قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
"وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ"
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں) [سورۃ الاحزاب:35]
آج صبح بچوں کے لیے ناشتہ بناتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ کیا ان گھریلو مصروفیات کے ہجوم میں میرے لیے "ذکرِ کثیر" کی کوئی گنجائش ہے؟
عام طور پر "ذکرِ کثیر" سے مراد صرف زبان سے تسبیحات پڑھنا لیا جاتا ہے، لیکن در حقیقت ذکرِ کثیر محض چند الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ "یادِ الٰہی" ہے جو زبان سے شروع ہو کر دل میں اترتی ہے اور ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
دل کی بات کہوں تو رمضان کی آمد پر میں بھی پہلے یہی سوچتی تھی: "اب تو اور زیادہ مصروفیات بڑھ جائیں گی۔۔۔ سحری، افطاری، بچوں کا سکول، گھر کی اضافی تیاریاں۔۔۔"
مگر صاحبِ تفسیر "تیسیر القرآن" اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
"باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت (ذکر) کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جاسکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔"
بس اسی بات نے میرا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب میں ان گھریلو کاموں کو رکاوٹ نہیں بلکہ "ذکرِ کثیر" کا سنہری موقع سمجھتی ہوں۔ کیوں نہ ہم ان مبارک کلمات کو ابھی سے اپنے روزمرہ کے کاموں کی خوشبو بنا لیں:
1) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، اور رحمن کو محبوب ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم (صحیح بخاری، حدیث 6406)
2) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حدیث میں آتا ہے کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 6610)
3) سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چار کلمات ہیں (صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5601)
کتنا آسان ہے نا؟
مختصر دعائیں، کثیر مواقع اور اجر کے بے حساب خزانے!
دعا ہے کہ اس رمضان ہمارے ذکر کی ننھی بوندیں اتنی جمع ہوں کہ دل کا صحرا گلستان بن جائے اور ہماری عام سی مصروفیات بھی بندگی کا درجہ پا لیں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن
"وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ"
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں) [سورۃ الاحزاب:35]
آج صبح بچوں کے لیے ناشتہ بناتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ کیا ان گھریلو مصروفیات کے ہجوم میں میرے لیے "ذکرِ کثیر" کی کوئی گنجائش ہے؟
عام طور پر "ذکرِ کثیر" سے مراد صرف زبان سے تسبیحات پڑھنا لیا جاتا ہے، لیکن در حقیقت ذکرِ کثیر محض چند الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ "یادِ الٰہی" ہے جو زبان سے شروع ہو کر دل میں اترتی ہے اور ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
دل کی بات کہوں تو رمضان کی آمد پر میں بھی پہلے یہی سوچتی تھی: "اب تو اور زیادہ مصروفیات بڑھ جائیں گی۔۔۔ سحری، افطاری، بچوں کا سکول، گھر کی اضافی تیاریاں۔۔۔"
مگر صاحبِ تفسیر "تیسیر القرآن" اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
"باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت (ذکر) کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جاسکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔"
بس اسی بات نے میرا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب میں ان گھریلو کاموں کو رکاوٹ نہیں بلکہ "ذکرِ کثیر" کا سنہری موقع سمجھتی ہوں۔ کیوں نہ ہم ان مبارک کلمات کو ابھی سے اپنے روزمرہ کے کاموں کی خوشبو بنا لیں:
1) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، اور رحمن کو محبوب ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم (صحیح بخاری، حدیث 6406)
2) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حدیث میں آتا ہے کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 6610)
3) سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چار کلمات ہیں (صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5601)
کتنا آسان ہے نا؟
مختصر دعائیں، کثیر مواقع اور اجر کے بے حساب خزانے!
دعا ہے کہ اس رمضان ہمارے ذکر کی ننھی بوندیں اتنی جمع ہوں کہ دل کا صحرا گلستان بن جائے اور ہماری عام سی مصروفیات بھی بندگی کا درجہ پا لیں۔
آمین یا رب العالمین۔
آمین یا رب العالمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بقلم: فریال ریاض
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میری ایک بہت پیاری دوست سے بات ہوئی تو معلوم پڑا کہ اس نے اپنے کلائنٹ کو اللہ حافظ کہہ دیا۔ اور یہ صرف ایک ہی کلائنٹ تھا اس کے پاس۔ اصل میں وہ کچھ گیمنگ کے متعلق کام کر رہی تھی اور انھوں نے چیٹ کوڈز لکھنے کو کہا تھا۔ وہی چیٹ کوڈز جو آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ پر مل جاتے ہیں۔
خیر یہ فیصلہ اس کے لیے ہر گز آسان نہیں تھا لیکن اس نے کبھی غلط کام کرنے کو آپشن میں رکھا ہی نہیں ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اگر لکھ بھی دیتی تو: 1. نہ تو حکومت پاکستان نے کچھ کہنا تھا۔ 2. نہ کوئی قانون اسکے خلاف متحرک ہوتا۔ 3. شاید گھر والے اور دوست بھی غلط نہ کہے۔
تو پھر کونسی چیز ہے جو انسان کو ایسے روکتی ہے۔ سوچیں! 1-2-3۔ جی صحیح جواب، تقوی۔
خیر اس کو ایک اوپرچیونٹی ملی جس نے اسے کہا کہ آپ کا کام اتنا اچھا ہے کہ آپ کو انٹرنیشنل لیول پر کام کرنا چاہیے۔ حالانکہ اس کلائنٹ کو خود میری دوست کی ضرورت تھی اس نے پھر بھی اسے دوسری راہ دکھائی اور سارے پراسس میں مدد کی۔
اور اس کے بعد اسے بہت بہتر کام ملا۔ اس کیلئے وہ راستے کھلے جو شاید اس نے سوچے بھی نہ تھے کیونکہ اس نے پرانی کشتی جلا کر، محنت سے اللہ پر توکل کیا۔
وہ میرے فیورٹ لوگوں میں سے ہے اور اس جیسا بننا ایک خواب ہے۔ نقاب کرنا بھی آسان ہے اور داڑھی رکھنا بھی۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب کسی بھی کام میں انسان کی ایمانداری کا پتہ چلے ، خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد۔
کبھی آپ ایسی چیز کو غلط کہہ رہے ہوتے ہیں جو سارا معاشرہ یکسوں ہو کر صحیح سمجھتا ہے، جیسے کہ مائیکروسافٹ ورڈ کا پائریٹیڈ ورین استعمال کرنا۔ اور کبھی کبھار ایسی چیز کو معیوب سمجھتے ہیں جو اللہ کی نظر میں بالکل حلال ہے، جیسے رشتوں کے معاملے میں ذات کے مسائل لانا۔
اور ایسے میں حق کیلئے کھڑا ہونا بہت مشکل ہے لیکن جو اللہ پر توکل کرے تو وہ وہاں سے رزق کے دروازے کھولتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کیلئے راستہ جلدی کھل جائے اور کسی دوسرے کو لمبا انتظار کرنا پڑا۔ لیکن جو بھی ہے اگر آپ نے کبھی ایسے مسائل کا سامنا کیا ہے اور حق پر کھڑے رہے ہیں تو آپ واقعی ہی بہت بہادر ہیں، چاہے کسی کو دکھائی دے یا نہ دے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
کچھ دن معمولی نہیں ہوتے۔۔۔
چاہے وہ کیلنڈر کی تاریخوں اور وقت کی گرد میں کتنے ہی عام کیوں نہ دکھائی دیں۔ وہ خاموشی سے آتے ہیں، اور دل میں ایک نشان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
آج بھی ایسا ہی ایک دن تھا۔
ذمہ داریوں کی ایک طویل قطار ساتھ چل رہی تھی۔ لیکچرز، بیک ٹو بیک کلاسز، بیٹی کا چیک اپ، اور ذہن کے کسی گوشے میں آہستہ آہستہ دستک دیتی رمضان کی تیاریاں۔
کلاس ختم ہوئی تو ایک کولیگ سے ملاقات ہو گئی۔ باتوں کا رخ قرآنِ کریم کی طرف مڑ گیا۔
میں ان دنوں رمضان سیریز کے سلسلے میں سورۃُ الملک کی تیاری میں ہوں، اور وہ سورۃُ الرحمٰن کے اسرار و رموز کی تلاش میں ہیں۔
ہم دونوں اپنی اپنی سورتوں کے مزاج، ان کے جاہ و جلال، اور تدریس کے اسلوب پر بات کر رہی تھیں کہ اچانک ایک لڑکی قریب آ کر گفتگو میں شامل ہو گئی۔
وہ عربی اس قدر روانی اور خوبصورتی سے بول رہی تھی کہ لمحہ بھر کو ہم ٹھٹھک گئیں۔ الفاظ اس کے لہجے میں ایسے ڈھل رہے تھے جیسے عربی اس کی مادری زبان ہو۔
پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس نے برسوں پہلے عربی سیکھی تھی۔۔۔ اس زمانے میں، جب وہ "مسلمان" تھی۔
یہ جملہ دل کو چونکا گیا۔
میں نے بے اختیار پوچھ لیا: "تو کیا اب آپ مسلمان نہیں ہیں؟"
اس نے نہایت سکون، اور ایک عجیب سے ٹھہراؤ کے ساتھ جواب دیا: "نہیں۔"
پھر وہ بولی: "میں نے سورۃُ الرحمٰن بہت بار پڑھی ہے، مگر ایک الجھن نے میرا راستہ روک لیا۔ اس سورت کا آغاز "الرَّحْمٰن" سے ہوتا ہے۔۔۔ سراپا رحمت۔۔۔ پھر اسی سورت کے بیچ میں جہنم کا اتنا خوفناک، اتنا ہولناک ذکر کیوں ہے؟ مجھے اس تضاد کا کوئی جواب نہیں ملا، اور میں وہیں ٹھہر گئی۔"
میں خاموش ہو گئی۔
اسی لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ بعض اوقات انسان اللہ سے اس لیے دور نہیں ہوتا کہ وہ منکر ہوتا ہے، بلکہ اس لیے بھی دور ہو جاتا ہے کہ وہ کسی سوال کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔
اس کے جانے کے بعد میرا ذہن مسلسل اس "تضاد" کی گرہ کھولنے میں لگا رہا۔
کیا جہنم کا ذکر رحم کی نفی ہے؟ یا یہ رحمت ہی کا ایک جلال والا پہلو ہے؟ جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو آگ یا خطرے سے ڈراتی ہے۔ اس کے لہجے کی سختی اس کی نفرت نہیں، بلکہ اس کی ممتا کی انتہا ہوتی ہے۔ وہ ڈراتی ہے تاکہ بچا سکے، وہ خبردار کرتی ہے کیونکہ وہ کھونا نہیں چاہتی۔
مگر یہ سوال کہ رحمت اور عذاب کا یہ ساتھ کیسا ہے؟ صرف اس لڑکی کا نہیں ہوگا۔ یہ ان بہت سے ذہنوں کا سوال ہے جو مروجہ جوابات سے مطمئن نہیں ہوتے۔
میری کولیگ اب اپنی تیاری میں اس سوال کو ایک خاص مقام دے رہی ہیں۔
وہ اس الجھن کو کیسے سلجھاتی ہیں، اور اس تشنہ روح کے لیے کیا جواب لاتی ہیں۔۔۔ ان شاء اللہ، اس کا انتظار رمضان کی مبارک ساعتوں میں رہے گا۔
تب تک میرے پاس صرف ایک دعا ہے:
یا رب! کسی کو اس کے سوال کے ساتھ تنہا نہ چھوڑنا۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ہم پانچ بہنیں ہیں، اور میں؟
میں ٹھیک اس سینڈوچ کے بیچ والے کباب کی طرح ہوں جسے دونوں طرف سے ڈبل روٹی کے سلائس نے دبا کر رکھا ہوتا ہے!
میں تیسرے نمبر پر ہوں۔ ایک ایسا پل جو دو کناروں کو جوڑتا تو ہے، مگر خود بیچ منجدھار میں لٹکا رہتا ہے۔
بچپن سے امی (مرحومہ) کا ایک ہی ڈائیلاگ میرے لیے فکس تھا: "بڑیوں سے لڑتی ہو، شرم نہیں آتی؟" اور "چھوٹیوں سے الجھتی ہو، حیا نہیں آتی؟"
میں سوچتی، یا اللہ! یہ شرم اور حیا کیا صرف میرے حصے کے "جہیز" میں لکھ دی گئی تھی؟
امی کی عدالت میں میرا کیس ہمیشہ "ناکافی ثبوت" کی بنا پر میرے ہی خلاف بند ہوتا تھا!
اب ہم سب ماشاءاللہ اپنے گھروں کی ہیں، مگر ایک اصول طے ہے کہ مہینے میں ایک بار تو اکٹھا ہونا ہی ہے۔ اب میری بھی کچھ پرانی عادتیں ہیں، تھوڑا "وی آئی پی" بننے کی۔ کبھی تھکن کا رونا، کبھی کاموں کا انبار۔ پر سچ پوچھیں تو میں جان بوجھ کر "کچھ دیر" کر دیتی ہوں۔
جب وہ بار بار واٹس ایپ پر پوچھتی ہیں "کہاں ہو؟" تو سچ میں دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ وہ انتظار ہی تو اصل میں میرے حصے کا لاڈ ہے!
پچھلے ہفتے یہی شرارت الٹی پڑ گئی۔ میں دیر سے پہنچی تو سب نے ایسا "سائلنٹ ٹریٹمنٹ" دیا کہ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ میں نے سوچا چلو، اب جذبات سے کھیلتے ہیں۔
پہلے ایک معصوم سا "سوری" بھیجا، جواب ندارد!
پھر میں نے بھیجی ایک پیاری سی حدیث! سوچا اللہ کے رسول ﷺ کے فرمان کے آگے تو سب کے سر جھک جائیں گے، اب تو پگھلیں گی ہی۔
مگر مخلص بہنوں کا جواب بھی "ایٹم بم" نکلا: "اب حدیثیں یاد آ رہی ہیں؟ جب ہم پلکیں بچھائے بیٹھے تھے تب تمہاری مصروفیت کہاں تھی؟"
توبہ! وہ پتھر نہیں تھے، وہ تو سیدھے دل پر لگنے والے پیار بھرے طعنے تھے۔
میں نے انصاف کے لیے بڑی باجی کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر وہاں سے بھی وہی "یونیورسل" فتویٰ صادر ہوا: "بڑی کون ہے تم یا وہ؟"
میں وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی!
بڑی، بڑی ہے۔۔۔ چھوٹی، چھوٹی ہے۔۔۔ اور میں؟ نہ میں بڑیوں جیسی "باوقار" بن سکی، نہ چھوٹیوں جیسی "چہیتی"۔
میں تو بس درمیان کی وہ کڑی ہوں جس نے دونوں طرف کا بوجھ بھی اٹھانا ہے اور نخرے بھی سہنے ہیں۔
میری دعا اب یہ ہے کہ اگلی بار جب میں پھر سے کوئی شرارت کروں، تو وہ مجھے "طعنے" سنا کر لاجواب نہ کریں، بلکہ گیٹ پر کھڑی میرا رستہ تک رہی ہوں اور مجھے دیکھتے ہی کھلکھلا کر کہیں: "آ گئی ہماری وی آئی پی شہزادی؟ چل اب زیادہ نخرے نہ دکھا، تیرے بغیر چائے کا مزہ ہی نہیں آ رہا تھا!"
آخر کار، پل چاہے کنارے کا نہ ہو، پر کناروں کی اہمیت تو اسی پل سے ہوتی ہے نا؟
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے پاس ایک کمانڈو سٹائل ڈیگر (خنجر) ہے جو مجھے میرے شوہر نے تحفے میں دیا تھا۔ اس کے ہینڈل میں ایک ننھا سا کمپاس لگا ہوا ہے۔ آج نہ جانے کیوں میں اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگی۔
میں نے کمپاس پر نظر ڈالی تو حیران رہ گئی۔ سوئی درست سمت نہیں دکھا رہی تھی۔ میں نے اسے سیدھا کیا، ہلایا، مختلف زاویوں سے گھمایا مگر کچھ نہ بدلا۔
میرے شوہر یہ دیکھ رہے تھے، کہنے لگے: "بلیڈ باہر نکالیں اور پھر کمپاس چیک کریں۔"
میں نے جیسے ہی لوہے والا بلیڈ الگ کیا اور دوبارہ کمپاس کو دیکھا سوئی فوراً سیدھی ہو گئی۔ ایک دم واضح۔ ایک دم مطمئن۔
میں چند لمحوں کے لیے بھول گئی کہ کمپاس خود خراب نہیں ہوتا۔ وہ صرف قریبی مقناطیسی فیلڈ سے متاثر ہو جاتا ہے جو اس کے گرد پھیل جاتی ہے۔۔۔ خاموشی سے، نظر نہ آنے والی مگر اثرانداز۔
اور پھر اچانک میرے دل میں رمضان کا خیال آیا۔
رمضان بھی تو ہمارے لیے ایک کمپاس کی طرح آتا ہے۔ وہ ہماری زندگی کی سمت بدلنے نہیں آتا وہ ہمیں ہماری اصل سمت یاد دلانے آتا ہے۔ ہمیں دوبارہ align کرنے آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (سورۃ البقرہ 2:183)
"لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
"تقویٰ" کا لفظ "وقایہ" سے ہے یعنی بچاؤ، حفاظت، ڈھال۔
گویا روزہ ہمیں کسی چیز سے بچاتا ہے۔
وہ کیا چیز ہے؟
وہ باہر کی دنیا نہیں، بلکہ وہ اندرونی اور بیرونی 'مقناطیسی فیلڈز' ہیں جو ہمارے دل کی سوئی کو صراطِ مستقیم سے ہٹا دیتی ہیں۔
ہماری زندگی کی بے پناہ مصروفیات، سوشل میڈیا کا لامتناہی شور، دوسروں کی آراء کا بوجھ، بے جا مقابلے، حسد، ادھوری خواہشات اور بے نام اندیشوں کی فیلڈز ہم پر لگاتار اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔
یہ اثرات ہمیں مکمل طور پر نہیں کھینچتے، لیکن ہماری سمت میں وہ "معمولی سا انحراف" ضرور پیدا کر دیتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک بہت بڑی دوری میں بدل جاتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ:
دل بے چین کیوں ہے؟
عبادت میں وہ چاشنی کیوں نہیں؟
قرآن پڑھتے ہوئے توجہ کیوں منتشر ہو جاتی ہے؟
رمضان آتا ہے۔۔۔ تاکہ ان فیلڈز کی طاقت کو کم کر سکے۔
روزے میں جب ہم کھانا، خواہش، زبان اور نگاہ کو مصلحت کے دائرے میں لاتے ہیں، تو وہ مصنوعی مقناطیسی فیلڈز ڈھیلی پڑنے لگتی ہیں۔ تب انسان پہلی بار صاف دیکھ پاتا ہے کہ اس کا اصل رخ کس طرف ہونا چاہیے۔
رمضان دستک دے رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ میں اپنے دل کے گرد موجود مقناطیسی فیلڈز کو پہچانوں۔
اُن کششوں کو پہچانوں جو میری سوئی کو اصل سمت سے ہٹا رہی ہیں۔
اور پھر رمضان کی برکت سے اُن سے باہر آؤں۔
تاکہ میں بھی "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" میں شامل ہو سکوں۔
تاکہ میرے دل کا کمپاس بھی صراطِ مستقیم پر ٹھہر جائے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے نقاب کے نام (دل کی سچی بات)
یہ تحریر Anya Chung کی اصل انگریزی تحریر "a (very honest) letter to my niqab" کا ترجمہ ہے۔
اصل تحریر آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں:
a (very honest) letter to my niqab

میں نے یہ سب بہت جلدی میں لکھا ہے، اپنے نقاب کے سفر پر بیٹھ کر خاموشی سے غور کرتے ہوئے۔ یہ تحریر بالکل کچی ہے، بے ساختہ اور سچی۔ مگر دل میں امید ہے کہ شاید کوئی اس میں اپنا عکس دیکھ لے۔
کبھی کبھی میں خود کو مسکراتے ہوئے پکڑ لیتی ہوں جب وہ میرے چہرے سے لگا سکون سے ٹھہرا ہوتا ہے۔ نرم، سیاہ اور خاموش۔۔۔ کپڑے کا ایک سادہ سا ٹکڑا، مگر اپنے اندر کتنے معنی سموئے ہوئے۔ لوگ اسے ویسا نہیں دیکھتے جیسے میں دیکھتی ہوں۔ انہیں اس میں شدت نظر آتی ہے، اجنبیت یا جبر کا سایہ۔ وہ ایک علامت دیکھتے ہیں، انسان نہیں۔ مگر میرے لیے نقاب اختیار ہے۔ راحت ہے۔ شعوری عبادت ہے، جسے میں بار بار اپنے رب کی رضا کے لیے چنتی ہوں۔
لوگ کہتے ہیں اگر میں نقاب پہنوں گی تو کوئی نہیں جان پائے گا کہ میں کتنی مسکراتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں میری گرمجوشی چھپ جائے گی، میری شخصیت کپڑے کے نیچے گم ہو جائے گی۔ جیسے خوشی صرف ہونٹوں میں بسی ہو، جیسے مہربانی کا تعلق دکھائی دینے سے ہو۔ وہ نہیں جانتے کہ میری مسکراہٹ اب بھی زندہ ہے۔ وہ میری آنکھوں میں اتر آتی ہے، میری آواز میں گھل جاتی ہے، میرے چلنے کے انداز میں جھلکتی ہے۔ نقاب مجھے مٹاتا نہیں، مجھے نکھارتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ انسان ہونے کے لیے دنیا کو اپنا چہرہ پیش کرنا لازم نہیں۔
نقاب پہننا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ سڑکیں کبھی کبھی بے رحم ہو جاتی ہیں۔ لوگ چیختے ہیں، گھورتے ہیں، حد سے زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔ کبھی یوں لگتا ہے جیسے انہیں میرے وجود سے نفرت ہو، اور کبھی جیسے وہ مجھ پر ایسے معنی تھوپ رہے ہوں جن کی میں نے کبھی اجازت نہیں دی۔ جب تک کوئی خود یہ جملے نہ سن لے، اسے اندازہ نہیں ہوتا۔ کل ہی ایک شخص نے مجھے اور میری دوست کو ٹیسکو میں روکا اور نہایت گھٹیا، اسلاموفوبک اور جنسی نوعیت کا جملہ کہا۔ وہ لمحہ بوجھل تھا، تکلیف دہ، تھکا دینے والا۔ مگر اللہ کا اجر مسلسل ہے۔ ہر صبر، ہر خوف کے باوجود اٹھایا گیا قدم، ہر دل میں کی گئی خاموش دعا۔۔۔اس ذات کے ہاں محفوظ ہے جو مجھے سب سے بہتر جانتی ہے۔
خاندان کے معاملے میں نقاب سے محبت کرنا بھی آسان نہیں۔ وہ مجھ سے گہری محبت کرتے ہیں، مجھے معلوم ہے۔ ان کی فکر انکار نہیں، خوف سے جنم لیتی ہے۔ پھر بھی دل دکھتا ہے جب وہ نہیں سمجھ پاتے کہ میں نے یہ راستہ کیوں چنا۔ دکھ ہوتا ہے جب مجھے یوں لگتا ہے کہ میں انہیں مایوس کر رہی ہوں، حالانکہ میں اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں وہ ہر حال میں میرا ساتھ دیں گے، مگر دل کے کسی گوشے میں جانتی ہوں کہ وہ اب بھی میرے اس فیصلے سے پوری طرح مطمئن نہیں۔ میں امید کو تھامے ہوئے ہوں کہ ایک دن وہ وہ سکون دیکھ سکیں گے جو نقاب مجھے دیتا ہے، اور مکمل دل سے میرا ساتھ دیں گے۔ تب تک میں محبت اور درد دونوں کو ساتھ لیے چلتی ہوں۔ شاید یہ یہاں میری سب سے سچی بات ہے، مگر میرا یقین ہے کہ بہت سی نقاب پہننے والی اور حتیٰ کہ حجاب کرنے والی بہنیں بھی اس احساس سے جڑ جائیں گی۔
اور پھر قیاس آرائیاں ہیں، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے اندر، جو بعض لوگوں کے لیے حیران کن ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یقیناً میرے شوہر کی خواہش ہوگی، کہ مجھ پر دباؤ ہوگا، کہ میں خود یہ انتخاب کر ہی نہیں سکتی۔ جیسے میرا جسم کبھی میرا تھا ہی نہیں۔ جیسے عورت خود اپنے ایمان تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ گمان چبھتے ہیں۔ وہ ہمدردی کے نام پر میری خودمختاری چھین لیتے ہیں۔ مگر یہ فیصلہ میرا ہے۔ ہمیشہ میرا رہا ہے۔ اور ایک دن کے لیے بھی مجھے اس پر پچھتاوا نہیں ہوا۔
سب کچھ کے باوجود، مجھے نقاب سے محبت ہے۔ میں خود کو اس میں خوبصورت محسوس کرتی ہوں۔۔۔ باوقار، نرم اور مضبوط، سب ایک ساتھ۔ لوگ چاہے اسے سنت کہیں یا فرض، ہر حال میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ مجھے اللہ کے قریب کرتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ حیا سمٹ جانے کا نام نہیں، نیت کا نام ہے۔ نقاب مجھے دنیا کے سامنے خود کو پیش کرنے کے بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ وقت کے ساتھ اسے پہننے میں اور بھی اطمینان محسوس کروں۔ شاید اب وقت ہے کہ لوگوں کی رائے کی فکر چھوڑ کر صرف اپنے رب کے لیے جیا جائےاس کے لیے جو سب کچھ دیکھتا ہے، جس کا اجر کافی ہے۔
اور پھر بھی۔۔۔ میں فکر کرتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں لوگ کیا محسوس کرتے ہوں گے، مجھے کیسا دیکھتے ہوں گے۔ کبھی میں حد سے زیادہ پرواہ کرنے لگتی ہوں، اور اس پر اپنے رب سے معافی مانگتی ہوں۔ ان لمحوں پر معذرت خواہ ہوں جب میرا دل لرز جاتا ہے۔ میں سیکھ رہی ہوں۔ میں کوشش کر رہی ہوں۔ نقاب سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ جدوجہد ختم ہو جاتی ہے؛ اس کا مطلب ہے کہ میں ہر بار اسے شعوری طور پر چنتی ہوں۔
یہ صرف کپڑا نہیں۔ یہ ظاہر ہوتا ہوا ایمان ہے۔ یہ حفاظت ہے، عبادت ہے، آزادی ہے۔ اور میں اس پر شکر گزار ہوں، حتیٰ کہ سب سے کٹھن دنوں میں بھی۔
اور ہر اس لڑکی کے لیے جو نقاب پہننے کے بارے میں سوچ رہی ہے، جو دنیا سے یا خود اپنے دل سے لڑ رہی ہے،جدوجہد کرنا ٹھیک ہے۔ خوف محسوس کرنا، تذبذب میں ہونا بھی ٹھیک ہے۔ مگر یہ راستہ خوبصورت بھی ہے۔ ہر آنسو، ہر سرگوشی میں کی گئی دعا، ہر صبر بھرا قدم سفر کا حصہ ہے۔ یہ تمہاری عبادت کو کم نہیں کرتا، اسے اور گہرا کرتا ہے۔ تمہیں انسان ہونے کی اجازت ہے، اور تمہیں اپنے انتخاب سے محبت کرنے کی بھی اجازت ہے۔
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
میرے پاس ایک کمانڈو سٹائل ڈیگر (خنجر) ہے جو مجھے میرے شوہر نے تحفے میں دیا تھا۔ اس کے ہینڈل میں ایک ننھا سا کمپاس لگا ہوا ہے۔ آج نہ جانے کیوں میں اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگی۔
میں نے کمپاس پر نظر ڈالی تو حیران رہ گئی۔ سوئی درست سمت نہیں دکھا رہی تھی۔ میں نے اسے سیدھا کیا، ہلایا، مختلف زاویوں سے گھمایا مگر کچھ نہ بدلا۔
میرے شوہر یہ دیکھ رہے تھے، کہنے لگے: "بلیڈ باہر نکالیں اور پھر کمپاس چیک کریں۔"
میں نے جیسے ہی لوہے والا بلیڈ الگ کیا اور دوبارہ کمپاس کو دیکھا سوئی فوراً سیدھی ہو گئی۔ ایک دم واضح۔ ایک دم مطمئن۔
میں چند لمحوں کے لیے بھول گئی کہ کمپاس خود خراب نہیں ہوتا۔ وہ صرف قریبی مقناطیسی فیلڈ سے متاثر ہو جاتا ہے جو اس کے گرد پھیل جاتی ہے۔۔۔ خاموشی سے، نظر نہ آنے والی مگر اثرانداز۔
اور پھر اچانک میرے دل میں رمضان کا خیال آیا۔
رمضان بھی تو ہمارے لیے ایک کمپاس کی طرح آتا ہے۔ وہ ہماری زندگی کی سمت بدلنے نہیں آتا وہ ہمیں ہماری اصل سمت یاد دلانے آتا ہے۔ ہمیں دوبارہ align کرنے آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (سورۃ البقرہ 2:183)
"لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
"تقویٰ" کا لفظ "وقایہ" سے ہے یعنی بچاؤ، حفاظت، ڈھال۔
گویا روزہ ہمیں کسی چیز سے بچاتا ہے۔
وہ کیا چیز ہے؟
وہ باہر کی دنیا نہیں، بلکہ وہ اندرونی اور بیرونی 'مقناطیسی فیلڈز' ہیں جو ہمارے دل کی سوئی کو صراطِ مستقیم سے ہٹا دیتی ہیں۔
ہماری زندگی کی بے پناہ مصروفیات، سوشل میڈیا کا لامتناہی شور، دوسروں کی آراء کا بوجھ، بے جا مقابلے، حسد، ادھوری خواہشات اور بے نام اندیشوں کی فیلڈز ہم پر لگاتار اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔
یہ اثرات ہمیں مکمل طور پر نہیں کھینچتے، لیکن ہماری سمت میں وہ "معمولی سا انحراف" ضرور پیدا کر دیتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک بہت بڑی دوری میں بدل جاتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ:
دل بے چین کیوں ہے؟
عبادت میں وہ چاشنی کیوں نہیں؟
قرآن پڑھتے ہوئے توجہ کیوں منتشر ہو جاتی ہے؟
رمضان آتا ہے۔۔۔ تاکہ ان فیلڈز کی طاقت کو کم کر سکے۔
روزے میں جب ہم کھانا، خواہش، زبان اور نگاہ کو مصلحت کے دائرے میں لاتے ہیں، تو وہ مصنوعی مقناطیسی فیلڈز ڈھیلی پڑنے لگتی ہیں۔ تب انسان پہلی بار صاف دیکھ پاتا ہے کہ اس کا اصل رخ کس طرف ہونا چاہیے۔
رمضان دستک دے رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ میں اپنے دل کے گرد موجود مقناطیسی فیلڈز کو پہچانوں۔
اُن کششوں کو پہچانوں جو میری سوئی کو اصل سمت سے ہٹا رہی ہیں۔
اور پھر رمضان کی برکت سے اُن سے باہر آؤں۔
تاکہ میں بھی "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" میں شامل ہو سکوں۔
تاکہ میرے دل کا کمپاس بھی صراطِ مستقیم پر ٹھہر جائے۔
خنجر پڑھتے ہی دل میں آیا یا اللہ داور چاچو کی حفاظت فرما
بہت خوبصورت تحریر ماشاءاللہ
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بقلم: ایرج مرجان

خیط اسود سے خیط ابیض تک کا سفر
رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے روحانی اور بدنی ضروریات کی تکمیل کے اوقات کار متعین کئے ہیں۔ جب اندھیرا چھائے تو بدنی ضروریات کو پورا کرو اور جب روشنی ظاہر ہونے لگے تو اپنی روح کی نشو نما میں لگ جاؤ۔ پر یہ صرف رمضان تک ہی محدود نہیں، کیونکہ انسان کی زندگی ایسے ہی اندھیروں اور اجالوں کا مجموعہ ہے۔ پر ہمارا ان اندھیروں اور اجالوں کی طرف کیا ردعمل ہوتا ہے؟ یہ ردعمل عموماً رمضان سے برعکس ہوتا ہے۔ اور رمضان ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ روشنیوں کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے اور اندھیروں میں توجہ کہاں رکھنی ہے۔ ہماری زندگی میں آنے والی مشکلات اور آسانیاں ایسی ہی خیط اسود اور ابیض ہیں پر عموما ہم ان لمحوں کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہم آسانیوں میں، جب کہ روح کو تروتازہ رکھنے کا وقت ہوتا ہے، بدنی ضروریات میں محو رہتے ہیں پھر جب مشکلات کی سیاہی چھانے لگتی ہے تو ہم اپنی روح کے اندر جھانک کر دیکھتے ہیں، کوئی کمک ملی جائے جس سے اس مشکل کا سامنا کر سکیں، پر تب ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ کیونکہ جب روح کو سیراب کرنے کا وقت تھا ہم نے صرف بدن پر توجہ دی جب ہم روح کو سیراب نہیں کریں گے تو روح ہمیں طاقت کیسے مہیا کرسکتی ہے۔
آئیے اس رمضان غور کرتے ہیں کہ روح کی سیرابی کے اوقات کار کونسے ہیں اور کب بدنی ضروریات پہ توجہ دینی ہے تاکہ جب رمضان کے بعد ان اندھیروں اور روشنیوں کا سامنا ہو تو ہم جان چکے ہوں کہ ہم نے آسانیوں کی روشنیوں کو اپنی روحانی سفر کیلئے مشعلِ راہ بنانا ہے اور تاکہ جب اندھیرا چھائے تو بغیر پاؤں پھسلے اپنی روح کی رہنمائی میں یہ سفر طے کر سکیں
رمضان مبارک
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
اس رمضان میں نے کیا کیا نہیں کیا؟
رمضان کے اختتام پر انسان کے دل میں کچھ سوال خود بخود جاگ جاتے ہیں۔۔۔
جیسے کوئی مسافر منزل کے قریب آ کر اپنا سامان کھول کر دیکھتا ہے:
کیا پایا؟کیا کھویا؟اور کیا ابھی باقی ہے؟
یہ رمضان کیسا رہا؟
یہ اس سے نہیں ناپا جاتا کہ کتنے روزے رکھے (کیونکہ وہ تو فرض تھے)، بلکہ اس سے کہ:
کتنی بار دل نرم ہوا؟
کتنی بار آنکھ خود بخود بھیگ گئی؟
کتنی بار قرآن پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ مجھ سے بات کر رہا ہے؟
شاید یہی وجہ ہے کہ ہر رمضان مختلف ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ ہم پہلے جیسے نہیں رہتے۔
اب رمضان ختم ہو رہا ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں۔ نہیں، میں یہ نہیں سوچ رہی کہ میں نے کیا کیا۔ میں سوچ رہی ہوں کہ میں نے کیا کیا نہیں کیا۔ کیونکہ شاید جو نہیں کیا، وہ مجھے زیادہ سکھاتا ہے۔
میں نے پورا قرآن نہیں پڑھا۔
شعبان سے شروع کیا تھا۔ سوچا تھا رمضان تک مکمل کر لوں گی۔ رمضان آ گیا۔ رمضان گزر گیا۔ اور میں سورۃ اعراف تک ہی رکی رہی۔ قرآن نے مجھے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ رکنا، سوچنا، پھر رکنا۔ بس یہی سلسلہ رہا۔
شاید اللہ مجھے سورۃ اعراف میں کچھ دکھانا چاہتا تھا جو میں جلدی میں دیکھ نہ پاتی۔
میں نے نوافل کی لمبی فہرست پوری نہیں کی۔ شروع میں بڑی لمبی فہرست تھی۔ اتنے نوافل، قیام الیل، تہجد، چاشت، اشراق۔ لیکن آخری عشرے کی طاق راتوں میں بھی میں دو سے زیادہ نوافل نہ پڑھ سکی۔ دو ہی رہے۔ بس دو۔
میں نے اپنی دعاؤں کی ڈائری مکمل نہیں کی۔ ایک ڈائری تھی جس میں ہر روز نئے انداز میں دعا لکھنا چاہتی تھی۔ کئی صفحات خالی رہ گئے۔ وہ دن جب لفظ نہیں تھے، صرف آنسو تھے۔ وہ دن جب دعا کی جگہ صرف خاموشی تھی۔ وہ خالی صفحات اب بھی ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر انہیں بھرنے کی کوشش نہیں کی۔
صبح و شام کے اذکار باقاعدگی سے نہ کر سکی۔ صبح کے اذکار ہوتے کبھی، تو کبھی چھوٹ جاتے۔ شام کے اذکار کا بھی یہی حال۔ استغفار کی تسبیح تو بہت پیاری تھی مگر روزانہ نہ ہو سکی۔ درود شریف کی کثرت کا ارادہ تھا مگر وہ بھی رہ گیا۔
رشتہ داروں سے ملنا چاہتی تھی مگر نہ ہو سکا۔ سوچا تھا اس رمضان میں ان سب سے ملاقات کروں گی جن سے دل آزاد ہیں۔ دوستوں کو فون کروں گی۔ مگر رمضان گزر گیا اور باتیں رہ گئیں۔ کچھ رشتے ایسے بھی تھے جن میں تلخی تھی۔ سوچا تھا رمضان میں انہیں ختم کروں گی۔ مگر نہ کر سکی۔ اب بھی وہ تلخیاں ہیں، ویسی ہی۔
موبائل سے دوری کا ارادہ تھا مگر نہ ہو سکا۔ سوچا تھا سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑ دوں گی۔ مگر نہ چھوٹا۔ ہر روز نہیں تو کبھی کبھار دیکھ ہی لیا۔ غیر ضروری خبریں پڑھیں، ویڈیوز دیکھیں۔ وہ قیمتی وقت جو اللہ کے لیے تھا، وہ سکرین پر بہہ گیا۔
میں نے وہ سب کچھ نہیں کیا جو میں نے سوچا تھا۔
لیکن۔۔
لیکن ایک چیز تھی جو میں نے کی۔ صبح سحری سے پہلے، میں اٹھتی تھی۔ دو رکعتیں پڑھتی تھی۔ بس دو۔ تہجد کی دو رکعتیں۔
وہ دو رکعتیں اس رمضان کی سب سے خوبصورت عادت بن گئیں۔ کوئی شور نہیں، کوئی دکھاوا نہیں، بس اللہ اور میں۔ اور وہ سکون جو الفاظ میں نہیں آتا۔
شاید رمضان کا اصل تحفہ یہی ہے۔ کہ ہم وہ نہیں بن پاتے جو ہم بننا چاہتے تھے۔ لیکن جو بن پاتے ہیں، وہ ہماری حقیقت ہوتی ہے۔ اور اللہ حقیقت سے محبت کرتا ہے۔
اس رمضان نے مجھے ایک اور بات بھی سکھا دی: میں نے کمال نہیں پایا۔۔۔ لیکن میں نے استقامت کی خواہش پا لی۔
اب دل کی دعا بدل گئی ہے۔
اب یہ نہیں کہ: یا اللہ مجھے بہت زیادہ کرنے کی توفیق دے۔
بلکہ: یا اللہ مجھے تھوڑا دے۔۔۔ مگر ہمیشہ دے۔
تو المختصر میرا رمضان مبارک تھا؟
معلوم نہیں، رمضان رحمت تھا۔ اور رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
عید مبارک
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
اس رمضان میں نے کیا کیا نہیں کیا؟
رمضان کے اختتام پر انسان کے دل میں کچھ سوال خود بخود جاگ جاتے ہیں۔۔۔
جیسے کوئی مسافر منزل کے قریب آ کر اپنا سامان کھول کر دیکھتا ہے:
کیا پایا؟کیا کھویا؟اور کیا ابھی باقی ہے؟
یہ رمضان کیسا رہا؟
یہ اس سے نہیں ناپا جاتا کہ کتنے روزے رکھے (کیونکہ وہ تو فرض تھے)، بلکہ اس سے کہ:
کتنی بار دل نرم ہوا؟
کتنی بار آنکھ خود بخود بھیگ گئی؟
کتنی بار قرآن پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ مجھ سے بات کر رہا ہے؟
شاید یہی وجہ ہے کہ ہر رمضان مختلف ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ ہم پہلے جیسے نہیں رہتے۔
اب رمضان ختم ہو رہا ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں۔ نہیں، میں یہ نہیں سوچ رہی کہ میں نے کیا کیا۔ میں سوچ رہی ہوں کہ میں نے کیا کیا نہیں کیا۔ کیونکہ شاید جو نہیں کیا، وہ مجھے زیادہ سکھاتا ہے۔
میں نے پورا قرآن نہیں پڑھا۔
شعبان سے شروع کیا تھا۔ سوچا تھا رمضان تک مکمل کر لوں گی۔ رمضان آ گیا۔ رمضان گزر گیا۔ اور میں سورۃ اعراف تک ہی رکی رہی۔ قرآن نے مجھے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ رکنا، سوچنا، پھر رکنا۔ بس یہی سلسلہ رہا۔
شاید اللہ مجھے سورۃ اعراف میں کچھ دکھانا چاہتا تھا جو میں جلدی میں دیکھ نہ پاتی۔
میں نے نوافل کی لمبی فہرست پوری نہیں کی۔ شروع میں بڑی لمبی فہرست تھی۔ اتنے نوافل، قیام الیل، تہجد، چاشت، اشراق۔ لیکن آخری عشرے کی طاق راتوں میں بھی میں دو سے زیادہ نوافل نہ پڑھ سکی۔ دو ہی رہے۔ بس دو۔
میں نے اپنی دعاؤں کی ڈائری مکمل نہیں کی۔ ایک ڈائری تھی جس میں ہر روز نئے انداز میں دعا لکھنا چاہتی تھی۔ کئی صفحات خالی رہ گئے۔ وہ دن جب لفظ نہیں تھے، صرف آنسو تھے۔ وہ دن جب دعا کی جگہ صرف خاموشی تھی۔ وہ خالی صفحات اب بھی ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر انہیں بھرنے کی کوشش نہیں کی۔
صبح و شام کے اذکار باقاعدگی سے نہ کر سکی۔ صبح کے اذکار ہوتے کبھی، تو کبھی چھوٹ جاتے۔ شام کے اذکار کا بھی یہی حال۔ استغفار کی تسبیح تو بہت پیاری تھی مگر روزانہ نہ ہو سکی۔ درود شریف کی کثرت کا ارادہ تھا مگر وہ بھی رہ گیا۔
رشتہ داروں سے ملنا چاہتی تھی مگر نہ ہو سکا۔ سوچا تھا اس رمضان میں ان سب سے ملاقات کروں گی جن سے دل آزاد ہیں۔ دوستوں کو فون کروں گی۔ مگر رمضان گزر گیا اور باتیں رہ گئیں۔ کچھ رشتے ایسے بھی تھے جن میں تلخی تھی۔ سوچا تھا رمضان میں انہیں ختم کروں گی۔ مگر نہ کر سکی۔ اب بھی وہ تلخیاں ہیں، ویسی ہی۔
موبائل سے دوری کا ارادہ تھا مگر نہ ہو سکا۔ سوچا تھا سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑ دوں گی۔ مگر نہ چھوٹا۔ ہر روز نہیں تو کبھی کبھار دیکھ ہی لیا۔ غیر ضروری خبریں پڑھیں، ویڈیوز دیکھیں۔ وہ قیمتی وقت جو اللہ کے لیے تھا، وہ سکرین پر بہہ گیا۔
میں نے وہ سب کچھ نہیں کیا جو میں نے سوچا تھا۔
لیکن۔۔
لیکن ایک چیز تھی جو میں نے کی۔ صبح سحری سے پہلے، میں اٹھتی تھی۔ دو رکعتیں پڑھتی تھی۔ بس دو۔ تہجد کی دو رکعتیں۔
وہ دو رکعتیں اس رمضان کی سب سے خوبصورت عادت بن گئیں۔ کوئی شور نہیں، کوئی دکھاوا نہیں، بس اللہ اور میں۔ اور وہ سکون جو الفاظ میں نہیں آتا۔
شاید رمضان کا اصل تحفہ یہی ہے۔ کہ ہم وہ نہیں بن پاتے جو ہم بننا چاہتے تھے۔ لیکن جو بن پاتے ہیں، وہ ہماری حقیقت ہوتی ہے۔ اور اللہ حقیقت سے محبت کرتا ہے۔
اس رمضان نے مجھے ایک اور بات بھی سکھا دی: میں نے کمال نہیں پایا۔۔۔ لیکن میں نے استقامت کی خواہش پا لی۔
اب دل کی دعا بدل گئی ہے۔
اب یہ نہیں کہ: یا اللہ مجھے بہت زیادہ کرنے کی توفیق دے۔
بلکہ: یا اللہ مجھے تھوڑا دے۔۔۔ مگر ہمیشہ دے۔
تو المختصر میرا رمضان مبارک تھا؟
معلوم نہیں، رمضان رحمت تھا۔ اور رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
عید مبارک
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ستائیس رمضان کو مجھے ایک خبر ملی۔۔۔
میری ایک بہت پیاری دوست کے ڈیڑھ سالہ بیٹے کی وفات ہو گئی۔
میں نے بس خبر سنی۔۔۔
اور کچھ لمحوں کے لیے جیسے اندر سے خالی ہو گئی۔
میں کئی دن تک غیر معمولی اداسی محسوس کرتی رہی۔
شاید اس لیے کہ ماں ہونے کے بعد کسی بھی بچے کی خبر صرف خبر نہیں رہتی۔۔۔ دل کا معاملہ بن جاتی ہے۔
میں بار بار یہی سوچتی رہی۔۔۔ ایک ماں اس صدمے کو کیسے برداشت کرتی ہوگی؟
وہ ڈیڑھ سال۔۔۔ کتنے خواب اس سے جڑے ہوں گے۔
پہلا لفظ۔۔۔
پہلے قدم۔۔۔
پہلی مسکراہٹ۔۔۔
اور پھر اچانک خاموشی۔
گھر تو وہی رہتا ہے۔۔۔ مگر آوازیں چلی جاتی ہیں۔
کھلونے تو وہی رہتے ہیں۔۔۔ مگر انہیں پکڑنے والے ننھے ہاتھ نہیں رہتے۔
ایسے لمحوں میں انسان کا دل بار بار ایک ہی حقیقت کی طرف پلٹتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران 3:185)
ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موت عمر نہیں دیکھتی۔۔۔
ترتیب نہیں دیکھتی۔۔۔
یہ نہیں دیکھتی کہ کون بچہ ہے اور کون بوڑھا۔
ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم سب ایک قطار میں کھڑے ہیں۔۔۔ مگر ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس قطار میں ہماری باری کب آنے والی ہے۔
میں نے اس واقعہ کے بعد اپنے بچوں کو کچھ زیادہ دیر تک دیکھا۔
بلاوجہ انہیں سینے سے لگایا۔
اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر بھی ادا کیا۔۔۔ اور ایک انجانا سا خوف بھی محسوس کیا۔
شاید ہر ماں ایسی خبر کے بعد یہی کرتی ہے۔۔۔
اپنی اولاد کو تھوڑا اور قریب کر لیتی ہے۔
کبھی کبھی اللہ کسی بچے کو لمبی زندگی نہیں دیتا۔۔۔
مگر اسے ایک خاص مقام دے دیتا ہے۔
اہلِ علم کہتے ہیں ایسے بچے خالی نہیں جاتے۔۔۔
وہ اپنے والدین کے لیے آخرت کا ذخیرہ بن جاتے ہیں۔
وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کے لیے رحمت کا ذریعہ بنیں گے۔
یہ سوچ کر دل کو ایک عجیب سی تسلی ملتی ہے کہ شاید یہ جدائی دائمی نہیں۔۔۔
یہ صرف ایک وقفہ ہے۔
اصل ملاقات تو وہاں ہوگی جہاں نہ بیماری ہوگی۔۔۔ نہ جدائی۔۔۔ نہ موت۔
اس واقعہ نے مجھے ایک اور حقیقت بھی یاد دلائی:
ہم اس دنیا میں مالک نہیں۔۔۔ امین ہیں۔
ہمارے بچے۔۔۔
ہمارے رشتے۔۔۔
ہماری خوشیاں۔۔۔
سب امانتیں ہیں۔
اور امانت کا اصول یہ ہوتا ہے کہ جب مالک واپس مانگ لے تو امانت دار کے پاس صبر کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
قرآن اسی کیفیت کا ایک جملے میں علاج دیتا ہے:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ہم اللہ کے ہیں۔۔۔ اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
یعنی:
وہ بچہ بھی اللہ کا تھا،
اس کی ماں بھی اللہ کی ہے،
اور ہم سب کو بھی اسی کی طرف واپس جانا ہے۔
اس واقعہ نے مجھے ایک اور بات بھی سکھائی:
ہم ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ہم بچوں کو سنبھال رہے ہیں۔۔۔
لیکن حقیقت میں اللہ ہمیں بچوں کے ذریعے سنبھال رہا ہوتا ہے۔
وہ ہمارے دلوں میں رحمت پیدا کرتے ہیں۔۔۔
ہمیں نرم بناتے ہیں۔۔۔
ہمیں بے غرض محبت سکھاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی۔۔۔
وہی بچے ہمارے صبر کا امتحان بن کر ہمیں اللہ کے اور قریب کر دیتے ہیں۔
اللہ میری دوست اور سب اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،
اس کے ننھے فرشتے کو جنت کے باغوں میں جگہ دے،
اور اس کے اس صبر کو اس کے لیے روشنی بنا دے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
تحریر: نایاب افتخار

لیلۃ القدر: ایک رات۔۔۔ اور پوری زندگی
آج رمضان کی بیسویں رات ہے۔ دل عجیب سی کیفیت میں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت کسی خاص موڑ کے قریب پہنچ رہا ہو۔ کیونکہ رمضان کے آخری عشرے کی آمد کے ساتھ ہی ایک سوال دل میں بار بار اٹھنے لگتا ہے: لیلۃ القدر کیا ہے؟
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
تم کیا جانو کہ لیلۃ القدر کیا ہے۔
یہ جملہ ہمیشہ مجھے روک لیتا ہے۔ اللہ کیوں کہتے ہیں تم کیا جانو؟
گویا انسان کی عقل کو جھنجھوڑا جا رہا ہو۔ جیسے اللہ کہہ رہے ہوں: تم اپنی سوچ سے اس رات کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگر میں نہ بتاؤں تو تم کبھی نہیں جان سکتے کہ اس رات کی قدر کیا ہے۔ پھر اللہ خود جواب دیتے ہیں:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
ہزار مہینے۔۔۔ یعنی تقریباً تراسی سال۔ یہاں دل رک جاتا ہے۔ ایک طرف انسان کی پوری زندگی کی عبادت۔۔۔ اور ایک طرف ایک رات کی عبادت۔ ایک طرف ساری نمازیں، سارا ذکر، سارے سجدے۔۔۔ اور ایک طرف لیلۃ القدر کی ایک نماز، ایک دعا، ایک آنسو۔
ایسا کیوں؟ شاید اس لیے کہ ہم وقت کو گھنٹوں اور دنوں میں ناپتے ہیں اور اللہ اعمال کو اخلاص میں ناپتے ہیں۔ اسی لیے کبھی ایک لمحہ پوری زندگی سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔
پھر میں لفظ قدر کے بارے میں سوچنے لگتی ہوں۔ عربی میں قدر کے کئی معنی ہیں۔
قدر کا ایک معنی ہے اندازہ اور پیمائش۔ یعنی ہر چیز ایک الٰہی حساب کے ساتھ پیدا کی گئی ہے۔
قدر کا دوسرا معنی ہے اہمیت اور منزلت۔ یعنی کسی چیز کی اصل قیمت۔
اور قدر کا تیسرا معنی ہے تقدیر وہ فیصلہ جو اللہ کسی چیز کے بارے میں مقرر کر دیں۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں یہ تینوں معنی جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ رات عظیم قدر والی بھی ہے۔ اس میں اعمال کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اور اسی رات میں آنے والے سال کی تقدیریں بھی لکھی جاتی ہیں۔
پھر قرآن ایک اور منظر دکھاتا ہے:
تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا
اس رات فرشتے اترتے ہیں۔
لفظ تَنَزَّلُ بتاتا ہے کہ یہ نزول مسلسل ہوتا ہے۔ گویا آسمان سے فرشتوں کی ایک لہر زمین کی طرف آ رہی ہو۔ آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں، زمین پر بندے دعا کر رہے ہیں، اور رحمت دونوں کے درمیان بہہ رہی ہے۔ پھر قرآن کہتا ہے:
سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ
یہ پوری رات سلامتی ہے۔۔۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
سلامتی کس چیز کی؟
یہ رحمت کی سلامتی ہے۔ یہ مغفرت کی سلامتی ہے۔ یہ دلوں کے سکون کی سلامتی ہے۔
کبھی کبھی میں خود سے ایک عجیب سا تصور کرتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں۔۔۔ آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں۔ ہر گلی میں، ہر شہر میں، ہر گھر میں۔ زمین شاید پہلی بار اتنی آسمانی مخلوق سے بھر رہی ہو۔ اور پھر وہ زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ کوئی کسی مسجد کے پاس رک جاتا ہے۔ کوئی کسی سجدے کے پاس۔ کوئی کسی ایسے انسان کے قریب جو رات کے اندھیرے میں اللہ کو یاد کر رہا ہو۔
پھر میں سوچتی ہوں۔۔۔ کیا ہو اگر انہی فرشتوں میں سے کوئی میرے پاس آ کر رک جائے؟ وہ مجھے دیکھ رہا ہو جب میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤں۔
اور جب میں کہوں: یا اللہ۔۔۔
تو وہ آہستہ سے کہے: آمین۔
میں سوچتی ہوں۔۔۔ اگر کوئی فرشتہ میرے سجدے کے پاس کھڑا ہو اور دیکھ رہا ہو کہ میں اپنے رب کے سامنے جھک رہی ہوں۔
تو وہ کیا دیکھے گا؟ ایک ایسا دل جو واقعی اللہ کو چاہتا ہے؟ یا ایک ایسا دل جو صرف الفاظ دہرا رہا ہے؟
یہ خیال کبھی کبھی مجھے ہلا دیتا ہے۔ کیونکہ لیلۃ القدر میں ہم صرف اللہ کے سامنے نہیں ہوتے۔ ہم فرشتوں کی گواہی میں ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے پاس سے گزرتے ہیں۔ ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ ہمارے سجدوں کو دیکھتے ہیں۔
اور شاید آسمان کی طرف لوٹ کر کہتے ہوں:
یا رب۔۔۔
اس بندے نے واقعی تجھے پکارا تھا۔
یا شاید۔۔۔
وہ خاموشی سے گزر جاتے ہوں۔
پھر مجھے سورۃ القدر کی آخری آیت یاد آتی ہے:
سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ
یہ رات سلامتی ہے۔۔۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
یعنی پھر فجر آ جاتی ہے۔ فرشتے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ گلیاں ویسی ہی ہو جاتی ہیں۔ گھر ویسے ہی رہتے ہیں۔
مگر شاید کسی دل کے اندر کوئی چیز ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہوتی ہے۔ شاید کسی کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ شاید کسی کی تقدیر بدل چکی ہوتی ہے۔ شاید کسی کی وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے جو اس نے برسوں سے مانگی تھی۔ اور شاید کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اس رات سے گزر تو جاتا ہے مگر اسے پہچان نہیں پاتا۔
یہی خیال دل کو خاموش کر دیتا ہے۔
کیونکہ لیلۃ القدر کا سب سے بڑا راز شاید یہی ہے کہ یہ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتی۔ یہ رات شور سے نہیں آتی، یہ خاموشی سے دلوں کے پاس سے گزر جاتی ہے۔ اسی لیے شاید رمضان کے آخری دنوں میں دل بار بار یہی کہتا ہے:
اے اللہ۔۔۔ اگر وہ رات آ چکی ہو تو ہمیں اس سے محروم نہ کرنا۔ اور اگر وہ آنے والی ہو تو ہمیں اس کے لیے جگا دینا۔
کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہماری زندگی میں
کتنی لیلۃ القدر باقی ہیں۔۔۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
8 اپریل 2004۔۔۔ آج سے بہت مختلف تھا۔
گرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ گندم کی کٹائی کا موسم تھا۔ کھیت سنہری ہو چکے تھے۔
میرے والد صاحب گاؤں کے پرائمری سکول میں چپڑاسی تھے۔ گاؤں کے ایک بڑے راجہ صاحب نے ہمیں اپنی زمین کاشت کاری کے لیے دی ہوئی تھی۔ میرے والد صاحب اس میں گندم کاشت کرتے تھے۔
ہم سب بہنیں، امی اور ابا مل کر گندم کاٹتے تھے۔ صبح سویرے ہی کھیتوں میں چلے جاتے۔۔۔ ہلکی ٹھنڈی ہوا، مٹی کی خوشبو، اور ہاتھوں میں درانتی۔ گندم کاٹتے ہوئے ہاتھوں میں ہلکی ہلکی چبھن بھی ہوتی، کئی دفعہ انگلیاں کٹ جاتیں، دھوپ چڑھتی تو پسینہ آنکھوں میں اتر آتا، مگر کام روکنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ کبھی ہم تھک کر بیٹھ جاتے تو ابا کہتے: "بس تھوڑا سا اور۔۔۔" اور ہم پھر کھڑے ہو جاتے۔
کٹائی کے بعد ہم گندم کو کھلیان میں جمع کرتے۔ پھر ہوا چلنے کا انتظار کرتے۔۔۔ گندم کو اوپر اچھالتے اور ہوا کے سہارے بھوسہ الگ کرتے۔ ہوا اگر تیز چلتی تو ہم تیزی سے کام کرتے، اور اگر رک جاتی تو ہم بھی رک جاتے۔۔۔
ہم بار بار آسمان کی طرف دیکھتے کہ شاید اب چلے۔ کبھی امید بنتی، کبھی ٹوٹ جاتی۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ ہوا کب آتی اور کب چلی جاتی، لیکن دو تین دن کی مسلسل محنت، تھکن اور انتظار کے بعد گندم کھلیان میں ہی صاف ہو جاتی تھی۔
جب ہم صاف کر چکتے تو راجہ صاحب اپنا حصہ لینے آ جاتے۔ مجھے اس بات پر بہت غصہ آتا تھا۔ دل میں یہی آتا کہ آخر کیوں دیں؟ یہ تو ہم نے کاٹی ہے، ہم نے صاف کی ہے۔ لیکن وہ جو گندم میں نے خود صاف کی ہوتی، وہ اس میں سے لیتے بھی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے کہتے: "جو میری بیٹی کو چاہیے، وہ لے لے۔"
یہ بات میرے لیے بہت تسلی بخش ہوتی تھی۔ میں خوشی خوشی اپنے شکر پارے، بتاشے اور چھوٹی چھوٹی گولیوں کا بندوبست کر لیتی تھی۔
اسی سال۔۔۔ 8 اپریل 2004 کو۔۔۔ ایسے ہی گندم کی کٹائی کے دوران۔۔۔ میرے والد صاحب کو دل کا دورہ پڑا۔ ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ ابھی وہ ہمارے ساتھ تھے، اور اگلے ہی لمحے جیسے سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا۔ وہی کھیت تھے۔۔۔ وہی ہوا تھی۔۔۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔۔۔ بس میرے والد صاحب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔
اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ گھر وہی تھا۔۔۔ لوگ بھی وہی تھے۔۔۔ مگر زندگی جیسے اچانک بوجھل ہو گئی تھی۔
امی اکیلی ہو گئیں۔ وہی امی جو پہلے ہمارے ساتھ کھیتوں میں کام کرتی تھیں، اب ان کے کندھوں پر پورا گھر آ گیا تھا۔ صبح سے شام تک مشقت۔۔۔ کبھی کھیت، کبھی گھر، کبھی لوگوں کے کام۔۔۔ کبھی اپنے لیے وقت نہیں، کبھی آرام نہیں۔ کئی راتیں ایسی گزریں جب ہم سو جاتے تھے اور امی جاگتی رہتی تھیں۔۔۔ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ گھر کے خرچے کیسے چل رہے ہیں، کتنی فکر، کتنی تنگی، کتنی پریشانی ہے۔
ہم بہنیں بھی ساتھ ساتھ بڑی ہو گئیں۔ جو کام پہلے کھیل لگتے تھے، اب ذمہ داری بن گئے تھے۔ اب ہنسی کم اور سوچ زیادہ ہو گئی تھی۔
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔۔۔ اور پھر ایک ایک کر کے بہنیں اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئیں۔
ہر رخصتی کے ساتھ گھر اور خالی ہوتا گیا۔ دیواریں وہی رہیں، مگر آوازیں کم ہوتی گئیں۔
امی کی آنکھوں میں خوشی بھی ہوتی تھی، اور ایک چھپی ہوئی تنہائی بھی۔۔۔ جسے وہ کبھی زبان پر نہیں لاتیں تھیں۔
میں جب بھی ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو لگتا ہے۔۔۔ ہم سب نے جینا تو سیکھ لیا، مگر وہ سہارا کبھی واپس نہیں آیا۔
آج بھی جب گندم کی کٹائی کا موسم آتا ہے، ہوا چلتی ہے، کھلیان سجتے ہیں۔۔۔ تو سب کچھ ویسا ہی لگتا ہے۔
مگر دل جانتا ہے۔۔۔ وہی ہوا ہے۔۔۔ مگر ابا نہیں ہیں۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
سب کچھ آجاتا ہےلیکن از حد عزیز جان اگر رخصت ہوجائیں تو وہ واپس لوٹ کر نہیں آتے۔
اللہ پاک کامل مغفرت فرمائے،درجات بلند فرمائے،اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔آمین
 
Top