دو سال قبل عید الاضحی کی بات ہے۔ بڑی باجی کے گھر دعوت تھی، اور میرا سب سے بڑا بھانجا، میرا کیپٹن، چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ سب بھانجے بھانجیوں میں سے اس سے میری سب سے زیادہ بنتی تھی، اور سب خالاؤں میں سے اس کا جھکاؤ میری طرف زیادہ تھا۔
کھانا قریب قریب سب کھا چکے تھے۔ میں عادتاً سب سے آخر میں دسترخوان چھوڑتی ہوں۔ وہ بھی وہیں بیٹھا رہا۔ اپنی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "ماسی (خالہ)، چلیں۔۔۔ آپ کچھ سوچیں۔"
میں جانتی تھی، اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی شرارت ضرور ہے۔ میں نے ہنس کر کہا: "میری توبہ! جو تمہاری باتوں کے مطابق سوچنے کی غلطی بھی کروں۔"
اس نے ضد کی: "نہیں، سوچیں نا۔۔۔"
میں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے، بتاؤ کیا سوچنا ہے؟"
آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی لیے آواز دھیمی میں بولا:"سوچیں۔۔۔ میں شہید ہو کر آتا ہوں۔۔۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔۔۔ تو آپ کا سب سے پہلا ردِعمل کیا ہوگا؟"
میرے اندر جیسے ایک طوفان اٹھا۔ دل دہل گیا۔ میں نے فوراً کہا: "بس کر دے میرے بیٹے۔۔۔ میں یہ نہیں سوچ سکتی۔"
لیکن وہ رکا نہیں۔ کہنے لگا: "آپ میری اماں کو سنبھال لیں گی؟"
میں نے اسے سخت ڈانٹا۔ کہا: "اب ایک لفظ بھی نہیں!"
مگر اس ڈانٹ کے پیچھے میرا دل کانپ رہا تھا۔ کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی، اور کچھ اندیشے ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی قیامت لگتا ہے۔
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چیک نکالا۔ پچاس ہزار روپے کا۔ بولا: "ماسی، یہ میری خون پسینے اور برف کی کمائی ہے۔"
ان دنوں اس کی پوسٹنگ سیاچن میں تھی۔ وہ برفانی محاذ جہاں سانس لینا بھی آسان نہیں، وہاں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس نے یہ رقم کمائی تھی۔ وہ محبت سے میرے ہاتھ میں رکھ رہا تھا، اور میں بار بار انکار کر رہی تھی۔
میں نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے، مگر اس نے ضد سے وہ چیک میرے ہاتھ میں دے دیا اور بولا "آپ رکھ لیں۔۔۔ میرے دل کی خوشی ہے۔"
پھر مجھے مسکراتے ہوئے کہنے لگا: "جب شہید ہو جاؤں گا تو کسے ڈانٹے گی؟ اس لیے اتنا نہ ڈانٹیں۔"
میں اس بات پر بھی اسے ڈانٹنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر میرے حلق سے آواز نہ نکلی۔ میں نے بس اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ کبھی کبھی انسان بول نہیں پاتا، صرف محبت سے تھام لیتا ہے۔
عید کے تیسرے دن وہ واپس چلا گیا۔ حالانکہ اس کے سی او نے پیغام بھیجا تھا کہ آپ کی چھٹیاں بڑھا دی گئی ہیں، مگر وہ نہ رکا۔ سپاہی کا دل شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ وہ اپنے مورچے، اپنی ڈیوٹی، اپنے ساتھیوں سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا۔
وہ واپس چلا گیا۔
اور پھر۔۔۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد۔۔۔ اس کی شہادت کی خبر آگئی۔
اس لمحے جیسے سانس رک گئی۔ یقین اور انکار ایک ساتھ دل پر دستک دینے لگے۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ وہی بچہ جسے میں نے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا، جس کی پہلی ہنسی آج بھی کانوں میں گونجتی تھی، جس کی شرارتوں پر کبھی ہنسی آتی تھی کبھی ڈانٹ پڑتی تھی، جس کے پہلے بولے ہوئے لفظ آج بھی یاد تھے۔۔۔ آج اسی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے۔
چھبیس سال۔۔۔ کیا یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟
یہ تو خواب دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو ماں کی آنکھوں کی چمک بننے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو بہن بھائیوں کے سہارے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو گھر میں قہقہے بکھیرنے کی عمر ہوتی ہے۔
مگر کچھ عمریں برسوں سے نہیں ناپی جاتیں۔۔۔ وہ اپنے ظرف، اپنے حوصلے اور اپنے مقصد سے پہچانی جاتی ہیں۔ میرا بھانجا عمر میں چھبیس سال کا تھا، مگر حوصلے میں بہت سوں سے بڑا تھا۔
مجھے شدید ارمان تھا کہ میں اپنے بھانجے کی شادی دیکھوں، اس کا گھر بستا دیکھوں، اس کے بچوں کو گود میں کھلاؤں۔ لیکن اس کا گھر نہیں بسا، اور یہ سب خواب اسی کے ساتھ دفن ہو گئے۔ اس کا جنازہ اٹھا تو اس کی اپنی اماں کی گود خالی رہ گئی۔
آج جب بھی جدائی کا بوجھ دل پر اترتا ہے۔۔۔ جب بھی آنکھ اسے ڈھونڈتی ہے۔۔۔ جب بھی کوئی لاعلمی میں کہہ دیتا ہے کہ "وہ مر گیا"۔۔۔ تو میرا دل فوراً قرآن کی اس آیت کی طرف پلٹ جاتا ہے، جہاں ربِّ کریم نے فرمایا:
بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ (البقرۃ 154)
تب میں اپنے دل سے کہتی ہوں:
وہ بچھڑا نہیں۔۔۔ بس ایک بہتر جگہ منتقل ہوا ہے۔
وہ خاموش نہیں۔۔۔ اس کی قربانی آج بھی بول رہی ہے۔
وہ مٹا نہیں۔۔۔ اپنے رب کے ہاں زندہ ہے۔
اور شاید شہیدوں کی جدائی اسی لیے اتنی بھاری ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ وہ مر کر بھی مرتے نہیں۔
بس یہی دعا ہے کہ: اے میرے رب۔۔۔
میرے بھانجے کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اس کے درجات بلند فرما۔ اس کی ماں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ اس کے گھر والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما۔
اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اس کی قربانی کی قدر جان سکیں۔
آمین یا رب العالمین۔
کھانا قریب قریب سب کھا چکے تھے۔ میں عادتاً سب سے آخر میں دسترخوان چھوڑتی ہوں۔ وہ بھی وہیں بیٹھا رہا۔ اپنی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "ماسی (خالہ)، چلیں۔۔۔ آپ کچھ سوچیں۔"
میں جانتی تھی، اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی شرارت ضرور ہے۔ میں نے ہنس کر کہا: "میری توبہ! جو تمہاری باتوں کے مطابق سوچنے کی غلطی بھی کروں۔"
اس نے ضد کی: "نہیں، سوچیں نا۔۔۔"
میں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے، بتاؤ کیا سوچنا ہے؟"
آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی لیے آواز دھیمی میں بولا:"سوچیں۔۔۔ میں شہید ہو کر آتا ہوں۔۔۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔۔۔ تو آپ کا سب سے پہلا ردِعمل کیا ہوگا؟"
میرے اندر جیسے ایک طوفان اٹھا۔ دل دہل گیا۔ میں نے فوراً کہا: "بس کر دے میرے بیٹے۔۔۔ میں یہ نہیں سوچ سکتی۔"
لیکن وہ رکا نہیں۔ کہنے لگا: "آپ میری اماں کو سنبھال لیں گی؟"
میں نے اسے سخت ڈانٹا۔ کہا: "اب ایک لفظ بھی نہیں!"
مگر اس ڈانٹ کے پیچھے میرا دل کانپ رہا تھا۔ کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی، اور کچھ اندیشے ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی قیامت لگتا ہے۔
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چیک نکالا۔ پچاس ہزار روپے کا۔ بولا: "ماسی، یہ میری خون پسینے اور برف کی کمائی ہے۔"
ان دنوں اس کی پوسٹنگ سیاچن میں تھی۔ وہ برفانی محاذ جہاں سانس لینا بھی آسان نہیں، وہاں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس نے یہ رقم کمائی تھی۔ وہ محبت سے میرے ہاتھ میں رکھ رہا تھا، اور میں بار بار انکار کر رہی تھی۔
میں نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے، مگر اس نے ضد سے وہ چیک میرے ہاتھ میں دے دیا اور بولا "آپ رکھ لیں۔۔۔ میرے دل کی خوشی ہے۔"
پھر مجھے مسکراتے ہوئے کہنے لگا: "جب شہید ہو جاؤں گا تو کسے ڈانٹے گی؟ اس لیے اتنا نہ ڈانٹیں۔"
میں اس بات پر بھی اسے ڈانٹنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر میرے حلق سے آواز نہ نکلی۔ میں نے بس اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ کبھی کبھی انسان بول نہیں پاتا، صرف محبت سے تھام لیتا ہے۔
عید کے تیسرے دن وہ واپس چلا گیا۔ حالانکہ اس کے سی او نے پیغام بھیجا تھا کہ آپ کی چھٹیاں بڑھا دی گئی ہیں، مگر وہ نہ رکا۔ سپاہی کا دل شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ وہ اپنے مورچے، اپنی ڈیوٹی، اپنے ساتھیوں سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا۔
وہ واپس چلا گیا۔
اور پھر۔۔۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد۔۔۔ اس کی شہادت کی خبر آگئی۔
اس لمحے جیسے سانس رک گئی۔ یقین اور انکار ایک ساتھ دل پر دستک دینے لگے۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ وہی بچہ جسے میں نے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا، جس کی پہلی ہنسی آج بھی کانوں میں گونجتی تھی، جس کی شرارتوں پر کبھی ہنسی آتی تھی کبھی ڈانٹ پڑتی تھی، جس کے پہلے بولے ہوئے لفظ آج بھی یاد تھے۔۔۔ آج اسی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے۔
چھبیس سال۔۔۔ کیا یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟
یہ تو خواب دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو ماں کی آنکھوں کی چمک بننے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو بہن بھائیوں کے سہارے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو گھر میں قہقہے بکھیرنے کی عمر ہوتی ہے۔
مگر کچھ عمریں برسوں سے نہیں ناپی جاتیں۔۔۔ وہ اپنے ظرف، اپنے حوصلے اور اپنے مقصد سے پہچانی جاتی ہیں۔ میرا بھانجا عمر میں چھبیس سال کا تھا، مگر حوصلے میں بہت سوں سے بڑا تھا۔
مجھے شدید ارمان تھا کہ میں اپنے بھانجے کی شادی دیکھوں، اس کا گھر بستا دیکھوں، اس کے بچوں کو گود میں کھلاؤں۔ لیکن اس کا گھر نہیں بسا، اور یہ سب خواب اسی کے ساتھ دفن ہو گئے۔ اس کا جنازہ اٹھا تو اس کی اپنی اماں کی گود خالی رہ گئی۔
آج جب بھی جدائی کا بوجھ دل پر اترتا ہے۔۔۔ جب بھی آنکھ اسے ڈھونڈتی ہے۔۔۔ جب بھی کوئی لاعلمی میں کہہ دیتا ہے کہ "وہ مر گیا"۔۔۔ تو میرا دل فوراً قرآن کی اس آیت کی طرف پلٹ جاتا ہے، جہاں ربِّ کریم نے فرمایا:
بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ (البقرۃ 154)
تب میں اپنے دل سے کہتی ہوں:
وہ بچھڑا نہیں۔۔۔ بس ایک بہتر جگہ منتقل ہوا ہے۔
وہ خاموش نہیں۔۔۔ اس کی قربانی آج بھی بول رہی ہے۔
وہ مٹا نہیں۔۔۔ اپنے رب کے ہاں زندہ ہے۔
اور شاید شہیدوں کی جدائی اسی لیے اتنی بھاری ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ وہ مر کر بھی مرتے نہیں۔
بس یہی دعا ہے کہ: اے میرے رب۔۔۔
میرے بھانجے کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اس کے درجات بلند فرما۔ اس کی ماں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ اس کے گھر والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما۔
اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اس کی قربانی کی قدر جان سکیں۔
آمین یا رب العالمین۔