تھیم آف دا منتھ ("ذوالنورینؓ کی روشنی، آج کے سفر کے لیے")

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
تھیم آف دا منتھ ("ذوالنورینؓ کی روشنی، آج کے سفر کے لیے")
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ آپ سب ایمان، عافیت اور ربّ کریم کی رحمتوں کے سائے میں ہوں گے۔
آج جب میں دامادِ رسول ﷺ، ناشرِ قرآن، سراپا حیا و نور، جود و سخا کے پیکر، مظلومِ مدینہ، امیرالمؤمنین، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو پڑھ رہا تھا تو دل بے اختیار عقیدت سے لبریز ہو گیا۔
اسی دوران ایک خیال نے دل کے دریچوں کو کھٹکھٹایا کہ کیوں نہ اس ماہ میں، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یاد ہمیں رب کی راہ میں قربانی، صبر، حلم اور ایثار کی عظیم داستان سناتی ہے ، ہم ان کی سیرت، کردار، اخلاق، حیاء اور سخاوت سے کچھ سیکھنے کی سعی کریں؟
یہ چند سوالات ہیں جن پر ہم اس تھیم کے مطابق غور کریں گے:

عمومی سوالات (Introductory)​

کیا ہم اپنے روزمرہ فیصلوں میں کبھی حلم (بردباری) کو ترجیح دیتے ہیں؟
ہم سیرت کو "مطالعے" کے بجائے "عمل" کا ذریعہ کب بنائیں گے؟
کیا آج کے دور میں سخاوت صرف پیسے سے ہوتی ہے؟

سخاوت کے حوالے سے (عثمانؓ کی مالی قربانیوں سے سبق)​

اگر آپ کے پاس حضرت عثمانؓ جتنا مال نہ ہو، تو کیا آپ ان جیسا دل رکھ سکتے ہیں؟
جب کسی مسجد یا رفاہی کام کے لیے چندہ مانگا جائے تو ہمارا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم دوسروں کی ضروریات کو اپنی عادتوں سے مقدم رکھتے ہیں؟

حیا اور کردار کے بارے میں​

حیا کا مطلب صرف لباس میں شرم ہے یا رویے میں بھی؟
کیا ہم موبائل اور سوشل میڈیا پر حیا کا خیال رکھتے ہیں؟
حضرت عثمانؓ کو دیکھ کر فرشتے بھی شرماتے تھے کیا ہمارا کردار ایسا ہے؟

صبر، برداشت، اور قیادت​

جب ہمارے خلاف الزام لگتا ہے تو ہمارا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم قیادت کو خدمت سمجھتے ہیں یا اختیار؟
کیا ہم ان لوگوں کے لیے نرم رہ سکتے ہیں جو ہمیں نقصان دے رہے ہوں؟

قرآن سے تعلق​

کیا ہم بھی حضرت عثمانؓ کی طرح قرآن سے محبت رکھتے ہیں؟
آپؓ نے قرآن کو جمع کیا ہم نے اسے دل میں جمع کیا یا صرف شیلف پر؟
کیا قرآن ہماری روزمرہ سوچ اور عمل میں رہنمائی کرتا ہے؟

عملی زندگی سے جوڑنے کے سوالات​

اگر حضرت عثمانؓ آج ہمارے معاشرے میں ہوتے، تو کن چیزوں پر دکھ محسوس کرتے؟
ہم حضرت عثمانؓ کی کون سی ایک صفت کو فوری اپنی زندگی میں لا سکتے ہیں؟
اگر ہر مسلمان حضرت عثمانؓ جیسی ایک خوبی اپنا لے، تو معاشرہ کیسا ہو جائے گا؟

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سیرت اور کردار پر تحریری انداز میں سلسلہ شروع کرنا نہایت ہی بابرکت اور مفید ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم حضرت عثمانؓ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔
یہ سلسلہ قارئین الغزالی کو حضرت عثمانؓ کی سیرت کو بہتر سمجھنے اور اس سے اپنی زندگی میں کردار و اخلاق کو اپنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
آئیے! اس مہینے کو ان کی حیاتِ مبارکہ سے رہنمائی لینے کا مہینہ بنائیں۔
ان کے صبر و حیا، سخاوت و عبادت، محبتِ قرآن اور عظیم قربانی کو اپنے دلوں میں تازہ کریں۔
شاید اس میں ہمارے دلوں کی صفائی، ہمارے اعمال کی اصلاح اور ہمارے ایمان کی تجدید کا سامان ہو جائے۔
اللہ ہمیں سیرتِ عثمانی کے انوار سے اپنے دلوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
ماشاء اللہ، بہت خوبصورت اور مبارک سلسلہ ہے۔
واقعی حضرت عثمانؓ کی سیرت کا یہ انداز ہمیں نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ عمل کی طرف بھی بلاتا ہے۔ اللہ تعالی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی سیرتِ عثمانیؓ کے رنگ میں رنگنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ان شاء اللہ میں بھی کوشش کروں گی کہ اسی ترتیب سے آغاز کروں۔
ابھی یہ پوسٹ میں اپنے بیٹے کو بھی پڑھ کر سنا رہی تھی۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ: آج کے دن اگر ہم یہ فرض کریں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ موجود ہیں تو وہ ہمیں (یعنی آج کے مسلمان) کو دیکھ کر کیا کہیں گے؟ ہماری زندگی کا ایک دن ان کے ساتھ کیسا ہو گا؟ کیا انھیں فخر ہو گا یا افسوس؟
ہماری بہت دلچسپ گفتگو رہی
اس تھریڈ میں کیونکہ ترتیب کے لحاظ سے اسے پوسٹ کرنا مناسب نہیں اس لیے صرف لنک پر اکتفا کروں گی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک دن جدید مسلمان کے ساتھ
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن

حلمِ عثمانؓ: خون کے قطرے سے رضا کے تاج تک​

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی حلم، حیا، صبر، اور بردباری کا مجسم نمونہ ہے۔
اگر ہم صرف "حلم" کے پہلو سے ان کی سیرت کا تدبری مطالعہ کریں تو ہمارے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔
حلم صرف برداشت کا نام نہیں، بلکہ: شدید اشتعال میں ضبط نفس، انتقام کی قدرت کے باوجود معافی، ظلم سہ کر صبر و سکون قائم رکھنا، حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔
حضرت عثمانؓ کی زندگی ان تمام پہلوؤں سے معمور ہے۔ آئیے گہرائی سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح حضرت عثمانؓ حلم کا پیکر تھے۔

اسلام کی ابتدا میں حلم

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے معزز سرداروں میں تھے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا، تو قریش نے فوری طور پر ان کے خلاف سماجی اور مالی بائیکاٹ کیا۔ ان کے چچا الحکم بن ابی العاص نے انہیں اذیتیں دیں اور ان پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کبھی ردعمل میں سختی یا تلخی نہیں کی۔
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، ص: 313-314/ البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 7، ص: 198)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• ایمان کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ دین کی ابتدا میں اگر ہمیں کسی قسم کی مخالفت، طنز یا طعن سہنا پڑے تو اکثر ہم خود ہی دین سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
• اللہ کے احکامات پر عمل میں شرم، جھجک اور لوگوں کے سامنے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ عام ہے۔
• دین داری میں سوسائٹی کا ردعمل اتنا اہم ہو چکا ہے کہ ہم کئی معاملات میں دین پر عمل ہی نہیں کرتے۔
• دین دار لباس، پردہ، داڑھی، اذکار، دین کی بات چیت، سب میں "لوگ کیا کہیں گے؟" کی قید ہے۔
• ہم دین کو صرف اپنے اندرونی معاملات تک محدود رکھتے ہیں تاکہ کوئی ہمیں چیلنج نہ کرے۔ لیکن حضرت عثمانؓ نے دین کو زندگی کا مرکزی نقطہ بنا لیا تھا۔
⚠️ ایمان آسان نہیں، وہ امتحان مانگتا ہے۔ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں دیا، ہم آج اس کے ایک فیصد پر بھی تیار نہیں۔

ہجرت حبشہ میں حلم

مکہ میں ظلم و جبر بڑھا تو نبی ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ حضرت رقیہؓ (نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی) کے ساتھ ہجرت کر گئے۔ پردیس میں نئی زندگی، مالی تنگی، اجنبیت سب کچھ برداشت کیا۔
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، ص: 367/ الطبری، تاریخ الامم والملوک، جلد 2، ص: 282)
❗آج ہمارا طرز عمل کیا ہے؟
• ہم دین کی خاطر قربانی کے نام سے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ دین کے کسی حکم پر اگر معاشی نقصان ہونے لگے تو فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
• حلال و حرام کی قربانی مالی استحکام کے لیے کر دیتے ہیں۔
• دین کی خاطر ہجرت کی قربانی کا شعور ختم ہو چکا۔
• اللہ کے راستے میں اپنے ماحول، عادات، سوسائٹی اور وسائل چھوڑنا ہم برداشت نہیں کرتے۔
• حبشہ جیسی اجنبیت آج ہمیں سوشل سسٹم میں نظر آتی ہے، مگر ہم دین چھوڑ کر اسی سسٹم میں جذب ہو جاتے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ کا حلم اُن کے ترکِ وطن میں نظر آتا ہے اور ہم دین پر عمل کے لیے اپنے کمرے کی سیٹنگ تک بدلنے کو تیار نہیں ہوتے۔

غزوہ تبوک میں حلم و سخاوت

سنہ 9 ہجری میں "جیش العسرہ" یعنی تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو شدید مالی قلت کا سامنا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے ایک ہی وقت میں 300 اونٹ سامان سمیت دیے اور 1000 دینار اللہ کے رسول کے قدموں میں رکھے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْ عُثْمَانَ، فَإِنِّي عَنْهُ رَاضٍ"
اے اللہ! عثمان سے راضی ہو جا، میں تو اس سے راضی ہوں۔
(سنن الترمذی: 3701/ مسند احمد: 486/ طبقات ابن سعد، جلد 3، ص: 48)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• ہم ریاکاری کے کینسر کا شکار ہو چکے ہیں۔ چند صدقات کی تصاویر، ویڈیوز، سوشل میڈیا پر اشتہار بن جاتے ہیں۔
• اصل انفاق اللہ کے لیے ہوتا ہے، ہم مخلوق کی واہ واہ کے لیے دیتے ہیں۔
• لاکھوں کروڑوں کماتے ہیں مگر دین کے نظام کے لیے خرچ کرتے ہوئے ہاتھ کپکپاتے ہیں۔
• شادیوں، مہندیوں، پارٹیوں، گاڑیوں، برانڈز پر اسراف اور نمود کی انتہا ہے مگر دین کی دعوت، مدارس، قرآن پروگرام، رفاہی ادارے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے جو دیا وہ اللہ کے ہاں جمع کرایا اور ہم جو دیتے ہیں وہ اپنی شہرت کے بینک میں جمع کرتے ہیں۔

خلافت کے دوران باغیوں کا طعن و بہتان

عبداللہ بن سبا اور اس کے پیروکاروں نے امت میں فساد پیدا کیا۔ عثمانؓ پر اقرباء پروری، بیت المال میں نرمی اور اہل مصر کے خطوط کے ذریعے بغاوت کی مہم چلائی۔ بار بار جھوٹے خطوط لکھے گئے کہ عثمانؓ نے فلاں کے خلاف احکام جاری کیے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے ہر الزام پر بردباری، وضاحت اور حلم سے جواب دیا۔
(الطبری، تاریخ الامم والملوک، جلد 4، ص: 401-405/ البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 184-189)
❗آج ہمارا طرز عمل کیا ہے؟
• تنقید کا مطلب دشمنی بن چکا۔
• جھوٹے الزامات، ٹرینڈز، کلپس، پوسٹس اور وائرل پروپیگنڈا ان سب کو ہم کردار کشی کو ہنر سمجھنے لگے ہیں۔
• ہم ذاتی اختلاف کو ایمان کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ فقہی، مسلکی، تنظیمی، یا ذاتی اختلاف کو کفر و ایمان کے درجے پر لے آنا عام ہو گیا۔
• حلم اور خاموشی کو بزدلی سمجھا جاتا ہے۔ سخت جملے، تحقیر آمیز الفاظ ہمارا اسلوب بن چکے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے امت کے امن کی خاطر اپنی عزت بھی برداشت کی لیکن ہم اپنی انا کے لیے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔

محاصرے کے دنوں میں حلم کی انتہا

باغیوں نے مدینہ میں حضرت عثمانؓ کا گھر گھیر لیا۔ کھانے، پانی، مسجد تک جانے پر پابندی لگائی۔ صحابہ نے دفاع کی اجازت مانگی، حضرت عثمانؓ نے فرمایا:
"میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے امتِ محمد کے خون کا پہلا قطرہ بہے۔"
کئی دن پیاسے رہ کر صبر کرتے رہے۔ وصیت لکھی:
"اللہ میرا کافی ہے، وہی میرا ولی ہے۔"
(تاریخ طبری، جلد 4، ص: 426-429/ البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 193-197/ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 3، ص: 74)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنگ۔۔۔گھریلو اختلافات، وراثتی جھگڑے، مسجد کے معمولی معاملات تک خونریزی کی نوبت آتی ہے۔
• دین کی وحدت اور بھائی چارے کی قربانی اپنی تنظیم، مسلک اور گروہ کے لیے دی جاتی ہے۔
• "میں" کی پرستش۔۔۔ ذاتی انا، عزت اور عزائم کو امت کی وحدت سے بڑا مان لیا گیا ہے۔
⚠️ حضرت عثمانؓ کی حلم کا کمال یہی ہے کہ انہوں نے اپنی جان دی مگر امت کو خونریزی سے بچانے کی پوری کوشش کی اور ہم تو زبان کے تیروں سے روزانہ ہزاروں زخم لگاتے ہیں۔

ذاتی معاملات میں حلم

حضرت عثمانؓ کی نرم طبیعت مشہور تھی۔ صحابہ کرام میں جب کبھی ان سے مشورے میں اختلاف ہوا تو وہ نہ سختی کرتے، نہ ناراض ہوتے۔ یہاں تک کہ منافقین کی سخت باتوں پر بھی کبھی سخت ردعمل نہ دیا۔
(تاریخ الخلفاء، امام سیوطی، ص: 105-106/ مسند احمد، حدیث ابو موسیٰ الاشعری)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• عدم برداشت: ذرا سی نصیحت پر برا مان جانا عام ہو چکا ہے۔ اختلاف کو ذاتی دشمنی سمجھنا فطرت بن چکا ہے۔
• سخت زبان: الفاظ میں طعن و تشنیع، استہزاء، اور بدتمیزی کو "دوٹوک موقف" کہا جاتا ہے۔
• دل میں کینہ: لوگوں سے شدید اختلافات کو ہمیشہ کے لیے دل میں رکھتے ہیں اور بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔
⚠️ حلم دل کی وسعت کا نام ہے لیکن ہم دل کو تنگ کر چکے ہیں۔

شہادت کے وقت حلم کی آخری معراج

قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے باغیوں کے ہاتھوں شہید کیے گئے۔ سورۃ البقرہ کی آیت پر شہادت ہوئی:
فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (2:137)
بیوی حضرت نائلہ کے سامنے سر کٹ گیا۔ آخری وقت میں اللہ سے رحم کی دعائیں کرتے رہے۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 198/ تاریخ طبری، جلد 4، ص: 431/ الکامل فی التاریخ، جلد 3، ص: 77)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• دنیا کی محبت: ذرا سا نقصان ہو تو شور و غوغا، احتجاج، رونا دھونا، الزام بازی۔ اللہ کی رضا پر راضی ہونے کا مفہوم سمجھنا بھول چکے۔
• موت سے بھاگنا: دین پر استقامت کے لیے موت کا خوف سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
• قربانی سے بھاگنا: دین پر عمل میں اپنی جان، مال، وقت، اولاد، عزت کی قربانی دینے سے گھبراتے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے جان دے کر حلم کا تاج پہن لیا اور ہم اپنی ذاتی آسانیوں پر دین بیچنے کے عادی بن چکے ہیں۔

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

خون کے قطرے زمین پر گرتے رہے، لیکن آسمان پر "رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" کے پرچم بلند ہوتے رہے۔ ان کی زبان پر شکایت نہیں، رضا تھی۔
ہم۔۔۔ جن کی زبان پر شکایت، الزام، طعن، انتقام ہے۔۔۔
❓ کیا ہم اپنے نفس پر عثمانؓ جیسا ضبط رکھتے ہیں؟
❓ کیا ہماری زبان حلم کے کلمات سے سجی ہے؟
❓ کیا ہم دلوں کو جوڑنے والے ہیں یا توڑنے والے؟
❓عثمانؓ تو چلے گئے۔۔۔ اب ان کا وارث کون بنے گا؟
اے اللہ! جو حلم تُو نے عثمانؓ کے دل میں بسایا۔۔۔ وہ ہمارے دلوں میں بھی اتار دے۔ ہماری زبانوں کو نرم کر دے۔ ہمارے دلوں کو وسعت دے۔ ہماری انا کو پگھلا دے۔ تاکہ ہم بھی قیامت کے دن "وارثانِ حلم" میں شامل ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن مجید​

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، خلیفہ ثالث، رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔ ان کی سب سے عظیم خدمت قرآن مجید کی حفاظت اور اس کے متن کو وحدت بخشنا ہے۔ آپ کی اس خدمت کو تاریخ میں سنہری حروف میں یاد کیا جاتا ہے۔

1۔ پس منظر​

نبی کریم ﷺ کے دور میں قرآن مجید مختلف اوقات میں نازل ہوا اور صحابہ کرامؓ نے اسے یاد بھی کیا اور لکھا بھی۔ مگر مکمل قرآن ایک مصحف کی شکل میں نہ تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگ یمامہ کے بعد، جب کئی حفاظ شہید ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔( صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4986)

2۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عظیم کارنامہ​

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلام کا دائرہ وسیع ہو چکا تھا اور مختلف علاقوں میں لوگ قرآن کی تلاوت مختلف لہجوں اور قراءتوں کے مطابق کر رہے تھے، جس سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔
حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے جب اس خطرے کی نشاندہی کی تو حضرت عثمانؓ نے فوراً ایک کمیٹی بنائی جس کے سربراہ حضرت زید بن ثابتؓ تھے، اور اس میں تین قریشی صحابہ بھی شامل کیے گئے۔( صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، حدیث نمبر: 4987)

3۔ مصاحفِ عثمانی​

حضرت عثمانؓ نے ابوبکرؓ کے دور میں جمع کردہ قرآن سے نسخے تیار کروائے، ایک معیاری قراءت (قریش کا لہجہ) کو اختیار کیا، اور مختلف شہروں میں یہ مصاحف بھیجے۔ (ابن ابی داؤد، "کتاب المصاحف"، ص 30-35/ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4987)

4۔حضرت عثمانؓ کا احسان​

حضرت عثمانؓ کی یہ خدمت امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے، کیونکہ آج پوری دنیا میں ایک ہی قرآن پڑھا جاتا ہے، بغیر کسی اختلاف کے۔ قرآن کی جو شکل آج موجود ہے، وہ حضرت عثمانؓ کی جانب سے بھیجے گئے "مصاحف عثمانی" پر مبنی ہے۔

5۔حضرت عثمانؓ کا لقب: جامع القرآن​

حضرت عثمانؓ کو ان کے اس کارنامے کی وجہ سے "جامع القرآن" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ نے قرآن کی قراءت کو ایک قراءت پر جمع کر دیا اور امت میں انتشار سے بچا لیا۔

6۔حضرت عثمانؓ نبی کریمﷺ کے فرمان کی عملی تفسیر​

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی قرآن کے لیے خدمات ایسی ہیں جو رہتی دنیا تک باقی رہیں گی۔ ان کی بصیرت، اخلاص اور فہم نے قرآن کی حفاظت کو ممکن بنایا، اور آپ کے اس عمل کو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی عملی تفسیر سمجھا جاتا ہے:
"خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے( صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5027)
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

4۔حضرت عثمانؓ کا احسان​

حضرت عثمانؓ کی یہ خدمت امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے، کیونکہ آج پوری دنیا میں ایک ہی قرآن پڑھا جاتا ہے، بغیر کسی اختلاف کے۔ قرآن کی جو شکل آج موجود ہے، وہ حضرت عثمانؓ کی جانب سے بھیجے گئے "مصاحف عثمانی" پر مبنی ہے۔

5۔حضرت عثمانؓ کا لقب: جامع القرآن​

حضرت عثمانؓ کو ان کے اس کارنامے کی وجہ سے "جامع القرآن" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ نے قرآن کی قراءت کو ایک قراءت پر جمع کر دیا اور امت میں انتشار سے بچا لیا۔
یہ ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ ایک چھوٹا سا تاریخی لمحہ، ایک لامحدود امتداد۔۔۔
مدینہ کے ایک گھر میں حضرت عثمانؓ، زید بن ثابتؓ، عبداللہ بن زبیرؓ، سعید بن العاصؓ، عبدالرحمن بن حارثؓ۔۔۔ چند افراد بیٹھے ۔چند چمڑے، چند کاتب، محدود وسائل۔۔۔
بظاہر: کوئی عالمی ادارہ نہیں، کوئی پرنٹنگ پریس نہیں، کوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نہیں۔
لیکن۔۔۔ اس وقت جو اخلاص، اللہ کا خوف، امت کی خیرخواہی، اور رسول اللہ ﷺ کے پیغام کی حفاظت کا درد ان کے دلوں میں تھا، وہی دراصل آج کے ہر مصحف، ہر ویب سائٹ، ہر ایپ، ہر موبائل قرآن کی اصل روحانی بنیاد ہے۔
آج اگر قرآن لاکھوں ایپس میں ہے، کروڑوں نسخوں میں چھپ رہا ہے، ہزاروں یونیورسٹیز میں پڑھایا جا رہا ہے، عربی سے لے کر چینی، انگریزی، اردو، فرنچ، ہر زبان میں ترجمے موجود ہیں تو یہ سب اسی ایک فیصلے کے طفیل ہے۔
اور یہ سب کیوں ممکن ہوا؟
کیونکہ وہ ایک قدم اللہ کے لیے اٹھا تھا۔ جو اللہ کے لیے خالص ہوتا ہے، اللہ اس کو زمانے میں پھیلا دیتا ہے۔
وَيُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِى ٱلۡأٓخِرَةِۖ (ابراہیم: 27)
مگر کیا ہم نے سوچا؟جو کام حضرت عثمانؓ نے چند افراد کے ساتھ کر دکھایا، کیا ہم اپنی بے پناہ سہولیات کے باوجود قرآن کی روحانی تعلیمات کو نافذ کر سکے؟ کیا ہمارے معاشرے عدل، تقوی، دیانت اور اخلاقِ نبوی کے آئینے بنے؟ کیا ہم نے قرآن کو زینت خانوں سے نکال کر دل کے تخت پر بٹھایا؟ کیا ہم نے قرآن کو اپنی سیاست، معیشت، سماج اور تہذیب کا رہنما بنایا؟
اگر نہیں ۔۔۔تو ہمیں پھر سے حضرت عثمانؓ کے اخلاص کی خوشبو کو اپنے دل میں بسانا ہوگا۔
جس اخلاص پر یہ سب کچھ شروع ہوا تھا، اگر آج وہ اخلاص لوٹ آئے تو ہر دل قرآن کا قاری بنے گا۔ ہر نفس قرآن کا طالب بنے گا۔ ہر معاشرہ قرآن کی تصویر بنے گا۔ اور پوری امت ایک مرتبہ پھر خَيْرَ أُمَّةٍ بن جائے گی۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

" نورِ حیاء کی مجسم تصویر: حضرت عثمانؓ"​

کبھی ہم نے سوچا کہ نبیِ پاک ﷺ ایک ہی مجلس میں، ایک ہی حالت میں، کچھ لوگوں کے سامنے ویسے ہی بیٹھے رہیں۔۔۔ لیکن جب حضرت عثمانؓ آ جائیں تو آپ خود کو سمیٹ لیں؟ صرف اس لیے کہ "عثمانؓ ایسے انسان ہے جن سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔" (صحیح مسلم)
کیا یہ محض تعریف تھی؟ یا ایک دعوت تھی، پوری امت کے لیے، کہ حیاء ایسی ہو کہ آسمانوں میں بھی اس کی گواہی ہو؟ آج، جب حیاء کا مفہوم صرف شرم تک محدود کر دیا گیا ہے، جب حیاء کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، جب "بےباکی" کو طاقت، "بےپردگی" کو فخر، اور "آزاد خیالی" کو ترقی کہا جاتا ہے، ایسے وقت میں ہمیں عثمانؓ کے کردار کا چراغ اٹھانا ہوگا، تاکہ ہم اندھیری راتوں کے مسافر بننے کے بجائے نور کے قافلے والوں میں شامل سکیں۔

حیاء کا مفہوم: صرف شرم نہیں، شعورِ حضوری​

لغوی معنٰی: "حیاء" عربی مادہ (ح-ی-ی) سے ہے، جس کا مطلب ہے: زندگی، زندہ دلی، حرارت۔
"إذا لم تستحي فاصنع ما شئت"
"جب حیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو" (سنن ابی داؤد)
یعنی حیاء وہ آخری رکاوٹ ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ جب وہ بھی ٹوٹ جائے، تو انسان کا دل، جیسے روح کے بغیر جسم۔

شرعی مقام:​

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الحياءُ شُعبةٌ من الإيمان"
"حیاء ایمان کا حصہ ہے" (صحیح مسلم)
اور فرمایا:
"إن لكل دينٍ خُلقًا، وخُلقُ الإسلام الحياء"
"ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے، اور اسلام کا وصف حیاء ہے" (ابن ماجہ)
یعنی اگر ایمان کا کوئی رنگ ہے، تو وہ حیاء کا رنگ ہے۔ اور اگر کسی قوم سے حیاء چھن جائے۔۔۔ تو ایمان کا رنگ بھی ماند پڑ جاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:
نبی ﷺ لیٹے ہوئے تھے، پنڈلی مبارک تھوڑی کھلی ہوئی تھی، ابو بکرؓ آئے، آپ کی حالت وہی رہی۔ عمرؓ آئے، آپ ویسے ہی رہے۔ عثمانؓ آئے تو آپ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بدن کو ڈھانپ لیا۔
پوچھا گیا: یا رسول اللہ! عثمانؓ کے لیے اتنا پردہ؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ألا أستحيي من رجلٍ تستحيي منه الملائكة؟"
"کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں؟" (صحیح مسلم)
گویا نبی ﷺ ہمیں سکھا رہے تھے: "حیاء ایسا نور ہے جو دوسروں کو بھی باوقار بنا دیتا ہے۔"

حضرت عثمانؓ کی حیاء کی چند جھلکیاں​

1. تنہائی میں حیاء
وہ غسل کرتے وقت بھی پورے بدن کو برہنہ نہ کرتے۔
فرماتے: "اللہ کی نظر میرے اوپر ہے، کیا میں اس کے سامنے خود کو کھولوں؟"
آج ہم تنہائی کو "نجی وقت" سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں تنہائی وہ جگہ ہے جہاں انسان اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اگر وہاں حیاء نہ ہو، تو "پبلک حیاء" محض دکھاوا رہ جاتا ہے۔
2. زبان اور گفتگو میں حیاء
حضرت عثمانؓ کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے، نہ طنز، نہ فحش، نہ غیبت۔
آج ہمارے الفاظ آج بے قابو ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بدتمیزی، نجی محفلوں میں غیبت، اور طنزیہ گفتگو ایک "ہنر" سمجھا جاتا ہے۔
عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں: "زبان اگر حیاء سے بےنیاز ہو جائے تو دل کی بےحیائی ظاہر ہونے لگتی ہے۔"
3. لباس اور نشست و برخاست میں حیاء
ان کے لباس میں وقار، طرزِ نشست میں انکساری، چال میں سکون تھا۔ لباس صرف جسم کو نہیں، دل کے ادب کو بھی چھپاتا تھا۔
آج لباس ایک پیغام ہے یا تو فطرت کا یا نفس کا۔ کیا ہمارا لباس پردے کا مظہر ہے، یا نمائش کا؟
4. عبادت میں حیاء اور خشیت
جب حضرت عثمانؓ قبر پر کھڑے ہوتے، تو اس قدر روتے کہ زمین بھی بھیگ جاتی۔
فرماتے: "قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔ جو یہاں بچ گیا، وہ آگے بچ گیا۔"
آج ہماری عبادتیں خشک ہو چکی ہیں، کیونکہ ان میں حیاء، خشیت، اور حضوری کی روح باقی نہیں رہی۔
حضرت عثمانؓ کی حیاء کوئی روایتی شرم نہ تھی۔ وہ ایک باطنی قوت، شعور کی روشنی، اور رب کی حضوری کا احساس تھا۔ آج جب حیاء کو عورت کا مسئلہ، یا صرف جوانی کی زینت سمجھ لیا گیا ہے، تو ہمیں دوبارہ عثمانؓ کا کردار زندہ کرنا ہو گا، مرد و عورت دونوں کے لیے۔
کیونکہ: "جب حیاء چلی جائے، تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے اور جب حیاء لوٹ آئے، تو انسان کچھ بھی بن سکتا ہے۔"
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن

" نورِ حیاء کی مجسم تصویر: حضرت عثمانؓ"​

کبھی ہم نے سوچا کہ نبیِ پاک ﷺ ایک ہی مجلس میں، ایک ہی حالت میں، کچھ لوگوں کے سامنے ویسے ہی بیٹھے رہیں۔۔۔ لیکن جب حضرت عثمانؓ آ جائیں تو آپ خود کو سمیٹ لیں؟ صرف اس لیے کہ "عثمانؓ ایسے انسان ہے جن سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔" (صحیح مسلم)
کیا یہ محض تعریف تھی؟ یا ایک دعوت تھی، پوری امت کے لیے، کہ حیاء ایسی ہو کہ آسمانوں میں بھی اس کی گواہی ہو؟ آج، جب حیاء کا مفہوم صرف شرم تک محدود کر دیا گیا ہے، جب حیاء کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، جب "بےباکی" کو طاقت، "بےپردگی" کو فخر، اور "آزاد خیالی" کو ترقی کہا جاتا ہے، ایسے وقت میں ہمیں عثمانؓ کے کردار کا چراغ اٹھانا ہوگا، تاکہ ہم اندھیری راتوں کے مسافر بننے کے بجائے نور کے قافلے والوں میں شامل سکیں۔

حیاء کا مفہوم: صرف شرم نہیں، شعورِ حضوری​

لغوی معنٰی: "حیاء" عربی مادہ (ح-ی-ی) سے ہے، جس کا مطلب ہے: زندگی، زندہ دلی، حرارت۔
"إذا لم تستحي فاصنع ما شئت"
"جب حیاء نہ رہے تو جو چاہو کرو" (سنن ابی داؤد)
یعنی حیاء وہ آخری رکاوٹ ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ جب وہ بھی ٹوٹ جائے، تو انسان کا دل، جیسے روح کے بغیر جسم۔

شرعی مقام:​

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الحياءُ شُعبةٌ من الإيمان"
"حیاء ایمان کا حصہ ہے" (صحیح مسلم)
اور فرمایا:
"إن لكل دينٍ خُلقًا، وخُلقُ الإسلام الحياء"
"ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہوتا ہے، اور اسلام کا وصف حیاء ہے" (ابن ماجہ)
یعنی اگر ایمان کا کوئی رنگ ہے، تو وہ حیاء کا رنگ ہے۔ اور اگر کسی قوم سے حیاء چھن جائے۔۔۔ تو ایمان کا رنگ بھی ماند پڑ جاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:
نبی ﷺ لیٹے ہوئے تھے، پنڈلی مبارک تھوڑی کھلی ہوئی تھی، ابو بکرؓ آئے، آپ کی حالت وہی رہی۔ عمرؓ آئے، آپ ویسے ہی رہے۔ عثمانؓ آئے تو آپ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بدن کو ڈھانپ لیا۔
پوچھا گیا: یا رسول اللہ! عثمانؓ کے لیے اتنا پردہ؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ألا أستحيي من رجلٍ تستحيي منه الملائكة؟"
"کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں؟" (صحیح مسلم)
گویا نبی ﷺ ہمیں سکھا رہے تھے: "حیاء ایسا نور ہے جو دوسروں کو بھی باوقار بنا دیتا ہے۔"

حضرت عثمانؓ کی حیاء کی چند جھلکیاں​

1. تنہائی میں حیاء
وہ غسل کرتے وقت بھی پورے بدن کو برہنہ نہ کرتے۔
فرماتے: "اللہ کی نظر میرے اوپر ہے، کیا میں اس کے سامنے خود کو کھولوں؟"
آج ہم تنہائی کو "نجی وقت" سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں تنہائی وہ جگہ ہے جہاں انسان اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اگر وہاں حیاء نہ ہو، تو "پبلک حیاء" محض دکھاوا رہ جاتا ہے۔
2. زبان اور گفتگو میں حیاء
حضرت عثمانؓ کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے، نہ طنز، نہ فحش، نہ غیبت۔
آج ہمارے الفاظ آج بے قابو ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بدتمیزی، نجی محفلوں میں غیبت، اور طنزیہ گفتگو ایک "ہنر" سمجھا جاتا ہے۔
عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں: "زبان اگر حیاء سے بےنیاز ہو جائے تو دل کی بےحیائی ظاہر ہونے لگتی ہے۔"
3. لباس اور نشست و برخاست میں حیاء
ان کے لباس میں وقار، طرزِ نشست میں انکساری، چال میں سکون تھا۔ لباس صرف جسم کو نہیں، دل کے ادب کو بھی چھپاتا تھا۔
آج لباس ایک پیغام ہے یا تو فطرت کا یا نفس کا۔ کیا ہمارا لباس پردے کا مظہر ہے، یا نمائش کا؟
4. عبادت میں حیاء اور خشیت
جب حضرت عثمانؓ قبر پر کھڑے ہوتے، تو اس قدر روتے کہ زمین بھی بھیگ جاتی۔
فرماتے: "قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔ جو یہاں بچ گیا، وہ آگے بچ گیا۔"
آج ہماری عبادتیں خشک ہو چکی ہیں، کیونکہ ان میں حیاء، خشیت، اور حضوری کی روح باقی نہیں رہی۔
حضرت عثمانؓ کی حیاء کوئی روایتی شرم نہ تھی۔ وہ ایک باطنی قوت، شعور کی روشنی، اور رب کی حضوری کا احساس تھا۔ آج جب حیاء کو عورت کا مسئلہ، یا صرف جوانی کی زینت سمجھ لیا گیا ہے، تو ہمیں دوبارہ عثمانؓ کا کردار زندہ کرنا ہو گا، مرد و عورت دونوں کے لیے۔
کیونکہ: "جب حیاء چلی جائے، تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے اور جب حیاء لوٹ آئے، تو انسان کچھ بھی بن سکتا ہے۔"
اس موضوع پر میں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گی۔
جب میں پہلی بار ماں بنی تو مجھے یہی چیز سب سے زیادہ الرٹ رکھتی تھی کہ میرا بچہ حیاء والا ہو۔ میں نے بہت ساری کتابیں پڑھیں، لیکچرز وغیرہ سرچ کیے کہ کیسے بچوں کی شخصیت میں یہ تمام عناصر ڈالے جائیں۔ لیکن سچ میں آج مجھے احساس ہوا کہ ان سب سائیڈ چیزوں میں الجھنے کی بجائے اگر ہم ایک ہی صحابی کی زندگی کا ایک ہی حصہ بھی سمجھ لیں تو یقینا زندگی آسان ہو جائے۔
جب نبی پاک ﷺ حضرت عثمانؓ کے آنے پر اپنی نشست سنوار لیتے ہیں، تو ایک پوری نسل کے لیے تربیت کا باب کھل جاتا ہے۔
آج کی نفسیات "Mindfulness، Self-regulation" اور "Emotional Intelligence" کے بڑے بڑے اصول بتاتی ہے۔
Self-Regulation یعنی انسان کا اپنے جذبات، خیالات اور رویے کو قابو میں رکھنا، یہ شخصیت کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔ یہی ضبط، یہی اندرونی نگرانی دراصل حیاء کا ہی ایک جدید نام ہے۔
Mindfulness: یعنی ہر لمحہ اپنے جذبات، خیالات اور افعال سے باخبر رہو۔ حضرت عثمانؓ اس باخبری کی سب سے بلند مثال ہیں: "اللہ کی نگاہ کے سامنے ہوں، کیسے برہنہ ہو جاؤں؟"
Social Modelling: یعنی ماحول سے سیکھنے کی نفسیاتی صلاحیت۔ نبی پاک ﷺ کا حضرت عثمانؓ کے لیے اٹھ بیٹھنا، ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی موجودگی میں اپنا ادب سنوارنا کیسا ہوتا ہے۔ یہ عمل بچوں اور معاشرے میں حیاء کو غیر شعوری طور پر منتقل کرتا ہے۔
Emotional Intelligence: یعنی احساس، دوسروں کے جذبات کا احترام، نرم مزاجی۔ حضرت عثمانؓ کبھی کسی کو سخت لہجے میں نہ بولتے۔ یہی آج کی زبان میں Interpersonal Sensitivity کہلاتی ہے، جو کامیاب انسانوں کی بنیادی خوبی ہے۔
گویا جہاں آج نفسیات بڑی مشکل زبان میں یہ اصول سمجھا رہی ہے، وہیں حضرت عثمانؓ کی سادہ، باوقار، نورانی شخصیت ہمیں حیاء کی ایسی عملی تصویر دیتی ہے جو انسانی شخصیت کی بلند ترین تربیت ہے۔
آج جب میں نے حضرت عثمانؓ کی حیاء کے ان گوشوں پر سوچا، تو سچ کہوں۔۔۔ میں دنگ رہ گئی۔ اتنے سال کتابیں، لیکچرز، نظریے جمع کیے۔۔۔ لیکن ایک صحابیؓ کا یہ خاموش کردار مجھ پر غیر معمولی طریقے سے بات کھول گیا۔
المختصر اگر میں اپنے بچوں کو حضرت عثمانؓ جیسا ایک شعور دے دوں کہ "تم ہر وقت اپنے رب کے سامنے ہو" تو نہ ہزار لیکچر درکار ہوں گے، نہ نفسیاتی ورکشاپس۔۔۔ صرف ایک باطنی حیاء ان کے دل میں ایسا چراغ جلائے گی جو ہر اندھیرے کو منور کر دے گا۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت
حضرت عثمان غنیؓ رضی اللہ عنہ سخاوت کے بے تاج بادشاہ تھے۔درج ذیل اختصار کے ساتھ سخاوت کے چند نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔
۱۔ غزوۂ تبوک میں بے مثال تعاون
جب غزوۂ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو مالی تعاون کی دعوت دی، تو حضرت عثمانؓ نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔
تفصیلات:
300 اونٹ مکمل سازوسامان سمیت پیش کیے،1000 دینار رسول اللہ ﷺ کی گود میں رکھے۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ما ضرّ عثمان ما عمل بعد اليوم‘‘
ترجمہ: ’’عثمان کو آج کے بعد جو کچھ بھی کرے، اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘ (جامع ترمذی، حدیث: 3701، سند صحیح)
۲۔ کنواں رومہ کی خریداری اور وقف
مدینہ میں پانی کا شدید بحران تھا، اور ایک یہودی کنواں ’’رومہ‘‘سے پانی مہنگے داموں بیچتا تھا۔حضرت عثمانؓ نے یہ کنواں بڑی رقم سے خریدااور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’من حفر رومة فله الجنة‘‘
ترجمہ:’’جس نے کنواں رومہ خرید کر وقف کیا، اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ (مسند احمد، حدیث: 488)
نبوت کے تیرہوں سال میں جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے پانی کی بہت قلت تھی ،مدینہ منورہ میں ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا۔۔ اس کنویں کا نام ’’بئرِ رومہ‘‘ یعنی رومہ کا کنواں تھااور پریشانی کے عالم میں مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ، اللہ کے نبی نے فرمایا "کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطاءکرے گا۔
۳۔آج بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اکاؤنٹ موجود ہے:
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ پورا کنواں نہ سہی، آدھا فروخت کر دو۔۔۔ آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا۔۔یہودی ان کی اس پیشکش پر لالچ میں آ گیا۔۔۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان اپنے دن میں پانی مہنگے داموں فرخت کریں گے، اس طرح اسے بھی زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا۔۔ چنانچہ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فروخت کر دیا۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں اللہ کی رضا کے لئے وقف کر کے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی، لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لئے بھی ذخیرہ کر لیتے۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہ جاتا۔یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی پیشکش کر دی جس پر حضرت عثمان راضی ہو گئے اور کم و بیش پینتیس ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
اس دوران ایک مالدار آدمی نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کنواں دوگنا قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی، حضرت عثمان نے فرمایا کہ "مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے"تو وہ شخص بھی اپنی پیشکش بڑھاتاچلاگیااور حضرت عثمان یہی جواب دیتے رہے۔یہاں تک اس آدمی نے کہا کہ "حضرت آخر کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہا ہے؟"سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ’میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا یہاں تک کہ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں اس کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا اور اسی دور میں ہی اس باغ کی دیکھ بھال ہوئی۔بعد ازاں آلِ سعود کے عہد میں اس باغ میں کھجور کے درختوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو پچاس ہو گئی۔حکومتِ وقت نے اس باغ کے گرد چاردیواری بنوائی اور یہ جگہ میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر رجسٹرڈ کر دی۔وزارتِ زراعت یہاں کی کھجوریں بازار میں فروخت کرتی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کچھ آمدنی غریبوں میں اور کچھ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بینک میں جمع کرواتی رہی۔ یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا اورچلتے چلتے اس اکاونٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی کہ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ میں اس باغ کی آمدنی سے ایک کشادہ پلاٹ لیا گیا جہاں فندق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیا جارہا ہے۔ یہ ایک لگژری ہوٹل ہے جس پر گزشتہ کچھ برسوں سے تعمیراتی کام کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے کچھ وقت میں اس کی تعمیر مکمل ہوجائے گی اور اسے عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ اس رہائشی ہوٹل سے سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی متوقع ہے جس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں کی کفالت اور باقی آدھا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا۔
۴۔ مسجد نبوی کی توسیع
جب مسجد نبوی ﷺ چھوٹی پڑ گئی، تو حضرت عثمانؓ نےمسجد کے آس پاس کی زمین خریدی،مسجد کی توسیع کے لیے وقف کر دی۔
نبی كریم ﷺ کا تبصرہ:
’’من یشتری بقیع فلان فیوسع به المسجد یغفر الله له‘‘
ترجمہ: ’’کون ہے جو فلاں زمین خریدے تاکہ مسجد وسیع ہو، اللہ اسے بخش دے۔‘‘ (سنن نسائی، کتاب المساجد، حدیث: 693)
۵۔ وقف جائیدادیں اور دائمی صدقہ
حضرت عثمانؓ نے بہت سی زمینیں، باغات اور دیگر اثاثے اللہ کی راہ میں وقف کیےان کا نفع غریبوں، یتیموں، مسافروں، اور فی سبیل اللہ کاموں میں صرف ہوتا تھا۔
آج بھی مدینہ میں ’’وقف عثمان‘‘ کے نام سے زمینیں موجود ہیں، جن کی آمدنی اسلامی فلاحی کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ (تاریخ طبری، جلد 3، صفحہ 203)
۶۔ عام فلاحی و رفاہی خدمات
حضرت عثمانؓ کی سخاوت محدود نہیں تھی، بلکہ مساکین کو مستقل وظائف دیتےغلاموں کو خرید کر آزاد کرتے (اکثر ماہ رمضان میں درجنوں غلام آزاد کرتے)مہاجرین و انصار کی ضرورتیں پوری کرتے۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 133)
۷۔حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت والی زندگی ہمیں کیا سکھلاتی ہے۔؟
حضرت عثمان غنیؓ نے دنیاوی دولت کو آخرت کا سرمایہ بنایا۔ اُن کی سخاوت نبی کریم ﷺ کی زبان سے جنت کی بشارت بن گئی۔ اُن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
’’دولت کا اصل مصرف، اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ہے۔‘‘
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن

"حضرت عثمانؓ: ایک منتظم خلیفہ کی غیرمرئی بصیرت"​

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو تاریخِ اسلام میں عمومی طور پر "حیادار خلیفہ"، "سخی ترین صحابی"، اور "مظلوم شہید" کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ مگر ایک پہلو جو عموماً نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے وہ آپؓ کی خلافت کی وہ اداریاتی حکمت ہے جس نے اسلامی خلافت کو صرف وسیع نہیں کیا بلکہ ایک پائیدار ریاستی نظام میں ڈھال دیا۔
اگر قیادت کو دیرپا بنانا ہے تو صرف خطابت، قربانی اور سادگی کافی نہیں، بلکہ نظام سازی، احتساب، اور دفاعی و انتظامی تدبیر بھی لازم ہے۔

1) صوبائی نظم و نسق (Provincial Governance)​

حضرت عثمانؓ نے اسلامی ریاست کو محض فوجی فتوحات پر نہیں چلایا بلکہ ایک مرکزی نگرانی کا نظام قائم کیا:
• ہر گورنر کو نہ صرف شرعی فرائض بلکہ مالی، عدالتی اور اخلاقی احتساب کے خطوط بھیجے جاتے۔
• عوامی شکایات پر توجہ دی جاتی، حتیٰ کہ متعدد مواقع پر گورنروں کو معزول بھی کیا۔
• ایک مربوط "ریاستی گورننس پالیسی" کا یہ ماڈل آج کی زبان میں decentralization with accountability کہلا سکتا ہے۔
(حوالہ: ابن جریر طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 4، واقعات خلافت عثمانؓ۔ بلاذری، فتوح البلدان، ذکر مصر و بصرہ و کوفہ۔)
آج مسلم دنیا میں اکثر ریاستیں یا تو مکمل مرکزیت کی قید میں ہیں یا مکمل انارکی کا شکار۔ عثمانی طرزِ حکومت ہمیں سکھاتی ہے کہ نہ مکمل آزاد ولایات، نہ مکمل مطلق العنان مرکز بلکہ دونوں کے درمیان توازن ہی نظام کا حسن ہے۔

2) دیوانی نظام و مالیاتی شفافیت (Civil & Fiscal Reform)​

حضرت عمرؓ کے قائم کردہ "دیوان العطاء" کو حضرت عثمانؓ نے مزید منظم کیا:
• ہر مجاہد، عہدیدار اور مستحق کا باقاعدہ اندراج۔
• بیت المال کے اخراجات و محصولات کی باقاعدہ تحریری فائلنگ۔
• صوبہ جات کے دیوان مرکزی دیوان سے مربوط کیے گئے۔
(حوالہ: ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3، ذکر دیوان العطاء۔ بلاذری، فتوح البلدان، بصرہ و کوفہ کے دیوان کا ذکر۔)
آج ہماری ریاستوں میں مالی بدعنوانی ایک عمومی مسئلہ ہے۔ حضرت عثمانؓ کی مثال یہ بتاتی ہے کہ شفاف مالی نظم اور ریکارڈنگ کا کلچر قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے، محض خطبہ یا دعا کافی نہیں۔

3) مواصلاتی حکمت (Communication Infrastructure)​

حضرت عثمانؓ نے مرکز اور صوبوں کے درمیان خط و کتابت کا ایک مربوط نظام قائم کیا:
• مخصوص "قاصدین" کا انتخاب جو ولایات سے مرکز تک احکامات و رپورٹس پہنچاتے۔
• خط و کتابت کا محفوظ ریکارڈ، جس کی بنیاد پر ریاستی فیصلے ہوتے۔
• یہ نظام قاضیوں، گورنروں، اور فوجی قائدین کے لیے بھی لازم تھا۔
(حوالہ: ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 3، سن 30-35 ہجری۔)
معلومات کا بہاؤ (information flow) کسی بھی نظام کا ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جہاں معلومات رکی، وہاں نظام مفلوج ہوا۔ عثمانؓ کا نظام بتاتا ہے کہ رابطہ سازی اور فیصلہ سازی کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

4) بحری نظام و دفاعی حکمت (Naval Defense System)​

حضرت عثمانؓ نے اسلامی تاریخ کا پہلا منظم بحری بیڑا تیار کروایا:
• حضرت معاویہؓ کو بحری بیڑے کی اجازت دی تاکہ رومی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
• جہاز سازی کے مراکز قائم کیے گئے، جیسے صور، عکہ، اور طرابلس۔
• جزیرہ قبرص کی فتح اسی بحری نظام کے تحت ہوئی۔
(حوالہ: ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7، ذکر سنۃ 28-31 ہجری۔ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 3، ترجمہ حضرت معاویہؓ۔)
آج کی مسلم ریاستیں سمندری، خلائی یا سائبر دفاع میں بکھری ہوئی ہیں۔ حضرت عثمانؓ بتاتے ہیں کہ جنگ صرف میدان میں نہیں، نظام میں جیتی جاتی ہے اور دفاع کے لیے پیشگی تدبیر ناگزیر ہے۔

5) مصحفِ عثمانی: علمی و دینی ادارہ سازی کا نمونہ​

اگرچہ یہ اقدام دینی تھا، مگر اس کی نوعیت مکمل طور پر ریاستی اور ادارہ جاتی تھی:
• کمیٹی تشکیل دی: زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص، عبدالرحمن بن حارث۔
• تمام ولایات کو یکساں مصاحف بھیجے گئے۔
• اختلافات ختم کرنے کے لیے مرکز سے ہی نسخہ معیار قرار دیا گیا۔
(حوالہ: صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن۔ ابن ابی داؤد، کتاب المصاحف۔)
علم کی تدوین، تعلیم کی یکسانیت، اور مذہبی فکری وحدت صرف علم سے نہیں آتی، نظام سے آتی ہے۔ حضرت عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حفاظتِ دین کا راستہ محض جذبات سے نہیں، تدبیر اور ادارہ سازی سے جاتا ہے۔

نتیجہ: عثمانی قیادت ایک غیر مرئی مگر عظیم ورثہ​

حضرت عمرؓ نے خلافت کو وسعت دی، مگر حضرت عثمانؓ نے اس کو نظم اور دوام بخشا۔ ان کی قیادت خاموش، باوقار، اور سسٹم ساز تھی۔
اگر آج مسلم قیادت کو پائیدار بنانا ہے تو حضرت عثمانؓ کی قیادت ہمیں بتاتی ہے: "قیادت وہ نہیں جو صرف زبان سے قائل کرے، بلکہ وہ جو نظام کھڑا کرے تاکہ اس کے بعد بھی دین، ریاست اور امت محفوظ رہیں۔"
آج ہمیں سیرتِ خلفاء کو ایک گہرے علمی، سیاسی اور سماجی تناظر میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ صرف واقعات نہیں، "نظم" اور "تدبیر" کی آنکھ سے تاریخ کو دیکھنے کی تربیت دینی ہو گی۔ خلافتِ راشدہ کے ہر دور کو ایک ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
 
Last edited:

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

کیا تم عثمانؓ جیسے شوہر بن سکتے ہو؟​

ازدواجی زندگی۔۔۔ ایک ایسا رشتہ جو دلوں کو جوڑتا ہے، روحوں کو قریب لاتا ہے، اور زندگی کے سفر کو محبت و سکون کے ساتھ گزارنے کا وسیلہ بنتا ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقت کی دوڑ، ذمہ داریوں کا بوجھ، اور جذبات کی اتار چڑھاؤ اس رشتے کی نزاکتوں کو دھندلا دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ رشتہ صرف دو انسانوں کا نہیں، بلکہ دو روحوں کا نرماہٹ اور وفا سے جُڑا ہوا بندھن ہے۔
ایسے میں اگر ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں میں جھانکیں، تو ہمیں ازدواجی تعلقات کا وہ حسن دکھائی دیتا ہے جو آج کی دنیا میں شاید کم کم ہی نظر آتا ہے۔ ان ہی روشن مثالوں میں ایک نام ہے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا۔ان کی یہ پہچان شاید عام بیانات میں بہت کم ابھرتی ہو، مگر آج جب رشتے نازک ہو چکے ہیں اور محبتیں سطحی، تو ان کی سیرت کے یہ گوشے ہماری رہنمائی کے لیے نہایت قیمتی چراغ بن سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کا اعتماد: دامادی کے اعلیٰ مقام پر فائز​

نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو اپنی دو بیٹیوں کا شوہر بنایا پہلے سیدہ رقیہؓ، پھر سیدہ ام کلثومؓ۔ اس کے بعد انہیں "ذوالنورین" کہا جانے لگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"اگر میری اور بھی بیٹیاں ہوتیں، میں وہ بھی عثمان کو دے دیتا۔" (طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام)
آج کے معاشرے میں ہم رشتہ داری میں دولت، ظاہری شخصیت یا خاندانی حیثیت دیکھتے ہیں، کردار اور وقار کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔
لیکن رشتہ وہی بہتر ہوتا ہے جس میں اخلاقی عظمت، اعتماد اور باطن کی پاکیزگی کو ترجیح دی جائے۔ حضرت عثمانؓ کی شخصیت سے ہمیں سیکھنا ہے کہ داماد بننا صرف نکاح کا نام نہیں، اعتماد کا مقام ہے۔

بیوی کی تیمارداری: غزوہ بدر سے غیرحاضری کا جواز​

سیدہ رقیہؓ بیمار تھیں، اور بدر کا معرکہ برپا ہوا۔ حضرت عثمانؓ شریک نہ ہوئے تاکہ بیوی کی تیمارداری کر سکیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"تمہیں بدر کے شریکوں جیسا اجر حاصل ہوگا۔"(بخاری، حدیث: 3698)
آج بیوی کی بیماری کو اکثر ذمہ داری نہیں سمجھا جاتا، نہ ہی تیمارداری کو عبادت۔ اکثر شوہر بیمار بیوی کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
حضرت عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ازدواجی زندگی میں خدمت، محبت کی بلند ترین شکل ہے۔ تیمارداری صرف بیوی کا حق نہیں، شوہر کی مردانگی کا امتحان ہے۔

ازدواجی وفاداری اور حیا کا مقام​

حضرت عثمانؓ کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:
"عثمان سے حیا کرو، اس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2401)
حیا اور وفاداری کے بجائے آج بیوی کے ساتھ نظروں، زبان، سوشل میڈیا اور تعلقات میں خیانت عام ہو چکی ہے۔
لیکن ازدواجی وفاداری صرف جسمانی حد تک نہیں، دل، آنکھ، نیت، اور رویے میں بھی پاکیزگی کا نام ہے۔ عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ شوہر ایسا ہو کہ فرشتے بھی اس سے حیا کریں۔

دوسرا نکاح: رقیہؓ کے بعد ام کلثومؓ​

سیدہ رقیہؓ کے انتقال کے بعد نبی ﷺ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا:
"ام کلثومؓ کو تم سے نکاح میں دیتا ہوں۔"
یہ نکاح حضرت عثمانؓ کی وفاداری، صبر اور محبت کی تسکین کے لیے تھا۔
آج دوسرا نکاح یا ازدواجی بندھن اکثر خواہش، جلد بازی یا دنیاوی مصلحتوں پر ہوتا ہے، وفاداری کے تسلسل پر نہیں۔
ازدواجی تسلسل میں وفا، ضبط اور نرم مزاجی کلیدی ہیں حضرت عثمانؓ نے یہ سب بصبر و سکون نبھایا۔

بیوی کے غم میں شدید متاثر ہونا​

سیدہ رقیہؓ اور پھر سیدہ ام کلثومؓ کی وفات پر حضرت عثمانؓ نہایت رنجیدہ ہوئے۔ روایت ہے:
"ہم نے عثمانؓ کو کبھی اتنا غمزدہ اور روتا ہوا نہ دیکھا۔" (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر)
آج جذباتی بےحسی عام ہو چکی ہے۔ مردوں کو سکھایا جاتا ہے کہ بیوی کی موت پر "رویہ مضبوط رکھو"۔
حضرت عثمانؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ بیوی کے لیے سچی محبت صرف زندگی کے دنوں تک نہیں بلکہ بعد از وفات بھی قائم رہتی ہے۔

نتیجہ:​

حضرت عثمانؓ کی ازدواجی زندگی ہمیں دکھاتی ہے کہ: شوہر بننے کا مطلب صرف نان نفقہ نہیں، محبت، وقار اور حیا کا امتزاج ہے۔ ازدواجی تعلقات میں وفاداری، جذباتی وابستگی، نرم دلی، اور روحانی قربت ہی اصل اساس ہے۔ نبی ﷺ کے اعتماد کا معیار وہی ہے جو بیوی کے ساتھ نرمی، قربانی اور ادب کے ساتھ پیش آئے۔
لیکن کیا آج کا شوہر عثمانؓ کی طرح: بیوی کے لیے جہاد چھوڑ سکتا ہے؟ تیمارداری کو عبادت سمجھ سکتا ہے؟ وفاداری کو آنکھ، دل اور نیت کی حد تک نبھا سکتا ہے؟ محبت کو صبر اور حیا میں ڈھال سکتا ہے؟
اگر نہیں تو عثمانؓ صرف ماضی کی شخصیت نہیں، ایک آئینہ ہیں ہمیں اپنا چہرہ دکھانے کے لیے۔
 

Yashp Haider

وفقہ اللہ
رکن

حلمِ عثمانؓ: خون کے قطرے سے رضا کے تاج تک​

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی حلم، حیا، صبر، اور بردباری کا مجسم نمونہ ہے۔
اگر ہم صرف "حلم" کے پہلو سے ان کی سیرت کا تدبری مطالعہ کریں تو ہمارے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔
حلم صرف برداشت کا نام نہیں، بلکہ: شدید اشتعال میں ضبط نفس، انتقام کی قدرت کے باوجود معافی، ظلم سہ کر صبر و سکون قائم رکھنا، حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔
حضرت عثمانؓ کی زندگی ان تمام پہلوؤں سے معمور ہے۔ آئیے گہرائی سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح حضرت عثمانؓ حلم کا پیکر تھے۔

اسلام کی ابتدا میں حلم

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے معزز سرداروں میں تھے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا، تو قریش نے فوری طور پر ان کے خلاف سماجی اور مالی بائیکاٹ کیا۔ ان کے چچا الحکم بن ابی العاص نے انہیں اذیتیں دیں اور ان پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کبھی ردعمل میں سختی یا تلخی نہیں کی۔
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، ص: 313-314/ البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 7، ص: 198)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• ایمان کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ دین کی ابتدا میں اگر ہمیں کسی قسم کی مخالفت، طنز یا طعن سہنا پڑے تو اکثر ہم خود ہی دین سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
• اللہ کے احکامات پر عمل میں شرم، جھجک اور لوگوں کے سامنے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ عام ہے۔
• دین داری میں سوسائٹی کا ردعمل اتنا اہم ہو چکا ہے کہ ہم کئی معاملات میں دین پر عمل ہی نہیں کرتے۔
• دین دار لباس، پردہ، داڑھی، اذکار، دین کی بات چیت، سب میں "لوگ کیا کہیں گے؟" کی قید ہے۔
• ہم دین کو صرف اپنے اندرونی معاملات تک محدود رکھتے ہیں تاکہ کوئی ہمیں چیلنج نہ کرے۔ لیکن حضرت عثمانؓ نے دین کو زندگی کا مرکزی نقطہ بنا لیا تھا۔
⚠️ ایمان آسان نہیں، وہ امتحان مانگتا ہے۔ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں دیا، ہم آج اس کے ایک فیصد پر بھی تیار نہیں۔

ہجرت حبشہ میں حلم

مکہ میں ظلم و جبر بڑھا تو نبی ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ حضرت رقیہؓ (نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی) کے ساتھ ہجرت کر گئے۔ پردیس میں نئی زندگی، مالی تنگی، اجنبیت سب کچھ برداشت کیا۔
(سیرت ابن ہشام، جلد 1، ص: 367/ الطبری، تاریخ الامم والملوک، جلد 2، ص: 282)
❗آج ہمارا طرز عمل کیا ہے؟
• ہم دین کی خاطر قربانی کے نام سے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ دین کے کسی حکم پر اگر معاشی نقصان ہونے لگے تو فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
• حلال و حرام کی قربانی مالی استحکام کے لیے کر دیتے ہیں۔
• دین کی خاطر ہجرت کی قربانی کا شعور ختم ہو چکا۔
• اللہ کے راستے میں اپنے ماحول، عادات، سوسائٹی اور وسائل چھوڑنا ہم برداشت نہیں کرتے۔
• حبشہ جیسی اجنبیت آج ہمیں سوشل سسٹم میں نظر آتی ہے، مگر ہم دین چھوڑ کر اسی سسٹم میں جذب ہو جاتے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ کا حلم اُن کے ترکِ وطن میں نظر آتا ہے اور ہم دین پر عمل کے لیے اپنے کمرے کی سیٹنگ تک بدلنے کو تیار نہیں ہوتے۔

غزوہ تبوک میں حلم و سخاوت

سنہ 9 ہجری میں "جیش العسرہ" یعنی تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو شدید مالی قلت کا سامنا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے ایک ہی وقت میں 300 اونٹ سامان سمیت دیے اور 1000 دینار اللہ کے رسول کے قدموں میں رکھے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْ عُثْمَانَ، فَإِنِّي عَنْهُ رَاضٍ"
اے اللہ! عثمان سے راضی ہو جا، میں تو اس سے راضی ہوں۔
(سنن الترمذی: 3701/ مسند احمد: 486/ طبقات ابن سعد، جلد 3، ص: 48)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• ہم ریاکاری کے کینسر کا شکار ہو چکے ہیں۔ چند صدقات کی تصاویر، ویڈیوز، سوشل میڈیا پر اشتہار بن جاتے ہیں۔
• اصل انفاق اللہ کے لیے ہوتا ہے، ہم مخلوق کی واہ واہ کے لیے دیتے ہیں۔
• لاکھوں کروڑوں کماتے ہیں مگر دین کے نظام کے لیے خرچ کرتے ہوئے ہاتھ کپکپاتے ہیں۔
• شادیوں، مہندیوں، پارٹیوں، گاڑیوں، برانڈز پر اسراف اور نمود کی انتہا ہے مگر دین کی دعوت، مدارس، قرآن پروگرام، رفاہی ادارے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے جو دیا وہ اللہ کے ہاں جمع کرایا اور ہم جو دیتے ہیں وہ اپنی شہرت کے بینک میں جمع کرتے ہیں۔

خلافت کے دوران باغیوں کا طعن و بہتان

عبداللہ بن سبا اور اس کے پیروکاروں نے امت میں فساد پیدا کیا۔ عثمانؓ پر اقرباء پروری، بیت المال میں نرمی اور اہل مصر کے خطوط کے ذریعے بغاوت کی مہم چلائی۔ بار بار جھوٹے خطوط لکھے گئے کہ عثمانؓ نے فلاں کے خلاف احکام جاری کیے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے ہر الزام پر بردباری، وضاحت اور حلم سے جواب دیا۔
(الطبری، تاریخ الامم والملوک، جلد 4، ص: 401-405/ البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 184-189)
❗آج ہمارا طرز عمل کیا ہے؟
• تنقید کا مطلب دشمنی بن چکا۔
• جھوٹے الزامات، ٹرینڈز، کلپس، پوسٹس اور وائرل پروپیگنڈا ان سب کو ہم کردار کشی کو ہنر سمجھنے لگے ہیں۔
• ہم ذاتی اختلاف کو ایمان کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ فقہی، مسلکی، تنظیمی، یا ذاتی اختلاف کو کفر و ایمان کے درجے پر لے آنا عام ہو گیا۔
• حلم اور خاموشی کو بزدلی سمجھا جاتا ہے۔ سخت جملے، تحقیر آمیز الفاظ ہمارا اسلوب بن چکے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے امت کے امن کی خاطر اپنی عزت بھی برداشت کی لیکن ہم اپنی انا کے لیے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔

محاصرے کے دنوں میں حلم کی انتہا

باغیوں نے مدینہ میں حضرت عثمانؓ کا گھر گھیر لیا۔ کھانے، پانی، مسجد تک جانے پر پابندی لگائی۔ صحابہ نے دفاع کی اجازت مانگی، حضرت عثمانؓ نے فرمایا:
"میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے امتِ محمد کے خون کا پہلا قطرہ بہے۔"
کئی دن پیاسے رہ کر صبر کرتے رہے۔ وصیت لکھی:
"اللہ میرا کافی ہے، وہی میرا ولی ہے۔"
(تاریخ طبری، جلد 4، ص: 426-429/ البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 193-197/ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 3، ص: 74)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنگ۔۔۔گھریلو اختلافات، وراثتی جھگڑے، مسجد کے معمولی معاملات تک خونریزی کی نوبت آتی ہے۔
• دین کی وحدت اور بھائی چارے کی قربانی اپنی تنظیم، مسلک اور گروہ کے لیے دی جاتی ہے۔
• "میں" کی پرستش۔۔۔ ذاتی انا، عزت اور عزائم کو امت کی وحدت سے بڑا مان لیا گیا ہے۔
⚠️ حضرت عثمانؓ کی حلم کا کمال یہی ہے کہ انہوں نے اپنی جان دی مگر امت کو خونریزی سے بچانے کی پوری کوشش کی اور ہم تو زبان کے تیروں سے روزانہ ہزاروں زخم لگاتے ہیں۔

ذاتی معاملات میں حلم

حضرت عثمانؓ کی نرم طبیعت مشہور تھی۔ صحابہ کرام میں جب کبھی ان سے مشورے میں اختلاف ہوا تو وہ نہ سختی کرتے، نہ ناراض ہوتے۔ یہاں تک کہ منافقین کی سخت باتوں پر بھی کبھی سخت ردعمل نہ دیا۔
(تاریخ الخلفاء، امام سیوطی، ص: 105-106/ مسند احمد، حدیث ابو موسیٰ الاشعری)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• عدم برداشت: ذرا سی نصیحت پر برا مان جانا عام ہو چکا ہے۔ اختلاف کو ذاتی دشمنی سمجھنا فطرت بن چکا ہے۔
• سخت زبان: الفاظ میں طعن و تشنیع، استہزاء، اور بدتمیزی کو "دوٹوک موقف" کہا جاتا ہے۔
• دل میں کینہ: لوگوں سے شدید اختلافات کو ہمیشہ کے لیے دل میں رکھتے ہیں اور بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔
⚠️ حلم دل کی وسعت کا نام ہے لیکن ہم دل کو تنگ کر چکے ہیں۔

شہادت کے وقت حلم کی آخری معراج

قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے باغیوں کے ہاتھوں شہید کیے گئے۔ سورۃ البقرہ کی آیت پر شہادت ہوئی:
فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (2:137)
بیوی حضرت نائلہ کے سامنے سر کٹ گیا۔ آخری وقت میں اللہ سے رحم کی دعائیں کرتے رہے۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، ص: 198/ تاریخ طبری، جلد 4، ص: 431/ الکامل فی التاریخ، جلد 3، ص: 77)
❗آج ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
• دنیا کی محبت: ذرا سا نقصان ہو تو شور و غوغا، احتجاج، رونا دھونا، الزام بازی۔ اللہ کی رضا پر راضی ہونے کا مفہوم سمجھنا بھول چکے۔
• موت سے بھاگنا: دین پر استقامت کے لیے موت کا خوف سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
• قربانی سے بھاگنا: دین پر عمل میں اپنی جان، مال، وقت، اولاد، عزت کی قربانی دینے سے گھبراتے ہیں۔
⚠️ حضرت عثمانؓ نے جان دے کر حلم کا تاج پہن لیا اور ہم اپنی ذاتی آسانیوں پر دین بیچنے کے عادی بن چکے ہیں۔

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

خون کے قطرے زمین پر گرتے رہے، لیکن آسمان پر "رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" کے پرچم بلند ہوتے رہے۔ ان کی زبان پر شکایت نہیں، رضا تھی۔
ہم۔۔۔ جن کی زبان پر شکایت، الزام، طعن، انتقام ہے۔۔۔
❓ کیا ہم اپنے نفس پر عثمانؓ جیسا ضبط رکھتے ہیں؟
❓ کیا ہماری زبان حلم کے کلمات سے سجی ہے؟
❓ کیا ہم دلوں کو جوڑنے والے ہیں یا توڑنے والے؟
❓عثمانؓ تو چلے گئے۔۔۔ اب ان کا وارث کون بنے گا؟
اے اللہ! جو حلم تُو نے عثمانؓ کے دل میں بسایا۔۔۔ وہ ہمارے دلوں میں بھی اتار دے۔ ہماری زبانوں کو نرم کر دے۔ ہمارے دلوں کو وسعت دے۔ ہماری انا کو پگھلا دے۔ تاکہ ہم بھی قیامت کے دن "وارثانِ حلم" میں شامل ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔
جزاک اللہ خیرا
 

Yashp Haider

وفقہ اللہ
رکن
ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں ہر عمل، ہر خدمت، ہر نیکی کو دیکھے جانے کی طلب لاحق ہے۔ نیکی تب "قابلِ قدر" سمجھی جاتی ہے جب اس کے ساتھ ہمارا نام، ہماری تصویر یا ہمارے فالورز جُڑے ہوں۔ مگر تاریخ کے اوراق میں ہمیں ایک ایسی شخصیت ملتی ہے، جنہوں نے ایسی خدمات انجام دیں کہ اُن کا اثر آج بھی زندہ ہے، مگر ان کے نام کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے وہ ہیں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔
حضرت عثمانؓ کے دور میں مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، مسلمانوں کے لیے کنواں خریدا گیا، قرآنِ مجید کو ایک جامع نسخے میں مدون کر کے امت کو اختلاف سے بچا لیا گیا۔ مگر ان خدمات کے ساتھ کہیں کوئی عنوان، کوئی تختی، کوئی علامتی حوالہ نہیں ملتا کہ: "یہ عثمانؓ کا کام ہے۔"
ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" میں مذکور ہے کہ جب مسجد نبوی کی توسیع ہوئی تو حضرت عثمانؓ نے اپنا ذاتی گھر تک وقف کر دیا، مگر خاموشی سے۔
حضرت عثمانؓ نے وہ کارنامہ انجام دیا جو آج ہمیں ہر مسجد، ہر گھر اور ہر ایپ میں موجود قرآن کے ذریعے نظر آتا ہے۔ اگر وہ قرآن کو ایک ہی مصحف میں جمع نہ کرتے، تو شاید امت فرقوں میں بٹ چکی ہوتی۔ مگر ان کا اندازِ خدمت ایسا تھا کہ نام کے بجائے کام زندہ رہا۔ صحیح بخاری میں "جمع القرآن" کے باب میں حضرت انسؓ سے نقل کیا ہے کہ "عثمانؓ نے جب مصحف تیار کرائے تو ان کی غرض امت میں اتحاد تھی، نہ کہ ذاتی شہرت۔"
مدینہ کا ایک یہودی پانی کے کنویں سے مسلمانوں کو پانی بیچتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اسے خریدا اور وقف کر دیا۔ اس کا اعلان نہ کیا، نہ صدقہ جاریہ کا بینر لگایا، مگر آج بھی مدینہ میں اس وقف کی آمدن سے حاجیوں کو سہولت دی جا رہی ہے۔ "فتوح البلدان" (بلاذری) کے مطابق، عثمانؓ نے کنواں خریدا، لیکن اپنے نام سے منسوب نہ کیا۔
ہمارے آج کے نیکی کے عمل self-branding بن چکے ہیں۔ صدقہ دینا ہو، مسجد بنانا ہو یا کوئی رفاہی کام، ہم پہلے تصویر لیتے ہیں، پھر شکر ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نیکی کی نمائش ایک باقاعدہ تہذیب بنتی جا رہی ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ہمیں سکھایا کہ:
اصل خدمت وہ ہے جو صرف اللہ کے لیے ہو۔ جو شہرت سے دور ہو کر صرف خلق کی بھلائی پر مرکوز ہو۔ جس کا اجر صرف رب کے پاس محفوظ ہو، دنیا کی واہ واہ سے بےنیاز۔
ہمارے لیے سبق ہے کہ:
نیکی کو غیرمشروط بنائیں: اگر تصویر کے بغیر یا نام کے بغیر ہم نیکی نہ کر سکیں، تو نیت میں خلل ہے۔
اثر کے پیچھے نہ بھاگیں، اخلاص پیدا کریں: عثمانؓ نے اثر چھوڑا، نشان نہیں۔
خاموشی سے روشن رہیں: جیسے کنواں رومی آج تک پیاس بجھا رہا ہے، ویسے ہی ہم بھی عمل کریں جو اپنی پہچان خود بنائے۔
اللہ ہمیں بھی ایسے خاموش چراغ بننے کی توفیق دے جو روشنی تو دیں، مگر روشنی کا چرچا نہ کریں۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارتیں
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایسے خوش نصیب صحابہ کرام میں شامل ہیں جن کو دنیا میں ہی فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جنت کی بشارتیں عطا کی گئیں۔

١۔ عشرہ مبشرہ میں شامل ہونا

حدیث:​

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
"أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ."
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ابو بکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں، سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں، سعید بن زید جنت میں ہیں، اور ابوعبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔"(سنن الترمذی، حدیث: 3747)
  • وضاحت:
    یہ دس صحابہ "عشرہ مبشرہ" کہلاتے ہیں، جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دی گئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان اصحاب رسول میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

٢۔ بئر رومہ خریدنے پر جنت کی بشارت

پس منظر:​

مدینہ میں پانی کا شدید مسئلہ تھا۔ "بئر رومہ" نامی ایک کنواں تھا جو ایک یہودی کے قبضے میں تھا، اور وہ مسلمانوں سے پانی مہنگے داموں بیچتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَن يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَهَا لِلْمُسْلِمِينَ يَشْرَبُونَ مِنْهَا، لَهُ بِهَا خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟"
"کون ہے جو بئر رومہ خریدے اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے تاکہ وہ اس سے پانی پئیں؟ اسے اس کے بدلے جنت میں بہتر بدلہ دیا جائے گا۔"

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں 20,000 درہم میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

حدیث:​

قَالَ رَسُولُ الله ﷺ:

"مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ."

"آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔"(مسند احمد، حدیث: 486/ترمذی، مناقب عثمان)
  • وضاحت:
    یہ الفاظ اس عظیم قربانی پر کہے گئے تھے، اور ایک مستقل جنت کی ضمانت کے مترادف سمجھے گئے۔

٣۔دُہرا امتحان اور جنت — شہادت کی پیشگی خبر

پس منظر:​

رسول اللہ ﷺ نے خلافت کے معاملے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک آزمائش میں مبتلا ہونے کی پیش گوئی فرمائی ، اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم ارشاد فرمایا جس پر انہیں جنت کی ضمانت دی گئی۔

حدیث:​

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:

"يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي."

"اے عثمان! اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا (یعنی خلافت دے گا)، اگر منافقین تم سے یہ قمیص اتروانا چاہیں تو مت اتارنا، یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو۔"(مسند احمد: حدیث 24637/المستدرك للحاكم: 4518)

وضاحت:
یہ پیش گوئی بعینہٖ پوری ہوئی جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا، ان پر حملہ کردیا ، مگر آپ رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبرداری سے انکار کیا اور شہادت قبول کی۔

٤۔جنت میں حضرت عثمان کے محل کا تذکرہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أَبْشِرْ يَا عُثْمَانُ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ عَطُوفًا فِي الْجَنَّةِ."
"اے عثمان! خوش ہو جاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں ایک حور عطا فرمائی ہے۔"
(فضائل الصحابة، امام احمد بن حنبل/سیر اعلام النبلاء)
  • حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ چند احادیث ثابت کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کتنے عظیم اور جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ، جنہوں نے اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دب کچھ نچھاور کردیا اور کامیاب قرار پائے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن

ذوالنورینؓ کی روشنی سے میں نے کیا سیکھا؟

الحمدللہ! اس سلسلے میں، میں نے ایک بابرکت سفر کیا۔
ایک ایسے انسان کی روشنی میں اپنے دل کو منور کرنے کی کوشش کی جس کی حیاء سے فرشتے بھی شرماتے تھے، جس کی سخاوت پر آسمان جھوم اٹھتا تھا، جس کے صبر نے امت کو خونریزی سے بچایا، اور جس کی محبتِ قرآن نے آج ہمیں ایک ہی کتاب پر اکٹھا کر دیا۔
اس سلسلے سے میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا:
ان کا حلم : جو اپنی جان قربان کر کے بھی امت کا امن بچا گیا۔
ان کی سخاوت :جو اللہ کے دین کے لیے سب کچھ نچھاور کر گئی۔
ان کی حیاء : جو زمین پر نور تھی اور آسمان پر گواہی۔
ان کی قیادت : جو خدمت کا نام تھی، اختیار کا نہیں۔
ان کی ازدواجی زندگی :جو محبت، وفاداری اور نرمی کا آئینہ تھی۔
ان کا قرآن سے تعلق : جو ہمیں قرآن کی حفاظت کا عملی سبق دیتا ہے۔
لیکن اب سوال صرف یہ نہیں کہ میں نے کتنا پڑھا،
❓ بلکہ سوال یہ ہے کہ اس روشنی کو میں نے اپنے دل میں کہاں تک اتارا؟
❓ کیا یہ تحریریں صرف پڑھنے کا سامان تھیں یا خود کو سنوارنے کا آغاز؟
کیونکہ اگر میں نے:
✨ اپنے دل میں عثمانؓ کا حلم پیدا کر لیا،
✨ اپنی نگاہوں میں عثمانؓ کی حیاء بسا لی،
✨ اپنے مال کو عثمانؓ کی سخاوت کا رنگ دے دیا،
✨ اپنی قیادت کو عثمانؓ کی خدمت بنا لیا،
✨ اپنی عبادتوں میں عثمانؓ کا خلوص شامل کر لیا۔۔۔
تو یہی ذوالنورینؓ کی روشنی کا اصل مقصد پورا ہو جائے گا۔
آج میں نے عہد کیا:
میں حضرت عثمانؓ کی ایک صفت کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤں گی۔
میں اس روشنی کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گی۔
میں اپنے آپ کو "وارثانِ عثمانؓ" کے قافلے میں شامل کرنے کی کوشش کروں گی۔

اے اللہ! حضرت عثمانؓ کی روشنی کو ہمارے دلوں میں اتار دے۔ ہمیں ان کے حلم، حیاء، سخاوت، صبر، وفا، اور محبتِ قرآن کا سچا وارث بنا دے۔ ہمارے دلوں کو نرم کر دے، ہماری زبانوں کو پاکیزہ بنا دے، اور ہمارے اعمال کو تیرے دین کا خادم بنا دے۔
آمین یا رب العالمین!
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی

شہادت حضرت عثمان بن عفانؓ​

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفۂ سوم، جلیل القدر صحابی، اور رسول اللہ ﷺ کے داماد تھے۔ آپؓ کا دورِ خلافت اسلامی فتوحات، عدل، اور قرآن کی تدوین کے حوالے سے اہم ترین دور تھا۔ مگر افسوس کہ آپؓ کا اختتام ایک نہایت افسوسناک شہادت پر ہوا، جو اسلامی تاریخ کے اہم ترین اور سبق آموز واقعات میں سے ہے۔

خلافت اور پس منظر​

حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت عثمانؓ 23 ہجری میں خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپؓ نے قرآنی قراءات کو ایک مصحف میں جمع کر کے "مصحفِ عثمانی" ترتیب دیا، جو تمام اسلامی دنیا میں رائج ہوا۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 4987/تاریخ طبری، جلد 3، واقعہ جمع القرآن)

فتنہ و محاصرہ​

خلافت کے آخری سالوں میں بعض گورنری تقرریوں، خاص طور پر بنو امیہ کے بعض افراد کو عہدے دینے پر فتنہ اٹھا۔ منافق اور سیاسی مفاد پرست عناصر نے عوام کو ورغلایا اور متعدد شہروں سے باغی گروہ مدینہ منورہ پہنچے۔
حضرت عثمانؓ نے مدینہ میں ان کے مطالبات سننے کے باوجود ان سے کوئی جنگی اقدام نہ کیا اور صلح و مفاہمت کی کوشش کی، حتیٰ کہ گھر کا محاصرہ کر لیا گیا۔(البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 167–175/تاریخ طبری، جلد 3، واقعہ محاصرہ)

شہادت کا دن​

18 ذوالحجہ 35 ہجری کو باغی حضرت عثمانؓ کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس وقت آپؓ قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپؓ نے کسی کو بددعا نہ دی، نہ کسی کے خلاف تلوار اٹھائی۔ ایک ظالم نے آپؓ پر تلوار کا وار کیا، آپؓ کے خون کے چھینٹے قرآن کی آیت پر پڑے:

فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
’’اللہ ان (دشمنوں) سے تمہیں کافی ہے، اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 137)(البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 177/تاریخ الخلفاء، امام سیوطی، صفحہ 161/الكامل في التاريخ، ابن اثیر، جلد 3)

وصیت اور تدفین​

حضرت عثمانؓ نے شہادت سے قبل فرمایا:
’’مجھے رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا: اے عثمان! شاید اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اور منافق چاہیں گے کہ تم وہ قمیص اتار دو، لیکن تم اسے مت اتارنا۔‘‘(صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابة، حدیث: 3692)
محاصرے کے بعد چند صحابہؓ نے خفیہ طور پر حضرت عثمانؓ کو "حش کوکب" (بعد میں جنت البقیع میں شامل ہو گیا) میں دفن کیا۔(تاریخ ابن سعد، طبقات کبریٰ، جلد 3 /تاریخ طبری، جلد 3)

فضائل حضرت عثمانؓ​

آپؓ کو نبی کریم ﷺ نے "ذوالنورین" (دو نوروں والا) کا لقب دیا، کیونکہ آپؓ نے نبی ﷺ کی دو بیٹیوں (حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ) سے نکاح کیا۔(الترمذی، حدیث: 3701)
آپؓ نے غزوۂ تبوک میں سب سے زیادہ مالی مدد دی۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، حدیث: 2400)

نتیجہ​

حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک المیہ ہے بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سبق بھی ہے — کہ باہمی اتحاد، صبر، اور فتنوں سے دوری ہی دین کی سربلندی کا راستہ ہے۔
 

فاطمہ طاہرہ

وفقہ اللہ
رکن

ذوالنورینؓ کی روشنی: سوالات کے بعد، اب جواب میرا عمل!​

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس ماہِ محبت و عقیدت کے سفر میں ۔۔۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ کے انوار میں اپنے دل کو جگانے کی کوشش کی۔
میں نے ان کے حلم، سخاوت، حیا، قربانی اور محبتِ قرآن سے بہت کچھ سیکھا۔
لیکن۔۔۔ اب وقت ہے کہ میں خود سے وہ سوال پھر سے پوچھیں جن کے جواب مجھے اپنے عمل میں دینے ہیں۔
❓ کیا میں نے حلم کو اختیار کیا؟
جب غصہ آیا، جب کوئی دل دُکھا گیا، کیا میں نے صبر و ضبط کو چنا؟
یا میں اپنی انا کی آگ میں دوسروں کے دل جلاتے رہی؟
❓ کیا میں نے اپنی سخاوت کا جائزہ لیا؟
چاہے مال تھوڑا ہو، لیکن کیا میں نے دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی چاہتوں پر مقدم رکھا؟
کیا میں نے اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے ہاتھ کھولے یا دل؟
❓کیا میری حیا صرف لباس تک محدود رہی یا آنکھ، زبان، رویے اور سوشل میڈیا تک پہنچی؟
کیا میں نے تنہائی میں بھی اللہ کے حضور حیاء محسوس کی؟
کیا میرا کردار ایسا ہوا کہ فرشتے بھی حیاء کریں؟
❓ کیا میں نے صبر و قیادت کو اختیار کیا؟
کیا میں نے قیادت کو اختیار نہیں بلکہ خدمت سمجھا؟
کیا میں نے اختلاف کرنے والوں اور الزام لگانے والوں کے لیے بھی دل کو وسیع رکھا؟
❓ کیا میرا تعلق قرآن سے حضرت عثمانؓ جیسا ہوا؟
کیا میں نے قرآن کو دل میں اتارا یا صرف شیلف پر سجایا؟
کیا میں نے قرآن کو روزمرہ کی زندگی کا رہنما بنایا؟
❓ کیا میں نے حضرت عثمانؓ کی کوئی ایک خوبی بھی اپنی زندگی میں شامل کی؟
اگر میں نے کی، تو یہ سلسلہ میرے لیے برکت کا ذریعہ بن گیا۔
اگر نہیں کی۔۔۔ تو اب دیر کس بات کی ہے؟
اے اللہ! ہماری اس کاوش کو قبول فرما۔ ہمارے دلوں میں حلمِ عثمانؓ، حیاءِ عثمانؓ، سخاءِ عثمانؓ، اور محبتِ قرآنِ عثمانؓ بسادے۔ ہمارے کردار کو ان کے کردار کا عکس بنا دے۔ اور ہمیں قیامت کے دن ان کے قافلے میں شامل فرما دے۔ آمین یا رب العالمین
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
اے اللہ! ہماری اس کاوش کو قبول فرما۔ ہمارے دلوں میں حلمِ عثمانؓ، حیاءِ عثمانؓ، سخاءِ عثمانؓ، اور محبتِ قرآنِ عثمانؓ بسادے۔ ہمارے کردار کو ان کے کردار کا عکس بنا دے۔ اور ہمیں قیامت کے دن ان کے قافلے میں شامل فرما دے۔ آمین یا رب العالمین
آمین یا رب العالمین
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں کیا سکھلاتی ہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلام اور انسانیت کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔ ان کی زندگی ہمیں کئی اہم سبق سکھاتی ہے، جنہیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا سکتے ہیں۔ درج ذیل اہم نکات ہیں:
١۔ سخاوت اور فیاضی
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے ابتدائی دور میں سب سے زیادہ سخی صحابہ میں سے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر انہوں نے ایک ہزار دینار، 300 اونٹ اور سامان کے ساتھ لشکرِ اسلام کی مدد کی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم"
آج کے بعد عثمان کو جو بھی عمل کرے، وہ نقصان نہیں دے گا۔( صحیح ترمذی: 3701، صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب غزوہ تبوک)
٢۔ شرم و حیا
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی غیر معمولی شرم و حیا کے لیے مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ بھی ان سے خاص طور پر حیا فرماتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ"
کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟( صحیح مسلم: 2401)

٣۔ بردباری اور صبر
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آخر میں شدید فتنے کا سامنا کیا، مگر انہوں نے جنگ یا تشدد کی اجازت نہیں دی، حالانکہ ان کے محافظ لڑنے پر آمادہ تھے۔
انہوں نے فرمایا:
"میں مسلمانوں کا خون بہانے والا پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا۔"( تاریخ طبری، جلد 4، واقعہ محاصرہ عثمانؓ)
٤۔ قربانی کا جذبہ
جب فتنہ پرور لوگوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا، تب بھی انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے امت کی وحدت کے لیے لڑائی سے انکار کیا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیے گئے۔
نبی ﷺ نے پہلے ہی فرمایا تھا:
"عثمان کو جنت کی بشارت دو ایک مصیبت پر جو اس پر آئے گی اور وہ اس پر صبر کرے گا۔"( صحیح بخاری: 3692)
٥۔ قرآن کی خدمت
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو ایک قراءت پر متحد کرنے کے لیے مصاحف کی تدوین کا اہم قدم اٹھایا، جسے آج ہم "مصحفِ عثمانی" کے نام سے جانتے ہیں۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
"عثمان نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص، اور عبدالرحمٰن بن حارث کو قرآن ایک قراءت پر جمع کرنے کا حکم دیا۔"( صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 4987)

خلاصہ:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں:

سخاوت (ترمذی: 3701)

حیا (مسلم: 2401)

صبر (بخاری: 3692، تاریخ طبری)

دینی خدمت (بخاری: 4987)


جیسے اعلیٰ اخلاق سکھاتی ہے، جنہیں اپنا کر ہم ایک بہتر مسلمان اور انسان بن سکتے ہیں۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن

ایک دعا، ذوالنورینؓ کی روشنی کے سائے میں​

اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِحَيَاءِ عُثْمَانَ سَبِيلًا إِلَى قُلُوبِنَا، حَيَاءً يُزَكِّي البَصَرَ، وَيُهَذِّبُ الجَوَارِحَ، وَيَرْفَعُنَا إِلَيْكَ خَفِيًّا.
اے میرے رب! حیاء عثمانؓ کی ایک راہ ہمارے دلوں تک لے آ، ایسی حیا جو ہماری نگاہوں کو پاکیزہ کر دے، ہمارے اعضا کو ادب و تہذیب سکھا دے، اور ہمیں تیری بارگاہ میں خامشی کے ساتھ رفعت عطا کرے۔
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا سَخَاءَ ذِي النُّورَيْنِ، سَخَاءً لَا يُعْلَنُ، وَلَا يُفْتَخَرُ بِهِ، يُرْضِيكَ، وَتَجْعَلُهُ سَبَبًا لِغِنَى عِبَادِكَ.
اے اللہ! ہمیں ذوالنورینؓ جیسی بے ریا سخاوت عطا فرما، ایسی سخاوت جو اعلان نہ مانگے، نہ ہی تعریف کی طلب رکھے، بلکہ تجھے راضی کرے اور تیرے بندوں کے لیے راحت و کفالت کا ذریعہ بنے۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ حِلْمِهِ وَقِيَادَتِهِ وَقَارًا، فَنَمْضِيَ لِلْحَقِّ دُونَ صَخَبٍ، وَنَخْدِمَ الأُمَّةَ دُونَ أَنْ نَبْتَغِيَ صَفْقَ الأَكُفِّ.
اے رب! ہمیں حضرت عثمانؓ کے حلم اور قیادت سے وہ وقار عطا فرما جو ہمیں بے شور و فغاں حق کی طرف لے جائے، اور ایسا اخلاص عطا کر کہ ہم امت کی خدمت کریں بغیر اس کے کہ کسی کے تالی بجانے کے منتظر ہوں۔
يَا رَبَّ القُرْآنِ، اجْعَلْ فِي صُدُورِنَا مَا جَعَلْتَ فِي صَدْرِ عُثْمَانَ، حُبًّا لِكِتَابِكَ، وَبُكَاءً فِي لَيَالِيهِ، وَصَمْتًا يَتَعَبَّدُ دُونَ طَلَبِ أَنْظَارِ الخَلْقِ.
اے قرآن کے نازل کرنے والے! ہمارے سینوں کو بھی ویسا ہی بنا دے جیسا تو نے عثمانؓ کے سینے کو بنایا: تیری کتاب سے بے پناہ محبت، راتوں کی تنہائی میں بہنے والے آنسو، اور وہ خاموشی جو بندگی کا لباس اوڑھے اور مخلوق کی نظروں سے بے نیاز ہو۔
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا شَهَادَةً فِي سَكِينَةٍ، وَصَبْرًا فِي العُزْلَةِ، وَثَبَاتًا فِي الابْتِلَاءِ، كَمَا ثَبَتَ عُثْمَانُ وَهُوَ يَقْرَأُ آيَاتِكَ وَالدَّمُ يَسِيلُ.
اے اللہ! ہمیں ایسی شہادت عطا فرما جو سکون میں لپٹی ہو، ایسا صبر دے جو خلوت کا ہم راز ہو، اور وہ استقامت بخش جو آزمائش کے لمحے میں ایمان کو لرزنے نہ دے۔جیسے عثمانؓ تیرے کلام کی تلاوت کرتے ہوئے خون میں ڈوبے، مگر ثابت قدم رہے۔
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا نُحِبُّ عُثْمَانَ حُبًّا يُورِثُ اقْتِدَاءً، وَيُحْيِي فِينَا سُنَّتَهُ، وَيَجْعَلُنَا مِنْ رِجَالِ الحَيَاءِ وَالبَذْلِ، وَالصَّمْتِ النَّاطِقِ بِالحَقِّ. آمِيـنْ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
اے اللہ! ہمیں عثمانؓ جیسا عشق عطا کر جو ہمیں ان کے طریقے پر چلنے والا بنا دے، ان کی سنت کو ہماری زندگیوں میں زندہ کرے، اور ہمیں اُن مردانِ حق میں شامل فرما جو حیا کے پیکر، سخاوت کے علمبردار، اور خاموش مگر حق گو ہوتے ہیں۔ آمین!یا ارحم الراحمین!
 
Top