قرآن ڈائری

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
دو سال قبل عید الاضحی کی بات ہے۔ بڑی باجی کے گھر دعوت تھی، اور میرا سب سے بڑا بھانجا، میرا کیپٹن، چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ سب بھانجے بھانجیوں میں سے اس سے میری سب سے زیادہ بنتی تھی، اور سب خالاؤں میں سے اس کا جھکاؤ میری طرف زیادہ تھا۔
کھانا قریب قریب سب کھا چکے تھے۔ میں عادتاً سب سے آخر میں دسترخوان چھوڑتی ہوں۔ وہ بھی وہیں بیٹھا رہا۔ اپنی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "ماسی (خالہ)، چلیں۔۔۔ آپ کچھ سوچیں۔"
میں جانتی تھی، اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی شرارت ضرور ہے۔ میں نے ہنس کر کہا: "میری توبہ! جو تمہاری باتوں کے مطابق سوچنے کی غلطی بھی کروں۔"
اس نے ضد کی: "نہیں، سوچیں نا۔۔۔"
میں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے، بتاؤ کیا سوچنا ہے؟"
آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی لیے آواز دھیمی میں بولا:"سوچیں۔۔۔ میں شہید ہو کر آتا ہوں۔۔۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔۔۔ تو آپ کا سب سے پہلا ردِعمل کیا ہوگا؟"
میرے اندر جیسے ایک طوفان اٹھا۔ دل دہل گیا۔ میں نے فوراً کہا: "بس کر دے میرے بیٹے۔۔۔ میں یہ نہیں سوچ سکتی۔"
لیکن وہ رکا نہیں۔ کہنے لگا: "آپ میری اماں کو سنبھال لیں گی؟"
میں نے اسے سخت ڈانٹا۔ کہا: "اب ایک لفظ بھی نہیں!"
مگر اس ڈانٹ کے پیچھے میرا دل کانپ رہا تھا۔ کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی، اور کچھ اندیشے ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی قیامت لگتا ہے۔
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چیک نکالا۔ پچاس ہزار روپے کا۔ بولا: "ماسی، یہ میری خون پسینے اور برف کی کمائی ہے۔"
ان دنوں اس کی پوسٹنگ سیاچن میں تھی۔ وہ برفانی محاذ جہاں سانس لینا بھی آسان نہیں، وہاں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس نے یہ رقم کمائی تھی۔ وہ محبت سے میرے ہاتھ میں رکھ رہا تھا، اور میں بار بار انکار کر رہی تھی۔
میں نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے، مگر اس نے ضد سے وہ چیک میرے ہاتھ میں دے دیا اور بولا "آپ رکھ لیں۔۔۔ میرے دل کی خوشی ہے۔"
پھر مجھے مسکراتے ہوئے کہنے لگا: "جب شہید ہو جاؤں گا تو کسے ڈانٹے گی؟ اس لیے اتنا نہ ڈانٹیں۔"
میں اس بات پر بھی اسے ڈانٹنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر میرے حلق سے آواز نہ نکلی۔ میں نے بس اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ کبھی کبھی انسان بول نہیں پاتا، صرف محبت سے تھام لیتا ہے۔
عید کے تیسرے دن وہ واپس چلا گیا۔ حالانکہ اس کے سی او نے پیغام بھیجا تھا کہ آپ کی چھٹیاں بڑھا دی گئی ہیں، مگر وہ نہ رکا۔ سپاہی کا دل شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ وہ اپنے مورچے، اپنی ڈیوٹی، اپنے ساتھیوں سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا۔
وہ واپس چلا گیا۔
اور پھر۔۔۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد۔۔۔ اس کی شہادت کی خبر آگئی۔
اس لمحے جیسے سانس رک گئی۔ یقین اور انکار ایک ساتھ دل پر دستک دینے لگے۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ وہی بچہ جسے میں نے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا، جس کی پہلی ہنسی آج بھی کانوں میں گونجتی تھی، جس کی شرارتوں پر کبھی ہنسی آتی تھی کبھی ڈانٹ پڑتی تھی، جس کے پہلے بولے ہوئے لفظ آج بھی یاد تھے۔۔۔ آج اسی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے۔
چھبیس سال۔۔۔ کیا یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟
یہ تو خواب دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو ماں کی آنکھوں کی چمک بننے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو بہن بھائیوں کے سہارے کی عمر ہوتی ہے۔
یہ تو گھر میں قہقہے بکھیرنے کی عمر ہوتی ہے۔
مگر کچھ عمریں برسوں سے نہیں ناپی جاتیں۔۔۔ وہ اپنے ظرف، اپنے حوصلے اور اپنے مقصد سے پہچانی جاتی ہیں۔ میرا بھانجا عمر میں چھبیس سال کا تھا، مگر حوصلے میں بہت سوں سے بڑا تھا۔
مجھے شدید ارمان تھا کہ میں اپنے بھانجے کی شادی دیکھوں، اس کا گھر بستا دیکھوں، اس کے بچوں کو گود میں کھلاؤں۔ لیکن اس کا گھر نہیں بسا، اور یہ سب خواب اسی کے ساتھ دفن ہو گئے۔ اس کا جنازہ اٹھا تو اس کی اپنی اماں کی گود خالی رہ گئی۔
آج جب بھی جدائی کا بوجھ دل پر اترتا ہے۔۔۔ جب بھی آنکھ اسے ڈھونڈتی ہے۔۔۔ جب بھی کوئی لاعلمی میں کہہ دیتا ہے کہ "وہ مر گیا"۔۔۔ تو میرا دل فوراً قرآن کی اس آیت کی طرف پلٹ جاتا ہے، جہاں ربِّ کریم نے فرمایا:
بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ (البقرۃ 154)
تب میں اپنے دل سے کہتی ہوں:
وہ بچھڑا نہیں۔۔۔ بس ایک بہتر جگہ منتقل ہوا ہے۔
وہ خاموش نہیں۔۔۔ اس کی قربانی آج بھی بول رہی ہے۔
وہ مٹا نہیں۔۔۔ اپنے رب کے ہاں زندہ ہے۔
اور شاید شہیدوں کی جدائی اسی لیے اتنی بھاری ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ وہ مر کر بھی مرتے نہیں۔
بس یہی دعا ہے کہ: اے میرے رب۔۔۔
میرے بھانجے کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اس کے درجات بلند فرما۔ اس کی ماں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ اس کے گھر والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما۔
اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اس کی قربانی کی قدر جان سکیں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُ ۖ قَالَ يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ(سورۃ یوسف:19)
آج میں سورۃ یوسف آیت 19 پر تدبر کر رہی تھی کہ اس میں لفظ "بضاعة" نے مجھے روک لیا۔
ایک بچہ۔۔۔ والدین سے دور۔۔۔ اپنے ہی بھائیوں کی زیادتی کا شکار۔۔۔ اندھیرے کنویں میں پھینک دیا گیا۔
عام طور پر کوئی شخص ایسے بچے کو دیکھے تو اس کے دل میں رحم آتا۔ وہ اسے سہارا دیتا، اس کی دل جوئی کرتا، اس کے گھر والوں کو تلاش کرتا۔ کیونکہ ایک معصوم، خوفزدہ اور بے بس بچے کو دیکھ کر انسانیت جاگ اٹھتی ہے۔
مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔
جن لوگوں نے انہیں کنویں سے نکالا، انہوں نے ایک بچے کو بچہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے انھیں "بضاعة" سمجھا، یعنی سامانِ تجارت۔ ایک ایسا مال جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے، جسے بیچا جا سکے، جس سے نفع کمایا جا سکے۔
یہ منظر دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ایک بچہ جو اپنے گھر سے دور ہے، تنہا ہے، اور مدد کا محتاج ہے مگر کچھ لوگوں کی نگاہ میں وہ صرف فائدے کا ذریعہ بن گیا۔
اس منظر نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جب لالچ انسان پر غالب آ جائے، جب مادہ پرستی سوچ بن جائے، جب فائدہ ہی سب کچھ بن جائے، تو انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے۔
پھر دلوں سے رحم نکل جاتا ہے، نگاہوں سے احساس ختم ہو جاتا ہے، اور لوگ انسانوں کو بھی چیزوں کی طرح دیکھنے لگتے ہیں۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اندرونی انسانیت کھونے لگتا ہے۔
آج اس لفظ نے مجھے سکھایا کہ دنیا کا سب سے بڑا خسارہ مال کا نہیں، دل کے سخت ہو جانے کا ہے۔
کیونکہ جب دل زندہ ہو تو کنویں میں پڑا اجنبی بچہ بھی امانت لگتا ہے۔۔۔ اور جب دل مر جائے تو یوسف علیہ السلام بھی بضاعة بن جاتے ہیں۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
تحریر: مسز میجر نعمان بٹ

آج میں ایک آرٹیکل پڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک عجیب mathematical notation نظر آئی: 10 کے بائیں اوپر ایک چھوٹا سا 3۔ پہلے میں نے اسے عام power سمجھا، مگر جگہ مختلف تھی، اس لیے رک گئی۔ تلاش کیا تو معلوم ہوا یہ"tetration" ہے، یعنی طاقت کے اوپر طاقت، پھر اس کے اوپر طاقت۔ ایسا عدد جو دکھنے میں چھوٹا مگر حقیقت میں اتنا بڑا کہ شاید پوری مشاہداتی کائنات کے ایٹم بھی اس کے صفر پورے نہ کر سکیں۔
مزید پڑھا تو پتا چلا کہ ریاضی دان بعض نمبرز کو لکھتے نہیں، صرف symbols میں ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ کچھ quantities اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ انہیں digits میں لکھنا ممکن نہیں رہتا۔
میں کچھ دیر خاموش ہو گئی۔ یہ صرف ریاضی نہیں تھی۔۔۔ یہ انسان کی limitation کی کہانی تھی۔ جب اعداد ہماری گرفت سے باہر ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں سمیٹنے کے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ پہلے 1000 لکھا، پھر 10³، پھر اس سے بڑے symbols، پھر coding، پھر data compression۔ ہم نے سیکھ لیا کہ بڑی information کو چھوٹے format میں محفوظ کیسے کرنا ہے۔
اسی لمحے قرآن کی آیت ذہن میں آئی:وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔)
ہم ابھی بڑے نمبرز کو represent کرنا سیکھ رہے ہیں، اور اللہ نے پہلے ہی بتا دیا کہ اس کے علم میں ہر چیز counted ہے۔ ہم digits سے گنتے ہیں، وہ علم سے احاطہ کرتا ہے۔
پھر یاد آیا: كِتَابٌ مَرْقُومٌ
ایک ایسی کتاب جس میں سب کچھ رقم ہے۔ آج ایک چھوٹی سی microchip میں لاکھوں کتابوں کا data سما جاتا ہے، تو کیا حیرت اگر اللہ کہتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی محفوظ ہے؟
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ وہ record کیسے ہے۔ اصل سوال یہ ہے:کیا میں اس دن کے لیے تیار ہوں جب وہ کتاب کھولی جائے گی؟
پھر ایک اور آیت دل میں اتری: أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ (اللہ نے شمار کر رکھا ہے اور وہ بھول گئے۔)
یہاں دل میں سوال آتا ہے: اگر اللہ گنتا ہے۔۔۔ تو کیا مٹاتا بھی ہے؟
پھر ایک نام یاد آیا:"العفو"۔
وہ جو صرف معاف نہیں کرتا، بلکہ مٹا دیتا ہے۔ جیسے ہوا ریت پر قدموں کے نشان ایسے مٹا دے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔
جب ہم ربڑ سے مٹاتے ہیں تو ہلکا نشان رہ جاتا ہے۔ مگر اگر اللہ عفو کرے… تو گناہ شاید ایسے مٹ جائے جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
یہ خیال دل کو امید دیتا ہے۔
اگر وہ کائنات کے ناقابل تصور نمبرز جانتا ہے، تو میری چھوٹی نیکی کیسے نظر انداز ہوگی؟
اگر وہ ہر ذرہ گن سکتا ہے، تو میرا ایک آنسو کیسے ضائع ہوگا؟
اگر اس کے پاس complete record ہے، تو اس کے پاس complete mercy بھی ہے۔
اور شاید سب سے خوبصورت احساس یہی ہے:
اللہ صرف"الحسیب" نہیں، "العفو" بھی ہے۔ اگر وہ صرف حساب لینے والا ہوتا تو شاید کوئی نہ بچتا، مگر وہ مٹانے والا بھی ہے، اسی لیے امید باقی ہے۔
آخر میں ایک خیال دل میں ٹھہر گیا:
اصل حیرت Graham’s number یا googolplex پر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔اصل حیرت اس رب پر ہونی چاہیے جو کائنات کے ہر ذرّے کو گن سکتا ہے، اور پھر ایک سچی توبہ پر گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
تحریر: فضا سجاد

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سورۃ الضحٰی ہمیں زندگی کے کن گہرے رازوں سے آگاہ کرتی ہے؟ یہ سورت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
قسم ہے چاشت کی روشنی کی
اس کے بعد فرماتے ہیں:
اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے
ایک جانب چمکتی ہوئی صبح ہے اور دوسری طرف پُرسکون، گہری رات۔ یہاں اللہ ہمیں ایک اہم حقیقت سمجھاتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہتی بلکہ اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔
جیسے صبح کے بعد رات آنا ایک قدرتی نظام ہے، اسی طرح انسان کی زندگی میں بھی خوشیوں کے ساتھ آزمائشیں جڑی ہوتی ہیں۔ اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کی اہمیت کا احساس بھی نہیں ہو سکتا۔
یہی پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی زندگی ہمیں کامیابی، سکون اور خوشی دیتی ہے، اور کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب ہر طرف مشکل ہی مشکل محسوس ہوتی ہے۔ کبھی دل ٹوٹتا ہے، کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے اور کبھی ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔
ایسے وقت میں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اندھیرا ہمیں توڑنے نہیں بلکہ سنوارنے آتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے، امید کا دامن نہیں چھوڑنا ہوتا اور اپنے رب پر یقین قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ انہی حالات کے ذریعے ہمیں بہتر اور مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔
یاد رکھیں، رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا اختتام یقینی ہے۔ ہر اندھیرے کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ جو لوگ بڑے مقصد رکھتے ہیں، وہ چھوٹی مشکلات سے ہمت نہیں ہارتے۔
آج اپنی مشکلات کو اللہ کی حکمت سمجھ کر قبول کریں، اور کمنٹس میں بتائیں: کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ جب زندگی میں مشکل وقت آتا ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ سب ختم ہو گیا ہے؟
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بقلم: حمیراشیخ

وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾ فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾
اور وہ جو لڑکا تھا اسکے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوگا تو کہیں انکو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اسکی جگہ انکو اور بچہ عطا فرمائے جو اخلاقی پاکیزگی میں بہتر اور محبت میں زیادہ قریب ہو۔ (سورۃ الکہف: 80، 81)

سورۃ الکہف کی تلاوت کرتے ہوئے میں ہر بار اس ایت پر رک کر یہ سوچتی تھی کہ ہم زندگی میں کئی دفعہ اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں حرام کماتے ہیں نمازیں چھوڑ دیتے ہیں لیکن اس آیت میں اللہ تعالی نے کس طرح بتایا ہے کہ جو اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے ان کی اولاد کی حفاظت کرتا ہے ایت میں بیان کیا گیا کہ کس طرح حضرت خضر نے اس نوجوان کو قتل کیا بظاہر بات سمجھ نہیں اتی لیکن جب خلاصہ ہوا تو پتہ چلا کہ کس طرح اللہ کو اپنے فرمانبردار بندوں کی فکر رہتی ہے ان کے لیے کس طرح راستے ہموار کرتا ہے کوئی دیکھے تو کہے کہ کسی کی نوجوان اولاد چلی گئی لیکن مصلحت اللہ کو پتہ ہے اسے پتہ تھا کہ اپنی سرکشی سے اپنے نیک ماں باپ کو تکلیف پہنچائے گا بچے کی موت غمزدہ چیز ہے لیکن اگلی ایت میں اللہ تعالی کس طرح ریلیف دیتے ہیں کہ اللہ تعالی اگے چل کر انہیں ایک ایسی اولاد نصیب کریں گے جو بلند اخلاق والی ہوگی جو اللہ کے ان فرمانبردار بندوں کی انکھوں کی ٹھنڈک بنے گی اس لیے شاید ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر کے پھر تمام معاملات اللہ کے حوالے چھوڑ دینا چاہیے پھر اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے اللہ کے نیک بندوں کی زندگیوں میں ازمائش اتی ہے لیکن ان کے صبر پر بڑے اجر بڑے انعام ہوتے ہیں
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
بقلم: رضیہ زہرا

ترجمہ:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میرا بیٹا، میرے اساتذہ میں سے ایک ہے۔
میرا بیٹا گیارہ سال کا ہے۔ وہ تیس سے زائد الرجیز، پیچیدہ دمے اور شدید ایگزیما کا شکار ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہو رہا ہے، ویسے ویسے اسے اس تنہائی کا احساس بھی ہونے لگا ہے جو عام روزمرہ کھانوں کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اس کے حصے میں آئی ہے۔ وہ ہمیشہ سے نہایت محدود غذا پر رہا ہے۔
اپنے ہم عمر بچوں کو دیکھ کر وہ سوچتا ہے کہ وہ باہر جا کر کھانا کیوں نہیں کھا سکتا؟ وہ وہی اسنیکس کیوں نہیں کھا سکتا جو دوسرے بچے شوق سے کھاتے ہیں؟
کھانا تو وہ چیز ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ ایسے میں خود کو الگ تھلگ محسوس کرنا انسان کی خود اعتمادی اور عزتِ نفس پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
میں سوچنے لگی کہ اس کے سوال کا جواب کیسے دوں؟ پھر میری نگاہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی پر جا ٹھہری۔
میں نے اپنے بیٹے کو یاد دلایا کہ حضرت یوسفؑ ایک آزمائش سے دوسری آزمائش کی طرف بڑھتے رہے۔ حالات بظاہر تاریک دکھائی دیتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص نعمت عطا کی تھی : خوابوں کی تعبیر کا علم۔ یہی وہ عطیہ تھا جس کے ذریعے اللہ نے انہیں بادشاہ کے وزیر کے منصب تک پہنچایا۔
تب میں نے اپنے بیٹے سے کہا: جہاں آزمائش اور دشواری ہوتی ہے، وہاں اللہ اپنے بندے کو کوئی نہ کوئی بہت خاص عطیہ بھی دیتا ہے ۔ ایسا عطیہ جو دنیا اور آخرت، دونوں میں اس کے کام آتا ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ ہم مل کر اُس خاص نعمت کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جو اللہ نے اسے عطا کی ہے۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی جدوجہد میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ نہ میرے بیٹے کو، نہ ہم میں سے کسی اور کو۔
جہاں ایک محرومی دکھائی دیتی ہے، وہیں کوئی اور غیر معمولی خوبصورتی بھی چھپی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو شفا عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
 
Top