ایمان کا ISO: صرف صحابہؓ کا ماڈل
جب دنیا کا ہر نظام معیار مانگتا ہے، تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ رب کا نظام بے معیار ہو؟
کیا آپ نے کبھی ISO کا نام سنا ہے؟
جی ہاں، وہی ادارہ جو دنیا بھر میں ہر چیز کے معیار (Standard) کو جانچتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس کے معیار پر پوری نہ اترے، تو وہ مسترد (Reject) ہو جاتی ہے۔
دنیا میں ہر چیز کا ایک معیار (Standard) ہوتا ہے۔ آپ ایک پنکھا، دوائی، موبائل یا فوڈ پروڈکٹ تک لے لیں، ہر ایک کے لیے ISO جیسے ادارے اصول طے کرتے ہیں:
• کون سی چیز قابلِ قبول (Acceptable) ہے؟
• کیا اس کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہے؟
• اگر نہیں، تو مسترد (Reject) کر دی جاتی ہے۔
یہی چیز جب ایمان کی بات آتی ہے، تو ہم سمجھتے ہیں: "دل صاف ہو، بس کافی ہے"۔ لیکن کیا یہ واقعتًا کافی ہو سکتا ہے؟
اگر کوئی کار کمپنی ISO معیار پر گاڑی نہ بنائے، تو وہ سڑک پر چلانے کے قابل نہیں سمجھی جاتی۔ کیوں؟ کیونکہ ایک چھوٹی سی فنی خرابی بھی جان لے سکتی ہے۔ اب سوچیے: جس دل میں ایمان کی "ڈرائیونگ فورس" ہو، اگر وہ غیرمعیاری ہو تو وہ انسان زندگی کے حادثوں میں کیسے بچے گا؟
ادویات اگر GMP/ISO کے معیار پر پوری نہ اترے، تو مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی ریجیکٹ کر دی جاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ انسانی جسم پر اثر مہلک ہو سکتا ہے۔ ایمان بھی ایک دوا ہے۔۔۔ روح کی دوا۔۔۔ اگر اس میں خرافات، بدعات، نیتوں کی ملاوٹ ہو… تو روح کی صحت برقرار رہے گی؟
اگر کوئی عمارت تعمیراتی ضوابط کے بغیر بنے، تو زلزلے میں سب سے پہلے وہ گرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کی بنیاد ہی کمزور ہوتی ہے۔ ایمان وہی عمارت ہے جس پر پوری زندگی کھڑی ہے۔ اگر وہ ایمان، صحابہؓ کے معیار پر نہ ہو تو آزمائشوں کا زلزلہ اسے گرا دے گا۔
ایک چمکدار پیکنگ والا بسکٹ اگر ISO Food Safety پر پورا نہ اترتا ہو، تو وہ باہر سے خوبصورت مگر اندر سے زہر ہو سکتا ہے۔ آج ہم ایمان کی "پیکنگ" میں خوشنما باتیں، خیرات، نعتیں، رسوم، جذبات رکھتے ہیں۔۔۔ مگر اندر ایمانِ صحابہ جیسا خالص یقین، توکل، اطاعت ہے؟
اگر کوئی سافٹ ویئر ISO یا industry standard protocols کے مطابق نہ ہو تو، وہ ڈیوائس پر crash کر جاتا ہے۔ اب ایمان کی ایپ، قرآن و سنت کے سسٹم پر compatible ہے یا کسی اور influence پر؟ اگر ہم اسے صحابہ کے سسٹم پر نہیں چلاتے، تو وہ "کریش" کر جائے گا۔۔۔ دنیا میں بھی، قبر میں بھی۔
جب دنیا کا ہر نظام معیار مانگتا ہے، تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ رب کا نظام بے معیار ہو؟
دنیا کہتی ہے: جو معیار پر نہ ہو اسے reject کرو۔
قرآن کہتا ہے:
"فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا"
یعنی: ایمان وہی "accept" ہوگا، جو "ایمانِ صحابہ" کے ISO پر پورا اُترے گا۔
کیوں صرف ایمانِ صحابہؓ۔۔۔؟ ایمان کا ISO کوئی بھی نہیں، بلکہ یہی کیوں؟
ایک تقابلی جائزہ دیکھتے ہی:1. اصل منظوری (Original Certification)
جب کوئی چیز ISO سرٹیفائی کی جاتی ہے، تو وہ پہلی بار خود ادارہ جا کر اپنی منظوری لیتے ہیں۔ بعد میں سب اسی کے مطابق بنتے ہیں۔
صحابہ وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے: ایمان رسولؐ سے سیکھا، قرآن خود رسولؐ کی زبان سے سنا، زندگی میں وحی اُترتے دیکھی، خود نبیؐ نے ان کے ایمان کو سراہا ("خَیْرُ الْقُرُونِ قَرْنِی")۔ وہ Directly Certified تھے۔ لہٰذا بعد والوں کے لیے وہی ایمان "Approved Standard" بن گیا۔
2. اصلی مینول صرف ان کے پاس تھا
دنیا میں کوئی بھی پروڈکٹ اگر مینول کے مطابق نہ چلے، تو مشین خراب ہو جاتی ہے۔
قرآن و سنت کا اصل "Manual" عملی طور پر سب سے پہلے صحابہ نے استعمال کیا۔ ان کی زندگیاں قرآن کی عملی تشریح بن گئیں۔ لہٰذا اگر ہم ایمان کے کسی "متبادل طریقے" سے چلیں، بغیر اس عملی مینول کو فالو کیے، تو نتیجہ غلط ہوگا۔
3. وہ نہ صرف سیکھنے والے تھے، بلکہ Approved Testers بھی
دنیا میں جب کوئی معیار قائم ہوتا ہے تو پہلے کچھ "test subjects" پر وہ apply کیا جاتا ہے۔
ایمان کی آزمائشیں بدر، احد، ہجرت، فاقے، تکلیفیں، سب سے پہلے صحابہ پر آئیں۔ وہ فیل نہیں ہوئے، پاس ہوئے۔ یعنی ایمان کا "Crash Test" انہی پر ہوا اور وہ کامیاب ماڈل بنے۔
4. قیامت تک کیلئے مستند ریفرنس ماڈل
دنیا میں جب کوئی International Standard بن جاتا ہے، تو پوری دنیا اُسی کو مانتی ہے کوئی نیا نہیں بناتا۔
ایمان کے باب میں "ایمانِ صحابہؓ" وہ ریفرنس ماڈل ہے، جسے خود اللہ نے ہدایت کی سند دی:
"فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا"
اس کے بعد کوئی نیا ماڈل، نئی تشریح، نیا راستہ۔۔۔ قابلِ قبول نہیں۔
5. بے آمیزش خالص ورژن
دنیا میں Pure Product کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ adulteration ناقابلِ قبول!
ایمانِ صحابہ خالص تھا: ریاکاری سے پاک، ذاتی مفاد سے پاک، بدعات و خرافات سے خالی، صرف اللہ اور رسول کی رضا پر مبنی۔ بعد کے ادوار میں ایمان میں رسم، فرقہ، فلسفہ، سیاست، عقلیت پسندی کی آمیزشیں ہوئیں، اس لیے صرف "ایمانِ صحابہؓ" خالص اور قابلِ اعتماد رہ گیا۔
نتیجہ:
دنیا کا قانون ہے:
"Unapproved model = Reject"
قرآن کا قانون ہے:
"صحابہ جیسا ایمان = Only Approved Model"
تو سوال یہ ہے: کیا ہمارا ایمان Approved ہے۔۔۔ یا صرف Attractive؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دل کی صفائی کو کافی سمجھ بیٹھے، مگر وہ "مینول" ہی نہ دیکھا جس پر اصل Approval ملتا ہے؟
چمکدار الفاظ، خوبصورت جذبات، نعتوں کی دھنیں، رسوم کی رونقیں۔۔۔ کیا ان سب کے پیچھے وہی یقین، اطاعت، قربانی، اور توکل ہے جس نے صحابہ کو Approved بنایا؟
آئیے! ایک لمحے کو رُکیں۔۔۔ اور اپنا دل ایمان کے Scanning Device پر رکھیں:
کیا یہ قرآن و سنت کے ساتھ compatible ہے؟ کیا یہ صحابہؓ کے ورژن سے match کرتا ہے؟
اگر ہاں۔۔۔ تو مبارک ہو!
اگر نہیں۔۔۔ تو وقت ہے خود کو ری ڈیزائن کرنے کا۔
کیونکہ آخرت کی فیکٹری میں صرف Approved ایمان ہی قبول کیا جائے گا۔ ایمان کا ISO صرف ایک ہے۔۔۔ اور وہ ہے: ایمانِ صحابہؓ