زندگی میں دو چیزیں کبھی نہ چھوڑیں
دعا
ارشاد باری تعالی ہے:
یہ آیت کریمہ ہمیں بتلا رہی ہے کہ زندگی میں چاہے حالات کیسے بھی رہیں ، ہر حال میں دعا کو کبھی نہ چھوڑیں، کیونکہ اگر دعا چھوڑ دی تو قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔ یعنی قبولیت اٹھالی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ خود حکم دیتا ہے کہ ہم اس سے مانگیں وہ تمہیں عطا فرمائے گا۔
لہذا ہر حال میں ، ہر گھڑی میں ، ہر لمحہ میں اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنا چاہئیے۔
استغفار
ارشاد باری تعالی ہے:
استغفار کو معمول بنائیں، کیونکہ جب بندہ استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر عذاب نہیں نازل فرماتا۔
استغفار نجات، رحمت اور برکت کا ذریعہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں ہمیشہ دعا کرنے اور استغفار کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ارشاد باری تعالی ہے:
"وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ"(سورۃ المؤمن: 60)
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔
یہ آیت کریمہ ہمیں بتلا رہی ہے کہ زندگی میں چاہے حالات کیسے بھی رہیں ، ہر حال میں دعا کو کبھی نہ چھوڑیں، کیونکہ اگر دعا چھوڑ دی تو قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔ یعنی قبولیت اٹھالی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ خود حکم دیتا ہے کہ ہم اس سے مانگیں وہ تمہیں عطا فرمائے گا۔
لہذا ہر حال میں ، ہر گھڑی میں ، ہر لمحہ میں اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنا چاہئیے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
"وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ" (سورۃ الأنفال: 33)
اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔
اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔
استغفار کو معمول بنائیں، کیونکہ جب بندہ استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر عذاب نہیں نازل فرماتا۔
استغفار نجات، رحمت اور برکت کا ذریعہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں ہمیشہ دعا کرنے اور استغفار کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔