قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میرا بیٹا میرے پاس بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا۔ کلاس کا ہی کام، جو گھر پر دہرانا تھا۔ وہ بڑی توجہ سے کاپی میں سوال حل کر رہا تھا۔
ایک سوال ضرب کا تھا۔ میں نے نظر دوڑائی تو ایک ہندسہ غلط لکھا تھا۔
میں نے پیار سے کہا: "بیٹا، یہ غلط ہے۔ ایسے نہیں ہوتا۔"
وہ فوراً بولا: "نہیں مما، ایسا ہی ہے۔ ٹیچر نے بورڈ پر یہی لکھا تھا۔"
میں نے سمجھایا، دلیل دی، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ آخر میں میں نے کہا: "چلو کیلکیولیٹر سے چیک کر لیتے ہیں۔"
اسی لمحے مجھے احساس ہوا۔۔۔ میرا بیٹا اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے سچ کو نہیں مان رہا، کیونکہ اُس نے اپنی ٹیچر کی بات حقیقت سے بڑی سمجھ لی ہے۔
اور پھر اچانک میں رک گئی۔ کیونکہ میں بھی تو کبھی ایسی ہی تھی۔ پہلے کتابوں کو حرفِ آخر مانا۔ پھر آیا انٹرنیٹ، جہاں گوگل سچائی کی مہر بن گیا۔ اور اب یہ اے آئی کا زمانہ ہے۔
مسئلہ وہی ہے، بس نام بدل گئے۔ مگر یقین اندھا ہی رہا۔
ہم سب کسی نہ کسی "بورڈ" سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں جو وہاں لکھا ہے، وہی حقیقت ہے۔ ہماری زندگی ایک ضرب کے سوال جیسی ہے۔۔۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ جو "ٹیچر" یعنی دنیا نے بتایا، وہی درست ہے۔
لیکن سچ کبھی کبھی آنکھوں سے دکھائی دینے کے باوجود ہم سے اوجھل رہتا ہے۔ اور کبھی کبھی کیلکیولیٹر بھی کافی نہیں ہوتا۔
دنیا کی کتابیں، لوگ، سوشل میڈیا، گوگل۔۔۔ جو دکھاتے ہیں، ہم مان لیتے ہیں۔ جو سب کہتے ہیں، وہی سچ لگتا ہے۔ ہم کب سوچتے ہیں کہ حقیقت شاید کچھ اور ہو؟
اصل سوال یہ ہے: حقیقت کا اصل پیمانہ کیا ہے؟ کس سے پوچھیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟
اللہ فرماتے ہیں:
﴿ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡ﴾
"حق تمہارے رب کی طرف سے ہے" (آل عمران: 60)
کتنا گہرا جملہ ہے!
حق کی پہچان نہ کتابوں سے ہے، نہ سرچ رزلٹس سے، نہ ویڈیوز سے، نہ انسانوں کے فیصلوں سے۔۔۔
حق صرف اُس سے ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا، جو ظاہر بھی جانتا ہے اور باطن بھی۔
ہماری آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں۔ ہماری عقل بھی خطا کر سکتی ہے۔
لیکن قرآن؟ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ ایسا میزان ہے جو کبھی ٹیڑھا نہیں ہوگا۔ یہ ایسی روشنی ہے جو اس دنیا کے جھوٹے عکس کو کاٹ دے گی۔
اور آج مجھے احساس ہوا، میں اپنے بچوں کو وہی راستہ دے رہی ہوں جو کبھی مجھے ملا تھا۔۔۔ آنکھ بند کر کے یقین کا۔
یقین ضروری ہے، مگر یقین کے ساتھ سوال بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ نے ہر دور میں کتابیں بھیجیں، دلیلیں دیں، تاکہ انسان حق کو پہچانے، نہ کہ بس رٹے ہوئے جملے دہراتا رہے۔
یہ ہندسوں کی غلطی نہیں تھی، یہ سوچ کے دروازے پر لگا قفل تھا۔
اور میں نے طے کیا: میں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاؤں گی کہ جو کسی نے لکھا وہ حرفِ آخر ہے۔ میں انہیں یہ سکھاؤں گی: "ہر بات کو قرآن کے آئینے میں پرکھو، سوچو، پھر مانو۔"
کیونکہ یہی ایمان کا اصل معیار ہے۔ اور قرآن گواہی دیتا ہے:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ (الحج: 46)
"اندھی آنکھیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"
اس لیے آج میں نے طے کیا کہ میں اپنے بچوں کے دل کو اندھا نہیں ہونے دوں گی۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ارشاد باری تعالی ہے:
تَعْرُجُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (سورۃ المعارج، آیت 4)
"فرشتے اور روح (جبریل) اُس کی طرف چڑھتے ہیں ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔"
احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں کافروں کو یقیناً عذاب دیا جائے گا۔ یہ عذاب بلندیوں کے مالک کی طرف سے ہوگا اور کوئی طاقت کافروں کو اس عذاب سے بچا نہ سکے گی۔ (تفسیر تیسیر القرآن)
آج میں ایک بات سوچ رہی تھی۔ ہماری اوسط زندگی 70 سے 80 سال ہوتی ہے (اللہ تعالی بہتر جانتا ہے یہ بس ایک عام اندازہ ہے)۔
قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ اب اگر دونوں کا تناسب نکالیں تو 80 سالہ زندگی قیامت کے دن کا صرف 0.16 فیصد ہے۔ اور اگر قیامت کے دن کو صرف 24 گھنٹے مان لیں تو ہماری پوری 80 سالہ زندگی صرف: 2 منٹ 18 سیکنڈ بنتی ہے۔
یعنی ہم اپنی "2 منٹ 18 سیکنڈ کی زندگی" میں فیصلہ کر رہے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے ہماری منزل جنت ہوگی یا جہنم۔
اس ایک فرضی اندازے نے آج مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
2 منٹ 18 سیکنڈ کی زندگی کے لیے میں کیا کما رہی ہوں؟
چھوٹے چھوٹے جھگڑے؟ جن کا نہ آغاز یاد ہے، نہ انجام۔
انا اور ضد؟ جو میری روح کو کچل رہی ہیں۔
لالچ؟ جو کبھی ختم نہیں ہوتی، چاہے ساری دنیا بھی مل جائے۔
حسد؟ جو دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کرنے دیتا۔
دھوکہ؟ جس سے دوسروں کو نہیں، خود کو نقصان پہنچا رہی ہوں۔
ریاکاری؟ نیکی بھی کروں، تو دکھاوے کے لیے۔
اور کیا کھو رہی ہوں؟
سکون: جو صرف اللہ کی یاد میں ہے۔
وقت: جو ایک بار چلا جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔
محبتیں: جنہیں ہم انا کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
اصل مقصد: جس کے لیے مجھے، ہم سب کو پیدا کیا گیا:
"وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون" (سورۃ الذاریات، آیت 56)
اصل سوال یہ ہے کہ: کیا میں اس دو منٹ 18 سیکنڈ کو جنت کمانے کا وقت بنا رہی ہوں یا پچھتاوے کی آگ میں جلنے کا؟
اس آیت نے مجھے آج یاد دہانی کروائی:
اس دنیا کا ہر لمحہ امتحان ہے۔
جو وقت گزر گیا، وہ سبق ہے۔
جو وقت باقی ہے، وہ موقع ہے۔
اور قیامت کا دن۔۔۔ وہ انعام یا انصاف کا دن ہے۔
اللّٰہ ہمیں اپنی زندگی کی حقیقت کو پہچاننے، چھوٹی باتوں کو معاف کرنے، دل کو صاف کرنے، اور اس دو منٹ کی قیمت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
ارشاد باری تعالی ہے:
تَعْرُجُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (سورۃ المعارج، آیت 4)
"فرشتے اور روح (جبریل) اُس کی طرف چڑھتے ہیں ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔"
احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں کافروں کو یقیناً عذاب دیا جائے گا۔ یہ عذاب بلندیوں کے مالک کی طرف سے ہوگا اور کوئی طاقت کافروں کو اس عذاب سے بچا نہ سکے گی۔ (تفسیر تیسیر القرآن)
آج میں ایک بات سوچ رہی تھی۔ ہماری اوسط زندگی 70 سے 80 سال ہوتی ہے (اللہ تعالی بہتر جانتا ہے یہ بس ایک عام اندازہ ہے)۔
قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ اب اگر دونوں کا تناسب نکالیں تو 80 سالہ زندگی قیامت کے دن کا صرف 0.16 فیصد ہے۔ اور اگر قیامت کے دن کو صرف 24 گھنٹے مان لیں تو ہماری پوری 80 سالہ زندگی صرف: 2 منٹ 18 سیکنڈ بنتی ہے۔
یعنی ہم اپنی "2 منٹ 18 سیکنڈ کی زندگی" میں فیصلہ کر رہے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے ہماری منزل جنت ہوگی یا جہنم۔
اس ایک فرضی اندازے نے آج مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
2 منٹ 18 سیکنڈ کی زندگی کے لیے میں کیا کما رہی ہوں؟
چھوٹے چھوٹے جھگڑے؟ جن کا نہ آغاز یاد ہے، نہ انجام۔
انا اور ضد؟ جو میری روح کو کچل رہی ہیں۔
لالچ؟ جو کبھی ختم نہیں ہوتی، چاہے ساری دنیا بھی مل جائے۔
حسد؟ جو دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کرنے دیتا۔
دھوکہ؟ جس سے دوسروں کو نہیں، خود کو نقصان پہنچا رہی ہوں۔
ریاکاری؟ نیکی بھی کروں، تو دکھاوے کے لیے۔
اور کیا کھو رہی ہوں؟
سکون: جو صرف اللہ کی یاد میں ہے۔
وقت: جو ایک بار چلا جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔
محبتیں: جنہیں ہم انا کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
اصل مقصد: جس کے لیے مجھے، ہم سب کو پیدا کیا گیا:
"وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون" (سورۃ الذاریات، آیت 56)
اصل سوال یہ ہے کہ: کیا میں اس دو منٹ 18 سیکنڈ کو جنت کمانے کا وقت بنا رہی ہوں یا پچھتاوے کی آگ میں جلنے کا؟
اس آیت نے مجھے آج یاد دہانی کروائی:
اس دنیا کا ہر لمحہ امتحان ہے۔
جو وقت گزر گیا، وہ سبق ہے۔
جو وقت باقی ہے، وہ موقع ہے۔
اور قیامت کا دن۔۔۔ وہ انعام یا انصاف کا دن ہے۔
اللّٰہ ہمیں اپنی زندگی کی حقیقت کو پہچاننے، چھوٹی باتوں کو معاف کرنے، دل کو صاف کرنے، اور اس دو منٹ کی قیمت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بہت ہی خوبصورت اور جھنجھوڑ دینے والی یاد دہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں برکت عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنی اس قلیل زندگی کی حقیقت پہچاننے اور آخرت کے لیے سنجیدہ تیاری کرنے کی توفیق دے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بہت ہی خوبصورت اور جھنجھوڑ دینے والی یاد دہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں برکت عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنی اس قلیل زندگی کی حقیقت پہچاننے اور آخرت کے لیے سنجیدہ تیاری کرنے کی توفیق دے۔
آمین ۔ جزاکم اللہ خیرا
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
سورۃ یٰس میں بہت سے حیرت انگیز واقعات بیان ہوئے ہیں، مگر ایک قصہ ایسا ہے جو ہر بار میرے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی طرف تین رسول بھیجے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن نے ان رسولوں کی تفصیل کے بجائے ایک عام شخص کو نمایاں کیا جو بظاہر کسی خاص منصب پر فائز نہ تھا، مگر اس کا کردار غیر معمولی تھا۔
وہ شخص "اقصا المدینۃ" یعنی شہر کے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، قوم کے سامنے کھڑا ہوا، اور پکار کر کہا:
"اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِین"
(رسولوں کی پیروی کرو)
اور پھر۔۔۔ وہ ایمان کی راہ میں قربان کر دیا گیا۔
لیکن قربانی کے اسی لمحے اسے کہا گیا:
"قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ"
(داخل ہو جاؤ جنت میں)
یہاں میں اکثر سوچتی ہوں: رسول تو خود موجود تھے، وہی پیغام دے رہے تھے، تو پھر ایک عام شخص کو قرآن میں اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟
شاید اس لیے کہ ایمان کی ذمہ داری کسی اور کے کندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
رسول اپنی ذمہ داری ادا کریں گے، علما رہنمائی کریں گے، لیکن ایمان کی انفرادی ذمہ داری کا بوجھ ہر فرد کو خود اٹھانا ہوگا۔
ہم اکثر سوچتے ہیں: "جب بڑے لوگ موجود ہیں، علما سب کچھ سمجھا رہے ہیں، ہم کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے؟"
مگر یہ قصہ اس سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رسولوں کی موجودگی بھی فرد کی دینی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔ ایمان صرف دل کا معاملہ نہیں، یہ زبان سے حق کی گواہی، قدموں سے عمل، اور ضرورت پڑنے پر قربانی مانگتا ہے۔
یہ واقعہ مجھ سے بار بار کہتا ہے: خاموش رہ کر ایمان کی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ ایمان آواز مانگتا ہے۔ ایمان قربانی چاہتا ہے۔ اور ایمان اپنے حصے کا چراغ ہر ایک کے ہاتھ سے جلوانا چاہتا ہے۔
آخر میں ایک بات طے ہے: ہر شخص پر دین کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس سے راہِ فرار ممکن نہیں۔ نہ علم کی کمی عذر بن سکتی ہے، نہ مقام کی پستی۔
کیونکہ اللہ نے ہم سے پوچھنا ہے، "تم نے کیا کیا؟"
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
سورۃ یٰس میں بہت سے حیرت انگیز واقعات بیان ہوئے ہیں، مگر ایک قصہ ایسا ہے جو ہر بار میرے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی طرف تین رسول بھیجے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن نے ان رسولوں کی تفصیل کے بجائے ایک عام شخص کو نمایاں کیا جو بظاہر کسی خاص منصب پر فائز نہ تھا، مگر اس کا کردار غیر معمولی تھا۔
وہ شخص "اقصا المدینۃ" یعنی شہر کے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، قوم کے سامنے کھڑا ہوا، اور پکار کر کہا:
"اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِین"
(رسولوں کی پیروی کرو)
اور پھر۔۔۔ وہ ایمان کی راہ میں قربان کر دیا گیا۔
لیکن قربانی کے اسی لمحے اسے کہا گیا:
"قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ"
(داخل ہو جاؤ جنت میں)
یہاں میں اکثر سوچتی ہوں: رسول تو خود موجود تھے، وہی پیغام دے رہے تھے، تو پھر ایک عام شخص کو قرآن میں اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟
شاید اس لیے کہ ایمان کی ذمہ داری کسی اور کے کندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
رسول اپنی ذمہ داری ادا کریں گے، علما رہنمائی کریں گے، لیکن ایمان کی انفرادی ذمہ داری کا بوجھ ہر فرد کو خود اٹھانا ہوگا۔
ہم اکثر سوچتے ہیں: "جب بڑے لوگ موجود ہیں، علما سب کچھ سمجھا رہے ہیں، ہم کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے؟"
مگر یہ قصہ اس سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رسولوں کی موجودگی بھی فرد کی دینی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔ ایمان صرف دل کا معاملہ نہیں، یہ زبان سے حق کی گواہی، قدموں سے عمل، اور ضرورت پڑنے پر قربانی مانگتا ہے۔
یہ واقعہ مجھ سے بار بار کہتا ہے: خاموش رہ کر ایمان کی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ ایمان آواز مانگتا ہے۔ ایمان قربانی چاہتا ہے۔ اور ایمان اپنے حصے کا چراغ ہر ایک کے ہاتھ سے جلوانا چاہتا ہے۔
آخر میں ایک بات طے ہے: ہر شخص پر دین کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس سے راہِ فرار ممکن نہیں۔ نہ علم کی کمی عذر بن سکتی ہے، نہ مقام کی پستی۔
کیونکہ اللہ نے ہم سے پوچھنا ہے، "تم نے کیا کیا؟"
ما شاء اللہ! کیا ہی خوبصورت نکتہ اخذ كیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حکمت میں اور قرآن کے فہم میں مزید اضافہ فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میں فریج کی صفائی کر رہی تھی کہ اچانک چند میڈیسنز کے خالی پتے نظر آئے۔ ان کی پیکنگ پر ایک جملہ درج تھا:
"ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں"
دل میں سوال آیا: آخر ہدایت کے مطابق استعمال کرنے کی شرط کیوں لگائی جاتی ہے؟
جواب بالکل واضح ہے: ڈاکٹر ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سی دوا مریض کو، کس مقدار میں اور کس وقت دینی ہے۔
سوچیے۔۔۔ اگر سر میں شدید درد ہو اور ہم یہ سوچ کر پوری پین کلر کھا لیں کہ “چلو جلدی آرام آ جائے” تو کیا ہوگا؟
آرام کے بجائے وہی دوا موت کا پیغام بھی لا سکتی ہے۔
جب چند گولیوں کے لیے بھی"ہدایت" ضروری ہے، تو سوچئے۔۔۔زندگی کی بے شمار نعمتیں ہدایت کے بغیر کیسی تباہی لا سکتی ہیں؟ ہم کیسے اللہ کی ہدایت کے بغیر ان کا درست استعمال کر سکتے ہیں؟
یقیناً نہیں کر سکتے!
دولت اگر ہدایت کے بغیر خرچ ہو تو فتنہ اور فساد بن جاتی ہے، علم اگر ہدایت کے بغیر استعمال ہو تو تکبر اور گمراہی میں بدل جاتا ہے، زبان اگر ہدایت کے بغیر چلے تو رشتے اجڑ جاتے ہیں، اور طاقت اگر ہدایت کے بغیر استعمال ہو تو ظلم اور تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ (طٰہٰ: 123)
یعنی: جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبختی میں پڑے گا۔
کیونکہ جب انسان ہدایت سے ہٹتا ہے تو وہ علم کو فخر کا ذریعہ، دولت کو غرور کا وسیلہ، زبان کو زہر، اور طاقت کو ظلم بنا لیتا ہے اور یہی گمراہی ہے۔
پھر نتیجہ؟
ایسی زندگی جس میں سکون نہیں، رشتے نہیں، مقصد نہیں۔۔۔ یہی بدبختی ہے۔
لیکن جو اللہ کی ہدایت کو تھام لیتا ہے، وہی دولت کو خیرات بناتا ہے، علم کو عاجزی میں ڈھالتا ہے، زبان سے محبت بانٹتا ہے، اور طاقت کو کمزوروں کی حفاظت میں لگاتا ہے۔
ہدایت صرف "راستہ دکھانے" کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمیں نعمتوں کا صحیح مصرف بھی سکھاتی ہے، تاکہ ہم نہ گمراہ ہوں، نہ بدبخت۔
بالکل ویسے ہی جیسے دوا صرف تب شفا دیتی ہے جب ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لی جائے، زندگی کی نعمتیں بھی تبھی سکون دیتی ہیں جب اللہ کی ہدایت کے مطابق استعمال ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ہدایت کو تھام لینے کی توفیق دے تاکہ ہم نہ گمراہ ہوں نہ بدبختی میں پڑیں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى قَالَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ
"اور شہر کے دور دراز حصے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔" (سورۃ یٰسٓ، آیت 20)

وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ
یہاں سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں آتا ہے کہ "وہ رسول تو "قریۃ" میں بھیجے گئے تھے اور اب یہاں "المدینۃ" کا لفظ کیوں؟
جب دعوت کی ابتدا ہوئی تو وہ ایک چھوٹے سے قریہ میں تھی۔ لوگ کم تھے، ماحول محدود۔ لیکن جیسے جیسے پیغام پھیلتا گیا، مخالفت بھی بڑھی، اور یہ دعوت قریہ سے "مدینہ" تک پھیل گئی۔
أَقْصَا الْمَدِينَةِ اس میں بھی ایک لطیف اشارہ ہے کہ مرکزِ اقتدار (شہر کا دل) اکثر ضد اور تکبر میں ہوتا ہے، جبکہ کنارے کے لوگ سادہ، فطری، اور حق کے قریب ہوتے ہیں۔
پھر سوال آتا ہے: کہ دعوت حق اس شخص تک پہنچی کیسے؟
اس دور میں نہ کوئی فیس بک تھی، نہ انسٹاگرام، نہ کوئی نیوز چینل۔ نہ ری پوسٹ کرنے والا، نہ وائرل ہونے کا کوئی تصور۔ لیکن پھر بھی پیغام پہنچ گیا۔ اور وہ شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آ گیا۔
کون لایا اسے؟اللہ! یہ اللہ ہی تھا جس نے اس کے دل میں روشنی ڈالی۔ وہی دلوں کو جوڑنے والا ہے، جو بغیر کسی ذریعے کے بھی پیغام پہنچا دیتا ہے۔
اس میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے: ہم اکثر اپنے پیغام، اپنی تحریر یا دعوت کو ویوز اور لائکس سے تولتے ہیں۔ کتنے لوگوں نے دیکھا؟ کتنے شیئر ہوئے؟ لیکن قرآن ہمیں سکھاتا ہے: اخلاص کے ساتھ پیغام دو، باقی اللہ کے سپرد کرو۔ تمہارے الفاظ نہیں، تمہارا اخلاص وائرل ہوتا ہے۔ یہ شخص کوئی مشہور ہستی نہیں تھا، اس کا نہ "پلیٹ فارم" تھا، نہ "پبلک فالوونگ" لیکن اللہ نے اس کے دل کو ہدایت سے بھرا، اور وہ خود ایک پلیٹ فارم بن گیا۔
پھر فرمایا: "رَجُلٌ" ایک شخص۔ اس آیت میں یہ لفظ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
کون ہے یہ شخص؟ قرآن نے نام نہیں بتایا صرف اتنا فرمایا: "رَجُلٌ" ایک مرد۔ یعنی کوئی عام سا شخص، جس کی کوئی شہرت نہیں، کوئی لقب نہیں، کوئی پہچان نہیں۔ لیکن اس کا ایمان اتنا سچا، اتنا زنده تھا کہ اللہ نے اسے ہمیشہ کے لیے قرآن میں زندہ کر دیا۔ لوگ نام چاہتے ہیں، اللہ اخلاص دیکھتا ہے۔
اس کی ڈگری؟ قرآن نے بتایا: رَجُلٌ یعنی بس "آدمی"۔ نہ عالم کہا، نہ حاکم، نہ خطیب۔اس کی واحد پہچان: ایمان۔ اس کی "ڈگری" ایمان تھی، اور یہی سب سے بڑی تعلیم ہے۔یہی تو اصل ہیرو ہے۔ دنیا کے ہیرو شہرت کے لیے دوڑتے ہیں، یہ شخص حق کے لیے دوڑا۔ دنیا والے نام چھوڑ جاتے ہیں، یہ شخص نشان چھوڑ گیا۔
پھر فرمایا: يَسْعَى
اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے آنے کے عمل کو "یَسْعَى" کہا۔
تو کیوں وہ دوڑا؟ کیا چیز تھی جو اسے چلنے نہیں، دوڑنے پر مجبور کر گئی؟
دوڑنا کبھی معمولی بات کے لیے نہیں ہوتا۔انسان دوڑتا ہے جب: کوئی خطرہ سامنے ہو، کوئی جان بچانی ہو، یا کسی کو بچانے کی فکر ہو۔یہ شخص دوڑ رہا تھا کیونکہ اسے اپنی قوم کے نقصان کا یقین تھا وہ جانتا تھا کہ اگر یہ لوگ رسولوں کی بات نہ مانے تو ہلاک ہو جائیں گے۔اسے اپنی قوم کے ایمان کی فکر تھی۔ یہ دوڑ خوف کی نہیں، خیر خواہی کی تھی۔ یہ دوڑ کسی دنیاوی فائدے کے لیے نہیں تھی، بلکہ محبت، درد اور ایمان کی تڑپ سے تھی۔ وہ شخص اپنی قوم کے خلاف نہیں، ان کے لیے دوڑا تھا۔
اس سے ہمیں بھی سبق ملتا ہے: ایمان والا بے حس نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کے نقصان پر خاموش نہیں رہتا۔ جب قوم غفلت میں ہوتی ہے، وہ دوڑتا ہے چاہے تنہا ہو، چاہے وسائل نہ ہوں۔ایمان کی علامت "احساسِ خطرہ" ہے۔ جب دوسروں کی ہلاکت کا دکھ دل میں جاگ جائے، تب انسان يَسْعٰى یعنی دوڑنے لگتا ہے۔
جب وہ شخص دوڑتا ہوا آتا ہے اور لب کھولتا ہے تو پہلا جملہ کہتا ہے:
يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ
"اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔"
پورا پیغام صرف تین الفاظ پر مشتمل ہے: يَا قَوْمِ، اتَّبِعُوا، الْمُرْسَلِينَ۔
نہ کوئی فلسفہ، نہ دلیلوں کے انبار۔ سیدھا، صاف، پُر اثر پیغام۔یہ شخص کوئی نئی تعلیم نہیں لایا، نہ کوئی نیا استدلال، بس ایک بات کہی: "رسولوں کی بات مانو"۔
بظاہر یوں لگتا ہے کہ جب تین رسولوں کی بات کا اثر نہیں ہوا، تو ایک عام، گمنام شخص کے کہنے سے کیا بدل جانا تھا؟ لیکن اس میں بہت خوبصورت اسباق پوشیدہ ہیں۔
رسول اور ایک عام مؤمن کی مثال سورج اور چاند کی سی ہے۔
سورج ہمیشہ اپنی روشنی سے جگمگاتا رہتا ہے۔ نہ اسے کسی سے روشنی لینی ہوتی ہے، نہ وہ کسی لمحے میں بجھتا ہے۔ ایسے ہی رسول اللہ کی براہِ راست روشنی (وحی) سے منور ہوتے ہیں۔ ان کی ہدایت کسی اور کے توسط سے نہیں، بلکہ براہِ راست اللہ سے ہوتی ہے۔ وہ ہدایت کے منبع ہیں۔
اور چاند خود سے نہیں چمکتا۔ وہ سورج سے روشنی لے کر چمکتا ہے۔ کبھی پورا ہوتا ہے، کبھی آدھا، کبھی ہلال۔ ایسے ہی ایک سچا مؤمن رسولوں سے روشنی لیتا ہے" ان کے علم، ان کے اسوہ، ان کے پیغام سے۔ اس کے ایمان میں کبھی اضافہ، کبھی کمی آتی ہے۔
ایمان کا حسن بھی "اپنی روشنی" میں نہیں، بلکہ "رسول کی روشنی کو جذب کرنے" میں ہے۔
ہر ایک کا اپنا کام ہے۔ سورج کا کام نور بانٹنا ہے، چاند کا کام اس نور کو آگے منعکس کرنا ہے۔
ایسے ہی رسول ہدایت کا پیغام لاتے ہیں، اور عام مؤمن اسے دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
اگر سورج نہ ہو تو چاند اندھیرا ہو جاتا ہے، اور اگر چاند نہ ہو تو رات کی تاریکی میں سورج کی روشنی بھی چھپ جاتی ہے۔اسی طرح اگر رسول نہ ہوں تو ہدایت ختم، اور اگر امت نہ ہو تو ہدایت دنیا تک نہیں پہنچتی۔
اس شخص نے "روشنی بننا" نہیں چاہی، "انعکاس" بننا چاہا۔ وہ مؤمن شخص جانتا تھا: میری اپنی کوئی نئی بات نہیں۔ میں صرف وہی دہرا رہا ہوں جو رسول کہہ چکے ہیں۔وہ "سورج بننے" نہیں آیا تھا، وہ "چاند بننے" آیا تھا اور اللہ نے اسے قرآن کا ستارہ بنا دیا۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۗ (سورۃ الحج: 38)
آج یہ آیت پڑھتے ہوئے مجھے ایک صحابیِ رسول ﷺ، حضرت عاصم بن ثابتؓ کا واقعہ یاد آ گیا۔
حضرت عاصم بن ثابتؓ بن أبي الأقلح، انصار کے قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کا شمار جنگِ بدر اور اُحد دونوں کے مجاہدین میں ہوتا ہے۔ جنگِ بدر میں انہوں نے قریش کے کئی نامور سرداروں کو ہلاک کیا، جس کے سبب قریش نے ان کے سر کے بدلے انعام مقرر کر رکھا تھا۔
سنہ 4 ہجری کے قریب کچھ قبائل (بنو عضل اور قارہ) نبی ﷺ کے پاس مدینہ آئے اور عرض کی:"ہمارے ہاں کچھ لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ چند معلمینِ دین بھیج دیں تاکہ وہ ہمیں قرآن سکھائیں۔"
نبی ﷺ نے چھ یا سات صحابہ روانہ فرمائے، جن میں حضرت عاصم بن ثابتؓ بھی شامل تھے۔لیکن یہ دعوت دراصل دھوکہ تھی۔جب قافلہ مقام رجیع (حجاز کا ایک علاقہ) کے قریب پہنچا تو بنو لحیان اور ہذیل کے تقریباً دو سو تیراندازوں نے گھات لگا کر حملہ کر دیا۔انہوں نے تیر برسانا شروع کیے، یہاں تک کہ حضرت عاصمؓ سمیت سات مجاہدین شہید ہو گئے۔
بعد ازاں، اہلِ قریش نے آدمی بھیجے کہ حضرت عاصمؓ کی لاش کا کوئی حصہ لا کر پہچان کروائیں تاکہ انعام وصول کیا جا سکے۔
بنو لحیان کے لوگوں نے کہا:"ہم ان کا سر کاٹ کر مکہ بھیجیں گے، کیونکہ قریش نے ان کے سر پر انعام رکھا ہے۔"
لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج بھیجی، جو بادل کی طرح اُن کی لاش کے اوپر چھا گئی۔ ان مکھیوں نے مشرکین کو قریب نہ آنے دیا، یہاں تک کہ وہ کچھ نہ کر سکے۔ (صحیح بخاری: 3989، 3045، 4086)
ابن ِسعدؒ لکھتے ہیں:
وہ لوگ بولے:"انتظار کرو، رات کو مکھیوں کے جانے کے بعد ان کا سر کاٹ لیں گے۔"
لیکن جب رات ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے ایک نامعلوم سیلاب بھیج دیا، جس کا پانی اُن کا جسم بہا لے گیا اور مشرکین اُن کے پاس نہ پہنچ سکے۔ (طبقاتِ ابن سعد، اردو4/314)
دشمنانِ اسلام مال کے لیے ایک مؤمن کے جسم کی توہین کرنا چاہتے تھے، اور وہ مؤمن اللہ کے لیے جان قربان کر رہا تھا۔
نتیجہ؟ مال والے خالی ہاتھ رہ گئے، اور ایمان والا اللہ کے وعدے کا مصداق بن گیا۔
کسے گمان تھا کہ ایک شہید کے جسم کی حفاظت کے لیے اللہ شہد کی مکھیوں کو پہرہ دار بنا دے گا؟ اور ایک سیلاب ان کا مدفن بھی گمنام کر دے گا؟
إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۗ (سورۃ الحج: 38)
آج اس آیت اور اس واقعہ سے میں نے سیکھا کہ اللہ کی مدد ہمیشہ عقل کے دائرے میں نہیں آتی، وہ چاہے تو فطرت کے معمولات کو بھی اپنی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔
کبھی مکھیوں کے ذریعے، کبھی بارش کے ذریعے۔۔۔ اللہ اپنی قدرت کے ناممکن راستے کھول دیتا ہے۔
دنیا سمجھتی ہے کہ مؤمن اکیلا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مؤمن کے ساتھ وہ ذات ہوتی ہے، جو چاہے تو کائنات کے ذرے ذرے کو اس کے دفاع میں لگا دے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج آیت
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (سورۃ العنکبوت آیت: 57)
پر تدبر کرتے ہوئے مجھے لفظ "ذائقہ" کی الگ ہی حقیقت سمجھ آئی۔
کل میرے گھر میرا بھانجا آیا ہوا تھا۔ اتوار تھا، میرے بیٹے اور بھانجے نے جی بھر کر کھیل کود کی۔ میں نے دونوں کے لیے ان کی پسند کی کھیر بنائی۔
میرے بھانجے نے جی بھر کر تعریف کی، جبکہ میرے بیٹے نے کہا، "مما، یہ ٹھیک ہی ہے۔"
مجھے یہ بات عجیب لگی کہ کھیر کا ذائقہ تو ایک ہی جیسا ہے لیکن دونوں کو الگ الگ محسوس کیوں ہوا؟
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
"ہر جان موت کا ذائقہ چکھے گی۔"
اس میں موت تو ایک ہی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں "ذائقہ" کہا۔ اور ذائقہ ہمیشہ ذوق، احساس اور کیفیت سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے موت کو ذائقہ کہا گیا، کیونکہ ہر انسان کے لیے اس کا تجربہ بالکل مختلف ہے۔۔۔ جیسے ہر دل کا حال، ہر احساس، اور ہر زندگی کا ذائقہ الگ ہوتا ہے۔
ایک ہی لمحہ، ایک ہی حقیقت۔۔۔ مگر ہر روح کے لیے اس کی چاشنی یا کڑواہٹ جدا۔
کھیر کا ذائقہ بھی دل کی کیفیت سے بدل گیا تو موت کا ذائقہ کیوں نہ بدلتا ہو گا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ، إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ۔۔۔ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ، فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ۔۔۔
"جب مومن بندہ دنیا سے جدا ہونے لگتا ہے، تو آسمان سے فرشتے اترتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوتے ہیں۔ وہ اس کے قریب بیٹھ جاتے ہیں، اور ملک الموت کہتے ہیں: 'اے پاکیزہ روح! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل آؤ۔' تو روح آسانی سے نکل آتی ہے، جیسے پانی کے برتن سے قطرہ بہہ نکلتا ہے۔"
وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ (أَوِ الْفَاجِرَ)۔۔۔ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ، فَتَتَفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ۔۔۔
"اور جب کافر یا گناہگار بندہ مرنے لگتا ہے، تو سخت چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں آگ کا کھردرا کپڑا ہوتا ہے، اور ملک الموت کہتے ہیں: 'اے خبیث روح! اللہ کے غضب اور ناراضی کی طرف نکل آؤ۔' تو روح بدن میں منتشر ہو جاتی ہے، اور وہ اسے کھینچتا ہے جیسے خاردار لوہے کی سیخ گیلی اون میں پھنسی ہو اور اسے زور سے کھینچا جائے۔" (مشكوة المصابيح/ كتاب الجنائز/ حدیث: 1630)
کتنا بڑا فرق ہے ایک ہی موت کے دو ذائقوں میں!
ایک روح کے لیے وہ لمحہ سکون کا اختتام ہے، اور دوسری کے لیے ابتداءِ عذاب۔
آج میں نے جانا کہ موت کا ذائقہ دراصل انسان کی زندگی کے ذائقوں کا عکس ہے۔ اصل ذائقہ کبھی چیز کا نہیں ہوتا، یہ تو دل اور روح کے حال سے جنم لیتا ہے۔
جیسے کھیر کا ذائقہ میرے بھانجے کے لیے خوشی کا، اور میرے بیٹے کے لیے معمول کا تھا، ویسے ہی موت کا ذائقہ بھی ہر روح کے لیے اس کی زندگی کے ذائقوں کا تسلسل ہے۔
جس نے دنیا میں اللہ کے ذکر کا ذائقہ چکھ لیا، اس کے لیے موت بھی مٹھاس بن جائے گی۔ اور جو غفلت میں رہا، اس کے لیے یہی موت کڑوا گھونٹ ثابت ہوگی۔
اللہ ہمیں دنیا میں اپنے ذکر کا ذائقہ عطا فرما دے، تاکہ موت ہمارے لیے ملاقاتِ محبوب کی مٹھاس بن جائے۔ اور ہمیں اُن بندوں میں شامل کر دے جن کے لیے "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" صرف حقیقت نہیں، بلکہ خوشخبری بن جائے۔
آمین یا ربّ العالمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج صبح میں اپنی چھوٹی بیٹی کے کپڑے بدل رہی تھی۔ بیڈ کے بالکل دہانے پر تھی تو میرے ہاتھ سے سلپ ہوتے ہوتے بچ گئی۔
پاس ہی میری دوسری بیٹی نے فوراً کہا: mamma your were gonna kill her!
لیکن ساتھ ہی بولی: Thank you, you save her!
میں نے کہا: You’re welcome.
اس نے فوراً جواب دیا: mamma, I wasn’t saying to you… I was saying this to Allah Ji.
(میں آپ کا نہیں اللہ کا شکریہ ادا کر رہی تھی)
اس کے جواب سے ایک لمحے کے لیے میں مسکرا دی، لیکن پھر اپنی روزمرہ گفتگو پر غور کرنے لگی۔
میں روزمرہ میں عموماً اس کے برعکس کرتی ہوں۔ اگر کوئی بھی پریشانی یا مشکل ہو تو اسے فوراً اللہ سے منسوب کرتی ہوں، اور اگر کوئی آسانی ہو تو "الحمدللہ" کے ساتھ ایک بڑا کریڈٹ خود کو بھی دیتی ہوں کہ محنت، ذہانت اور لگن بھی تو شامل ہے۔
سورۃ النساء، آیت 79 میں ارشاد ہے:
مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ
"جو بھلائی تمہیں پہنچتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو برائی تمہیں پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔"
یہ آیت مجھے اصل نسبت سمجھاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہم نے کچھ کر دکھایا، مگر اصل توفیق بھی اسی کے اذن سے سانس لیتی ہے۔ کبھی کبھی وہ کسی معصوم لب سے ہمیں یہی سبق دلا دیتا ہے کہ "شکر بھی اسی کا ہے، بچاؤ بھی اسی کا، کرم بھی اسی کا۔"
میری بیٹی کے اس طرزِ عمل نے ایک لمحے کے لیے دماغ پر لگے جالے جھٹک دیئے۔
یقیناً یہی ایمان کی پہلی لکیر ہے کہ دل اللہ کو براہِ راست پہچاننے لگے، بغیر دلیل، بغیر واسطے کے۔میں نے آج محسوس کیا کہ میری چھوٹی سی بیٹی نے مجھ سے کہیں زیادہ درست نسبت سمجھی ہے۔ ہم بڑے جب علم کے بوجھ تلے سجدے بھول جاتے ہیں، تو شاید وہ چھوٹے دل ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل شکر، اصل نجات، اور اصل نسبت۔۔۔ صرف ایک ہی دروازے سے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہی معصوم فطرت لوٹا دے جو ہر بھلائی میں اُسی کو دیکھے، ہر آسانی میں اُسی کا شکر ادا کرے، اور کسی خیر کو اپنی طاقت نہ سمجھے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ
"پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز میں سے جوڑے بنائے، زمین کی اگائی ہوئی چیزوں سے، خود ان کے وجود سے، اور ان چیزوں سے جنہیں یہ جانتے بھی نہیں۔"
آج اس آیت پر غور کرتے ہوئے میرے ذہن میں سوال آیا کہ یہاں "سبحان الذی" سے شروعات کی کیا حکمت ہے؟
قرآن میں جب بھی کوئی بات اللہ کی وحدانیت، قدرت یا نظامِ تخلیق کے بارے میں حیران کن یا غیر معمولی انداز میں بیان ہوتی ہے، وہاں اکثر "سبحان" آتا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ: یہ سب کچھ ممکن ہے، مگر صرف اس ذات سے جو ہر کمی سے پاک اور کامل ہے۔
لفظ "زوج" عربی میں صرف "نر و مادہ" کے لیے نہیں آتا۔ یہ ہر اس تعلق، امتزاج یا تضاد کے لیے آتا ہے جو کسی شے کو مکمل بناتا ہے۔ قرآن میں "زوج" کے معانی سیاق کے لحاظ سے مختلف ہیں:
بیوی / شریکِ حیات کے لیے:
يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (سورۃ بقرۃ آیت 35)
جنس / قسم / نوع کے لیے:
احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ(سورۃ لصَّافَّات آیت 22)
ظالموں کو ان کے جیسے (ہم نوع) لوگوں کے ساتھ جمع کرو
طبقات / گروہ کے لیے:
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (الواقعہ: 7)
یعنی "تم تین گروہوں (ازواج) میں تقسیم کیے جاؤ گے"
یہاں "ازواج" کا مطلب جماعتیں یا طبقات ہیں، جو اپنی نوع اور باہمی خصوصیات کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ میل کھاتے ہیں۔
یوں "زوج" کا مفہوم قسم، ہم نوع، تضاد، توازن، تکمیل ان سب کو محیط ہے۔
یہ اصول صرف انسان تک محدود نہیں۔ اگر ہم کائنات پر نظر ڈالیں تو "ازواج" کا نظام ہر طرف کارفرما ہے۔
پودے: کئی پودے اپنے پڑوسی پودوں کے بغیر نہیں اگ سکتے۔ ان کے گرد مخصوص اقسام کے پودے یا کیڑے ہوں تو ہی وہ زندہ رہتے ہیں۔
پرندے: کئی پرندے صرف مخصوص درختوں پر رہتے ہیں۔ درخت اور پرندہ دونوں ایک دوسرے کی بقا کے لیے لازم ہیں۔
کہکشائیں: ہر گلیکسی اپنے محور اور اردگرد کے نظام سے متوازن ہے۔ کوئی بھی تنہا نہیں۔
انسانی جسم: ہمارے اعضا ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ دل اکیلا کچھ نہیں کر سکتا اگر پھیپھڑے، دماغ، یا خون نہ ہو۔
یعنی "ازواج" ایک حیاتیاتی، فطری اور کیہانی اصول ہے۔
آج میں نے اس آیت سے سیکھا کہ کائنات میں کوئی چیز بالکل اکیلی نہیں بنائی گئی ہر وجود کسی نہ کسی کے ساتھ جڑا ہے، کسی کے بغیر نامکمل۔ ایک وہی ذات ایسی ہے جسے کسی جوڑے، شریک یا کمپلیمنٹ کی حاجت نہیں۔
تمام مخلوقات کو ایک دوسرے سے مکمل ہونے کا نظام دیا، لیکن خود اس توازن سے بالاتر ہے۔ وہ واحد ہے، صمد ہے، بے نیاز ہے۔
 
Last edited by a moderator:

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِى ظِلَالٍ عَلَى ٱلْأَرَائِكِ مُتَّكِـُٔونَ لَهُمْ فِيهَا فَـٰكِهَةٌۭ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ(سورۃ یس: 55-57)
یہ آیات ہر بار دل کے کسی نئے زاویے کو چھو جاتی ہیں۔
بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب دل خود دنیا کی عارضی چمک اور جنت کی ابدی روشنی کا موازنہ کرنے لگتا ہے۔
ایسا ہی ایک لمحہ مجھے یاد ہے۔ میں اپنی ایک بہت پیاری دوست کے گھر گئی۔ انتہائی خوبصورت آرائش۔۔۔ جیسے کسی محل میں داخل ہو گئے ہوں۔ مہمان خانے میں جہاں بیٹھی، وہاں سائیڈ ٹیبل پر ایک چمکتا ہوا کرسٹل کا گلدان رکھا تھا۔ ایسا نازک کہ روشنی اس میں سے گزر کر کمرے میں کہکشاں سی بکھیر رہی تھی۔ مجھے یوں بیٹھنا پڑا جیسے سانس بھی احتیاط سے لینا ہو۔
دل میں ہنسی بھی تھی، لطف بھی، اور ہلکا سا خوف بھی کہ کہیں یہ گلدان ہاتھ سے نہ لگ جائے۔
دنیا کی ہر خوبصورتی کے ساتھ ایک نادیدہ احتیاط جڑی ہوتی ہے۔یہاں لطف بھی ہے، مگر ساتھ اندیشہ بھی۔یہ وہ خوشی ہے جو ہاتھ میں لے کر بھی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
ہر چھٹی کے دن میرے بچے کمرے میں ہر طرف کھلونے بکھیر دیتے ہیں۔ میں کچن سے آواز لگاتی ہوں: "کوئی حرکت تو انسانوں والی کر لو!"
لیکن یہ تو ان کا کھیلنے کا وقت ہوتا ہے، اور بچے ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی لائبریری تھوڑی ہے۔
اُس لمحے مجھے قرآن کی آیت یاد آتی ہے: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ
بے شک جنت والے اُس دن اپنی لذت بھری مصروفیت میں خوش ہوں گے۔
میں سوچتی ہوں کیا خوب لفظ ہے "شُغُل"۔
دنیا میں "شغل" تھکن دیتا ہے، اور جنت میں "شغل" مسرت دے گا۔
یہی تو بچوں جیسا کھیل ہے جس میں بکھراؤ بھی خوشی ہے، مصروفیت بھی مسکراہٹ ہے، اور شور میں بھی سکون ہے۔
مجھے سب سے زیادہ خوبصورت یہ آیت لگتی ہے:
هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِى ظِلَالٍ عَلَى ٱلْأَرَائِكِ مُتَّكِـُٔونَ
وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
یہ پڑھتے ہی ذہن میں ایک نرم و نازک منظر بنتا ہے: جیسے کوئی وکٹورین کمرہ ہو۔ باریک پردے، دھیمی روشنی، لمبے دیوان، اور گہرے کشنوں میں ڈوبا ہوا پُرسکون ماحول۔
ایسا لگتا ہے جیسے الأرائك صرف بیٹھنے کے لیے نہیں، بلکہ وقار، نرمی، اور اندرونی سکون کی علامت ہو۔ دنیا کے فرنیچر میں بھی جمال ہے، مگر جنت کے فرنیچر میں زوال نہیں۔
اور پھر وہ آیت آتی ہے جو دل کو گدگدا دیتی ہے:
لَهُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ
ان کے لیے وہاں ہر طرح کے میوے ہوں گے، اور جو کچھ وہ چاہیں گے، وہی ان کے لیے ہوگا۔
یہاں دل مسکرا اٹھتا ہے۔ یاد آتا ہے میرا بیٹا، جو بڑی سنجیدگی سے کہتا ہے: "مما! میری دلی خواہش ہے کہ آپ نئی بیڈ شیٹ بچھائیں، اور میں اس پر بیٹھ کر چکنائی والا سالن کھاؤں، میرے ہاتھ خوب گندے ہو جائیں، اور میں وہ ہاتھ اسی چادر سے صاف کر دوں!"
میں ہنستے ہوئے کہتی ہوں: "اللہ رحم کرے، یہ تمہارا خواب ہے یا میری آزمائش؟"
لیکن خیال آتا ہے شاید جنت میں ایسا ممکن ہوگا۔ کیونکہ وہاں نہ کچھ گندہ ہوگا، نہ کچھ بگڑے گا۔ نہ کوئی چادر خراب ہوگی، نہ کوئی ماں آواز لگائے گی: "بس کرو اب!"
وہاں ہر خواہش۔۔۔ چاہے کتنی بھی معصوم یا انوکھی ہو۔۔۔ خوشی کے ساتھ پوری ہوگی۔
وہاں کوئی چیز "حد سے زیادہ" نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں ہر چیز کمال کے ساتھ متوازن ہوگی۔
لَهُم مَا يَدَّعُونَ جو چاہیں گے، وہی پائیں گے۔ نہ تھکن، نہ روک ٹوک۔۔۔ بس خوشی جو بے فکر ہوگی، اور محبت جو ہمیشہ رہے گی۔ یہی تو جنت ہے۔
دنیا میں ہم احتیاط کے ساتھ خوشیاں مناتے ہیں، کہیں کچھ گر نہ جائے، کچھ بکھر نہ جائے۔ مگر جنت وہاں خوشی بھی مکمل ہوگی، اور سکون بھی مکمل۔
بس یہی دعا ہے: یا رب! ہمیں ان میں شامل فرما جو تیرے لطف کے سائے میں مطمئن ہوں۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِى ظِلَالٍ عَلَى ٱلْأَرَائِكِ مُتَّكِـُٔونَ لَهُمْ فِيهَا فَـٰكِهَةٌۭ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ(سورۃ یس: 55-57)
یہ آیات ہر بار دل کے کسی نئے زاویے کو چھو جاتی ہیں۔
بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب دل خود دنیا کی عارضی چمک اور جنت کی ابدی روشنی کا موازنہ کرنے لگتا ہے۔
ایسا ہی ایک لمحہ مجھے یاد ہے۔ میں اپنی ایک بہت پیاری دوست کے گھر گئی۔ انتہائی خوبصورت آرائش۔۔۔ جیسے کسی محل میں داخل ہو گئے ہوں۔ مہمان خانے میں جہاں بیٹھی، وہاں سائیڈ ٹیبل پر ایک چمکتا ہوا کرسٹل کا گلدان رکھا تھا۔ ایسا نازک کہ روشنی اس میں سے گزر کر کمرے میں کہکشاں سی بکھیر رہی تھی۔ مجھے یوں بیٹھنا پڑا جیسے سانس بھی احتیاط سے لینا ہو۔
دل میں ہنسی بھی تھی، لطف بھی، اور ہلکا سا خوف بھی کہ کہیں یہ گلدان ہاتھ سے نہ لگ جائے۔
دنیا کی ہر خوبصورتی کے ساتھ ایک نادیدہ احتیاط جڑی ہوتی ہے۔یہاں لطف بھی ہے، مگر ساتھ اندیشہ بھی۔یہ وہ خوشی ہے جو ہاتھ میں لے کر بھی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
ہر چھٹی کے دن میرے بچے کمرے میں ہر طرف کھلونے بکھیر دیتے ہیں۔ میں کچن سے آواز لگاتی ہوں: "کوئی حرکت تو انسانوں والی کر لو!"
لیکن یہ تو ان کا کھیلنے کا وقت ہوتا ہے، اور بچے ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی لائبریری تھوڑی ہے۔
اُس لمحے مجھے قرآن کی آیت یاد آتی ہے: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ
بے شک جنت والے اُس دن اپنی لذت بھری مصروفیت میں خوش ہوں گے۔
میں سوچتی ہوں کیا خوب لفظ ہے "شُغُل"۔
دنیا میں "شغل" تھکن دیتا ہے، اور جنت میں "شغل" مسرت دے گا۔
یہی تو بچوں جیسا کھیل ہے جس میں بکھراؤ بھی خوشی ہے، مصروفیت بھی مسکراہٹ ہے، اور شور میں بھی سکون ہے۔
مجھے سب سے زیادہ خوبصورت یہ آیت لگتی ہے:
هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِى ظِلَالٍ عَلَى ٱلْأَرَائِكِ مُتَّكِـُٔونَ
وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
یہ پڑھتے ہی ذہن میں ایک نرم و نازک منظر بنتا ہے: جیسے کوئی وکٹورین کمرہ ہو۔ باریک پردے، دھیمی روشنی، لمبے دیوان، اور گہرے کشنوں میں ڈوبا ہوا پُرسکون ماحول۔
ایسا لگتا ہے جیسے الأرائك صرف بیٹھنے کے لیے نہیں، بلکہ وقار، نرمی، اور اندرونی سکون کی علامت ہو۔ دنیا کے فرنیچر میں بھی جمال ہے، مگر جنت کے فرنیچر میں زوال نہیں۔
اور پھر وہ آیت آتی ہے جو دل کو گدگدا دیتی ہے:
لَهُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ
ان کے لیے وہاں ہر طرح کے میوے ہوں گے، اور جو کچھ وہ چاہیں گے، وہی ان کے لیے ہوگا۔
یہاں دل مسکرا اٹھتا ہے۔ یاد آتا ہے میرا بیٹا، جو بڑی سنجیدگی سے کہتا ہے: "مما! میری دلی خواہش ہے کہ آپ نئی بیڈ شیٹ بچھائیں، اور میں اس پر بیٹھ کر چکنائی والا سالن کھاؤں، میرے ہاتھ خوب گندے ہو جائیں، اور میں وہ ہاتھ اسی چادر سے صاف کر دوں!"
میں ہنستے ہوئے کہتی ہوں: "اللہ رحم کرے، یہ تمہارا خواب ہے یا میری آزمائش؟"
لیکن خیال آتا ہے شاید جنت میں ایسا ممکن ہوگا۔ کیونکہ وہاں نہ کچھ گندہ ہوگا، نہ کچھ بگڑے گا۔ نہ کوئی چادر خراب ہوگی، نہ کوئی ماں آواز لگائے گی: "بس کرو اب!"
وہاں ہر خواہش۔۔۔ چاہے کتنی بھی معصوم یا انوکھی ہو۔۔۔ خوشی کے ساتھ پوری ہوگی۔
وہاں کوئی چیز "حد سے زیادہ" نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں ہر چیز کمال کے ساتھ متوازن ہوگی۔
لَهُم مَا يَدَّعُونَ جو چاہیں گے، وہی پائیں گے۔ نہ تھکن، نہ روک ٹوک۔۔۔ بس خوشی جو بے فکر ہوگی، اور محبت جو ہمیشہ رہے گی۔ یہی تو جنت ہے۔
دنیا میں ہم احتیاط کے ساتھ خوشیاں مناتے ہیں، کہیں کچھ گر نہ جائے، کچھ بکھر نہ جائے۔ مگر جنت وہاں خوشی بھی مکمل ہوگی، اور سکون بھی مکمل۔
بس یہی دعا ہے: یا رب! ہمیں ان میں شامل فرما جو تیرے لطف کے سائے میں مطمئن ہوں۔
اللہ اکبر! کتنی خوبصورت تدبر کی تحریر ہے۔ آپ نے دنیا کی نازک خوشیوں اور جنت کی کامل مسرتوں کے فرق کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ دل میں جنت کی تڑپ جاگ اٹھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید برکت دے، اور ہم سب کو ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جنہیں جنت میں بے فکری، محبت اور سکون نصیب ہوگا۔ آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
اللہ اکبر! کتنی خوبصورت تدبر کی تحریر ہے۔ آپ نے دنیا کی نازک خوشیوں اور جنت کی کامل مسرتوں کے فرق کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ دل میں جنت کی تڑپ جاگ اٹھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید برکت دے، اور ہم سب کو ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جنہیں جنت میں بے فکری، محبت اور سکون نصیب ہوگا۔ آمین۔
آمین ثم آمین۔
جزاک اللہ خیرا۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ماں ہونے کے ناطے میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ میرے بچوں کے اندر اگر کوئی اخلاقی کمزوری یا رویے کی خرابی نظر آئے تو فوراً اسے نکال دوں۔ مگر بعض اوقات اللہ کسی واقعے کے ذریعے دکھا دیتا ہے کہ تربیت صرف الفاظ سے نہیں، احساس سے ہوتی ہے۔
آج ایک معمولی سا واقعہ ہوا، مگر دل کے اندر گہرائی تک بات اُتر گئی۔
آج بچوں کو اسکول سے واپس لاتے ہوئے ایک فقیر ہماری گاڑی کے سامنے آیا۔
میں نے اپنے بیٹے سے کہا، "بیٹا، شیشہ نیچے کرو اور کچھ روپے اس فقیر کو دے دو۔"
اس کی عادت ہے کہ جب بھی کسی کو کچھ دینا ہو، تو ساتھ دعا بھی کرتا ہے: "اللہ تعالیٰ آپ کی مشکل آسان فرمائے، میں نے حسبِ توفیق کر دیا۔"
مگر اس بار میرا بیٹا رُک گیا۔ اس نے فوراً کہا، "مما، نہیں! یہ تو سب سے مانگ رہا ہے۔"
مجھے اس کے رویے پر حیرت ہوئی کیونکہ عام روٹین میں وہ ایسا نہیں کرتا۔
گزشتہ کئی دنوں سے وہ ایک نئے کھلونے کے لیے ضد کر رہا تھا، اور یہاں تک کہ میں اگر اسے کسی چیز کے لیے دکان پر بھیجتی تو بطور کمیشن روپے کاٹنا شروع کر رکھے تھے۔
اور آج جب میں نے کسی فقیر کو دینے کا کہا تو اُس نے پوری سنجیدگی سے دلیلیں دینا شروع کر دیں:
"یہ تو بالکل صحت مند لگ رہا ہے، خود کام کیوں نہیں کرتا؟ یہ سب سے پیسے مانگ رہا ہے، مما، لگتا ہے پیشہ ور فقیر ہے۔ اگر یہ پیسے مجھے دے دیں تو میں اپنا کام چلا لوں گا، خرچ تو گھر والوں پر ہی پہلے کرنا چاہیے نا؟
میں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی۔
مجھے لگا جیسے میرے بیٹے نے وہی منطق دہرائی جو قرآن نے صدیوں پہلے بیان کی تھی: دینے سے پہلے دلیل مانگنے کی منطق۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ، قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا، أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ؟" (سورۃ یس، آیت 47)
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرو، تو کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں: کیا ہم اُس کو کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟"
آج اس آیت نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ یہ آیت صرف کفار کے جملے کو نقل نہیں کرتی، بلکہ ایک سوچ کا لحن دکھاتی ہے۔ ایک ایسی ذہنیت کو بے نقاب کرتی ہے جو ایمان کو منطق سے تولتی ہے، دینے سے پہلے دلیل مانگتی ہے اور یقین سے پہلے حساب لگاتی ہے۔
یہی سوچ آج ہمارے گھروں میں پل رہی ہے۔ یہ وہی منطق ہے جو آج کے دور میں ہم بڑے استعمال کرتے ہیں، بس فرق یہ تھا کہ یہ ایک معصوم زبان سے نکل رہی تھی۔
ہم ایمان، آخرت، اور اللہ کی نشانیوں پر خاموش رہ جاتے ہیں، مگر جب بات دینے کی آتی ہے تو فوراً بول اٹھتے ہیں۔ ایمان کا اصل امتحان وہی لمحہ ہے جب ہم سوچنے کے بجائے بس دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
آج میں نے دل میں عہد کیا کہ اپنے بچوں کو دینے کی عادت سکھاؤں گی، چاہے سامنے والا مستحق ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ نیت کا امتحان لینے والا تو صرف اللہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب والدین کو توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں کو اس جدید دور میں صرف اسلام سکھائیں نہیں، بلکہ ان کے دلوں میں بسا دیں۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آن لائن کلاسز، ریفلیکشن کورسز اور دیگر علمی سرگرمیوں کے باعث میرا سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں سے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ کبھی انسٹاگرام پر، کبھی واٹس ایپ پر، کبھی ای میلز میں۔ اور سچ کہوں تو آج کے زمانے میں یہ جاننا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ کون کیا ہے، کون کس نیت سے بات کر رہا ہے، اور کون صرف گفتگو کے پردے میں تعلق تلاش کر رہا ہے۔ آن لائن دنیا میں چہرے نہیں ہوتے، صرف الفاظ ہوتے ہیں، اور الفاظ کبھی کبھی نیتوں کا آئینہ نہیں بنتے۔
میرا ان باکس اکثر اوٹ پٹانگ، غیر سنجیدہ یا غیر واضح پیغامات سے بھرا ہوتا ہے۔ کبھی کوئی تعریفوں کے ساتھ بات شروع کرتا ہے، کبھی کوئی ایسے القابات استعمال کرتا ہے جنہیں سن کر عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اگر وہ باتیں کوئی خاتون کہے تو شاید گزر جائے، لیکن اگر وہ الفاظ کسی مرد کی طرف سے ہوں تو دل بے اختیار چونک جاتا ہے کہ یہ گفتگو اب علمی نہیں رہی۔
ایسے لمحوں میں دل قرآن کی طرف لپکتا ہے اور وہاں جواب پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔
"وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ" (النساء: 25)
'اور نہ وہ خفیہ تعلقات رکھنے والی ہوں۔"
"وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ" (المائدۃ: 5)
نہ خفیہ تعلق رکھنے والے ہوں۔
یہاں اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی کہ پاکیزہ تعلق صرف نکاح کے ذریعے ہو نہ کہ چھپے ہوئے یا غیر شرعی تعلقات کے ذریعے۔ یوں قرآن نے مرد و عورت دونوں کے لیے ایک ہی اخلاقی معیار مقرر کیا: خفیہ تعلقات سے پاک رہنا، چاہے وہ ظاہری ہوں یا ذہنی۔
مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے اگر ایک غلام عورت جس کی معاشرتی حیثیت کمزور تھی، اور جو اپنی آزادی کی مالک نہیں تھی اُسے بھی قرآن نے عفت، وقار اور کردار کا اتنا بلند معیار دیا، تو ظاہر ہے ایک آزاد عورت کے لیے تو یہ معیار اور زیادہ مضبوط اور روشن ہونا چاہیے۔ اور پھر مردوں پر تو ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔
آج کے دور میں "أخدان" کا مفہوم صرف جسمانی تعلق نہیں بلکہ وہ غیر ضروری، ذاتی یا نرم لہجے کی گفتگو بھی ہے، جو کسی کے دل میں غیر محسوس طور پر جگہ بنانے لگے۔ جس میں مقصدیت ختم ہو جائے اور ذاتی دلچسپی آ جائے۔ یہی دراصل ڈیجیٹل دور کے اخدان ہیں۔ اسلام میں حیاء صرف ظاہری لباس نہیں ،یہ دل کی نرمی اور زبان کی مضبوطی کا امتزاج ہے۔
ارشاد ہے:
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ (الاحزاب 32)
"نرم لہجے میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ لالچ میں آ جائے۔"
یہ آیت آن لائن دنیا میں بھی اُتنی ہی زندہ ہے۔ یعنی گفتگو میں نرمی ہو، نزاکت نہیں۔ ادب ہو، مگر بے ساختگی نہیں۔
قرآن نے عفت کو صرف لباس یا جسم کی حد میں نہیں رکھا۔ یہ نیت، لہجے، اور رابطے تک پھیلنے والی روشنی ہے۔ غلام عورت سے لے کر آزاد مرد تک، قرآن نے ہر دل سے یہ چاہا کہ وہ خفیہ میلانات سے پاک رہے۔
اور آج کے ڈیجیٹل زمانے میں یہی پیغام ہمارے لیے ایک نیا امتحان ہے جہاں چہرے نہیں، صرف الفاظ بولتے ہیں۔ جہاں گفتگو کی راہداریوں میں نیتیں آزمائی جاتی ہیں، اور ایمان کا توازن ایک ایک میسج پر تولہ جاتا ہے۔
اور مومن وہ ہے جو ان الفاظ میں بھی حیاء کو زندہ رکھے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عفت صرف عورت کی ذمہ داری نہیں، یہ تو مرد و عورت دونوں کے ایمان کا حسن ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے شعور میں رکھ کر جینے کا نام ہے، خواہ محفل سامنے ہو یا اسکرین کے پیچھے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے بیٹے کے سوالات کبھی کبھی مجھے اندر تک ہلا دیتے ہیں۔
آج کے بچوں کے ذہن جدید ٹیکنالوجی، سوشل سرکل اور بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) سے اتنے متاثر ہیں کہ ان کا زاویۂ سوچ ہی بدل چکا ہے۔
میں پچھلے کچھ دنوں سے اپنی دو سالہ بیٹی کو نماز کی عادت ڈالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ہے تو یہ بہت جلدی، مگر گھر کا دینی ماحول بناتے کب عمر کا احساس رہتا ہے؟
میں اسے سکھا رہی تھی کہ اچانک میرا بیٹا بولا: "مما! کوئی AI ٹول ٹرائی کریں، اس سے جلدی سیکھے گی!"
سچ میں؟ کیا واقعی ہم "علماء کے دور" سے نکل کر "AI کے دور" میں داخل ہو گئے ہیں؟
آج فتویٰ بھی "فاسٹ فوڈ" کی طرح آسانی سے مل جاتا ہے۔
پہلے اگر نماز قضا ہو جاتی، تو ہم محلے کے امام صاحب سے جھجکتے ہوئے پوچھتے تھے۔
اب بس فون اٹھاتے ہیں: "Hey ChatGPT, kya main qaza namaz baad mein parh sakti hoon?"
اور جواب آتا ہے: "نماز کی قضا کبھی بھی پڑھی جا سکتی ہے۔۔۔"
ایک لمحے کو سوچیں۔۔۔ اب مشین ہمیں بتا رہی ہے کہ خالقِ کائنات کے سامنے کیسے کھڑے ہونا ہے!
نکاح کے مسائل؟ پہلے شہر کے معروف مفتی سے ملاقات کا وقت لیا جاتا۔
آج Instagram پر "Mufti Sahab" کے پیج پر میسج کر کے جواب ملتا ہے: "Brother, plz check my highlight: Nikah Issues"
پورا دین Highlights اور Stories میں محدود ہو چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب AI کو نہ ہماری نیت کا علم ہے، نہ ہمارے حالات کا، تو اگر اس پر عمل کر لیا، تو قیامت کے دن ذمہ داری کس پر ہوگی؟ AI پر؟ یا ہم پر؟
سوشل میڈیا پر "اسلامک انفلوئنسرز" کا سیلاب ہے۔ ایک ویڈیو میں کہا جاتا ہے "ایسی دعا پڑھو تو فوراً حاجت پوری"، دوسری ویڈیو میں کوئی الگ ترکیب۔ اور ہم ان ویڈیوز کو "فتویٰ" سمجھ کر عمل کرنے لگتے ہیں۔
رمضان آتے ہی ہم "Ramadan Planner App" یا "AI Tasbeeh Counter" ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کے بجائے "Streaks" مکمل کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔ عبادت بھی ڈیجیٹل چیلنج بن گئی ہے۔
اب اے آئی سے پوچھے ہیں: "میرا نکاح درست ہے یا نہیں؟"
اور جواب ملتا ہے: "Based on your description, yes."
جیسے ایمان کوئی algorithm ہے!
قرآن سیکھنے کے لیے Zoom کلاسزیقیناً ایک نعمت ہیں، مگر بچے اب قرآن ٹیچر کی جگہ YouTube Shorts سے "Surah with animation" دیکھتے ہیں۔ تجوید؟ تلفظ؟ احساسِ خشیت؟ کہیں کھو جاتے ہیں۔
"Tasbeeh Counter App" پر 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 الحمدللہ، 34 اللہ اکبر، مگر انگلیاں خود نہیں، اسکرین ٹَچ کرتی ہیں۔ عبادت محسوس کرنے کے بجائے ریکارڈ کرنے کا عمل بن گئی ہے۔
عمرہ یا افطار کے وقت ہم فوراً Snapchat یا Instagram پر "#SpiritualVibes" پوسٹ کرتے ہیں۔ عبادت کا اصل لطف خلوت میں تھا مگر اب ہر نیکی کو Visibility چاہیے۔
اب دین بھی "One Click Solution" بن گیا ہے۔ "AI Dua Generator" سے دعائیں، "AI Zakat Calculator" سے حساب، اور "AI Islamic Name Suggestor" سے بچے کا نام۔
مگر نیت، روحانیت، اور علم کی گہرائی کہاں گئی؟
ہم بیماری میں ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں، گھر بنانے میں انجینئر سے، قانونی معاملات میں وکیل سے تو آخرت کے فیصلے ایک مشین سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اور اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کیوں؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَسْـَٔلُوٓا أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
"پوچھو اہلِ علم سے اگر تم نہیں جانتے۔" (النحل: 43)
سوچنے کی بات یہ ہے کیا "اہلِ ذکر" سے مراد AI چیٹ بوٹس ہیں؟
یا وہ علماء جنہوں نے عمر قرآن، سنت اور فقہ کی خدمت میں گزاری، جو ہمارے حالات سمجھ کر رہنمائی دے سکتے ہیں؟
ہم نے شاید انجانے میں مشینوں کو اپنا مفتی بنا لیا ہے۔ لیکن ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم فتویٰ نہیں، فہمِ دین تلاش کریں اور یہ فہم صرف اہلِ علم کے در سے ہی مل سکتا ہے، نہ کسی ایپ سے، نہ کسی الگورتھم سے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
جب بھی میں یہ آیت پڑھتی ہوں مجھے اپنے ساتھ ہوئے ایک دھوکے کی یاد آتی ہے۔
قریب سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں نے ایک نیلم خریدا۔ مہنگا، نایاب، چمکتا ہوا، جو میری نظر میں حد درجہ قیمتی۔
اس کے ساتھ ایک باقاعدہ رپورٹ بھی تھی: تحریری ثبوت کہ یہ پتھر اصلی ہے، قیمتی ہے، اور حقیقتاً نایاب ہے۔
ایک دن ایک دعوت میں،میری ایک ماہر دوست نے اچانک میری انگوٹھی پر نظر ڈالی۔ اور پھر بےحد نرمی مگر ناقابلِ انکار یقین کے ساتھ بولیں: "یہ نیلم قدرتی نہیں۔ لیب میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کی اصل قیمت تو چند ہزار سے زیادہ نہیں۔"
میں اس نیلم کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ وہ نیلم جسے میں نے بھاری رقم دے کر خریدا تھا، جس کی اصلیت پر بھروسہ کرنے کے لیے میرے پاس رپورٹیں تھیں، اور اب معلوم ہوا کہ وہ نقلی تھا۔
اسی لمحے پہلی بار میں نے جانا کہ دھوکہ ہمیشہ دوسرا نہیں دیتا۔ کبھی کبھی سب سے بڑا دھوکہ انسان خود کو دیتا ہے، کیونکہ انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا (الفرقان: 23)
"اور ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر انہیں بکھری ہوئی دھول بنا دیں گے۔"
یہ ایک یکسر تبدیلی کا عمل ہے۔ وہی عمل جو دنیا میں روشن نظر آتا تھا، وہی نیکیاں جن پر انسان نے اپنی امید کی عمارت کھڑی کی ہوتی ہے، قیامت کے دن ان کی اصل ماہیت بدل دی جاتی ہے۔
یہ محض "رد کرنا" نہیں ہے؛ یہ ان اعمال کی حقیقت کو پلٹ دینا ہے۔
بالکل ایسے جیسے کیمسٹری میں کسی قیمتی دھات کو ایک ایسی بے وزن گیس میں بدل دیا جائے جو نظر آئے مگر چھوئی نہ جا سکے۔
یہاں دو الفاظ سارا منظر واضح کر دیتے ہیں: هَبَآءً مَّنْثُوْرًا
یعنی وہ باریک ذرات جو ہوا میں اڑتے ہیں، جو سورج کی کرن میں جھلملا کر دکھائی دیتے ہیں، مگر ہاتھ بڑھاؤ تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔
سوچیے۔۔۔ یہ کون سے اعمال ہوں گے؟
یہ گناہ نہیں، یہ وہ نیک اعمال ہوں گے جن میں اخلاص نہ تھا۔
وہ صدقہ جو نام کے لیے کیا گیا،
وہ نماز جو دکھاوے کے لیے پڑھی گئی،
وہ عبادت جس میں دل اللہ کی بجائے لوگوں کی طرف مائل تھا۔
یہ وہ "نیلم" ہیں جو دنیا میں چمکتے تو تھے۔۔۔ مگر جن کا وزنِ اخلاص اللہ کے ہاں صفر تھا۔
اس لیے یہ آیت محض ڈرانے کے لئے نہیں، بلکہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لئے ہے۔
یہ آیت مجھے ہمیشہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہماری ہر عبادت ایک نیلم ہےجسے ہم نامۂ اعمال میں جمع کر رہے ہیں۔ اور ہمیں ہر دم اپنے اصل ماہرِ جواہرات یعنی "اللہ کی رضا" کی طرف دیکھتے رہنا چاہیے، کہ کہیں ہم ظاہری چمک، لوگوں کی تعریف، اور دنیاوی "سرٹیفکیٹس" میں کھو کراصل حقیقت "اخلاص" کو بھول نہ جائیں۔
کیونکہ فیصلے کے دن نہ کوئی سرٹیفکیٹ کام آئے گا،نہ کوئی دلیل،نہ کوئی عذر۔ اس دن تو صرف ایک فیصلہ سنایا جائے گا:"یہ سب۔۔۔ ھباءً منثوراً تھا۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کو اخلاص کے ساتھ کرنے، ریا اور دکھاوے سے بچنے، اور اپنی نیکیوں کو دھول بننے سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ تصویر ذہن میں گھوم رہی ہے ۔۔۔مدین میں ایک کنویں کے پاس، تھکی ہاری دو بے بس لڑکیوں کی مدد کرتے ہوئے، اور پھر بلا توقف، بغیر کسی منتظر، واپس سایہ کی جانب چلے جانا۔
یہ منظر صرف ایک "مدد" کا واقعہ نہیں ہے۔ یہ مجھے زندگی گزارنے کا ایک سنہرا اصول سکھاتا ہے: کام کی نیت میں پاکیزگی اور عمل کے طریقے میں مضبوطی۔
ہماری زندگی کے بیشتر الجھاؤ اسی لیے ہیں کہ ہم ان دو پیمانوں میں توازن نہیں رکھ پاتے۔
یہی دونوں اصول مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کہانی کے اس حصے میں نظر آتے ہیں:
وہ ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں: یہ نیت کی پاکیزگی۔
اور پھر فوراً رخصت ہو جاتے ہیں: یہ حدود کی مضبوطی۔
آج کا منظر بدل گیا ہے۔ کنویں کی جگہ "واٹس ایپ" اور "ان باکس" نے لے لی ہے۔ حضرت موسیٰؑ جیسا مددگار آج "ٹیکسٹ میسج" بھیجتا، لڑکیوں کے جانوروں کی بجائے ان کے "پروجیکٹ فائلز" ٹھیک کرتا، اور پھر سب سے اہم بات "چیٹ سیشن" کو فوراً "آرکائیو" کر دیتا۔
مگر ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم "انباکس" میں "سلام" لکھتے ہیں، "دعوت" کا لیبل چسپاں کر کے گھنٹوں کی گفتگو کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ ہماری نیت کا ڈیٹا کہیں کلاؤڈ میں گم ہو جاتا ہے، اور ہم خود بھی یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ہم ہیلپرہیں یا ٹیکر۔
آج کی مدد کا مطلب ہے کسی کو ضروری لِنک بھیج کر، ٹیوٹوریل کا ویڈیو شیئر کر کے، یا گروپ چیٹ میں اس کا مسئلہ اٹھا کر کام مکمل کر لینا۔ نجی "آڈیو نوٹس" کی بھرمار نہیں۔
جس طرح حضرت موسیٰؑ نے کوئی امید نہیں رکھی، آج کا مومن بھی ری پلائی کا انتظار نہیں کرتا۔ اس کا "ریوارڈ" اسکرین پر "ڈیلیورڈ" کا ٹِک نہیں، بلکہ اس کے "اخلاص میٹر"میں اضافہ ہے۔
آج یہ ایک حقیقی آزمائش ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں "اینگیجمنٹ" کیابھوکا بنا رہا ہے ۔ مزید لائکس، مزید فالوورز، مزید کمنٹس۔ ایسے میں، حضرت موسیٰؑ جیسا بے لوث اور بے نیاز ہونا ایک ریولیوشنری ایکٹ بن گیا ہے۔
حضرت موسیٰؑ کی کہانی کا یہ پہلو مجھے ہر بار کوئی بھی پیغام لکھنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ :کیا یہ پیغام واقعی ضروری ہے، یا صرف "اینگیجمنٹ" کا بہانہ ہے؟کیا میں "آن لائن: بات چیت کو ٹاسک اورٹینٹڈ رکھوں گی یا رلیشنشپ اورٹینٹڈ؟
حضرت موسیٰؑ کا کنواں آج ہمارے سکرین میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم "سینڈ" بٹن دبا کر "آن" رہتے ہیں یا حضرت موسیٰؑ کی طرح "بیک" کے بٹن پر کلک کر کے "آؤٹ" ہو جاتے ہیں؟
اللہ تعالی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح مدد کر کے بھول جائیں، دے کر بے نیاز ہو جائیں، اور ہر کام میں اللہ کی رضا ہی کو مقصد بنا لیں۔
 
Top