یہ سب تمہارے لیے

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی

یہ سب تمہارے لیے

میں اپنے کام میں اس طرح محو تھا جیسے وقت بھی سانس روکے کھڑا ہو، کہ اچانک ایک آواز نے میرے وجود کے در و دیوار پر دستک دی۔ یہ آواز محض آواز نہ تھی، اس میں ایسی مٹھاس گھلی ہوئی تھی جو کانوں سے ہوتی ہوئی دل کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ الفاظ گویا جذبوں میں ڈھل کر روح پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ اس آواز میں ایک انوکھی حلاوت تھی، ایسی حلاوت جو دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
پھر ایک لمحہ آیا جب ایک لفظ دل میں اترا اور ذہن کے افق پر گونج بن کر ابھرا—
’’تمہارے لیے۔‘‘
یہ لفظ کسی پکار کی طرح تھا، کسی وعدے کی مانند۔ اس کی نرمی میں ایسی تاثیر تھی کہ دل میں محبتِ الٰہی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ دل اور دماغ بے اختیار اُس ذات کی طرف جھک گئے جو ہر شے کی خالق ہے۔
اسی لمحے خیال نے انگڑائی لی۔ نگاہ کے سامنے کائنات کا پھیلاؤ بکھرنے لگا۔ یہ زمین اپنی وسعتوں سمیت، یہ آسمان اپنی بلندیوں کے ساتھ، یہ تاروں کی ٹمٹماتی آنکھیں، یہ ستاروں کی خاموش زبان، یہ کہکشاؤں کی لا محدود مسافتیں—سب ایک ایک کر کے شعور کے پردے پر ابھر آئے۔ عرش و فرش کے درمیان پھیلی یہ دنیا، بحر و بر کی وسعتیں، خزاں کی اداس چپ اور بہار کی مسکراتی آمد—سب کچھ دل سے سوال کرنے لگا۔
یہ سردی کی کپکپاہٹ، یہ گرمی کی تپش، چڑیوں کی معصوم چہچہاہٹ، بلبل کا مترنم نغمہ، جانوروں کی خاموش وفاداری، پھولوں کی مہک، پہاڑوں کا وقار، زمین پر بکھری چاندنی، آسمان کی بدلتی ہوئی بدلیاں، دریاؤں کا مچل کر انگڑائی لینا اور سمندر کی موجوں کا مسکرا کر لپکنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کس کے لیے ہے؟
اچانک یوں لگا جیسے عقل کے پردے ہٹ گئے ہوں۔ ایک نور سا دل میں اترا، ایک سرور سا روح میں اتر گیا۔ خاموشی بول اٹھی اور دل نے وہ جواب سن لیا جو لفظوں سے ماورا تھا:
’’میرے پیارے بندے! یہ سب تمہارے لیے ہے۔‘‘
یہ جواب سنتے ہی دل شکر سے بھر گیا، آنکھوں میں نمی اور روح میں قرار اتر آیا۔ تب سمجھ آیا کہ یہ کائنات محض منظر نہیں، ایک محبت نامہ ہے۔ ایک ایسا پیغام جو ہر لمحہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ تنہا نہیں، کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، اسے چاہتا ہے، اور اسی کے لیے یہ سب حسن بکھیر دیا گیا ہے۔
یہی احساس بندگی کی معراج ہے، اور یہی محبتِ الٰہی کا خاموش مگر گہرا اعلان۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
میرے خیال میں آپ نے یہ تحریر نہیں لکھی، بلکہ یہ ایک دعا تھی جو قلم کے ذریعے صفحے پر اتر آئی۔
آج تک میں نے کائنات کو دو طریقوں سے سمجھا: سائنسی اور روحانی ۔ آپ کی تحریر نے تیسرا راستہ دکھاتی ہے: "جذباتی کاسمولوجی"۔۔۔یہ احساس کہ ہر ذرہ محبت کے ریاضیاتی مساوات کا حصہ ہے۔
’’میرے پیارے بندے! یہ سب تمہارے لیے ہے۔‘‘
ایک ایسے دور میں جب ہم 'Self-care' اور 'Mindfulness' کے انگریزی الفاظ میں الجھے ہیں، یہ یاد دہانی ہمیں "خود کی دیکھ بھال" کا اصل اور گہرا نسخہ یاد دلاتی ہے: "رب کی دیکھ بھال کا احساس"۔ یہ ایک جملہ ہی اینٹی ڈپریشن تھراپی سے زیادہ مؤثر ہے۔
میں نے اسے تین بار پڑھا ۔۔۔ ہر بار ایک نئی نظر کے ساتھ ۔۔۔ اور ہر بار ایک ایسی نعمت دیکھی جو میں پہلے نظرانداز کر رہی تھی۔
جزاک اللہ خیراً و أحسن الجزاء۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
میں بارگاہ رب لم یزل میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ
یارب! میں آپ کے لیے، اور آپ میرے لیے۔
لیکن اس سے پہلے ہی ایک اچانک احساس نے دل کی گہرائیوں میں انگڑائی لی۔ایک لمحے کو سانس تھم گئی،
آنکھوں کے سامنے زندگی کے ہر لمحے نے اپنی گھومتی تصویر دکھائی۔
ہر وہ پل یاد آیا،جب میں نے اپنے نفس کی سنتا رہا،جب شیطان کے وسوسوں میں گم رہا،جب سب کچھ محض دکھاوے کے لیے کرتا رہا،جب دنیا کی زودگذر لذتوں میں کھویا رہا،جب ہر پکار کو نظرانداز کیا،اور وقت کا بہانہ بنا کر رب سے دوری اختیار کرتا رہا۔
میں حیاتِ زندگی کے گزرے شب و روز کے مناظر دیکھ ہی رہا تھاکہ اچانک غیب سے ایک صدا آئی:
“اے میرے بندے! خاموش کیوں ہو گئے ہو؟”
عاجزی و انکساری،شرمندگی اور ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ میں نے اپنے رب کے حضور دو عرض پیش کی:
یارب!آپ نے یہ دنیا،اس کی ہر نعمت، ہر خزانہ میرے لیے رکھا،اور مجھے اپنے لیے پیدا کیا۔
اور میں…
غفلت کی زندگی گزار رہا تھا،نفس کی سنتا رہا،دنیا کو خوش کرنے میں مگن رہا،اور شیطان کے راستے اختیار کرتا رہا۔
یارب!
میرے اعمال نامے میں نیکیاں کم، گناہ زیادہ ہیں،آپ کی خوشنودی کم، میری کوتاہیاں زیادہ ہیں،آپ کی رضا کم، آپ کی ناراضگی کے اثرات زیادہ ہیں۔
غیب سے صدا آئی—
جو دل کو جھنجوڑتی، روح کو جگاتی، اور دل کی دھڑکنوں میں اترتی چلی گئی:
لاتقنطوا من رحمة اللہ
اے میرے بندے میری رحمت سے مایوس نہ ہونا۔
“اے میرے بندے! اب بھی وقت ہے مجھ سے معافی مانگ، میں تجھے معاف کر دوں گا۔گناہوں پر شرمندہ ہو، میں انہیں نیکیوں میں بدل دوں گا۔ندامت کا آنسو بہا میں سب کچھ بھلادوں گا ۔مجھ سے میری رضا مانگ، میں تجھے رضا دے دوں گا۔میری طرف بڑھ، میں تیری طرف بڑھوں گا۔مجھ سے مانگ، میں تجھے ہر چیز عطا کروں گا۔مجھ سے رحمت طلب کر، میں رحمت کی بارش برسا دوں گا۔مجھے راضی کر، میں اپنی جنت تیرے نام کر دوں گا۔”
موقع غنیمت جانا اپنی جگہ سے اٹھا،وضو کیا،اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔
رب کے حضور ندامت کے آنسو بہائے،معافی کی التجا کی،
اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا۔
دل کو سکون نصیب ہوا،روح محبتِ الٰہی میں نہا گئی،
اور دل پکار اٹھا:
“یارب!
آپ میرے لیے…
اور میں آپ کے لیے۔”
 
Top