قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز دکھائی دیتی ہیں جن میں قرآن کی آیات اور اسماء الحسنیٰ کو کسی "جادوئی فارمولا" کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔
دعوے کچھ یوں ہوتے ہیں کہ انسان سوچتا رہ جائے:
"یہ تسبیح اتنی ضدی ہے کہ اللہ سے ہر بات منوا لے گی۔"
"صرف تین دن کا وظیفہ، اور آپ ارب پتی!"
اور پھر وہی روایت:
"چھوٹی سورۃ، آسان عمل"
تین دن میں گاڑی۔
سات رات میں محل۔
ایک ہفتے میں شادی۔
یوں لگتا ہے جیسے قرآن، نعوذباللہ، ہماری خواہشات پوری کرنے کی مشین ہے، ایک جادو کی چھڑی، جس سے ہم دنیا اپنی مرضی سے سیٹ کر لیں۔
لیکن سچ کیا ہے؟
ہم قرآن کے ساتھ یہ گھاٹا کس مقام پر کر گئے؟
قرآن خود جواب دیتا ہے:
قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ" (سورۃ یونس: 57)
"اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔"
ایک موعظہ: جو عقل اور دل دونوں کو ہلاتا ہے۔
ایک شفا: جو دل کی بیماریاں کاٹتی ہے۔
ایک ہدایت: جو راستہ دکھاتی ہے۔
ایک رحمت: جو زندگی بدلتی ہے۔
بس۔ یہ ہے قرآن کا اپنا تعارف۔
اس میں کہاں لکھا ہے کہ وہ تمہارے مہینے کے آخر میں بینک بیلنس بڑھانے کا فارمولا ہے؟
کہاں بتایا گیا ہے کہ فلاں آیت 41 بار پڑھو، نوکری کنفرم؟
یا فلاں سورت 100 بار پڑھو، قرض صفر؟
ہم نے قرآن کو ٹوٹکوں کی کتاب بنا دیا ہے۔
ایسے سمجھ لیا ہے جیسے یہ کوئی کیمیکل ری ایکشن ہو:
اتنے چمچ یہ پڑھ لو، اتنی مرتبہ وہ پڑھ لو اور نتیجہ guaranteed۔
لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ہماری گنتیوں اور تعدادوں کا پابند ہے؟
یہ خطرناک سوچ ہے۔
یہ اللہ کے تصور کو چھوٹا کرتی ہے، ہماری حاجتوں کو نہیں۔
اللہ کی کتاب دلوں کو بدلنے آئی ہے، نہ کہ ہماری دنیاوی لسٹ پوری کرنے۔
قرآن ہدایت ہے، ہتھیلی پر دنیا رکھنے کی ٹیکنیک نہیں۔
یہ آیت مجھے چند حقیقتیں سکھاتی ہے:
1) قرآن کا اصل وزن ورد میں نہیں، عمل میں ہے۔ اگر قرآن پڑھنے سے زندگی نہیں بدل رہی، تو مسئلہ آیت میں نہیں۔۔۔ دل میں ہے۔ اور وہ دل صرف "100 بار" پڑھنے سے نہیں، "ایک بار" سمجھنے سے بدلتا ہے۔
2) قرآن کی شفا خواہشوں کے لیے نہیں، بیماریوں کے لیے ہے۔ حسد، لالچ، تکبر یہ وہ زہر ہیں جنہیں ہم نظرانداز کر کے دولت، جاب اور رشتے مانگتے پھرتے ہیں۔ دل بیمار ہو تو دنیاوی دعائیں بھی بیمار ہو جاتی ہیں۔
3) اللہ سے ہر بات "منوانے" کی ضد، اللہ پر ایمان نہیں نفس کی ہٹ دھرمی ہے۔ سچی بندگی یہ ہے کہ میں اللہ کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤں۔
یہ آیت مجھے پیغام دیتی ہے کہ بس اتنا سمجھ لو: قرآن زندگی کے shortcuts کے لیے نہیں اترا۔ یہ زندگی کا راستہ دکھانے آیا ہے۔
اللہ ہمیں اس کتاب کو ٹوٹکوں کی فہرست بنانے کے بجائے اس کے نور سے اپنے دل، اپنی نیت، اور اپنی زندگی کو بدلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (سورۃ یوسف آیت 4)
سورۃ یوسف کی یہ آیت میرے سامنے ایک مثالی والدہ کا روڈ میپ ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا کردار صرف ایک باپ ہی کا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا آئیڈیل ہے جو کسی بچے کی پرورش کر رہا ہے، چاہے وہ ماں ہو یا باپ۔
بطور والدہ، یہ آیت مجھے درج ذیل اسباق سکھاتی ہے:
1۔ "پہلا پناہ گاہ" بننے کا سبق
یہ آیت مجھے سکھاتی ہے کہ میری گود میرے بچے کی پہلی اور محفوظ ترین پناہ گاہ ہونی چاہیے۔ جب بچہ ڈرا ہوا، پریشان یا حیران ہو، تو اس کا پہلا خودکار ردعمل اس کی "امی" کے پاس بھاگنا ہونا چاہیے۔
2۔ "سننے کی مہارت" کا سبق
حضرت یعقوب علیہ السلام نے پہلے سنا، پھر سمجھا، پھر جواب دیا۔ بطور والدہ، میرا سب سے بڑا ہتھیار خاموشی سے سننا ہے۔
3۔ "حکمت کی زبان" میں بات کرنے کا سبق
یعقوب علیہ السلام نے ڈانٹنے کے بجائے سمجھایا۔ بطور والدہ، میں نے سیکھا ہے کہ "تم نے کیوں کیا؟" کے ڈراؤنے سوال کی بجائے "کیا ہوا بتاؤ؟" کا پر سکون سوال زیادہ کارآمد ہے۔
4۔ "دنیا کی حقیقتوں" سے آگاہ کرنے کا سبق
جس طرح یعقوب علیہ السلام نے یوسفؑ کو حسد کے خطرے سے آگاہ کیا، اسی طرح بطور والدہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے بچوں کو حقیقی دنیا کے بارے میں سمجھاؤں، اس کی خوبصورتی بھی اور اس کے کانٹے بھی، مگر ہمیشہ اللہ پر بھروسے کے ساتھ۔
اس آیت نے مجھے یہ سبق دیا ہے کہ:
میں ایک "محافظ" ہوں، "جیلر" نہیں۔
میرا کام "تعمیر" کرنا ہے، "توڑنا" نہیں۔
میری زبان "مرہم" ہو، "خنجر" نہ ہو۔
میرا گھر "پناہ گاہ" ہو، "عدالت" نہ ہو۔
میرا کام بچوں کو ڈرانا نہیں، بلکہ تیار کرنا ہے۔ انہیں روکنا ٹوکنا نہیں، بلکہ رہنمائی کرنا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرح، مجھے بھی اپنے بچوں کے ساتھ اتنا گہرا، پراعتماد اور محبت بھرا رشتہ قائم کرنا ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر مجھے اپنا سب سے بڑا سہارا سمجھیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بچوں کے لیے حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی حکمت اور شفقت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 23)
ترجمہ: "اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے 'اُف' تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے نہایت ادب و احترام کے ساتھ بات کرو۔"
میری والدہ محترمہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔
لیکن ان کی یادیں ایک ایسا خزانہ ہیں جو بانٹنے سے اور چمکتی ہیں۔ ہر یاد ایک سبق، ایک دعا، اور ایک آنسو بن کر دل میں اتر جاتی ہے۔
آیت "بالوالدین احسانا" اور اپنے سنہرے لمحات کو ایک ساتھ دیکھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی پوری زندگی کے ایک حصے کو دیکھنا۔۔۔ شکر کے آنسو، حسرت کی ٹیس، اور امید کی کرن ایک ساتھ دل میں اتر آتی ہیں۔
میری والدہ صاحبہ ٹیکنالوجی سے کافی دور تھیں۔ جب میری بڑی باجی نے انہیں پہلا اسمارٹ فون دیا تو وہ گھبرا کر کہنے لگیں: "اس میں تو کوئی بٹن ہی نہیں، یہ چلے گا کیسے؟"
ایک دن انہوں نے خود سے پہلا واٹس ایپ میسج بھیجا: "بیٹا، تمہاری بہنوں نے کہا ہے کہ تمہیں کھانے پر بلاؤں"۔
ان کے چہرے پر جو معصوم فاتحانہ مسکراہٹ تھی، وہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
جب پہلی بار انہوں نے ویڈیو کال کی اور اپنے نواسے کو دیکھا، تو وہ رونے لگیں۔ میں نے پوچھا: "امی جان کیوں رو رہی ہیں؟"
انہوں نے کہا: "یہ ایجاد کرنے والا جنت میں جائے گا۔ اس نے تو میری آنکھیں ٹھنڈی کر دیں۔"
ایک بار گرمیوں کے دن تھے۔ وہ لاہور میرے پاس آئیں۔ طبیعت کچھ کمزور تھی تو میں نے ان کے لیے آئس کریم منگوائی۔
انہوں نے پہلا چمچ منہ میں ڈالا، ٹھہر گئیں، پھر حیران ہو کر بولیں: "یہ کیا ہے؟ خیر جو بھی ہے۔۔۔ ذائقہ بہت اچھا ہے!"
وہ عورت جو میرے لیے پوری زندگی کی "پہلی چیزیں" قربان کرتی رہی۔۔۔ اور مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔
امی جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ آخری گھونٹ چائے چھوڑ دیتی تھیں۔
ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا: "امی جان، یہ آخری گھونٹ کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟"
وہ مسکرائیں: "بیٹا، یہ گھونٹ اس لیے چھوڑتی ہوں کہ تم بچپن میں کہا کرتی تھی 'امی جو چھوڑ دیں وہ میری ہے'۔ اب بھی تمہارے لیے چھوڑتی ہوں۔"
یہ سن کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ماں کا پیار نہ عمر دیکھتا ہے، نہ وقت۔۔۔ وہ تو بس بہتا رہتا ہے۔
جب میں ان یادوں کے ہار کو ہاتھ میں لیتی ہوں تو دل میں ایک سمندر اٹھتا ہے:
شکر: کہ مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا۔
خوش نصیبی: کہ میں ان کے آخری دنوں میں ان کے پاس تھی، ان کی آواز سن سکی، ان کا ہاتھ پکڑ سکی۔
ہلکی سی ٹیس: کہ کاش میں اور بہتر کرتی۔۔۔ کاش میں نے انہیں مزید مسکرانے کے لمحے دیے ہوتے۔
یہ احساس شاید ہر اس دل میں ہوتا ہے جو "احسان" کے معیار کو دیکھ کر اپنی کمی محسوس کرتا ہے۔
جب میری والدہ محترمہ آخری دنوں میں تھیں، ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا: "بیٹا، تم نے مجھے بہت خوش رکھا۔"
اور آج جب میں "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" پر غور کرتی ہوں: تو ان کا یہ جملہ میرے لیے بخشش کی دستاویز لگتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کہیں میں اس تعریف کے قابل ہوں بھی یا نہیں؟ پھر دل ہی دل میں ان سے معافی مانگتی ہوں اگر کبھی کوئی بات بھول سے بھی انہیں تکلیف پہنچی ہو۔
ان یادوں سے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔ پر خوشی کے آنسو۔ دل بھر آتا ہے۔۔۔ امید سے۔ جان چاہتی ہے کہ کاش! ایک بار پھر وہ لمحے لوٹ آئیں۔
بس آپ سب سے بھی یہی گزارش ہے کہ: اگر آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں، تو آج ہی کوئی نیا سنہری لمحہ بنا لیجیے۔
ان کا ہاتھ تھام کر بیٹھ جائیے۔
ان کی پسندیدہ مٹھائی لے آئیے۔
بولئے: "آپ کیوں اتنے پیارے ہیں؟"
یہی لمحے کل آپ کی سب سے بڑی دولت بن جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ان سب کو جن کے والدین حیات ہیں ان کی بہترین خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے اور جن کے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں انھیں غریق رحمت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت 23)
ترجمہ: "اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے 'اُف' تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے نہایت ادب و احترام کے ساتھ بات کرو۔"
میری والدہ محترمہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔
لیکن ان کی یادیں ایک ایسا خزانہ ہیں جو بانٹنے سے اور چمکتی ہیں۔ ہر یاد ایک سبق، ایک دعا، اور ایک آنسو بن کر دل میں اتر جاتی ہے۔
آیت "بالوالدین احسانا" اور اپنے سنہرے لمحات کو ایک ساتھ دیکھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی پوری زندگی کے ایک حصے کو دیکھنا۔۔۔ شکر کے آنسو، حسرت کی ٹیس، اور امید کی کرن ایک ساتھ دل میں اتر آتی ہیں۔
میری والدہ صاحبہ ٹیکنالوجی سے کافی دور تھیں۔ جب میری بڑی باجی نے انہیں پہلا اسمارٹ فون دیا تو وہ گھبرا کر کہنے لگیں: "اس میں تو کوئی بٹن ہی نہیں، یہ چلے گا کیسے؟"
ایک دن انہوں نے خود سے پہلا واٹس ایپ میسج بھیجا: "بیٹا، تمہاری بہنوں نے کہا ہے کہ تمہیں کھانے پر بلاؤں"۔
ان کے چہرے پر جو معصوم فاتحانہ مسکراہٹ تھی، وہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
جب پہلی بار انہوں نے ویڈیو کال کی اور اپنے نواسے کو دیکھا، تو وہ رونے لگیں۔ میں نے پوچھا: "امی جان کیوں رو رہی ہیں؟"
انہوں نے کہا: "یہ ایجاد کرنے والا جنت میں جائے گا۔ اس نے تو میری آنکھیں ٹھنڈی کر دیں۔"
ایک بار گرمیوں کے دن تھے۔ وہ لاہور میرے پاس آئیں۔ طبیعت کچھ کمزور تھی تو میں نے ان کے لیے آئس کریم منگوائی۔
انہوں نے پہلا چمچ منہ میں ڈالا، ٹھہر گئیں، پھر حیران ہو کر بولیں: "یہ کیا ہے؟ خیر جو بھی ہے۔۔۔ ذائقہ بہت اچھا ہے!"
وہ عورت جو میرے لیے پوری زندگی کی "پہلی چیزیں" قربان کرتی رہی۔۔۔ اور مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔
امی جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ آخری گھونٹ چائے چھوڑ دیتی تھیں۔
ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا: "امی جان، یہ آخری گھونٹ کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟"
وہ مسکرائیں: "بیٹا، یہ گھونٹ اس لیے چھوڑتی ہوں کہ تم بچپن میں کہا کرتی تھی 'امی جو چھوڑ دیں وہ میری ہے'۔ اب بھی تمہارے لیے چھوڑتی ہوں۔"
یہ سن کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ماں کا پیار نہ عمر دیکھتا ہے، نہ وقت۔۔۔ وہ تو بس بہتا رہتا ہے۔
جب میں ان یادوں کے ہار کو ہاتھ میں لیتی ہوں تو دل میں ایک سمندر اٹھتا ہے:
شکر: کہ مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا۔
خوش نصیبی: کہ میں ان کے آخری دنوں میں ان کے پاس تھی، ان کی آواز سن سکی، ان کا ہاتھ پکڑ سکی۔
ہلکی سی ٹیس: کہ کاش میں اور بہتر کرتی۔۔۔ کاش میں نے انہیں مزید مسکرانے کے لمحے دیے ہوتے۔
یہ احساس شاید ہر اس دل میں ہوتا ہے جو "احسان" کے معیار کو دیکھ کر اپنی کمی محسوس کرتا ہے۔
جب میری والدہ محترمہ آخری دنوں میں تھیں، ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا: "بیٹا، تم نے مجھے بہت خوش رکھا۔"
اور آج جب میں "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" پر غور کرتی ہوں: تو ان کا یہ جملہ میرے لیے بخشش کی دستاویز لگتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کہیں میں اس تعریف کے قابل ہوں بھی یا نہیں؟ پھر دل ہی دل میں ان سے معافی مانگتی ہوں اگر کبھی کوئی بات بھول سے بھی انہیں تکلیف پہنچی ہو۔
ان یادوں سے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔ پر خوشی کے آنسو۔ دل بھر آتا ہے۔۔۔ امید سے۔ جان چاہتی ہے کہ کاش! ایک بار پھر وہ لمحے لوٹ آئیں۔
بس آپ سب سے بھی یہی گزارش ہے کہ: اگر آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں، تو آج ہی کوئی نیا سنہری لمحہ بنا لیجیے۔
ان کا ہاتھ تھام کر بیٹھ جائیے۔
ان کی پسندیدہ مٹھائی لے آئیے۔
بولئے: "آپ کیوں اتنے پیارے ہیں؟"
یہی لمحے کل آپ کی سب سے بڑی دولت بن جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ان سب کو جن کے والدین حیات ہیں ان کی بہترین خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے اور جن کے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں انھیں غریق رحمت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
آپ کی تحریر پڑھ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔ آپ بے حد خوش نصیب ہیں کہ آپ کو اپنی والدہ محترمہ کی خدمت کا موقع ملا، اور وہ آپ کی محبت اور خیال سے خوش تھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔
اللہ آپ سب کو جنت میں ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ جمع فرما دے، جہاں کبھی جدائی نہ ہو۔ آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آپ کی تحریر پڑھ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔ آپ بے حد خوش نصیب ہیں کہ آپ کو اپنی والدہ محترمہ کی خدمت کا موقع ملا، اور وہ آپ کی محبت اور خیال سے خوش تھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔
اللہ آپ سب کو جنت میں ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ جمع فرما دے، جہاں کبھی جدائی نہ ہو۔ آمین۔
آمین ثم آمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے ایک بیٹے کی طبیعت میں باقی بچوں کی نسبت ضدی پن تھوڑا زیادہ تھا۔ سکول سے واپسی کا منظر ہر روز ایک جنگ جیسا ہوتا۔۔۔ یونیفارم کا میدان، جوتوں کا مورچہ، بیگ کا محاذ۔ ایک انتہائی ضدی بچہ جتنا آپ تصور کر سکتے ہیں۔
حال ہی میں میں نے اس کے بارے میں ایک ماہرِ نفسیات دوست سے بات کی۔ انھوں نے مجھے میرے غصے کی کیمسٹری سمجھائی۔
مجھے بتایا کہ: "تمہاری ڈانٹ سنتے ہی تم دونوں کے دماغ میں "کورٹیسول" نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جو اسے لڑائی یا بھاگنے پر آمادہ کرتا ہے۔ تمہارا بیٹا یا تو مقابلے پر اتر آتا ہے، بات ماننے سے انکار کرتا ہے، یا پھر تمہاری نظریں چراتا ہے۔"
پہلے میں سخت لہجے میں کہتی تھی: "فوراً اٹھو اور اپنا سامان سنبھالو!"
پھر دوست کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے میں نے نرمی سے کہا: "ولی۔۔۔مما کا پیارا بچہ! یہ سامان کب تک بکھرا پڑا رہے گا؟"
کمال ہو گیا۔ وہی بچہ جو پہلے آنکھیں چراتا، جھنجھلاتا، آج مسکراتا ہوا اٹھا۔ پانچ منٹ میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔
مجھے احساس ہوا: یہ کوئی چھوٹا موٹا تجربہ نہیں تھا۔ یہ تو ایک انقلاب تھا۔
پہلے میں سمجھتی تھی کہ بیٹا میری بات نہیں سن رہا۔
آج پتہ چلا: وہ سنتا ضرور تھا، مگر میرے الفاظ ایسے خنجر تھے جو اسے میری بات ماننے سے روک رہے تھے۔
اللہ کی حکمت دیکھیے! قرآن نے "یا بُنَيَّ" کا لفظ سکھایا:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے کہتے ہیں: "یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرَىٰ فِی الْمَنَام۔۔۔" (الصافات: 102)
حضرت لقمان علیہ السلام نصیحت کرتے ہیں: "یَا بُنَیَّ أَقِمِ الصَّلَاة۔۔۔" (لقمان: 17)
حضرت یعقوب علیہ السلام وصیت فرماتے ہیں: "یَا بُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاك۔۔۔" (یوسف: 5)
کیا حکمت ہے یہ!
تین مختلف پیغمبر۔ تین مختلف حالات۔ مگر ایک ہی پیاری پکار: "یَا بُنَیَّ"
سبحان اللہ! یہ لفظ تو چودہ سو سال پہلے سے قرآن میں موجود تھا، جب نہ ہارمون کی سائنس تھی، نہ جدید نفسیات۔
آج میں نے جانا: "یا بُنَيَّ" کا لفظ کوئی جادو کی چھڑی نہیں تھا۔ یہ ایک حکمت تھی۔ ایک ایسا راستہ جو میرے غصے کے شور میں اس کے کان تک پہنچ سکا۔ چودہ سو سال پہلے کی یہ آواز آج میرے گھر میں گونجی، اور اس نے وہ کر دکھایا جو میری ہر ڈانٹ نہیں کر پائی تھی۔
سبحان اللہ! کتنی آسان راہنمائی تھی، جو میں نے اتنی دیر سے پائی۔ مگر شکر ہے کہ پا لی۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے بچوں کی بچپن میں بنائی ہوئی چند ڈرائنگز آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔
نہ وہ کوئی شاہکار ہیں، نہ رنگوں میں کوئی مہارت۔۔۔ بس ٹیڑھی میڑھی لائنیں، رنگ جو اکثر حدوں سے باہر نکل گئے، اور نقش جو مکمل ہونے سے پہلے ہی لڑکھڑا گئے۔
لیکن جب بھی میں انہیں دیکھتی ہوں، میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی اترتی ہے۔
ان میں معصومیت ہے۔۔۔ پہلی کوششوں کی سچائی ہے۔۔۔ محبت کی وہ نمی ہے جو صرف ماں کے دل کو نظر آتی ہے۔
کچھ ڈرائنگز تو میں نے فریم کروا کر دیواروں پر سجا رکھی ہیں۔
بچوں کو یہ سب اب مضحکہ خیز لگتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: "مما! یہ اتار دیں۔۔۔ اب ہمیں یہ یاد بھی نہیں۔۔۔ ان کی کوئی ویلیو نہیں!"
مگر میں نہیں مانتی۔ نہیں مان سکتی۔
کیونکہ میرے لیے یہ چند بے ربط لکیریں نہیں یہ ان کے دل کی پہلی زبان ہیں۔ ان کی پہلی محنت، پہلی خوشی، پہلی تخلیق۔
ایسی ہی ہماری عبادتیں اور نیکیاں بھی ہوتی ہیں۔۔۔ کبھی کمزور، کبھی ادھوری، کبھی ٹیڑھی میڑھی لکیروں کی طرح۔۔۔ لیکن نیت اور اخلاص اللہ کے ہاں اصل قدر رکھتے ہیں۔
اسی لیے رب تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝
"پس جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔" (الزلزال 7)
اللہ تعالیٰ ہماری چھوٹی سے چھوٹی کوشش کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں ہمارا ہاتھ لرزا، کہاں قدم ڈگمگایا، کہاں ہم نے پوری سچائی سے رنگ بھرنے کی کوشش کی۔ وہ ہماری محنت کو دیکھتا ہے اور اسی کو قبولیت کا تاج پہنا دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پہلی غلطی بھری ڈرائنگ کو دنیا کا سب سے بڑا شاہکار سمجھتی ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ (الزمر: 73)
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ
آج اس آیت کو پڑھ کر میں اپنے دل کے کھلے صفحات پلٹ رہی ہوں۔۔۔ وہ صفحات جہاں دنیا کے شور اور آخرت کی خاموشی دونوں کے نقوش ہیں۔
میری زندگی کے بیشتر سال "دنیاوی پروٹوکول" کی بھول بھلیوں میں بسر ہوئے۔
"میرے شوہر آرمی آفیسر ہیں" یہ جملہ میری زندگی کے بہت سے دروازے کھولتا ہے، اور بہت سے سچ مجھ پر عیاں کرتا ہے۔
انہی برسوں میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں عزت کس طرح ناپی جاتی ہے۔ کبھی کسی دعوت میں بیٹھ کر میں ہاتھوں کے زیوروں اور لباس کے برانڈز گنا کرتی تھی۔۔۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہاں عزت کا پیمانہ کیا ہے۔
میں نے بھی سمجھا تھا کہ عزت وہی ہے جو سٹیجوں پر ملتی ہے، مقام وہی ہے جو ناموں کے ساتھ لکھا جاتا ہے، پہچان وہی ہے جو عہدوں سے وابستہ ہوتی ہے۔
پہلے میرے اندر ایک کشمکش جاری رہتی تھی: میں بھی چاہتی ہوں کہ میری عزت ہو، میری قدر ہو۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ میرا استقبال ہو، میرا احترام ہو۔
مگر کیسے؟ کس فورم پر؟ کس سٹیج پر؟
گزشتہ دنوں میرے شوہر کی پروموشن کی تقریب تھی۔ میں وی آئی پی گیلری میں بیٹھی تھی۔
سامنے جوانوں کی ترتیب، یونیفارمز کی شان، موسیقی کی دھن، اور ہر جملے میں وفا اور قربانی کی خوشبو۔
وہ منظر دل موہ لینے والا تھا۔
کتنے لوگ ایک شخص کے لیے کھڑے ہو گئے!
کتنی دیر تک تیاری ہوئی!
کتنا پروٹوکول تھا!
مگر اسی لطف کے بیچ ایک خیال چُبھنے لگا:
جس دن موت کا فرشتہ آئے گا۔۔۔ کیا اس کے لیے بھی اتنی تیاریاں ہوں گی؟
قیامت کے دن۔۔۔ کیا وہاں بھی یونیفارم ہوگی؟
کیا وہاں بھی رینک، پروٹوکول اور کرسیوں کی ترتیب ہوگی؟
آہستہ آہستہ مجھے سمجھ آنے لگا کہ فوج ہمیں صرف وردی پہننے کا سلیقہ نہیں سکھاتی۔۔۔ یہ ہمیں نظم، اطاعت، وفاداری اور قربانی سکھاتی ہے۔
اور یہی تو دین ہم سے چاہتا ہے:
اللہ کے احکام کی پابندی (نظم)
اللہ اور رسول ﷺ سے وفا (وفاداری)
اس کی راہ میں جانی و مالی قربانی (قربانی)
اور جو حکم آئے، اس کے آگے سر جھکا دینا (اطاعت)
میں اکثر سوچتی ہوں: ہر نیا رینک یونیفارم کے سینے پر ایک نیا تمغہ کیوں جوڑ دیتا ہے؟
کیونکہ ہر تمغہ ایک قربانی کی، ایک خدمت کی، ایک وفا کی کہانی سناتا ہے۔
پھر دل سوال کرتا ہے:
میرے روحانی تمغے کہاں ہیں؟
کیا میری نمازیں اس قابل ہیں کہ وہ میڈل بن سکیں؟
کیا میرے روزے واقعی میرے رینک کو بڑھا رہے ہیں؟
کیا میرے صدقات میرا تعارف ہیں یا محض رسم؟
اب میں تقریبات میں بیٹھتے یہ نہیں سوچتی کہ: "کون کہاں بیٹھا ہے؟ کس کا رینک کیا ہے؟"
میں یونیفارم کی عزت دیکھ کر سوچتی ہوں: قیامت کے دن ہم کون سا لباس پہنیں گے؟
میں سلامی دیتے جوانوں کو دیکھ کر سوچتی ہوں: فرشتے جب آئیں گے۔۔۔ وہ کس طرح سلام کریں گے؟
میں عہدوں کی ترتیب دیکھ کر سوچتی ہوں: رب کے حضور ترتیب کس بنیاد پر ہوگی؟ رینک پر۔۔۔ یا دل کی پاکی پر؟
میں نے یہ سیکھا ہے کہ اصل ترقی لیفٹیننٹ سے جنرل بننے میں نہیں بلکہ گنہگار سے اللہ کا مقرب بندہ بننے میں ہے۔
اور اب میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میرا روحانی رینک اتنا بلند ہو کہ فرشتے کہیں: "یہ فلاں افسر کی بیوی نہیں۔۔۔ یہ تو رب کی مقرب بندی ہے۔"
ہر فوجی تقریب کے بعد میرے دل سے ایک دعا بے اختیار نکلتی ہے: "یا اللہ! جس طرح یہ جوان اپنے کمانڈر کے وفادار ہیں، مجھے اپنے رب کی وفادار بنا۔ جس طرح یہ اپنے عہدے کا احترام کرتے ہیں، مجھے اپنے انسان ہونے کا احترام سکھا۔ جس طرح یہ یونیفارم کو عزت دیتے ہیں، مجھے تقویٰ کے لباس کو عزت دینا سکھا۔ اور جس دن یہ سب یونیفارم اتر جائیں گے، اس دن مجھے اپنے حضور عزت والا لباس پہنا۔
آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج جب میں سورۃ التکاثر کی آیت "ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ" پر غور کر رہی تھی، تو دل میں خیال ابھرا: "بھول جانا" بھی کی ایک نعمت ہے۔
اللہ نے مجھے نسیان کی صلاحیت عطا کی، لیکن میں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے پیچیدہ اور خودساختہ اصول بنا لیا۔
میری بھولنے کی فہرست انتخابی ہے۔
جو چیزیں مجھے شرمندہ کریں، جن کے ذریعے مجھے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنا پڑے، جن کے باعث مجھے اپنے رب کے حضور جواب دینا پڑے۔۔۔ میں اکثر انہیں فوراً بھول جاتی ہوں۔
اور جو یادیں میرے نفس کو خوش کریں، غرور کو غذا دیں، اور خود پسندی کی بنیاد رکھیں، انہیں میں اپنے حافظے کے سب سے مضبوط خانے میں محفوظ کر لیتی ہوں۔
آج اس آیت پر غور کرتے ہوئے دل میں سوال جاگا:
کیا قیامت کے دن میرے بھولنے کا بھی حساب ہوگا؟
کیا وہ دن جب میں نے کسی کی دل آزاری کو سہولت سے بھلا دیا؟
وہ لمحے جب میں نے کی ہوئی توبہ کو دوبارہ توڑ دیا؟
وہ موڑ جب میں اللہ کے احسانات کو اپنی چالاکی اور ذہانت کا نتیجہ سمجھ بیٹھی۔۔۔ کیا یہ سب کسی کھاتے میں لکھا جاتا ہوگا؟
میں نے سوچا۔۔۔ ہاں، ضرور ہوگا۔
کیونکہ نعمت صرف وہ نہیں جو دکھائی دے، نعمت وہ بھی ہے جو چھپی ہوئی ہو، جس کی قدر نہ کی جائے مگر پھر بھی عطا رہے۔
میرے رب کا نظام کتنا کامل ہے! اس نے بھولنے کی طاقت دی، مگر ساتھ ہی یاد رکھنے کے بے شمار سہارے بھی رکھ دیے۔
قرآن کو ذکر بنایا۔۔۔ یعنی یاد دہانی۔
ضمیر کو اندر رکھا۔۔۔ تاکہ جھنجھوڑ سکے۔
کائنات کو نشانیوں سے بھر دیا۔۔۔ تاکہ راستہ کبھی بھول نہ جائے۔
شاید مجھ سے رب پوچھے:
"میں نے تجھے بھولنے کی قوت اس لیے دی تھی کہ تو زخموں سے نکل سکے، لیکن تو نے اسی قوت سے میری نعمتیں بھلا دیں۔
تجھے دوسروں کے قصور تو یاد رہتے تھے، مگر میرے احسانات کیوں بھول گئی؟
میں نے نسیان کو رحمت بنایا تھا، اور تو نے اسے اپنے لیے غفلت کا ذریعہ بنا لیا۔"
اس آیت نے مجھے سکھایا ہے کہ بھولنے کا صحیح مصرف یہ ہے کہ انسان وہ سب بھلا دے جو دل کو سخت کرتا ہے، اور وہ سب یاد رکھے جو دل کو نرم، شکر گزار اور اللہ کے قریب کرتا ہے۔
نسیان ایک نعمت ہے لیکن صرف اُس وقت جب اسے حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یہ وہ چاقو ہے جو ناسور زخم کاٹ سکتا ہے، مگر غلط ہاتھ میں ہو تو دل کی حیات بھی چھین لیتا ہے۔
اللہ ہمیں نسیان کی اس نعمت کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان نعمتوں کا شکر گزار بنا دے جنہیں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔
آمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(سورۃ بقرۃ آیت 200)
اس آیت پر غور کرتے ہوئے میرے دل میں سوال اٹھا:آخر وہ لوگ جن کی دعا صرف "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا" تک محدود رہتی ہے، ان کے لیے آخرت میں "کوئی حصہ" کیوں نہیں رہتا؟
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ آیت مجھے ایک باریک نکتے کی طرف توجہ دلا رہی ہو:صرف دنیا مانگنا شاید محض "درخواست" نہیں۔۔۔ یہ کہیں نہ کہیں آخرت کو پس منظر میں بھیج دینے کا ایک انتخاب بن جاتا ہے۔
میرے دل میں ایک تصویر ابھری:
جیسے کوئی شہنشاہ اپنے دربار میں کھڑے شخص سے پوچھے: "تمہیں کیا چاہیے؟ میری دوستی چاہیے؟ میرا قرب؟ میری سلطنت میں بلند مقام؟"
اور وہ شخص کہے: "نہیں، بس محل کے باہر پڑی ہوئی ایک پرانی کرسی دے دیں۔"
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا"اسی پرانی کرسی جیسا مطالبہ ہے جہاں انسان کسی بڑی حقیقت کو جانے بغیر کسی چھوٹی سہولت پر مطمئن ہو جاتا ہے۔
مجھے اس آیت سے ایک نفسیات بھی سمجھ آئی:
جو شخص اپنی خواہشات، دعاؤں اور توجہ میں آخرت کو غائب رکھتا ہے، وہ دراصل ایسی زندگی گزار رہا ہوتا ہے جو آخرت کے بغیر ڈیزائن ہوئی ہے۔ اس کی پوری زندگی کا "سوفٹ ویئر" یہ ہوتا ہے:
IF (دنیا مل جائے) THEN (خوش) ELSE (ناشکری)
اس پورے کوڈ میں "آخرت" کا کوئی variable ہوتا ہی نہیں۔
جب میں اس آیت پر رکتی ہوں، تو خود سے پوچھتی ہوں:
کیا میری دعائیں "رب" سے شروع ہو کر "دنیا" پر ختم ہو جاتی ہیں؟
جب میں "یا اللہ" کہتی ہوں، کیا دل میں کوئی چھپی شرط ہوتی ہے؟
کیا میں اللہ کی نعمتوں کو اُس کی ذات سے زیادہ عزیز رکھتی ہوں؟
مجھےیہاں ایک بنیادی فرق نظر آتا ہے۔ ایک عاشق اور ایک سودے باز کا فرق۔ ایک عاشق محبوب چاہتا ہے۔۔۔ چاہے محبوب تکلیف ہی کیوں نہ دے۔
ایک سودے باز فائدہ چاہتا ہے۔۔۔ اور فائدہ نہ ملے تو وہ رشتہ ہی توڑ دیتا ہے۔
میں نے جانا کہ"آتِنَا فِي الدُّنْيَا" دراصل رب سے تعلق کو شرطیہ بنانے جیسی ہے۔
اور "ربنا آتنا فی الدنیا حسنةً وفی الآخرة حسنةً" بے شرط سرنڈر ہے: "اے رب! ہم تجھے ہر حال میں رب مانتے ہیں اب تو جہاں چاہے، جیسا چاہے، دے۔ ہماری کوئی شرط نہیں۔"
اور یہی وہ خلاق ہے۔۔۔ آخرت کا "حصہ"۔۔۔ جو صرف انہی لوگوں کو ملے گا جو رب سے بے شرط تعلق رکھتے ہیں۔
آخری سوال جو میرے دل میں رہ جاتا ہے:
کیا میرا دل "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا" والوں میں سے ہے، یا "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً" والوں میں سے؟
اور شاید یہ سوال ہی میری سب سے بڑی تلاش ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا" (البقرۃ: 200)
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً" (البقرۃ: 201)
آج میں ان دعاؤں پر دوبارہ رکی اور عجیب سا احساس دل میں ابھرا۔ دونوں دعائیں ایک ہی مقام پر موجود ہیں، دونوں میں اللہ سے مانگنا ہے، دونوں میں انسان اپنا ہاتھ پھیلا رہا ہے لیکن " حَسَنَۃ" کا فرق ہے۔ اور اسی فرق نے مجھے اندر تک جھنجھوڑا۔
پہلی دعا کے الفاظ ہیں: "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا"۔
میں نے ان الفاظ کو دیکھا اور پہلی بار سوچا: یہاں "حَسَنَۃ" کا لفظ یکسر غائب کیوں ہے؟ محض "دنیا"۔ اس کی کمی میں ایک ساری کہانی پنہاں محسوس ہوئی۔ شاید اس لیے کہ جب انسان صرف دنیا چاہتا ہے تو وہ "بھلائی" کا تعین بھی خود کرنے لگتا ہے۔ اس وقت اسے نہ خیر کی فکر ہوتی ہے، نہ انجام کی۔ اسے بس چاہیے ہوتا ہے۔ چاہے اس کے ذریعے وہ خود کو کھو دے، کسی حد کو روند دے، یا کسی کو تکلیف پہنچا دے۔
یہاں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعا دراصل ان دلوں کی ترجمانی ہے جو دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بھول چکے ہوتے ہیں کہ اصل کامیابی کیا ہے۔
پھر آگے دوسری دعا آئی:
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً"
یہاں دنیا بھی مانگی گئی ہے، اور آخرت بھی۔ لیکن "حَسَنَةً" کے ساتھ۔
دونوں میں خیر، دونوں میں بھلائی، دونوں میں اللہ کی رضا۔
اور مجھے لگا جیسے قرآن مجھے کہہ رہا ہو: دنیا کی طلب بری نہیں۔۔۔ بری اس دنیا کی طلب ہے جس میں خیر کی حدیں نہ ہوں۔
میں نے خود سے پوچھا:
میری اپنی دعائیں کس جیسی ہیں؟
میں دنیا "جیسی مجھے چاہیے" مانگتی ہوں یا دنیا "جیسی اللہ کی نظر میں خیر ہے"؟
اور سب سے زیادہ لرزا دینے والی بات یہ تھی کہ پہلی دعا والوں کے بارے میں اللہ نے کہا ہے: وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
(ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔)
بس یہیں آ کر دل نرم ہو جاتا ہے۔
یا رب! مجھے دنیا بھی دے، ضرور دے، لیکن حَسَنَةً دے۔ اور آخرت میں بھی وہ خیر عطا کر جو ہمیشہ باقی رہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
چند سال پہلے میرا فیملی کے ساتھ راکاپوشی بیس کیمپ تک جانے کا اتفاق ہوا۔
آج، جب میں سورۃ العنکبوت کی یہ آیت پڑھ رہی تھی، تو بیس کیمپ کے راستے کی ہر مشکل گھڑی اور وہاں پہنچ کر ملنے والا سکون، دونوں ایک ساتھ میرے ذہن میں تازہ ہو گئے۔
مناپن گاؤں سے ناپسندیدہ راستے کا سفر شروع ہوا تو پہلا قدم ہی بتا رہا تھا کہ یہ آزمائش آسان نہیں ہو گی۔ گھنے جنگلات کے بیچ زِگ زیگ کھڑی چڑھائیوں پر ہر قدم ایک بوجھ تھا۔
پاؤں میں درد، سانس کا پھول جانا، اور جسم کا سردی اور تھکن سے چور ہو جانا، یہ سب ایسی ناپسندیدہ چیزیں تھیں جن سے گزرنا ضروری تھا۔
خاص طور پر ہپاکُن سے بیس کیمپ تک کا آخری مرحلہ، جہاں پتھریلا اور پھسلن بھرا راستہ اچانک بلند ہو جاتا ہے اور میناپن گلیشیئر کی برفانی ہوا ہڈیوں میں اتر جاتی ہے۔
مجھے کئی بار خیال آیا کہ "یہ کیا کر رہی ہوں؟ واپس چلنا چاہیے۔ گرم چائے، نرم بستر، آرام۔ یہاں کیا ہے؟ برف، پتھر اور تھکاوٹ۔"
خیر راستہ طے کیا گیا اور نفس کی غیر پسندیدہ باتوں کا ثمر سامنے آیا۔ وہ لمحہ جب آخری چٹانی موڑ عبور ہوتا ہے اور اچانک راکاپوشی کا عظیم الشان چہرہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ایک دیو قامت برف کا تاج محل۔ اس منظر کی شان و شوکت کو الفاظ میں قید کرنا ممکن نہیں۔
میں نے کبھی ایسی چمکتی ہوئی سفیدی نہیں دیکھی تھی۔ برف کا پہاڑ سورج میں ایسا جگمگا رہا تھا جیسے چاندی کا ایک زندہ مجسمہ ہو۔ نیلا آسمان اتنا صاف تھا کہ لگتا تھا میں اس کو چھو سکتی ہوں۔ اور خاموشی۔۔۔ اتنی گہری خاموشی کہ میں اپنے دل کی دھڑکن سن سکتی تھی۔
سب کچھ بھول گئی۔ تھکاوٹ، ڈر، شکایات۔۔۔ سب اس نظارے میں تحلیل ہو گئیں۔
اور پھر آج، سالوں بعد، جب میں یہ آیت پڑھ رہی ہوں:
"أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ"
تو مجھے یوں لگا جیسے یہ سوال مجھ سے براہِ راست پوچھا جا رہا ہو۔
کیا ہم واقعی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ صرف کہہ دینے سے، صرف نیت باندھ لینے سے، راستے ہموار ہو جایا کرتے ہیں؟
مناپن سے بیس کیمپ تک کا سفر شاید اسی سوال کا عملی جواب تھا۔ آزمائش، تھکن اور بے دلی یہ سب راستے کا حصہ تھیں۔ مگر ہر قدم، چاہے کتنا ہی ناپسندیدہ کیوں نہ ہو، آگے بڑھنے کے لیے ضروری تھا۔
اب میں سوچتی ہوں کہ میں نے وہ انتہائی مشکل سفر کیوں کیا؟
صرف اس عظیم الشان پہاڑ کی ایک جھلک کے لیے۔
ایک ایسے منظر کے لیے جس کے بارے میں میں نے صرف دوسروں سے سنا تھا، اسے خود دیکھنا تھا، خود محسوس کرنا تھا۔
اب مجھے یہ ادراک ہوا کہ کچھ حقیقتیں سن لینے سے حاصل نہیں ہوتیں۔ انہیں پانے کے لیے راستہ خود طے کرنا پڑتا ہے، تھکن خود اٹھانی پڑتی ہے، اور نفس کی ناپسندیدگیوں سے خود گزرنا پڑتا ہے۔
آزمائشیں آتی ہیں، تھکاوٹیں بھی۔
راستہ کبھی ہموار نہیں ہوتا، اور کئی لمحے ایسے آتے ہیں جب پلٹ جانا آسان محسوس ہوتا ہے۔
مگر ان سب کے پار اللہ کا وعدہ ہے "جنت"۔
شاید اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ (صحیح مسلم، حدیث: 2822)
یعنی جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، اور جہنم کو خواہشات سے۔
ہم نے ایک عارضی حسن کے لیے ایک کٹھن اور ناپسندیدہ راستہ عبور کیا،
تو پھر جنت، جو اصل اور ابدی منزل ہے، وہ بغیر آزمائش، بغیر مشقت، اور بغیر اپنے نفس کا بوجھ اٹھائے کیسے مل سکتی ہے؟
شاید ہر آزمائش اس لیے ہے کہ ہمارا ایمان محض الفاظ نہ رہے۔ کہ ہم صرف کہنے والے نہ رہیں، بلکہ چلنے والے بن جائیں۔
اور جب ہم اپنی آخری منزل پر پہنچیں، تو ہمارے پاؤں کی چھالے، ہماری سانسوں کی تکلیف، اور ہمارے نفس کی ہر شکایت ہمارے "آمَنَّا" کا ثبوت بن جائے۔
آج میں اس آیت کو پڑھتی ہوں، اور راکاپوشی کا وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
میں سمجھ جاتی ہوں کہ آزمائش کا مطلب ترک نہیں، بلکہ امتحان ہے۔
اور ہر امتحان کے بعد ایک ایسا نظارہ ہوتا ہے، جس کے سامنے ہر مشقت ہلکی پڑ جاتی ہے۔
 
Top