اللہ ہے۔

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
رب کائینات اپنے کلام میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَـهُـمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْـفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (53)
عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
اگر اس آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس کائینات کے گوشہ میں رب کائینات کی نشانی ہے،یہ نشانیاں بتارہی ہیں کہ ان کو تخلیق کرنے والا ، ان کو بنانے والا ، ان کی ترتیب لگانے والا، ان کو سجانے والے
’’اللہ ہے‘‘
پہاڑوں کی بلندی،آسمان کی اونچائی، زمین کا فرش،دریاؤں کا بہاؤ،سمندر کی موجیں،بادلوں کی گھٹائیں،ہواؤں کے جکڑ،درختوں کے پتے،پتوں پر شاخیں،شاخوں پر پھل،پھلوں کے رنگ،رنگوں میں مٹھاس یہ سب بتا رہی ہیں کہ
’’اللہ ہے‘‘
یہ پرندوں کی ڈاریں،یہ عقاب کی اڑان،یہ سانپ کی پھونکار،یہ شیر کی دھاڑ،یہ ہاتھی کی چنگھاڑ،یہ اونٹ کا بلبلانا،بلبل کا نغمہ،کوئل کی کوک یہ سب بتارہے ہیں کہ
’’اللہ ہے‘‘
یہ موسم کی تبدیلیاں،یہ برف کا سفیدی اوڑھ نا، یہ بہار کا کھلکھلانا،یہ خزاں کا سب کچھ جھاڑنا، یہ سردی کی شرت ،یہ گرمی کی حرارت ہمیں بتا رہی ہے کہ
’’اللہ ہے‘‘
یہ آیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ نہ صرف کائنات بلکہ انسان کے اندر بھی اللہ کی نشانی موجود ہے۔ہر دل، ہر دماغ، ہر جذبہ اور ہر سوچ اس بات کا گواہ ہے کہ وہی حق ہے۔
 
Top