اکابرین علماء دیوبند کی چند عبارات مسئلہ حیات النبی ﷺ سے متعلق لکھ رہا ہوں ،
یہاں کے بعض علماء کرام کا خیال ہے کہ یہ اکابرین اپنی عبارات والا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے " حیات النبی ﷺ " کے منکر ہیں ، اگر ان کا یہ عقیدہ مولانا احمد رضا خان صاحب والا نہ ہو مولانا احمد رضا خان کا عقیدہ
"انبیاء کرام علیھم الصلاۃ و السلام کی حیات حقیقی حسّی دُنیاوی ہے۔ ان پر تصدیق وعدہ الہییہ کے لئے محض ایک آن کی موت طاری ہوتی ہے پھر فورا" انکو ویسے ہی حیات عطافرمادی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں ان کا ترکہ نہ بانٹا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پہتے اور نماز پڑھتے ہیں بلکہ سیدی محمد بن باقی زرقانی فرماتے ہیں کہ انبیاء علیھم الصلاۃ و السلام کی قبور میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں "ملفوظات حصہ سوم
اکابرین علماء دیوبند کا عقیدہ ان کی چند کتابوں سے
(1 ) شیخ الاسلام علامہ مولانا ظفر احمد عثمانی ؒصاحب :
" جو حیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہے وہ دوسری قسم کی حیات ہے جو دنیاوی حیات کی جنس سے نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیات دنیویہ کے اعتبار سے " میت " ہیں اوراس برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جو اس دنیا بھی حیات سے الگ ہے "اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 272 ( 2 )
مفتی عبدالکریم گمتھلوی ؒ صاحب :
" انبیاء علیہ السلام کی حیات بعدالموت حیات برزخیہ ہے ۔ جو دوسری اموات کی حیات برزخیہ سے اقوی ا شد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امداد الاحکام جلد 1 صفحہ 250
( 3 ) مفتی مہدی حسن صاحب ؒ :
" محققین اکابر کی تحقیق ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات برزخی حاصل ہے ، جو اس حیات دنیاوی سے بدرجہا بڑھ چڑھ کر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر احادیث سے حیات دنیویہ ثابت ہوتی ہے ، مگر بحالت موجودہ اقوی اور قوی تر ہے ۔ دونوں قول موجود ہے راجح اول ھے (یعنی برزخی حیات کا) ۔ ماہنامہ تعلیم القرآن اپریل 1958 صفحہ 41
(4 ) حکم الامت مجد الاملت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ صاحب :
"امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حیات بعد وفات کے بھی بھی مسلم ہے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف تھے گو وہ حیات اس حیات کے مثل نہیں ہے بلکہ حیات برزخیہ ہے " مواعظ اشرفیہ صفحہ 446
(5 ) مفتی اعظم ھند مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ دہلوی :
" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی حیات برزخی حاصل ہے جس کی کیفیت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن حیات دنیوی کہنا خلاف اہلسنت والجماعت ہے "تسکین الصدور صفحہ 276 طبع دوم
(6 )ڈاکٹر خالد محمود صاحب ؒ :
" ہم شہداء اور انبیاء کو اس عالم (دنیا) میں نہیں اگلے جہان (عالم برزخ) میں زندہ مانتے ہیں ۔ انتقال دارین ہوچکا ہے اور اب یہ حضرات اس عالم کے افراد نہیں ،اس جہان کے رہنے والے ہیں مقام حیات صفحہ 130
(7) مفتی عظم پاکستان محمد شفیع ؒصاحب :
" حیاتِ دنیاوی ظاہری کا تو دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں ، قرآن پاک کی اتنی صریح مخالفت کو مسلمان کر سکتا ہے َ؟ جو بھی قائل ہیں حیات برزخی ہی کے قائل ہیں " (تسکین)
(8)سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری ؒ :
"حضرت نبی کریم خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وعدہ الٰہی انک میت و انھم میتون کے مطابق حقیقۃ موت وقع ہوئی آپ کی روح اقدس جسد اطہر سے منقطع ہو کر جنت الفردوس میں رفیق اعلی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اور حضرات صحابہ کبار رضی اللہ عنھم نے آپ کے جسدِ اطہر کو واقعی میت سمجھ کر قبر میں دفن کیا۔اور اس عالمِ دنیا سے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ برزخ میں مثل شھداء بلکہ شھداء سے اعلی و ارفع حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی وہ حیات ِ دنیویہ نہیں بلکہ اس سے بدرجہا اعلی و ارفع وافضل حیاتِ برزخیہ ہے نہ کہ حیات دنیویہ لیکن اگر کوئی اس حیات کو دنیوی کے نام سے تعبیر کرے اور آپ کی حیات برزخیہ سے بھی انکار نہ کرے تو اُس کو جماعت اہل السنت سے خارج نہیں کرنا چاہئیے ،حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام اور خصوصا سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد الموت سب سے اعلیٰ وارفع واجمل وافضل حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی ہے یہ جمہور اہل السنت والجماعت کا مسلک ہے اس پر کتاب اللہ احادیث صحیحہ اور ارشادات صحابہ رضوان اللہ علیہم شاہد ہیں" (عنایت اللہ بخاری عفی عنہ مسجد جامع گجرات) (ماہ نامہ تعلیم القرآن ،جولائی اگست 1960 ص 33 ۔۔۔و تسکین الصدور ص 283۔284) (انوارالباری جلد 18 صفحہ 250)
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا عقیدہ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح و درست ہے یا اکابرین علماء دیوبند کا عقیدہ جو بندہ نے ان کی کتابوں سے با حوالہ نقل کیا ہے جزاک اللہ خیرا"
یہاں کے بعض علماء کرام کا خیال ہے کہ یہ اکابرین اپنی عبارات والا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے " حیات النبی ﷺ " کے منکر ہیں ، اگر ان کا یہ عقیدہ مولانا احمد رضا خان صاحب والا نہ ہو مولانا احمد رضا خان کا عقیدہ
"انبیاء کرام علیھم الصلاۃ و السلام کی حیات حقیقی حسّی دُنیاوی ہے۔ ان پر تصدیق وعدہ الہییہ کے لئے محض ایک آن کی موت طاری ہوتی ہے پھر فورا" انکو ویسے ہی حیات عطافرمادی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں ان کا ترکہ نہ بانٹا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پہتے اور نماز پڑھتے ہیں بلکہ سیدی محمد بن باقی زرقانی فرماتے ہیں کہ انبیاء علیھم الصلاۃ و السلام کی قبور میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں "ملفوظات حصہ سوم
اکابرین علماء دیوبند کا عقیدہ ان کی چند کتابوں سے
(1 ) شیخ الاسلام علامہ مولانا ظفر احمد عثمانی ؒصاحب :
" جو حیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہے وہ دوسری قسم کی حیات ہے جو دنیاوی حیات کی جنس سے نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیات دنیویہ کے اعتبار سے " میت " ہیں اوراس برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جو اس دنیا بھی حیات سے الگ ہے "اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 272 ( 2 )
مفتی عبدالکریم گمتھلوی ؒ صاحب :
" انبیاء علیہ السلام کی حیات بعدالموت حیات برزخیہ ہے ۔ جو دوسری اموات کی حیات برزخیہ سے اقوی ا شد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امداد الاحکام جلد 1 صفحہ 250
( 3 ) مفتی مہدی حسن صاحب ؒ :
" محققین اکابر کی تحقیق ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات برزخی حاصل ہے ، جو اس حیات دنیاوی سے بدرجہا بڑھ چڑھ کر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر احادیث سے حیات دنیویہ ثابت ہوتی ہے ، مگر بحالت موجودہ اقوی اور قوی تر ہے ۔ دونوں قول موجود ہے راجح اول ھے (یعنی برزخی حیات کا) ۔ ماہنامہ تعلیم القرآن اپریل 1958 صفحہ 41
(4 ) حکم الامت مجد الاملت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ صاحب :
"امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حیات بعد وفات کے بھی بھی مسلم ہے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف تھے گو وہ حیات اس حیات کے مثل نہیں ہے بلکہ حیات برزخیہ ہے " مواعظ اشرفیہ صفحہ 446
(5 ) مفتی اعظم ھند مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ دہلوی :
" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی حیات برزخی حاصل ہے جس کی کیفیت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن حیات دنیوی کہنا خلاف اہلسنت والجماعت ہے "تسکین الصدور صفحہ 276 طبع دوم
(6 )ڈاکٹر خالد محمود صاحب ؒ :
" ہم شہداء اور انبیاء کو اس عالم (دنیا) میں نہیں اگلے جہان (عالم برزخ) میں زندہ مانتے ہیں ۔ انتقال دارین ہوچکا ہے اور اب یہ حضرات اس عالم کے افراد نہیں ،اس جہان کے رہنے والے ہیں مقام حیات صفحہ 130
(7) مفتی عظم پاکستان محمد شفیع ؒصاحب :
" حیاتِ دنیاوی ظاہری کا تو دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں ، قرآن پاک کی اتنی صریح مخالفت کو مسلمان کر سکتا ہے َ؟ جو بھی قائل ہیں حیات برزخی ہی کے قائل ہیں " (تسکین)
(8)سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری ؒ :
"حضرت نبی کریم خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وعدہ الٰہی انک میت و انھم میتون کے مطابق حقیقۃ موت وقع ہوئی آپ کی روح اقدس جسد اطہر سے منقطع ہو کر جنت الفردوس میں رفیق اعلی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اور حضرات صحابہ کبار رضی اللہ عنھم نے آپ کے جسدِ اطہر کو واقعی میت سمجھ کر قبر میں دفن کیا۔اور اس عالمِ دنیا سے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ برزخ میں مثل شھداء بلکہ شھداء سے اعلی و ارفع حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی وہ حیات ِ دنیویہ نہیں بلکہ اس سے بدرجہا اعلی و ارفع وافضل حیاتِ برزخیہ ہے نہ کہ حیات دنیویہ لیکن اگر کوئی اس حیات کو دنیوی کے نام سے تعبیر کرے اور آپ کی حیات برزخیہ سے بھی انکار نہ کرے تو اُس کو جماعت اہل السنت سے خارج نہیں کرنا چاہئیے ،حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام اور خصوصا سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد الموت سب سے اعلیٰ وارفع واجمل وافضل حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی ہے یہ جمہور اہل السنت والجماعت کا مسلک ہے اس پر کتاب اللہ احادیث صحیحہ اور ارشادات صحابہ رضوان اللہ علیہم شاہد ہیں" (عنایت اللہ بخاری عفی عنہ مسجد جامع گجرات) (ماہ نامہ تعلیم القرآن ،جولائی اگست 1960 ص 33 ۔۔۔و تسکین الصدور ص 283۔284) (انوارالباری جلد 18 صفحہ 250)
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا عقیدہ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح و درست ہے یا اکابرین علماء دیوبند کا عقیدہ جو بندہ نے ان کی کتابوں سے با حوالہ نقل کیا ہے جزاک اللہ خیرا"