علم دین کی اہمیت
محمدداؤدالرحمن علی
علم دین کی اہمیت:۔
اسلام میں علم کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا ذکر ہر جگہ فصیح و بلیغ انداز میں کیا گیا ہے، اور یہ کوئی عام بات نہیں۔ دین اسلام کی اساس ہی تعلیم و تعلم، تربیت و تدریس پر ہے، اور اس حوالے سے قرآن و سنت میں ہمیں جابجا تاکید کی گئی ہے۔
سب سے پہلا لفظ جو پروردگار دوعالم نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا، وہ "اقْرَأْ" ہے، یعنی پڑھو۔ یہ نہ صرف ایک حکم تھا بلکہ انسانوں کو علم کی طرف راغب کرنے کا آغاز تھا۔ قرآن مجید کی پہلی پانچ آیتیں جو نازل ہوئیں، ان میں علم کی اہمیت اور قلم کی افادیت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:
اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ١ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ٢ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(سورة العلق، 96: 1-5)
یعنی پڑھ، اور جان کہ تیرا رب کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کی اہمیت اور قلم کے ذریعے علم کی فراہمی کا آغاز اللہ کی طرف سے ہوا۔کلام پاک میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی تعلیم و تربیت کو خود اپنی طرف سے بیان کیا:
وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ(سورة النساء، 4: 113)
یعنی اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی اور تمہیں وہ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔
اسلام میں علم و حکمت کا درجہ بہت بلند ہے اور ان آیات میں اس کی عظمت کو واضح کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے جنہیں علم و حکمت دی، انہیں عظیم ترین نعمتوں سے نوازا:
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا(سورة البقرة، 2: 269)
یعنی اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے، اور جسے حکمت ملتی ہے، وہ یقیناً بہت بڑی نعمت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے درجات بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور علم حاصل کیا:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ(سورة المجادلة، 58: 11)
یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان لانے والوں اور علم والے لوگوں کے درجات بلند کر دے گا۔
نبی کریمﷺ نے بھی مختلف مواقع پر علم کی اہمیت اور اس کے طلب کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ علم کی طلب کو فرض قرار دیتی ہیں:
طلب العلم فريضة على كل مسلم(ابن ماجہ، حدیث 224)
یعنی علم کا طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی طلب میں نکلا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔(ابن ماجہ، حدیث 224)
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عالم کی فضیلت ایک عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر، اور اللہ، اس کے فرشتے، زمین و آسمان کی ہر شے، حتیٰ کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔(ابن ماجہ، حدیث 229)
یہ احادیث اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ علم کا حصول نہ صرف ایک فرد کی ترقی کے لیے ہے، بلکہ اس سے معاشرتی، روحانی اور دنیاوی بہت ساری برکات وابستہ ہیں۔اس تفصیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کا مقام بہت بلند ہے، اور اس کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے تاکہ وہ اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنا سکے۔
اسلام یا قرآن مجید ہمیں تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی تعلیم حاصل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان تعلیم کے ذریعے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانے اور صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز ہو۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسولِ اکرم ﷺ ہی وہ حقیقی علم ہیں جو انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی، فلاح و بہبود اور حقیقی ترقی کی راہ دکھاتے ہیں۔
اصل علم قرآن ہے:۔
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ قرآن ہی اصل علم ہے، باقی تمام علوم و فنون معلومات کے درجے میں آتے ہیں۔ ان تمام علوم و فنون کو انسان اپنی فطری استعداد کے مطابق حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ ان سب کے اصول و رموز حضرت آدم علیہ السلام کی فطرت میں ودیعت کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا(سورۃ البقرہ، 2:31)
’’اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھا دیے۔‘‘
رسولِ اکرم ﷺ نے علم و حکمت کے حصول کی اہمیت کو نہایت جامع اور بلیغ الفاظ میں بیان فرمایا:
الحِكمَةُ ضَالَّةُ المُؤمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا(سنن الترمذی، حدیث: 2687)
یعنی ’’حکمت مومن کی گم شدہ دولت ہے، جہاں پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم و حکمت، صنعت و حرفت اور تہذیب و تمدن کے وہ تمام ذخائر جن پر آج اہلِ یورپ فخر کرتے ہیں، ان کے اصل وارث اہلِ اسلام ہی تھے۔ لیکن افسوس کہ اپنی غفلت، جہالت اور علمی و اخلاقی زوال کے باعث ہم نہ صرف اپنے علمی امتیاز سے محروم ہوگئے بلکہ اپنی میراث بھی دوسروں کے سپرد کر بیٹھے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی و عمرانی علوم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں اہلِ اسلام نے کارہائے نمایاں سرانجام نہ دیے ہوں۔ علمِ کیمیا، طب، جراحی، ہندسہ، ریاضیات، ہیئت و فلکیات، طبیعیات، حیوانیات، ارضیات، حیاتیات، معاشیات، اقتصادیات، تاریخ اور جغرافیہ، یہ سب وہ علوم ہیں جن کی بنیاد مسلمان مفکرین، سائنسدانوں اور محققین نے رکھی۔
محمدداؤدالرحمن علی
علم دین کی اہمیت:۔
اسلام میں علم کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا ذکر ہر جگہ فصیح و بلیغ انداز میں کیا گیا ہے، اور یہ کوئی عام بات نہیں۔ دین اسلام کی اساس ہی تعلیم و تعلم، تربیت و تدریس پر ہے، اور اس حوالے سے قرآن و سنت میں ہمیں جابجا تاکید کی گئی ہے۔
سب سے پہلا لفظ جو پروردگار دوعالم نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا، وہ "اقْرَأْ" ہے، یعنی پڑھو۔ یہ نہ صرف ایک حکم تھا بلکہ انسانوں کو علم کی طرف راغب کرنے کا آغاز تھا۔ قرآن مجید کی پہلی پانچ آیتیں جو نازل ہوئیں، ان میں علم کی اہمیت اور قلم کی افادیت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:
اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ١ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ٢ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(سورة العلق، 96: 1-5)
یعنی پڑھ، اور جان کہ تیرا رب کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کی اہمیت اور قلم کے ذریعے علم کی فراہمی کا آغاز اللہ کی طرف سے ہوا۔کلام پاک میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی تعلیم و تربیت کو خود اپنی طرف سے بیان کیا:
وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ(سورة النساء، 4: 113)
یعنی اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی اور تمہیں وہ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔
اسلام میں علم و حکمت کا درجہ بہت بلند ہے اور ان آیات میں اس کی عظمت کو واضح کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے جنہیں علم و حکمت دی، انہیں عظیم ترین نعمتوں سے نوازا:
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا(سورة البقرة، 2: 269)
یعنی اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے، اور جسے حکمت ملتی ہے، وہ یقیناً بہت بڑی نعمت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے درجات بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور علم حاصل کیا:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ(سورة المجادلة، 58: 11)
یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان لانے والوں اور علم والے لوگوں کے درجات بلند کر دے گا۔
نبی کریمﷺ نے بھی مختلف مواقع پر علم کی اہمیت اور اس کے طلب کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ علم کی طلب کو فرض قرار دیتی ہیں:
طلب العلم فريضة على كل مسلم(ابن ماجہ، حدیث 224)
یعنی علم کا طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی طلب میں نکلا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔(ابن ماجہ، حدیث 224)
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عالم کی فضیلت ایک عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر، اور اللہ، اس کے فرشتے، زمین و آسمان کی ہر شے، حتیٰ کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔(ابن ماجہ، حدیث 229)
یہ احادیث اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ علم کا حصول نہ صرف ایک فرد کی ترقی کے لیے ہے، بلکہ اس سے معاشرتی، روحانی اور دنیاوی بہت ساری برکات وابستہ ہیں۔اس تفصیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کا مقام بہت بلند ہے، اور اس کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے تاکہ وہ اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنا سکے۔
اسلام یا قرآن مجید ہمیں تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی تعلیم حاصل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان تعلیم کے ذریعے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانے اور صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز ہو۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسولِ اکرم ﷺ ہی وہ حقیقی علم ہیں جو انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی، فلاح و بہبود اور حقیقی ترقی کی راہ دکھاتے ہیں۔
اصل علم قرآن ہے:۔
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ قرآن ہی اصل علم ہے، باقی تمام علوم و فنون معلومات کے درجے میں آتے ہیں۔ ان تمام علوم و فنون کو انسان اپنی فطری استعداد کے مطابق حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ ان سب کے اصول و رموز حضرت آدم علیہ السلام کی فطرت میں ودیعت کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا(سورۃ البقرہ، 2:31)
’’اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھا دیے۔‘‘
رسولِ اکرم ﷺ نے علم و حکمت کے حصول کی اہمیت کو نہایت جامع اور بلیغ الفاظ میں بیان فرمایا:
الحِكمَةُ ضَالَّةُ المُؤمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا(سنن الترمذی، حدیث: 2687)
یعنی ’’حکمت مومن کی گم شدہ دولت ہے، جہاں پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم و حکمت، صنعت و حرفت اور تہذیب و تمدن کے وہ تمام ذخائر جن پر آج اہلِ یورپ فخر کرتے ہیں، ان کے اصل وارث اہلِ اسلام ہی تھے۔ لیکن افسوس کہ اپنی غفلت، جہالت اور علمی و اخلاقی زوال کے باعث ہم نہ صرف اپنے علمی امتیاز سے محروم ہوگئے بلکہ اپنی میراث بھی دوسروں کے سپرد کر بیٹھے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی و عمرانی علوم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں اہلِ اسلام نے کارہائے نمایاں سرانجام نہ دیے ہوں۔ علمِ کیمیا، طب، جراحی، ہندسہ، ریاضیات، ہیئت و فلکیات، طبیعیات، حیوانیات، ارضیات، حیاتیات، معاشیات، اقتصادیات، تاریخ اور جغرافیہ، یہ سب وہ علوم ہیں جن کی بنیاد مسلمان مفکرین، سائنسدانوں اور محققین نے رکھی۔
Last edited: