تخلیقِ کائنات کیسے ہوئی ؟ (اسلام اور سائنس کی نظر میں)

طارق راحیل

وفقہ اللہ
رکن
تخلیق سے پہلے کی حالت: وہ لمحہ کیسا تھا؟ نہ کوئی کائنات تھی، نہ سورج، نہ چاند، نہ ستارے، نہ آسمان، نہ زمین۔ نہ قلم تھا، نہ لوح، نہ فرشتہ، نہ جن، نہ انسان۔ نہ وقت تھا، نہ مکان، نہ صبح، نہ شام۔ بس "وہ" تھا… اللہ، وحدہٗ لا شریک۔ نہ اُس کا آغاز ہے، نہ انجام۔ نہ وہ پیدا کیا گیا، نہ پیدا ہوتا ہے۔ نہ وہ زمانے کے تابع ہے، نہ جگہ کا محتاج۔ قرآن میں فرمایا گیا: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ "وہی اوّل ہے، وہی آخر، وہی ظاہر ہے، وہی باطن — اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔" (سورۃ الحدید:3)

جب وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا آج ہم جس وقت کو "گھنٹوں، دنوں، اور سالوں" میں ناپتے ہیں، وہ اس لمحے موجود ہی نہیں تھا۔ "وقت" خود اللہ کی مخلوق ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ وقت اور مکان "اسپیس-ٹائم فیبرک" (Space-Time Fabric) کا حصہ ہیں — اور جب کچھ نہیں تھا، تو یہ بھی نہیں تھے۔ اس سے قبل اللہ کا "ہونا" ایسا ہے جسے عقل پُورا نہیں پا سکتی، کیونکہ وہ خالق العقل ہے، اور عقل مخلوق۔ "کُن فَیَکُون" — بس ایک حکم جب اللہ نے چاہا کہ تخلیق ہو — تو بس چاہا۔ نہ کوئی مشقت، نہ خام مواد، نہ آلہ۔ بس ایک ارادہ، اور ایک کلمہ: "كُنْ فَيَكُونُ" "ہو جا " — پس وہ ہو گیا یہ قرآن میں کئی جگہ آیا: "إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ" (سورۃ آل عمران:47) یہ "کُن" کوئی لفظی آواز نہیں تھی، کیونکہ اُس وقت الفاظ بھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی تخلیقی طاقت کا مظہر ہے، جو چاہے تو عدم سے وجود پیدا کر دے۔

نورِ محمد ﷺ – پہلی تخلیق؟ اہلِ تصوف اور بہت سی روایات کے مطابق، اللہ نے سب سے پہلے "نورِ محمدی ﷺ" کو پیدا فرمایا۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے، جو کثرت سے نقل کی جاتی ہے: "اے جابر! اللہ نے سب سے پہلے تمہارے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔" یہ روایت اگرچہ حدیث کی سخت روایتوں میں نہیں آتی، مگر علمائے باطن اور مشائخِ طریقت اسے روحانی حقیقت مانتے ہیں۔ یہ نور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کا اصل ہے، جو تخلیق کے تمام مظاہر سے پہلے اللہ کی تجلی کا پہلا جلوہ تھا۔ اسی لیے اللہ نے قرآن میں فرمایا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ" (سورۃ الانبیاء:107) جب دنیا ہی پیدا نہیں ہوئی تھی، تب رحمت کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اور یہ رحمت تھی نورِ محمد ﷺ۔

پھر لوح، قلم اور عرش: پھر اللہ نے اپنے امر سے سب سے پہلے ایک عظیم الشان مخلوق پیدا کی: القلم (قلم) جی ہاں، جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ علم کا ذریعہ تھی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے: "اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ القَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اُكْتُبْ. قَالَ: وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اُكْتُبْ مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" (صحیح مسلم) یعنی: "اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اور فرمایا: لکھ! قلم نے پوچھا: کیا لکھوں؟ فرمایا: جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے، سب لکھ دو۔" قلم نے جو لکھا، وہ لکھا گیا "لوحِ محفوظ" پر — ایک ایسی تختی جو اللہ کے علم کا آئینہ ہے، جس میں ہر شے کا نقش ہے۔ "بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ * فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ"(سورۃ البروج:21–22) لوحِ محفوظ اللہ کے علم، اس کی مشیّت، اور تخلیق کے نقشے کا اصل مظہر ہے۔

عرش کی تخلیق اور پانی کا وجود: جب تخلیق کی ابتدا ہوئی، سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا پھر لوحِ محفوظ اور اس کے بعد وہ عظیم الشان مخلوق… جسے قرآن میں کہا گیا: "وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ" "اور اس کا عرش پانی پر تھا۔" (سورۃ ہود: 7) اللہ نے پیدا کیا "عرش" کو ایک ایسا عظیم الشان تخت، جسے نور سے تخلیق کیا گیا۔ قرآن میں آیا:"وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ" "اور اُس کا عرش پانی پر تھا"(سورۃ ہود:7) یعنی عرش کی تخلیق کے وقت پانی بھی موجود تھا، اور اللہ کی حاکمیت، اس کے علم اور تدبیر کی علامت "عرش " پانی پر قائم تھی۔ یہ پانی کوئی زمینی پانی نہیں، بلکہ ازلی مائع، جو تخلیق کا بنیادی جزو بنا، جس کے بارے میں فرمایا: "وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ" (سورۃ الانبیاء:30) پانی وہ "جوہرِ اول" ہے جس سے آگے مادی تخلیق کا سفر شروع ہوتا ہے۔عرش اللہ تعالیٰ کا تختِ اقتدار، نہ وہ تخت لکڑی کا، نہ کوئی فزیکل چیئر — بلکہ ایک ماورائی مقام جو تدبیرِ کائنات کا مرکز ہے۔ جبکہ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ "سب سے پہلے عرش کو پیدا کیا گیا، پھر قلم، پھر لوحِ محفوظ۔" (ترمذی)

سائنس؟ عرش کو "Cosmic Command Center" مانا جا سکتا ہے — جیسے ہر کہکشاں کا ایک کششی مرکز ہوتا ہے، عرش تمام وجود کی روحانی مرکزیت ہے۔

کرسی: علم کا احاطہ: "وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ" "اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 255)علماء کہتے ہیں: کرسی، عرش کے نیچے ہے۔اور علم اور حکم کی علامت ہے۔

سائنس کی زبان میں یہ وہ نظام ہو سکتا ہے جسے ہم Cosmic Background Matrix کہہ سکتے ہیں، یعنی وہ غیر مرئی لیکن مؤثر "فریم ورک" جس پر کائنات کا ہر قانون رواں ہے۔

فرشتوں کی تخلیق، عرش بردار ملائکہ: پھر اللہ نے ملائکہ پیدا کیے — نورانی، پاکیزہ، اطاعت گزار۔ ان میں سے کچھ کو بنایا گیا عرش کو اٹھانے والے — فرشتے جنہیں "حملة العرش" کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے جلیل القدر، سب سے قریب، سب سے بزرگ — حضرت جبریل علیہ السلام۔ اور پھر… کائنات کی تخلیق کا آغاز ہوا عرش، قلم، لوح، نورِ محمد، فرشتے، پانی — سب تیار تھے۔ اب تخلیق کا جلال اپنا جلوہ دکھانے والا تھا۔ اللہ نے کہا: "كُن" اور پھر ستارے چمکے، کہکشائیں بنیں، زمینیں ابھریں، سورج، چاند، سیارے نمودار ہوئے۔ یہ الگ باب ہے۔ مگر یہ سب اسی پہلے لمحے کے فیض سے تھا… جہاں کچھ بھی نہ تھا، مگر وہ تھا۔

ایک لمحہ، جو ابدیت کا راز ہے ہم وقت میں رہتے ہیں، اور وقت کی دیوار سے پرے دیکھ نہیں سکتے۔ مگر یہ لمحہ جو تخلیق سے پہلے تھا، وہ ہماری ہر حقیقت، ہر موجودگی کی بنیاد ہے۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ: "أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ؟" کیا وہ آسمان کو نہیں دیکھتے، کیسے اسے بلند کیا گیا؟ ہمیں جاننے کی اجازت نہیں، مگر اتنا ضرور دیا گیا ہے: اللہ نے سب کچھ "کُن" سے پیدا کیا، اور اس تخلیق کے دل میں رکھا نورِ محمد ﷺ، قلم سے لکھوایا، لوح پر نقش کروایا، اور پانی پر اپنا عرش بٹھایا۔ یہ وہ راز ہے، جو صرف اہلِ دل پر کھلتا ہے…

وقت کا بہاؤ — اللہ کی تخلیق کا نقشہ: سائنس کہتی ہے کہ وقت کی رفتار بھی کائناتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے: "وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ" "تمہارے رب کے ہاں ایک دن تمہارے گنے گئے ہزار سالوں کے برابر ہے۔"(سورۃ الحج: 47) یعنی اللہ نے وقت کو نسبتی (Relative) بنایا — جو Einstein کی Theory of Relativity سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔

ایک کائنات — ایک ارادہ اللہ تعالیٰ کا صرف ایک ارادہ — "کُن" — اور ایک پوری کائنات، ایک بے کنار وجود، ایک کہکشانی رقص وجود میں آیا۔ اس پوری تخلیق میں نہ کہیں کوئی بے ترتیبی ہے، نہ کوئی خلا۔ ہر شے کو اندازے، مقدار، اور حکمت کے ساتھ رکھا گیا۔ "اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ" (اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی ویسے ہی)

اگر آپ کائنات کو غور سے دیکھیں: تو ہر نیبولا، ہر ستارہ، ہر ایٹم… آہستہ سے آپ کو یہ کہتا ہے: "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"

کائنات کا آغاز: داستانِ آغازِ کائنات – جب پردے چاک ہوئے عرش موجود تھا، لوح محفوظ پر سب کچھ لکھا جا چکا تھا۔ پانی، نور، قلم، فرشتے، اور نورِ محمد ﷺ — سب خاموش گواہ تھے۔ پھر ایک لمحہ آیا جس میں اللہ نے چاہا کہ کائنات کا ظہور ہو، یعنی وہ دنیا، جس میں زمانہ چلے، جہاں مخلوق ہو، جہاں امتحان ہو — اور جہاں آخرت کا آغاز ہو۔

قرآن کا تصورِ آغاز — ایک آفاقی اعلان قرآن مجید نے ہمیں نہایت جلال اور عظمت کے ساتھ بتایا: "أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا" کیا وہ جنہوں نے کفر کیا، نہیں دیکھتے کہ آسمان و زمین ایک اکائی (رتق) تھے، تو ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کیا۔)سورۃ الانبیاء: 30( یہ آیت ایک حیرت انگیز حقیقت بیان کر رہی ہے: کائنات کبھی ایک واحد، مربوط اکائی تھی۔ پھر اللہ نے اُس میں ایک عظیم “ فتق)”پھاڑ) پیدا کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے آج کی سائنس کہتی ہے: Big Bangعظیم دھماکہ، جس نے سب کچھ پیدا کیا۔

سائنس کا بیان: بگ بینگ اور وقت کا آغاز: آج سائنسدان کہتے ہیں:تقریباً 13.8 ارب سال پہلے، کائنات ایک انتہائی کثیف، گرم اور سکڑی ہوئی حالت میں موجود تھی —جسے ہم کہتے ہیں(Singularity)نقطۂ واحد۔ نہ وقت تھا، نہ فضا، نہ مادّہ، نہ توانائی۔ بس ایک ناقابلِ فہم، بے حد گرم اکائی — جو اچانک ایک "انفجار" سے پھٹی… اور یوں کائنات کی ولادت ہوئی۔ یعنی: وقت وجود میں آیا مکان پیدا ہوا مادّہ اور توانائی کی تخلیق ہوئی بالکل ویسا ہی جیسا قرآن کہتا ہے: "فَفَتَقْنَاهُمَا" ہم نے انہیں پھاڑ کر الگ کیا"

کیا قرآن بگ بینگ سے مطابقت رکھتا ہے؟ یہاں عقل حیران ہوتی ہے۔ چودہ سو سال پہلے، ایک امیّ نبی ﷺ، جو کسی لیبارٹری میں نہ گیا، نہ کوئی سائنسی تعلیم پائی — مگر قرآن میں وہ کچھ بتاتا ہے جسے آج کی فلکیاتی سائنس (Cosmology) اپنے جدید ترین آلات سے جان پا رہی ہے! "رتق" کا مطلب ہوتا ہے: "بند، جُڑا ہوا، بغیر دراڑ کے" "فتق" کا مطلب ہے: "چاک کرنا، پھاڑنا، الگ کرنا" یعنی: رتق = Singularity فتق = Big Bang

Time، Space، Matter اور Energy کا آغاز: اب تصور کریں: اللہ نے جب "کُن" فرمایا، تو ایک ہی لمحے میں چار عظیم چیزیں پیدا ہوئیں:

Time وقت تاکہ واقعات کا تسلسل ممکن ہو 2- Space جگہ تاکہ کائنات کو وسعت ملے

3- Matter مادہ جس سے ستارے، سیارے، اور انسان بنیں 4- Energy توانائی جو ہر حرکت کی بنیاد ہے

یہ چاروں چیزیں بیک وقت ایک ہی نقطے سے ابھریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْيدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ" "اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا، اور ہم اسے پھیلانے والے ہیں۔" (سورۃ الذاریات: 47) یہاں "موسعون" کا مطلب ہے: پھیلانا اور یہی آج کی سائنس کہتی ہے کہ: کائنات آج بھی پھیل رہی ہے — یعنی Big Bang کے بعد بھی مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔ کوانٹم لمحہ — جب سب کچھ "کوانٹم جھلک" تھا سائنس کہتی ہے، بگ بینگ کے فوراً بعد 10⁻³⁵ سیکنڈ کے اندر ایک مرحلہ آیا — جسے کہتے ہیں: Quantum Inflation اتنے کم وقت میں، کائنات ایک ذرّے سے ہزاروں نوری سالوں تک پھیل گئی۔ نہ روشنی تھی، نہ آواز، صرف کوانٹم میدانوں کی جھلک۔ اور اُن میدانوں میں سب کچھ احتمال (probability) پر منحصر تھا۔

یہاں ایک نکتہ یاد رکھیے: اللہ کی تخلیق "بے ترتیب نہیں" — بلکہ اُس کا ہر حکم "اندازے سے" ہے۔ قرآن کہتا ہے: "إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ" "بے شک ہم نے ہر چیز کو اندازے (قدر) سے پیدا کیا ہے۔"(سورۃ القمر: 49) یعنی وہ سارا کوانٹم انتشار — وہ بھی اللہ کے حکمت بھرے اندازے کے تحت تھا۔

ستارے، نیبولا، کہکشائیں: اب کائنات تھوڑی ٹھنڈی ہوئی۔ توانائی سے مادہ بنا۔ مادہ سے ایٹمز، ایٹمز سے گیسز، گیسز سے نیبولا (Nebula) — اور نیبولا سے ستارے، کہکشائیں، اور سیارے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کے مظاہر تھے۔ قرآن فرماتا ہے: "ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ" "پھر اُس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جب وہ دھواں تھا…"(سورۃ فصلت: 11)

سائنس کہتی ہے:ابتدائی کائنات میں واقعی ایک Cosmic Smoke (گیس کا دھواں) تھا — جس سے آگے کی تخلیق ہوئی۔

زمین کا فرش اور پہاڑوں کی میخیں — جیولوجی کی گواہی:

قرآن کہتا ہے: "وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا" "اور ہم نے زمین کو بچھایا۔" (سورۃ الذاریات: 48) اور "وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا" "اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔" (سورۃ النبأ: 7)

یہ الفاظ صرف شاعری نہیں — بلکہ ارضیاتی حقیقت ہیں۔ آج سائنس کہتی ہے:

زمین کی بیرونی سطح پلیٹوں میں تقسیم ہے (Tectonic Plates) - پہاڑ دراصل انہی پلیٹوں کے تصادم سے بنتے ہیں۔

پہاڑوں کی "جڑیں" بہت گہری ہوتی ہیں جیسے خیمے کی میخیں یہ وہی ہے جو قرآن نے چودہ سو سال پہلے کہا: پہاڑ زمین کو "روکنے" کے لیے بنائے گئے۔

کواکب، سیارے اور کونیاتی تنوع — قرآن اور سائنسی ہم آہنگی: قرآن کہتا ہے: "وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ""اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا۔" (سورۃ الملک: 5) یہ "مصابیح" (چراغ) وہی ستارے ہیں — سورج، نیوٹرون ستارے، سپرنووا اور "کواکب" وہ سیارے ہیں جو روشنی نہیں دیتے، مگر گھومتے ہیں۔ قرآن کی تفصیل: "کواکب" = Planets - "مصابیح" = Stars - "زُحل" = Rings - "رجوم للشیاطین" = شہاب ثاقب

آج سائنس بتاتی ہے:

- ہر سیارہ، ستارہ، اور نیبولا ایک منظم کشش میں ہے - زمین اور اس جیسے سیارے Habitability Zone میں موجود ہیں

- ہر کہکشاں میں بلینز آف اسٹارز ہیں - بلیک ہولز — انتہائی کشش والے مقام، جہاں روشنی بھی قید ہو جاتی ہے

اور قرآن فرماتا ہے:"لَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ" "اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔"(سورۃ البقرہ: 255)

بلیک ہولز — سیاہ دروازے جن کا ذکر قرآن میں؟: سائنس نے "بلیک ہولز" کو 20ویں صدی میں دریافت کیا۔ یہ ایسے مقامات ہیں جہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ: روشنی بھی واپس نہیں آ سکتی - وقت کی رفتار سست ہو جاتی ہے - مادہ کچلا جاتا ہے

قرآن کہتا ہے: "فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ""قسم ہے ان پیچھے ہٹنے والے، چھپنے والے، گھومنے والے (ستاروں) کی۔"(سورۃ التکویر: 15-16)

مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات متحرک مگر نظروں سے غائب اجسام کی طرف اشارہ کرتی ہیں — جیسے بلیک ہولز۔

آسمانی توازن: ایک نظم، ایک علم، ایک ارادہ: کائنات میں ہر چیز ایک نظم سے جڑی ہے۔ "وَوَضَعَ الْمِيزَانَ، أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ""اور اُس نے توازن قائم کیا، تاکہ تم توازن میں زیادتی نہ کرو۔"(سورۃ الرحمن: 7-8) ہر سیارہ، ہر ستارہ، ہر کہکشاں — سب اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔

زمین و آسمان کی تخلیق، انسان کے لیے نشانی آسمانوں کی تہیں، زمین کی پرتیں، پہاڑوں کی جڑیں، بلیک ہولز کی گہرائیاں — یہ سب ہمیں یہ بتاتے ہیں: کائنات خود نہیں بنی — یہ بنائی گئی ہے۔ اور بنانے والا وہ ہے جو "یَخْلُقُ مَا يَشَاءُ" — جو جو چاہے، ویسا بنا دیتا ہے۔

روشنی، اندھیرے اور وقت کا نظام: کائنات نو مولود تھی… ابھی ابھی تخلیق کے بگ بینگ کی گونج ختم ہوئی تھی۔ ہر طرف شدید توانائی، حرارت اور روشنی کی ہلچل تھی۔ وقت ابھی بھی ایک نیا مظہر تھا — بغیر گھڑیوں کے، بغیر کیلنڈر کے، صرف اللہ کی طرف سے جاری ہونے والا ایک بہاؤ… جسے کوئی نہ روک سکتا تھا، نہ لوٹا سکتا تھا۔ زمین اپنی جگہ پر گردش میں آ چکی تھی، اور سورج کی روشنی جب اس کے ایک طرف پڑتی، تو وہاں دن بنتا۔ جب وہ پہلو پیچھے ہٹتا، تو رات اپنے گہرے آنچل سے زمین کو ڈھانپ لیتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ""ان کے لیے نشانی ہے رات، جس سے ہم دن کو الگ کر دیتے ہیں۔"(سورۃ یٰسین: 37) یوں دن اور رات ایک نظام بن گیا — معاشرت، عبادت، اور زندگی کی بنیاد۔

وقت کی پیمائش — مختلف عوالم، مختلف رفتار: فرشتے، جو نور سے بنے تھے، روشنی کی رفتار سے چلتے تھے، ان کا وقت زمین والوں کے وقت سے جدا تھا۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا: "تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ" ایک دن، جو پچاس ہزار سال کے برابر ہو سکتا ہے؟(سورۃ المعارج: 4) جی ہاں، یہ قرآن ہے… اور سائنس کہتی ہے: "Time is relative — time flows differently depending on gravity and speed."(آئن سٹائن) یہ قرآن و سائنس کی حیران کن مطابقت ہے۔

نباتات: زندگی کی سبز ابتدائیں: زمین اب تر ہو چکی تھی، بادلوں سے برسنے والی بارش نے مٹی کو نرم کیا، اور اللہ نے فرمایا: "أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا""اس نے تمہیں زمین سے ایک نبات کی طرح اگایا۔"(سورۃ نوح: 17) پہلے سبزہ، پھر درخت، پھر جنگلات… یہ پودے ہوا میں آکسیجن شامل کرتے گئے، اور زمین رہنے کے قابل بنتی گئی۔ فوٹوسینتھیسس (Photosynthesis) کا نظام وہ خفیہ معجزہ تھا جس سے آکسیجن پیدا ہوتی گئی — پودے دن میں روشنی لیتے، اور رات میں سانس لیتے ہیں بالکل انسان کی طرح۔

حیاتیاتی نظام کی تخلیق: اب زمین پر پانی، ہوا، اور روشنی موجود تھی —اللہ تعالیٰ نے اس میں "حیات" کے بیج بوئے۔ زمین میں: - کیڑے پیدا ہوئے - مچھلیاں پانی میں تیرنے لگیں - پرندے ہوا میں اُڑنے لگے - جانور میدانوں میں دوڑنے لگے - اور نظامِ فطرت (Eco-system) قائم ہوا

قرآن اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: "وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ" "اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔" (سورۃ النور: 45)

انسان کا ظہور: مٹی سے عقل تک کا سفر: زمین کی گہرائیوں میں، ایک خاص مٹی چنی گئی — گیلی، سیاہ، چپکنے والی…

اللہ نے فرمایا: "إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ" "میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔" (سورۃ ص: 71) پھر اللہ نے اس مٹی سے ایک پیکر بنایا… اور اس میں اپنی روح پھونکی:"فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي" (سورۃ الحجر: 29) اور یوں انسان پیدا ہوا — عقل رکھنے والا، شعور رکھنے والا، جو خود بھی وقت کو سمجھنے لگا، اور اپنے رب کو پکارنے لگا۔ اور یوں تخلیق مکمل ہوئی… ایک شروعات کے لیے وقت کا جنم ہو دن اور رات نے ترتیب پائی، زمین زندگی سے بھر گئی، پانی نے سب کچھ جوڑ دیا، اور انسان کو خلافت سونپی گئی۔ ایک مکمل نظام… ایک مکمل نظم… جہاں نہ کوئی چیز بے مقصد ہے، نہ کوئی لمحہ بے کار۔

جنت و جہنم، عرش و کرسی، اور فرشتوں کی تنظیم: کائنات ابھی اپنی ابتدا میں تھی —وقت کی سوئی ابھی ابتدا پر تھی، اور خلاء میں صرف ایک ہی آواز تھی: کُن… فَیَکُون اسی لمحے اللہ تعالیٰ نے دو متوازی حقائق تخلیق فرمائے: 1- ایک سراسر رحمت… 2- سراسر عدل… سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" "دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف، جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔ (سورۃ الحدید: 21)

جنت، اللہ کی صفاتِ جمال کا مظہر —ایک ایسی جگہ جہاں کبھی موت نہیں، نہ اندھیرا، نہ تھکن، نہ حسرت۔

دوزخ، اللہ کی صفاتِ جلال کا مظہر — ایک ایسا نظامِ عدل، جہاں ہر عمل کا وزن تولا جائے گا، اور انصاف ہر شے پر غالب ہوگا۔

"اللہ نے جنت کو پیدا کیا، اور فرمایا: 'میرے نیک بندے اس میں داخل ہوں گے' اور دوزخ کو پیدا کیا، اور فرمایا: 'سرکش اور گناہگار اس کا ایندھن ہوں گے۔'"

سائنس کا اشارہ: سائنس جنت و دوزخ کو فزیکل اسپیس میں نہیں مانتی، مگر Quantum Realms اور Multiverse Theory یہ قبول کرتی ہے کہ "Multiple layers of existence beyond observable reality" ممکن ہیں۔

نوری مخلوق یعنی فرشتوں کی تخلیق : پہلے نور کی پہچان تھی اللہ کا نور ہر وجود کو چھو چکا تھا۔ پھر اللہ نے ارادہ کیا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کرے، جو صرف و صرف نور سے بنے، جو پرسکون، اطاعت گزار، پاکیزہ ہوں — یہ تھے فرشتے (Angels)۔ قلم کو تخلیق کے فوراً بعد اس ارادے کی روشنی میں نورانی مخلوق وجود میں آئی۔ فرشتے نہ سوچتے، نہ نافرمان ہو سکتے، نہ ضد کر سکتے۔پوری کائنات میں جس طرح ہوائیں چلتی ہیں، اسی طرح فرشتوں کی سرسراہٹ کائنات کے دستور ہے۔ ہر فرشتہ اپنے منصب پر تھا: "وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا"(سورۃ الفجر: 22) یہ تنظیم ایک ایسی سپیرچوئل آرمی ہے جس کی اطاعت میں خلا کی گہرائیاں بھی لرزتی ہیں۔

- حاملِ عرش تھے عرش کو سنبھالنے والے - حافظہ فرشتے تھے جو ہر عمل لکھتے تھے - مکلف فرشتے تھے، جیسے جبریل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ""وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے، جو حکم دیا جائے وہی بجا لاتے ہیں۔" (سورۃ التحریم: 6) یعنی فرشتے ہر حکم اللہ پر بلا سوال لبیک کہتے ہیں۔

چار عظیم مقرب فرشتے:

1- جبریل علیہ السلام: وحی لانے والے اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا ہر پیغام، ہر صحیفہ، ہر آیت — جبریل کے ذریعے نازل ہوا۔ قرآن میں کئی بار ان کا ذکر ہے: "نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ" (سورۃ الشعراء: 193)

2- میکائیل علیہ السلام: رزق اور بارش کے نظام کے محافظ میکائیل، موسمی نظام، بارش، رزق کی تقسیم پر معمور ہیں۔ سائنس کہے تو وہ climate balance and biosphere regulation کی ماورائی فورس کے نگران۔

3- اسرافیل علیہ السلام: صور پھونکنے والے ابھی صور ان کے لبوں سے لگا ہوا ہے — بس حکمِ ربی کا انتظار ہے، اور ایک صور سے کائنات فنا ہو جائے گی۔

4- عزرائیل علیہ السلام: ملک الموت ہر روح کی روانگی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ نہ ایک لمحہ جلد، نہ دیر — یہ خاتمے کا نظام ہے، جس پر سائنس خاموش ہے، لیکن قرآن مکمل وضاحت دیتا ہے۔

ناری مخلوق یعنی جنات کی تخلیق : پھر اللہ نے ارادہ کیا کہ ایک اور مخلوق ہو —جو نہ نور سے، نہ مٹی سے، بلکہ آگ سے بنے — یہ تھی جنات کی تخلیق۔

سورۃ الحجر کی آیت میں ہے: "وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ" —"اور اس نے جنّات کو آگ کے جھونکوں (مارج) سے پیدا کیا" جنات کو آزاد مشیّت دی گئی — وہ فرشتوں کی طرح نہیں تھے، نہ انسان کی طرح عاجز تھے، بلکہ ان میں سے بعض ہدایت یافتہ، بعض ضلالت میں۔ ایک واحد جِنّ جو نافرمانی کا مظاہرہ ہوا — وہ تھا ابلیس، جس نے اللہ کے حکم سے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔

قرآن و سائنسی زاویہ: توانائی، شعور اور شعوری مخلوقات: اب سائنس بتاتی ہے کہ: توانائی (Energy) ہر وجود کی بنیاد ہے، Matter مادہ) توانائی سے بنتا ہے) مگر شعور (Consciousness) وہ راز ہے جس کا کوئی فزیکل فارمولا نہیں۔

فرشتے نورانی توانائی کے حامل تھے — مگر وہ بھی شعوری تھے، مخلوق تھے، اللہ کے حکم کے پابند تھے۔ جنات بھی توانائی کی ایک شکل تھے — بلاشبہ کچھ توانائیوں میں شعور کا عنصر ہوتا ہے، اور وہ شعور ان کی آزادی کا منبع تھا — جیسے ہمارے اندر شعور موجود ہے۔ یہ مجموعی طور پر قرآن کی حقیقت ہے: - نور - آگ - توانائی - شعور یہ چاروں عناصر تخلیق کیے گئے، تاکہ مخلوق و خالق کے درمیان اتصال قائم ہو۔

جنات کی تاریخ اور زمین پر خلافت: مخلوقاتِ اولیٰ کے بعد: جنات کی تاریخ اور زمین پر ان کا خلافت کا سفر ابتدائے تعمیر جب زمین پہلی بار آباد ہوئی

جو وقت قرآن نے "خلیفة" کے اظہار سے بیان کیا، اس وقت اللہ کی کائناتی مشیّت پوری تخلیق کو حرکت دیتی ہے: "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (سورۃ البقرہ:30) اس سوال کے جواب میں فرشتوں نے شک ظاہر کیا کہ: "کیا وہ مخلوق جو فسادی ہے اور خون بہائے گی، یہاں لائے جا رہی ہے؟" — اسی وقت اللہ نے فرمایا: "إِنَّنِي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ" اس بیان کی تفسیر میں ابن عباس فرماتے ہیں کہ: "جنات پہلے زمین پر تھیں، تقریباً 2 ہزار سال کے عرصے میں انہوں نے فساد کیا، خون بہایا، قتل کیا۔ پھر اللہ نے ملائکہ کی ایک فوج جنابِ ابلیس کی قیادت میں بھیجی، جنات کو جزائر، پہاڑوں میں دھکیل دیا، پھر آدم علیہ السلام کو زمین پر اس کی خلافت کے لیے بٹھایا۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ زمین انسان سے پہلے خالی نہ تھی بلکہ ایک خاص مخلوق — یعنی جنات — اس پر حکومت کرتی تھی تفصیل اس طرح ہے:

جنات کی زمین پر حکمرانی: جنات عالمِ بروزی (surface world) پر رہتے، طاقتور تھے، آزاد مشیّت کے مالک تھے، اور زمین کی قدرتی حالت کے عادی تھے۔ وہ اپنی روش و رسوم کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔ کچھ عبادت گزار، مگر اکثر نے غرور کے سایے میں فساد برپا کر دیا۔ یہ شیطانی انقلاب تھا جو زمین پر کروڑوں سال پہلے رونما ہوا۔

فساد انگیزی اور تباہی: وقت کے ساتھ جنات کے اندر عدل و رحم کا معیار تحلیل ہوا؛ قتل و غارت، خون ریزی، انصاف کا ماتم، آہستہ آہستہ زمین پر ظلم بڑھتا گیا۔ ابلیس (جو خود بھی جنات میں سے تھا) علم و تقویٰ میں ممتاز تھا، یقیناً اسی لئے اسے بلند مقام دیا گیا، مگر اس نے غرور کے روگ میں مبتلا ہو کر آواز اٹھائی: "میں آگ سے ہوں، آدم مٹی سے — میں کس طرح اسے سجدہ کروں؟" یوں اس نے اپنی مشقت خود کی— اور فساد میں شامل ہوا۔ قرآن نے وصیت کے ذریعے پیغام دیا: یہ زمین کبھی اللہ کی بندگی کی جگہ تھی —مگر اب فساد عظیم ہوا، لہٰذا نیا نظام، نیا انسان، نیا خلیفہ آنے والا ہے۔

ملائکہ کی زمینی مداخلت: پھر اللہ نے ایک تاریخ ساز قدم اٹھایا: ایک قوت بر Allah’s command زمین پر بھیجی گئی — جِنٌ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ فرشتوں کی فوج، ابلیس کی قیادت میں، جنات کے خلاف نبضِ عدالت چلا دی۔ یہ فوج جنات کی طاقت کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی، انہیں جزائرِ سمندر یا پہاڑوں کے کناروں تک دھکیل دیا گیا — وہ زمین کے وسط سے نکال دیے گئے — اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً" آدم علیہ السلام کو زمین پر نیا خلیفہ مقرر کیا گیا۔

زمین پر نیا نسخہ: انسان کی خلافت: اب زمین پر انسان کو بھیجا گیا — ایک ایسی مخلوق، جسے اللہ نے عقل، شعور، اور رب کی اطاعت کی قابلیت دی۔ اس طرح سے ایک مربوط کائناتی منصوبہ شروع ہوا: زمین پر فساد کرنے والے جنات کو محدود کیا گیا انسان کو علم و عبادت سے زمین کی تعمیر کا مینڈیٹ ملا انبیاء، شریعتیں، and divine order کے ذریعے ایک منظم جنتی زندگی کا بیج بویا گیا جنات کے فلسفہ کو جدید سائنس کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے: Free Will and Consciousness — جنات بھی شعور کے حامل تھے Energy Beings — آگ (ماریج من نار) توانائی کی نوعیت تھی Corruption and System Collapse جیسے زمین پر ecosystem collapse ہوتا ہے، جنات نے اخلاقی و سماجی نظام کو بھی نقشِ فریب بنایا

آسمانوں اور زمین کی تخلیق: داستانِ تخلیقِ زمین و آسمان — جب وسعتیں وجود میں آئیں تخلیق کی پہلی جھلک گزر چکی تھی… بگ بینگ ہو چکا، کائنات کا دھواں آسمان بننے کی راہ پر تھا، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت ایک مرتب شدہ نظام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسی لمحے وہ حکم صادر ہوا… کہ زمین اور آسمان، جو اب تک دھواں تھے، اب شکل اختیار کریں، ترتیب پائیں، اور مقصد کے تابع ہو جائیں۔

سات آسمانوں کی تخلیق: ایک بلند نظامِ ربانی: قرآن اعلان کرتا ہے: "أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا؟" کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کس طرح تہ بہ تہ پیدا کیے؟ (سورۃ نوح: 15) اور فرمایا: "الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ""جس نے سات آسمان تہہ در تہہ پیدا کیے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی خلل نہ پاؤ گے۔"(سورۃ الملک: 3) ان آیات کی گہرائی ہمیں بتاتی ہے کہ یہ "آسمان" صرف نیلا گنبد نہیں، بلکہ کائناتی سطحوں کا پورا نظام ہے— layers of the universe:

پہلا آسمان: ہماری زمین اور قریبی خلا دوسرا آسمان: نظام شمسی سے باہر تیسرا آسمان: ملکی وے کہکشاں چوتھا آسمان: گلیکسی کلسٹرز پانچواں آسمان:کائناتی جال (Cosmic Web) چھٹا آسمان: اندھیرے خلا (Dark Matter regions) ساتواں آسمان: وہ حد جہاں فرشتوں کی بلند صفیں قائم ہیں اور ان سب کے اوپر عرش، جس پر اللہ کا اختیار ہے۔

زمین کی تخلیق — چھ دنوں میں ایک شاہکار: اب آئیے زمین کی جانب — وہ سیارہ جہاں انسان کی آزمائش لکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ" "بے شک تمہارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔" (سورۃ اعراف: 54) ان چھ دنوں (چھ مراحل) میں زمین کی مختلف ساختیں وجود میں آئیں: پہلا مرحلہ: زمین کی سطح بننا شروع ہوئی دوسرا: پانی و خشکی کی تمیز تیسرا: نباتات کے آثار چوتھا: پہاڑوں اور مادّی توازن کا قیام پانچواں: آسمانی روشنیوں کا ظہور چھٹا: حیاتیاتی زندگی اور انسان کا ابتدائی مسکن

یہ تمام مراحل سورۃ حٰم السجدہ (41:9-12) میں خوبصورت ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔

پانی: حیات کی پہلی سانس: کائنات میں سب سے پہلی مخلوق "پانی" بھی قرار دیا گیا — اور زمین پر زندگی کی تمام اقسام اسی سے جنم لیتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے: "وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ" "ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔"(سورۃ الانبیاء: 30) سائنس بھی کہتی ہے: زمین پر زندگی کی ابتدا پرائیمورڈیل سی (primordial sea) سے ہوئی — وہ ابتدائی سمندر جہاں پہلا DNA، پہلا سیل، اور پہلی حرکت پیدا ہوئی۔ پانی نے: زمین کی گرمی کو قابو میں رکھا مٹی کو زندہ کیا فضاء میں بخارات بھجوائے بادل بنائے، بارش برسی اور زندگی کی پہلی کرن نمودار ہوئی۔

. پانی کا حیاتیاتی کردار : پانی زندگی کی ضروری بنیاد ہے: یہ RNA، DNA، Cellular reactions کے لیے solvent ہے۔ DNA کے double helix، protein folding اور ligand binding میں حسّاس پانی کی تہہ کردار کرتی ہے - انسانی جسم کا تقریباً 60٪ پانی ہے — خلیات، خون، اور نسوں میں - dhaberek, oceans, rivers نے زمین پر نباتات اور انسانیت کو پھلنے پھولنے کے قابل بنایا ہیں

سائنس بتاتی ہے: DNA helix کی مستحکمی اور تصویر پانی کے مولکیولی جال (hydration shell) سے وابستہ ہے — جیسے protein اور nucleic acids water molecules کے ساتھ specially bond کرتے ہیں پانی کی یہ molecular structure stability، binding، اور gene expression جیسے عمل کو ممکن بناتی ہے

قرآن، جہاں آدم کے بارے میں فرماتا ہے: "وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا (سورۃ الفرقان:54) "اللہ نے اسی پانی سے انسان کو پیدا کیا (سورۃ النور:45)

یہ حکمِ ہستی، DNA کے حقیقی رازوں کی طرف اشارتا ہے — ایک حیران کن توازن، جو سائنس نے حالیہ صدیاں پہلے دریافت کیا۔

قرآن اور سائنس کی ہم آہنگی — ایک جامع کائناتی تصویر یہ پورا سفر بتاتا ہے کہ:

- قرآن نے واضح کیا: ہر زندہ شے پانی سے پیدا ہوئی - سائنس نے ثابت کیا: پانی DNA اور cellular زندگی کے لیے بنیادی solvent ہے

- قرآن نے فرمایا: زمین نباتات سے سجائی گئی جب پانی برسایا گیا - سائنس نے اس عمل (photosynthesis, ecology, hydrology) کی سائنسی صورت دکھائی یہ مطابقت دنیا کے مذہبی اور سائنسی حلقوں کے لیے ایک شاندار نشانی ہے کہ قرآن کا کائناتی تصور حقیقتوں کے آئینے میں چمک رہا ہے۔

زندگی کے مراحل: 1- نباتات 2- حشرات 3- حیوانات 4- انسان

یہ ناتمام evolution نہیں، بلکہ ایک نظم کے تحت متعین تخلیقی مراحل ہیں۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
یہ صرف ایک نظریہ نہیں، یہ یقین کا چراغ ہے! ربِّ باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اسی نور سے روشناس فرما دے۔
اس موضوع پر اتنی جامع، مدلل اور روح پرور تحریر کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
جزاکم اللہ خیراً! اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں ایسا ہی نور، تاثیر اور برکت رکھے۔ اور آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے۔
 
Top