فرض کریں آپ کو ایک شاندار باغ دیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دروازہ کھلا ہے، فضا خوشبو سے بھری ہے، ہر طرف ترتیب، رنگ اور زندگی ہے۔
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
باغ کا مالک آپ سے کہتا ہے: "اندر آئیں۔۔۔ دیکھیں، محسوس کریں، لطف اندوز ہوں۔"
اب ذرا ٹھہر کر خود سے پوچھئے: کیا آپ واقعی باغ کے اندر داخل ہوں گے؟ یا دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا نقشہ دیکھنے میں ہی مصروف رہیں گے؟
قرآن ہمیں بعینہٖ یہی سوال دیتا ہے۔ مگر باغ کے بارے میں نہیں، دین کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"
یہاں قرآن ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا انتخاب کرتا ہے۔
جمہور مفسرین نے السِّلم کا معنی اسلام ہی لیا ہے، مگر اس لفظ نے مجھے یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تفسیر بغوی میں آتا ہے:
وَأَصْلُ السِّلْمِ مِنَ الِاسْتِسْلَامِ وَالِانْقِيَادِ (معالم التنزیل، دار طیبۃ، ص 240)
یعنی السِّلم کی جڑ استسلام (خود سپردگی) اور انقیاد (بلا مزاحمت اطاعت) ہے۔
مجھے یہاں ایک نہایت باریک فرق نظر آیا کہ:
اسلام دین کا نام ہے۔ ایک شناخت، ایک نسبت، ایک اعلان۔ انسان اسلام کو: جان سکتا ہے، مان سکتا ہے، بیان کر سکتا ہے، اس سے وابستگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسلام زبان پر بھی ہو سکتا ہے، ذہن میں بھی، اور معلومات کی حد تک بھی۔
مگر السِّلم ایک اور سطح ہے۔ السِّلم دین کی وہ حالت ہے جہاں انسان اپنی پسند، اپنی انا، اپنی ترجیحات آہستہ آہستہ چھوڑ کر حکمِ الٰہی کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا: "ادخلوا" کیونکہ داخلہ کسی نام میں نہیں ہوتا، داخلہ ایک فضا، ایک نظام، ایک طرزِ زندگی میں ہوتا ہے۔
اسلام سمجھا جاتا ہے، السِّلم جیا جاتا ہے۔ اسلام علم پیدا کرتا ہے، السِّلم اطاعت پیدا کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دین پر بات کرنے والا نہیں رہتا، دین کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔
اور پھر فرمایا: "كَافَّةً" پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جزوی اطاعت نہیں، منتخب احکام نہیں، صرف وہ گوشے نہیں جو آسان لگیں۔
کیونکہ باغ میں داخل ہونے والا ایک کیاری چن کر باہر نہیں رہتا، وہ خود کو پورے باغ کے سپرد کر دیتا ہے۔
آج مجھے احساس ہوا کہ یہ آیت ہمیں یہ نہیں کہہ رہی: "مسلمان بن جاؤ"۔ یہ آیت خاموشی سے کہہ رہی ہے: اسلام کو اپنی شناخت نہ رہنے دو، اسے اپنی حالت بنا لو۔
اسلام نقشہ ہے اور السِّلم وہ باغ ہے جہاں یہ نقشہ حقیقت بن جاتا ہے۔
اور اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اسلام کے بارے میں جاننے پر رکے ہوئے ہیں؟ یا واقعی السِّلم میں داخل ہو چکے ہیں؟
Last edited by a moderator: