سیراہ النور ( سیرتِ محمد ﷺ کا روشن سفر)

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
جب ربیع الاوّل کی صبحیں طلوع ہوتی ہیں، فضائیں رحمت اور محبت کی خوشبو سے لبریز ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جب تاریخِ انسانیت کا سب سے عظیم لمحہ آیایعنی "محبوبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت"۔ آپ ﷺ کی آمد سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ گئیں، ظلم کے سائے مٹ گئے، اور زمین آسمان رحمت کے انوار سے جگمگا اٹھے۔
یہ مہینہ اپنی زندگی کو سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں ڈھالنے کا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہم نے یہ ماہانہ تھیم ترتیب دی ہے تاکہ ہم سب مل کر رسول اللہ ﷺ کے اُس کامل اسوہ پر غور کریں جو ہمارے لیے راہِ نجات ہے۔
اس مہینے میں ہم جن پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے:
✅ نبی ﷺ کا بچپن اور ابتدائی زندگی کے سنہری واقعات
✅ نبوت کا آغاز اور دعوت کی حکمتیں
✅ آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ: حلم، عفو، رحمت
✅ آپ ﷺ کا تعلق اللہ سے: عبادات، دعا، اور خشیت
✅ گھریلو زندگی: شوہر، والد اور مربی کے روپ میں آپ ﷺ
✅ صحابہ کرام کے ساتھ تعلق اور امت کے لیے شفقت
✅ غزوات اور قیادت: حکمت، صبر اور عدل
✅ آپ ﷺ کی سنتیں جو آج بھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں
یہ تھیم صرف مطالعہ تک محدود نہیں بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے، کردار کو سنوارنے، اور محبتِ رسول ﷺ کو عملی زندگی میں ڈھالنے کا پیغام ہے۔ آئیے! اس مہینے کو نبی ﷺ کے ذکر، درود، اور سیرت کی خوشبو سے بھر دیں۔
آئیے اپنے دلوں میں وہ نور اُتاریں جو محمد ﷺ کی پیروی سے آتا ہے۔
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّم
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
از قلم: @ فاطمہ حسن
درود شریف کو ہم اکثر محض ثواب کمانے کا عمل سمجھتے ہیں۔ یہ رحمتوں کا دروازہ ہے، برکتوں کا ذریعہ ہے، اور دل کی طہارت کا سبب بھی۔
آج میں نے جانا کہ درود اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ درود دراصل ایک قرض ہے۔۔۔ ایسا قرض جو ہم سب پر رسول اللہ ﷺ کے بے پایاں احسانات کے بدلے واجب الادا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الأحزاب: 56)
یہ آیت درود کی حقیقت کو کھول دیتی ہے:
اللہ تعالیٰ کی "صلوٰة" کا مطلب ہے: نبی ﷺ پر اپنی خاص رحمت اور درجات کی بلندی نازل فرمانا۔
فرشتوں کی "صلوٰة" کا مطلب ہے: رسول اللہ ﷺ کے لیے دعا اور استغفار کرنا۔
اور مؤمنین کے لیے حکم ہے: تم بھی نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔
سوچئے! یہ وہ عمل ہے جس میں اللہ، فرشتے اور مومن سب شریک ہیں۔
آج کے دور میں جب کوئی مریض آئی سی یو میں داخل ہوتا ہے، اور ڈاکٹر اپنی مہارت سے اسے موت کے منہ سے واپس لے آتا ہے، تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ ساری زندگی اس ڈاکٹر کے شکر گزار رہتے ہیں۔ وہ بار بار کہتے ہیں: "اگر وہ ڈاکٹر نہ ہوتا تو ہم آج زندہ نہ ہوتے!"
رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں روحانی موت سے بچایا۔ انہوں نے جہالت کے اندھیروں سے نکالا، ایمان کی زندگی عطا کی، گناہوں کے بوجھ سے ہلکا کیا اور جنت کے راستے پر لگا دیا۔
تو کیا یہ ہم پر قرض نہیں کہ ہم ان کے احسانات کا شکریہ ادا کریں؟
یاد کیجیے: طائف میں پتھروں کی بارش سے جسم لہو لہان ہوا، مگر امت کے لیے دعا کی۔
اُحد میں دندانِ مبارک شہید ہوئے، چہرہ زخمی ہوا، مگر فرمایا: "اللهم اهد قومي فإنهم لا يعلمون"
خندق کی بھوک نے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کیا، مگر لبوں پر پھر بھی رحمت کے کلمات تھے۔
اور جب رب العالمین نے اختیار دیا تو پکار اُٹھی: "اُمَّتی، اُمَّتی"۔
یہ سب قربانیاں اپنی ذات کے لیے نہیں تھیں۔۔۔ یہ سب کچھ ہمارے لیے تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایمان دیا، قرآن دیا، سنت دی۔ ہمیں جہالت سے نکالا، ہلاکت سے بچایا، اور جنت کا راستہ دکھایا۔ قیامت کے دن بھی شفاعت فرما کر ہمیں بخشوائیں گے۔
یہ سب ایسے احسانات ہیں جنہیں ہم کبھی لوٹا نہیں سکتے۔ مگر شریعت نے ہمیں ایک سہولت دی: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نبی ﷺ پر درود بھیجو۔ یہ تمہارا اظہارِ وفاداری بھی ہوگا، شکریہ بھی اور قرض کی جزوی ادائیگی بھی۔
دردو صرف ذکر نہیں، یہ شکر ہے۔
یہ صرف محبت نہیں، یہ وفاداری ہے۔
یہ صرف ثواب نہیں، یہ قرض کی ادائیگی ہے۔
جب ہم درود پڑھتے ہیں تو گویا دل کی گہرائیوں سے صدا بلند کرتے ہیں:
"یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے آپ کے زخموں کو فراموش نہیں کیا۔ ہم آپ کی راتوں کی دعاؤں کے مقروض ہیں۔ ہم درود کے نذرانے سے آپ کے احسانات کا اعتراف کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ ہمیں پہچان لیں گے۔"
اے اللہ! ہماری زبانوں کو ہمیشہ درود سے معطر رکھ۔ ہمارے دلوں کو تیرے محبوب ﷺ کی محبت سے لبریز کر۔ ہمارے اعمال کو ان کی سنت کے مطابق بنا دے۔ آمین یا رب العالمین!
 
Top