اکثر ہم یہ سوچتے رہتے ہیں کہ جب دل چاہے گا، تب عبادت شروع کروں گا — مگر دل کا چاہنا دراصل ہماری عملی شروعات کا منتظر ہوتا ہے۔
جب انسان پہلا قدم بڑھاتا ہے، مستقل مزاجی اختیار کرتا ہے، تو عبادت کی مٹھاس، شوق اور روحانی کیفیت آہستہ آہستہ دل میں اُترتی ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے:
شوق انتظار نہیں کرتا، شوق عمل سے پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے:
اللہ تعالیٰ ہر قدم پر مدد بھی فرماتا ہے اور دلوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کرتا ہے۔
جب انسان پہلا قدم بڑھاتا ہے، مستقل مزاجی اختیار کرتا ہے، تو عبادت کی مٹھاس، شوق اور روحانی کیفیت آہستہ آہستہ دل میں اُترتی ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے:
شوق انتظار نہیں کرتا، شوق عمل سے پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے:
- دل کا موڈ بننے کا انتظار مت کریں۔
- چھوٹے چھوٹے اعمال سے آغاز کریں۔
- استقامت سے چلتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہر قدم پر مدد بھی فرماتا ہے اور دلوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کرتا ہے۔