نواسۂ رسولﷺ، جگر گوشۂ بتول ؓ اور شیرِخدا ؓحضرت سیدنا حسین ؓ
نام و نسب:
آپ ؓ کا نام ’’حسین ؓ‘‘کنیت ’’ابو عبداللہ ‘‘ہے۔نبی کریمﷺ نے حضرت سیدنا حسین ؓ کو دو لقب ’’ سید شباب أہل الجنۃ‘‘ اور ’’ریحانۃ النبي‘‘ عطا فرمائے تھے۔(البدایۃ والنہایۃ: ۸/۱۶۰)
پیدائش سے قبل بشارت:
’’عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ رَأَیْتُ حُلْمًا مُنْکَرًا اللَّیْلَۃَ، قَالَ: مَا ہُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّہٗ شَدِیْدٌ، قَالَ: مَا ہُوَ؟ قَالَتْ: رَأَیْتُ کَأَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِيْ حِجْرِيْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَأَیْتِ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا، فَیَکُوْنُ فِيْ حِجْرِکِ، فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ فَکَانَ فِيْ حِجْرِيْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ یَوْمًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُہٗ فِيْ حِجْرِہٖ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّیْ الْتِفَاتَۃٌ، فَإِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُہْرِیْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّیْ مَا لَکَ؟ قَالَ: أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ أُمَّتِيْ سَتَقْتُلُ ابْنِيْ ہٰذَا فَقُلْتُ: ہٰذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَتَانِيْ بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔‘‘ (رقم الحدیث:۴۸۱۸)
’’حضرت عباس ؓ کی زوجہ حضرت ام فضل ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یارسول اللہ! رات میں نے عجیب خواب دیکھا ہے۔ آپﷺم نے دریافت کیا: کیسا خواب ہے؟ عرض کی: بہت سخت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہے وہ؟ عرض کی: میں نے دیکھا ہے کہ گویاآپ کے بدن کا کوئی ٹکڑا کٹ کر میری گود میں آگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تعبیر بیان فرمائی کہ تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ ؓ کے ہاں بچہ پیدا ہوگا، وہ تمہاری گود میں ہوگا (تم اُسے دودھ پلاؤ گی)، چنانچہ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کے ہاں حضرت سیدناحسین ؓ پیدا ہوئے، تو میری گود میں آئے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔ ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حسینؓ کو میں نے رسول اللہﷺ کی گو د میں ڈال دیا، رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے رواں تھیں۔ حضرت امِ فضل ؓ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کو کیا ہوا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے خبردی کہ میری اُمت میرے اس بیٹے کو شہید کردے گی۔ میں نے عرض کی: کیا یہ بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اور وہ میرے پاس اس کی (خون آلود) سرخ مٹی کا کچھ حصہ بھی لائے ہیں۔‘‘
حضرت حسین ؓ کا نام رکھنا،کان میں اذان دینا اور لعاب دہن کی گھٹی دینا:
خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ ؓ کی گود جب سبطِ رسول خوشبوئے نبوت سے مہکی تو رسولِ خدا ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لائے، اپنے نومولود نواسے کو اپنے دست ِمبارک میں اُٹھایا، گھٹی دی، لعابِ دہن منہ میں ڈالا اور خوب صورت نام ’’حسین‘‘ رکھا۔ (ابن کثیر: ۸/۱۶۰)
رسولِ اکرمﷺ نے آپ ؓ کے کان میں اذان دی اور ساتویں روز عقیقہ فرمایا۔ (مستدر کِ حاکم، رقم:۴۸۲۷۔ المعجم الکبیر: ۹۲۶)
حلیہ مبارک:
حضرت سیدنا حسین ؓ کا بدن مبارک حضرت رسولِ خدا ﷺکے بدن کے مشابہ تھا۔ (جامع الترمذی، رقم:۳۷۷۹۔ البدایۃ والنہایۃ، اسدالغابۃ)
پانچ مبارک شخصیات شامل:
حضرت حسین ؓ ’’خامس أہل الکساء‘‘ ہیں، یعنی ان پانچ مبارک شخصیات میں سے ہیں کہ آیتِ تطہیر اُترنے کے بعد جن کو رسول اللہﷺ نے آیتِ تطہیر کے مصداق میں داخل اور شامل فرمایا۔ (اسدالغابہ: ۱/۴۹۶)
فضائل و مناقب:
’’رسولِ اکرمﷺسے پوچھا گیا کہ آپ کو اہلِ بیت میں سے کس سے سب سے زیادہ محبت ہے؟ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ:
’’حسن ؓ و حسین ؓسے۔‘‘ (ترمذی: ۳۷۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ:
’’جناب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺکے سامنے باہم کشتی کا کھیل کھیل رہے تھے، اور نبی کریم ﷺفرمارہے تھے:
’’ حسن ؓ! شاباش! جلدی کرو۔‘‘
حضرت فاطمہ ؓ عرض کرنے لگیں:
’’ آپ حسن ؓ کو ہی کیوں شاباشیاں دے رہے ہیں؟‘‘
نبی کریمﷺنے فرمایا کہ:
’’حسین ؓ کو جبریل امین کہہ رہے ہیں کہ شاباش حسین ؓ! جلدی کرو۔‘‘ (اسدالغابہ: ۱/۵۴۹۷)
حضرت یعلیٰ بن مرۃ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :
’’حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں (لہٰذاحسین سے محبت مجھ سے محبت ہے اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے) اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو حسین سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: ۳۷۷۵)
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی:
’’الٰہ العالمین! جس طرح میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت رکھ، اور جو اِن دونوں کو محبوب رکھے، تو بھی اسے محبوب بنا لے۔‘‘(جامع الترمذی)
’’حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے کسی کام سے رسول اللہ ﷺ کے گھرکا دروازہ کھٹکھٹایا، چنانچہ رسول اللہ ﷺباہر تشریف لائے تو آپ نے کچھ اوڑھا ہوا تھا، معلوم نہیں کیا تھا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے جو آپ نے اُٹھا رکھا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہٹایا تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ ﷺکی پشت مبارک پر تھے، پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ:
’’یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، ا ے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو اِن دونوں سے محبت رکھے۔‘‘ (جامع الترمذی)
صحابہ کرام کی حضرات حسنین کریمین ؓ سے محبت:
حضرات صحابہ کرامؓ بھی خاندانِ نبوت کے ان شہزادوں پر جان چھڑکتے اور ان کا پورا خیال رکھتے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کی نسبت مجھے یہ بات کہیں زیادہ عزیز ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔‘‘(صحیح البخاری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں حیرہ علاقہ فتح ہوا تو ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر مالِ غنیمت میں آئی، آپ نے وہ چادر حضرت حسینؓ کو دی کہ شہزادے کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بدری اصحاب کے برابر دونوں بھائیوں کے وظائف مقرر کیے، دین نے جس چیز سے نہیں روکا اور اجازت دی، خلفاءثلاثہؓ نے اس مقدس گھرانے کے ایک ایک فرد بالخصوص ان شہزادوں کے ساتھ محبت ومودت ،جود وسخاوت میں انتہا کردی اور جس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا تو پھر اس مقدس گھرانے کے تقدُّس کو دھبہ لگنا بھی گوارا نہ کیا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یمن سے کپڑے آئے تو کوئی حسنین کریمینؓ کے ناپ کے مطابق پورا نہیں آیا، آپ غمگین ہوگئے اور فوراً ناپ یمن بھجوا کر نئے جوڑے تیار کروائے، اور جب انہوں نے پہنے تو فرمایا: ’’شکر ہے اس اللہ کا جس نے میرا دل ٹھنڈا کیا ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء)
حضرت یحییٰ بن سعید ؒ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت حسین ؓ کو فرمایا:
’’آپ کبھی ہمارے ہاں گھرتشریف لائیں !‘‘
چنانچہ کچھ عرصے بعدحضرت حسین ؓ حضرت عمر ؓ سے ملاقات کرنےاِن کے گھر تشریف لائے ۔ حضرت عمر ؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ :
’’حضرت عمر ؓ کسی کام میں مصروف ہیں مجھے بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ۔ ‘‘
یہ صورتحال دیکھ کر حضرت حسین ؓ ملاقات کیے بغیر ہی واپس تشریف لے گئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد حضرت عمر ؓ سے حضرت حسین ؓ کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا:
’’حسین ؓ!کیا بات ہے آپ ہمارے ہاں تشریف کیوں نہیں لائے؟ ‘‘
حضرت حسین ؓ سے فرمایا:
’’میں آپ سے ملنے آپ کے ہاں گیا تھا لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ آپ بہت مصروف تھے یہاں تک کہ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ ؓکو بھی آپ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی تو میں واپس آگیا ۔‘‘
حضرت عمر ؓ نے فرمایا :
’’کہاں میرا بیٹا عبداللہ اور کہاں آپ کا مقام و مرتبہ !یعنی جب آپ تشریف لائے تھے تو مجھے اطلاع بھیج دیتے میں اپنا کام موخر کر لیتا اور آپ سے ملاقات کرتا۔ اس کےبعد فرمایاکہ ہمیں جو عزت ملی ہے وہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ملی ہے۔‘‘(تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر ،ج: ۱۴، ص ۱۷۵)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک روز خطبہ دے رہے تھے تو حدیث پڑھ کر آپ نے دونوں صاحبزادوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ ان سے بھی محبت رکھے اور ان کے درجات پہچانے۔‘‘ (سیرۃ الخلفاءؓ)
شہادت:
آپ ؓ کی شہادت کا المناک اور دردناک واقعہ ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ بروز جمعہ میدان کربلا میں پیش آیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، اہلِ بیت ِ اطہار رضی اللہ عنہم اور خاندانِ نبوت کے تمام افراد کی محبت و اُلفت عطا فرمائے اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
نام و نسب:
آپ ؓ کا نام ’’حسین ؓ‘‘کنیت ’’ابو عبداللہ ‘‘ہے۔نبی کریمﷺ نے حضرت سیدنا حسین ؓ کو دو لقب ’’ سید شباب أہل الجنۃ‘‘ اور ’’ریحانۃ النبي‘‘ عطا فرمائے تھے۔(البدایۃ والنہایۃ: ۸/۱۶۰)
پیدائش سے قبل بشارت:
’’عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ رَأَیْتُ حُلْمًا مُنْکَرًا اللَّیْلَۃَ، قَالَ: مَا ہُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّہٗ شَدِیْدٌ، قَالَ: مَا ہُوَ؟ قَالَتْ: رَأَیْتُ کَأَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِيْ حِجْرِيْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَأَیْتِ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا، فَیَکُوْنُ فِيْ حِجْرِکِ، فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ فَکَانَ فِيْ حِجْرِيْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ یَوْمًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُہٗ فِيْ حِجْرِہٖ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّیْ الْتِفَاتَۃٌ، فَإِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُہْرِیْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّیْ مَا لَکَ؟ قَالَ: أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ أُمَّتِيْ سَتَقْتُلُ ابْنِيْ ہٰذَا فَقُلْتُ: ہٰذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَتَانِيْ بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔‘‘ (رقم الحدیث:۴۸۱۸)
’’حضرت عباس ؓ کی زوجہ حضرت ام فضل ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یارسول اللہ! رات میں نے عجیب خواب دیکھا ہے۔ آپﷺم نے دریافت کیا: کیسا خواب ہے؟ عرض کی: بہت سخت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہے وہ؟ عرض کی: میں نے دیکھا ہے کہ گویاآپ کے بدن کا کوئی ٹکڑا کٹ کر میری گود میں آگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تعبیر بیان فرمائی کہ تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ ؓ کے ہاں بچہ پیدا ہوگا، وہ تمہاری گود میں ہوگا (تم اُسے دودھ پلاؤ گی)، چنانچہ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کے ہاں حضرت سیدناحسین ؓ پیدا ہوئے، تو میری گود میں آئے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔ ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حسینؓ کو میں نے رسول اللہﷺ کی گو د میں ڈال دیا، رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے رواں تھیں۔ حضرت امِ فضل ؓ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کو کیا ہوا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے خبردی کہ میری اُمت میرے اس بیٹے کو شہید کردے گی۔ میں نے عرض کی: کیا یہ بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اور وہ میرے پاس اس کی (خون آلود) سرخ مٹی کا کچھ حصہ بھی لائے ہیں۔‘‘
حضرت حسین ؓ کا نام رکھنا،کان میں اذان دینا اور لعاب دہن کی گھٹی دینا:
خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ ؓ کی گود جب سبطِ رسول خوشبوئے نبوت سے مہکی تو رسولِ خدا ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لائے، اپنے نومولود نواسے کو اپنے دست ِمبارک میں اُٹھایا، گھٹی دی، لعابِ دہن منہ میں ڈالا اور خوب صورت نام ’’حسین‘‘ رکھا۔ (ابن کثیر: ۸/۱۶۰)
رسولِ اکرمﷺ نے آپ ؓ کے کان میں اذان دی اور ساتویں روز عقیقہ فرمایا۔ (مستدر کِ حاکم، رقم:۴۸۲۷۔ المعجم الکبیر: ۹۲۶)
حلیہ مبارک:
حضرت سیدنا حسین ؓ کا بدن مبارک حضرت رسولِ خدا ﷺکے بدن کے مشابہ تھا۔ (جامع الترمذی، رقم:۳۷۷۹۔ البدایۃ والنہایۃ، اسدالغابۃ)
پانچ مبارک شخصیات شامل:
حضرت حسین ؓ ’’خامس أہل الکساء‘‘ ہیں، یعنی ان پانچ مبارک شخصیات میں سے ہیں کہ آیتِ تطہیر اُترنے کے بعد جن کو رسول اللہﷺ نے آیتِ تطہیر کے مصداق میں داخل اور شامل فرمایا۔ (اسدالغابہ: ۱/۴۹۶)
فضائل و مناقب:
’’رسولِ اکرمﷺسے پوچھا گیا کہ آپ کو اہلِ بیت میں سے کس سے سب سے زیادہ محبت ہے؟ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ:
’’حسن ؓ و حسین ؓسے۔‘‘ (ترمذی: ۳۷۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ:
’’جناب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺکے سامنے باہم کشتی کا کھیل کھیل رہے تھے، اور نبی کریم ﷺفرمارہے تھے:
’’ حسن ؓ! شاباش! جلدی کرو۔‘‘
حضرت فاطمہ ؓ عرض کرنے لگیں:
’’ آپ حسن ؓ کو ہی کیوں شاباشیاں دے رہے ہیں؟‘‘
نبی کریمﷺنے فرمایا کہ:
’’حسین ؓ کو جبریل امین کہہ رہے ہیں کہ شاباش حسین ؓ! جلدی کرو۔‘‘ (اسدالغابہ: ۱/۵۴۹۷)
حضرت یعلیٰ بن مرۃ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :
’’حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں (لہٰذاحسین سے محبت مجھ سے محبت ہے اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے) اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو حسین سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: ۳۷۷۵)
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی:
’’الٰہ العالمین! جس طرح میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت رکھ، اور جو اِن دونوں کو محبوب رکھے، تو بھی اسے محبوب بنا لے۔‘‘(جامع الترمذی)
’’حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے کسی کام سے رسول اللہ ﷺ کے گھرکا دروازہ کھٹکھٹایا، چنانچہ رسول اللہ ﷺباہر تشریف لائے تو آپ نے کچھ اوڑھا ہوا تھا، معلوم نہیں کیا تھا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے جو آپ نے اُٹھا رکھا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہٹایا تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ ﷺکی پشت مبارک پر تھے، پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ:
’’یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، ا ے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو اِن دونوں سے محبت رکھے۔‘‘ (جامع الترمذی)
صحابہ کرام کی حضرات حسنین کریمین ؓ سے محبت:
حضرات صحابہ کرامؓ بھی خاندانِ نبوت کے ان شہزادوں پر جان چھڑکتے اور ان کا پورا خیال رکھتے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کی نسبت مجھے یہ بات کہیں زیادہ عزیز ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔‘‘(صحیح البخاری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں حیرہ علاقہ فتح ہوا تو ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر مالِ غنیمت میں آئی، آپ نے وہ چادر حضرت حسینؓ کو دی کہ شہزادے کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بدری اصحاب کے برابر دونوں بھائیوں کے وظائف مقرر کیے، دین نے جس چیز سے نہیں روکا اور اجازت دی، خلفاءثلاثہؓ نے اس مقدس گھرانے کے ایک ایک فرد بالخصوص ان شہزادوں کے ساتھ محبت ومودت ،جود وسخاوت میں انتہا کردی اور جس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا تو پھر اس مقدس گھرانے کے تقدُّس کو دھبہ لگنا بھی گوارا نہ کیا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یمن سے کپڑے آئے تو کوئی حسنین کریمینؓ کے ناپ کے مطابق پورا نہیں آیا، آپ غمگین ہوگئے اور فوراً ناپ یمن بھجوا کر نئے جوڑے تیار کروائے، اور جب انہوں نے پہنے تو فرمایا: ’’شکر ہے اس اللہ کا جس نے میرا دل ٹھنڈا کیا ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء)
حضرت یحییٰ بن سعید ؒ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت حسین ؓ کو فرمایا:
’’آپ کبھی ہمارے ہاں گھرتشریف لائیں !‘‘
چنانچہ کچھ عرصے بعدحضرت حسین ؓ حضرت عمر ؓ سے ملاقات کرنےاِن کے گھر تشریف لائے ۔ حضرت عمر ؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ :
’’حضرت عمر ؓ کسی کام میں مصروف ہیں مجھے بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ۔ ‘‘
یہ صورتحال دیکھ کر حضرت حسین ؓ ملاقات کیے بغیر ہی واپس تشریف لے گئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد حضرت عمر ؓ سے حضرت حسین ؓ کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا:
’’حسین ؓ!کیا بات ہے آپ ہمارے ہاں تشریف کیوں نہیں لائے؟ ‘‘
حضرت حسین ؓ سے فرمایا:
’’میں آپ سے ملنے آپ کے ہاں گیا تھا لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ آپ بہت مصروف تھے یہاں تک کہ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ ؓکو بھی آپ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی تو میں واپس آگیا ۔‘‘
حضرت عمر ؓ نے فرمایا :
’’کہاں میرا بیٹا عبداللہ اور کہاں آپ کا مقام و مرتبہ !یعنی جب آپ تشریف لائے تھے تو مجھے اطلاع بھیج دیتے میں اپنا کام موخر کر لیتا اور آپ سے ملاقات کرتا۔ اس کےبعد فرمایاکہ ہمیں جو عزت ملی ہے وہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ملی ہے۔‘‘(تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر ،ج: ۱۴، ص ۱۷۵)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک روز خطبہ دے رہے تھے تو حدیث پڑھ کر آپ نے دونوں صاحبزادوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ ان سے بھی محبت رکھے اور ان کے درجات پہچانے۔‘‘ (سیرۃ الخلفاءؓ)
شہادت:
آپ ؓ کی شہادت کا المناک اور دردناک واقعہ ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ بروز جمعہ میدان کربلا میں پیش آیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، اہلِ بیت ِ اطہار رضی اللہ عنہم اور خاندانِ نبوت کے تمام افراد کی محبت و اُلفت عطا فرمائے اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Last edited: