سورۃ البقرہ آیت 25
وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ انکے لئے نعمت کے باغ ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جب انہیں ان میں سےکسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور انکو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائینگے اور وہاں انکے لئے پاک بیویاں ہونگی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہینگے۔
'وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ'
قرآن کی پچھلی آیات میں جہاں جہنم کی دھمکی دی گئی، یہاں فوراً جنت کی بشارت دے کر دل کو تھام لیا گیا۔ یہی تو رب کا اندازِ رحمت ہے۔ جہاں وعید ہو، وہیں امید بھی، جہاں خوف ہو، وہیں محبت بھی۔
یہ کیسا اندازِ کلام ہے! جہاں رب خود کہہ رہا ہے: ''بشارت دے دو!' میرے بندوں کو خوشخبری دو۔۔۔ یہ وہ لمحہ ہے، جب لگتا ہے جیسے قرآن کا لہجہ نرم ہو جاتا ہے، آنکھوں میں نمی اُترتی ہے، اور دل میں ایک خاموش سی مسکراہٹ آ جاتی ہے… کیونکہ یہ خوشخبری کسی عام انسان کی طرف سے نہیں—ربّ العالمین کی طرف سے ہے۔
یہ خوشخبری کس کے لیے؟
نہ صرف ایمان والوں کے لیے، بلکہ ان کے لیے ''جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیا'۔ یہ قرآن کا ایک مستقل اصول ہےدعویٰ کافی نہیں، نیت بھی ہو اور محنت بھی۔ زبان سے کہنا کہ 'میں مسلمان ہوں' آسان ہے، لیکن زندگی میں اللہ کی رضا کو ترجیح دینا… یہ 'عملِ صالح' ہے۔
جنت: جہاں نہریں بہتی ہیں۔۔۔
'أَنَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ'
یہ الفاظ بار بار جنت کی تصویر کشی میں آتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ پانی زندگی کی علامت ہے، اور نہر سکون کی علامت۔ اللہ ہمیں وہ جنت دکھا رہا ہے، جہاں پانی کی فراوانی نہ صرف پیاس بجھاتی ہے، بلکہ دل کو راحت اور ٹھہراو دیتی ہے۔ دنیا میں نہریں کتنی ہی خوبصورت ہوں، لیکن: کبھی وہ سوکھ جاتی ہیں، کبھی کیچڑ سے بھری ہوتی ہیں، کبھی پائپ لائن پھٹ جاتی ہے، اور اکثر۔۔۔ پانی کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔ ہمارے علاقے میں پانی کی کمی ہے، فصلیں خطرے میں ہیں، اور پانی کا ایک ایک قطرہ قیمتی ہو گیا ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ مزید چلے تو شاید اس موسم میں فصلیں کاشت بھی نہ ہوں۔
لیکن جنت؟
فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ
'اس میں نہریں ہوں گی پانی کی جو کبھی بدبو دار نہ ہوں گی' (محمد:15)
وَأَنْهَارٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ
'اور دودھ کی نہریں، جن کا ذائقہ کبھی نہ بدلے' (محمد:15)
وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ
'اور ایسی شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذت بخش ہو' (محمد:15)
وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى
'اور خالص شہد کی نہریں' (محمد:15)
یہاں چار نہریں ہیں: پانی، دودھ، شراب (جنت کی)، شہد
اور ہر نہر کی خصوصیت: 'غیر فاسد، غیر بدذائقہ، خالص، پاکیزہ'۔
پانی اگر کچھ دن کھڑا رہے، تو اس میں بدبو آ جاتی ہے، یا وہ پینے کے قابل نہیں رہتا۔ دودھ اگر بوائل نہ کیا جائے تو اگلے دن ذائقہ بدل جاتا ہے، اور شہد تو ایک نایاب شے ہے، اس کی نہر تو دور کی بات۔۔۔!
لیکن یہی تو جنت کا وعدہ ہے۔ جہاں زوال کا تصور ہی نہیں۔ نہ دودھ خراب ہوتا ہے، نہ شہد میں میل آتی ہے، نہ پانی خشک ہوتا ہے، نہ کبھی کوئی لائن بند ہوتی ہے۔ یہ نہریں کسی کے ورثے میں نہیں ملتیں، یہ کسی رشوت یا سفارش سے نہیں ملتیں… بلکہ وہ لوگ جو قرآن کی پیروی کرتے ہیں، جو غیروں کی طرح نہیں، مومنوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ انہی کے قدموں تلے یہ نہریں بہتی ہیں۔
''كُلَّمَا رُزِقُوا۟ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍۢ رِّزْقًۭا قَالُوا۟ هَـٰذَا ٱلَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُوا۟ بِهِۦ مُتَشَـٰبِهًۭا'
ہمارے علاقے میں جب موسم بہار آتا ہے، تو آڑو کے درختوں سے پھل جھکنے لگتے ہیں۔ پہلے دنوں میں ہر طرف خوشبو ہوتی ہے، ذائقہ نیا لگتا ہے، ہر کوئی لطف لیتا ہے۔ لیکن کچھ دنوں بعد… کوئی ان پھلوں کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ ذائقہ بدل جاتا ہے، دل اوب جاتا ہے۔ لیکن جنت… جنت کے پھل کبھی پرانے نہیں ہوں گے۔
'یہ وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا' مگر حقیقت میں۔۔۔ نیا! جنتی ہر بار جب پھل کا ذائقہ چکھیں گے تو کہیں گے: 'یہ تو وہی لگ رہا ہے جو ہم پہلے کھا چکے ہیں!' مگر حقیقت یہ ہو گی کہ: ذائقہ نیا ہو گا، تجربہ نیا ہو گا، مگر پہچان جیسا ہو گا۔
مجھے نئی چیزیں آزمانا بہت پسند ہے… لیکن تھوڑا ڈر بھی ہوتا ہے کہ پتا نہیں ذائقہ اچھا بنے گا یا نہیں۔ جنت میں نہ تجربے کی ہچکچاہٹ ہو گی، نہ ذائقے کا خوف۔ ہر بار نئی ڈش، نیا لطف، اور ہر بار مکمل اطمینان۔ یہ لفظ 'متشابهاً' بتاتا ہے کہ جنت کے پھل ایک جیسے لگیں گے لیکن جب چکھیں گے تو حیرت انگیز طور پر ہر بار الگ ہوں گے۔ یہ کتنی خوبصورتی سے تسلسل اور تنوع کو اکٹھا کرتا ہے!
تسلسل: پہچان رہے ہیں، دل مانوس ہے، کوئی اجنبیت نہیں۔
تنوع: ہر بار نیا لطف، نیا انکشاف، نیا لطفِ ذائقہ۔
دنیا میں اگر ایک پھل بہت پسند ہو جائے، تو ہم بار بار کھا کر اُکتا جاتے ہیں۔۔۔ لیکن جنت میں کبھی دل نہیں بھرے گا، کبھی 'بس اب نہیں' نہیں کہیں گے۔
یہ ایک اور طرح کا 'ذہنی سکون' ہے۔ دنیا کی کھانے کی اشیاء اکثر:
کبھی ذائقہ اچھا ہوتا ہے، مگر صحت خراب کر دیتی ہیں
کبھی ذائقہ خراب، مگر فائدہ مند
اور اکثر نہ صحت اچھی، نہ ذائقہ
لیکن جنت میں: ہر چیز مکمل ہے۔ ذائقہ، خوشبو، فائدہ۔ نہ بدہضمی، نہ الرجی، نہ کالوریز کا ڈر اور سب سے بڑی بات: یہ 'رزق' ہو گا، محض کھانا نہیں۔ یہ آیت ہمیں دنیا میں بھی ایک سبق دیتی ہے:
اللہ کی نعمتیں اگر غور سے دیکھیں، تو ہر دن نیا لطف دیتی ہیں۔
سورج روز نکلتا ہے — مگر منظر ہر دن مختلف ہوتا ہے۔
قرآن ایک ہی ہے — مگر تدبر ہر بار نیا زاویہ دکھاتا ہے۔
نماز ایک جیسی لگتی ہے — مگر خشوع ہر دن کا الگ ہوتا ہے۔
یہی پیغام جنت کے پھلوں کے ذریعے ہمیں دیا جا رہا ہے کہ اللہ کی نعمتیں لا متناہی ہیں، مگر وہ کبھی بورنگ نہیں ہوتیں۔
'وَلَهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ'
جنت میں پاک رشتے، بے عیب رفاقت…
دنیا میں میاں بیوی کے رشتے میں محبت کے ساتھ ساتھ کبھی جھگڑے بھی آتے ہیں۔ کبھی دل میں باتیں رہ جاتی ہیں، کبھی سالوں تک شکوے سنبھال کر رکھے جاتے ہیں۔
لیکن جنت؟
وہاں کوئی دل ٹوٹے گا نہیں۔ نہ حسد ہو گا، نہ شک، نہ فاصلے، نہ فاصلوں کی باتیں…
'وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ…'
'اور ہم ان کے دلوں سے ہر قسم کا بغض نکال دیں گے۔۔۔'
وہاں رشتے ہوں گے، مگر ان میں صرف محبت ہو گی… صرف پاکیزگی۔ باطنی بھی اور ظاہری بھی۔۔۔
اور سب سے عظیم نعمت: ہمیشگی۔۔۔
'وَهُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ'
کیا کبھی آپ کسی خوبصورت جگہ گئے ہیں؟ کسی بہترین ہوٹل، کسی قدرتی منظر، کسی خوابوں کے مقام پر؟ چند دنوں کے لیے، عارضی قیام۔۔۔ لیکن وہاں ایک کڑوا سچ ہمیشہ ساتھ ہوتا ہے: ''چیک آؤٹ کا وقت قریب ہے!'
لیکن جنت۔۔۔ وہاں داخل ہونے کے بعد کوئی 'چیک آؤٹ' نہیں۔ کوئی وقت ختم نہیں ہوتا۔ کوئی یہ نہیں کہے گا: 'اب واپس جانا ہے…' وہاں ہمیشہ کے لیے بس جانا ہو گا۔ اور یہ ہمیشہ۔۔۔ رب کی رضا کا مظہر ہو گا۔
یہ آیت ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
اللہ ہمیں ڈرانا ہی نہیں چاہتا، ہمیں اُمید بھی دینا چاہتا ہے۔ خوشخبری دینا، اُس کی رحمت کا انداز ہے۔
ایمان + نیک عمل = جنت۔ دل کا یقین اور ہاتھوں کا عمل… تب جا کر جنت کا وعدہ حقیقت بنتا ہے۔
جنت کی نعمتیں روز نئی، دل کو تازگی دینے والی، کبھی پرانی نہ ہونے والی خوشی، جو ہر بار پہلی بار جیسی لگے۔
رشتے جو صرف محبت پر مبنی ہوں گے، جہاں دل صاف، نیت پاک، اور تعلقات جنتی ہوں گے۔
ہمیشگی کا قیام: no expiry, no sadness, only نور، onlyسکون، ایسی رہائش جہاں سے کبھی نکالا نہیں جائے گا۔
اللَّهُمَّ اجعلنا من أهل الجنة، وأكرمنا برؤيتك، واجعل لنا في جنتك مقاماً دائماً، وارزقنا الإيمان والعمل الصالح حتى نلقاك وأنت راضٍ عنا.
یا اللہ! ہمیں جنت کے مکینوں میں شامل فرما، ہمیں اپنا دیدار نصیب فرما، ہمیں اپنے ساتھ ہمیشہ کی رفاقت عطا فرما، اور ہمیں ایمان و عمل کی دولت دے، یہاں تک کہ ہم تجھ سے ملاقات کریں اور تُو ہم سے راضی ہو۔
آمین یا رب العالمین !