آج میں رمضان کورسز کے حوالے سے اپنے کام میں مصروف تھی کچھ کام یاد آیا اور لیپ ٹاپ کھلا رہ گیا۔
جب بھی لیپ ٹاپ میرے بیٹے کے ہاتھ چڑھتا ہے کچھ عجیب ہی کرتا ہے۔
اس نے رمضان کے حوالے سے لکھا:
"I love Ramadan!
Ramadan is my favorite time of the year.
I have fun and get to eat YUMMY foods.
There sooo good.
I think everyone loves Ramadan.
It’s the best!!!
"
میرے بیٹے کے لیے رمضان ابھی تقویٰ یا صبر کی گہری منزلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ 'یمی (Yummy)' کھانوں، سحری کی گہما گہمی اور "چھوٹے روزوں" کی اس جدوجہد کا نام ہے جو عصر کے وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ مگر یہ تو صرف شروعات ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے سوالوں کا تانتا بندھ جاتا ہے جو سارا دن میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔۔۔
پچھلے سال اس نے پورے 29 روزے رکھے۔ کہنے کو وہ "چھوٹے روزے" تھے، مگر ان کی مشقت عصر کے وقت کسی ہمالیہ سر کرنے سے کم نہیں تھی۔
سحری کے وقت جب پورا عالمِ اسلام سکون میں ہوتا ہے، میرا بیٹا ایک مشن پر ہوتا ہے۔ رات کو سوتے وقت موصوف نے مجھے سختی سے ہدایت دی ہوتی ہے: "مما! اگر آپ نے مجھے سحری میں نہیں اٹھایا، تو میں آپ کا سارا کام ڈیلیٹ کر دوں گا!"
جب میں اسے اٹھاتی ہوں، تو وہ ایک سیکنڈ میں آنکھیں کھول کر ایسے بیٹھ جاتا ہے جیسے وہ پوری رات جاگ کر میرا انتظار کر رہا ہو۔ لیکن یہ صرف "آپٹیکل الیوژن" (نظر کا دھوکا) ہوتا ہے! اگلے ہی لمحے اس کا سر دوبارہ تکیے پر ہوتا ہے اور وہ نیند میں بڑبڑاتا ہے: "مما، بس پانچ منٹ، میں تھوڑا اور سو لوں؟"
سحری کی میز پر اس کا ایک ہاتھ پراٹھے پر ہوتا ہے اور دوسرا اس کی اپنی آنکھیں ملنے میں مصروف۔ وہ ایک نوالہ منہ میں ڈال کر دو منٹ کے لیے ساکت ہو جاتا ہے، جیسے اس کا سافٹ ویئر ہینگ ہو گیا ہو۔
میں پوچھتی ہوں: "بیٹا، کیا ہوا؟"
جواب آتا ہے: "مما، میں نوالے کے اندر جانے کا انتظار کر رہا ہوں، وہ راستے میں سو گیا ہے!"
جب اسے یاد آتا ہے کہ اذان ہونے والی ہے، تو اس کی رفتار "سپر سونک" ہو جاتی ہے۔ سوال آتا ہے: "مما! کیا میں اتنا پانی پی سکتا ہوں کہ وہ میرے گلے تک بھر جائے؟ تاکہ دوپہر کو جب مجھے پیاس لگے، تو میں بس تھوڑا سا جھکوں اور پانی خود ہی منہ میں آ جائے؟"
روزہ شروع ہوتے ہی وہ ایک دم چاق و چوبند ہو جاتا ہے۔ جائے نماز پر میرے ساتھ کھڑے ہو کر دعوی کیا جاتا ہے ہے: "مما! آج میں نے بہت زیادہ کھا لیا ہے، آج تو میں رات کے بارہ بجے تک روزہ رکھ سکتا ہوں!" (حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ دوپہر بارہ بجے 'بیٹری لو' ہونے والی ہے)۔
فجر کے بعد کا وقت میرے "ننھے روزہ دار" کے لیے سب سے زیادہ آزمائشی مگر دلچسپ ہوتا ہے۔ نیند، جوش اور بھوک کے درمیان جو کشمکش چلتی ہے، وہ دیکھنے لائق ہوتی ہے۔
فجر کے محض ایک گھنٹے بعد وہ ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور سب سے پہلا سوال ہوتا ہے: "مما، ابھی روزہ کتنا باقی ہے؟ کیا سورج ابھی تک وہیں کھڑا ہے؟ کیا اسے آگے جانے کے لیے بیٹری چاہیے؟" اس کے خیال میں فجر سے اشراق تک کم از کم چار پانچ گھنٹے گزر جانے چاہیے تھے۔
پھر اگر اسکول جانا ہو تو وہ کسی "مظلوم قیدی" کی طرح تیار ہوتا ہے۔ تیاری کرتے ہوئے کہتا ہے: "مما! روزہ دار بچوں کو اسکول میں صرف سونے کی اجازت ہونی چاہیے، لکھنا تو بہت مشکل کام ہے۔"
اور اگر چھٹی ہو، تو وہ میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور کام میں مخل ہوتے ہوئے پوچھے گا: "مما، کیا آپ کے رمضان کورس میں یہ لکھا ہے کہ جو بچے روزہ رکھتے ہیں، انہیں دوپہر کو کارٹون دیکھنے کی ڈبل اجازت ہوتی ہے؟"
کبھی کبھی آ کر پوچھتا ہے: "مما! اگر میں نیند میں خواب میں کیک کھا لوں، تو کیا میرا روزہ ٹوٹ جائے گا؟"
جب تھک ہار کر دوبارہ سونے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ فرمائش آتی ہے: "مما! مجھے ایسی کہانی سنائیں جس میں کسی کو بھوک نہ لگتی ہو!"
دوپہر بارہ بجتے ہی اس کے قدم خود بخود کچن کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ وہ فریج کے پاس جا کر کھڑا ہو جائے گا، اسے کھولے گا نہیں، بس اسے کسی پرانے دوست کی طرح حسرت سے دیکھے گا۔ اگر میں پوچھوں: "بیٹا! وہاں کیا کر رہے ہو؟" تو جواب ملے گا: "مما! میں بس چیک کر رہا تھا کہ اندر کی لائٹ جل رہی ہے یا نہیں، کہیں میری پانی کی بوتل اندھیرے میں ڈر نہ رہی ہو!"
دن میں دس بار وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی زبان باہر نکالتا ہے۔ "مما! دیکھیں میری زبان ابھی تھوڑی تھوڑی گلابی ہے، اس کا مطلب ہے میرا روزہ ابھی 'کچا' ہے؟ جب یہ پوری سفید ہو جائے گی تو کیا تب افطار ہو گا؟" اس کے لیے زبان کا رنگ بدلنا اس کی نیکی کا میٹر (Meter) ہوتا ہے۔
ظہر کی نماز کے لیے جب وہ وضو کرنے جاتا ہے، تو وضو پانچ منٹ کے بجائے پندرہ منٹ تک چلتا ہے۔ وہ کلی کرتے وقت پانی کو منہ میں تھوڑی دیر زیادہ روکتا ہے اور پھر بڑی احتیاط سے باہر نکالتا ہے۔ باہر آ کر کہتا ہے: "مما! میں نے پانی پیا نہیں ہے، بس دانتوں کو نہلایا ہے تاکہ وہ پیاسے نہ رہیں۔"
عصر قریب آتی ہے، تو وہ زمین پر لیٹ کر "سلو موشن" میں رینگنا شروع کر دیتا ہے۔ "مما! میری ٹانگوں کا روزہ تو بہت پہلے کھل گیا ہے، وہ اب چلنے سے انکار کر رہی ہیں۔ کیا میں گھٹنوں کے بل چل کر افطار تک پہنچ سکتا ہوں؟" وہ اس وقت خود کو دنیا کا سب سے بڑا "مظلوم ہیرو" ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
یہ وقت ایک ماں کے لیے بھی بڑا امتحان ہوتا ہے۔ ایک طرف اس کی معصومیت پر پیار آتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اسے کچھ کھلا دوں، اور دوسری طرف اس کی اس ننھی سی ہمت کو دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ وہ کتنی چاہت سے اللہ کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔
عصر کی نماز کے بعد سے اس کا اصل ٹھکانہ گھڑی کے بالکل نیچے ہوتا ہے۔ وہ ہر پانچ منٹ بعد ایسے پوچھتا ہے جیسے کوئی مسافر منزل کا پتا پوچھے: "مما! کیا پانچ بج کر دس منٹ کے بعد ڈائریکٹ چھ بج سکتے ہیں؟" جب میں کہتی ہوں "نہیں بیٹا"، تو وہ ایک لمبی آہ بھر کر کہتا ہے: "آج تو سورج بھی روزہ رکھ کر تھک گیا ہے، اسی لیے گھر نہیں جا رہا!"
افطار کے قریب جب بھوک اب اپنے عروج پر ہوتی ہے، تو وہ اسے "باتوں" سے بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ دسترخوان پر چیزیں سجانے میں میری مدد ایسے کرتا ہے جیسے کوئی آرکیٹیکٹ محل ڈیزائن کر رہا ہو۔ "مما! سموسوں کو دائرے میں رکھیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے باتیں کر سکیں۔ اور روح افزا میں اتنی برف ڈالیں کہ گلاس کے باہر بھی بادل بن جائیں!"
جب کچن سے پکوڑوں کی تڑتڑاہٹ اور خوشبو آتی ہے، تو وہ کچن کے دروازے پر کھڑا ہو کر ایک زوردار سانس لیتا ہے اور پھر فورا ہاتھ سے اپنی ناک بند کر لیتا ہے۔ "مما! اگر میں نے زیادہ سونگھ لیا تو میرا پیٹ بھر جائے گا، پھر میں افطاری کیسے کروں گا؟"
جب مغرب کی اذان میں صرف پانچ منٹ رہ جاتے ہیں، تو وہ کھجور ہاتھ میں پکڑے ایسے ساکت بیٹھ جاتا ہے جیسے فنش لائن پر کھڑا ایتھلیٹ ہو۔ وہ بار بار اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرتا ہے اور مسجد کے اسپیکر کی طرف کان لگا لیتا ہے۔ "مما! کیا امام صاحب بھول تو نہیں گئے؟ میں جا کر یاد دلا آؤں؟"
افطاری کے بعد کی کیفیت تو ایک الگ ہی داستان ہے! وہ بچہ جو اذان سے پہلے نڈھال پڑا تھا، افطار کے بعد کسی اور ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ یہاں دو بالکل مختلف کیفیتیں باری باری آتی ہیں:
جیسے ہی وہ اپنی پسند کے "یمی" (Yummy) کھانے ختم کرتا ہے، اس کے پیٹ کی حالت کسی اوور لوڈڈ ٹرک جیسی ہو جاتی ہے۔ وہ قالین پر ایسے پھیل کر بیٹھتا ہے جیسے اب یہاں سے اٹھنا ناممکن ہو۔
شرٹ کے اوپر سے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا ہے: "مما! میرا پیٹ تو فٹ بال بن گیا ہے، اگر میں اب ہلا تو شاید میں اڑنے لگوں گا!"
اس وقت اگر اسے کہو کہ "بیٹا! برتن سمیٹنے میں مدد کرو"، تو وہ بہت مظلومیت سے کہتا ہے: "مما! روزہ داروں سے کام نہیں کرواتے، اللہ میاں ناراض ہوں گے!"
جب عشاء کی اذان ہوتی ہے، تو میرے ننھے روزہ دار کی منطق کسی "فلسفی" یا "وکیل" جیسی ہو جاتی ہے۔ جہاں پورا دن بھوک اور پیاس سے لڑائی تھی، اب وہاں مقابلہ "نیند اور لمبی نماز" سے ہوتا ہے۔
نماز شروع ہوتے ہی اسے اچانک اللہ سے بہت زیادہ باتیں یاد آ جاتی ہیں۔ جب وہ سجدے میں جاتا ہے، تو اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ میں جب اسے ہلاتی ہوں تو کہتا ہے:
"مما! میں تو اللہ میاں کو بتا رہا تھا کہ آج پکوڑے تھوڑے نمکین تھے، لیکن میں نے صبر کر لیا۔ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ سجدے میں دعا قبول ہوتی ہے، تو میں لمبی دعا مانگ رہا تھا!" (حالانکہ اصل میں وہ وہاں آنکھیں بند کر کے تھوڑی دیر 'پاور نیپ' لے رہا ہوتا ہے)۔
تراویح شروع ہوتے ہی اس کا ریاضی (Maths) بہت تیز ہو جاتا ہے۔ جب وہ تھکنے لگتا ہے، تو ایک نئی منطق پیش کرتا ہے: "مما! فرشتے بھی تو تھک جاتے ہوں گے نا؟ اگر میں ابھی سو جاؤں اور خواب میں باقی نماز پڑھ لوں، تو کیا فرشتے وہ والی نماز نہیں لکھیں گے؟ میرا خیال ہے اللہ میاں چاہتے ہیں کہ بچے جلدی سو جائیں تاکہ وہ سحری میں دوبارہ جوش سے اٹھ سکیں!"
اگر اسے تسبیح ہاتھ میں دے دی جائے، تو وہ اسے ذکر کے بجائے ایک "کاؤنٹنگ مشین" سمجھ لیتا ہے۔ وہ تسبیح کے دانوں کو اتنی تیزی سے گھماتا ہے کہ ہاتھ نظر نہیں آتے۔
"مما! میں نے اتنی جلدی تسبیح پڑھ لی ہے کہ اب مجھے اگلے تین دن تک پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے 'ایڈوانس' میں نیکیاں جمع کر لی ہیں!"
اور پھر یہی روٹین رمضان کے سارے "چھوٹے روزوں" میں دہرائی جاتی ہے۔
جب بھی لیپ ٹاپ میرے بیٹے کے ہاتھ چڑھتا ہے کچھ عجیب ہی کرتا ہے۔
اس نے رمضان کے حوالے سے لکھا:
"I love Ramadan!
Ramadan is my favorite time of the year.
I have fun and get to eat YUMMY foods.
There sooo good.
I think everyone loves Ramadan.
It’s the best!!!
میرے بیٹے کے لیے رمضان ابھی تقویٰ یا صبر کی گہری منزلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ 'یمی (Yummy)' کھانوں، سحری کی گہما گہمی اور "چھوٹے روزوں" کی اس جدوجہد کا نام ہے جو عصر کے وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ مگر یہ تو صرف شروعات ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے سوالوں کا تانتا بندھ جاتا ہے جو سارا دن میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔۔۔
پچھلے سال اس نے پورے 29 روزے رکھے۔ کہنے کو وہ "چھوٹے روزے" تھے، مگر ان کی مشقت عصر کے وقت کسی ہمالیہ سر کرنے سے کم نہیں تھی۔
سحری کے وقت جب پورا عالمِ اسلام سکون میں ہوتا ہے، میرا بیٹا ایک مشن پر ہوتا ہے۔ رات کو سوتے وقت موصوف نے مجھے سختی سے ہدایت دی ہوتی ہے: "مما! اگر آپ نے مجھے سحری میں نہیں اٹھایا، تو میں آپ کا سارا کام ڈیلیٹ کر دوں گا!"
جب میں اسے اٹھاتی ہوں، تو وہ ایک سیکنڈ میں آنکھیں کھول کر ایسے بیٹھ جاتا ہے جیسے وہ پوری رات جاگ کر میرا انتظار کر رہا ہو۔ لیکن یہ صرف "آپٹیکل الیوژن" (نظر کا دھوکا) ہوتا ہے! اگلے ہی لمحے اس کا سر دوبارہ تکیے پر ہوتا ہے اور وہ نیند میں بڑبڑاتا ہے: "مما، بس پانچ منٹ، میں تھوڑا اور سو لوں؟"
سحری کی میز پر اس کا ایک ہاتھ پراٹھے پر ہوتا ہے اور دوسرا اس کی اپنی آنکھیں ملنے میں مصروف۔ وہ ایک نوالہ منہ میں ڈال کر دو منٹ کے لیے ساکت ہو جاتا ہے، جیسے اس کا سافٹ ویئر ہینگ ہو گیا ہو۔
میں پوچھتی ہوں: "بیٹا، کیا ہوا؟"
جواب آتا ہے: "مما، میں نوالے کے اندر جانے کا انتظار کر رہا ہوں، وہ راستے میں سو گیا ہے!"
جب اسے یاد آتا ہے کہ اذان ہونے والی ہے، تو اس کی رفتار "سپر سونک" ہو جاتی ہے۔ سوال آتا ہے: "مما! کیا میں اتنا پانی پی سکتا ہوں کہ وہ میرے گلے تک بھر جائے؟ تاکہ دوپہر کو جب مجھے پیاس لگے، تو میں بس تھوڑا سا جھکوں اور پانی خود ہی منہ میں آ جائے؟"
روزہ شروع ہوتے ہی وہ ایک دم چاق و چوبند ہو جاتا ہے۔ جائے نماز پر میرے ساتھ کھڑے ہو کر دعوی کیا جاتا ہے ہے: "مما! آج میں نے بہت زیادہ کھا لیا ہے، آج تو میں رات کے بارہ بجے تک روزہ رکھ سکتا ہوں!" (حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ دوپہر بارہ بجے 'بیٹری لو' ہونے والی ہے)۔
فجر کے بعد کا وقت میرے "ننھے روزہ دار" کے لیے سب سے زیادہ آزمائشی مگر دلچسپ ہوتا ہے۔ نیند، جوش اور بھوک کے درمیان جو کشمکش چلتی ہے، وہ دیکھنے لائق ہوتی ہے۔
فجر کے محض ایک گھنٹے بعد وہ ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور سب سے پہلا سوال ہوتا ہے: "مما، ابھی روزہ کتنا باقی ہے؟ کیا سورج ابھی تک وہیں کھڑا ہے؟ کیا اسے آگے جانے کے لیے بیٹری چاہیے؟" اس کے خیال میں فجر سے اشراق تک کم از کم چار پانچ گھنٹے گزر جانے چاہیے تھے۔
پھر اگر اسکول جانا ہو تو وہ کسی "مظلوم قیدی" کی طرح تیار ہوتا ہے۔ تیاری کرتے ہوئے کہتا ہے: "مما! روزہ دار بچوں کو اسکول میں صرف سونے کی اجازت ہونی چاہیے، لکھنا تو بہت مشکل کام ہے۔"
اور اگر چھٹی ہو، تو وہ میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور کام میں مخل ہوتے ہوئے پوچھے گا: "مما، کیا آپ کے رمضان کورس میں یہ لکھا ہے کہ جو بچے روزہ رکھتے ہیں، انہیں دوپہر کو کارٹون دیکھنے کی ڈبل اجازت ہوتی ہے؟"
کبھی کبھی آ کر پوچھتا ہے: "مما! اگر میں نیند میں خواب میں کیک کھا لوں، تو کیا میرا روزہ ٹوٹ جائے گا؟"
جب تھک ہار کر دوبارہ سونے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ فرمائش آتی ہے: "مما! مجھے ایسی کہانی سنائیں جس میں کسی کو بھوک نہ لگتی ہو!"
دوپہر بارہ بجتے ہی اس کے قدم خود بخود کچن کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ وہ فریج کے پاس جا کر کھڑا ہو جائے گا، اسے کھولے گا نہیں، بس اسے کسی پرانے دوست کی طرح حسرت سے دیکھے گا۔ اگر میں پوچھوں: "بیٹا! وہاں کیا کر رہے ہو؟" تو جواب ملے گا: "مما! میں بس چیک کر رہا تھا کہ اندر کی لائٹ جل رہی ہے یا نہیں، کہیں میری پانی کی بوتل اندھیرے میں ڈر نہ رہی ہو!"
دن میں دس بار وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی زبان باہر نکالتا ہے۔ "مما! دیکھیں میری زبان ابھی تھوڑی تھوڑی گلابی ہے، اس کا مطلب ہے میرا روزہ ابھی 'کچا' ہے؟ جب یہ پوری سفید ہو جائے گی تو کیا تب افطار ہو گا؟" اس کے لیے زبان کا رنگ بدلنا اس کی نیکی کا میٹر (Meter) ہوتا ہے۔
ظہر کی نماز کے لیے جب وہ وضو کرنے جاتا ہے، تو وضو پانچ منٹ کے بجائے پندرہ منٹ تک چلتا ہے۔ وہ کلی کرتے وقت پانی کو منہ میں تھوڑی دیر زیادہ روکتا ہے اور پھر بڑی احتیاط سے باہر نکالتا ہے۔ باہر آ کر کہتا ہے: "مما! میں نے پانی پیا نہیں ہے، بس دانتوں کو نہلایا ہے تاکہ وہ پیاسے نہ رہیں۔"
عصر قریب آتی ہے، تو وہ زمین پر لیٹ کر "سلو موشن" میں رینگنا شروع کر دیتا ہے۔ "مما! میری ٹانگوں کا روزہ تو بہت پہلے کھل گیا ہے، وہ اب چلنے سے انکار کر رہی ہیں۔ کیا میں گھٹنوں کے بل چل کر افطار تک پہنچ سکتا ہوں؟" وہ اس وقت خود کو دنیا کا سب سے بڑا "مظلوم ہیرو" ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
یہ وقت ایک ماں کے لیے بھی بڑا امتحان ہوتا ہے۔ ایک طرف اس کی معصومیت پر پیار آتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اسے کچھ کھلا دوں، اور دوسری طرف اس کی اس ننھی سی ہمت کو دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ وہ کتنی چاہت سے اللہ کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔
عصر کی نماز کے بعد سے اس کا اصل ٹھکانہ گھڑی کے بالکل نیچے ہوتا ہے۔ وہ ہر پانچ منٹ بعد ایسے پوچھتا ہے جیسے کوئی مسافر منزل کا پتا پوچھے: "مما! کیا پانچ بج کر دس منٹ کے بعد ڈائریکٹ چھ بج سکتے ہیں؟" جب میں کہتی ہوں "نہیں بیٹا"، تو وہ ایک لمبی آہ بھر کر کہتا ہے: "آج تو سورج بھی روزہ رکھ کر تھک گیا ہے، اسی لیے گھر نہیں جا رہا!"
افطار کے قریب جب بھوک اب اپنے عروج پر ہوتی ہے، تو وہ اسے "باتوں" سے بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ دسترخوان پر چیزیں سجانے میں میری مدد ایسے کرتا ہے جیسے کوئی آرکیٹیکٹ محل ڈیزائن کر رہا ہو۔ "مما! سموسوں کو دائرے میں رکھیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے باتیں کر سکیں۔ اور روح افزا میں اتنی برف ڈالیں کہ گلاس کے باہر بھی بادل بن جائیں!"
جب کچن سے پکوڑوں کی تڑتڑاہٹ اور خوشبو آتی ہے، تو وہ کچن کے دروازے پر کھڑا ہو کر ایک زوردار سانس لیتا ہے اور پھر فورا ہاتھ سے اپنی ناک بند کر لیتا ہے۔ "مما! اگر میں نے زیادہ سونگھ لیا تو میرا پیٹ بھر جائے گا، پھر میں افطاری کیسے کروں گا؟"
جب مغرب کی اذان میں صرف پانچ منٹ رہ جاتے ہیں، تو وہ کھجور ہاتھ میں پکڑے ایسے ساکت بیٹھ جاتا ہے جیسے فنش لائن پر کھڑا ایتھلیٹ ہو۔ وہ بار بار اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرتا ہے اور مسجد کے اسپیکر کی طرف کان لگا لیتا ہے۔ "مما! کیا امام صاحب بھول تو نہیں گئے؟ میں جا کر یاد دلا آؤں؟"
افطاری کے بعد کی کیفیت تو ایک الگ ہی داستان ہے! وہ بچہ جو اذان سے پہلے نڈھال پڑا تھا، افطار کے بعد کسی اور ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ یہاں دو بالکل مختلف کیفیتیں باری باری آتی ہیں:
جیسے ہی وہ اپنی پسند کے "یمی" (Yummy) کھانے ختم کرتا ہے، اس کے پیٹ کی حالت کسی اوور لوڈڈ ٹرک جیسی ہو جاتی ہے۔ وہ قالین پر ایسے پھیل کر بیٹھتا ہے جیسے اب یہاں سے اٹھنا ناممکن ہو۔
شرٹ کے اوپر سے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا ہے: "مما! میرا پیٹ تو فٹ بال بن گیا ہے، اگر میں اب ہلا تو شاید میں اڑنے لگوں گا!"
اس وقت اگر اسے کہو کہ "بیٹا! برتن سمیٹنے میں مدد کرو"، تو وہ بہت مظلومیت سے کہتا ہے: "مما! روزہ داروں سے کام نہیں کرواتے، اللہ میاں ناراض ہوں گے!"
جب عشاء کی اذان ہوتی ہے، تو میرے ننھے روزہ دار کی منطق کسی "فلسفی" یا "وکیل" جیسی ہو جاتی ہے۔ جہاں پورا دن بھوک اور پیاس سے لڑائی تھی، اب وہاں مقابلہ "نیند اور لمبی نماز" سے ہوتا ہے۔
نماز شروع ہوتے ہی اسے اچانک اللہ سے بہت زیادہ باتیں یاد آ جاتی ہیں۔ جب وہ سجدے میں جاتا ہے، تو اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ میں جب اسے ہلاتی ہوں تو کہتا ہے:
"مما! میں تو اللہ میاں کو بتا رہا تھا کہ آج پکوڑے تھوڑے نمکین تھے، لیکن میں نے صبر کر لیا۔ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ سجدے میں دعا قبول ہوتی ہے، تو میں لمبی دعا مانگ رہا تھا!" (حالانکہ اصل میں وہ وہاں آنکھیں بند کر کے تھوڑی دیر 'پاور نیپ' لے رہا ہوتا ہے)۔
تراویح شروع ہوتے ہی اس کا ریاضی (Maths) بہت تیز ہو جاتا ہے۔ جب وہ تھکنے لگتا ہے، تو ایک نئی منطق پیش کرتا ہے: "مما! فرشتے بھی تو تھک جاتے ہوں گے نا؟ اگر میں ابھی سو جاؤں اور خواب میں باقی نماز پڑھ لوں، تو کیا فرشتے وہ والی نماز نہیں لکھیں گے؟ میرا خیال ہے اللہ میاں چاہتے ہیں کہ بچے جلدی سو جائیں تاکہ وہ سحری میں دوبارہ جوش سے اٹھ سکیں!"
اگر اسے تسبیح ہاتھ میں دے دی جائے، تو وہ اسے ذکر کے بجائے ایک "کاؤنٹنگ مشین" سمجھ لیتا ہے۔ وہ تسبیح کے دانوں کو اتنی تیزی سے گھماتا ہے کہ ہاتھ نظر نہیں آتے۔
"مما! میں نے اتنی جلدی تسبیح پڑھ لی ہے کہ اب مجھے اگلے تین دن تک پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے 'ایڈوانس' میں نیکیاں جمع کر لی ہیں!"
اور پھر یہی روٹین رمضان کے سارے "چھوٹے روزوں" میں دہرائی جاتی ہے۔