آیت بہ آیت: سورۃ البقرۃ میں خود کی تلاش

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت 17
مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ
انکی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے شب تاریک میں آگ جلائی۔ جب آگ نے اسکے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو اللہ نے ان لوگوں کی روشنی زائل کر دی اور انکو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔

اندھیری رات میں روشنی کی تلاش فطری ہے۔
ایک انسان آگ جلاتا ہے، اور جیسے ہی وہ روشنی اردگرد پھیلاتی ہے ۔۔۔اچانک، اللہ اس کا نور چھین لیتا ہے
اور وہ شخص رہ جاتا ہے،ادھورا، بے سمت، اندھیروں میں۔۔۔
یہ قرآن کی ایک تمثیل ہے۔۔۔ لیکن ہر اس دل کے لیے ہے۔۔۔جو صرف ظاہر کو روشن رکھتا ہےاور باطن کو سیاہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایمان کو صرف "دکھاوے" تک محدود رکھا۔
نماز تو ہے، مگر روح غائب
کلمہ تو ہے، مگر نیت کہیں اور
چراغ تو ہے، مگر تیل ختم ہو چکا۔۔۔
اللہ جب کسی کا نور چھین لے،تو وہ صرف اندھیروں میں نہیں رہتا وہ اندھیرے بن جاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے:
کیا ہم نے ایمان کو صرف معلومات سمجھ رکھا ہے؟
کیا ہدایت ہمارے دل کی ضرورت ہے، یا صرف معاشرتی پہچان؟
کیا ہم بھی وہ شخص تو نہیں،جس نے روشنی جلائی مگر اسے اپنے اندر اتارنے سے انکار کر دیا؟
یا اللہ!ہمارے دلوں سے نفاق، غفلت، اور دکھاوا دور فرمااور ہمیں وہ نور عطا کرجو صرف آنکھوں سے نظر نہ آئے،بلکہ دل میں اتر جائے۔۔۔اور ہمیں اندھیروں میں کبھی اکیلا نہ چھوڑ۔۔۔ آمین

مکمل تدبر درج ذیل لنک میں:
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت 17
مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ
انکی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے شب تاریک میں آگ جلائی۔ جب آگ نے اسکے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو اللہ نے ان لوگوں کی روشنی زائل کر دی اور انکو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔

اندھیری رات میں روشنی کی تلاش فطری ہے۔
ایک انسان آگ جلاتا ہے، اور جیسے ہی وہ روشنی اردگرد پھیلاتی ہے ۔۔۔اچانک، اللہ اس کا نور چھین لیتا ہے
اور وہ شخص رہ جاتا ہے،ادھورا، بے سمت، اندھیروں میں۔۔۔
یہ قرآن کی ایک تمثیل ہے۔۔۔ لیکن ہر اس دل کے لیے ہے۔۔۔جو صرف ظاہر کو روشن رکھتا ہےاور باطن کو سیاہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایمان کو صرف "دکھاوے" تک محدود رکھا۔
نماز تو ہے، مگر روح غائب
کلمہ تو ہے، مگر نیت کہیں اور
چراغ تو ہے، مگر تیل ختم ہو چکا۔۔۔
اللہ جب کسی کا نور چھین لے،تو وہ صرف اندھیروں میں نہیں رہتا وہ اندھیرے بن جاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے:
کیا ہم نے ایمان کو صرف معلومات سمجھ رکھا ہے؟
کیا ہدایت ہمارے دل کی ضرورت ہے، یا صرف معاشرتی پہچان؟
کیا ہم بھی وہ شخص تو نہیں،جس نے روشنی جلائی مگر اسے اپنے اندر اتارنے سے انکار کر دیا؟
یا اللہ!ہمارے دلوں سے نفاق، غفلت، اور دکھاوا دور فرمااور ہمیں وہ نور عطا کرجو صرف آنکھوں سے نظر نہ آئے،بلکہ دل میں اتر جائے۔۔۔اور ہمیں اندھیروں میں کبھی اکیلا نہ چھوڑ۔۔۔ آمین

مکمل تدبر درج ذیل لنک میں:
تدبر سورۃ بقرۃ آیت 17
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت: 18
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ لوٹ کر نہیں آتے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی روحانی حالت کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ یعنی وہ حق کو سننے کی طاقت نہیں رکھتے، حق بولنے یا قبول کرنے سے قاصر ہیں، اور حق کو دیکھنے اور سمجھنے سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس لیے وہ ہدایت کی طرف پلٹنے کے قابل نہیں رہتے۔

یہ آیت ایک روحانی MRI

یہ آیت صرف چند الفاظ نہیں، بلکہ ایک مکمل روحانی MRI رپورٹ ہے۔ ایسی رپورٹ جو ظاہری ایمان کے جسم کے اندر چھپے ہوئے باطنی نقائص، اندرونی جمود، اور احساسِ مردنی کی گہرائیوں کو عیاں کرتی ہے۔جیسے فزیکل MRI جسم کے اندرونی حصوں کو بے آواز تصویروں کے ذریعے دکھاتا ہے، ویسے ہی یہ آیت روح کے تین اہم نظاموں پر اسکین کرتی ہے:

صُمٌّ بہرے (Hearing Center Blocked)

MRI میں پہلے سیکشن میں آتا ہے کہ کان تو ہیں، مگر صوتی سگنلز دل تک نہیں جا رہے۔ نصیحت سنائی جاتی ہے، مگر اندر جذب نہیں ہوتی۔ یہ روحانی Receptor Failure ہے۔
یعنی دل اتنا سخت ہو چکا ہے کہ اب نورِ ہدایت کو قبول ہی نہیں کرتا۔ یہ وہ کیفیت ہے جب اندر کی سماعت ختم ہو جاتی ہے۔ قرآن کی تلاوت سنائی دیتی ہے، وعظ و نصیحت کانوں سے ٹکراتی ہے، لیکن دل کے پردے ساری آواز روک لیتے ہیں۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد: 24)
کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟

بُكْمٌ گونگے (Speech Center Paralyzed)

MRI کا دوسرا حصہ "اظہار" کی جانچ کرتا ہے۔ یہاں زبان تو موجود ہے، مگر سچ بولنے، ذکر کرنے، حق بیان کرنے کی صلاحیت مفلوج ہے۔یعنی دل میں جو ایمان ہونا چاہیے تھا، وہ زبان تک پہنچ ہی نہیں رہا۔

عُمْىٌ اندھے (Vision Center Shut Down)

تیسرا سیکشن اسکین کرتا ہے "بینائی" کو۔ آنکھیں کھلی ہیں، مگر حق نظر نہیں آتا۔ عبرت، بصیرت، یا رب کی نشانیاں سب نظروں کے سامنے ہیں، لیکن "روحانی Retina" اندھا ہو چکا ہے۔
نتیجتًا دل آنکھوں سے دیکھتا ہے، جب وہ مردہ ہو جائے تو آنکھیں عبرت کا دروازہ بند کر دیتی ہیں۔ ایسی آنکھیں صرف دنیا کے نظارے دیکھتی ہیں، آخرت کے پیغام کو نہیں پہچانتیں۔
"فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلْأَبْصَـٰرُ وَلَـٰكِن تَعْمَى ٱلْقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ" (الحج: 46)

"فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ" Final MRI Diagnosis

یہ MRI رپورٹ کا "آخری نوٹ" ہے: "یہ شخص اب رجوع کی صلاحیت کھو چکا ہے"۔ یہ ایک روحانی Emergency ہے۔
اس آیت کا کمال یہ ہے کہ یہ خاموشی سے ہمارے باطن کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ اللہ کی رحمت سے دور ہونے کی علامات کو دکھاتی ہے۔ اور واپسی کے دروازے کا پتہ بھی دیتی ہے، اگر دل زندہ ہو۔ یہ روحانی MRI کا وہ پرچہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ علاج ابھی ممکن ہے اگر ہم اسکین کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ آیت ہمارے لیے ایک ڈیفِبریلیٹر کا جھٹکا بن سکتی ہے، اور زندگی کی بند لَے دوبارہ چالو ہو سکتی ہے۔
یہ آیت ہر روز، ہر رات، ہر تنہائی میں ہم سے خاموش انداز میں یہ سوال کرتی ہے۔تمہارا ایمان کیسا ہے؟ تمہاری روح کے کان، زبان، اور آنکھیں کام کر رہی ہیں یا صرف جسم کے؟

یہ آیت ایک Self Scan

یہ آیت ہر روز کا Self-Scan بن سکتی ہے:
کیا میرا دل قرآن کو سنتے ہی کانپ اٹھتا ہے؟
کیا میری زبان حق کے لیے حرکت کرتی ہے؟
کیا میری آنکھیں دنیا میں عبرت دیکھتی ہیں یا صرف لذت؟
یہ مجھ سے کہتی ہے کہ اگر تم سن سکتی ہو، بول سکتی ہو، دیکھ سکتی ہو۔۔۔ تو لوٹ آؤ۔ اس سے پہلے کہ تم بھی ان میں شامل ہو جاؤ جن کے لیے واپسی کا دروازہ بند ہو چکا۔یہ آیت صرف تشخیص نہیں، دوا بھی ہے۔ اگر دل کی سماعت باقی ہے، تو اللہ کی طرف رجوع اب بھی ممکن ہے۔ قرآن کی یہی سب سے بڑی معجزہ فطرت ہے کہ وہ جس دل کو چوٹ دیتا ہے، اسی کو شفا بھی دیتا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت: 19
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡٓ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ‏
یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

ہم اس عجیب بارش میں کھڑے ہیں ۔۔۔جہاں ہدایت کی چمک ہمیں راستہ دکھاتی ہے مگر ہماری نفسی تاریکیاں ہمیں اندھا بنائے رکھتی ہیں۔ جہاں حق کی گرج ہمارے روح کے ارتعاش پیدا کرتی ہے مگر ہم موت کے خوف سے اپنے کانوں کو بند کر لیتے ہیں۔
یہ بارش تو رحمت ہے،مگر ہم اسے عذاب سمجھتے ہیں۔یہ چمک تو ہماری رہنمائی کے لیے ہے،مگر ہم اسے خوف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی نجات کے دروازے بند کر رہے ہیں۔ہم بارش میں کھڑے ہو کر بھی پیاسے مر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا ہم اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی اس روحانی موت کو توڑ پائیں گے؟
کیا ہم اپنے کانوں سے انگلیاں نکال کر ہدایت کی آواز سننے کا حوصلہ پیدا کر پائیں گے؟
یہ آیت ہمارے دل کی اس حالت کی المناک تصویر ہے جب ہم حق کو جانتے ہوئے بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

مکمل تدبر درج ذیل لنک میں:
تدبر سورۃ بقرۃ آيت 19
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت: 20
یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَذَہَبَ بِسَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ
قریب ہے کہ بجلی کی چمک انکی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے جائے جب بجلی چکمتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تواس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگراللہ چاہتا تو ان کے کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی دونوں کو زائل کر دیتا۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ۔۔۔
کبھی کبھی قرآن کا ایک لفظ ایسا چمکتا ہے جیسے رات کی تاریکی میں بجلی۔ اچانک۔ بے خبری میں۔ اور میری روح کی آنکھیں چند لمحوں کے لیے سہم جاتی ہیں۔ میں اس چمک کے سامنے بے بس کھڑی رہ جاتی ہوں حیران، خوف زدہ، مسحور۔
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب نماز میں سجدے کا وقت لمبا ہو جاتا ہے۔ جب تلاوت کرتے ہوئے ایک آیت دل کے اندر اتر جاتی ہے۔ جب کسی کی مصیبت دیکھ کر "الحمدللہ" خودبخود ہونٹوں پر آ جاتا ہے۔
مگر یہ چمک ٹھہرتی نہیں۔جیسے بجلی کی کرن۔۔۔ آئی، سب کچھ روشن کر دیا، اور چلی گئی۔ میں واپس اپنی دنیا میں لوٹ آتی ہوں۔ اسی دل میں، جو ابھی روشن تھا، پھر وہی اندھیرا سمٹنے لگتا ہے۔

كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ...
کتنے مرتبہ ایسا ہوا کہ رمضان آیا تو نیکیوں کا ایک جوش سا اٹھا۔ تراویح، تلاوت، صدقات۔ پھر رمضان گیا، اور میرا ایمانی ولولہ بھی ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔
کسی نیک ساتھی کی صحبت ملی تو دل میں دین کی باتیں چھڑ گئیں۔ پھر وہ ساتھی جدا ہوا، اور میرا ذکر و فکر بھی ختم ہو گیا۔
کیا میرا ایمان صرف "ماحول" کا مرہونِ منت ہے؟ کیا میں خود کوئی چراغ نہیں جلا سکتی؟محض دوسروں کی روشنی میں چلنے والی ایک سایہ رہوں گی؟

وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا...
اور پھر وہ وقت آتا ہے جب سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے۔
نہ دل میں کوئی جوش، نہ عبادت میں کوئی لذت۔ قرآن کھولو تو الفاظ بے جان محسوس ہوں۔ دعا مانگو تو لگے جیسے الفاظ دیوار سے ٹکرارہے ہیں۔ یہ وہ "اندھیرا" ہے جو میرے اندر چھا جاتا ہے۔
اور میں کھڑی رہ جاتی ہوں۔
جیسے کوئی مسافر راستہ بھول کر جنگل میں کھڑا ہو۔ نہ آگے کا راستہ سجھائی دے، نہ پیچھے کا۔ بس خاموشی۔ بس انتظار۔
کب تک انتظار کروں گی؟ کیا میں خود ایک قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتی؟

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ...
یہاں میرا دل ایک عجیب خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔
وہ لمحے جب قرآن سن کر آنسو نکل آتے ہیں۔ وہ وقت جب نماز میں سکون ملتا ہے۔ وہ احساس جب دعا قبول ہوتی محسوس ہوتی ہے۔۔۔یہ سب میرا حق نہیں، محض عطا ہے۔
اور عطا، واپس بھی لی جا سکتی ہے۔
اگر کل میری آنکھیں قرآن کی طرف نہ اٹھیں؟ اگر میرا دل دعا میں نہ لگے؟ اگر میں سنتی رہوں مگر سمجھ نہ پاؤں؟
یہ خیال ہی روح کو لرزا دیتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ...
اور پھر یہ آخری فقرہ آتا ہے۔۔۔امید کی ایک کرن۔
اگر میرا ایمان کمزور ہے، وہ مضبوط کر سکتا ہے۔
اگر میرا دل مردہ سا ہو گیا ہے، وہ زندہ کر سکتا ہے۔
اگر میں اندھیرے میں کھڑی ہوں، وہ راستہ دکھا سکتا ہے۔
وہ صرف چھیننے پر قادر نہیں۔۔۔وہ عطا کرنے، بخش دینے، تبدیل کر دینے پر بھی قادر ہے۔

اے میرے رب!مجھے صرف چمک سے متاثر ہونے والی نہ بنا۔جب تیری رحمت کی بجلی چمکے، تو میری آنکھیں اچکنے کے بجائے،تیرے نور میں ڈوب جائیں۔
جب میرا راستہ تاریک ہو جائے، تو مجھے کھڑی رہنے والی نہ بنا،بلکہ تیرے نام پر چلنے کی ہمت دے۔
میرے ہر سننے، ہر دیکھنے میں اپنا ذکر رکھ۔تاکہ یہ نعمتیں کبھی میرا گھمنڈ نہ بنیں،ہمیشہ تیری طرف لوٹنے کا ذریعہ بنیں۔
آمین۔
 

Waqar

وفقہ اللہ
رکن
کیا آپ شیئر کرنے سے گھبراتے ہیں؟
میرے ذہن میں یہ آیت ایک خاص لہجے میں گونجتی ہے۔۔۔ وہی لہجہ جو ہماری استاذہ، قرآن کے ایک منفرد ریفلیکشن (تدبر) کورس کے دوران اختیار کرتی تھیں۔
کورس کے دوران، وہ وقفے وقفے سے کسی طالبہ کو اسٹیج پر بلاتیں تاکہ وہ کسی سوال کا جواب دے یا پچھلے سیشن کا خلاصہ بیان کرے۔ یہ مرحلہ بظاہر سادہ ہوتا، مگر دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ میں خود بھی کئی دن انتظار کرتی رہی کہ کب میری باری آئے۔
ہر بار جب کوئی طالبہ اسٹیج کی طرف بڑھتی، استاذہ یہ آیت تلاوت کرتیں، اور ہمیں بھی ان کے پیچھے دہرانے کو کہتیں۔۔۔ اسی مخصوص لہجے اور قراءت میں:
"كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ!"
(یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، پس آپ کے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو تاکہ آپ اس کے ذریعے خبردار کریں، اور یہ مومنوں کے لیے یاد دہانی ہے۔)

اس آیت میں سب سے پہلے جو چیز دل کو چھوتی ہے، وہ اللہ اور اس کے نبی ﷺ کے درمیان وہ محبت بھرا تعلق ہے۔ یہ قرآن نبی ﷺ کا لکھا کلام نہیں تھا۔ بلکہ یوں کہیے کہ قرآن ہی نے نبی ﷺ کو "لکھا"۔ ان کی شخصیت، ان کا کردار، ان کا حلم سب کچھ ان آیات کے سانچے میں ڈھلتا گیا۔
یہاں "حرج" کا مطلب ہے دل کی گھبراہٹ یا تنگی۔ گویا رب تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دے رہا ہے: "دل تنگ نہ کرو۔۔۔ یہ میرا کلام ہے، بس لوگوں تک پہنچا دو۔"
کیونکہ ردِ عمل کا خوف ایک فطری احساس ہے اور ہم سب اس سے واقف ہیں۔ یہ دراصل ممانعت نہیں بلکہ محبت بھرا اطمینان ہے۔
اور یہی بات ہم آج بھی محسوس کرتے ہیں، حتیٰ کہ اس محفوظ پلیٹ فارم پر لکھتے ہوئے بھی۔ یہاں کوئی ہمیں ملامت نہیں کرتا، نہ رد کرتا ہے، پھر بھی دل میں یہ وسوسہ اٹھتا ہے کہ "اگر غلط بات ہو گئی تو؟ اگر میں کچھ نیا یا قیمتی نہ کہہ پائی تو؟"
مگر یہ تو شیطان کی چال ہے۔ اگر ہم نے صرف ایک آیت ہی دوسروں تک پہنچا دی، تب بھی کیا ہم وہ کام نہیں کر رہے جس کا نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا؟
"بلغوا عني ولو آية"
(میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔)
یہ اللہ کا کلام ہے، اس کی نشانی ہے، جو نبی ﷺ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ پھر ہم کیوں ہچکچائیں؟ کیا ہمیں اللہ کے کلام کی تاثیر پر شک ہے؟ قطعی نہیں!
اس کورس کی دو باتیں اور بھی قابلِ ذکر تھیں:
پہلا اصول یہ تھا کہ پورے ہفتے کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مقصد صرف ایک تھا: دل کو قرآن کے لیے خالی کرنا، تاکہ اس کے معانی دل پر ٹھہر سکیں۔
دوسرا اصول یہ تھا کہ کسی کو دوسروں سے برتر نہ سمجھا جائے۔ وہاں کئی مشہور اور علم والے افراد بھی موجود تھے، مگر سب کو صرف نام کے ساتھ بلایا جاتا۔ نہ القابات، نہ تمایز۔
ہم کھانے کے اوقات میں چھ طالبات کے حلقوں میں بیٹھتیں، آیات پڑھتیں اور ان پر بات کرتیں۔ لیکن یہ کبھی علمی مباحث میں نہیں بدلتا۔ نہ کوئی گہری تحقیق، نہ مشکل اصطلاحات۔ ہمیں کہا گیا تھا:
"ان معانی پر رک جاؤ جو واضح ہیں۔"
استاذہ نے اسے یوں سمجھایا:
"بنیادی معانی پانی کی طرح ہیں، اور علمی نکات دوا کی مانند۔ پانی سب کو روزانہ درکار ہے، دوا صرف مخصوص وقت پر۔"
یہ اصول بہت بصیرت افروز ہے۔ ہمیں اسی ہدایت پر جمے رہنا چاہیے جو سب کے لیے مفید اور قابلِ عمل ہے۔ نہ کہ ان پیچیدگیوں میں الجھ جائیں جو صرف الجھن بڑھاتی ہیں۔
اور ہاں سب سے اہم بات!
ہم سب سیکھنے کے سفر میں ہیں، اور یہ سفر اللہ کے کلام کے ساتھ سب سے مبارک سفر ہے۔
ماشاللہ بھت خوبصورت انداز ھے سمجھانے کا
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آیت: 21
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو (بھی)، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)

کیا یہ صرف ایک "آیت" ہے یا "زندگی کا دستور العمل"؟
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ"
یہاں میرے ذہن میں سوال آتا ہے کہ قرآن کا پہلا خطاب "اے ایمان والو!" نہیں، بلکہ "اے انسانو!" کیوں ہے؟
کیونکہ انسانی ہونا ہی سب سے پہلی شرط ہے۔ "يَا أَيُّهَا النَّاسُ" مجھے سکھاتا ہے کہ مجھے میں آج کے تقسیم در تقسیم معاشرے میں، ہر شخص کو دیکھتے وقت سب سے پہلے "یہ بھی اسی رب کا بندہ ہے" کا شعور جاگے۔

"رَبَّكُمْ"
رب کا مطلب:
خالق: جو ہمیں عدم سے وجود دینے والا۔
مالک: ہمارا جسم، وقت، صلاحیتیں سب اسی کے قبضے میں۔
پرورش کرنے والا: ہماری ہر ضرورت پوری کرنے والا۔
تربیت دینے والا: زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرنے والا۔

"الَّذِي خَلَقَكُمْ
میرا وجود کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ میں ایک منصوبہ بند تخلیق ہوں۔ میری ہر خصوصیت: آنکھوں کا رنگ، انگلیوں کے نشان، سوچنے کا انداز سب جان بوجھ کر بنایا گیا۔ میں بے مقصد نہیں، میں منتخب ہوں۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ ہے: میری کوئی چیز میری نہیں: میرا جسم؟ اس کا بنایا ہوا۔ میرا وقت؟ اس کا دیا ہوا۔ میری صلاحیتیں؟ اس کی عطا۔ میں مالک نہیں، منتظم ہوں۔

وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ"
یہاں مجھے "تاریخ کے بہاؤ میں اپنی حیثیت" کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ میں محض ایک اکیلی فرد نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی ایک کڑی ہوں۔ مجھ سے پہلے آنے والے لاکھوں کروڑوں انسان بھی اسی رب کی تخلیق تھے۔
یہ سوچ مجھ میں موجود ہر "تکبر" کو ختم کر دیتی ہے۔ میں کون ہوں؟ میرے باپ دادا، ان کے باپ دادا۔۔۔ سب اسی کی مخلوق۔ یہ مجھے گہری "عاجزی" سکھاتا ہے۔

"اعْبُدُوا" عبادت کرو
عبادت محض "رسمی عبادات" تک محدود نہیں۔ یہ "حقیقی غلامی و محبت کا اظہار" ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر مریض کی دیکھ بھال کرتا ہے، تو وہ بھی عبادت ہے۔جب کوئی مشکل صورت حال میں سچ بولتا ہے، حالانکہ جھوٹ سے فائدہ ہو سکتا تھا، تو وہ عبادت ہے۔جب کوئی کسی کو معاف کرتا ہے، تو وہ عبادت ہے۔میرے لیے عبادت اب ایک "مکمل لائف سٹائل" ہے۔

"لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
"لَعَلَّ" (تاکہ، شاید) کا لفظ بڑا پیارا ہے۔"لَعَلَّ" کہ شاید، اس عبادت کے ذریعے، تمہارے اندر وہ چیز پیدا ہو جائے جو تمہیں حقیقی انسان بنائے: "تقویٰ "۔
تقویٰ کیا ہے؟
یہ صرف ڈرنا نہیں بلکہ ہر لمحہ رب کے ساتھ "منسلک" ہونے کا شعور ہے۔یہ وہ اندرونی روشنی ہے جو: جھوٹ بولتے وقت دل میں کھٹکا پیدا کرے۔ دوسرے کی ضرورت دیکھ کر خودبخود ہاتھ بڑھا دے۔ کامیابی پر "الحمدللہ" اور ناکامی پر "رب کی مرضی" کہلوا دے۔ ہر فیصلے کے لمحے "کیا رب اس سے راضی ہوگا؟" کا سوال اٹھائے۔

آخری بات: یہ آیت ہمیں "خودشناسی" (Self-Awareness) سے "رب شناسی" (God-Consciousness) تک کا سفر سکھاتی ہے۔
یہ کوئی زبردستی کا حکم نہیں، بلکہ "میری اپنی فلاح کا نسخہ" ہے۔
سوچنے والی بات ہے کہ "اگر ہم دن میں 16 گھنٹے دنیا کے نظام میں گزارتے ہیں، اور 5 و قت صرف رب کے نظام سے جوڑتے ہیں تو کیا یہ تناسب ہمیں وہ تقویٰ دے پا رہا ہے جس کی طرف قرآن ہمیں بلا رہا ہے؟"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
سورۃ بقرۃ آیت 22
'الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا'
(جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا)
اللہ تعالٰی نے زمین کو ہمارے لیے ایسا بچھونا بنایا جس پر ہم نہ صرف رہتے ہیں بلکہ آرام کرتے ہیں، چلتے ہیں، اگاتے ہیں، دفن ہوتے ہیں، اور جیتے ہیں۔یہ بچھونا صرف جسم کے لیے نہیں، بلکہ روح کے سکون کے لیے بھی ہے۔ جیسے بچے کے نیچے نرم چادر ماں کے ہاتھوں سے بچھائی جاتی ہے، ویسے ہی رب نے اس زمین کو نہایت حکمت اور رحمت سے ہمارے لیے بچھایا۔
جب اللہ فرماتا ہے:
'جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا'
تو اس زمین کو صرف فزیکل بچھونا مت سمجھیں۔ یہ زندگی کے ہر پہلو میں ایک مکمل نظام، ایک توازن کا استعارہ ہے۔ اگر زمین ہر جگہ ایک جیسی ہوتی؟ اگر ہر جگہ صرف پہاڑ ہوتے، یا ریت کے طوفان، یا ہر جگہ پانی ہی پانی ہوتا تو زندگی کتنی مشکل ہو جاتی۔ہم نہ چل سکتے، نہ بس سکتے، نہ اگا سکتے، نہ رہ سکتے۔
یہی تو تدبر کا نقطہ ہے:اللہ نے زمین کو ہر جگہ مختلف بنایا، مگر ایک توازن کے ساتھ۔ کہیں پہاڑ، کہیں میدان، کہیں دریا، کہیں صحرا، کہیں برف، کہیں گرمی، کہیں بادل، کہیں چمکتا سورج، اور ان سب کے بیچ زندگی رواں دواں ہے۔
زمین کا یہ توازن، انسان کی زندگی کا آئینہ ہے:زندگی میں بھی 'صحرا' آتے ہیں۔ وہ دن جب دل سوکھا سا لگے، دعائیں سُنائی نہ دیں، امید کا سورج چھپ جائے۔لیکن 'سبزہ زار' بھی ہوتے ہیں۔ وہ لمحے جب دل بہلتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں، لوگ مسکراتے ہیں، رب قریب لگتا ہے۔پھر کچھ لمحے 'پہاڑ' جیسے ہوتے ہیں۔ مضبوط، مگر چڑھائی سے بھرپور ہمت مانگتے ہیں۔اور کچھ 'ندیوں' جیسے۔ بہتے، سبک رفتار، دل کو ٹھنڈک دینے والے۔یہ سب کچھ مل کر زندگی کو مکمل بناتے ہیں۔ نہ مسلسل سبزہ ممکن ہے، نہ ہمیشہ صحرا۔ توازن ہی خوبصورتی ہے۔
اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ جس طرح اللہ نے زمین کو ہر حال میں توازن میں رکھا ہے، ہمیں بھی اپنی زندگی میں یہی توازن قائم رکھنا چاہیے۔خوشی میں شکر، غم میں صبر، نعمت میں قناعت، آزمائش میں توکل۔ زمین کی طرح جھک کر، سادہ بن کر، سب کے لیے فائدہ مند بن کر۔
پھر فرمایا:
'وَالسَّمَاءَ بِنَاءً'
اور آسمان کو ایک چھت بنایا۔
ذرا سر اٹھا کر دیکھیں، وہ عظیم الشان گنبد، جو ہمہیں چھاؤں دیتا ہے، ہم پر ٹوٹتا نہیں، ہمہیں اپنی وسعت سے حیران کرتا ہے۔ یہ آسمان بس نیلا پردہ نہیں، یہ کائناتی نظام کا تسلسل ہے: ہوائیں، بادل، ستارے، سورج، سب اسی چھت کے تحت، ایک حکم کے تابع چل رہے ہیں۔ رب نے نہ صرف چھت دی، بلکہ حفاظت بھی کی۔
اگر یہ چھت نہ ہوتی؟ تو کیا ہم خلا میں زندہ رہ سکتے تھے؟ بالکل نہیں!
'وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً'
(اور آسمان سے پانی اتارا)
یہ پانی زندگی ہے۔ جو ہر خشک لب کو تر کرتا ہے، ہر بنجر زمین کو زرخیز کرتا ہے۔ پانی کی ہر بوند میں رب کی رحمت چمکتی ہے۔آسمان سے بارش آنا بس قدرتی عمل نہیں۔ یہ رب کی مداخلت ہے، اس کی رحمت ہے، اس کی طرف سے 'نظامِ زندگی' کی کنجی۔
سوچیں اگر یہ پانی نہ آتا؟ یا بے وقت آتا؟کیا ہم اپنے علم، اپنی ٹیکنالوجی سے ایک بوند بھی اتار سکتے ہیں؟ نہیں!
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
'فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ'
'پھر اس کے ذریعے تمہارے لیے پھلوں کو رزق بنا کر نکالا۔'
سوچنے کی بات ہے: پانی تو ایک جیسا برستا ہے، نہ رنگ ہے، نہ خوشبو، نہ ذائقہ۔ پھر اسی پانی کبھی سیب بن جاتا ہے، کبھی آم، کبھی انار، کبھی کیلا، کبھی انگور۔ اور سب کی ساخت، ذائقہ، خوشبو الگ!
یہ رب کی طاقت نہیں، تو اور کیا ہے؟
جیسے ایک مصور ایک ہی برش سے مختلف نقش بناتا ہے، ویسے ہی اللہ تعالیٰ ایک ہی پانی سے ہزاروں ذائقے، رنگ، اور خوشبوئیں پیدا کرتا ہے۔اور حیرت کی بات! ایک ہی درخت، ایک ہی شاخ اور دو پھل الگ ذائقے رکھتے ہیں۔ ہم یہ کیسے سمجھ لو کہ یہ سب اتفاق ہے؟یہ صرف رب کا 'کُن' ہے۔ 'ہو جا' اور ہو گیا۔یہ رب کا حسنِ انتظام ہے: نعمتوں کا انبار، مگر انسان کے لیے اتنا آسان کہ وہ اس سے لطف اٹھا سکے،سمجھ سکے، شکر ادا کرے۔ایک جیسا پانی، ایک جیسی زمین، ایک سورج، ایک ہی ہوا۔ لیکن نتیجہ؟بے شمار پھل۔۔۔ تمہارے لیے!
'رِزْقًا لَّكُمْ'
تو پھر کیوں نہ اس رب کا شکر ادا کیا جائے؟ کیوں نہ ہم ذائقے میں رب کو تلاش کریں؟ اور کیوں نہ ہمارا ہر نوالہ ہمیں رب کی یاد دلائے؟
یہ رزق صرف کھانے کے لیے نہیں، یہ خوشبو، رنگ، ذائقہ، جمال، اور توازن ہے۔ایک بیج، ایک بوند، ایک دھوپ، اور پھر ایک آم، ایک انار، ایک انگور۔کون ہے جو ایک ہی زمین سے اتنی اقسام پیدا کر رہا ہے؟
یہ رزق 'لَكُمْ' ہے ۔۔۔ تمہارے لیے۔نہ تم نے بیج بنایا، نہ پانی، نہ ذائقہ، صرف رب نے عطا کیا۔
'فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ'
پس اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔
یہ آیت کا نکتۂ عروج ہے۔ جب ہم یہ سب جانتے ہیں، رب کی نشانیاں پہچان چکے ہیں،پھر کیسے ہم اسے چھوڑ کر کسی اور کو سجدہ کر سکتے ہیں؟ کیسے کسی اور سے امید رکھ سکتے ہیں؟
یہ نہ صرف تنبیہ ہے، بلکہ دل کو ہلا دینے والا سوال ہے:'اور تم جانتے ہو!'
یہ علم ایک نعمت ہے۔ لیکن اگر وہی علم شرک میں نہ روکے، تو وہ حجت بن جاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے:
رب کے احسانات کو شمار کریں، تاکہ دل میں شکر پیدا ہو۔
زمین و آسمان کی ساخت پر غور کریں، تاکہ دل میں عاجزی پیدا ہو۔
پانی اور رزق کے ذرائع پر سوچیں، تاکہ امید صرف رب سے وابستہ ہو۔
شرک کی باریکیوں سے بچیں، کیونکہ شیطان بہت چالاک ہے۔
 
  • پسند کریں
Reactions: Rua

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
سورۃ بقرۃ آیت 23
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ
اور اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں انکو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔

یہ آیت، میرے دل پر ایک خاص اثر چھوڑتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قرآن کی صداقت کا اعلان ہے، بلکہ ایک دعوتِ فکر بھی ہے، ایسا چیلنج جو انسان کے غرورِ علم کو جھنجھوڑتا ہے اور اس کے سامنے عاجزی کی حقیقت رکھ دیتا ہے۔
یہ آیت اللہ سبحانہ و تعالی کا اپنے بندوں سے براہِ راست، گہرا، محبت بھرا خطاب۔
وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ۔۔۔'
یہ شک کی دھند میں گم انسان سے رب کا سوال ہے۔ تصور کیجیے... ایک شخص، اپنے رب سے دور، دل میں ہزار سوال، سوچوں کے طوفان میں گھرا ہوا ہے۔
اور ایسے میں ربِ کائنات اسے جھٹک نہیں دیتا، بلکہ نرم لہجے میں، جیسے ماں اپنے ضدی بچے سے بات کرے، کہتا ہے:
'اگر تمہیں شک ہے۔۔۔' یعنی میں جانتا ہوں تمہیں شک ہے۔ لیکن میں تمہیں دھتکار نہیں رہا۔ میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں۔
نہ ڈانٹ، نہ ملامت، صرف ایک کھلا دروازہ۔ کیا آپ نے کسی رب کو ایسا پایا ہے؟ جو اپنے انکار کرنے والوں کو بھی اتنی محبت سے، اتنی نرمی سے بلائے؟ کیا یہ انداز محض چیلنج ہے؟ نہیں، یہ رب کی محبت کی سب سے لطیف جھلک ہے۔
'مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا'
یہ عبدیت کی معراج ہے۔ اللہ نے یہاں رسول ﷺ کو 'عبدنا' کہا۔ ہمارا بندہ۔ نہ نبی، نہ رسول، نہ سیّد، صرف۔۔۔ بندہ۔ گویا سب سے بڑی شان، سب سے عظیم مقام، اللہ کا بندہ ہونا ہے۔
یہ ہمیں بھی پیغام دیتا ہے: اگر تم چاہتے ہو کہ تم پر بھی اللہ کی رحمت کا نزول ہو، تو عبد بن جاؤ... مکمل بندگی، مکمل سپردگی۔
فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّن مِّثْلِهِۦ
چیلنج دیا گیا: 'اس جیسی ایک سورت لے آؤ'۔
یہ چیلنج نہیں، یہ آئینہ ہے۔
تم کہتے ہو:
'ہم عقل والے ہیں۔ ہم جدید ہیں۔ ہم سائنس دان، فلسفی، ماہرِ لسانیات ہیں'۔
تو پھر آؤ، قرآن کی طرح کوئی ایک سورت ہی بنا لو۔
لیکن نہ الفاظ آسمان چھوتے ہیں، نہ دل کے زخم سہلاتے ہیں، نہ روح کا خلا پُر کرتے ہیں۔ انسانی کتابیں علم دیتی ہیں، قرآن نور دیتا ہے۔
صدیاں بیت گئیں، عرب کے فصیح و بلیغ، فلاسفہ، نقاد، ادباء، شعراء، سب نے ہار مان لی۔
کیوں؟ کیونکہ قرآن صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ نور ہے، حقیقت ہے، دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی صداقت ہے۔
'وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم...'
تمہاری ساری طاقتیں، سب دلیلیں، سب اکٹھا کر لو۔ یہاں اللہ کی طرف سے ایک طرح سے انسان کو اُس کے تکبر کا سامنا کرایا جا رہا ہے۔
تم علم پر فخر کرتے ہو؟ تم کہتے ہو تمہارے پاس منطق، عقل، فلسفہ ہے؟ تو سب کو بلا لو۔
لیکن یاد رکھو... اللہ کے سوا۔
یہ جملہ ایک تلوار کی طرح ہے، جو ہر جھوٹے سہارے کو کاٹ دیتا ہے۔
تمہارے سارے 'گواہ'، تمہاری ساری 'اتھارٹیز'، تمہارے سارے 'دلائل'۔ سب لے آؤ۔
لیکن ایک شرط ہے: اللہ کو بیچ میں مت لانا۔
اور یہی تو شکست ہے کہ اللہ کے بغیر، انسان علم سے، فکر سے، قوت سے کچھ نہیں کر پاتا۔ جب اللہ کو درمیان سے نکال دو گے، تو نہ علم کام آئے گا، نہ عقل، نہ شاعری، نہ سائنس۔
جب میں یہ آیت پڑھتی ہوں، تو میرے دل کے اندر ایک خاموش سی ہلچل اٹھتی ہے۔ جیسے اللہ مجھ سے کہہ رہا ہو:
اے بنت آدم! تمہیں واقعی یقین ہے کہ یہ میرا کلام ہے؟
تو پھر تمہارا دل ہر روز اس سے کیوں دور ہوتا ہے؟
تمہارے آنکھیں اس کے بغیر کیوں خشک رہتی ہیں؟
تمہاری راتیں میرے کلام کے نور سے خالی کیوں ہیں؟
کیا تم بھی ان شک کرنے والوں کی صف میں تو نہیں، جنہیں اپنے شک کا احساس ہی نہیں ہوتا؟
یہ آیت ہمیں سبق دیتی ہے کہ:
شک کی حالت فطری ہے، مگر سچ کی تلاش ضروری ہے۔ سوال کرنا غلط نہیں، لیکن جواب کی طرف مخلص سفر کرنا ضروری ہے۔
قرآن اپنی صداقت کا ثبوت الفاظ سے نہیں، بلکہ تاثیر، حکمت، اعجاز اور تبدیلی کی طاقت سے دیتا ہے۔ آج بھی یہ چیلنج قائم ہے، کسی کے پاس اس جیسا کلام لانے کی ہمت نہیں۔ تو پھر یہ ہماری زندگی کا مرکزی محور ہونا چاہیے۔
اللہ نے رسول ﷺ کو عبد کہہ کر ہمارے لیے راستہ بتایا۔ عبدیت ہی اعلیٰ مقام ہے۔جو عبد بن جائے، قرآن اس کے لیے نور اور شفا بن جاتا ہے۔
اللہ کے بغیر علم، عقل، فلسفہ سب بے معنی ہے۔ ہمیں اپنے ہر عمل، ہر تحقیق، ہر علم میں رب کو شامل کرنا ہے۔
یہ آیت میں کوئی جھڑک نہیں، بلکہ ایک دعوت ہے، رحمت ہے۔ اللہ کہتے ہیں: شک ہے؟ تو تجربہ کرو، سوچو، دل سے دیکھو۔ ہمیں بھی دعوت دین میں سختی نہیں بلکہ حکمت، نرمی اور محبت کا طریقہ اپنانا ہے۔
اللَّهُمَّ اجعل القرآنَ نورَ قلوبِنا، وثبّتْنا على دينك، واخرجنا من الرَّيب إلى اليقين، وارزقنا خشوعاً في الصلاة، ورِضاك عند الممات.
اے اللہ! قرآن کو ہمارے دلوں کا نور بنا دے، ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، شک سے نکال کر یقین عطا فرما، نماز میں خشوع نصیب کر، اور موت کے وقت اپنی رضا دے دے۔
آمین یا رب العالمین !
 
Top