچ کبھی کبھی آنکھوں سے دکھائی دینے کے باوجود ہم سے اوجھل رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی کیلکیولیٹر بھی کافی نہیں ہوتا۔
دنیا کی کتابیں، لوگ، سوشل میڈیا، گوگل۔۔۔ جو دکھاتے ہیں، ہم مان لیتے ہیں۔ جو سب کہتے ہیں، وہی سچ لگتا ہے۔ ہم کب سوچتے ہیں کہ حقیقت شاید کچھ اور ہو؟
اصل سوال یہ ہے: حقیقت کا اصل پیمانہ کیا ہے؟ کس سے پوچھیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟
اللہ فرماتے ہیں:
﴿ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡ﴾
"حق تمہارے رب کی طرف سے ہے" (آل عمران: 60)
کتنا گہرا جملہ ہے!
حق کی پہچان نہ کتابوں سے ہے، نہ سرچ رزلٹس سے، نہ ویڈیوز سے، نہ انسانوں کے فیصلوں سے۔۔۔
حق صرف اُس سے ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا، جو ظاہر بھی جانتا ہے اور باطن بھی۔
ہماری آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں۔ ہماری عقل بھی خطا کر سکتی ہے۔
لیکن قرآن؟ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ ایسا میزان ہے جو کبھی ٹیڑھا نہیں ہوگا۔ یہ ایسی روشنی ہے جو اس دنیا کے جھوٹے عکس کو کاٹ دے گی۔
اور آج مجھے احساس ہوا، میں اپنے بچوں کو وہی راستہ دے رہی ہوں جو کبھی مجھے ملا تھا۔۔۔ آنکھ بند کر کے یقین کا۔
یقین ضروری ہے، مگر یقین کے ساتھ سوال بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ نے ہر دور میں کتابیں بھیجیں، دلیلیں دیں، تاکہ انسان حق کو پہچانے، نہ کہ بس رٹے ہوئے جملے دہراتا رہے۔
یہ ہندسوں کی غلطی نہیں تھی، یہ سوچ کے دروازے پر لگا قفل تھا۔
اور میں نے طے کیا: میں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاؤں گی کہ جو کسی نے لکھا وہ حرفِ آخر ہے۔ میں انہیں یہ سکھاؤں گی: "ہر بات کو قرآن کے آئینے میں پرکھو، سوچو، پھر مانو۔"
کیونکہ یہی ایمان کا اصل معیار ہے۔ اور قرآن گواہی دیتا ہے:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ (الحج: 46)
"اندھی آنکھیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"
اس لیے آج میں نے طے کیا کہ میں اپنے بچوں کے دل کو اندھا نہیں ہونے دوں گی۔
ایک سوال ضرب کا تھا۔ میں نے نظر دوڑائی تو ایک ہندسہ غلط لکھا تھا۔
میں نے پیار سے کہا: "بیٹا، یہ غلط ہے۔ ایسے نہیں ہوتا۔"
وہ فوراً بولا: "نہیں مما، ایسا ہی ہے۔ ٹیچر نے بورڈ پر یہی لکھا تھا۔"
میں نے سمجھایا، دلیل دی، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ آخر میں میں نے کہا: "چلو کیلکیولیٹر سے چیک کر لیتے ہیں۔"
اسی لمحے مجھے احساس ہوا۔۔۔ میرا بیٹا اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے سچ کو نہیں مان رہا، کیونکہ اُس نے اپنی ٹیچر کی بات حقیقت سے بڑی سمجھ لی ہے۔
اور پھر اچانک میں رک گئی۔ کیونکہ میں بھی تو کبھی ایسی ہی تھی۔ پہلے کتابوں کو حرفِ آخر مانا۔ پھر آیا انٹرنیٹ، جہاں گوگل سچائی کی مہر بن گیا۔ اور اب یہ اے آئی کا زمانہ ہے۔
مسئلہ وہی ہے، بس نام بدل گئے۔ مگر یقین اندھا ہی رہا۔
ہم سب کسی نہ کسی "بورڈ" سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں جو وہاں لکھا ہے، وہی حقیقت ہے۔ ہماری زندگی ایک ضرب کے سوال جیسی ہے۔۔۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ جو "ٹیچر" یعنی دنیا نے بتایا، وہی درست ہے۔
لیکن سچ کبھی کبھی آنکھوں سے دکھائی دینے کے باوجود ہم سے اوجھل رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی کیلکیولیٹر بھی کافی نہیں ہوتا۔
دنیا کی کتابیں، لوگ، سوشل میڈیا، گوگل۔۔۔ جو دکھاتے ہیں، ہم مان لیتے ہیں۔ جو سب کہتے ہیں، وہی سچ لگتا ہے۔ ہم کب سوچتے ہیں کہ حقیقت شاید کچھ اور ہو؟
اصل سوال یہ ہے: حقیقت کا اصل پیمانہ کیا ہے؟ کس سے پوچھیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟
اللہ فرماتے ہیں:
﴿ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡ﴾
"حق تمہارے رب کی طرف سے ہے" (آل عمران: 60)
کتنا گہرا جملہ ہے!
حق کی پہچان نہ کتابوں سے ہے، نہ سرچ رزلٹس سے، نہ ویڈیوز سے، نہ انسانوں کے فیصلوں سے۔۔۔
حق صرف اُس سے ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا، جو ظاہر بھی جانتا ہے اور باطن بھی۔
ہماری آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں۔ ہماری عقل بھی خطا کر سکتی ہے۔
لیکن قرآن؟ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ ایسا میزان ہے جو کبھی ٹیڑھا نہیں ہوگا۔ یہ ایسی روشنی ہے جو اس دنیا کے جھوٹے عکس کو کاٹ دے گی۔
اور آج مجھے احساس ہوا، میں اپنے بچوں کو وہی راستہ دے رہی ہوں جو کبھی مجھے ملا تھا۔۔۔ آنکھ بند کر کے یقین کا۔
یقین ضروری ہے، مگر یقین کے ساتھ سوال بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ نے ہر دور میں کتابیں بھیجیں، دلیلیں دیں، تاکہ انسان حق کو پہچانے، نہ کہ بس رٹے ہوئے جملے دہراتا رہے۔
یہ ہندسوں کی غلطی نہیں تھی، یہ سوچ کے دروازے پر لگا قفل تھا۔
اور میں نے طے کیا: میں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاؤں گی کہ جو کسی نے لکھا وہ حرفِ آخر ہے۔ میں انہیں یہ سکھاؤں گی: "ہر بات کو قرآن کے آئینے میں پرکھو، سوچو، پھر مانو۔"
کیونکہ یہی ایمان کا اصل معیار ہے۔ اور قرآن گواہی دیتا ہے:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ (الحج: 46)
"اندھی آنکھیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"
اس لیے آج میں نے طے کیا کہ میں اپنے بچوں کے دل کو اندھا نہیں ہونے دوں گی۔