قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
فرض کریں آپ کو ایک شاندار باغ دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دروازہ کھلا ہے، فضا خوشبو سے بھری ہے، ہر طرف ترتیب، رنگ اور زندگی ہے۔
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
 
Last edited by a moderator:
  • پسند کریں
Reactions: Rua

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
حال ہی میں ہم نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دل کے ایک گوشے میں امیدوں کے پھول کھِل رہے ہیں کہ وہ سیکھے گا، بڑھے گا، دنیا کو سمجھے گا۔
اور دوسرے گوشے میں ایک خاموش سا خوف ہے جو بار بار سوال بن کر اُبھرتا ہے:
کیا وہ نماز کو تھامے رکھے گا؟
کیا قرآن اس کی زندگی کا حصہ رہے گا؟
کیا ایمان اس کے دل میں محفوظ رہے گا؟
مجھے ڈر اس بات کا نہیں کہ میرا بیٹا دور چلا جائے گا، ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں اس کا دین پیچھے نہ رہ جائے۔
اسی ڈر میں مجھے حضرت یوسفؑ یاد آتے ہیں۔
وہ تو ایسے ماحول میں تھے جہاں اللہ کا نام ہی اجنبی تھا، جہاں خواہش طاقتور تھی اور ایمان تنہا۔ پھر بھی انہوں نے کہا:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ"
"اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید) اللہ کا ہم پر اور تمام لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" (سورۃ یوسف: 38)
یہ جملہ مجھے ہلا دیتا ہے۔
یہ کسی درسگاہ میں نہیں کہا گیا، یہ کسی محفوظ ماحول میں نہیں کہا گیا، یہ اس وقت کہا گیا جب ایمان ہی واحد پہچان تھا۔
اور میں اپنے بیٹے میں بس یہی دیکھنا چاہتی ہوں۔
یہ نہیں کہ وہ ہر جگہ سب سے آگے ہو، یہ نہیں کہ وہ ہر نظام میں فِٹ ہو جائے، بلکہ یہ کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی وہ اللہ کو نہ بھولے۔
اسی لیے میں اپنے خوف اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔۔
آج کا فیصلہ محض تعلیم کا نہیں، ایمان کی ایک نئی منزل کا آغاز ہے۔
میری رب باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو وہی بنیادیں دوں جیسی حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیں۔
پھر چاہے وہ کسی بھی زمین پر چلا جائے، کسی بھی ثقافت میں رہے، وہ ہمیشہ یہی کہے:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ۔۔۔"
یہی وہ روشنی ہے جو نہ کنویں میں بجھتی ہے، نہ قید میں، نہ اختیار کے محل میں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

Rua

Rua Tzachaq
رکن
فرض کریں آپ کو ایک شاندار باغ دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دروازہ کھلا ہے، فضا خوشبو سے بھری ہے، ہر طرف ترتیب، رنگ اور زندگی ہے۔
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
سبحان اللہ
 

Rua

Rua Tzachaq
رکن
حال ہی میں ہم نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دل کے ایک گوشے میں امیدوں کے پھول کھِل رہے ہیں کہ وہ سیکھے گا، بڑھے گا، دنیا کو سمجھے گا۔
اور دوسرے گوشے میں ایک خاموش سا خوف ہے جو بار بار سوال بن کر اُبھرتا ہے:
کیا وہ نماز کو تھامے رکھے گا؟
کیا قرآن اس کی زندگی کا حصہ رہے گا؟
کیا ایمان اس کے دل میں محفوظ رہے گا؟
مجھے ڈر اس بات کا نہیں کہ میرا بیٹا دور چلا جائے گا، ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں اس کا دین پیچھے نہ رہ جائے۔
اسی ڈر میں مجھے حضرت یوسفؑ یاد آتے ہیں۔
وہ تو ایسے ماحول میں تھے جہاں اللہ کا نام ہی اجنبی تھا، جہاں خواہش طاقتور تھی اور ایمان تنہا۔ پھر بھی انہوں نے کہا:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ"
"اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید) اللہ کا ہم پر اور تمام لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" (سورۃ یوسف: 38)
یہ جملہ مجھے ہلا دیتا ہے۔
یہ کسی درسگاہ میں نہیں کہا گیا، یہ کسی محفوظ ماحول میں نہیں کہا گیا، یہ اس وقت کہا گیا جب ایمان ہی واحد پہچان تھا۔
اور میں اپنے بیٹے میں بس یہی دیکھنا چاہتی ہوں۔
یہ نہیں کہ وہ ہر جگہ سب سے آگے ہو، یہ نہیں کہ وہ ہر نظام میں فِٹ ہو جائے، بلکہ یہ کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی وہ اللہ کو نہ بھولے۔
اسی لیے میں اپنے خوف اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔۔
آج کا فیصلہ محض تعلیم کا نہیں، ایمان کی ایک نئی منزل کا آغاز ہے۔
میری رب باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو وہی بنیادیں دوں جیسی حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیں۔
پھر چاہے وہ کسی بھی زمین پر چلا جائے، کسی بھی ثقافت میں رہے، وہ ہمیشہ یہی کہے:
"وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ۔۔۔"
یہی وہ روشنی ہے جو نہ کنویں میں بجھتی ہے، نہ قید میں، نہ اختیار کے محل میں۔
آمین یا رب العالمین۔
ماشاءاللہ
اللہ آپکی بصیرت کو سلامت رکھے اور آپ کی ذریت کو آپ کیلئے اجر عظیم کا ذریعہ بنائے۔ آمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
قدرت کی سب سے گہری کسوٹی شاید یہی ہے کہ انسان کا دل کہاں بندھا ہوا ہے۔
زندگی کے آنگن میں جب خوشی کی دھوپ اترتی ہے، تو شکر کے سجدے اکثر ہونٹوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دل مطمئن ہوتا ہے، مگر آزمایا نہیں جاتا۔
پھر اچانک وہ لمحہ آتا ہے جب وہی آنگن سایوں میں ڈوبنے لگتا ہے۔ ہوا جیسے رک جاتی ہے، راستے الجھ جاتے ہیں، اور انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے۔
یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جہاں ایمان کی اصل تعمیر شروع ہوتی ہے۔
صبر یہاں خاموشی کا نام نہیں، نہ ہی بے حسی یا ہار مان لینے کا۔
صبر تو ایک زندہ، تپتا ہوا یقین ہے۔۔۔ ایسا یقین جو رب کی حکمت پر ٹکا رہتا ہے، خواہ آنکھیں جواب مانگ رہی ہوں۔
اسی یقین کو قرآن نے سہارا دیا:
لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: 286)
یہ آیت محض تسلی نہیں، یہ اعلان ہے: تم جس بوجھ کے نیچے کھڑے ہو، وہ تمہاری سکت سے باہر نہیں۔
کیونکہ جس رب نے بوجھ رکھا ہے اسی نے قوت بھی ودیعت کی ہے۔
اور پھر رب خود واضح کر دیتا ہے کہ آزمائش کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک طے شدہ سنت ہے:
وَ لَنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ (البقرۃ: 155)
گویا رب پہلے ہی بتا دیتا ہے: خوف آئے گا، کمی آئے گی، ٹوٹنے کے مرحلے آئیں گے، لیکن بشارت انہی کے لیے ہے جو صبر کو تھام لیں۔
اسی بیچ ایک احساس دل کو سنبھال لیتا ہے ایسا احساس جو دکھ کے شور میں بھی خاموش تسلی بن کر اترتا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مسلمانوں کے بچے جنت کے ایک پہاڑ میں رہتے ہیں، جہاں سیدنا ابراہیمؑ اور سیدہ سارہؑ ان کی کفالت فرماتے ہیں، اور قیامت کے دن انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیا جائے گا۔ (سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3986)
یہ محض خبر نہیں، یہ ٹوٹے دل کے لیے رب کا پیغام ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی نظر آزمائش سے ہٹ کر آزمائش دینے والے پر جا ٹھہرتی ہے۔
یہاں صبر کوئی بوجھ نہیں رہتا، بلکہ قرب کی ایک صورت بن جاتا ہے۔
آنکھیں اگرچہ بھیگ جاتی ہیں، مگر دل گواہی دینے لگتا ہے کہ رب غافل نہیں۔
جب سب کچھ چھن جانے کا احساس گھیر لے، تو یہی یقین سہارا بنتا ہے: کہ جس نے لیا ہے وہی اپنے پاس محفوظ بھی رکھتا ہے۔ ایسے مقام پر جہاں نہ جدائی ہے، نہ محرومی۔
تب انسان آہستہ سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم پر کیا گزری، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس کے ساتھ جُڑے رہے۔
اور جو دل آزمائش میں بھی اپنے رب سے بندھا رہے، وہی سرخرو ٹھہرتا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میں نے ایک لرننگ پروگرام جوائن کیا۔ عنوان تھا: "Created in Pairs: Mercy and Forgiveness in Marriage"۔
Day 1: The Sacred Foundation of Marriage میں ایک سوال تھا:
"What might change if you approached every challenge as an opportunity to earn His pleasure together"
یہ سوال محض ایک ریفلیکشن نہیں تھا۔ یہ ایک وقفہ تھا۔
ایک ایسا لمحہ جس نے مجھے آگے بڑھنے نہیں دیا، بلکہ سورۃ الروم، آیت 21 پر لا بٹھایا۔ اور وہاں بیٹھ کر میں نے خود کو دیکھا۔
میری شادی کو اس سال 17 سال ہو جائیں گے۔
میں وہ بیوی تھی جو محبت کو ایک احساس سمجھتی تھی، سکون کو حالات سے جوڑتی تھی، اور دل ہی دل میں یہ مانتی تھی کہ "اگر رشتہ درست ہے تو چیزیں خود بخود آسان ہو جائیں گی۔"
میں چاہتی تھی کہ مجھے سمجھا جائے، میری قدر کی جائے، میرے زخم پہلے دیکھے جائیں۔
مودّت میرے لیے ہنسی، وقت، توجہ کا نام تھی اور رحمت بس ایک خوبصورت لفظ، کتابوں کی زینت۔
پھر میں اس آیت کے سامنے ٹھہر گئی:
"وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً"
اور یہیں سے ایک مجبوری شروع ہوئی۔۔۔ سوچ بدلنے کی مجبوری۔
میں اس نتیجے پر پہنچی: مودّت فطری تحفہ ہے، لیکن رحمت ایک اخلاقی انتخاب۔
جب دل زخمی ہو، جب توقع پوری نہ ہو، جب انصاف میرے ہاتھ میں ہو، اس لمحے مودّت اکثر چھپ جاتی ہے۔
اور عین وہیں رحمت کا انتخاب اصل امتحان بن جاتا ہے: سوچنا، سمجھنا، معاف کرنا، اور خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا۔
میں نے سیکھا: "میں تم سے ناراض ہوں" کہنے سے زیادہ طاقتور جملہ یہ ہے: "چلو، اس مسئلے کو اللہ کی رضا کے لیے سلجھاتے ہیں۔"
یہ جملہ رحمت کو صرف جذبہ نہیں، بلکہ اوزار بنا دیتا ہے۔
پھر آیت کا اگلا حصہ مجھے تھام لیتا ہے:
"لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ"
پہلے میرا سوال تھا: "وہ کیوں نہیں بدلتے؟"
اب سوال بدل گیا ہے: "اس صورتِ حال میں، اللہ مجھ سے کیا تبدیلی چاہ رہا ہے؟ کس صبر، کس نرمی، کس حکمت کا امتحان ہے؟"
یوں میری توجہ "اُن کی تبدیلی" سے ہٹ کر "اپنی تربیت" پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اب میں سمجھتی ہوں کہ: ہر جھگڑا، ہر تناؤ، ہر خاموشی درحقیقت غور کرنے کا موقع ہے۔
اس آیت نے مجھے آہستہ آہستہ یہ سکھایا کہ: "سکینۃ مانگنے کی چیز نہیں، بنانے کی ذمہ داری ہے۔"
مودّت خوشی کے دنوں میں خود آ جاتی ہے، لیکن رحمت وہ شعوری انتخاب ہے جو مشکل میں کرنا پڑتا ہے: میں نرم رہوں، جب حق میرے پاس ہو۔ دعا کروں، جب شکایت آسان ہو۔ ساتھ کھڑی رہوں، جب الگ ہو جانا آسان لگے
اور میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ: ہر چیلنج ایک امتحان ہے مگر اکیلے کا نہیں، ہم دونوں کا۔
یہ آیت مجھے: "مودّت کی وارث" سے "رحمت کی وکیل" بنا دیتی ہے۔ اور یہیں سے اصل سکینۃ جنم لیتا ہے۔
کیونکہ سکینۃ کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمان سے اترے بلکہ سکینۃ وہ فضا ہے جو دو دل اللہ کی رضا کے لیے رحمت چُن کر تعمیر کرتے ہیں۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
آج میں نے ایک لرننگ پروگرام جوائن کیا۔ عنوان تھا: "Created in Pairs: Mercy and Forgiveness in Marriage"۔
Day 1: The Sacred Foundation of Marriage میں ایک سوال تھا:
"What might change if you approached every challenge as an opportunity to earn His pleasure together"
یہ سوال محض ایک ریفلیکشن نہیں تھا۔ یہ ایک وقفہ تھا۔
ایک ایسا لمحہ جس نے مجھے آگے بڑھنے نہیں دیا، بلکہ سورۃ الروم، آیت 21 پر لا بٹھایا۔ اور وہاں بیٹھ کر میں نے خود کو دیکھا۔
میری شادی کو اس سال 17 سال ہو جائیں گے۔
میں وہ بیوی تھی جو محبت کو ایک احساس سمجھتی تھی، سکون کو حالات سے جوڑتی تھی، اور دل ہی دل میں یہ مانتی تھی کہ "اگر رشتہ درست ہے تو چیزیں خود بخود آسان ہو جائیں گی۔"
میں چاہتی تھی کہ مجھے سمجھا جائے، میری قدر کی جائے، میرے زخم پہلے دیکھے جائیں۔
مودّت میرے لیے ہنسی، وقت، توجہ کا نام تھی اور رحمت بس ایک خوبصورت لفظ، کتابوں کی زینت۔
پھر میں اس آیت کے سامنے ٹھہر گئی:
"وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً"
اور یہیں سے ایک مجبوری شروع ہوئی۔۔۔ سوچ بدلنے کی مجبوری۔
میں اس نتیجے پر پہنچی: مودّت فطری تحفہ ہے، لیکن رحمت ایک اخلاقی انتخاب۔
جب دل زخمی ہو، جب توقع پوری نہ ہو، جب انصاف میرے ہاتھ میں ہو، اس لمحے مودّت اکثر چھپ جاتی ہے۔
اور عین وہیں رحمت کا انتخاب اصل امتحان بن جاتا ہے: سوچنا، سمجھنا، معاف کرنا، اور خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا۔
میں نے سیکھا: "میں تم سے ناراض ہوں" کہنے سے زیادہ طاقتور جملہ یہ ہے: "چلو، اس مسئلے کو اللہ کی رضا کے لیے سلجھاتے ہیں۔"
یہ جملہ رحمت کو صرف جذبہ نہیں، بلکہ اوزار بنا دیتا ہے۔
پھر آیت کا اگلا حصہ مجھے تھام لیتا ہے:
"لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ"
پہلے میرا سوال تھا: "وہ کیوں نہیں بدلتے؟"
اب سوال بدل گیا ہے: "اس صورتِ حال میں، اللہ مجھ سے کیا تبدیلی چاہ رہا ہے؟ کس صبر، کس نرمی، کس حکمت کا امتحان ہے؟"
یوں میری توجہ "اُن کی تبدیلی" سے ہٹ کر "اپنی تربیت" پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اب میں سمجھتی ہوں کہ: ہر جھگڑا، ہر تناؤ، ہر خاموشی درحقیقت غور کرنے کا موقع ہے۔
اس آیت نے مجھے آہستہ آہستہ یہ سکھایا کہ: "سکینۃ مانگنے کی چیز نہیں، بنانے کی ذمہ داری ہے۔"
مودّت خوشی کے دنوں میں خود آ جاتی ہے، لیکن رحمت وہ شعوری انتخاب ہے جو مشکل میں کرنا پڑتا ہے: میں نرم رہوں، جب حق میرے پاس ہو۔ دعا کروں، جب شکایت آسان ہو۔ ساتھ کھڑی رہوں، جب الگ ہو جانا آسان لگے
اور میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ: ہر چیلنج ایک امتحان ہے مگر اکیلے کا نہیں، ہم دونوں کا۔
یہ آیت مجھے: "مودّت کی وارث" سے "رحمت کی وکیل" بنا دیتی ہے۔ اور یہیں سے اصل سکینۃ جنم لیتا ہے۔
کیونکہ سکینۃ کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمان سے اترے بلکہ سکینۃ وہ فضا ہے جو دو دل اللہ کی رضا کے لیے رحمت چُن کر تعمیر کرتے ہیں۔
رحمت کو اس طرح سمجھانا واقعی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ بہت دل سے جڑی اور بامعنی تحریر ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
 
Top