مشنِ نبی کریم ﷺ
محمدداؤدالرحمن علی
جنابِ سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ شب و روز کی گردش میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی حوالے سے جاری رہتا ہے۔ یہ تذکرہ صرف کسی خاص مہینے یا دن کا پابند نہیں بلکہ ہر وقت، ہر مقام، اور ہر ماحول میں جاری رہتا ہے کیونکہ آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔محمدداؤدالرحمن علی
’’وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين‘‘
’’ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘(سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۷)
آغاز مشن:۔’’ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘(سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۷)
جب نبی اکرم ﷺ پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے اسلام کی دعوت مخصوص افراد تک محدود رکھی۔ مگر صرف تئیس (۲۳) سال کے قلیل عرصے میں آپ ﷺ نے پورے جزیرۃ العرب کو توحید، عدل، اور اخلاق کی بنیاد پر قائم ایک مہذب معاشرہ بنا دیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر، جب تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہؓ کے مجمع میں آپ ﷺ نے اپنے مشن کی تکمیل کا اعلان کیا، تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النصر نازل فرما کر گویا آپ ﷺ کو کامیابی کی سند عطا فرما دی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا‘‘
’’اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا۔‘‘(سورۃ النصر، آیت ۳)
نبی کریم ﷺ کا مشن کیا تھا؟’’وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا‘‘
’’اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا۔‘‘(سورۃ النصر، آیت ۳)
نبی اکرم ﷺ کے مشن کا خلاصہ خطبۂ حجۃ الوداع میں بہت وضاحت سے موجود ہے، جس میں آپ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق بنیادی اصول بیان فرما دیے۔ اگرچہ یہ خطبہ مکمل شکل میں کسی ایک روایت میں موجود نہیں، مگر مختلف صحابہ کرامؓ نے اس کے حصے حصے روایت کیے، جن سے نبی ﷺ کے مشن کی جامع تصویر سامنے آتی ہے۔( صحیح بخاری، حدیث: ۱۶۲۳–۱۶۲۶/ مسلم، کتاب الحج، حدیث: ۱۲۱۸)
درج ذیل آپ کے سامنے نبی کریمﷺ کے اس خطبہ مبارک میں اہم نکات تحریر کیے جارہے ہیں جو کہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
۱۔ توحید اور مساوات کا قیام:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’تمہارا رب ایک ہے، تم سب آدمؑ کی اولاد ہو، کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنیاد پر‘‘(مسند احمد، حدیث: ۲۳۴۸۹/ الجامع الصغیر، سیوطی: حدیث صحیح)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس بات کی تائید فرماتے ہیں۔’’يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْـرًا مِّنَ الظَّنِّۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْـمٌ ۖ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْـمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ تَوَّابٌ رَّحِـيْـمٌ ‘‘
’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات،آیت نمبر۱۲)
اگر ہم الله كے فرمان اور آپﷺ کے اس پیغام پر غور کریں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ اسلام دراصل انسانیت کو ہر قسم کے نسلی و طبقاتی تعصبات سے آزاد کرتا ہے اور صرف تقویٰ کو برتری کا معیار قرار دیتا ہے۔’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات،آیت نمبر۱۲)
۲۔جاہلیت اور سود کا خاتمہ:
نبی كریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جاہلیت کے تمام خون اور سود میرے قدموں تلے روند دیے گئے ہیں۔‘‘( صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: ۱۲۱۸)
سود کے بارے میں قرآن کریم میں بھی حرمت نازل ہوئی،ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’جاہلیت کے تمام خون اور سود میرے قدموں تلے روند دیے گئے ہیں۔‘‘( صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: ۱۲۱۸)
’’وَاَحَلَّ اللّـٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا‘‘
’’ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘(سورۃ البقرۃ،آیت ۲۷۵)
یہ اعلان دراصل معاشی انصاف اور معاشرتی عدل کی بنیاد تھا۔ سود جیسے استحصالی نظام کو ختم کر کے نبی ﷺ نے ایک عادلانہ معیشت کی طرف رہنمائی فرمائی۔’’ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘(سورۃ البقرۃ،آیت ۲۷۵)
۳۔مساوات، عدل، اور انفرادی ذمہ داری
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’نہ کوئی باپ بیٹے کے جرم میں پکڑا جائے گا، نہ بیٹا باپ کے جرم کا ذمہ دار ہو گا۔‘‘( سنن ابن ماجہ، حدیث: ۲۵۳۷)
یہ پیغام ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہے، اور ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔’’نہ کوئی باپ بیٹے کے جرم میں پکڑا جائے گا، نہ بیٹا باپ کے جرم کا ذمہ دار ہو گا۔‘‘( سنن ابن ماجہ، حدیث: ۲۵۳۷)
۴۔جان، مال اور عزت کی حرمت:
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’تمہارا خون، تمہارا مال، اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے یہ دن، یہ مہینہ، اور یہ شہر حرام ہے۔‘‘( صحیح بخاری، حدیث: ۱۷۳۹)
یہ اعلان انسانی حقوق کی وہ بنیاد ہے جس پر دنیا کے جدید قوانین بھی قائم ہیں۔ اسلام نے سب سے پہلے فرد کی جان، مال اور عزت کو تحفظ دیا۔’’تمہارا خون، تمہارا مال، اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے یہ دن، یہ مہینہ، اور یہ شہر حرام ہے۔‘‘( صحیح بخاری، حدیث: ۱۷۳۹)
۵۔عبادات اور روحانی تربیت:
نبی كریم ﷺ نے فرمایا:
’’نماز قائم کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، حج کرو، اور اپنے حکام کی اطاعت کرو۔‘‘( صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: ۱۶)
یہ پانچ ستون نبی ﷺ کے مشن کی روحانی بنیاد ہیں، جو فرد اور معاشرے کو اللہ سے جوڑتے ہیں۔’’نماز قائم کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، حج کرو، اور اپنے حکام کی اطاعت کرو۔‘‘( صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: ۱۶)
۶۔علم اور سنت پر عمل:
نبی ﷺ نے فرمایا:
’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘(مؤطا امام مالک، حدیث: ۱۵۹۴/ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث: ۱۲۱۸)
علمِ دین اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل نبی ﷺ کے مشن کا مرکز تھا، اور یہی قیامت تک امت کی بقاء کی ضمانت ہے۔’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘(مؤطا امام مالک، حدیث: ۱۵۹۴/ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث: ۱۲۱۸)
۷۔عورتوں اور غلاموں کے حقوق:
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو... اور غلاموں سے حسن سلوک کرو، جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔‘‘( سنن ترمذی، حدیث: ۱۱۶۳/مسند احمد، حدیث: ۱۹۷۷۴)
نبی ﷺ نے عورتوں کو وراثت، نکاح، اور معاشرتی مقام دیا، اور غلاموں کو انسان سمجھ کر ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا — یہ اس وقت کے معاشرے میں ایک انقلابی قدم تھا۔’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو... اور غلاموں سے حسن سلوک کرو، جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔‘‘( سنن ترمذی، حدیث: ۱۱۶۳/مسند احمد، حدیث: ۱۹۷۷۴)
نبی کریم ﷺ کا مشن ایک جامع، عالمگیر اور ہمہ گیر مشن تھا جس کا مقصد توحید کا قیام، اخلاق کی تکمیل، ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کا تحفظ، عورتوں اور غلاموں کی عزت، عدل و مساوات کا نفاذ، اور روحانی و اجتماعی تربیت تھا۔
یہ مشن صرف ۲۳ سال میں مکمل ہوا، اور آپ ﷺ نے دنیا کو ایسا انقلابی پیغام دیا جو قیامت تک کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مشن کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔
اللہ پاک قرآن كریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ‘‘
’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘(الأحزاب: ۲۱)
آئیے اس ربیع الاؤل میں اپنے رب اور اپنے نبیﷺ سے ایک عہد کیجئے کہ آج کے بعد ہم زندگی اپنے نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے مطابق گزاریں گے۔اگر آج ہم نے سیرت طیبہ کو اپنا لیا اور اپنے حبیب ﷺ کے مشن کو اپنا لیا ہماری زندگی بھی بن جائے گی اور آخرت بھی۔’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘(الأحزاب: ۲۱)
اللہ پاک ہم سب کو نبی کریم ﷺ کے مشن کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین!