عظیم استاد کا عظیم شاگرد

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
عظیم استاد کا عظیم شاگرد
محمدداؤدالرحمن علی
تقریبا سال قبل کی بات ہے مجھے اپنے مجلہ کے لیے ایک عدد حج کلام چاہئیے تھا۔ مجلس مشاورت میں میرے نہایت قابل دوست صاحب نے مشورہ دیا کہ جناب عالی! خود کوشش فرماؤ۔ عرض کی محترم ہمیں شاعری کی "ش" نہیں آتی اور آپ ہمیں شاعری لکھنے کا حکم دے رہے ہیں۔
اب دوست ہو اور وہ بھی نہایت قریبی وہ بات نہ منوالے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔؟ میرے لاکھ انکار پر دوست صاحب نے صاف شفاف انکار کردیا مجھے یقین ہے لکھ لو گے۔
ہمت مرداں مدد خدا کو ذہن میں رکھتے ہوئے حج پر چند ایک اشعار لکھ کر دوست کو بھیج دیے ۔ دوست صاحب اچھل پڑے کہ کہاتھا نہ لکھ لو گے۔
ہم نے راحت کا سانس لیا کہ کچھ تو کام ختم ہوا ورنہ دوست صاحب نے درگت بنا دینی تھی۔ شاید یہ ہماری خوش فہمی تھی کہ دوست ہمیں سکون کرنے دے گا۔ جناب نے مطالبہ کرڈالا اس شاعری کو شائع کرو ، ہم نے دوبارہ کہا جناب میں شاعر نہیں ہوں بس ویسے آپ کے اصرار پر لکھ دیے ، آگے سے دوست صاحب نے صاف انداز میں کہ دیا جناب اگر شائع نہ ہوئے تو عالی جناب آپ کی شاعری تو ہمیں مل گئی ہے ، ہم سب کو بھیج دینگے۔
اب واقعی ہمیں سوچ آئی کہ جناب نے ہماری درگت بنوانے کا عزم مصمم کرلیا ہے ، ہمیں لگا یہ شاعری اگر لوگوں تک پہنچ گئی کہیں لوگوں کو عظیم اشعار پڑھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا نہ ہوجائیں بہتر ہے کسی استاد محترم سے رجوع فرماجائے ورنہ دوست صاحب نے اپنے ارادہ پر عمل کرلینا ہے اور شاعر صاحب کی بارات نے دھوم سے نکل جانا ہے ، ساتھ دوست سے محبت کا ایسا رشتہ کہ انکار بھی ممکن نہ تھا ، کیونکہ دوست کا عزم سامنے تھا۔
اس صورت حال میں ہمیں اپنے قابل فخر ، محبت کرنے والے ، جن کے قلم میں اللہ نے کمال تاثیر رکھی ، ملکی سطح پر کافی نام و عزت کما چکے ہیں کی شدت سے یاد آئی۔ میں اللہ کا فضل سمجھتاہوں کہ ایسے موقع پر اللہ نے بندہ ناچیز کو استادجی کی عظیم نعمت سے نوازا۔
جیسے ہی خیال استاد جی آیا فی الفور کلام استادجی کی خدمت میں ارسال کیا ، استاد جی نے کمال شفقت سے نظر کرم فرمائی اور حج کلام کی تصحیح فرمائی۔
اللہ کا کرم وہ کلام استاد جی کی بدولت کافی پسند کیا گیا ، پڑھا گیا ، شئیر کیا گیا ، مختلف مجلہ جات میں شائع ہوا۔
قسمت مہربان ہوئی اس کلام کی کامیابی پر استاد جی نے باقاعدہ ہمیں اپنا شاگرد رشید بنالیا۔
اس اعزاز کے بعد استاد جی نے ہمیں "شاعری کیسے کرتے ہیں۔" اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں ان کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کردیا۔
سچ پوچھیں سب کا سب سر کے اوپر سے گزر رہا تھا اور ادھر استاد جی ہمیں "شاعر" بنانے کا پختہ ارادہ فرمالیا تھا۔
خیر کوشش کی لیکن اس طرح کا شاگرد نہ بن سکا جس طرح کا ہونا چاہئیے تھا۔
ایک طرف استادجی کا کلام لکھنے کا اصرار ، دوسری طرف شاگرد کا سیدھا انکار ، شاگرد کو کچھ آتا ہوتا تو شاگرد شاہکار لکھتا۔
حکم استاد پر کوشش کے دوران دماغ کی کبھی کبھی بتی جلدی تو کچھ لکھ کر استادجی کا دماغ چاٹتا اور استادجی ہمیں وزن سکھاتے" فاعلن فاعلن فاعلن " پر لکھو۔
ہمارا چھوٹا سا دماغ سمجھ نہ پاتا اور استادجی کو ہم کہ دیتے کہ گہرائی تک سمجھ آگیا ہے۔
استاد جی کی تربیت جاری رہی اور آخر استادجی کی محنت رنگ لائی ہمارے چھوٹے سے دماغ میں کچھ شاعری کی سمجھ بوجھ آنا شروع ہوئی۔
ایک دن استاد جی ہمارے شدید مصروف تھے اور ہم پر کرامات استادجی کا ظہور ہوا تو ہم نے جو کلام دھڑا دھڑ لکھ کر ارسال کیے اس سے استاد جی کے چودہ طبق روشن ہوگئے کہ شاگرد کو ہوا کیا ہے۔؟ کون سا ہمارے شاگرد رشید پر اثر ہوگیا ہے۔؟
عالم خیال میں ہمیں محسوس ہوا کہ استاد جی مصروفیت میں اپنے عظیم شاگرد کو عظیم کلمات سے نواز رہے ہیں کہ جب ضرورت ہو کہ کہ کر تھک جاوں کلام لکھو ، جناب کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور آج اس کو بھوت سوار ہوگیا کہ سکون نہیں کرنے دے رہا۔
آخر ہم نے بریک پر پاوں رکھے ورنہ استاد جی کا یہ ہونہار شاگرد ، استاد جی کا ریکارڈ توڑ کر ورلڈ ریکارڈ قائم کرچکا ہوتا۔ اس سے ماقبل استاد جی نمودار ہوکر عالم خیال کے خیال کو عالم حقیقت میں تبدیل کریں ، آپ سے اجازت چاہوں گا۔
اگلی روداد ان شاءاللہ پھر سہی۔
ایک بار پھر استاد جی میں آپ کی محبت ، شفقت ، اخوت ، چاہت کا ممنون ہوں۔
ان شاءاللہ اب آپ کا سر کھاتا رہوں گا۔
امید ہے نادان شاگرد کی نادانیوں کو معاف فرماکر شاعری کلاسز یونہی جاری وساری رہینگے ۔
 
Top