نظری آراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے، نہ مٹایا جاسکتا ہے۔اختلاف رائے نہ وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا گروہ خالی رہا نہ رہ سکتا ہے۔ یہ اختلاف خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بھی ہوتا رہا اور خلفاء راشدین اورعام صحابہ کرامؓ کے عہد میں امور انتظامیہ کے علاوہ نئے نئے حوادث اور شرعی مسائل جن کا قرآن و حدیث میں صراحتاً ذکر نہ تھا ، ان کے استخراج میں جب انہیں اپنی رائے اور قیاس سے کام لینا پڑاتو ان میں اختلاف رائے ہوا جس کا ہونا عقل و دیانت کی بنا پر ناگزیر ہے۔اسی طرح بعد میں تابعین عظام کا عمل بھی ہر ایک اہل علم کے سامنے ہے؛ لیکن صحابہ وتابعین کے اس پورے خیر القرون میں اس کے بعد ائمہ مجتہدین اور ان کے پیروؤں میں کہیں ایک واقعہ ایسا سننے میں نہیں آیا کہ ایک دوسرے کو گمراہ یافاسق کہتے ہوں یاکوئی مخالف فرقہ اور گروہ سمجھ کر ایک دوسرے کی اقتدا کرنے سے روکتے ہوں یا ان اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل یا سب وشتم ، توہین و استہزا کا بازار گرم کرتے ہوں؛بلکہ ان مقدس زمانوں میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
اما م ابن عبدالبر قرطبی اپنی کتاب ’’جامع بیان العلم‘‘ میں سلف کے باہمی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں :
اما م ابن عبدالبر قرطبی اپنی کتاب ’’جامع بیان العلم‘‘ میں سلف کے باہمی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں :
’’ہمیشہ اہل فتاوی فتویٰ دیتے رہے ۔ ایک شخص غیر منصوص مسائل میں ایک چیز کو حلال قرار دیتا ہے اور دوسرا اسے حرام قرار دیتا ہے، مگر نہ حرام کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جس نے حلال ہونے کا فتویٰ دیا، وہ ہلاک اور گمراہ ہوگیا نہ حلا ل کہنے والا یہ سمجھتا ہے‘‘ (وحدت امت از مفتی محمد شفیع)
ہندوستان میں بھی انگریز کے برسر اقتدار آنے سے پہلے علماء کا آپس میں بعض مسائل و معمولات میں اختلاف ہونے کے باوجودایک دوسرے کے لیے احترام کا جذبہ غالب تھا۔
’’دیوبند و بریلی اختلافات سے مشترکات تک ‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون الشریعہ نامی ویب سائٹ پر نظر سے گزرا ۔ صاحب مضمون کی فرقہ واریت اور مسلکانہ رنجشوں اور کدورتوں کی تلافی کے لیے لکھی جانے والی تمہید نے متاثر کیا۔لیکن پورا مضمون پڑھ کر افسوس ہوا کہ عنوان اور تمہید تو اس قدر خوبصورت لیکن اندر سے مضمون سراسر بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی۔
آنے والی سطور میں ہم غیر جانب دارانہ طریق سے دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے نزاع اور صاحب مضمون کی بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی کا جائزہ لیں گے۔
’’دیوبند و بریلی اختلافات سے مشترکات تک ‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون الشریعہ نامی ویب سائٹ پر نظر سے گزرا ۔ صاحب مضمون کی فرقہ واریت اور مسلکانہ رنجشوں اور کدورتوں کی تلافی کے لیے لکھی جانے والی تمہید نے متاثر کیا۔لیکن پورا مضمون پڑھ کر افسوس ہوا کہ عنوان اور تمہید تو اس قدر خوبصورت لیکن اندر سے مضمون سراسر بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی۔
آنے والی سطور میں ہم غیر جانب دارانہ طریق سے دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے نزاع اور صاحب مضمون کی بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی کا جائزہ لیں گے۔
دیوبندی بریلوی مناقشہ :بحث مباحثہ سے مناظرہ تک‘‘ پر ایک نظر
بعض حضرات اور شاید صاحب مضمون بھی ناواقفیت کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ مروجہ میلاد شریف، عرس، قیام ، قوالی، فاتحہ ، نذرونیاز وغیرہ یا دسواں، بیسواں، چالیسواں، برسی وغیرہ کے بدعت یا غیر بدعت ہونے میں دیوبندی مکتب فکر اور بریلوی مکتب فکرکے علماء میں جو اختلاف ہے یہی ان دونوں مکاتب فکر کے اختلاف کی بنیاد ہے۔ لیکن ایسا سمجھنا درست نہیں ہے کیونکہ ان مسائل میں اختلا ف کا تذکرہ اس وقت سے ہے جب بریلوی یا دیوبندی لفظ کسی خاص مسلک کا ترجمان بنا تھا نہ عا م لوگ ان ناموں سے آشنا تھے۔ شاہ محمد اسحاق دہلویؒ کی کتاب ’’ماءۃ مسائل‘‘ میں مندرجہ بالا مسائل کی تفصیل موجود ہے جو دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے مدارس کے قیام سے پہلے کی کتاب ہے۔علاوہ ازیں ان مسائل کی یا ان جیسے دیگر مسائل کی حیثیت کسی بھی فریق کے ہاں ایسی نہیں ہے کہ ان کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کسی مسلما ن کو کافر اور خارج از اسلام کہا جاسکے۔
جہاں تک مضمون نگار نے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کے اختلاف کا ذکر کیا ہے تومولانا شاہ اسماعیل شہید دہلویؒ اور مولانا خیر آبادی کے درمیان مسئلہ امکان نظیر وغیرہ پر اختلاف تھا ۔ یہ اختلاف خالصتاًعلمی اختلاف تھا۔ دراصل شاہ اسماعیل دہلوی نے’’ تقویۃ الایمان‘‘ میں عموم قدرت باری تعالی کے تحت یہ لکھا کہ ’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو لاکھوں ، کروڑوں نبی ولی جن و فرشتے جبرئیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کرڈالے ‘‘اس پر مولانا فضل حق خیر آبادی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام صفات کاملہ میں مثل اور نظیر محال ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں؛ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیرآبادی کے درمیان اتنی بات متفق علیہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل نہ موجود ہے اور نہ ہوسکتا ہے، اختلاف اس پر تھا کہ نظیر کیوں نہیں ہوسکتی؟ علامہ فضل حق خیر آبادی کے نزدیک ممتنع بالذات ہے اور مثل مذکور مستلزم کذب باری ہے جب کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
جہاں تک مضمون نگار نے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کے اختلاف کا ذکر کیا ہے تومولانا شاہ اسماعیل شہید دہلویؒ اور مولانا خیر آبادی کے درمیان مسئلہ امکان نظیر وغیرہ پر اختلاف تھا ۔ یہ اختلاف خالصتاًعلمی اختلاف تھا۔ دراصل شاہ اسماعیل دہلوی نے’’ تقویۃ الایمان‘‘ میں عموم قدرت باری تعالی کے تحت یہ لکھا کہ ’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو لاکھوں ، کروڑوں نبی ولی جن و فرشتے جبرئیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کرڈالے ‘‘اس پر مولانا فضل حق خیر آبادی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام صفات کاملہ میں مثل اور نظیر محال ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں؛ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیرآبادی کے درمیان اتنی بات متفق علیہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل نہ موجود ہے اور نہ ہوسکتا ہے، اختلاف اس پر تھا کہ نظیر کیوں نہیں ہوسکتی؟ علامہ فضل حق خیر آبادی کے نزدیک ممتنع بالذات ہے اور مثل مذکور مستلزم کذب باری ہے جب کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
’’اس مقام پر اس قدرثابت کرنا مقصود ہے کہ مثل مذکورقدرت الہیہ کے تحت داخل ہے مثل مذکورکا وقوع ثابت کرنا مقصود نہیں۔‘‘ (رسالہ یک روزی ص۱۳۸)
آگے لکھتے ہیں:
’’ ہاں البتہ مثل مذکورکے وقوع کا قول کرنا کذب باری کو جائز ماننا ہے معاذاللہ من ذالک ، رہا مثل مذکور کے امکان کا قول کرنا پس وہ کذب باری کے امکان کو مستلزم نہیں‘‘(یک روزی ص ۱۴۴)
آپ دیکھ رہے ہیں ساری بحث امکان نظیر کی ہے وقوع یا اثبات نظیرکو مولانا شہید بھی صحیح نہیں سمجھتے۔رہی بات یہ کہ کیا مولانا شہید سے پہلے بھی کسی نے اس قسم کی مثال دی ہے تو اس ضمن میں تفسیر رازی سے امام رازی کا قول پیش کرتا ہوں۔ امام رازیؒ قرآن پاک کی آیت: ’’وَلَو شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیرًا‘‘ (سورۃ الفرقان: ۵۱) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’ ہاں البتہ مثل مذکورکے وقوع کا قول کرنا کذب باری کو جائز ماننا ہے معاذاللہ من ذالک ، رہا مثل مذکور کے امکان کا قول کرنا پس وہ کذب باری کے امکان کو مستلزم نہیں‘‘(یک روزی ص ۱۴۴)
آپ دیکھ رہے ہیں ساری بحث امکان نظیر کی ہے وقوع یا اثبات نظیرکو مولانا شہید بھی صحیح نہیں سمجھتے۔رہی بات یہ کہ کیا مولانا شہید سے پہلے بھی کسی نے اس قسم کی مثال دی ہے تو اس ضمن میں تفسیر رازی سے امام رازی کا قول پیش کرتا ہوں۔ امام رازیؒ قرآن پاک کی آیت: ’’وَلَو شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیرًا‘‘ (سورۃ الفرقان: ۵۱) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے اس بات پر کے ہر بستی کے اندر ایک رسول ایک نذیر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) جیسا پیدا کردے‘‘۔
بتاےئے کیا فرق ہے، اما م رازی ؒ اور شاہ اسماعیل دہلوی ؒ کی’’ تقویۃ الایمان‘‘ والی مثال میں؟
اس کے علاوہ ایک غیر جانب دار شہادت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فضل حق خیر آبادی نے شاہ اسماعیل دہلوی شہید کے خلاف اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ (دیکھیں ’’امیرا لروایات‘‘ روایت امیر شاہ خان عن مفتی عنایت اللہ مرحوم)
مولانا فضل حق خیر آبادی جب مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے مخالف تھے تو مولانا خیرآبادی کے شاگرد مولانا سراج الدین لکھنوی اس مسئلہ میں شاہ اسماعیل دہلوی کے ساتھ تھے اپنے استاد کے ساتھ نہ تھے۔ اس سے مولانا خیر آبادی کے اختلاف کا وزن آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے ۔ مولانا سراج الدین نے اس مسئلہ میں مولانا خیر آبادی کے خلاف ایک رسالہ بھی لکھا جس کانام تھا’’امکان نظیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم و امتناعہ‘‘دیکھیے مورخ الہند مولانا عبدالحئی لکھنوی کی کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (ج ؍۷ )
اس کے علاوہ مولانا حیدر علی رام پوری جو کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے شاگرد رشید تھے نے بھی مولانا فضل حق خیر آبادی کے رد میں متعدد رسائل لکھے۔
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے بارے میں بدلے موقف کی تائید مولانا فضل حق خیر آبادی کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے ۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کی مولانا عبدالحق خیر آبادی سے جو گفتگو ہوئی، اسے ہم المیزان کے’’ احمد رضانمبر‘‘ سے نقل کرتے ہیں:
اس کے علاوہ ایک غیر جانب دار شہادت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فضل حق خیر آبادی نے شاہ اسماعیل دہلوی شہید کے خلاف اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ (دیکھیں ’’امیرا لروایات‘‘ روایت امیر شاہ خان عن مفتی عنایت اللہ مرحوم)
مولانا فضل حق خیر آبادی جب مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے مخالف تھے تو مولانا خیرآبادی کے شاگرد مولانا سراج الدین لکھنوی اس مسئلہ میں شاہ اسماعیل دہلوی کے ساتھ تھے اپنے استاد کے ساتھ نہ تھے۔ اس سے مولانا خیر آبادی کے اختلاف کا وزن آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے ۔ مولانا سراج الدین نے اس مسئلہ میں مولانا خیر آبادی کے خلاف ایک رسالہ بھی لکھا جس کانام تھا’’امکان نظیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم و امتناعہ‘‘دیکھیے مورخ الہند مولانا عبدالحئی لکھنوی کی کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (ج ؍۷ )
اس کے علاوہ مولانا حیدر علی رام پوری جو کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے شاگرد رشید تھے نے بھی مولانا فضل حق خیر آبادی کے رد میں متعدد رسائل لکھے۔
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے بارے میں بدلے موقف کی تائید مولانا فضل حق خیر آبادی کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے ۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کی مولانا عبدالحق خیر آبادی سے جو گفتگو ہوئی، اسے ہم المیزان کے’’ احمد رضانمبر‘‘ سے نقل کرتے ہیں:
’’(مولانا عبدالحق خیر آبادی صاحب نے مولانا احمد رضاخان بریلوی سے) پوچھابریلی میں آپ کا کیا شغل ہے؟ فرمایا تدریس و تصنیف اور افتاء۔ پوچھا کس فن میں تصنیف کرتے ہو؟ اعلی حضرت نے فرمایا جس مسئلہ دینیہ میں ضرورت دیکھی اور رد وہابیہ میں۔علامہ نے فرمایا، آپ بھی رد وہابیت کرتے ہیں ،ایک وہ ہمارا بدایونی خبطی ہے کہ ہر وقت اس خبط میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (ص ۳۳۲)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل کے بارے خیرآبادی حضرات کا وہ موقف نہ تھا جو بدایونیوں اور بریلی کے حضرات کا تھا۔ اور وہ اس اختلاف کی شدت کو محض خبط کے علاوہ اور کچھ نہ تصور کرتے تھے۔
مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مرحوم کی تحقیق میں مولانا خیرآبادی اورمولانا شاہ اسماعیل شہید میں جو بھی اختلاف تھا وہ محض اجتہادی تھا،ہدایت و ضلالت کا اختلاف نہ تھا۔پیر صاحب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر کے متعلق سوال کیاگیا تو آپ نے یوں جواب دیا:
مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مرحوم کی تحقیق میں مولانا خیرآبادی اورمولانا شاہ اسماعیل شہید میں جو بھی اختلاف تھا وہ محض اجتہادی تھا،ہدایت و ضلالت کا اختلاف نہ تھا۔پیر صاحب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر کے متعلق سوال کیاگیا تو آپ نے یوں جواب دیا:
’’اس مقام پر امکان یا امتناع نظیرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنا مافی الضمیرظاہر کرنا مقصود ہے نہ تصویب یا تغلیظ کسی فریقین کی اسماعیلیہ و خیر آبادیہ میں سے شکراللہ تعالی سعیہم ۔راقم سطور دونوں کو ماجورو ثواب جانتاہے۔‘‘ (فتاوی مہریہ ص۱۱)
حکیم محمود احمد برکاتی صاحب جن کی تعریف بریلوی مکتب فکر کے مولانا عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے بھی کی ہے ۔ (آپ فطری طور پر خیرآبادی خانوادہ سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے اور وقتا فوقتا اکابر خیر آبادی کی خدمات پر علمی اور تحقیقی کام کرتے ہیں )لکھتے ہیں۔
’’مگر اس کے باوجود انہوں نے(یعنی شاہ اسماعیل شہید نے)جہاد کیا اور خداکی راہ میں جان دے دی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان کے افکارامتناع نظیر، امکان کذب ، شفاعت وغیرہ متعددہ سے ہمیں اختلاف ہے ۔ہمارے بزرگوں نے انہیں بروقت ٹوکااور برحق ٹوکامگر مجاہدو شہید ہونے سے انکار کی جرأت ہم میں نہیں ہے، دل کانپتا ہے۔‘‘ (مولانا حکیم سید برکات احمد، سیرت اور علوم، ص۲۸۱،۲۸۲)۔
جہاں تک دیوبندی بریلوی اختلاف کو سمجھنے کے لیے صاحب مضمون نے مولانا قاسم نانوتوی مرحوم کی ’’تحذیر الناس‘‘ کا ذکر کیا ہے تو یہ اختلاف بھی دیوبندی بریلوی اختلاف کی بنیا د قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ مولانا قاسم نانوتوی نے اثر ابن عباسؓ کی تشریح و توضیح کی ، چونکہ اثر ٹھیک تھا تو ایسا مضمون و مفہوم بیان فرمایا کہ جس سے عقیدہ ختم نبوت بھی دلائل سے بیان ہوگیا اور روایت کا بھی صحیح مطلب بیان کرکے رد ہونے سے بچایا۔دوسرا یہ کہ علماء کی آراء میں اختلاف ہوجاناکوئی عجیب بات نہیں ہے ۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی باوجود اثر ابن عباسؓ کی تشریح و توضیح میں اختلاف کے تادم زیست مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ اخوت و محبت کے ساتھ پیش آتے رہے جیسا کہ’’ عمدۃ الرعایہ‘‘ کے مقدمہ سے معلوم ہوتا ہے۔باقی مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا عبدالحئی لکھنوی کا اس اثر کے حوالے سے تقریبا اتفاق ہے اورمولانا عبدالحئی لکھنوی نے اثر ابن عباسؓ کی تصحیح پر باقاعدہ ایک رسالہ ’’زجر الناس علی انکاراثرابن عباس ضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ لکھااور اس روایت کے مضمون کودرست سمجھا۔جب کہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز علماء محض’’ اثر ابن عباس‘‘ کے مضمون کو درست سمجھنے والے کو ختم نبوت کا منکر سمجھتے ہیں۔(دیکھیے عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ص ۶۰ ) ۔ باقی مولانا اشرف علی تھانوی کے کہنے کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہندوستان کے اہل علم حضرات نے مولانا قاسم نانوتوی کے اس نقطہ سے دلائل کی بنیاد پر اعتراض کیامگر اس نقطہ کو بنیاد بنا کر تکفیر کسی نے نہیں کی۔
انوار ساطعہ
اسی طرح مضمون نگار نے ’’انوار ساطعہ‘‘ کو دیوبندی بریلوی اختلاف کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ ’’ انوار ساطعہ‘‘ کے بارے میں بتاتا چلوں کہ انوار ساطعہ مولانا عبدالسمیع رامپوری نے ۱۳۰۲ھ (الشریعہ ویب سائٹ کے مضمون پرکتاب کا سن طباعت کتابت کی غلطی سے ۲۰۳۱ھ لکھا ہے) میں’’ انوار ساطعہ دربیان مولود فاتحہ‘‘ لکھی جس کے جواب میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے۱۳۰۴ھ میں ’’براہینِ قاطعہ علی ظلام انوار ساطعہ‘‘ لکھی۔ صاحب مضمون نے انوار ساطعہ پر معاصرین علماء کی تقاریظ اور براہین قاطعہ پر کسی تقریظ کے نہ ہونے سے شاید یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انوار ساطعہ میں موجود نظریات و معمولات تو اہل السنۃوالجماعۃ کے مصدقہ ہیں جب کہ براہین قاطعہ میں موجود عقائد و معمولات خود ان علماء کے تراشیدہ ہیں ۔ اول تو براہین قاطعہ تقاریظ کے لیے دیگر ہم عصر علماء کو پیش ہی نہیں کی گئی دوم انوار ساطعہ میں جن مسائل کو اختلافی بتایا گیاہے ہندوستان کے اکابر علماء اس پر اپنی رائے پہلے سے ہی دے چکے تھے۔ ذیل میں بریلوی دیوبندی مسلکی نسبتوں سے پہلے کے اکابر علماء کے معمولات و عقائد کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ (۹۷۱ ؍ ۱۰۳۴ ھ)
’’ہرگاہ ہر محدث بدعت است و ہربدعت ضلالت،پس معنی حسن در بدعت چہ بود‘‘
ترجمہ .......’’جب ہر نئی بات بدعت ہے،اور ہر بدعت گمراہی ہے پس بدعت میں حسن وخوبی کے کیا معنی؟‘‘
حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔حق جو باطل کے پردوں میں مستور ہوگیا تھا آپ نے مجددانہ عزیمت سے اور مجاہدانہ جدو جہد سے اسے اصلی صورت اور اصلی شان میں دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ عاجز کے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’بدعت حسنہ ‘‘ کی پردہ دری ہے ۔آپ سے اس دور میں کہ جب دیوبندی بریلوی مدارس قائم نہیں ہوئے تھے اور’’ انوار ساطعہ دربیان مولود و فاتحہ‘‘ اور’’ براہین قاطعہ‘‘ جیسی کتب بھی معرض وجود میں نہیں آئیں تھیں مولودخوانی سے متعلق پوچھا گیا کہ ’’خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا اور نعت و منقبت کے قصائد(خوش الحانی کے ساتھ) پڑھنے میں کیا مضائقہ ہے؟۔
حضرت امام ربانی ؒ اس کا انتہائی بصیرت آمیز جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
حضرت امام ربانی ؒ اس کا انتہائی بصیرت آمیز جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’میرے مخدوم ! فقیر کے دل میں آتا ہے کہ جب تک اس دروازہ کو مطلق طور پر بند نہ کریں گے اس وقت تک ابوالہواس باز نہیں آئیں گے اگر تھوڑا سا بھی جائز کریں گے تو بہت تک پہنچ جائے گا مشہور مقولہ ہے تھوڑا زیادہ کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی دفتر سوم ،مکتوب نمبر ۷۲)
ملاحظہ فرمائیں کہ امام ربانی تو ایسی محفل میلاد کو جس میں قرآن خوانی اور نعت خوانی ہو کبھی جائز نہیں سمجھتے ۔بعینہ ایسے ہی مفہوم کا سوال جب علماء دیوبند میں سے مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے پوچھا گیا توآپ کا جواب بھی یہی تھا جو امام ربانی مجددالف ثانی کے مکتوب میں درج ہے کہ اس زمانہ میں ایسی مجلس مولود جس میں کوئی خلاف شرع امور نہ ہوں، درست نہیں۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ
اما م ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے زمانہ میں ہی ایک اور عظیم شخصیت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تھی۔آپ نے عقائد اہل سنت اور معمولات اہل سنت کوصحیح شکل میں رکھنے کے لیے جو کاوشیں کی وہ قابل تحسین ہیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ ایک جگہ لکھتے ہیں’’باجماعت نفل ادا کرنا مکروہ ہے ‘‘(ماثبت بالسنہ)حضرت شیخ جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنے کو مکروہ فرما رہے ہیں جب کہ بریلوی مکتب فکر کے حضرات کے معمولات میں سے ہے کہ خصوصاً ۲۷؍ رمضان اور ۱۵؍ شعبان کی راتوں میں نوافل کی جماعت ہوتی ہے اور ا سکے لیے باقاعدہ اعلانات کیے جاتے ہیں۔اسی طرح نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو حضرت شیخ بدعت کہتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات ج ۴ ص ۲۴) حضرت شیخ قبروں پرقبوں کے جواز کے بھی قائل نہیں ہیں۔ (شرح سفر السعادۃص ۳۴۹)اسی طرح میت کے کفن پر کچھ بھی لکھنے کو ناجائز فرماتے تھے۔ (مکتوبات شیخ: مکتوب نمبر۶۴)
قارئین کرام! یہ وہ معمولات ہیں جو بریلوی مکتب فکر کے لوگوں میں بڑی شدومدسے رائج ہیں اور ان کے خلاف کرنے والوں کو بریلوی مکتب فکر کے حضرات وہابی یا اہل سنت سے خارج قراردیتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ
حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کی وفا ت کے ۸۰؍ سال بعد اور عالمگیر بادشاہ کی وفات سے چار سال پہلے اما م الہند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نواح دہلی میں پیدا ہوئے۔شرک و بدعات اور ہندوانہ چلن جو حضرت مجدد ،شیخ عبدالحق اور سلطان عالمگیرؒ کی جدوجہد سے مٹنے لگے تھے ، سلطان عالمگیر کی وفات کے بعد پھر سر اٹھانے لگے۔ نام نہاد فقرا اورصوفیہ فقر کی بساط بچھا کر سادہ لوح مسلمانوں کے مال اور ایمان پر ڈاکہ ڈالنے لگے۔حجر پرستی کی جگہ قبر پرستی نے لے لی۔
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’اور سب سے بڑی بدعت جو لوگوں نے اختراع کی وہ قبورکے بارے میں ہے اور ان قبروں کوانہوں نے عید بنا رکھا ہے‘‘(تفہیمات الٰہیہ ج ۲ص۶۴)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
’’جو اجمیر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی یا سالار مسعود غازی کے مزار پر اس لیے گیا کہ وہاں اپنے لیے دعا کرے گا اور وہاں ضرور دعا قبول ہوگی تو اس نے بڑا گناہ کیااور یہ ایسے ہے جیسے کو ئی بتوں کو پوجے یا لات وعزیٰ کو پکارے۔‘‘ (ایضاًص ۴۵)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ایسے لو گ پورے پھیلاؤکے ساتھ موجود تھے جس طرح کے نظریات کے حامل لوگ شہرِ خرافات میں آج موجود ہیں۔
علم غیب کے متعلق لکھتے ہیں:
علم غیب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’پھر جان لیجیے کہ لازم ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے واجب الوجودجل مجدہ کی صفات کی نفی کی جائے جیسے علم غیب اور عالم کی تخلیق وغیرہ اور ان امور کی کمی ہرگز ان کی شان میں کمی نہیں کرتی‘‘ (ایضاً ص ۲۴)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ :
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبزادے اور جانشین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبزادے اور جانشین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’شرک وکفر کی باتوں میں سے ہے کہ ائمہ و اولیاء کا رتبہ انبیاء علیہم السلام کے برابر جاننا،انبیاء علیہم السلام کے لیے لوازم الوہیت جیسے علم غیب کا عقیدہ رکھنا،ہر ایک کی پکار ہر ایک جگہ سے سن لینا تمام مقدورات پر ان کی قدرت(مختار کل)ماننا۔‘‘ (تفسیر عزیزی ج۱،ص ۵۲)
شاہ صاحب محدث دہلوی زیارات قبور کے لیے کوئی دن مقرر کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’زیارا ت قبور کے لیے کوئی دن مقرر کرنا بدعت ہے‘‘ (فتاوی عزیزی)
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ
قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جنہیں بیہقی وقت کہتے تھے، لکھتے ہیں: اولیاء کی قبور پر جواونچی عمارتیں بناتے ہیں اور چراغاں کرتے ہیں اور اس قسم کے جتنے کام کرتے ہیں سب حرام یا مکروہ (تحریمی) ہیں۔ (مالابد منہ ص ۸۶)
دسواں، چالیسواں ،برسی کے متعلق وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’میرے مرنے کے بعد دنیوی رسمیں مثلاًدسواں اور بیسواں اور چالیسواں اور ششماہی اور سالانہ برسی عر س کچھ بھی نہ کریں‘‘(مالابدمنہ ص ۱۶۱)
شاہ محمداسحاق محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں:
’’میت کے دفن کرنے کے بعد قبرپر اذان مکروہ ہے اس لیے کہ احادیث سے اس کا ہونا معلوم نہیں ہوتا۔‘‘ (ماءۃ مسائل،ص۶۴)
ملاحظہ فرمائیں کہ دیوبندی مکتب فکر کے علماء نے براہین قاطعہ میں کوئی نئے معمولات یا عقائدمتعارف نہیں کروائے تھے بلکہ وہی عقائد و معمولات جوہندوستان میں سلف و خلف سے چلتے آرہے تھے، بیان کیے۔
ہندوستان کے اکابر علماء کے معمولات و عقائد سے کس نے اختلاف کیا؟
حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تجدیدی فکر اور اما م الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے جانشینوں کی علمی سوچ سے سب سے پہلے مولانا فضل رسول بدایونی (۱۲۱۳ھ ،۱۲۸۹ھ)نے اختلاف کیا۔ انگریز دور میں سرکار کے ملازم تھے۔ مشہور مؤرخ پرفیسر ایوب قادری صاحب لکھتے ہیں:
’’مولوی فضل رسول بدایونی حکومت انگریزی کی ملازمت میں اول مفتی عدالت اور پھر کلکٹر میں رشتہ دار رہے۔‘‘ (تذکرہ علماء ہند ص ۳۸۲،۳۸۱))
مولانا فضل رسول بدایونی کی اکثر تصانیف انگریز ملازمین کی اعانت سے چھپتی تھیں۔ پروفیسر محمد ایوب قادری بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’مولوی فضل رسول بدایونی کی تصانیف کی طباعت کے سلسلہ میں ایک بات خاص طور پر نوٹ کی کہ ان کی اکثر تصانیف کسی نہ کسی سرکاری ملازم کی اعانت سے شائع ہوئیں ۔‘‘ (جنگ آزادی 1857ء ص۶۳)
مولانا پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے اقتدار علمی پر حملہ کیا ۔حضرت شاہ اسماعیل ؒ اور حضرت شاہ محمد اسحق دہلویؒ تو ایک طرف آ پ نے مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار ونظریات سے بھی اختلاف کیا۔ مشہور غیرمقلدمؤرخ محمد اسحاق بھٹی صاحب نے جو مولانا کے متعلق لکھا ہے، وہ کافی حدتک درست لکھا ہے اور مولانا فضل رسول بدایونی کی کتب اس پر صادق آتی ہیں۔لکھتے ہیں:
’’مولانا فضل رسول بدایونی بہت بڑے فقیہ اور مجادلہ و مناظرہ میں مشہور تھے۔ اپنے مسلک اور نقطۂ نظر میں سخت متعصب تھے۔ علماء سے مخاصمت اور بحث و جدل میں تیز تھے۔ مولانا اسماعیل شہید کی تکفیر کرتے تھے اور انہوں نے جو بدعات و رسومات کی تردید کی ہے، اسے غلط قرار دیتے تھے۔ بعض مسائل کی وضاحت کے سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو بھی ہدف تنقید بنا لیتے اور اس ضمن میں بہت آگے نکل جاتے۔‘‘ (فقہائے پاک و ہند تیرہویں صدی ہجری، جلد سوم )
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے بارے ’’بوارق محمدیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ دہلوی کی ان کتابوں پر مطلع ہوئے تو ان کی(یعنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) کی کتابوں کلمات فرقہ ظاہریوں(وہابی، نجدیوں)نے بہت دخل پایا۔اگرچہ دوسری جگہ اس کے خلاف بھی پایا جاتا ہے‘‘ (شوارق صمدیہ ترجمہ بوارق محمدیہ ص ۶۰) ۔
مولانا فضل رسول بدایونی کے خلاف شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگردمولانا سراج احمد سہسوانی نے رسالہ ’’سراج الایمان‘‘ لکھا۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی اما م ربانی مجدد الف ثانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی اما م ربانی مجدد الف ثانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’کوئی مجددی ان کے قول(یعنی مجدد الف ثانی کے قول)سے استدلال کرے تو وہ جانے۔ ہم تو ایسے شخص کے غلام ہیں جس نے جو بتا یا وحی سے بتایاخدا کے فرمانے سے کہا۔‘‘ (ملفوظات اعلی حضرت حصہ ۳ ص ۷۰)
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی مکتب فکر میں جنہیں حکیم الامت جانا جاتا ہے، لکھتے ہیں:
’’حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب و قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ بیشک بزرگ ہستیاں ہیں؛ لیکن یہ حضرات مجتہد نہیں تاکہ کراہت تحریمی و حرمت فقط ان کے قول سے ثابت ہو، اس کے لیے مستقل دلیل شرعی کی ضرورت ہے‘‘ (جاء الحق ص ۲۹۴)
مولانا محمد عمر اچھروی مولانا احمد رضاخان بریلوی کے شاگردمولانا محمد حسین صاحب کے ہاں زیر تعلیم رہے ۔ تذکرہ اکابر اہل سنت میں مولف مولانا عبدالحکیم شرف قادری صاحب( جن کے بارے میں بریلوی مکتب فکر کے مفتی اعظم پاکستان جناب مفتی منیب الرحمان صاحب چئیر مین روئیت ہلال کمیٹی لکھتے ہیں کہ بریلوی مسلک میں یہ حجت و سند کا درجہ رکھتے ہیں) انہیں اپنے اکابر میں شمارکرتے ہیں مولانا عمر اچھروی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جب (حرمین شرفین سے)واپس پہنچے تو حالت دگرگوں ہوچکی تھی۔ اور اپنے والد ماجد کا عطیہ ولایت بھی کھو بیٹھے تھے حتی کہ والد ماجد کے سلجھے ہوئے مریدین نے جب ہتک آمیز کلمات بزرگوں کی شان میں سنے تو دست افسوس ملتے ملتے علیحدہ ہوگئے۔محمد بن عبدالوہاب کے عقیدہ کی چند کتابیں بلاغ المبین وغیرہ انبیاء و اولیاء کی توہین میں شائع کیں............دہلی میں شور برپا ہوگیا شاہ ولی اللہ وہابی ہوچکاہے۔ چنانچہ حیات طیبہ کے ص ۱۲؍ پر درج ہے کہ تما م علماء اسلام نے متفقہ طور پر فتوی کفر صادر کئے تو شاہ صاحب کا جدی و علمی وقار ہباء منثورا ہوگیا۔‘‘ (مقیاس حنفیت ص ۵۷۶)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ان دو حضرات نے ابھی اپنے دادا کے حنفی مذہب کو پسند فرمایا۔ لیکن آبی اثر ضرور ہوتا ہے کچھ نہ کچھ شاہ ولی اللہ صاحب کا معمولی سا رنگ چڑھا۔‘‘ (ایضاً ص ۵۷۷)
قریب قریب یہی کچھ مولانا شاہ تراب الحق قادری صاحب کے اہتمام سے لکھی جانے والی کتاب ’’مکمل تاریخ وہابیہ‘‘ ص ۷۲ تا۷۹ پر بھی درج ہے۔ ممبئی سے المیزان کا احمد رضا نمبر چھپا تھا جس میں مولانا سید عبدالکریم علی ہاشمی یوں رقم طراز ہیں:
’’اس مذہب کے آخری اما م ابن عبدالوہاب جس نے یہ طریقہ اپنے شیخ طریقت شیخ محمد حیات سندھی سے لیاہے اور اس نے مدینے کے ۲۷ استادوں سے لیا ہے شیخ احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی ان ہی محدثین میں سے پانچ اصحاب حدیث سے حدیث سند حاصل کی ہے چنانچہ سب سے پہلے آپ مدینہ سے وہابی مذہب ہندوستان لے کر آئے۔‘‘ (المیزان کا امام احمدرضانمبرص ۶۱۰)
مولوی غلام مہر علی چشتیاں مولف ’’دیوبندی مذہب‘‘ لکھتے ہیں:
شاہ ولی اللہ نے ہگا، شاہ عبدالعزیز نے اس پر مٹی ڈالی مگر اسماعیل نے اسے ننگا کرکے سارے ملک کو متعفن کردیا۔‘‘ (عصمۃالنبی ص ۷،۸)
اس پورے پس منظر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ ہندوستان میں دیوبندی مکتب فکر سے پہلے کے علماء و اکابرین سے عقائد و معمولات میں اختلاف کرنے والے حضرات بریلوی مکتب فکر سے ہیں اختلاف کا جو تخم مولانا فضل رسول بدایونی نے بویا تھا، وہ احمد رضاخان ، مفتی احمد یار نعیمی، مولانا عمر اچھروی ، شاہ تراب الحق قادری اور مولانا غلام مہر علی چشتی کی صورت میں تناور درخت بن چکا ہے۔مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کا اختلاف تو بعد کی بات ہے۔
شاہ ولی اللہ نے ہگا، شاہ عبدالعزیز نے اس پر مٹی ڈالی مگر اسماعیل نے اسے ننگا کرکے سارے ملک کو متعفن کردیا۔‘‘ (عصمۃالنبی ص ۷،۸)
اس پورے پس منظر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ ہندوستان میں دیوبندی مکتب فکر سے پہلے کے علماء و اکابرین سے عقائد و معمولات میں اختلاف کرنے والے حضرات بریلوی مکتب فکر سے ہیں اختلاف کا جو تخم مولانا فضل رسول بدایونی نے بویا تھا، وہ احمد رضاخان ، مفتی احمد یار نعیمی، مولانا عمر اچھروی ، شاہ تراب الحق قادری اور مولانا غلام مہر علی چشتی کی صورت میں تناور درخت بن چکا ہے۔مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کا اختلاف تو بعد کی بات ہے۔
مقرظین انوار ساطعہ
اب آتے ہیں انوار ساطعہ پرتقاریظ لکھنے والے علماء کی طرف توانوار ساطعہ پر تقاریظ لکھنے والے علماء باوجود بعض معمولات میں اجتہادی و فکری رائے کے اختلاف کے دیوبندی مکتب فکر کے علماء کی تکفیر و تفسیق نہیں کرتے تھے بلکہ باہمی عقیدت و احترام کے ساتھ تعلقات قائم تھے بلکہ بعض نے تو مولانا احمد رضاخان کی تکفیری کاوشوں کی حوصلہ شکنی کی۔ بعض علماء نے انوار ساطعہ کی بعض جزیات سے اپنی کتب میں اختلاف بھی کیا۔ذیل میں اس ضمن میں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
۱۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ جو مولانا عبدالسمیع رامپوری کے پیرو مرشد ہیں، ’’ضیاء القلوب ‘‘میں مولانا رشید احمد گنگوہی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جوشخص مجھ سے عقیدت رکھے، و ہ مولوی رشیداحمد صاحب سلمہ سے اور مولوی محمد قاسم صاحب سلمہ کو میری جگہ بلکہ مجھ سے بلندمرتبہ سمجھے، اگرچہ ظاہر میں معاملہ اس کے برعکس ہے کہ میں ان کی جگہ پر ہوں اور وہ میری جگہ پراور ان کی صحبت کو غنیمت سمجھے کہ ان کے ایسے لوگ زمانے میں نہیں پائے جاتے اور ان کی برکت خدمت سے فیض حاصل کرے۔‘‘ (ضیاء القلوب ص ۷۲)
۲۔مولانا لطف اللہ علی گڑھی ؒ آپ علما ء دیوبند اور بانیان ندوۃ العلماء کو آخری زندگی تک مسلمان اور اہل سنت والجماعت سمجھتے تھے۔ آپ کے تلامذہ میں مولانا عبدالحق حقانی صاحب تفسیر حقانی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی جیسی برگزیدہ ہستیاں شامل ہیں۔ مولانا کے بارے میں احمد رضاخان اور ان کے ہمنواؤں نے یہ تاثر دیا کہ مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ بھی ندوۃ العلماء کے خلا ف ہیں اورانہوں نے ندوۃ کے خلاف فتویٰ پر دستخط کیے ہیں جس کی بعد میں مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ نے تردید کی ۔مولانا احمد رضاخان کو مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ نے ایک مفصل خط تحریر کیا جس میں مولانا احمد رضاخان کوشغل تکفیر سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
’’ ذرا غور فرمائیے!ہماری سختی اور تشدد نے ہمارے اہل سنت والجماعت کواور بالخصوص احناف کوکیسے سخت صدمہ پہنچایاہے.......افسوس صد افسوس! ہمیں اپنے پاک مذہب کی ذلت پر ذرا نظر نہیں ہوتی ، مولانا(احمد رضاضان بریلوی) ذرا خداکے لیے غور کیجیے اور دشمنان دین کو ہم پر اور ہمارے پاک مذہب پر ہنسنے کا موقع نہ دیجیے‘‘۔
اس مراسلت کاکوئی نتیجہ نہ نکلابلکہ مخالفت کی آنچ تیز ہوگئی۔ندوۃ العلماء کے لیے ندوۃ الجہلاء کالفظ وضع کیا گیا۔ ۔۔۔ ندوۃ کے بعض علماء کی تکفیر بھی کی گئی ۔ اس جنگ میں مولانا احمد رضاخان، مولاناعبدالقادر بدایونی اور مولانانذیراحمد خان رامپوری شامل تھے (سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ص۱۷۱،۱۷۲)
۳۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری صاحب کے بارے میں تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہورمولف پیر زادہ اقبال احمد فاروقی میں ہے مولانانے عنوان باندھاہے:
۳۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری صاحب کے بارے میں تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہورمولف پیر زادہ اقبال احمد فاروقی میں ہے مولانانے عنوان باندھاہے:
’’مولانا قاسم سے دل لگی :مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری دونوں میں گونہ ایسے تعلقات تھے کہ باہم مزاح و ظرافت کی گفتگو کبھی کبھی ہوجایا کرتی تھی۔ (ص ۱۸۵)
آگے اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ الغرض یہ کہ اختلاف کی شدت اس طرز کی نہیں تھی کہ جس طرز کی بنیاد مولانا احمد رضاخان نے ڈالی ،تفصیل آگے آرہی ہے ۔
۴۔مفتی ارشاد حسین رام پوری صاحب سے کسی نے سوال کیاکہ ’’انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام کو سوائے قبر کے حاضرو ناظر جان کر پکارنا بطو راستمدادیا بایں نظر کہ وہ سنتے ہیں جس جگہ ان کو پکارے جائز ہے یا نہیں۔ آپ نے جواب دیا:
۴۔مفتی ارشاد حسین رام پوری صاحب سے کسی نے سوال کیاکہ ’’انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام کو سوائے قبر کے حاضرو ناظر جان کر پکارنا بطو راستمدادیا بایں نظر کہ وہ سنتے ہیں جس جگہ ان کو پکارے جائز ہے یا نہیں۔ آپ نے جواب دیا:
’’حاظر اور ناظر اور ہر جگہ ہروقت سننے والا جان کر کسی کو سوا اللہ تعالی کے پکارنا جائز نہیں‘‘ (فتاوی ارشادیہ ص۱۶۷)
معلوم ہوا کہ بعض معمولات میں فکری و رائے کے اختلاف کے باوجود اعتقادی اختلاف نہ تھا۔
صاحب مضمون نے جس دوسری کتاب کا ذکر کیا ہے اور جس کے پڑھنے کی قارئین کو تلقین کی ہے، وہ ہے’’ تقدیس الوکیل‘‘۔ کتاب کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل اس کے پس منظر کا جاننااشد ضروی ہے۔
بہاولپور میں نواب آف بہاولپور نے جامعہ عباسیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کررکھا تھا۔ نواب صاحب آف بہاولپور خواجہ غلام فریدؒ چاچڑاں شریف والے کے مرید تھے۔نواب صاحب نے خواجہ ؒ صاحب کو مشورہ دیاتھا کہ صدر مدرس دیوبند سے منگوائیں ۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ علمی حلقوں میں آج کی طرح اس وقت بھی دیوبند ہی کانام چلتا تھا۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابو داؤدجامعہ عباسیہ تشریف لائے۔آپ کے یہاں آنے سے علمی زندگی میں بہار آگئی۔ علاقہ کے بعض علماء حسد کی آگ میں جلنے لگے اور نواب صاحب آف بہاولپورکو اس پہلو سے بدگمان کیا کہ آپ کی علمائے دیوبند سے وابستگی آپ کو انگریز حکومت کے ہاں مشکوک بنا دے گی اور ہمارے سیاسی و سماجی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے ، آپ ان سے ہر طریق سے بچیں۔
مولانا غلام دستگیر قصوری کے ایک شاگردمولانا زمان شاہ ہمدانی بہاولپور رہتے تھے۔ آپ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے بھی شاگرد تھے اور ان سے اکتساب علم کیا تھا۔ مولانا غلام دستگیر قصوری جب کبھی بہاولپور جاتے تو مولانا سید زمان شاہ کے ہاں قیام فرماتے، سو ان کی ذات اس جہت سے مجمع البحرین بنی ہوئی تھی۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ آپ پر ریاست کے سیاسی تقاضوں کا خاصا اثر تھا۔ ریاست میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے خلاف ایک طوفان اٹھا اور ہر طرح سے کوشش کی گئی کہ جس طرح بن پڑے مولانا یہاں سے ہندوستان واپس چلے جائیں ۔ بات چلتے چلتے مناظرہ تک پہنچی۔مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے اجازت بھی لے لی۔
حضرت خواجہ غلام فرید ؒ صاحب کی سرپرستی میں مناظرہ شروع ہوا۔ مولانا غلام دستگیر صاحب خود منا ظر نہ بنے، آپ نے اپنی طرف سے تلیری(ضلع مظفر گڑھ ) کے مولانا سلطان محمود صاحب کو کھڑا کیا۔ امکان کذب کا موضوع زیر بحث آیا کہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے عقیدہ سے ذات باری تعالیٰ کی توہین لازم آتی ہے۔ علماء تو جانتے ہیں کہ لزوم اور التزام میں کیا فرق ہے۔ کسی عبارت سے کسی عبارت کا لازم آنا اور بات ہے، اور قائل کی طرف سے اس معنی کا التزام امردیگر ہے۔ جب تک قائل اس جہت کا التزام نہ کرے، اس کا عقیدہ نہیں کہا جاسکتا۔ بہر حال مولانا غلام دستگیر صاحب اس لزوم کے مدعی قرار پائے اور مولانا سلطان محمود مناظر قرار پائے۔
مناظرہ کے بعد کس کا پلہ بھای رہااور کس کا کمزور؟ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں۔ مناظرہ کے بعد خواجہ غلام فرید صاحب کا مولانا خلیل احمد صاحب کو اپنے ساتھ لے جانا اور اپنی مہمانی میں رکھنا اور نواب صاحب کا انہیں بصد عزت و احترام واپس بھیجنا، اصل صورت حال کی خبر دے رہا ہے۔خواجہ غلام فرید نے مولانا سہارنپوری کی کتاب ’’ہدایۃ رشید‘‘ پر جو تقریظ لکھی ہے، اس سے بھی مولانا خلیل احمد صاحب سے خواجہ صاحب کی عقیدت کا پتہ چلتا ہے۔
مناظرہ کی فتح شکست کی اصل صورت حال کا اندازہ مولانا سید زمان شاہ ہمدانی جو مولانا غلام دستگیر قصوری کے بھی شاگرد تھے، کے ایک خط سے ہوتا ہے ۔ یہ خط فارسی میں ہے اور تین پائی(ایک پیسہ) کے پوسٹ کارڈ(جس پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر والی ٹکٹ ہے) پر لکھا ہوا ہے۔ یہ قصور کے حضرت مولانا سید محمد عبدالحق شاہ صاحب کے نام ہے۔موصوف مولانا سید زمان شاہ ہمدانی کے بہنوئی تھے اور خالہ زاد بھائی بھی۔مولانا سید عبدالحق صاحب مولانا غلام دستگیر صاحب کے شاگرد بھی تھے اور اس مناظرہ کی اصل صحیح صورت حال جاننا چاہتے تھے۔ یہاں خط کا ترجمہ ہدیہ قائین کیا جاتا ہے:
صاحب مضمون نے جس دوسری کتاب کا ذکر کیا ہے اور جس کے پڑھنے کی قارئین کو تلقین کی ہے، وہ ہے’’ تقدیس الوکیل‘‘۔ کتاب کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل اس کے پس منظر کا جاننااشد ضروی ہے۔
بہاولپور میں نواب آف بہاولپور نے جامعہ عباسیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کررکھا تھا۔ نواب صاحب آف بہاولپور خواجہ غلام فریدؒ چاچڑاں شریف والے کے مرید تھے۔نواب صاحب نے خواجہ ؒ صاحب کو مشورہ دیاتھا کہ صدر مدرس دیوبند سے منگوائیں ۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ علمی حلقوں میں آج کی طرح اس وقت بھی دیوبند ہی کانام چلتا تھا۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابو داؤدجامعہ عباسیہ تشریف لائے۔آپ کے یہاں آنے سے علمی زندگی میں بہار آگئی۔ علاقہ کے بعض علماء حسد کی آگ میں جلنے لگے اور نواب صاحب آف بہاولپورکو اس پہلو سے بدگمان کیا کہ آپ کی علمائے دیوبند سے وابستگی آپ کو انگریز حکومت کے ہاں مشکوک بنا دے گی اور ہمارے سیاسی و سماجی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے ، آپ ان سے ہر طریق سے بچیں۔
مولانا غلام دستگیر قصوری کے ایک شاگردمولانا زمان شاہ ہمدانی بہاولپور رہتے تھے۔ آپ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے بھی شاگرد تھے اور ان سے اکتساب علم کیا تھا۔ مولانا غلام دستگیر قصوری جب کبھی بہاولپور جاتے تو مولانا سید زمان شاہ کے ہاں قیام فرماتے، سو ان کی ذات اس جہت سے مجمع البحرین بنی ہوئی تھی۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ آپ پر ریاست کے سیاسی تقاضوں کا خاصا اثر تھا۔ ریاست میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے خلاف ایک طوفان اٹھا اور ہر طرح سے کوشش کی گئی کہ جس طرح بن پڑے مولانا یہاں سے ہندوستان واپس چلے جائیں ۔ بات چلتے چلتے مناظرہ تک پہنچی۔مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے اجازت بھی لے لی۔
حضرت خواجہ غلام فرید ؒ صاحب کی سرپرستی میں مناظرہ شروع ہوا۔ مولانا غلام دستگیر صاحب خود منا ظر نہ بنے، آپ نے اپنی طرف سے تلیری(ضلع مظفر گڑھ ) کے مولانا سلطان محمود صاحب کو کھڑا کیا۔ امکان کذب کا موضوع زیر بحث آیا کہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے عقیدہ سے ذات باری تعالیٰ کی توہین لازم آتی ہے۔ علماء تو جانتے ہیں کہ لزوم اور التزام میں کیا فرق ہے۔ کسی عبارت سے کسی عبارت کا لازم آنا اور بات ہے، اور قائل کی طرف سے اس معنی کا التزام امردیگر ہے۔ جب تک قائل اس جہت کا التزام نہ کرے، اس کا عقیدہ نہیں کہا جاسکتا۔ بہر حال مولانا غلام دستگیر صاحب اس لزوم کے مدعی قرار پائے اور مولانا سلطان محمود مناظر قرار پائے۔
مناظرہ کے بعد کس کا پلہ بھای رہااور کس کا کمزور؟ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں۔ مناظرہ کے بعد خواجہ غلام فرید صاحب کا مولانا خلیل احمد صاحب کو اپنے ساتھ لے جانا اور اپنی مہمانی میں رکھنا اور نواب صاحب کا انہیں بصد عزت و احترام واپس بھیجنا، اصل صورت حال کی خبر دے رہا ہے۔خواجہ غلام فرید نے مولانا سہارنپوری کی کتاب ’’ہدایۃ رشید‘‘ پر جو تقریظ لکھی ہے، اس سے بھی مولانا خلیل احمد صاحب سے خواجہ صاحب کی عقیدت کا پتہ چلتا ہے۔
مناظرہ کی فتح شکست کی اصل صورت حال کا اندازہ مولانا سید زمان شاہ ہمدانی جو مولانا غلام دستگیر قصوری کے بھی شاگرد تھے، کے ایک خط سے ہوتا ہے ۔ یہ خط فارسی میں ہے اور تین پائی(ایک پیسہ) کے پوسٹ کارڈ(جس پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر والی ٹکٹ ہے) پر لکھا ہوا ہے۔ یہ قصور کے حضرت مولانا سید محمد عبدالحق شاہ صاحب کے نام ہے۔موصوف مولانا سید زمان شاہ ہمدانی کے بہنوئی تھے اور خالہ زاد بھائی بھی۔مولانا سید عبدالحق صاحب مولانا غلام دستگیر صاحب کے شاگرد بھی تھے اور اس مناظرہ کی اصل صحیح صورت حال جاننا چاہتے تھے۔ یہاں خط کا ترجمہ ہدیہ قائین کیا جاتا ہے:
’’وہ جو آپ نے انجام مباحثہ کی اصل حقیقت کے بارے میں پوچھا ہے، زمانے کی دگرگونی کے باعث میرے لیے یہ تکلیف مالایطاق ہے، تاہم جناب کے حکم کو مقدم سمجھتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ عالمان باانصاف کی نظر میں سہارنپوری مولوی کا غلبہ تامہ رہااور کسی قسم کی ان میں کمزوری نہ رہی، بلکہ یہ بات ممکنات میں سے نہ رہی کہ دوسرافریق غالب آسکے، مگر چونکہ یہاں کے کچھ لوگوں کو مولانا سہارنپوری سے ذاتی عداوت ہوگئی ہے، اس لیے وہ مولاناکو ناحق اور بے موجب شکست کا الزام دینے لگے اور آپ کی ایذا رسانی کے درپے ہوئے۔ لیکن الحق یعلوولایعلی کے مطابق دشمنوں کے برے ارادے پورے نہ ہونے پائے اور اللہ عزاسمہ نے مولانا سہارنپوری کو حفظ وشان اور عافیت سے وطن واپس پہنچایا۔ اس تحریر کو قسم اور حلف سے موکد تصور کریں اور ساری بات کومولانا غلام دستگیرصاحب سے پوری طرح مخفی رکھیں اور اس سلسلہ میں تاکید مزید عرض ہے اور خبر دینے والے تمام لاگوں سے اسے چھپائے رکھیں، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے پھاڑ دیں۔‘‘
دستخط سید محمد زمان شاہ
یہ اصلی خط حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی کے پاس محفوظ تھاجوآپ کے صاحبزادہ مولانا محمد طیب ہمدانی نے مکہ مکرمہ میں شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کو دیا۔
مولانا غلام دستگیر قصوری نے مناظرہ بہاولپور کے بعد’’ تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس میں آپ کا زور کلام لزوم سے آگے نہیں چلتا، التزام تو ایک بڑی بات ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کا فتوی ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں موجود ہے جو اس بیجا الزام کی کھلے بندوں تردید کررہا ۔ہے(مطالعہ بریلویت ج ۳، از علامہ خالد محمودمانچسٹروی)
تقدیس الوکیل کی کارروائی خانہ ساز تھی، اس کا اندازہ’’ تذکرۃ الخلیل‘‘ ص ۱۴۵ کی اس روایت سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ مولانا عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں:
مولانا غلام دستگیر قصوری نے مناظرہ بہاولپور کے بعد’’ تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس میں آپ کا زور کلام لزوم سے آگے نہیں چلتا، التزام تو ایک بڑی بات ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کا فتوی ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں موجود ہے جو اس بیجا الزام کی کھلے بندوں تردید کررہا ۔ہے(مطالعہ بریلویت ج ۳، از علامہ خالد محمودمانچسٹروی)
تقدیس الوکیل کی کارروائی خانہ ساز تھی، اس کا اندازہ’’ تذکرۃ الخلیل‘‘ ص ۱۴۵ کی اس روایت سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ مولانا عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ بلفظہ مناظرہ جس طرح تحریر ہوا تھا، اس لیے ہم نہیں لکھ سکے کہ جو مناظرہ مولوی عبدالمالک صاحب لکھتے تھے، ہم نے اس کی نقل لینے کی درخواست بخدمت جناب میر ابراہیم علی صاحب، جناب سید غلام مرتضی شاہ صاحب کی تھی اور انہوں نے ہم کو اس کی نقل کی اجازت دے دی تھی اور وہ کاغذات سرکاری طور پر بتوسط جناب مرزاجنڈوڈہ خان صاحب، جناب میا ں صاحب کی خدمت میں محفوظ رکھے تھے اور جناب سید غلام مرتضی شاہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کل صبح کو کسی کو بھیج دینا نقل کر کے لے جائے گا۔ دوسرے روز مولانا خود مع چند طلبہ دولت خانہ بخدمت جناب شاہ صاحب گئے اور نقل کے لیے کہا۔ جناب شاہ صاحب نے براہ مہربانی اسی وقت آدمی کو بھیج کر میاں صاحب کے ایک خلیفہ کو بلایا اور کاغذات مناظرہ کے لانے کے واسطے حکم کیا۔ چنانچہ وہ گیا اور واپس آکر یہ جواب لایا کہ جناب میاں صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کاغذات نہیں ہیں۔ خلیل احمد کا آدمی لکھتا تھا، اسی کے پاس ہو ں گے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا واقعی میاں یہ میاں صاحب کا ہی جواب ہے بلکہ کچھ عجیب نہیں، یہ بیچ میں حضرت غلام دستگیر ہی کی کاروائی ہے‘‘....الخ
مناظرہ کی بلفظہ تحریر نہ دینے میں خدا جانے کو ن سے عوامل کار فرماتھے ، لیکن اگر اس مناظرہ کی بلفظہ تحریر فریقین کو مل جاتی تو اس سے فریقین کے موقف کا بہتر طور پر اندازہ کیا جاسکتا تھا۔
خواجہ غلام فرید ؒ جن کی سرپرستی میں مناظرہ ہوا تھا، کا مناظرہ کے بعد بھی علماء دیوبند کے بارے میں عقیدت و محبت قائم رکھنا ایک عام قار ی کو’’ تقدیس الوکیل ‘‘کا مطالعہ ضرور الجھن میں ڈال دیتا ہے ۔ خواجہ غلام فرید ؒ کی دیوبندی مکتب فکر کے علماء سے محبت و عقیدت کے حوالے سے ان کے ملفوظات ’’اشارات فریدی ‘‘کا مطالعہ اس ضمن میں کافی مفید رہے گا۔ایک حوالہ اس ضمن میں پیش کیے دیتا ہوں۔اشارات فریدی کے مقدمہ میںیوں لکھا ہے :
خواجہ غلام فرید ؒ جن کی سرپرستی میں مناظرہ ہوا تھا، کا مناظرہ کے بعد بھی علماء دیوبند کے بارے میں عقیدت و محبت قائم رکھنا ایک عام قار ی کو’’ تقدیس الوکیل ‘‘کا مطالعہ ضرور الجھن میں ڈال دیتا ہے ۔ خواجہ غلام فرید ؒ کی دیوبندی مکتب فکر کے علماء سے محبت و عقیدت کے حوالے سے ان کے ملفوظات ’’اشارات فریدی ‘‘کا مطالعہ اس ضمن میں کافی مفید رہے گا۔ایک حوالہ اس ضمن میں پیش کیے دیتا ہوں۔اشارات فریدی کے مقدمہ میںیوں لکھا ہے :
’’ تمام اکابر دیوبند میں سے مولانا رشید احمد گنگوہی زیادہ سخت مطبع تھے۔ آپ کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی ہجرت کے بعدان کے تمام مریدین اور خلفاء ہندوستان میں سرپرست اور سربراہ مولانا رشید احمد گنگوہی مانے جاتے ہیں۔ آپ پر شریعت کے معاملہ میں سخت احتیاط کا پہلو غالب تھا‘‘ (اشارات فریدی ص ۱۷۳)
آگے ایک اور مقام پر خواجہ صاحب کے حوالے سے لکھا ہے:
مولانا رشید احمد گنگوہی بھی حاجی صاحب کے مرید اور خلیفہ اکبر ہیں ۔ ان کے اور خلفاء بھی بہت ہیں چنانچہ مولوی محمد قاسم صاحبؒ اور مولوی محمد یعقوب صاحب وغیر ہم.....اگرچہ دارلعلوم کے بانی مبانی مولانا محمد قاسم نانوری مشہور ہیں لیکن دراصل یہ دارلعلوم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ کے حکم پرجاری ہوا۔‘‘ (اشارات فریدی ص ۳۵۲)
حاشیہ پر لکھا ہے:
مولانا رشید احمد گنگوہی بھی حاجی صاحب کے مرید اور خلیفہ اکبر ہیں ۔ ان کے اور خلفاء بھی بہت ہیں چنانچہ مولوی محمد قاسم صاحبؒ اور مولوی محمد یعقوب صاحب وغیر ہم.....اگرچہ دارلعلوم کے بانی مبانی مولانا محمد قاسم نانوری مشہور ہیں لیکن دراصل یہ دارلعلوم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ کے حکم پرجاری ہوا۔‘‘ (اشارات فریدی ص ۳۵۲)
حاشیہ پر لکھا ہے:
’’حضرت خواجہ صاحب کے اس ملفوظہ سے ثابت ہواکہ مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی وغیرہم علمائے دیوبند صحیح معنوں میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اور اہل طریقت تھے حالانکہ بعض صوفی حضرات ان کو غلط فہمی سے وہابی کہتے تھے۔‘‘ (ایضاً)
دیوبند مکتب فکرکے اکابرین علماء کی اپنے ہم عصر غیر دیوبندی علماء کے ساتھ محبت و عقیدت کے حوالے سے ’’علماء دیوبند معاصرین کی نظر میں‘‘ اور شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور کی کتاب ’’اکابرین علماء دیوبند کیا تھے‘‘ کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔
حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے جواب میں
دیوبندی، بریلوی اختلاف کی اصل وجہ اگر دیکھی جائے تو مولانا احمد رضاخان بریلوی کا وہ تکفیری فتوی ہے جو حسام الحرمین کے نام سے چھپا ۔بریلوی مکتب فکر کے تمام بڑے علماء دیوبندی بریلوی اختلاف کو حسام الحرمین میں درج علماء دیوبند کی عبارات ہی کو گردانتے ہیں۔صاحب مضمون کو بھی اقرار ہے کہ طرفین کے علماء(دیوبندی و بریلی) کا اختلاف اور اس میں انتہائی شدت حسام الحرمین کے منظر عام پر آنے کے بعد ہوئی۔
مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی متشدد تھے اورمخالفین کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعما ل کرتے تھے۔چنانچہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی جو آپ کے شاگرد خاص تھے اور انہوں نے ہی مولانا احمد رضاخان کے ترجمہ ’’کنزالایمان‘‘ کا حاشیہ بھی لکھا جو’’ خزائن العرفان‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مولانا احمد رضاخان صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے:
’’حضور! آپ کی کتابوں میں وہابیوں دیوبندیوں اور غیر مقلدوں کے عقائد باطلہ کا رد ایسے سخت الفاظ میں ہوا کرتا ہے کہ آج کل جو تہذیب کے مدعی ہیں، وہ چند سطریں دیکھنے کے بعد ہی حضور کی کتابوں کو پھینک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان میں تو گالیاں بھری ہیں۔‘‘ (سوانح امام احمد رضاص ۱۳۱ بحوالہ فیضان اعلی حضرت ص ۲۷۵)
مولانا احمد رضاخان بریلوی کے بارے میں ممتا زبریلوی علماء کی کتب پڑھیں تو ایک بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کا مزاج حددرجہ اختلافی تھا۔ مفتی سید شجاعت علی قادری کی تصریح سے جو حقائق شرح صحیح مسلم و دقائق تبیان القرآن میں ہے، اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ؛چنانچہ لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے علمی ذخائر میں یہ تلاش کرناکچھ مشکل نہیں کہ آپ نے کس سے اختلاف نہ کیابلکہ اصل دقت طلب کام یہ ہے کہ وہ کون سا فقیہ ہے جس سے مولانا نے بالکل اختلاف نہ کیا ہو۔ اگر ایسا کوئی شخص نکل آئے تو یہ ایک بڑی تحقیق ہوگی۔‘‘ (ص ۱۷۰)
آگے ایک اور مقام پر ہے:
’’مجدد برحق امام احمد رضانے اکابر صحابہ اور ائمہ مجتہدین(امام اعظم ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل) رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین کے موقف سے اختلاف فرمایا ہے‘‘ (ص ۱۷۳)
یہ حقیقت ہے کہ دیوبندی و بریلی اختلاف کی اصل بنیاد احمد رضاخان کی حسام الحرمین بنی ۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کے ایک معتقد و سوانح نگارقاری احمد پیلی بھیتی ’’سوانح اعلیٰ حضرت‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’۱۲۹۷ ھ میں مولانا شاہ احمد رضاخان نے قلم اٹھایا، کثرت سے کتابیں لکھیں، فتوے صادر کیے ، حرمین شریفین کے سفر میں مشاہیر علماء حرمین سے علماء دیوبندکے خلاف تصدیقات حاصل کیں جن کو حسام الحرمین کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ مولانا احمد رضاخان بریلوی پچاس سال مسلسل اسی جدوجہد میں منہمک رہے یہاں تک کے مستقل دو مکتبہ فکرقائم ہوگئے، بریلوی اور دیوبندی۔دونوں جماعتوں علماء اور عوام کے درمیان تخالف وتصادم کا یہ سلسلہ آج بھی بند نہیں ہوا ہے‘‘ (سوانح اعلیٰ حضرت، ص ۸)
ایک غیر جانبدار شخص جب اس عبارت کو پڑھتا ہے تو یہ ضرور سوچتا ہے کہ تفریق بین المسلمین آخر اتنا بڑا کارنامہ کیوں تھا کہ اس پر زندگی کے پچاس سال لگا دیے جائیں؟ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے۱۹۰۲ء میں پہلی بار اپنی کتاب ’’المعتمد المستند‘‘ شائع کی جس میں پہلی دفعہ علماء دیوبند کی تکفیر کی علماء دیوبند جن میں مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی کی بعض عبارات کو ہدف تنقید بنا کر تکفیر کی گئی۔ رسالہ چونکہ عربی میں تھا تو عوامی سطح پر اسے زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ علماء دیوبند کی طرف سے بھی اس کو اہمیت نہ دی گئی کیونکہ اس سے پہلے مولانا احمد رضاخان بریلوی ندوۃ العلماء کے خلاف بھی کافی کچھ سخت لکھ چکے تھے۔ جیسا کہ ماقبل میں سیرت مولانا محمد علی مونگیری کے حوالہ سے لکھا جاچکا ہے کہ مولانا احمد رضاخان نے ندوہ کے بعض علماء کی تکفیر بھی کی تھی۔علماء دیوبند نے اس تکفیری مہم کو اسی کے قبیل سے سمجھا؛تا ہم بعض علماء نے اس کاجواب دینا شروع کیا اور وعظ و تقاریر میں علی الاعلان کہا جانے لگا کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کا ہم پر بہتان و افتراء ہے، ہمارے عقیدے ہرگز ایسے نہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی نے۱۹۰۵ ء میں ایک منظم فتویٰ مرتب کیاجن میں علماء دیوبند کی بعض نامکمل عبارتوں کو نقل کرکے حجاز مقد س کا سفر کیا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام سے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے کہا کہ ’’ہندوستان میں اسلام پر بڑا سخت وقت آگیا ہے۔ مسلمانوں میں سے ہی بعض ایسے کافرانہ عقائد رکھنے والے پیدا ہوگئے ہیں جن کا عام مسلمانوں پر اثر پڑرہا ہے۔ ہم غرباء اس فتنہ کی روک تھام کررہے ہیں، مگر اس میں ہم کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ آپ حضرات مکہ و مدینہ کے رہنے والے ہیں تو دینی رہنمائی میں ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فتوی پر آپ کی مہریں ہندوستان کے عام مسلمانوں کوکفرو بددینی کے سلاب سے روک سکتی ہیں وگرنہ یہ فتنہ اتنا شدید ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ایمان پر قائم رہنا مشکل ہے۔المدد!المدد! اے لشکر محمدی کے شہسوارو!۔ (ملخصاً حسام الحرمین تمہید)گویا ہندوستانی مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اس فتوی پر علماء حرمین کے دستخطوں اور مہروں پر مشروط تھی ۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تمہید میں فرقہ مرزائیہ وغیرہ کا ذکر بھی کیا جس سے عام تاثر یہ ملا کہ یہ فرقہ اسماعیلیہ (شاہ اسماعیل دیلوی کی طرف منسوب) اور فرقہ قاسمیہ (مولانا قاسم نانوتوی کی طرف منسوب)وغیرہ جدیدفرقہ بمثل مرزائیہ کے ہیں، چونکہ ان دنوں مرزائی فتنہ بام عروج پر تھا۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بہت سے نیک دل علماء نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی ان باتوں کو واقعہ سمجھا اور اس فتوی پر تصدیقیں لکھ دیں، بعض علماء نے احتیاط فرمائی اور اپنی بات مشروط کردی کہ اگر واقعی ان علماء کی طرف جو عقائد منسوب کیے ہیں اور ان میں ہیں تو یہ علماء کافر ہیں۔مولانا احمد رضاخان بریلوی نے مولانا قاسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت اور مولانا رشید احمد گنگوہی پرتکذیب رب العز ت اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی پر تنقیص و اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام لگا کرتکفیر کی ۔
ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا کہ ہندوستان کے ان علماء کرام کے متعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام نے بھی کفر کا فتوی دیا ہے اور جو ان کے کفر میں شک کرے گا، وہ بھی کافر۔علماء حرمین کی تصدیقات نے ہندوستان کے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اس فتوی سے متاثر کیا۔اب جب علماء دیوبند نے دیکھا کہ سادہ لوح مسلمان حرمین کے علماء کے نام سے متاثر ہورہے ہیں تو ان حضرات نے اصل حقیقت کا اظہار ضروری سمجھا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی اس وقت بقیدحیات تھے، جب کہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی وفات پاچکے تھے۔ان دو حضرات نے اسی زمانے میں اپنے بیانات دے کر اپنی طرف منسوب کفریہ عقائد سے براء ت ظاہر کی اور صاف لکھا کہ’’ حسام الحرمین‘‘ میں جو عقائد ہماری طرف منسوب کیے گئے ہیں، وہ محض افتراء ہے، ان بزرگوں کے یہ بیانات اس دور کے رسائل’’السحاب المدار اور قطع الوتین ‘‘وغیرہ میں چھپ گئے تھے۔ مولانا تھانوی نے تو ایک مستقل رسالہ ’’بسط البنان ‘‘ شائع کیا۔
مولانا قسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت کا الزام لگایا گیا،’’ تحذیر الناس‘‘ کی عبارت جو تین مختلف مقامات سے لی گئی ان کو ایک مستقل عبارت بنایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان تین مختلف فقروں کی ترتیب بھی بدل دی گئی یعنی تین فقرے جن میں ایک فقرہ صفحہ۳ کا ، ایک فقرہ ۱۴ کا ور ایک سفحہ ۲۸ کا تھا، ان کو ایسے کیا کہ صفحہ ۱۴ والے فقرے کو پہلے لکھا اور پھر صفحہ ۲۸ والے فقرے کو، صفحہ نمبر ۳ والے فقرے کو سب سے آخر میں لکھا۔اور صفحات کا نمبر تو درکنار ، فقروں کے درمیان امتیازی خط (ڈیش) تک نہ دیا گیا جس سے پڑھنے والا یہی سمجھنے پر مجبور ہو کہ یہ ایک مستقل عبارت ہے۔مولانا احمد رضاخان کی ترتیب بدلنے کایہ اثر ہوا کہ’’ تحذیر الناس‘‘ کے تینوں فقرے جو اپنے مفہوم میں واضح تھے اور جن کو علیحدہ علیحدہ اپنی جگہ دیکھنے پر انکار ختم نبوت کا وہم بھی نہیں ہوتا تھا، اس طرح عبارات کی ترتیب بدلنے سے انکار ختم نبوت کا مفہوم معلوم ہونے لگا۔ تکفیر جیسے مسئلہ میں اس بے احتیاطی پر مولانا احمد رضاخان بریلوی کے متعلق ہر گز یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتاکہ ان سے لاعلمی یا ناسمجھی کی وجہ سے ہوابلکہ مولاا حمد رضاخان بریلوی نے دانستہ طور پر ایسا کیا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تکفیر کے مسئلہ پر شرعی احتیاط کو ہر گز ملحوظ نہیں رکھا۔بہرحال یہ حقیقت بالکل ظاہر ہے کہ بعض اوقات کلام میں معمولی سی تحریف کردینے سے یا اس کی ترتیب الٹ دینے سے مضمون بدل جاتا ہے اور اس میں آسمان زمین کا فرق ہو جاتا ہے۔
مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس اور دیگر تصنیفات کا مطالعہ کریں تو مولانااحمد رضاخا ن بریلوی کا یہ دعویٰ کہ مولانا نانوتوی ختم نبوت زمانی کے منکر ہیں، باطل ہوجاتا ہے ۔ یہاں ایک حوالہ پیر کرم شاہ الازہری کا پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو انہوں نے ’’تحذیر الناس میری نظر میں‘‘ مولانا نانوتوی کے متعلق لکھا ہے:
مولانا احمد رضا خان بریلوی نے۱۹۰۵ ء میں ایک منظم فتویٰ مرتب کیاجن میں علماء دیوبند کی بعض نامکمل عبارتوں کو نقل کرکے حجاز مقد س کا سفر کیا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام سے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے کہا کہ ’’ہندوستان میں اسلام پر بڑا سخت وقت آگیا ہے۔ مسلمانوں میں سے ہی بعض ایسے کافرانہ عقائد رکھنے والے پیدا ہوگئے ہیں جن کا عام مسلمانوں پر اثر پڑرہا ہے۔ ہم غرباء اس فتنہ کی روک تھام کررہے ہیں، مگر اس میں ہم کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ آپ حضرات مکہ و مدینہ کے رہنے والے ہیں تو دینی رہنمائی میں ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فتوی پر آپ کی مہریں ہندوستان کے عام مسلمانوں کوکفرو بددینی کے سلاب سے روک سکتی ہیں وگرنہ یہ فتنہ اتنا شدید ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ایمان پر قائم رہنا مشکل ہے۔المدد!المدد! اے لشکر محمدی کے شہسوارو!۔ (ملخصاً حسام الحرمین تمہید)گویا ہندوستانی مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اس فتوی پر علماء حرمین کے دستخطوں اور مہروں پر مشروط تھی ۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تمہید میں فرقہ مرزائیہ وغیرہ کا ذکر بھی کیا جس سے عام تاثر یہ ملا کہ یہ فرقہ اسماعیلیہ (شاہ اسماعیل دیلوی کی طرف منسوب) اور فرقہ قاسمیہ (مولانا قاسم نانوتوی کی طرف منسوب)وغیرہ جدیدفرقہ بمثل مرزائیہ کے ہیں، چونکہ ان دنوں مرزائی فتنہ بام عروج پر تھا۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بہت سے نیک دل علماء نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی ان باتوں کو واقعہ سمجھا اور اس فتوی پر تصدیقیں لکھ دیں، بعض علماء نے احتیاط فرمائی اور اپنی بات مشروط کردی کہ اگر واقعی ان علماء کی طرف جو عقائد منسوب کیے ہیں اور ان میں ہیں تو یہ علماء کافر ہیں۔مولانا احمد رضاخان بریلوی نے مولانا قاسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت اور مولانا رشید احمد گنگوہی پرتکذیب رب العز ت اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی پر تنقیص و اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام لگا کرتکفیر کی ۔
ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا کہ ہندوستان کے ان علماء کرام کے متعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام نے بھی کفر کا فتوی دیا ہے اور جو ان کے کفر میں شک کرے گا، وہ بھی کافر۔علماء حرمین کی تصدیقات نے ہندوستان کے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اس فتوی سے متاثر کیا۔اب جب علماء دیوبند نے دیکھا کہ سادہ لوح مسلمان حرمین کے علماء کے نام سے متاثر ہورہے ہیں تو ان حضرات نے اصل حقیقت کا اظہار ضروری سمجھا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی اس وقت بقیدحیات تھے، جب کہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی وفات پاچکے تھے۔ان دو حضرات نے اسی زمانے میں اپنے بیانات دے کر اپنی طرف منسوب کفریہ عقائد سے براء ت ظاہر کی اور صاف لکھا کہ’’ حسام الحرمین‘‘ میں جو عقائد ہماری طرف منسوب کیے گئے ہیں، وہ محض افتراء ہے، ان بزرگوں کے یہ بیانات اس دور کے رسائل’’السحاب المدار اور قطع الوتین ‘‘وغیرہ میں چھپ گئے تھے۔ مولانا تھانوی نے تو ایک مستقل رسالہ ’’بسط البنان ‘‘ شائع کیا۔
مولانا قسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت کا الزام لگایا گیا،’’ تحذیر الناس‘‘ کی عبارت جو تین مختلف مقامات سے لی گئی ان کو ایک مستقل عبارت بنایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان تین مختلف فقروں کی ترتیب بھی بدل دی گئی یعنی تین فقرے جن میں ایک فقرہ صفحہ۳ کا ، ایک فقرہ ۱۴ کا ور ایک سفحہ ۲۸ کا تھا، ان کو ایسے کیا کہ صفحہ ۱۴ والے فقرے کو پہلے لکھا اور پھر صفحہ ۲۸ والے فقرے کو، صفحہ نمبر ۳ والے فقرے کو سب سے آخر میں لکھا۔اور صفحات کا نمبر تو درکنار ، فقروں کے درمیان امتیازی خط (ڈیش) تک نہ دیا گیا جس سے پڑھنے والا یہی سمجھنے پر مجبور ہو کہ یہ ایک مستقل عبارت ہے۔مولانا احمد رضاخان کی ترتیب بدلنے کایہ اثر ہوا کہ’’ تحذیر الناس‘‘ کے تینوں فقرے جو اپنے مفہوم میں واضح تھے اور جن کو علیحدہ علیحدہ اپنی جگہ دیکھنے پر انکار ختم نبوت کا وہم بھی نہیں ہوتا تھا، اس طرح عبارات کی ترتیب بدلنے سے انکار ختم نبوت کا مفہوم معلوم ہونے لگا۔ تکفیر جیسے مسئلہ میں اس بے احتیاطی پر مولانا احمد رضاخان بریلوی کے متعلق ہر گز یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتاکہ ان سے لاعلمی یا ناسمجھی کی وجہ سے ہوابلکہ مولاا حمد رضاخان بریلوی نے دانستہ طور پر ایسا کیا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تکفیر کے مسئلہ پر شرعی احتیاط کو ہر گز ملحوظ نہیں رکھا۔بہرحال یہ حقیقت بالکل ظاہر ہے کہ بعض اوقات کلام میں معمولی سی تحریف کردینے سے یا اس کی ترتیب الٹ دینے سے مضمون بدل جاتا ہے اور اس میں آسمان زمین کا فرق ہو جاتا ہے۔
مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس اور دیگر تصنیفات کا مطالعہ کریں تو مولانااحمد رضاخا ن بریلوی کا یہ دعویٰ کہ مولانا نانوتوی ختم نبوت زمانی کے منکر ہیں، باطل ہوجاتا ہے ۔ یہاں ایک حوالہ پیر کرم شاہ الازہری کا پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو انہوں نے ’’تحذیر الناس میری نظر میں‘‘ مولانا نانوتوی کے متعلق لکھا ہے:
’’یہ کہنا درست نہیں سمجھتا کہ کہ مولانا ناتوی عقیدہ ختم نبوت کے منکر تھے کیونکہ یہ اقتباسات بطور عبارۃ النص اور اشارۃ النص اس امر پر بلا شبہ دلالت کرتے ہیں کہ مولانا ختم نبوت زمانی کو ضروریات دین سے یقین کرتے تھے اور اس کے دلائل کوقطعی اور متواتر سمجھتے تھے۔ انہوں نے اس بات کوصراحۃً ذکر کیا ہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت زمانی کا منکر ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (تحذیر الناس میری نظر میں ص ۵۸)
مولانا رشید احمد گنگوہی پر تکذیب رب العزت کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کا فتوی مع مہر خود مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں ہے کہ ایسا شخص جو خدا کو بالفعل جھوٹا مانے تو ایسے شخص کو کافر تو درکنار، فاسق بھی نہ کہو۔مولانا احمد رضاخان بریلوی نے حسام الحرمین میں مولانا رشید احمد گنگوہی کی طرف منسوب کرکے جس فتوے کا ذکرکیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں اور فتاوی رشیدیہ میں اس کے برعکس ہے۔چنانچہ ۱۳۲۳ھ میں مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے مولانا احمد رضاخان کے ایک عقیدت مندمیاں جی عبدالرحمن کے ایک رسالہ میں اس فتوی کا ذکر دیکھا تو اسی وقت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں گنگوہ عریضہ لکھا کہ مولانا اس مضمون کے فتوے کی نسبت کی جارہی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ تو جواب آیا کہ
’’یہ سراسر افتراء اور بہتان ہے ۔بھلا میں ایسے کیسے لکھ سکتا ہوں؟‘‘
مولانا رشید احمد گنگوہی کے اس جواب کا ذکر مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے اپنے متعدد رسائل ’’اسحاب المدار‘‘ اور’’ تزکیۃ الخواطر‘‘ وغیرہ میں کیا جو مولانا احمد رضاخان صاحب کی زندگی میں ا ن تک پہنچائے گئے۔
ادھر جب حرمین کے علماء کو یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان میں جن علماء کے کفر کی تصدیقیں کروائی ہیں، وہ حضرات اور ان کے متبعین ان عقائد سے براء ت کا اظہار کررہے ہیں اور مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اس ضمن میں غلط بیانی سے کام لیا ہے تو ایسی صورت حال میں عرب کے علماء نے دیوبند مکتب فکر کے علماء سے رجوع کرکے معاملہ کی تحقیق کرنا ضروری سمجھا۔ ان حضرات نے ۲۶؍ سوالات مرتب کیے اور علماء دیوبند سے ان کا جواب چاہا۔ یہ سب سوالات علماء دیوبند کے عقائد اور ان کے مسلک و مشرب کے متعلق تھے۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے ان کا مفصل و مدلل جواب تحریر فرمایا جس پر اس دور کے جماعت دیوبند کے قریباً سب ہی اکابرو مشاہیر نے تصدیقات لکھیں اورحرمین شریفین کے علما ء اور ان کے علاوہ مصر و شام کے ممالک کے اہل فتاوی کے پاس وہ جواب بھیجا گیا جس پر ان علماء نے تصدیق و تائید فرمائی کہ یہی عقیدے جو علماء دیوبند نے تحریر فرمائے ہیں، اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے ہیں اور ان میں کوئی عقیدہ بھی اہل سنت کے خلاف نہیں۔یہ سارے سوالات وجوابات اور حرمین شریفین اور دوسرے ممالک کے لگ بھگ ۴۶؍ علماء کی تصدیقات اسی زمانہ میں جب کہ حسام الحرمین کو شائع ہوئے، کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، ایک ضخیم رسالہ کی صورت میں ’’التصدیقات لدفع التلبیسات ‘‘کے نا م سے شائع ہوگئی تھیں۔واقعہ یہ ہے کہ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی اور ان کے متبعین ’’حسام الحرمین‘‘ میں موجود فتوی سے باز آتے؛ لیکن ایک غیر جانبدار شخص یہ سو چنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آیا وہ کون سے عوامل کارفرما تھے کہ علماء دیوبند کی طرف سے اتنی واضح وضاحت آنے کے باوجود دوسری طرف سے تکفیری مہم میں بال برابر بھی فر ق نہ آیا؟
مولانا حشمت علی خان پیلی بھیتی کی’’ الصوام الہندیہ‘‘ کے جواب میں مولانا حشمت علی کی ہی تکفیری سرگرمیوں کے طفیل دیوبندی مکتب فکر کے مولانا عبدالرؤف جگن پوری کی طرف سے ایک استفتاء ہندوستان بھر کے علماء کے سامنے پیش کیا گیا کہ مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے نزدیک مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور شاہ اسماعیل دہلوی معاذاللہ کافر ہیں تو جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا واقعی بقول مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے حضرات اکابر علماء دیوبند کافر ہیں؟ جواب میں ہندوستان بھر کے تمام بڑے بڑے دینی مراکز کے تقریباً ۶۱۶ علماء نے علماء دیوبند کے بارے میں لکھا کہ علما ء دیوبند مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔ان تمام علماء کے ناموں کی فہرست مولانا عبدالرؤف جگن پوری نے ’’براء ت الابرار عن مکائد الاشرار‘‘ نامی کتاب میں شائع کی جو کہ ۱۹۳۴ء میں طبع ہوئی۔
صاحب مضمون نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی، علامہ معین الدین اجمیری اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے متعلق یہ لکھا کہ یہ حضرات علماء دیوبند کی عبارات کو غلط ،گستاخانہ اور کفریہ تو سمجھتے تھے، لیکن علماء دیوبند کو کافر کہنے سے زبان کو روکے رکھا تھا۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس ضمن میں صاحب مضمون نے صحیح معنی میں بریلوی ہونے کا حق ادا کیا ہے کیونکہ ان حضرات کا موقف بالکل اس کے برعکس ہے جیسا کہ ان کی کتب اور ان کے شاگردں کی کتب سے ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، چنانچہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز علماء کے استاذ جناب مولانا عطا ء محمد بندیولوی گولڑوی ’’سیف العطاء ‘‘ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ گولڑی علماء دیوبندکی تکفیر نہیں کرتے تھے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلی لکھتے ہیں ’’ہمارے اکابر نے اعیان دیوبند کی تکفیر نہیں کی ، اس واسطے جو حقوق اہل اسلام کے ہیں، ان سے ان کو کبھی محروم نہ رکھا‘‘ (الطاری الداری حصہ اول ص ۱۶)۔ جبکہ مولانا معین الدین اجمیری مرحو م معمولات میں مولانا احمد رضاخان بریلوی سے حد درجہ اختلاف رکھتے تھے، اس کا اندازہ مولانا معین الدین اجمیری کی ’’تجلیات انوارالمعین‘‘ کے مطالعہ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب خاص مولانا احمد رضاخان بریلوی کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ مولانا معین الدین اجمیری کے سامنے جب علماء دیوبند کی تکفیر کا سوال آیا تو آپ نے علماء دیوبند کے متعلق فرمایا کہ
ادھر جب حرمین کے علماء کو یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان میں جن علماء کے کفر کی تصدیقیں کروائی ہیں، وہ حضرات اور ان کے متبعین ان عقائد سے براء ت کا اظہار کررہے ہیں اور مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اس ضمن میں غلط بیانی سے کام لیا ہے تو ایسی صورت حال میں عرب کے علماء نے دیوبند مکتب فکر کے علماء سے رجوع کرکے معاملہ کی تحقیق کرنا ضروری سمجھا۔ ان حضرات نے ۲۶؍ سوالات مرتب کیے اور علماء دیوبند سے ان کا جواب چاہا۔ یہ سب سوالات علماء دیوبند کے عقائد اور ان کے مسلک و مشرب کے متعلق تھے۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے ان کا مفصل و مدلل جواب تحریر فرمایا جس پر اس دور کے جماعت دیوبند کے قریباً سب ہی اکابرو مشاہیر نے تصدیقات لکھیں اورحرمین شریفین کے علما ء اور ان کے علاوہ مصر و شام کے ممالک کے اہل فتاوی کے پاس وہ جواب بھیجا گیا جس پر ان علماء نے تصدیق و تائید فرمائی کہ یہی عقیدے جو علماء دیوبند نے تحریر فرمائے ہیں، اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے ہیں اور ان میں کوئی عقیدہ بھی اہل سنت کے خلاف نہیں۔یہ سارے سوالات وجوابات اور حرمین شریفین اور دوسرے ممالک کے لگ بھگ ۴۶؍ علماء کی تصدیقات اسی زمانہ میں جب کہ حسام الحرمین کو شائع ہوئے، کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، ایک ضخیم رسالہ کی صورت میں ’’التصدیقات لدفع التلبیسات ‘‘کے نا م سے شائع ہوگئی تھیں۔واقعہ یہ ہے کہ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی اور ان کے متبعین ’’حسام الحرمین‘‘ میں موجود فتوی سے باز آتے؛ لیکن ایک غیر جانبدار شخص یہ سو چنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آیا وہ کون سے عوامل کارفرما تھے کہ علماء دیوبند کی طرف سے اتنی واضح وضاحت آنے کے باوجود دوسری طرف سے تکفیری مہم میں بال برابر بھی فر ق نہ آیا؟
مولانا حشمت علی خان پیلی بھیتی کی’’ الصوام الہندیہ‘‘ کے جواب میں مولانا حشمت علی کی ہی تکفیری سرگرمیوں کے طفیل دیوبندی مکتب فکر کے مولانا عبدالرؤف جگن پوری کی طرف سے ایک استفتاء ہندوستان بھر کے علماء کے سامنے پیش کیا گیا کہ مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے نزدیک مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور شاہ اسماعیل دہلوی معاذاللہ کافر ہیں تو جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا واقعی بقول مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے حضرات اکابر علماء دیوبند کافر ہیں؟ جواب میں ہندوستان بھر کے تمام بڑے بڑے دینی مراکز کے تقریباً ۶۱۶ علماء نے علماء دیوبند کے بارے میں لکھا کہ علما ء دیوبند مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔ان تمام علماء کے ناموں کی فہرست مولانا عبدالرؤف جگن پوری نے ’’براء ت الابرار عن مکائد الاشرار‘‘ نامی کتاب میں شائع کی جو کہ ۱۹۳۴ء میں طبع ہوئی۔
صاحب مضمون نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی، علامہ معین الدین اجمیری اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے متعلق یہ لکھا کہ یہ حضرات علماء دیوبند کی عبارات کو غلط ،گستاخانہ اور کفریہ تو سمجھتے تھے، لیکن علماء دیوبند کو کافر کہنے سے زبان کو روکے رکھا تھا۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس ضمن میں صاحب مضمون نے صحیح معنی میں بریلوی ہونے کا حق ادا کیا ہے کیونکہ ان حضرات کا موقف بالکل اس کے برعکس ہے جیسا کہ ان کی کتب اور ان کے شاگردں کی کتب سے ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، چنانچہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز علماء کے استاذ جناب مولانا عطا ء محمد بندیولوی گولڑوی ’’سیف العطاء ‘‘ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ گولڑی علماء دیوبندکی تکفیر نہیں کرتے تھے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلی لکھتے ہیں ’’ہمارے اکابر نے اعیان دیوبند کی تکفیر نہیں کی ، اس واسطے جو حقوق اہل اسلام کے ہیں، ان سے ان کو کبھی محروم نہ رکھا‘‘ (الطاری الداری حصہ اول ص ۱۶)۔ جبکہ مولانا معین الدین اجمیری مرحو م معمولات میں مولانا احمد رضاخان بریلوی سے حد درجہ اختلاف رکھتے تھے، اس کا اندازہ مولانا معین الدین اجمیری کی ’’تجلیات انوارالمعین‘‘ کے مطالعہ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب خاص مولانا احمد رضاخان بریلوی کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ مولانا معین الدین اجمیری کے سامنے جب علماء دیوبند کی تکفیر کا سوال آیا تو آپ نے علماء دیوبند کے متعلق فرمایا کہ
’ یہ حضرات مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں‘‘ (مولانا حکیم سید برکات احمد، سیرت اور علوم )
مذکورہ بالا مشائخ کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ حضرات علماء دیوبند کی بعض عبارات کو گستاخانہ ہی مانتے تھے لیکن تکفیر سے کف لسان کرتے تھے، صاحب مضمون کی حد درجہ غلط بیانی ہے ۔
رد بریلویت کی وجوہات اور پس منظر پر ایک نظر
سارے پس منظر سے ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تکفیر جیسے مسئلہ پر جس شرعی احتیاط کو ملحوظ رکھناتھا، وہ نہ رکھا اوراپنی عمر کے پچاس سال ہندوستان کے احناف کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے پر برباد کر دیے۔ صاحب مضمون نے دیوبندی مکتب فکرکے متعلق یہ لکھا کہ علماء دیوبند کی طرف سے کوئی فتوی عقائد میں یا معمولات میں مولانا احمد رضاخان بریلوی کے خلاف نہیں شائع ہو،اگر ہوا بھی تو فاضل بریلوی کی وفات کے ۲۵، ۳۰ سال بعد ؛حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ دیوبند مکتب فکر کی طرف سے مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری کے رسائل ہی کا مطالعہ کرلیا جائے تو اس کذب کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی زندگی میں ہی ’’الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب‘‘ لکھی۔ مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے متعدد رسائل فاضل بریلوی کی حیات میں لکھے اور مناظروں کا چیلنج دیا ۔ فاضل بریلوی کے اصرار کہ مناظرہ کے لیے مدمقابل مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری کی بجائے مولانا اشرف علی تھانوی اگر تقریری مناظرہ کریں گے تو وہ مناظرہ کریں گے، کے جواب میں مولانا اشرف علی تھانوی جیسے معتدل مزاج شخصیت نے بریلوی دیوبندی قضیہ کے حل کے لیے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی اس رائے کو منظور کرلیا اور تقریری مناظرہ کے لیے رضامندی کی تحریر بھی دے دی۔ لیکن افسوس! مولانا احمد رضاخان بریلوی کی مناظرہ سے پہلو تہی کی وجہ سے یہ مناظرہ منعقد نہ ہوسکا۔ اس پورے واقعہ کی روداد ’’ القاصمتہ الظہرفی بلند شہر‘‘ نامی رسالہ میں اسی زمانہ میں چھپ گئی تھی۔
مولانا انور شاہ کشمیری کے متعلق مضمون نگار نے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے مقدمہ بہاولپور میں بریلوی حضرات کے متعلق اپنے بیان میں لکھا کہ وہ کسی صورت بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے تو مولانا انور شاہ کشمیری کے اس بیان کا مقصد جو سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ تھا کہ بریلوی عوام کی وہ تکفیر نہیں کرتے کیونکہ خاص علم غیب کے رد کے عنوان پر تومولانا کا اپنا رسالہ ’’سہم الغیب فی کبد اہل الریب‘‘ موجود ہے۔ (یہ بھی یاد رہے کہ مقدمہ بہاولپو میں شیخ الجامعہ غلام محمد گھوٹوی، خلیفہ مجاز جناب پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے قادیانیوں کے مقابل علماء بریلویہ کی بجائے علماء دیوبند کے چوٹی کے علماء کو مدعوکیا جن میں علامہ انور شاہ کشمیری ، مفتی محمد شفیع اور مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری وغیرہ شامل تھے)۔
اس کے علاو بریلوی مکتب فکر کی کتب کی بعض عبارات، مثلاً مولانا احمد رضاخان بریلوی کی وصیت جو کہ وصایا شریف کے نام سے چھپی تھی، میں مولانا حسنین رضاخان کی عبارت اور سید ایوب علی رضوی(سید ایوب علی رضوی بریلوی مولانا احمد رضاخان بریلوی کے خلفاء میں سے تھے ) کی نغمتہ الروح کی بعض عبارات پر ہندوستان بھر سے ۳۹۰ ؍کے لگ بھگ علماء نے کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا ۔ مولانا عبدالرؤف جگن پوری صاحب نے ان ناموں کی فہرست ’’خنجر ایمانی بر حلقوم رضاخانی‘‘ کے نام سے شائع کی تھی۔ہاں البتہ دیوبندی بریلوی نزاع کو ختم کرنے کی دوسری اور بڑی کاوش۱۳۵۴ھ میں فاضل بریلوی کی وفات کے بعدمولانا منظور نعمانی نے کی۔ مولانا منظور نعمانی اور مولانا حشمت علی خان خلیفہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کے درمیان عبارات کے موضوع پر لاہور میں مناظرہ ہونا طے پایا تھا جس کے لیے علامہ اقبال ؒ ،پروفیسر علامہ اصغر علی روحی اور شیخ صادق حسن امرتسری حکَم طے پائے تھے۔افسوس دیوبندی، بریلوی نزاع کے خاتمے کی یہ کاوش بھی رائیگاں گئی۔مکمل تفصیل مولانا منظور نعمانی کے رسالہ ’’فیصلہ کن مناظرہ‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)
پاکستان میں بریلوی مکتب فکر کی صحیح نمائندگی مفتی احمد یار خان نعیمی اور مولانا محمد عمر اچھروی نے کی۔ ان دو حضرات نے بریلوی مکتب فکر میں رائج باطل عقائد ومعمولات اور خرافات کو دلائل سے مزین کیا۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ مفتی احمد یار نعیمی کی جاء الحق اور مولانا محمد عمر اچھروی کی مقیاس حنفیت نے بریلوی مذہب کو مدون کیا۔ مولانا سرفراز خان صفدر کی جملہ کتب ان دو کتب جا ء الحق اور مقیاس حنفیت میں درج مسائل کو بنیاد بنا کر ہی لکھی گئی ہیں۔ اس سے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ قیام پاکستان کے بعد ان دو حضرات کی کتب ہی دیوبندی، بریلوی نزاع (جو تقسیم کے وقت کہیں دب چکا تھا) کو اجاگر کرنے کا باعث بنی۔جواباً علماء دیوبند کی طرف سے مولانا غلام اللہ خان اور مولانا سرفراز خان صفدر کی صورت میں رد عمل آنا فطری تھا۔
صاحب مضمون نے مولانا حسین علی واں بھچراں کے متعلق یہ لکھا کہ انہوں نے اور بعد میں ان کے شاگردوں نے پاکستان میں دیوبندی، بریلوی اختلاف کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ بھی کہ مولاناحسین علی واں بھچراں، پیر مہر علی شاہ جیسے صوفی مست بزرگ کو مناظرہ کا چیلنج دیتے رہے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ مولانا حسین علی واں بھچراں اور پیر مہر علی شاہ کے درمیان علمی مسائل پر بحث کو دیوبندی ، بریلوی نزاع پر قیاس نہیں کیا جاسکتااور مولانا غلام محمد گھوٹوی اس سارے واقعہ میں آپ کے ساتھ تھے اور مولانا حسین علی واں بھچراں سے بات کرنے کے لیے پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے آپ ہی کو منتخب کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جب مولانا غلام محمد گھوٹوی سے علماء دیوبند کے اکابر اربعہ کے کفرو ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (مولانا غلام محمد گھوٹوی) نے فرمایا کہ
’’یہ اکابر علماء دیوبند ہرگز کافر نہیں، بلکہ بڑے اولیاء اللہ ہیں‘‘ (براء ۃ الابرار ص۹۸)
پھر مقدمہ بہاولپور میں شہادت دینے کے لیے دیوبند کے فاضلین کا انتخاب بھی اس تاثر کو غلط ثابت کرتا ہے کہ خانقاہ گولڑہ شریف سے وابستہ حضرات کاعلماء دیوبند سے اختلاف مولانا احمد ضاخان بریلوی اور ان کے متبعین کے طرز کا تھا۔ مولانا حسین علی واں بھچروی کے متعلق یہ کہنا کہ ’مماتی فکر آنجناب کی فکر کا شاخسانہ تھی ‘قطعاً درست نہیں جس کا جواب مولانا بھچروی ہی کے شاگرد مولانا سرفراز خان صفدر نے تفصیلاًاپنی کتاب’’ سماع موتی‘‘ میں دے دیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ پیر مہر علی شاہ صاب مرحوم علم غیب کے متعلق نظریہ میں علماء دیوبند کے ساتھ ہیں ۔ اعلاء کلمتہ اللہ میں پیر صاحب لکھتے ہیں کہ جس خبر کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسم خبر دیتے ہیں، وہ وحی،کشف، الہام کے ذریعہ سے دیتے ہیں اور یہ علم غیب نہیں(مخلصاً)۔ دوسرا ایک جگہ مرزا قادیانی کے اس قول کا کہ قیامت سات ہزار سال سے پہلے نہیں آسکتی، کا رد کرتے ہوئے ان نصوص کے منافی قرار دیا جن میں ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اب دیکھا جائے تو فاضل بریلوی اور اس کے متبعین کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوع قیامت کا کہ کب آئے گی، اس کا بھی علم تھا۔
صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ پاکستان میں فاضل بریلوی پر تحقیقی انداز میں سب سے پہلے ڈاکٹر مسعود نقشبندی اور حکیم محمد موسیٰ امرتسری نے کام کیا۔ جب کہ ہم ماقبل میں یہ لکھ آئے ہیں کہ فاضل بریلوی کی فکری ، نظریاتی اور اعتقادی سوچ کوپاکستان میں سے پہلے مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کتابی شکل میں مدون کرچکے تھے اور اسی کے رد عمل کے طور پرمولانا سرفراز خان صفدر جیسی شخصیات نے ہندوستان کے اکابر علماء کی تعلیمات کے تحفظ کے لیے علمی اندازمیں قلم اٹھایا۔مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کے متعلق ہم ماقبل میں لکھ چکے ہیں کہ ہندوستان کے اکابرعلماء سے ان حضرات نے اختلاف کیا۔
پنجاب کے دیگر مشائخ کے موقف کا ہم اگر باغور جائزہ لیں تو پیر مہر علی شاہ مرحوم سمیت پنجاب کے بڑے علمی گھرانے خانقاہ سیال شریف سے منسلک تھے۔مولانا ذاکر صاحب بانی جامعہ محمدی شریف جھنگ (جن کا تذکرہ خیر صاحب مضمون نے بھی کیا ہے) خواجہ ضیاء الدین سیالوی مرحوم جو کہ خواجہ قمرالدین سیالوی کے والد تھے، کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب خواجہ صاحب دیوبند تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ’’یہاں آکر میں نے اصلی حنفیت دیکھی ہے‘‘ (ملاحظہ کیجیے ہوالمعظم اور جامعہ محمدی کا مجلہ الجامعہ ستمبر۱۹..) معلوم ہوا کہ ہنددوستان میں اصل حنفیت کے علمبردار دیوبندی مکتب فکر کے علماء تھے۔ خانقاہ سیال شریف کے ہی خواجہ قمرالدین سیالوی کا مولانا قاسم نانوتوی کے متعلق یہ کہنا کہ میں ان کو اعلیٰ درجہ کا مسلمان مانتا ہوں (ملاحظہ کیجیے ڈھول کی آواز ) اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ فاضل بریلوی کے فتوی حسام الحرمین کی خانقاہ سیال شریف والوں کے ہاں کتنی قدرو قیمت تھی۔ اس کے علاوہ خانقاہ شرقپور شریف، خانقاہ جلال پور شریف ، خانقاہ سراجیاں وغیرہما کے مشائخ نے بھی احمد رضاخان بریلوی کی تکفیری مہم کا ساتھ نہ دیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مطالعہ بریلویت جلد۱)
اس سارے پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دیوبندی معمولات و عقائد کو دیوبندی بریلوی نزا ع سے پہلے اور بعد کے علماء کی تائید حاصل تھی اور پنجاب کے مشائخ کا بعض جزئیات میں علماء دیوبند سے اختلاف کے باوجود آپس میں باہمی محبت و پیار کا تعلق قائم تھا ۔
دوسری بات یہ کہ پیر مہر علی شاہ صاب مرحوم علم غیب کے متعلق نظریہ میں علماء دیوبند کے ساتھ ہیں ۔ اعلاء کلمتہ اللہ میں پیر صاحب لکھتے ہیں کہ جس خبر کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسم خبر دیتے ہیں، وہ وحی،کشف، الہام کے ذریعہ سے دیتے ہیں اور یہ علم غیب نہیں(مخلصاً)۔ دوسرا ایک جگہ مرزا قادیانی کے اس قول کا کہ قیامت سات ہزار سال سے پہلے نہیں آسکتی، کا رد کرتے ہوئے ان نصوص کے منافی قرار دیا جن میں ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اب دیکھا جائے تو فاضل بریلوی اور اس کے متبعین کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوع قیامت کا کہ کب آئے گی، اس کا بھی علم تھا۔
صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ پاکستان میں فاضل بریلوی پر تحقیقی انداز میں سب سے پہلے ڈاکٹر مسعود نقشبندی اور حکیم محمد موسیٰ امرتسری نے کام کیا۔ جب کہ ہم ماقبل میں یہ لکھ آئے ہیں کہ فاضل بریلوی کی فکری ، نظریاتی اور اعتقادی سوچ کوپاکستان میں سے پہلے مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کتابی شکل میں مدون کرچکے تھے اور اسی کے رد عمل کے طور پرمولانا سرفراز خان صفدر جیسی شخصیات نے ہندوستان کے اکابر علماء کی تعلیمات کے تحفظ کے لیے علمی اندازمیں قلم اٹھایا۔مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کے متعلق ہم ماقبل میں لکھ چکے ہیں کہ ہندوستان کے اکابرعلماء سے ان حضرات نے اختلاف کیا۔
پنجاب کے دیگر مشائخ کے موقف کا ہم اگر باغور جائزہ لیں تو پیر مہر علی شاہ مرحوم سمیت پنجاب کے بڑے علمی گھرانے خانقاہ سیال شریف سے منسلک تھے۔مولانا ذاکر صاحب بانی جامعہ محمدی شریف جھنگ (جن کا تذکرہ خیر صاحب مضمون نے بھی کیا ہے) خواجہ ضیاء الدین سیالوی مرحوم جو کہ خواجہ قمرالدین سیالوی کے والد تھے، کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب خواجہ صاحب دیوبند تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ’’یہاں آکر میں نے اصلی حنفیت دیکھی ہے‘‘ (ملاحظہ کیجیے ہوالمعظم اور جامعہ محمدی کا مجلہ الجامعہ ستمبر۱۹..) معلوم ہوا کہ ہنددوستان میں اصل حنفیت کے علمبردار دیوبندی مکتب فکر کے علماء تھے۔ خانقاہ سیال شریف کے ہی خواجہ قمرالدین سیالوی کا مولانا قاسم نانوتوی کے متعلق یہ کہنا کہ میں ان کو اعلیٰ درجہ کا مسلمان مانتا ہوں (ملاحظہ کیجیے ڈھول کی آواز ) اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ فاضل بریلوی کے فتوی حسام الحرمین کی خانقاہ سیال شریف والوں کے ہاں کتنی قدرو قیمت تھی۔ اس کے علاوہ خانقاہ شرقپور شریف، خانقاہ جلال پور شریف ، خانقاہ سراجیاں وغیرہما کے مشائخ نے بھی احمد رضاخان بریلوی کی تکفیری مہم کا ساتھ نہ دیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مطالعہ بریلویت جلد۱)
اس سارے پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دیوبندی معمولات و عقائد کو دیوبندی بریلوی نزا ع سے پہلے اور بعد کے علماء کی تائید حاصل تھی اور پنجاب کے مشائخ کا بعض جزئیات میں علماء دیوبند سے اختلاف کے باوجود آپس میں باہمی محبت و پیار کا تعلق قائم تھا ۔
عددی اکثریت
بریلویت کا مدار مولانا احمد رضاخان بریلوی کی اصولی نسبت پر ہے۔پس جو لوگ بعض معمولات میں مولانا احمد رضاخان کے ہم نوا ہوں، لیکن دوسرے فرقوں کو مسلمان جانتے ہوں تو ایسے لوگ بریلوی نہیں۔ کیوں کہ بریلوی مکتب فکر کے علماء نے جو بریلوی سنی ہونے کا معیا ررکھا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ عقائد و نظریا ت میں فاضل بریلوی کا ہم نوا ہو۔ اگر کوئی شخص فاضل بریلوی کے عقائد ونظریات سے اتفاق نہیں کرتا تو ایسا شخص بریلوی مکتب فکر کے علماء کے نزدیک مسلمان نہیں جیسا کہ ان کی معتبر کتابوں الصوارم الہندیہ، فتاوی صدرالافاضل وغیرہ میں درج ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ایک بریلوی وہ ہے جو’’ حسام الحرمین‘‘ کے فتوی کو مانتا ہو، اور موجودہ حرمین کے علماء کو مسلمان نہ جانتا ہو۔ اس معیار کو مدنظر رکھیں تو بہت سے لوگ معمولات میں توشاید بریلوی مکتب فکر کے ہم نوا ہوں، لیکن نظریات میں یکسر اختلاف کرتے ہیں۔ مشائخ و عوام میں سے وہ جو دیوبندی مکتب فکر کے علماء کی تکفیرنہیں کرتے، احمد رضاخان بریلوی کے ہم نوا نہیں ہیں۔ جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اماموں کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں، ہرگز بریلوی نہیں۔
مثال کے طور پر مولوی حشمت علی پیلی بھیتی صاحب الصوارم الہندیہ کا سید محمدکچھوچھوی پر فتوی تکفیر محض اس بنا پر تھا کہ انہوں نے جمعہ کی نماز ایک دیوبندی امام کی اقتداء میں پڑھی تھی۔ یہ فتوی بعد میں انہوں نے ’ ’ ستر باادب سوالات‘‘ نام کے رسالہ میں چھاپ کر تقسیم کیا ۔ دوسری مثال جسٹس پیر کر م شاہ الازہری ہیں جنہوں نے ایک مکتوب میں دیوبندی مکتب فکر کے مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس کی تعریف کی تھی۔جواباً بریلوی مکتب فکرکے بہت سے علماء کی جانب سے آپ کی تکفیراور رد میں کتابیں لکھی گئیں، جیسا کہ’’ علمی محاسبہ اور جسٹس کرم شاہ کا تنقیدی جائز ہ‘‘ وغیرہ کتابیں قابل ذکر ہیں۔تیسری مثال مفتی خلیل احمد خان صاحب برکاتی کی ہے۔آپ نے علماء دیوبند کے بارے اپنے تکفیری موقف سے رجوع کیا اور ایک کتاب بنام ’’انکشاف حق‘‘ لکھی جس میں مولانا احمد رضاخان بریلوی کے تکفیری فتوی پر عالمانہ و فاضلانہ بحث کی۔ کتاب ہی کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محض احمد رضاخان کے تکفیری موقف سے رجوع کی بابت جماعت بریلویہ کی طرف سے ان پرکیسے کفر کے فتوے صادر کیے گئے۔
اس سارے پس منظر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بریلوی صرف وہی لوگ ہیں جو مولانا احمد رضاخان سے اپنی نسبت جوڑتے ہیں اور فتوی تکفیر میں مولانا کے ہم نوا ہیں۔ اب جتنے بھی علماء کے نام صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں لکھے ہیں جیسا کہ مفتی مظہر اللہ شاہ دہلوی ، پیر کرم شاہ الازہری ، مولانا سلطان محمود پپلانوالی ،مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد ذاکر بانی جامعہ محمدیہ جھنگ، علامہ حکیم محمود احمد برکاتی، خواجہ محمد عمر بیر بلوی ، پیر سید نصیرالدین گولڑوی ، وغیر ہ اور مشائخ میں سے پیر مہر علی شاہ گولڑوی وغیرہم، ان کو اس معیار پرپرکھ لیں؛ اگر وہ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے علماء دیوبند کے متعلق تکفیری فتوی سے متفق ہیں تو بریلوی ہیں، وگرنہ انہیں بریلوی فکر کا تو کجا حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے فتوی کی رو سے مسلمان بھی نہیں کہا جاسکتا جس کا ادراک ہر صاحب ذی روح کے علاوہ صاحب مضمون کو بھی ہے اور اس ضمن میں وہ مولانا شاہ وجیہ الدین کا ایک اقتباس بھی اپنے مضمون میں نقل کرتے ہیں جس کے آخر کی سطر میں یہی لکھا ہے۔
دیوبندی بریلوی نزاع کیسے ختم ہو؟
حسام الحرمین کے جواب میں لکھی جانے والی کتاب ’’المہندعلی المفند‘‘جسے مولانا عبدالستار خان نیازی مفید کتاب لکھتے ہیں۔ (دیکھیے اتحاد بین المسلمین ص ۱۰۶ ) اسی کتاب میں ایک ااور جگہ لکھتے ہیں کہ
’’المہند کی اشاعت کے بعد تمام غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں اور موافقت کی راہ کھل جاتی ہے۔‘‘ (ایضاً)
مولانا عبدالستار خان نیازی کی طرح دیگر بریلوی علماء بھی اس قسم کی جرأت کا مظاہرہ کریں تو اہل سنت کے دو دھڑوں کو قریب آنے میں مدد ملے گی ۔ اس کے علاوہ نزاعی معاملات کو مجدد الف ثانیؒ ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے افکارو نظریات کی روشنی میں حل کریں ۔
ہم نے اختصار کے ساتھ دیوبندی بریلوی نزاع کے موضوع پر لکھے جانے والے مضمون کی بعض خامیوں پرحقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے اور بعض ایسے عوامل جن کا صاحب مضمون نے دانستہ یا نادانستہ طور پر تذکرہ نہیں کیا، یا کیا بھی تو حقائق سے چشم پوشی کرکے، ہم نے اس مضمون میں مناسب الفاظ میں تذکرہ کردیا ہے ۔ صاحب مضمون نگار جناب سراج الدین امجد کی طرف سے اس پرمزید کچھ لکھاگیا تو ان شاء اللہ اس پر ہم مزیدکچھ عرض کردیں گے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے علماء کے درمیان محبت و اخوت کی وہ فضا پھر سے قائم کردے جو مولانا احمد رضاخان بریلوی سے پہلے تھی۔ آمین!
ہم نے اختصار کے ساتھ دیوبندی بریلوی نزاع کے موضوع پر لکھے جانے والے مضمون کی بعض خامیوں پرحقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے اور بعض ایسے عوامل جن کا صاحب مضمون نے دانستہ یا نادانستہ طور پر تذکرہ نہیں کیا، یا کیا بھی تو حقائق سے چشم پوشی کرکے، ہم نے اس مضمون میں مناسب الفاظ میں تذکرہ کردیا ہے ۔ صاحب مضمون نگار جناب سراج الدین امجد کی طرف سے اس پرمزید کچھ لکھاگیا تو ان شاء اللہ اس پر ہم مزیدکچھ عرض کردیں گے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے علماء کے درمیان محبت و اخوت کی وہ فضا پھر سے قائم کردے جو مولانا احمد رضاخان بریلوی سے پہلے تھی۔ آمین!