یہ سب تمہارے لیے
میں اپنے کام میں اس طرح محو تھا جیسے وقت بھی سانس روکے کھڑا ہو، کہ اچانک ایک آواز نے میرے وجود کے در و دیوار پر دستک دی۔ یہ آواز محض آواز نہ تھی، اس میں ایسی مٹھاس گھلی ہوئی تھی جو کانوں سے ہوتی ہوئی دل کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ الفاظ گویا جذبوں میں ڈھل کر روح پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ اس آواز میں ایک انوکھی حلاوت تھی، ایسی حلاوت جو دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔پھر ایک لمحہ آیا جب ایک لفظ دل میں اترا اور ذہن کے افق پر گونج بن کر ابھرا—
’’تمہارے لیے۔‘‘
یہ لفظ کسی پکار کی طرح تھا، کسی وعدے کی مانند۔ اس کی نرمی میں ایسی تاثیر تھی کہ دل میں محبتِ الٰہی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ دل اور دماغ بے اختیار اُس ذات کی طرف جھک گئے جو ہر شے کی خالق ہے۔
اسی لمحے خیال نے انگڑائی لی۔ نگاہ کے سامنے کائنات کا پھیلاؤ بکھرنے لگا۔ یہ زمین اپنی وسعتوں سمیت، یہ آسمان اپنی بلندیوں کے ساتھ، یہ تاروں کی ٹمٹماتی آنکھیں، یہ ستاروں کی خاموش زبان، یہ کہکشاؤں کی لا محدود مسافتیں—سب ایک ایک کر کے شعور کے پردے پر ابھر آئے۔ عرش و فرش کے درمیان پھیلی یہ دنیا، بحر و بر کی وسعتیں، خزاں کی اداس چپ اور بہار کی مسکراتی آمد—سب کچھ دل سے سوال کرنے لگا۔
یہ سردی کی کپکپاہٹ، یہ گرمی کی تپش، چڑیوں کی معصوم چہچہاہٹ، بلبل کا مترنم نغمہ، جانوروں کی خاموش وفاداری، پھولوں کی مہک، پہاڑوں کا وقار، زمین پر بکھری چاندنی، آسمان کی بدلتی ہوئی بدلیاں، دریاؤں کا مچل کر انگڑائی لینا اور سمندر کی موجوں کا مسکرا کر لپکنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کس کے لیے ہے؟
اچانک یوں لگا جیسے عقل کے پردے ہٹ گئے ہوں۔ ایک نور سا دل میں اترا، ایک سرور سا روح میں اتر گیا۔ خاموشی بول اٹھی اور دل نے وہ جواب سن لیا جو لفظوں سے ماورا تھا:
’’میرے پیارے بندے! یہ سب تمہارے لیے ہے۔‘‘
یہ جواب سنتے ہی دل شکر سے بھر گیا، آنکھوں میں نمی اور روح میں قرار اتر آیا۔ تب سمجھ آیا کہ یہ کائنات محض منظر نہیں، ایک محبت نامہ ہے۔ ایک ایسا پیغام جو ہر لمحہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ تنہا نہیں، کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، اسے چاہتا ہے، اور اسی کے لیے یہ سب حسن بکھیر دیا گیا ہے۔
یہی احساس بندگی کی معراج ہے، اور یہی محبتِ الٰہی کا خاموش مگر گہرا اعلان۔