آیت 17
اندھیری رات میں روشنی کی تلاش فطری ہے۔
ایک انسان آگ جلاتا ہے، اور جیسے ہی وہ روشنی اردگرد پھیلاتی ہے ۔۔۔اچانک، اللہ اس کا نور چھین لیتا ہے
اور وہ شخص رہ جاتا ہے،ادھورا، بے سمت، اندھیروں میں۔۔۔
یہ قرآن کی ایک تمثیل ہے۔۔۔ لیکن ہر اس دل کے لیے ہے۔۔۔جو صرف ظاہر کو روشن رکھتا ہےاور باطن کو سیاہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایمان کو صرف "دکھاوے" تک محدود رکھا۔
نماز تو ہے، مگر روح غائب
کلمہ تو ہے، مگر نیت کہیں اور
چراغ تو ہے، مگر تیل ختم ہو چکا۔۔۔
اللہ جب کسی کا نور چھین لے،تو وہ صرف اندھیروں میں نہیں رہتا وہ اندھیرے بن جاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے:
کیا ہم نے ایمان کو صرف معلومات سمجھ رکھا ہے؟
کیا ہدایت ہمارے دل کی ضرورت ہے، یا صرف معاشرتی پہچان؟
کیا ہم بھی وہ شخص تو نہیں،جس نے روشنی جلائی مگر اسے اپنے اندر اتارنے سے انکار کر دیا؟
یا اللہ!ہمارے دلوں سے نفاق، غفلت، اور دکھاوا دور فرمااور ہمیں وہ نور عطا کرجو صرف آنکھوں سے نظر نہ آئے،بلکہ دل میں اتر جائے۔۔۔اور ہمیں اندھیروں میں کبھی اکیلا نہ چھوڑ۔۔۔ آمین
مکمل تدبر درج ذیل لنک میں:
مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ
انکی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے شب تاریک میں آگ جلائی۔ جب آگ نے اسکے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو اللہ نے ان لوگوں کی روشنی زائل کر دی اور انکو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔
انکی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے شب تاریک میں آگ جلائی۔ جب آگ نے اسکے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو اللہ نے ان لوگوں کی روشنی زائل کر دی اور انکو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔
اندھیری رات میں روشنی کی تلاش فطری ہے۔
ایک انسان آگ جلاتا ہے، اور جیسے ہی وہ روشنی اردگرد پھیلاتی ہے ۔۔۔اچانک، اللہ اس کا نور چھین لیتا ہے
اور وہ شخص رہ جاتا ہے،ادھورا، بے سمت، اندھیروں میں۔۔۔
یہ قرآن کی ایک تمثیل ہے۔۔۔ لیکن ہر اس دل کے لیے ہے۔۔۔جو صرف ظاہر کو روشن رکھتا ہےاور باطن کو سیاہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایمان کو صرف "دکھاوے" تک محدود رکھا۔
نماز تو ہے، مگر روح غائب
کلمہ تو ہے، مگر نیت کہیں اور
چراغ تو ہے، مگر تیل ختم ہو چکا۔۔۔
اللہ جب کسی کا نور چھین لے،تو وہ صرف اندھیروں میں نہیں رہتا وہ اندھیرے بن جاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے:
کیا ہم نے ایمان کو صرف معلومات سمجھ رکھا ہے؟
کیا ہدایت ہمارے دل کی ضرورت ہے، یا صرف معاشرتی پہچان؟
کیا ہم بھی وہ شخص تو نہیں،جس نے روشنی جلائی مگر اسے اپنے اندر اتارنے سے انکار کر دیا؟
یا اللہ!ہمارے دلوں سے نفاق، غفلت، اور دکھاوا دور فرمااور ہمیں وہ نور عطا کرجو صرف آنکھوں سے نظر نہ آئے،بلکہ دل میں اتر جائے۔۔۔اور ہمیں اندھیروں میں کبھی اکیلا نہ چھوڑ۔۔۔ آمین
مکمل تدبر درج ذیل لنک میں: