"وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ"
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں) [سورۃ الاحزاب:35]
آج صبح بچوں کے لیے ناشتہ بناتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ کیا ان گھریلو مصروفیات کے ہجوم میں میرے لیے "ذکرِ کثیر" کی کوئی گنجائش ہے؟
عام طور پر "ذکرِ کثیر" سے مراد صرف زبان سے تسبیحات پڑھنا لیا جاتا ہے، لیکن در حقیقت ذکرِ کثیر محض چند الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ "یادِ الٰہی" ہے جو زبان سے شروع ہو کر دل میں اترتی ہے اور ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
دل کی بات کہوں تو رمضان کی آمد پر میں بھی پہلے یہی سوچتی تھی: "اب تو اور زیادہ مصروفیات بڑھ جائیں گی۔۔۔ سحری، افطاری، بچوں کا سکول، گھر کی اضافی تیاریاں۔۔۔"
مگر صاحبِ تفسیر "تیسیر القرآن" اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
"باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت (ذکر) کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جاسکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔"
بس اسی بات نے میرا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب میں ان گھریلو کاموں کو رکاوٹ نہیں بلکہ "ذکرِ کثیر" کا سنہری موقع سمجھتی ہوں۔ کیوں نہ ہم ان مبارک کلمات کو ابھی سے اپنے روزمرہ کے کاموں کی خوشبو بنا لیں:
1) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، اور رحمن کو محبوب ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم (صحیح بخاری، حدیث 6406)
2) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حدیث میں آتا ہے کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 6610)
3) سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چار کلمات ہیں (صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5601)
کتنا آسان ہے نا؟
مختصر دعائیں، کثیر مواقع اور اجر کے بے حساب خزانے!
دعا ہے کہ اس رمضان ہمارے ذکر کی ننھی بوندیں اتنی جمع ہوں کہ دل کا صحرا گلستان بن جائے اور ہماری عام سی مصروفیات بھی بندگی کا درجہ پا لیں۔
آمین یا رب العالمین۔
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں) [سورۃ الاحزاب:35]
آج صبح بچوں کے لیے ناشتہ بناتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ کیا ان گھریلو مصروفیات کے ہجوم میں میرے لیے "ذکرِ کثیر" کی کوئی گنجائش ہے؟
عام طور پر "ذکرِ کثیر" سے مراد صرف زبان سے تسبیحات پڑھنا لیا جاتا ہے، لیکن در حقیقت ذکرِ کثیر محض چند الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ "یادِ الٰہی" ہے جو زبان سے شروع ہو کر دل میں اترتی ہے اور ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
دل کی بات کہوں تو رمضان کی آمد پر میں بھی پہلے یہی سوچتی تھی: "اب تو اور زیادہ مصروفیات بڑھ جائیں گی۔۔۔ سحری، افطاری، بچوں کا سکول، گھر کی اضافی تیاریاں۔۔۔"
مگر صاحبِ تفسیر "تیسیر القرآن" اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
"باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت (ذکر) کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جاسکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔"
بس اسی بات نے میرا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب میں ان گھریلو کاموں کو رکاوٹ نہیں بلکہ "ذکرِ کثیر" کا سنہری موقع سمجھتی ہوں۔ کیوں نہ ہم ان مبارک کلمات کو ابھی سے اپنے روزمرہ کے کاموں کی خوشبو بنا لیں:
1) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، اور رحمن کو محبوب ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم (صحیح بخاری، حدیث 6406)
2) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حدیث میں آتا ہے کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 6610)
3) سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چار کلمات ہیں (صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5601)
کتنا آسان ہے نا؟
مختصر دعائیں، کثیر مواقع اور اجر کے بے حساب خزانے!
دعا ہے کہ اس رمضان ہمارے ذکر کی ننھی بوندیں اتنی جمع ہوں کہ دل کا صحرا گلستان بن جائے اور ہماری عام سی مصروفیات بھی بندگی کا درجہ پا لیں۔
آمین یا رب العالمین۔