فلسفہ قربانی

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
درحقیقت قربانی تو جان کی قربانی ہی تھی، جیساکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوتاہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اصل قربانی تو جان نثاری اور جان سپاری کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت سے یہ قربانی جان سے ٹال کر مال کی طرف منتقل کی۔
یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مالی قربانی صدقے کی صورت میں مقرر کردی جاتی، لیکن اس طرح انسان کو اپنی جانی قربانی کی طرف توجہ اور اس کا استحضار نہ ہوتا۔ اسی غرض کے لیے ایسی مالی قربانی مقرر کی گئی جس میں جانور قربان کیا جائے، تاکہ مالی قربانی میں بھی جانی قربانی کی مشابہت موجود ہو، اور معمولی احساس رکھنے والاانسان بھی بوقتِ قربانی یہ سوچے کہ اس بے زبان جان دار کو میں کس لیے قربانی کررہاہوں؟ اس کا خون کیوں بہا رہاہوں؟ جب یہ احساس اس کے اندر پیدا ہوگا تو اسے استحضار ہوگا کہ درحقیقت یہ میرے نفس اور میری جان کی قربانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے میرے مال کی صورت قبول کرلیا، یوں اسے مقصدِ اصلی بھی یاد رہے گا اور نفس کی قربانی کے لیے یہ محرک بھی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے شکر گزاری کا جذبہ بھی بڑھے گا۔
 

Yashp Haider

وفقہ اللہ
رکن
جزاک اللہ خیرا۔ بہت قیمتی یاددہانی ہے۔
میں اس "فلسفہ قربانی" کو فلسطین کے تناظر میں جوڑ رہی تھی ۔
قربانی کا مقصد ہے اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے قیمتی چیز چھوڑ دینا۔ یہاں میرے ذہن میں چند سوال آتے ہیں فلسطین کے تناظر میں:
فلسطین میں لوگ اپنی جان، اپنی اولاد، اپنا گھر، اپنا بچا کھچا رزق اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔
جبکہ ہم میں سے اکثر لوگ قربانی کو صرف گوشت کی تقسیم، سوشل میڈیا کی تصاویر اور کھانے کی دعوتوں تک محدود کر چکے ہیں۔
جب وہ اپنی اولادیں قربان کر رہے ہیں، تو کیا ہم جانور ذبح کرتے وقت صرف یہی سوچتے ہیں کہ یہ ان کی قربانی کی "یاد" ہے؟ یا ہم اس کو محض تہوار سمجھ کر گزر جاتے ہیں؟
فلسطین میں ایک ماں، اپنے تین بیٹوں کو دفنا کر کہتی ہے:
"اللهم تقبل منا"
"اے اللہ، ہم سے قبول فرما"
ہم اپنے جانور کے سامنے کھڑے ہو کر کیا دل سے اتنا بھی کہہ پاتے ہیں: "اے اللہ! یہ میری طرف سے ایک علامت ہے اصل قربانی تو میرے بھائی نے غزہ میں دی ہے"؟
حضرت ابراہیمؑ سے اللہ نے بیٹا مانگا۔ فلسطینیوں سے اللہ نے گھر، زمین، خاندان، حتیٰ کہ جسم کے اعضاء مانگ لیے۔
ہم سے کیا مانگا؟ ایک مؤقف؟ ایک صدقہ؟ ایک جرات مندانہ جملہ؟
اور ہم نے کتنا دیا؟
آپ کے یہ الفاظ "اللہ نے "جان کی قربانی" کو "مال کی قربانی" سے بدل دیا یہ اس کی رحمت ہے" میرے ذہن میں گونج رہے ہیں۔
فلسطین میں لوگ اس رعایت کے بغیر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ تو کیا ہم یہ رحمت پا کر مزید اللہ کے شکر گزار اور باعمل بندے بنے؟ یا مزید بے حس اور غافل؟
حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے لیے بیٹے کو پیش کیا۔ آج فلسطینی مائیں بیٹوں کو اللہ کے سپرد کر رہی ہیں: "یہ بچہ تیرا تھا، ہم واپس دے رہے ہیں"
ہم تو صرف ایک بکرے کا خون بہا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ کیا ہمیں وہ فلسطینی ماں یاد آتی ہے جو بیٹے کو شہید کرنے کے بعد کہتی ہے: "میں روؤں گی نہیں، اللہ کے لیے دی ہے"؟
قربانی ایک "عالمی روحانی فریم ورک" ہے۔ قربانی کوئی مجرد عبادت نہیں، بلکہ: وہی قربانی زندہ قربانی ہے جو انسان کو "ابراہیمی تسلیم" کے اس مقام پر لے جائے، جہاں وہ کہے: "ربِّ ہٰذا لَک میرا سب کچھ، صرف تیرا ہے"
اور یہ بات آج فلسطین کے شہداء نے عملی طور پر ثابت کر دی ہے۔
تو اب سوال ہم سے ہے: "کیا ہم صرف جانور ذبح کرنے آئے ہیں، یا اپنے نفس کے بت بھی توڑنے آئیں ہیں ؟ کیا ہمیں فلسطین کی قربانی ہماری قربانی پر شرمندہ نہیں کرتی؟"

یہ باتیں بس میرے ذہن میں آرہی تھیں تو شیئر کر دیں۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت ابراہیمؑ سے اللہ نے بیٹا مانگا۔
امتحانات حضرت ابراہیم علیہ السلام
1۔ اسلام کی دعوت پروالد نے گھر سے نکالا۔
2۔ بت توڑنے پر قوم نے آگ میں ڈالا۔
3۔ دین حق کی دعوت پر اپنے دشمن ہوئے۔
4۔بڑھاپے میں اولاد ملی۔
5۔ بچے کے کھیلنے کودنے کے دنوں میں حکم ہوا جنگل چھوڑ آئیں۔
6۔خواب میں میں دکھایا گیا اسی اولاد کی گردن پر چھوری چلا رہے ہیں۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔
اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔

قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں۔ اور یہ اس سبق کو بھولنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں عظیم افرادی قوت ہوتے ہوئے بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئے ہیں۔

آج ہمارے پاس کونسی چیز نہیں؟ افرادی قوت بھی موجود ہے، وسائل بھی میسر ہیں، دولت کی بھی کمی نہیں اور ارباب فہم و دانش بھی موجود ہیں۔ پھر ہم کیوں سرگرداں ہیں؟ ہمیں اپنا راستہ اور منزل کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر سر جھکانے اور دین و ملت کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کی ادا بھلا دی ہے۔ آج بھی ہم اطاعت خداوندی اور ایثار و قربانی کا راستہ اختیار کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت آگے بڑھ کر ہاتھ تھامے گی۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
جہاں تک سوال آپ کا اہل فلسطین کا ہے تو اتنا کہوں گا کہ
ان کا ایمان کامل ہے ،ہم بے حس ہو چکے ہیں۔
ہم ذائقہ پر ان معصوم بچوں کاخون کمپرومائز کررہے ہیں۔
ہم ہر روز ٹنوں کے حساب سے کھانا ضائع کررہے ہیں اور وہ ایک نوالے کو ترس گئے ہیں۔
ہماری شاہ خرچیاں ،دکھلاوے پر پانی کی طرح پیسہ بہانا ختم نہیں ہورہا بلکہ وہ چیزیں خرید کر اپنے آپ کو برینڈز بناکر پیش کرتے ہیں کہ دیکھو ہم یہ برینڈز استعمال کرتے ہیں، اور وہی برینڈ ان ظالموں کی مدد کررہے ہیں جو ان پر ظلم کا پہاڑ توڑ رہے ہیں،سادہ الفاظ میں عرض کروں تو ہم خود اپنے ہاتھوں ان ظالموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔
ہم دنیا کی محبت میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ہمارے خون سفید ہو چکے ہیں،ہمارے کان بند،آنکھیں اندھی زبان اور قلم کو تالے لگ چکے ہیں۔
وقت بدلے گا،یہ حسن جائے گا،یہ مال کسی اور کے کام آئے گا،یہ جوانی بڑھاپے میں بدلے گی،مٹی میں سونا پڑے گا،محشر میں جواب دینا پڑے گا۔
کسی نے کیا خوب کیا تھا کہ
جب تلیں گے عمل میزبان پر
تب کھلے گا کہ کھوٹا کھرا کون ہے
 
Top