سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز دکھائی دیتی ہیں جن میں قرآن کی آیات اور اسماء الحسنیٰ کو کسی "جادوئی فارمولا" کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔
دعوے کچھ یوں ہوتے ہیں کہ انسان سوچتا رہ جائے:
"یہ تسبیح اتنی ضدی ہے کہ اللہ سے ہر بات منوا لے گی۔"
"صرف تین دن کا وظیفہ، اور آپ ارب پتی!"
اور پھر وہی روایت:
"چھوٹی سورۃ، آسان عمل"
تین دن میں گاڑی۔
سات رات میں محل۔
ایک ہفتے میں شادی۔
یوں لگتا ہے جیسے قرآن، نعوذباللہ، ہماری خواہشات پوری کرنے کی مشین ہے، ایک جادو کی چھڑی، جس سے ہم دنیا اپنی مرضی سے سیٹ کر لیں۔
لیکن سچ کیا ہے؟
ہم قرآن کے ساتھ یہ گھاٹا کس مقام پر کر گئے؟
قرآن خود جواب دیتا ہے:
قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ" (سورۃ یونس: 57)
"اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔"
ایک موعظہ: جو عقل اور دل دونوں کو ہلاتا ہے۔
ایک شفا: جو دل کی بیماریاں کاٹتی ہے۔
ایک ہدایت: جو راستہ دکھاتی ہے۔
ایک رحمت: جو زندگی بدلتی ہے۔
بس۔ یہ ہے قرآن کا اپنا تعارف۔
اس میں کہاں لکھا ہے کہ وہ تمہارے مہینے کے آخر میں بینک بیلنس بڑھانے کا فارمولا ہے؟
کہاں بتایا گیا ہے کہ فلاں آیت 41 بار پڑھو، نوکری کنفرم؟
یا فلاں سورت 100 بار پڑھو، قرض صفر؟
ہم نے قرآن کو ٹوٹکوں کی کتاب بنا دیا ہے۔
ایسے سمجھ لیا ہے جیسے یہ کوئی کیمیکل ری ایکشن ہو:
اتنے چمچ یہ پڑھ لو، اتنی مرتبہ وہ پڑھ لو اور نتیجہ guaranteed۔
لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ہماری گنتیوں اور تعدادوں کا پابند ہے؟
یہ خطرناک سوچ ہے۔
یہ اللہ کے تصور کو چھوٹا کرتی ہے، ہماری حاجتوں کو نہیں۔
اللہ کی کتاب دلوں کو بدلنے آئی ہے، نہ کہ ہماری دنیاوی لسٹ پوری کرنے۔
قرآن ہدایت ہے، ہتھیلی پر دنیا رکھنے کی ٹیکنیک نہیں۔
یہ آیت مجھے چند حقیقتیں سکھاتی ہے:
1) قرآن کا اصل وزن ورد میں نہیں، عمل میں ہے۔ اگر قرآن پڑھنے سے زندگی نہیں بدل رہی، تو مسئلہ آیت میں نہیں۔۔۔ دل میں ہے۔ اور وہ دل صرف "100 بار" پڑھنے سے نہیں، "ایک بار" سمجھنے سے بدلتا ہے۔
2) قرآن کی شفا خواہشوں کے لیے نہیں، بیماریوں کے لیے ہے۔ حسد، لالچ، تکبر یہ وہ زہر ہیں جنہیں ہم نظرانداز کر کے دولت، جاب اور رشتے مانگتے پھرتے ہیں۔ دل بیمار ہو تو دنیاوی دعائیں بھی بیمار ہو جاتی ہیں۔
3) اللہ سے ہر بات "منوانے" کی ضد، اللہ پر ایمان نہیں نفس کی ہٹ دھرمی ہے۔ سچی بندگی یہ ہے کہ میں اللہ کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤں۔
یہ آیت مجھے پیغام دیتی ہے کہ بس اتنا سمجھ لو: قرآن زندگی کے shortcuts کے لیے نہیں اترا۔ یہ زندگی کا راستہ دکھانے آیا ہے۔
اللہ ہمیں اس کتاب کو ٹوٹکوں کی فہرست بنانے کے بجائے اس کے نور سے اپنے دل، اپنی نیت، اور اپنی زندگی کو بدلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
دعوے کچھ یوں ہوتے ہیں کہ انسان سوچتا رہ جائے:
"یہ تسبیح اتنی ضدی ہے کہ اللہ سے ہر بات منوا لے گی۔"
"صرف تین دن کا وظیفہ، اور آپ ارب پتی!"
اور پھر وہی روایت:
"چھوٹی سورۃ، آسان عمل"
تین دن میں گاڑی۔
سات رات میں محل۔
ایک ہفتے میں شادی۔
یوں لگتا ہے جیسے قرآن، نعوذباللہ، ہماری خواہشات پوری کرنے کی مشین ہے، ایک جادو کی چھڑی، جس سے ہم دنیا اپنی مرضی سے سیٹ کر لیں۔
لیکن سچ کیا ہے؟
ہم قرآن کے ساتھ یہ گھاٹا کس مقام پر کر گئے؟
قرآن خود جواب دیتا ہے:
قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ" (سورۃ یونس: 57)
"اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔"
ایک موعظہ: جو عقل اور دل دونوں کو ہلاتا ہے۔
ایک شفا: جو دل کی بیماریاں کاٹتی ہے۔
ایک ہدایت: جو راستہ دکھاتی ہے۔
ایک رحمت: جو زندگی بدلتی ہے۔
بس۔ یہ ہے قرآن کا اپنا تعارف۔
اس میں کہاں لکھا ہے کہ وہ تمہارے مہینے کے آخر میں بینک بیلنس بڑھانے کا فارمولا ہے؟
کہاں بتایا گیا ہے کہ فلاں آیت 41 بار پڑھو، نوکری کنفرم؟
یا فلاں سورت 100 بار پڑھو، قرض صفر؟
ہم نے قرآن کو ٹوٹکوں کی کتاب بنا دیا ہے۔
ایسے سمجھ لیا ہے جیسے یہ کوئی کیمیکل ری ایکشن ہو:
اتنے چمچ یہ پڑھ لو، اتنی مرتبہ وہ پڑھ لو اور نتیجہ guaranteed۔
لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ہماری گنتیوں اور تعدادوں کا پابند ہے؟
یہ خطرناک سوچ ہے۔
یہ اللہ کے تصور کو چھوٹا کرتی ہے، ہماری حاجتوں کو نہیں۔
اللہ کی کتاب دلوں کو بدلنے آئی ہے، نہ کہ ہماری دنیاوی لسٹ پوری کرنے۔
قرآن ہدایت ہے، ہتھیلی پر دنیا رکھنے کی ٹیکنیک نہیں۔
یہ آیت مجھے چند حقیقتیں سکھاتی ہے:
1) قرآن کا اصل وزن ورد میں نہیں، عمل میں ہے۔ اگر قرآن پڑھنے سے زندگی نہیں بدل رہی، تو مسئلہ آیت میں نہیں۔۔۔ دل میں ہے۔ اور وہ دل صرف "100 بار" پڑھنے سے نہیں، "ایک بار" سمجھنے سے بدلتا ہے۔
2) قرآن کی شفا خواہشوں کے لیے نہیں، بیماریوں کے لیے ہے۔ حسد، لالچ، تکبر یہ وہ زہر ہیں جنہیں ہم نظرانداز کر کے دولت، جاب اور رشتے مانگتے پھرتے ہیں۔ دل بیمار ہو تو دنیاوی دعائیں بھی بیمار ہو جاتی ہیں۔
3) اللہ سے ہر بات "منوانے" کی ضد، اللہ پر ایمان نہیں نفس کی ہٹ دھرمی ہے۔ سچی بندگی یہ ہے کہ میں اللہ کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤں۔
یہ آیت مجھے پیغام دیتی ہے کہ بس اتنا سمجھ لو: قرآن زندگی کے shortcuts کے لیے نہیں اترا۔ یہ زندگی کا راستہ دکھانے آیا ہے۔
اللہ ہمیں اس کتاب کو ٹوٹکوں کی فہرست بنانے کے بجائے اس کے نور سے اپنے دل، اپنی نیت، اور اپنی زندگی کو بدلنے کی توفیق دے۔ آمین۔