تھیم آف دا منتھ ("ذوالنورینؓ کی روشنی، آج کے سفر کے لیے")
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ آپ سب ایمان، عافیت اور ربّ کریم کی رحمتوں کے سائے میں ہوں گے۔
آج جب میں دامادِ رسول ﷺ، ناشرِ قرآن، سراپا حیا و نور، جود و سخا کے پیکر، مظلومِ مدینہ، امیرالمؤمنین، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو پڑھ رہا تھا تو دل بے اختیار عقیدت سے لبریز ہو گیا۔
اسی دوران ایک خیال نے دل کے دریچوں کو کھٹکھٹایا کہ کیوں نہ اس ماہ میں، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یاد ہمیں رب کی راہ میں قربانی، صبر، حلم اور ایثار کی عظیم داستان سناتی ہے ، ہم ان کی سیرت، کردار، اخلاق، حیاء اور سخاوت سے کچھ سیکھنے کی سعی کریں؟
یہ چند سوالات ہیں جن پر ہم اس تھیم کے مطابق غور کریں گے:
ہم سیرت کو "مطالعے" کے بجائے "عمل" کا ذریعہ کب بنائیں گے؟
کیا آج کے دور میں سخاوت صرف پیسے سے ہوتی ہے؟
جب کسی مسجد یا رفاہی کام کے لیے چندہ مانگا جائے تو ہمارا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم دوسروں کی ضروریات کو اپنی عادتوں سے مقدم رکھتے ہیں؟
کیا ہم موبائل اور سوشل میڈیا پر حیا کا خیال رکھتے ہیں؟
حضرت عثمانؓ کو دیکھ کر فرشتے بھی شرماتے تھے کیا ہمارا کردار ایسا ہے؟
کیا ہم قیادت کو خدمت سمجھتے ہیں یا اختیار؟
کیا ہم ان لوگوں کے لیے نرم رہ سکتے ہیں جو ہمیں نقصان دے رہے ہوں؟
آپؓ نے قرآن کو جمع کیا ہم نے اسے دل میں جمع کیا یا صرف شیلف پر؟
کیا قرآن ہماری روزمرہ سوچ اور عمل میں رہنمائی کرتا ہے؟
ہم حضرت عثمانؓ کی کون سی ایک صفت کو فوری اپنی زندگی میں لا سکتے ہیں؟
اگر ہر مسلمان حضرت عثمانؓ جیسی ایک خوبی اپنا لے، تو معاشرہ کیسا ہو جائے گا؟
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سیرت اور کردار پر تحریری انداز میں سلسلہ شروع کرنا نہایت ہی بابرکت اور مفید ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم حضرت عثمانؓ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔
یہ سلسلہ قارئین الغزالی کو حضرت عثمانؓ کی سیرت کو بہتر سمجھنے اور اس سے اپنی زندگی میں کردار و اخلاق کو اپنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
آئیے! اس مہینے کو ان کی حیاتِ مبارکہ سے رہنمائی لینے کا مہینہ بنائیں۔
ان کے صبر و حیا، سخاوت و عبادت، محبتِ قرآن اور عظیم قربانی کو اپنے دلوں میں تازہ کریں۔
شاید اس میں ہمارے دلوں کی صفائی، ہمارے اعمال کی اصلاح اور ہمارے ایمان کی تجدید کا سامان ہو جائے۔
اللہ ہمیں سیرتِ عثمانی کے انوار سے اپنے دلوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ آپ سب ایمان، عافیت اور ربّ کریم کی رحمتوں کے سائے میں ہوں گے۔
آج جب میں دامادِ رسول ﷺ، ناشرِ قرآن، سراپا حیا و نور، جود و سخا کے پیکر، مظلومِ مدینہ، امیرالمؤمنین، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو پڑھ رہا تھا تو دل بے اختیار عقیدت سے لبریز ہو گیا۔
اسی دوران ایک خیال نے دل کے دریچوں کو کھٹکھٹایا کہ کیوں نہ اس ماہ میں، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یاد ہمیں رب کی راہ میں قربانی، صبر، حلم اور ایثار کی عظیم داستان سناتی ہے ، ہم ان کی سیرت، کردار، اخلاق، حیاء اور سخاوت سے کچھ سیکھنے کی سعی کریں؟
یہ چند سوالات ہیں جن پر ہم اس تھیم کے مطابق غور کریں گے:
عمومی سوالات (Introductory)
کیا ہم اپنے روزمرہ فیصلوں میں کبھی حلم (بردباری) کو ترجیح دیتے ہیں؟ہم سیرت کو "مطالعے" کے بجائے "عمل" کا ذریعہ کب بنائیں گے؟
کیا آج کے دور میں سخاوت صرف پیسے سے ہوتی ہے؟
سخاوت کے حوالے سے (عثمانؓ کی مالی قربانیوں سے سبق)
اگر آپ کے پاس حضرت عثمانؓ جتنا مال نہ ہو، تو کیا آپ ان جیسا دل رکھ سکتے ہیں؟جب کسی مسجد یا رفاہی کام کے لیے چندہ مانگا جائے تو ہمارا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم دوسروں کی ضروریات کو اپنی عادتوں سے مقدم رکھتے ہیں؟
حیا اور کردار کے بارے میں
حیا کا مطلب صرف لباس میں شرم ہے یا رویے میں بھی؟کیا ہم موبائل اور سوشل میڈیا پر حیا کا خیال رکھتے ہیں؟
حضرت عثمانؓ کو دیکھ کر فرشتے بھی شرماتے تھے کیا ہمارا کردار ایسا ہے؟
صبر، برداشت، اور قیادت
جب ہمارے خلاف الزام لگتا ہے تو ہمارا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے؟کیا ہم قیادت کو خدمت سمجھتے ہیں یا اختیار؟
کیا ہم ان لوگوں کے لیے نرم رہ سکتے ہیں جو ہمیں نقصان دے رہے ہوں؟
قرآن سے تعلق
کیا ہم بھی حضرت عثمانؓ کی طرح قرآن سے محبت رکھتے ہیں؟آپؓ نے قرآن کو جمع کیا ہم نے اسے دل میں جمع کیا یا صرف شیلف پر؟
کیا قرآن ہماری روزمرہ سوچ اور عمل میں رہنمائی کرتا ہے؟
عملی زندگی سے جوڑنے کے سوالات
اگر حضرت عثمانؓ آج ہمارے معاشرے میں ہوتے، تو کن چیزوں پر دکھ محسوس کرتے؟ہم حضرت عثمانؓ کی کون سی ایک صفت کو فوری اپنی زندگی میں لا سکتے ہیں؟
اگر ہر مسلمان حضرت عثمانؓ جیسی ایک خوبی اپنا لے، تو معاشرہ کیسا ہو جائے گا؟
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سیرت اور کردار پر تحریری انداز میں سلسلہ شروع کرنا نہایت ہی بابرکت اور مفید ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم حضرت عثمانؓ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔
یہ سلسلہ قارئین الغزالی کو حضرت عثمانؓ کی سیرت کو بہتر سمجھنے اور اس سے اپنی زندگی میں کردار و اخلاق کو اپنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
آئیے! اس مہینے کو ان کی حیاتِ مبارکہ سے رہنمائی لینے کا مہینہ بنائیں۔
ان کے صبر و حیا، سخاوت و عبادت، محبتِ قرآن اور عظیم قربانی کو اپنے دلوں میں تازہ کریں۔
شاید اس میں ہمارے دلوں کی صفائی، ہمارے اعمال کی اصلاح اور ہمارے ایمان کی تجدید کا سامان ہو جائے۔
اللہ ہمیں سیرتِ عثمانی کے انوار سے اپنے دلوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!