سورہ آلِ عمران آیت 169

محمد طلحہ

وفقہ اللہ
رکن
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ١٦٩؁ۙ
تفسیر جواہر القرآن جلد 1 صفہ 193/194
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ سے لَا یَضِیعُ اَجْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ تک شہداء کے لیے اخروی بشارت ہے پہلے منافقین کی اس بات کا رد فرمایا کہ حذر و احتیاط کے ذریعے موت ٹل سکتی ہے اب یہاں فرمایا کہ جس قتل سے تم ڈر رہے ہو وہ تو ڈرنے کی چیز نہیں وہ تو نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور دین ودنیا کی بہت بڑی سعادت ہے جن لوگوں کو یہ شہادت کی موت نصیب ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں تو قتل ہوجانے کے بعد برزخ میں ان کو ایک امتیازی حیات حاصل ہوتی ہے جو عامۃ المسلمین کو حاصل نہیں ہوتی اس لیے شہادت کی موت تو ایسی چیز نہیں کہ اس سے بچنے اور بھاگنے کی تدبیریں سوچی جائیں بلکہ اسے تو حاصل کرنے کی تمنا ہر ایک کے دل میں ہونی چاہیے۔ القتل الذی یحذرونہ ویحذرون منہ لیس مما یحذر بل ھو من اجل المطالب التی یتنافس فیھا المتنافسون (روح ج 4 ص 121) ۔
تحقیق حیات شہداء۔
حیات شہداء کے بارے میں قرآن مجید کی دو آیتیں ہیں ایک تو یہی زیر تفسیر آیت اور دوسری آیت سورة بقرہ رکوع 19 میں گذر چکی ہے یہاں فرمایا کہ شہداء کو مرد سے مت سمجھو اور وہاں فرمایا کہ ان کو مردہ مت کہو۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہداء قتل کردئیے جاتے ہیں اور ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے پرواز کر جاتی ہیں اور ان کے ابدان سے اس طرح جدا ہوجاتی ہیں کہ ان سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ علامہ بیضاوی کا قول آگے آرہا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ شہداء کرام کی دنیوی زندگی تو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے اور روح کے بدن سے نکل جانے کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ شہادت کے بعد جو ان کو زندگی اور حیات حاصل ہوتی ہے وہ دنیوی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مختلف ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں زندہ تھے تو ان کی زندگی بھی دنیوی تھی یعنی روح اور بدن دونوں کے ملاپ سے وہ زندہ تھے لیکن موت سے دنیوی زندگی ختم ہوگئی اور برزخ کا زمانہ شروع ہوگیا اس لیے اب اس زندگی کو برزخی زندگی کہا جائے گا اور یہ زندگی بلا مشارکت بدن عنصری صرف روح کے لیے ہوگی
یہ معاملہ چونکہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ برزخ عالم غیب کی چیز ہے اس لیے اس برزخی حیات کی کیفیت کے بارے میں عقل وفکر، رائے اور قیاس سے کچھ کہنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں نصوص کتاب وسنت سے جو کچھ ثابت ہو اس سے تجاوز کرنا جائز ہے۔
علامہ سید محمود آلوسی سورة بقرہ میں وَلٰکِنْ لَّاتَشْعَرُوْنَ کے تحت فرماتے ہیں۔ ای لا تحسون ولا تدرکون ما حالھم بالمشاعر لانھا من احوال البرزخ التی لا یطلع علیھا ولا طیر للعلم بھا الا بالوحی (روح ج 2 ص 20) ۔ حیات شہداء کی کیفیت کی طرف قرآن مجید میں تو چند اجمالی اشارات ہی ہیں۔ تفصیل نہیں ہے مثلاً قرآن مجید میں اس طرف اشارہ ہے کہ قتل کے بعد شہداء کو جو حیات ملتی ہے۔ وہ دنیوی نہیں بلکہ برزخی اور عالم غیب کی ایک حالت ہے۔ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ سے اسی طرف اشارہ ہے وہ اپنے مہربان رب کے پاس اور عالم غیب میں زندہ ہیں۔ علامہ خازن لکھتے ہیں۔ انھم احیاء عنداللہ تعالیٰ فی عالم الغیب لانھم صاروا الی الاخرۃ (تفسیر خازن ج 1 ص 109)
قرآن مجید میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ شہداء عالم برزخ میں کھاتے پیتے بھی ہیں۔ حیات شہداء کی تفصیلی کیفیت سب سے عمدہ اور صحیح ترین وہی ہے جو خود صاحب وحی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں دریافت کیا کہ یارسول اللہ وہ کس طرح زندہ ہیں ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ وہ قتل ہوچکے ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرما کر ان کو جنت میں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ وہ جنت میں جہاں چاہیں آتے جاتے اور سیر کرتے ہیں۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ وقال اخرون ارواحھم فی اجواف طیر خضر وانھم یرزقون فی الجنۃ ویاکلون ویتنعمونوھذا ھو الصحیح من الاقوال لن ما صح بہ النقل فھو الواقع (قرطبی ج 4 ص 270) اولہ علامہ ابو السعود حنفی امام واحدی سے ناقل ہیں۔ الاصح فی حیاۃ الشہداء ماروی عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من ان ارواحم فی اجواف طیور خضر وانھم یرزقون ویاکلون یتنعمون (ابو السعود ج 1 ص 138) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود سے آیت وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قَتَلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتاً الایۃ کا مطلب پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم نے بھی رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شاءت ثم تاوی الی تلک القنادیل الحدیث (صحیح مسلم ج 2 ص 135، جامع ترمذی ج 2 ص 126، ابن ماجہ ص 201، تفسیر ابن جریر ج 4 ص 106، ص 107) اسی طرح حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال ان ارواح الشھداء فی طیر خضر تعلق من ثمر الجنۃ او شجر الجنۃ (جامع ترمذی ج 1 ص 197، ابن ماجہ ص 104، ص 316، نسائی ج 1 ص 292، موطا امام مالک ص 84، مسند احمد ج 6 ص 386) اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لما اصیب اخوانکم باحد جعل اللہ ارواحھم فی اجواف طیر خضر تروانھا والجنۃ وتاکل من ثمارھا واوی الی قنادیل من ذھب فی ظل العرش الحدیث (مستدرک حاکم ج 2 ص 88، ص 297 تفسیر ابن جریرج 4 ص 106، مسند احمد ج 1 ص 266، ابو داوٗد ج 1 ص 348) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری (رض) سے بھی اسی مضمون کی ایک مرفوع حدیث مروی ہے ملاحظہ ہو۔ درمنثور ج 2 ص 96 ۔ ان حدیثوں کے الفاظ میں اگرچہ خفیف سا اختلاف ہے لیکن ماحصل سب کا وہی ہے جو پہلے بیان کیا جاچکا ہے ان حدیثوں میں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہایت وضاحت سے شہداء کی برزخی زندگی کی حقیقت بیان فرما دی ہے صحابہ کرام (رض) اور تابعین سے بھی یہی کچھ منقول ہے اور اسی کو محققین مفسرین نے راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، کعب الاحبار، عکرمہ، سدی کبیر، ابو العالیہ، قتادۃ، ربیع وغیرہم کے اقوال کے لیے ملاحظہ ہو۔ تفسیر ابن جریر ج 2 ص 23 ج 4 ص 106، ص 107 و تفسیر در منثور ج 1 ص 155، ج 2 ص 96 ۔
حاصل کلام یہ کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں ان کے ابدان طیوری اجسام مثالی ہیں۔ نہ کہ عنصری کیونکہ شہداء کے عنصری ابدان توقبروں میں مدفون ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں اور ان کے ابدان قبروں میں ہیں۔ لیکن ان کی ارواح طیوری قالبوں میں نعیم جنت سے متمتع ہورہی ہیں۔ علامہ بیضاوی سورة بقرہ میں فرماتے ہیں۔ وَلٰکِنْ لَّاتَشْعُرُوْن ما حالاھم وھو تنبیہ علی ان حیوتھم لیست بالجسد ولا من جنس ما یحس بہ من الحیوانات وامناھی امر لایدرک بالعقل بل بالوحی (تفسیر بیضاوی ج 1 ص 201) لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس حال میں ہیں اور یہ اس امر پر تنبیہ ہے کہ ان (شہداء) کی حیات جسمانی نہیں اور نہ زندوں کی مانند ظاہر حواس سے محسوس قسم کی زندگی ہے اور نہ اس کا ادراک عقل سے ہوسکتا ہے بلکہ اس کی کیفیت کا ادراک صرف وحی سے ہوسکتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی فرماتے ہیں حیات شہداء بمعنی تعلق ارواح بابدانست برائے استیفائی لذاتی کہ موقوف برآلات بدنیست نہ تعلق ارواح باابدان سابقہ ونہ بقا کی روح بادراک و شعور الخ (عزیزی ص 685) یعنی حیات شہداء کا مطلب یہ ہے کہ وہ لذات حاصل کرنے کیلئے جن کا حصول آلات پر موقوف ہے ارواح ابدان مثالیہ سے متعلق ہوجائیں یہ مطلب نہیں کہ ارواح سابقہ (عنصری) ابدان سے متعلق ہوجائیں اور نہ یہ کہ روح کا ادراک و شعور باقی رہے۔

حیات انبیاء (علیہم السلام)
اس دنیائے آب وگل سے رحلت وانتقال کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے ایک ہی مقرر فرمائی ہے اور وہ ہے موت اور اس سے کسی فرد بشر کو مفر نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (انبیاء رکوع 3) یعنی ہر جی موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ خواہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا خدا کے تمام پیغمبر موت نوش فرما چکے ہیں (حضرات ادریس الیاس اور خضر (علیہم السلام) کے بارے میں محقق اور صحیح مذہب یہی ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں) چنانچہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ اَمْ کُنْتُمْ شَھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ (بقرہ ع 16) کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب پر موت کا وقت آیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا۔ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللہُ مِنْ بَعْدِهٖ رَسُوْلاً (مومن رکوع 4) یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تم کہنے لگے کہ اب تو اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد ہے۔ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتُ مَادَلَّھُمْ عَلیٰ مَوْتِهٖ اِلَّا دَابَّةُ الْاَرْضِ تَاکُلُ مِنْسَاَتَہٗ (سبا رکوع 2) پس جب ہم نے اس (سلیمان) پر موت کا حکم جاری کردیا تو ان (جنون) کو اس کی موت کا پتہ کسی نے نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا اور خود جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (زمر رکوع 3) آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ علاوہ ازیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت پر تمام صحابہ کرام (رض) کا اجماع بھی ہوچکا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں موجود ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو حضرت عمر (رض) اس صدمہ جانکاہ کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور ازخود دل گر فتہ ہو کر اعلان کرنے لگے خبردار کوئی یہ مت کہے کہ حضور فوت ہوگئے ہیں۔ ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے صورت حال دیکھی تو آپ نے تمام صحابہ کرام کے سامنے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اس کا اقتباس ملاحظہ ہو۔ من کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات ومن کان یعبداللہ فان اللہ حی لا یموت وقال اِنَّکَ مَّیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (صحیح بخاری ج 1 ص 517) تم میں سے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ آپ تو فوت ہوگئے اور آپ پر موت وارد ہوچکی اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا سو اللہ زندہ جاوید ہے اور یہ آیت تب بھی پڑھی بیشک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جب خطبہ دیا تو صحابہ (رض) میں سے کسی نے بھی ان کی کسی بات پر انکار نہیں کیا اور حضرت عمر نے بھی تسلیم کرلیا کہ واقعی آپ وفات پا چکے ہیں چنانچہ تمام صحابہ کرام نے یہی سمجھ کر کہ آپ وفات پا چکے ہیں آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارک میں دفن کیا الغرض موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔
تمام انبیاء (علیہم السلام) اور تمام بنی آدم اسی دروازے سے گذر کر عالم برزخ میں پہنچے اور جو باقی ہیں وہ بھی اسی دروازے سے گذریں گے۔ اور موت کے معنی ہیں روح کا بدن عنصری سے نکل جانا اور اس سے جدا ہوجانا۔
امام راغب اصفہانی اس آیت میں موت کا مفہوم اس طرح بیان فرماتے ہیں وقولہ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ فعبارۃ عن زوال القوۃ الحیوانیۃ وبانۃ الروح عن الجسد (مفردات ص 494) یعنی موت قوت حیات کے زائل ہوجانے اور روح کے بدن سے جدا ہوجانے کا نام ہے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطبی لکھتے ہیں۔ واجل الموت ھو الوقت الذی فی معلومہ سبحانہ ان روح الحی تفارق جسدہ (قرطبی ج 4 ص 226) اَجَلْ موت اس وقت کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جاندار کی روح اس کے بدن سے جدا ہوگی علامہ سیوطی فرماتے ہیں قال العلماء الموت لیس بعدم محض ولا فناء صرف وانما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما وتبدل حال وانتقال من دار الی دار (شرح الصدور ص 5 وبشری الکئیب ص 15، 16)
علماء نے کہا ہے کہ موت عدم محض اور فناء صرف کا نام نہیں بلکہ موت بدن سے تعلق روح کے منقطع ہوجانے، روح اور بدن میں جدائی اور پردہ حائل ہوجانے اور ایک دار (دنیا) سے دوسرے دار (عالم برزخ) کی طرف منتقل ہونے سے عبارت ہے اور علامہ سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں۔ الاماتۃ بمعنی اخراج الروح وسلب الحیاۃ (روح ج 3 ص 21) اماتت کے معنی ہیں روح کا نکال لینا اور زندگی کا سلب کرلینا۔ اور پھر موت کی یہ کیفیت مذکورہ بالا مفہوم کے ساتھ سب کے لیے یکساں ہے اور تمام بنی آدم انبیاء (علیہم السلام) ہوں یا شہداء اور عامۃ المسلمین پر موت اخراج روح از بدن اور ابانت روح از جسد ہی کے طریق پر وارد ہوتی ہے البتہ اعزاز واکرام اور تحقیر وتذلیل کا فرق ضرور ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام، شہداء اور دیگر مومنین سے قبض روح کا معاملہ علی حسب المراتب اعزاز واکرام سے کیا جاتا ہے اور کفار ومشرکین سے تذلیل و اہانت کے ساتھ شہداء کے بارے میں تو پہلے گذر چکا ہے کہ ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے نکال کر پرندوں کے مثالی قالبوں میں داخل کردی جاتی ہیں اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح طیبہ بھی ان کے ابدان طاہرہ سے نکال کر جدا کرلی جاتی ہیں۔ چنانچہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات بھی اللہ تعالیٰ عادت مستمرہ اور دستور متعارف کے مطابق اسی طرح واقع ہوئی کہ آپ کی روح طیبہ وطاہرہ آپ کے بدن مبارک سے نکالی گئی جیسا کہ خود آپ کا ارشاد ہے۔ ان جمیع الانبیاء قبض ارواحم ملک الموت وھو الذی سیقبض روحی۔ (قرطبی ج 4 ص 276) یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی روحیں ملک الموت نے قبض کیں اور وہی میری روح کو بھی قبض کرے گا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ فقبضہ اللہ وان راسہ لبین سحری وتحری (صحیح بخاری ج 1) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمائی اس وقت آپ سر مبارک میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ فی روایۃ ھمام عن ہشام بھذا الاسناد عند احمد نحوہ وزاد فلما خرتب نفسہ لم اجد ریحا قط اطیب منھا (فتح الباری ج 8 ص 102) اس روایت کو امام احمد نے بھی اس اسناد کے ساتھ ہشام سے بواسطہ ہمام روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ جب آپ کی روح مبارک (بدن سے) نکلی تو ایسی خوشبو آئی کہ میں نے اس سے عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ یہ خوشبو آپ کی روح طیبہ کی تھی۔ اور حضرت ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں۔ اخرجت الینا عائشۃ کساء وازارا غلیظاً فقالت قبض روح النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی ھذین (صحیح بخاری ج 2 ص 865) حضرت عائشہ نے ہمیں ایک چادر اور ایک موٹا تہبند دکھایا اور کہا کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح طیبیہ ان دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔
باقی رہی یہ بات کہ انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح ان کے ابدان سے نکلنے کے بعد کہاں رہتی ہیں اور ان کا مستقر کہاں ہے تو اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ عالم برزخ میں ان کی ارواح کو ان کے عنصری بدنوں کے ہم شکل اور مماثل مشک وکافور کے مثالی اجسام عطا کیے جاتے ہیں اور ان کا قام ومستقر جنت کا اعلی ترین اور سب سے اونچادرجہ اعلیٰ علیین ہے ویسے جنت میں وہ جہاں چاہیں آتے جاتے اور جنت کے میوے تناول فرماتے ہیں۔
چنانچہ علامہ سیوطی اور علامہ سید محمود آلوسی امام نسفی سے ناقل ہیں۔ ارواح الانبیاء تخرج من جسدھا وتصیر مثل جسدھا مثل المسک والکافور وتکون فی الجنۃ تاکل وتشرب وتتنعم الخ (شرح الصدور ص 105، بشری الکئیب ص 134، روح المعانی ج 15 ص 162 تفسیر مظہری ج 10 ص 224 یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح ان کے بدنوں سے نکل کر ان کے مماثل مشک وکافور کے جسموں میں متشکل ہوجاتی ہیں اور جنت میں کھاتی پیتی ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن القیم اور حافظ ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں الانبیاء (علیہم السلام) فلا شک ان ارواحھم عنداللہ فی اعلیٰ علیین وقد ثبت فی الصحیح ان اخر کلمۃ تکلف بھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عند موتہ انہ قال اللھم الرفیق الاعلی (روح ج 1 ص 161، شرح الصدور ص 104)
ان روایتوں اور عبارتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ شہداء اور دیگر اموت کی طرح انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح کا مستقر اعلی علیین ہے نہ کہ ان کے ابدان کیونکہ ان کے ابدان مبارکہ تو قبور ارضی میں مدفون ہوتے ہیں لیکن دیگر اموت کے برعکس ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت اور شرف عطا فرمایا ہے کہ ان کے ابدان قبروں میں بالکل اسی طرح صحیح سالم رہیں گے جس طرح رکھے گئے تھے اور مٹی ان کو نہیں کھائے گی ان کے ابدان کو محفوظ رکھنے کی اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ لیکن غیر انبیاء (علیہم السلام) خواہ شہداء ہوں یا عامۃ المسلمین ان کے لیے ایسی کوئی ضمانت نہیں اور اگر کسی صدیق وشہید کا یا کسی اور برگزیدہ خدا کا بدن قبر میں محفوظ رہے اور مٹی اسے نہ کھائے تو یہ بھی کوئی بعید نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے۔
باقی رہا ارواح کا تعلق ابدان کے ساتھ تو اس کے متعلق بتحقیق یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ سے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اور نہ ہی صحابہ کرام، تابعین اتباع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے ارشادات واقوال میں تعلق روح بجسم عنصری کا کوئی نفیاً واثباتاً ذکر اذکار ہے۔
برزخ میں حیات انبیاء (علیہم السلام) اور حیات شہداء کرام کی جو کیفیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے وہ اوپر مذکور ہوچکی ہے۔ قرون ثلثہ میں یہ اسی طرح منقول ہو کر نیچے تک چلی آئی ہے لیکن تعلق کا قصہ کسی نے نہیں چھیڑا۔
البتہ چوتھی صدی کے بعد سے شارحین حدیث نے بعض حدیثوں میں تطبیق کے سلسلے میں تعلق روح بجسد عنصری کا مختلف عنوانات سے ذکر کیا ہے کسی نے اتصال معنوی سے کسی نے اشراق سے کسی نے اشراف سے اور کسی نے مثل تعلق صاحب خانہ بخانہ وعاشق بمعشوق وغیرہ الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ البتہ اس پر سب متفق ہیں کہ یہ تعلق ایسا نہیں جیسا کہ حیات دنیا میں تھا بلکہ یہ تعلق بےکیف ہے اور اس کی حقیقت وکیفیت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اس لیے عالم برزخ میں تعلق ارواح بابدان عنصریہ کے بارے میں سکوت سب سے احوط مسلک ہے کیونکہ قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر میں تعلق کا کوئی ذکر اذکار نہیں ۔
لیکن اگر کوئی شخص غیر معلوم الکیفیت تعلق کا اثبات کرتا ہے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں کیوں متقدمین میں ایک کثیر تعداد مختلف عنوانات کے ساتھ اس کی قائل ہے لیکن اس تعلق کے باوجود ان کے مدفون فی القبور ابدان میں کسی قسم کی حرکت یا جنبش پیدا نہیں ہوتی اور نہ قیامت سے پہلے ان کے یہ ابدان قبروں سے باہر نکلیں گے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل اور تسلیم شدہ ہے۔ خلاصہ الکلام یہ کہ برزخ میں انبیاء (علیہم السلام) کو جو حیات حاصل ہے وہ ہمارے ادراک و حواس سے بالا ہے۔ لیکن حیات شہداء سے بہت بلند اور اعلیٰ ہے اور پھر حضرت سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات تمام انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ارفع واعلیٰ اور اتم واکمل ہے۔ والمراد بتلک الحیاۃ نوع من الحیاۃ غیر معقول لنا وھی فوق حیاۃ شھداء بکثیر وحیاۃ نبینا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکمل واتم من حیاۃ سائرھم علیھم السلام (روح ج 22 ص 38)
 
Top